Baaghi TV

Author: +9251

  • امپائرکی انگلی کے اٹھنےکاانتظارکرنے والے دیکھتے رہ گئے اورانگلی اٹھ گئی

    امپائرکی انگلی کے اٹھنےکاانتظارکرنے والے دیکھتے رہ گئے اورانگلی اٹھ گئی

    حیدرآباد:امپائرکی انگلی کے اٹھنےکاانتظارکرنے والے دیکھتے رہ گئے اورانگلی اٹھ گئی ، بھارت اور ویسٹ انڈیز کے درمیان حیدرآباد دکن میں کھیلے گئےمیچ میں پہلی مرتبہ نوبال کے لیےتھرڈامپائر کی آزمائشی بنیادوں پرخدمات حاصل کی گئیں۔فیلڈ امپائرز کی مسلسل غلطیوں اور متاثرہ ٹیموں کے احتجاج کے پیش نظر نوبال کے لیے تھرڈ امپائر کا آزمائشی بنیادوں پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    ڈانس کیوں روکا؟ شادی کے دوران خاتون ڈانسر کو گولی ماردی گئی

    یہ معاملہ اس وقت مزید سنگین شکل اختیارکرگیاجب اس بات انکشاف ہوا کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان برسبین میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ کے دوران امپائر نے 21نوبال نہیں دی تھیں۔بھارت نے پہلے باؤلنگ کرتےہوئے 20اوورزمیں ایک بھی نوبال نہیں کی جس کی وجہ سے تھرڈ امپائرکی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی۔

    قطری شہزادے کے خط کے بعد برطانوی شہزادی کے خط کے چرچے

    البتہ ویسٹ انڈین باؤلنگ کے دوران 13ویں اوور میں کیسرک ولیمزاس وقت تاریخ کاحصہ بن گئے جب تھرڈ امپائر نے ان کی جانب سے کرائی گئی گیند کو نوبال قرار دیا۔یہ کرکٹ کی تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ باقاعدہ طور پر تھرڈ امپائرنےاپنےاختیارات کااستعمال کرتےہوئےنوبال قراردی۔

    اچھی زبان تھوڑا سا وقت…از.ساجدہ بٹ

  • بلاول کاشکوہ،مراد سعید کا جواب شکوہ،ماڈل ایان علی کا ٹکٹ،ابواورتایاکےتذکرے

    بلاول کاشکوہ،مراد سعید کا جواب شکوہ،ماڈل ایان علی کا ٹکٹ،ابواورتایاکےتذکرے

    اسلام آباد :ماڈل ایان علی کا ٹکٹ،حادثاتی سیاستدان،بلال کاشکوہ،مراد سعید کا جواب شکوہ،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعید نے بلاول بھٹو کے خطاب پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ جانشین زرداری نے نہیں بتایا کہ ایان علی کے ٹکٹ کے پیسے کیسے ادا ہوتے رہے؟

    گرمائی دارالحکومت سری نگرکوٹھنڈ لگ گئی ، درجہ حرارت منفی 3.6 تک گر گیا

    یہ بات مراد سعید نے کہا کہ حادثاتی سیاستدان نے اپنی تقریر میں سندھ میں کتوں کے کاٹنے سے اموات کا ذکر نہیں کیا اور بھوک سے مرنے والے سیکڑوں بچوں کی بات بھی نہیں کی۔

    10دسمبر:اورنج لائن ٹرین کی اڑان،لاہوریوں کی بھی جان بخشی ہوجائے گی

    انہوں نے کہا کہ جانشین زرداری وزیراعلیٰ سندھ کے حلقے میں ایمبولینس نہ ہونے پر خاموش رہے اور کراچی میں بارشوں سے ہونے والی اموات پر بھی کچھ نہ کہا، فرزند زرداری نے یہ انکشاف کیا بارش آتا ہے تو پانی آتا ہے اور زیادہ بارش آتا ہے تو زیادہ پانی آتا ہے۔

    مجھے میری شناخت چاہیے،میرا ڈی این اے کرایا جائے، بیٹا مخدوم سید علمداررضا

    مراد سعید نے کہا کہ حکومت نے بلاول کے ابو اور تایا نواز کے قرضوں پر سود کی مد میں10ارب ڈالر واپس کئے ہیں۔ عمران خان نے آئی سی یو میں پڑی معیشت کو درست سمت دی ہے۔عمران خان نے پاکستان کو کاروبار کی آسانی میں 28 درجے ترقی دلوائی ہے، عمران خان کی وجہ سے ملک میں سرمایہ کاری آنے لگی ہے، فرزند زرداری کو سیاسی بقا کیلئے مولوی کے کنٹینر تک آنا پڑا۔

  • نوازشریف کی درخواست مسترد کردی گئی،کرپشن کے خلاف احتجاج ہرکسی کا حق ہے، لندن پولیس

    نوازشریف کی درخواست مسترد کردی گئی،کرپشن کے خلاف احتجاج ہرکسی کا حق ہے، لندن پولیس

    لندن:نوازشریف کی درخواست لندن پولیس نے مسترد کردی،کرپشن کے خلاف احتجاج ہرکسی کا حق ہے ،لندن پولیس کا نواز شریف کو جواب ،اطلاعات کےمطابق کل لندن میں سویل سوسائٹی کرپشن کے خلاف شریف خاندان کے فلیٹس کے سامنے احتجاج کرے گی۔

    مجھے میری شناخت چاہیے،میرا ڈی این اے کرایا جائے، بیٹا مخدوم سید علمداررضا

    ذرائع کے مطابق احتجاجی مظاہروں کے خوف سے پریشان حال شریف خاندان کی جانب سے لندن پولیس کو درخواست دی گئی تھی کہ احتجاج پر پابندی لگائی جائے جسے مسترد کر دیا گیا۔یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ لندن پولیس نے شریف فیملی کی درخواست کو یہ کہہ کرمسترد کیا کہ احتجاج ہرکسی کا حق ہے اور جب کرپشن کے خاتمے کے کسی احتجاج کا معاملہ پیدا ہوتا ہے تو برطانیہ اس احتجاج کی حمایت کرتاہے

    بھارت:ریپ کے بعد زندہ جلائی گئی لڑکی نے تڑپ تڑپ کرجان دے دی

    لندن سے باغی ٹی وی کو ملنے والی اطلاعات کےمطابق احتجاجی مظاہرین کا کہنا ہےکہ یہ کرپشن کے خلاف احتجاج نہیں بلکہ جہاد ہے، جو بھی پاکستان کولوٹے گا اس کا یہی حال ہوگا ، یہ بھی بتایا گیا کہ احتجاج کو کسی سیاسی جماعت کی حمایت حاصل نہیں ہے۔

    گرمائی دارالحکومت سری نگرکوٹھنڈ لگ گئی ، درجہ حرارت منفی 3.6 تک گر گیا

  • سیاست دان کرکٹ پر بات کرکے اپنی انرجی ضائع کررہے ہیں، میرے پاس جادوکی چھڑی نہیں‌،مصباح الحق

    لاہور:سیاست دان کرکٹ پر بات کرکے اپنی انرجی ضائع کررہے ہیں، میرے پاس جادوکی چھڑی نہیں‌،پاکستان کرکٹ ٹيم کے ہيڈ کوچ اور چيف سليکٹر مصباح الحق کا کہنا ہے کہ ایک سال بعد آپ کو معلوم ہوگا کہ معاملات کس طرف جارہے ہيں۔ سیاست دان کرکٹ پر بات کرکے اپنی انرجی ضائع کررہے ہیں انہیں کرنے دیں میرے پاس جادو کی چھڑی نہیں ہے کہ سب کچھ فوری ٹھیک کرلوں

    بھارت:ریپ کے بعد زندہ جلائی گئی لڑکی نے تڑپ تڑپ کرجان دے دی

    لاہورميں سري لنکا کے خلاف قومي ٹيم کے اعلان کے موقع مصباح الحق کا کہنا تھا کہ ایک کھلاڑی یا ٹیم کو بنانے کے لئے وقت درکار ہوتا ہے کھلاڑي فوري تيار نہيں ہوتا ہم آسٹريليا مستقبل کي تياري کے ليے ٹيم بنا کر ليکر گے تھے۔ مصباح الحق کا کہنا تھا کہ ميري مخالفت کرنے والے جو تنقيد کرنا چاہيئں کرتے رہيں جو جس کے اندر ہو وہی باہر آتا ہے ظاہر ہے کہ کسی کو بات کرنے سے نہیں روکا جا سکتا ہے ۔

    مجھے میری شناخت چاہیے،میرا ڈی این اے کرایا جائے، بیٹا مخدوم سید علمداررضا

    ان کا کہنا تھا کہ اظہر علی اور اسد شفیق ٹیسٹ ٹیم کے مرکزی کھلاڑی ہیں اور اب بابر اعظم اس پوزیشن میں آگیا ہے کہ ٹیسٹ میں میچ میں ٹیم کو لے کر چلے ان کا کہنا تھا کہ اظہر علی کا اصل نمبر تین ہے آسٹريليا ميں باولنگ بڑھانے کے لئے اظہر سے اوپن کروانے کا فیصلہ کیا گيا تھا ۔ ليکن وہ زيادہ کامياب نہيں ہوا اس ليے مڈل آرڈر ميں ايک بيٹسمين کو رکھا گيا۔ مصباح کا کہنا تھا کہ میری زیادہ توجہ پوری ٹیم کی طرف ہے ۔

    مقبوضہ کشمیر:جبر،ظلم اورتشدد کاسلسلہ جاری، کرفیوکا125 واں دن

    بطور ہیڈ کوچ مجھے ہر کھلاڑی کے بارے میں معلوم ہونا چاہئیے فواد عالم کی کارکردگی کو دیکھ کر لگا کہ اس کی ٹیم کو ضرورت ہے اور اس ليے ان کو منتخب کيا گيا ہے ہمیں نمبر چھ پر تسلسل سے رنز کرنے والے بلے باز کی ضرورت ہے اس لئے فواد عالم کو لیا ہے۔ ٹیم کا انتخاب کرتے وقت صرف نمبرز نہیں اور بھی بہت سی چیزیں دیکھنا ہوتی ہیں مصباح الحق کا کہنا تھا کہ اس وقت ہمارا سب سے بڑا مسئلہ باولنگ ہے ہمارے دو اہم باولر ز نے ٹيسٹ سيريز سے قبل ٹيسٹ سے ريٹائرمينٹ لے لي تھي ہم نے اس کو ديکھتے آسٹريليا کے خلاف پلان بنايا تھا ليکن جب باولر آوٹ نا کرسکيں اور حريف ٹيم پانچ سو سے چھ سو رنز بنا لے تو ٹيم دباو ميں آجاتي ہے اور يہي کچھ ہمارے ساتھ ہوا ۔

    گرمائی دارالحکومت سری نگرکوٹھنڈ لگ گئی ، درجہ حرارت منفی 3.6 تک گر گیا

    ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد یونائیٹڈ سے میرے معاملات ہیڈ کوچ و چیف سلیکٹر بننے سے پہلے طے پائے تھے ۔ پی ایس ایل میں کوچنگ کرنے سے مجھے کوچنگ کے حوالے سے بہت کچھ سیکھنے کو ملے گی ۔ اوراسلام آباد یونائیٹڈ کے ساتھ کام کرکے صرف اسلام آباد ہي نہيں دوسري ٹيموں کے کھلاڑیوں کو قریب سے دیکھ سکتا ہوں

  • مقبوضہ کشمیرہتھیانے کےبعدانتخاب کے بہانے وادی کی نئی حلقہ بندیاں، مسلمانوں کےساتھ ہاتھ ہونے کاامکان

    مقبوضہ کشمیرہتھیانے کےبعدانتخاب کے بہانے وادی کی نئی حلقہ بندیاں، مسلمانوں کےساتھ ہاتھ ہونے کاامکان

    سری نگر:مقبوضہ کشمیرکوہتھیانے کےبعد مقبوضہ کشمیرکی نئی حلقہ بندیاں، مسلمانوں کےساتھ ہاتھ ہونے کا امکان ، اطلاعات کےمطاطق مقبوضہ کشمیر میں انتخابی حلقوں کی حدبندی کی جارہی ہے۔حدبندی کا مقصد انتخابی حلقوں میں ووٹرز کی تعداد اور اس کی حدود متعین کرنا ہوتا ہے۔ اس کے لیے ایک کمیشن قائم کیا جا تا ہے سپریم کورٹ کے جج یا سابق جج کو اس کمیشن کا چئیرمین مقرر کیا جاتا ہے۔ بی جے پی کے جموں و کشمیر ونگ کے جنرل سکریٹری اشوک کول نے کہا کہ حلقہ بندیوں کے بعد اسمبلی انتخابات منعقد ہوں گے۔

    مقبوضہ کشمیر:جبر،ظلم اورتشدد کاسلسلہ جاری، کرفیوکا125 واں دن

    بی جے پی کے جموں و کشمیر ونگ کے جنرل سکریٹری اشوک کول نے کہا کہ شہریت ترمیمی بل 2019 پارلیمنٹ میں منظور ہونے کے بعد جموں و کشمیر میں بھی نافذ ہوگا۔ اشوک کول نے کہا کہ جموں و کشمیر میں غیر قانونی طور پر رہنے والے روہنگیا اور بنگلہ دیشیوں پر اس قانون کا اطلاق ہوگا، لیکن اس سے مغربی پاکستان کے مہاجرین اور جموں میں مقیم پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے مہاجرین پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق انہوں نے کہا کہ روہنگیا صرف جموں خطے میں ہی نہیں بلکہ کشمیر میں رہ رہے ہیں۔

    مجھے میری شناخت چاہیے،میرا ڈی این اے کرایا جائے، بیٹا مخدوم سید علمداررضا

    کشمیر میں بس اسٹینڈز پر بھیک مانگنے والے لوگ وہی ہیں۔ تقسیم ہند کے بعد سے 50 ہزار کے قریب مغربی پاکستان مہاجرین جموں میں مقیم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 کو منسوخ کرنے سے پہلے وہ صرف پارلیمانی انتخابات میں حصہ لے سکتے تھے نہ کہ ریاستی اسمبلی انتخابات میں کیونکہ وہ جموں وکشمیر کے مستقل باشندے نہیں سمجھے جاتے تھے۔ مغربی پاکستان پناہ گزینوں کو شہریت دینا بی جے پی کا ایک انتخابی مسئلہ تھا اور پارٹی نے اقتدار میں آنے پر انہیں شہریت کے حقوق دینے کا وعدہ کیا تھا۔

    بھارت:ریپ کے بعد زندہ جلائی گئی لڑکی نے تڑپ تڑپ کرجان دے دی

    واضح رہے کہ رواں برس جون میں جموں و کشمیر میں حد بندی عمل کی افواہوں کا بازار گرم تھا، جس کے بعد کشمیر کی علاقائی جماعتوں نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے اسے غیر آئینی قرار دیا تھا۔جموں و کشمیر میں آخری بار گورنر جگموہن نے سنہ 1993 میں حدبندی کرائی تھی جس کے بعد اسمبلی حلقوں کی تعداد 87 ہو گئی، اس کے تحت جموں میں 37، کشمیر میں 46 اور لداخ میں چار نشستیں تھی، تاہم جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019 کے تحت لداخ کی چار اسمبلی نشستوں کو ختم کر دیا گیا۔

  • مقبوضہ کشمیر:جبر،ظلم اورتشدد کاسلسلہ جاری، کرفیوکا125 واں دن، عالمی برادری کوچپ لگ گئی

    مقبوضہ کشمیر:جبر،ظلم اورتشدد کاسلسلہ جاری، کرفیوکا125 واں دن، عالمی برادری کوچپ لگ گئی

    سرینگر:مقبوضہ کشمیر:جبر،ظلم اورتشدد کاسلسلہ جاری،کرفیوکا125 واں دن،اطلاعات کےمطابق کشمیر میں 125 دنوں سے جاری غیر یقینی کیفیت میں ہفتے کے روز بھی گزشتہ صورتحال برقرار رہی ، بازاروں میں کہیں نصف دن تو کہیں نصف دن کے بعد گہماگہمی رہی تاہم ٹرانسپورٹ کی نقل وحمل میں دن بھر کوئی کمی یا خلل واقع نہیں ہوا۔

    مجھے میری شناخت چاہیے،میرا ڈی این اے کرایا جائے، بیٹا مخدوم سید علمداررضا

    بھارتی حکومت کی طرف سے پانچ اگست کے دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کے تحت جموں وکشمیر کو حاصل خصوصی اختیارات کی تنسیخ اور ریاست کو دو فاقی حصوں میں منقسم کرنے کے فیصلوں کے خلاف غیر اعلانیہ ہڑتال کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوا تھا جو ابھی جاری ہے۔

    ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق عینی شاہدین کے مطابق وادی کی تمام چھوٹی بڑی سڑکوں پر دن بھر پرائیویٹ اور پبلک ٹرانسپورٹ کی نقل وحمل جاری رہی اور کئی پرائیویٹ اسکولوں کی گاڑیوں کو بھی سڑکوں پر صبح اور سہ پہر کے وقت بچوں کو، لے کر رواں دواں تھیں۔

    بھارت:ریپ کے بعد زندہ جلائی گئی لڑکی نے تڑپ تڑپ کرجان دے دی

    وادی میں انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس سروسز کی معطلی مسلسل جاری ہے جس کے باعث مختلف شعبہ ہائے حیات سے وابستہ لوگوں بالخصوص صحافیوں، طلبا اور تاجروں کو مشکلات سے دوچار ہونا پڑرہا ہے۔انٹرنیٹ سہولیات پر جاری پابندی کے باعث امتحانات میں حصہ لینے کے خواہش مند 24 ہزار امیدواروں کو متنوع مسائل کا سامنا ہے۔

    ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق انتظامیہ کی طرف سے 24 ہزار امیدواروں کو آن لائن فارم جمع کرنے کے لئے ٹی آر سی سری نگر میں صرف 30 کمپیوٹروں کا بند وبست ہے جبکہ ہر ضلع صدر مقام پر این آئی سی سینٹروں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے لیکن ان سینٹروں میں تاجروں اور دیگر لوگوں کا بھی رش رہتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ این ای ای ٹی کے امیدواروں کو فارم جمع کرنے کے لئے در در کی ٹھوکریں کھانا پڑتی ہیں۔

    گرمائی دارالحکومت سری نگرکوٹھنڈ لگ گئی ، درجہ حرارت منفی 3.6 تک گر گیا

    قابل ذکر ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر گریش چندرا مرمو کے مشیر فاروق خان نے گزشتہ روز ایک تقریب کے دوران کہا کہ کشمیر میں براڈ بینڈ انٹرنیٹ سروس کو عنقریب بحال کیا جائے گا۔وادی کی میں اسٹریم جماعتوں سے وابستہ بیشتر لیڈران جن میں تین سابق وزائے اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی بھی شامل ہیں، لگاتار نظر بند ہیں۔

  • مجھے میری شناخت چاہیے،میرا ڈی این اے کرایا جائے، بیٹا مخدوم سید علمداررضا

    مجھے میری شناخت چاہیے،میرا ڈی این اے کرایا جائے، بیٹا مخدوم سید علمداررضا

    لاہور :جب بھی شناخت مانگنے کی کوشش کی مجھ پر گولیاں برسائی گئیں ۔ مجھے یا میری ماں کو کچھ ہوا تو ذمہ دار مخدوم زادہ سید عباس اکبر ، شاہ محمود قریشی اور سابق چیف جسٹس پاکستان تصدق حسین جیلانی ہوں گے،تفصیلات کے مطابق ملتان میں موجود دربارشیر شاہ کے سجادہ نشین مخدوم زادہ سید عباس اکبر کے بیٹے مخدوم سید علمدار رضا نے اپنے باپ کے خلاف شناخت کا مقدمہ درج کرا دیا ۔ مخدوم سید علمدار رضا کا کہنا ہے کہ دربارشیر شاہ کے سجادہ نشین مخدوم زادہ سید عباس اکبر انکے والد ہیں لیکن پچیس سے سال وہ اس بات سے انکاری ہیں کہ میں انکا بیٹا ہوں ۔

    تفصیلات کے مطابق 18 اگست 1989 کو مخدوم زادہ سید عباس اکبراور ”شیریں نصیر“ کی ماڈل ٹاؤن لاہور میں شادی ہوئی ۔ چونکہ یہ لو میرج تھی اس لیے مخدوم زادہ سید عباس اکبرکی طرف سے کوئی گواہ پیش نہیں ہوا اور انہوں نے نکاح نامہ پر بھی ”خود مختار“ لکھا اور ماڈل ٹاؤن میں نکاح ہوا ۔ نکاح کے گواہان میں علمدار رضا کے نانا ، خالہ اور ماموں تھے ۔ شادی کے فوری بعد مخدوم زادہ سید عباس اکبر اپنی بیوی شیریں نصیر کو لیکر ماڈل ٹاؤن سے فیصل ٹاؤن میں شفٹ ہوئے ۔

    12جنوری 1992 کو فیصل ٹاؤن میں موجود فیصل کلینک میں شیریں نصیر کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی جسکا نام مخدوم سید علمدار رضارکھا گیا ۔ اپنے بیٹے کی پیدائش کی خوشی میں مخدوم زادہ سید عباس اکبر نے اپنے ڈرائیور کے ہاتھ مٹھائی بھجوائی اور پھر کچھ دنوں بعد خود گھر آکر مبارکباد بھی دی اور بیٹے اور بیوی کے ساتھ ہنسی خوشی رہنے لگے ۔

    1995 میں مخدوم زادہ سید عباس اکبر نے دوسری شادی کرلی ۔ دوسری شادی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بہنوئی ”شجاعت حسنین قریشی“ کی بھانجی اور حیدر زمان قریشی کی بہن ”فاطمہ زارہ قریشی“ سے ہوئی ۔ دوسری جانب علمدار رضا کے تایا جان اور مخدوم زادہ سید عباس اکبرکے بڑے بھائی سید احسن شاہ کی شادی بھی شاہ محمود قریشی کی بہن سے ہوئی ۔ یوں مخدوم زادہ سید عباس اکبردوسری شادی کے بعد قریشی خاندان سے جُڑ گئے ۔

    دوسری شادی کی خبر جب پہلی بیوی ”شیریں نصیر“ کو ملی تو وہ اپنے بیٹے مخدوم سید علمدار رضا کو اپنے ساتھ لیکر اپنے والدین کے گھر ماڈل ٹاؤن میں واپس چلی گئیں اور فیصل ٹاؤن والا گھر چھوڑ دیا ۔ اس دوران شیریں نصیر نے بہت کوشش کی کہ معاملات خوش اسلوبی سے حل ہوجائیں لیکن معاملات ٹھیک ہونے کی بجائے مزید بگڑتے چلے گئے ۔ اسی دوران سید عباس اکبر نے بہت دفعہ شیریں کو سمجھانے کی کوشش کی کہ ”میں دونوں فیملیز کو سپورٹ کرسکتا ہوں لہذا یہ ایسے ہی چلنے دیا جائے “ لیکن انکی پہلی بیوی یہ بات ماننے کو تیار نہیں تھی۔ 1989سے لیکر 1991 کے آخر تک سید عباس اکبر نے اپنی بیوی شیریں نصیر کے ساتھ 6 ملکوں کے دورے کیے جن کی تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں ۔

    1995سے لیکر 2010 تک مخدوم سید علمدار رضا اپنی ماں کے ساتھ ہی رہا اور انٹر نیشنل سکول آف شوئفات سے اے لیول کیا۔ مخدوم سید علمدار رضا کے ایڈمشن فارمز اور ڈگری ، شناختی کارڈکے اوپر اسکے والد کا نام ” مخدوم زادہ سید عباس اکبر“ درج ہے جبکہ مخدوم زادہ سید عباس اکبر اس بات کو مانتا نہیں کہ سید علمدار میرا بیٹا ہے ۔
    مخدوم سید علمدار رضا کا کہنا ہے کہ 2011 میں اپنے والد سے ملنے کے لیے شیر شاہ ملتان گیا ۔ ڈرائیور مجھے جانتا تھا اس نے مجھے پہچان لیا اور میں نے ڈرائیور کے ہاتھ پیغام بھجوایا کہ میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں ۔

    انکا کہنا ہے کہ میرا خیال تھا کہ میں اپنی ماں اور باپ کے درمیان معاملات کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرتا ہوں تاکہ مجھے میری شناخت مل سکے ۔ انکا کہنا ہے کہ میرا ایک خیال یہ بھی تھا کہ میں اپنے والد سے کہوں کہ میری کچھ مدد کردیں تاکہ میں اپنی ماں کو لیکر اس ملک سے باہر چلا جاؤں تاکہ مجھے معاشرے کے طعنے معنے نہ سننے پڑیں ۔ انکا کہنا ہے کہ جیسے ہی پیغام بھجوایا تو پانچ منٹ بعد ہی مجھ پر ر فائرنگ کروا دی گئی ، میں بڑی مشکل سے وہاں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوا ۔

    جون 2016 میں مخدوم زادہ سید عباس اکبرکی پہلی بیوی شیریں نصیر نے اپنے خاوند مخدوم زادہ سید عباس اکبرپر لاہور سول کورٹ میں ” حق المہر اینڈ ریکوری آف مینٹیننس “ کا دعویٰ درج کرا دیا ۔ جسکے جواب میں مخدوم زادہ سید عباس اکبرکی طرف سے وکلاء نے عدالت میں جواب جمع کرایا ” میرا اس عورت (شیریں نصیر) سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ میں نے آج تک اسے دیکھا ہے ، یہ دعویٰ جعلی ہے ، نکاح نامہ جعلی ہے ، نکاح نامے پر میرے دستخط اصل نہیں ہیں ، یہ نکاح نامہ رجسٹرڈ نہیں ہے ، شناختی کارڈ کے مطابق جو نکاح نامہ پر عمر لکھی گئی ہے وہ بھی 10 سال زیادہ لکھی ہے لہذا یہ معاملہ سارا جعلی ہے اور اس عورت (شیریں نصیر) اور اسکے بیٹے مخدوم سید علمدار رضا کو مس گائیڈ کیا جا رہا ہے ، میرا اس سے کوئی واسطہ نہیں ہے اور نہ یہ میرا بیٹا ہے “۔

    جنوری 2017 میں مخدوم سید علمدار رضا نے لاہور سول کورٹ میں اپنے والد مخدوم زادہ سید عباس اکبراور والدہ شیریں نصیر کے خلاف” ڈیکلریشن آف پیرنٹل آئیڈنٹٹی “کا دعویٰ درج کرا دیا ۔ مخدوم زادہ سید عباس اکبرکی طرف سے عدالت میں درخواست دی گئی کہ جس جج کے پاس اسکی ماں کا کیس ہے اسی کے پاس یہ کیس بھی بھجوا دیا جائے تاکہ دونوں کیسز ایک عدالت میں ایک ہی وقت میں آگے چل سکیں ، جسے منظور کرلیا گیا اور یوں شیریں نصیر اور انکے بیٹے کا کیس ایک ہی عدالت میں لگا دیا گیا ۔ 4 ماہ تک سمنز ہوتے رہے لیکن مخدوم زادہ سید عباس اکبرکی طرف سے کوئی جواب عدالت میں نہیں جمع نہیں کرایا گیا ۔

    4 جولائی 2017 کو مخدوم سید علمدار رضا نے جج بلال فیض رسول کو ”ڈی این اے ٹیسٹ“ کی درخواست دے دی اور عدالت سے یہ درخواست کی کہ یہ معاملہ بہت گھمبیر ہوتا جارہا ہے اور میرا والد یہ ماننے کو تیار نہیں کہ میں انکا بیٹا ہوں تو عدالت ڈی این اے ٹیسٹ کا حکم دے تاکہ سچائی سب کے سامنے آسکے ۔ لیکن عدالت ڈی این اے ٹیسٹ کا حکم نہیں دیتی یہ کہتے ہوئے کہ ” میں ڈی این اے ٹیسٹ کا حکم دے تو دوں مگر آپ دیکھیں کہ اسکی رشتہ داری کس کس سے ہے کون کون ہے اسکی فیملی کی ریپوٹیشن کا کیا ہوگا ؟ ۔

    اسی دوران مخدوم زادہ سید عباس اکبرکی طرف سے ملتان میں شیریں نصیر اور مخدوم سید علمدار رضا کے اوپر کیسز درج کرا دیئے جاتے ہیں کہ جو کیسز لاہور میں سول کورٹ میں مخدوم زادہ سید عباس اکبرکے اوپر بنے ہیں وہ بے بنیاد ہیں لہذا شیریں نصیر کو کیس کرنے کی اجازت نہ دی جائے ۔ درخواست میں موقف اپنایا کہ شیریں نصیر میری بیوی نہیں ہے اور علمدار رضا میرا بیٹا نہیں ہے یہ عدالت کا وقت ضائع کررہے ہیں ۔

    7 مارچ 2019 کو لاہور ہائیکورٹ میں مخدوم زادہ سید عباس اکبر کی طرف سے درخواست جمع کروائی جاتی ہے کہ ملتان والے کیسز لاہور سول کورٹ میں منتقل کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ میرے وکلاء ملتان اور لاہور میں بار بار جانے کی بجائے ایک ہی جگہ پر سب کیسز کو فالو کریں اور جب تک فائلیں لاہور نہیں آجاتیں تب تک سول کورٹ لاہور شیریں نصیر اور علمدار رضا کے کیسز کی کاروائی روک دے ۔ جسے منظور کرلیا گیا اور ملتان سے کیسز لاہور شفٹ کرنے کا حکم جاری کردیا گیا ۔

    طویل انتظار کے بعد جب شیریں نصیر اور علمدار رضا ملتان ڈسٹرکٹ کورٹ جج سہیل اکرم کی عدالت میں پیش ہوئے تو معلوم ہوا کہ 6 ماہ تک لاہور ہائیکورٹ کا آرڈر(کیسز لاہور منتقل کرنے کا) ملتان نہیں پہنچا بلکہ اسے روک لیا گیا جبکہ ملتان میں موجود کیسز کی کاروائی بھی چلتی رہی اور شیریں نصیر اور علمدار رضا کی غیر حاضری لگتی رہی ۔جج کے سامنے جب حقیقت آئی تو اس نے کیسز کو فوری طور پر لاہور منتقل کرنے کا آرڈر دیا ۔ 26ستمبر کو لاہور سول کورٹ کی جج ”بشرہ راشد“ کے پاس فائلیں پہنچیں تو انہوں نے پہلے ملتان والے کیسز کو سننے کے لیے کاروائی شروع کی جبکہ شیریں نصیر اور علمدار رضا جو پچھلے ساڑھے تین سال سے عدالت میں دھکے کھا رہے تھے انکو پس پشت ڈال دیا ۔

    مخدوم زادہ سید عباس اکبرکے بیٹے مخدوم سید علمدار رضا کا کہنا ہے کہ میرے کیسز پر شاہ محمود قریشی اور سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی اثر انداز ہورہے ہیں ، ججز انکے پریشر میں ہیں اور چونکہ میں غریب ہوں اور میری پاس پیسہ نہیں ہے اس لیے مجھے اور میری ماں کو زلیل کیا جا رہا ہے ۔ انکا کہنا تھا کہ میں کچھ نہیں چاہتا ، میں دربار نہیں چاہتا ، کوئی گدی نہیں چاہتا ، کوئی دولت نہیں چاہتا ، میں صرف اور صرف اپنے والد کی شناخت چاہتاہوں ۔

    سید علمدار رضا نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ سے اپیل کی ہے کہ میرے پاس سب ثبوت موجود ہیں جو یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ مخدوم زادہ سید عباس اکبرمیرا باپ ہے اور مجھے یہ یقین دلایا جائے کہ میرے کیسز میں ججز پر کوئی پریشر نہیں ہوگا اور فیصلہ میرٹ پر ہوگا ۔ انکا کہنا ہے کہ اگر مجھے یا میری ماں کو کچھ ہوا تو اسکا ذمہ دار ”شاہ محمود قریشی“ ،”مخدوم زادہ سید عباس اکبر “ سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی ہوں گے۔ چیئرمین نیب سے اپیل کرتے ہوئے سید علمدار رضا کا کہنا تھا کہ میرے باپ نے دبئی اور یورپ میں بہت سی جائیدادیں خریدی ہیں جو انہوں نے الیکشن کمیشن میں ڈکلئیر نہیں کی ہیں انکے خلاف بھی ایکشن لیا جائے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان سے اپیل کرتے ہوئے علمدار رضا کا کہنا تھا کہ فی الفور شاہ محمود قریشی کا استعفیٰ لیا جائے ۔

    رابطہ کرنے پر مخدوم زادہ سید عباس اکبر کے سیکرٹری یاسین کا کہنا تھا کہ عباس اکبر صاحب سالانہ میڈیکل چیک اپ کے لیے ملک سے باہر ہیں اور یہ معاملہ عدالت میں ہے ، عدالت جو فیصلہ کرے گی ہمیں منظور ہوگا۔ اگر فیصلہ بچے کے حق میں آتا ہے تو اسکے حقوق کی بات فیصلے کے بعد کی جائے گی ۔ شاہ محمود قریشی اور سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کے حوالے سے یاسین کا کہنا تھا کہ یہ جھوٹ ہے کہ دونوں اشخاص کیسز پر اثر انداز ہو رہے ہیں ،

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی صاحب اور تصدق حسین جیلانی صاحب نے کسی کو کوئی فون نہیں کیا اور نہ انہوں نے کسی کو لکھ کر یہ کہا ہے کہ کیسز کو لٹکایا جائے یا وہ ججز کو پریشرائز کررہے ہیں ۔ انکا کہنا تھا کہ چند دنوں کی بات رہ گئی ہے ۔ جلد عدالت سچ سب کے سامنے لے آئے گی۔ انکا کہنا تھا کہ جواب دعویٰ میں شاہ محمود اور تصدق حسین جیلانی کا نام اس لیے لیا گیا کہ عدالت کوفیملی کی ریپوٹیشن کے حوالے سے آگاہ کردیا جائے ۔

     

    سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کے بیٹے ایڈووکیٹ ثاقب جیلانی کا کہنا تھا کہ ”علمدار رضا “ میرے والد پر جو الزامات لگا رہا ہے وہ بالکل بے بنیاد اور جھوٹے ہیں ۔ انکا کہنا تھا کہ تصدق حسین صاحب نے ساری زندگی عزت سے گزاری ۔ وہ خود بھی جج رہے ہیں اور یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ ایک ریٹائرڈ جج اس طرح کے کیس میں اپنا کردار ادا کررہا ہو۔ انکا کہنا تھا کہ ملتان ایک ایسا شہر ہے جہاں ہو سکتا ہے کہ کبھی عباس اکبر صاحب کی ملاقات میرے والد تصدق حسین سے ہوئی ہو لیکن اسکا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہمارے رشتہ دار بن گئے ۔

    سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کے بیٹے ایڈووکیٹ ثاقب جیلانی کہتے ہیں کہ ہماری کسی قسم کی کوئی رشتہ داری عباس اکبر کے خاندان سے نہیں ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں ثاقب جیلانی کا کہنا تھا کہ عباس اکبر کی طرف سے عدالت میں جواب دعویٰ میں لکھی گئی درخواست میں تصدق حسین جیلانی صاحب کا ریفرنس انہوں نے کسی اور وجہ سے دیا ہوگا ۔ اپنے خاندان کی ساکھ کو ایکسپلین کرتے ہوئے کہا ہوگا لیکن ہمارا اس کیس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ ہمیشہ عزت کی زندگی گزاری ہے اور آگے بھی گزاریں گے ۔

    سی بارے میں بات کرنے کے لیے متعدد بار وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی صاحب سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن فون اٹینڈ نہ کرنے کی صورت میں ان سے رابطہ نہ ہوسکا ۔

    دوسری جانب قانونی حلقوں کے ماہرین کہتے ہیں کہ ڈی این اے ٹیسٹ صرف کریمنل کیسز میں کروایا جاسکتا ہے ، فیملی کیسز میں ڈی این اے ٹیسٹ کا کوئی قانون پاکستان میں موجود نہیں ہے جو کہ قانون میں بہت بڑا خلا ہے جسے ختم کرنا بہت ضروری ہے۔

  • کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئےتربیتی ورکشاپ کا انعقاد۔

    کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئےتربیتی ورکشاپ کا انعقاد۔

    کمالیہ:سول ڈیفنس کے زیر اہتمام تحصیل بھر کے سرکاری سکولوں پرائمری اور ایلیمنٹری سکولوں کے ہیڈ کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئےتربیتی ورکشاپ کا انعقاد۔ابتدائی طبی امداد اور سیلف ڈیفنس کی عملی تربیت دی گئ۔
    تفصیلات کے مطابق
    ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ آمنہ منیراسسٹنٹ کمشنر کمالیہ نوشین اسراراور ڈسٹرکٹ آفیسر سول ڈیفنس محمود حسین انجم کی ہدایات پر سرکاری سکولوں کے ہیڈز کو شہری دفاع کی تربیت دینےکیلئےگورنمنٹ ہائی سکول نمبر 1 ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جس میں سول ڈیفنس انسٹرکٹر محمد شکور عاصم نےابتدائی طبی امداد اور ھنگامی صورتحال جس میں کی بھی طرح کے بم دھماکے ، فائرنگ یا آگ لگنے سمیت دیگر واقعات سے نمٹنے کے لئے فائر فائٹنگ اور فوری ابتدائی طبی امداد کی تربیت دی گئی تمام تربیتی عمل کو عملی طور پر کر کے دکھایا اس موقع پر انسٹرکٹر سول ڈیفنس محمد شکور نے گفتگو کرتے ہوۓ کہا کہ تربیتی ورکشاپ کا مقصد سکولوں میں خدانخواستہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کے پیش نظر جلد سے جلد بچوں اور اساتذہ کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے سمیت بچاؤ کے طریقہ کار کو اپنانا ہے کیونکہ سکولوں میں چھوٹے بچے زیر تعلیم ہوتے ہیں اس لیۓ وہ کسی مدد کے بغیر ہنگامی حالات سے نمٹنے سے قاصر ہوتے ہیں۔

  • بھارت:ریپ کے بعد زندہ جلائی گئی لڑکی نے تڑپ تڑپ کرجان دے دی

    بھارت:ریپ کے بعد زندہ جلائی گئی لڑکی نے تڑپ تڑپ کرجان دے دی

    نئی دہلی :بھارت:ریپ کے بعد زندہ جلائی گئی لڑکی نے تڑپ تڑپ کرجان دے دی ،اطلاعات کےمطابق بھارت میں عدالت جاتےہوئےجلائی گئی ریپ کا شکار 23 سالہ لڑکی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی۔

    بھارت میں انسان نہیں درندے بستےہیں،امریکہ

    23 سالہ مظلوم لڑکی کے علاج کرنے والے ڈاکٹرشلبھ کمار کا کہناتھاکہ متاثرہ لڑکی 95 فیصد جھلس چکی تھی،اس کی سانس کی نالی بھی جل چکی تھی جس کےباعث پھیپھڑے گرم اور زہریلے بخارات سے بھر چکے تھے۔متاثرہ لڑکی کےبیان کے مطابق  اسے آگ لگانے میں 5 افراد ملوث تھے، جن میں اس کا ریپ کرنے والا ملزم بھی شامل تھا۔

    گرمائی دارالحکومت سری نگرکوٹھنڈ لگ گئی ، درجہ حرارت منفی 3.6 تک گر گیا

    پولیس کاکہناہےکہ متاثرہ لڑکی نےمارچ میں اناؤ پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی تھی کہ اسے12 دسمبر 2018 کو اسلحے کے زور پرریپ کا نشانہ بنایا گیا مقدمےکے اندراج کےبعد ملزم کو گرفتار کرلیا گیا تھالیکن گزشتہ ہفتےضمانت ملنےپراسےجیل سےرہائی مل گئی تھی۔

    10دسمبر:اورنج لائن ٹرین کی اڑان،لاہوریوں کی بھی جان بخشی ہوجائے گی

    اترپردیش پولیس نےواقعےمیں ملوث 5 ملزمان کوگرفتارکرلیاہے۔واضح رہے کہ تئیس سالہ لڑکی کومارچ میں اناؤ کےعلاقےمیں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا، جب کہ جلائے جانے کے باعث لڑکی کا60سے 70 فی صد جسم جھلس گیا تھا۔

  • بھارت میں انسان نہیں درندے بستےہیں،امریکہ اوربرطانیہ نے اپنی خواتین کوبھارت جانے سے روک دیا

    بھارت میں انسان نہیں درندے بستےہیں،امریکہ اوربرطانیہ نے اپنی خواتین کوبھارت جانے سے روک دیا

    نئی دہلی :بھارت میں انسان نہیں درندے بستےہیں،امریکہ اوربرطانیہ نے اپنی خواتین کوبھارت جانے سے روک دیا ،اطلاعات کے مطابق بھارت میں خواتین سے زیادتی اورقتل کے مسلسل رونما ہونے والےواقعات کے بعد امریکا اوربرطانیہ نےاپنی خواتین شہریوں کو بھارت کے غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کردی ہے ۔

    برطانوی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات میں کےمطابق بھارت میں برطانوی خواتین گروپ میں ہوں تب بھی محتاط رہیں۔ بھارت میں مسافر خواتین غیر محفوظ ہیں، کبھی بھی نشانہ بن سکتی ہیں۔ایڈوائزری میں مزید کہاگیاہےکہ برطانوی خواتین سیاحوں کواس سے قبل دلی،راجستھان اور گوامیں زیادتی کانشانہ بنایاجاچکاہے۔

    دوسری جانب امریکی حکومت نے بھی امریکی خواتین کو بھارت میں تنہا سفر کرنے سے گریز کی ہدایت کردی ہے۔ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ امریکی خواتین بھارت میں موجود ہوں تو الرٹ رہیں۔واضح رہے کہ بھارت میں27 سالہ ویٹرنری ڈاکٹر پریانکا ریڈی زیادتی کیس نے پورے بھارت میں ہلچل مچادی تھی۔ جس کے بعد پورے بھارت میں احتجاج شروع ہوگئےتھے ۔

    یاد رہے کہ بھارت کے نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے مطابق بھارت میں ہر 15 منٹ میں ایک خاتون کا ریپ (زیادتی) اور ہر ایک دن بعد کسی خاتون کا گینگ ریپ کیا جاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق سال 2017 میں مجموعی طور پر بھارت بھر میں خواتین کے خلاف جرائم و تشدد کے 3 لاکھ 60 ہزار سے زائد کیسز رجسٹرڈ ہوئے، جن میں سے زیادہ تر ریپ کے کیسز تھے۔