Baaghi TV

Author: +9251

  • مقبوضہ کشمیر، حزب المجاہدین سے وابستہ مجاہدین پر کتنا انعام رکھا گیا؟

    مقبوضہ جموں کشمیر کے کشتواڑمیں پولیس نے حزب المجاہدین سے منسلک مجاہدین پرلاکھوں روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔

    مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوج کا دو مجاہدین کو شہید کرنے کا دعوی

    بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس نے تین مجاہدین پر 30 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔ محمد امین پر 15 لاکھ روپے، ریاض احمد اور مدثر حسین پر ساڑھے سات لاکھ کا انعام رکھا گیا ہے۔ پولس کو ان تینوں آزادی پسندوں کی تلاش ہے۔ پولیس کے مطابق ان مجاہدین کے بارے میں جانکاری دینے والے کی پہچان خفیہ رکھی جائے گی۔

    واضح رہے کہ یہ تینوں مجاہدین مقبوضہ کشمیر میں کئی حملوں میں ملوث رہے ہیں۔ ان تینوں کا تعلق حزب المجاہدین سے بتایا جاتا ہے ۔

    مقبوضہ کشمیر، سی آرپی ایف کے جوانوں پر گرینیڈ حملہ

    یاد رہے کہ بھارتی میڈیا نے ملی خفیہ اطلاع کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان حامی عسکریت پسند تنظیم لشکر طیبہ کو بھارتی سیکورٹی فورسز پر حملہ کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ دنوں پلوامہ میں عسکریت پسندوں کی ایک میٹنگ ہوئی تھی جس میں لشکر طیبہ، حزب المجاہدین اور جیش محمد کو سیکورٹی فورسز پر حملے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔

    مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوج نے 3 مزید کشمیری نوجوانوں‌ کو شہید کر دیا

  • صحافیوں اور اینکرز کی پیمرا کی پابندیوں کی شدید مذمت

    لاہور :پاکستان کے معروف ٹی وی اینکرز نے پیمرا کی جانب سے اینکرز کو دوسرے ٹی وی چینل پر سیاسی معاملات سے متعلق تجزیہ دینے پر پابندی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے یہ پابندیاں آمرانہ، ظالمانہ اور آزادی اظہار کے خلاف فیصلہ قرار دیدیا۔

    ایک مشترکہ بیان میں اینکرزنے پیمرا کےاحکامات کو آئین پاکستان کے خلا ف قراردیتے ہوئے کہاکہ یہ پیمرا کا دائرہ کار ہی نہیں کہ وہ پروگراموں کے مہمانوں، ماہرین اور تجزیہ نگار وں کے حوالے سے فیصلہ کرے۔بیان میں کہاگیاکہ پیمرا کے احکامات کے مطلب یہ ہے کہ ریاست فیصلہ کرے گی کہ کون کس موضوع با ت کر ے، یہ ریاست اور اداروں کا کام نہیں ہے کہ فیصلہ کرے کون صحافی ہے اور کون صحافی نہیں ہے۔

    اینکرز نے کہاکہ وہ وزیر اعظم عمران خان کی تحریک انصاف کی حکومت کو اس فیصلے کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔بیان میں کہاگیاکہ آئین کے مطابق منتخب حکومت تمام اداروں کے فیصلوں کی جواب دہ ہے،یہ ضروری نہیں کہ کون فرنٹ اور کون بیک پر ہے۔بیان میں کہاگیاکہ ہم حکومت کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں میڈیا کی مزاحمت کی ایک لمبی تاریخ ہے، ہم نے جمہوریت اور جمہوری اقدار کی بحالی کیلئے ڈکٹیٹر شپ کے خلاف لڑے ہیں۔

    انہوں نے کہاکہ ہم نے دہشتگردی اور شدت پسندی کے خلاف بھی جنگ کی ہے،ہم نے اس جنگ میں سینکڑوں ساتھی کو کھویا ہے اور سختیاں، دھمکیاں، ہراساں کر نے کے واقعات کا سامنا اور ہزاروں صحافیوں بے روز گار کر تے ہوئے دیکھا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم جانتے ہیں کہ حقوق کیلئے جنگ کیسے کی جائے؟۔انہوں نے کہاکہ جمہوریت کی بقاء کیلئے اختلاف رائے اہم ہے،اس کے تحفظ کیلئے ہم کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں حتیٰ کہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر تحریک بھی شروع کر سکتے ہیں۔

    بیان میں کہاگیاکہ ہم فوری طورپر پیمرا کے نوٹیفکیشن کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہیں،ہم صحافیوں کو بڑھتے ہوئے ایڈوائس اور ہراساں کر نے کے واقعات کے فوری روکنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔بیان میں کہاگیاکہ ہم صحافیوں کے براہ راست اور باالواسطہ دھمکیوں کو بند کر نے کا مطالبہ کرتے ہوئے،جن صحافیوں اور اینکرز نے بیان جاری کیا ہے اس میں حامد میر، محمد مالک، کاشف عباسی، عامر متین، مہر عباسی، اویس توحید،عاصہ شیرازی، ارشد شریف، رؤف کلاسرا،مظہر عباس،شاہ زیب خانزادہ،منصور علی خان،نسیم زہرا،طاہر خان،منزے جہانگیر اور شوکت پراچہ شامل ہیں۔

  • مالیاتی پالیسی اور معاشی پالیسی کے حوالے سے وزیراعظم کو بریفنگ

    وزیرِ اعظم کو پنجاب کی مالیاتی پالیسی اور معاشی پالیسی کے اس مالی سال کے اہداف سے آگاہ کیا گیا۔ صو با ئی وزیر خزانہ ہاشم بخت نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت پہلے سہ ماہی کے اہداف کو گذشتہ سال کی نسبت بہتر طور پر حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہے۔

    صو با ئی وزیر خزانہ ہاشم بخت نے وزیرِ اعظم کو بتایا کہ اس مالی سال کے ترقیاتی بجٹ میں پچھلے سال کی نسبت نمایا ں اضافہ کیا گیا ہے اور سماجی بہبود کے منصوبو ں پر خاص توجہ دی جا رہی ہے اور ہسپتال اورتعلیمی اداروں کے لئے مختص فنڈز کی بلا تعطل فراہمی کی ہر ممکن کوشس کی جا رہی ہے تاہم اورینج ٹرین کی سبسڈی اور دیگر ایسے منصوبوں کی وجہ سے صوبائی حکومت کو مسائل در پیش ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ عوام کو موجودہ حکومت کے فلاحی کاموں کے بارے میں آگاہی فراہم کی جائے۔

    ماضی کی حکومتوں کے جانب سے حاصل کیے گئے قرضوں اور انکا استعمال اور موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں اور قرضوں کا موازنہ بھی عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔ وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ سالانہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لئے عملی اقدامات اور حکمت عملی پر توجہ دی جائے۔

    وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے پر توجہ دی جائے اس تناظر میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو صوبائی اور ملکی معاشی ترقی کے لیے بھرپور طور پر استعمال کیا جا سکتا ہےوزیراعظم نے کہا کہ ایزآف ڈوئنگ بزنس اور معیشت کے شعبے میں دیگر مثبت اعشاریوں کو عوام اور سرمایہ کاروں تک موثر انداز میں پہنچائیں

    وزیراعظم عمران خان کو صوبائی وزیرخوراک اورصوبائی سیکرٹری خوراک نے گندم کی قیمت کے حوالے سے بھی بریفنگ دی وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ صوبے بھر میں اشیائے خوردنوش اور خصوصا گندم اور آٹے کی قیمتوں کو کم سے کم رکھنے کو یقینی بنانے کے لئے خصوصی اقدامات کیے جائیں

  • 5-اگست سے اب تک ایک لاکھ کشمیری بے روزگارہوگئے ،کشمیرچیمبرآف کامرس

    سری نگر:5 اگست سے ،جب بھارت کی حکومت نے آرٹیکل 370 کے تحت جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کردیا ،کشمیر میں نجی شعبے میں کام کرنے والے ایک لاکھ سے زیادہ افراد اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

    کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (کے سی سی آئی)کے ابتدائی جائزے کے مطابق 5 اگست کے بعد سے عائد پابندیوں ، شٹ ڈاؤن اور مواصلات کی معطلی کی وجہ سے ، سیاحت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ کے سی سی آئی کے صدر ، شیخ عاشق نے بتایاکہ ہمارے تخمینے کے مطابق پچھلے تین ماہ کے دوران ملازمتوں میں ایک لاکھ سے زیادہ کی کمی ہوئی ہے ۔

    سیاحت کا شعبہ جس سے تقریباً پانچ لاکھ افراد کاروزگار وابستہ ہے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے ۔ سیاحت کے شعبے میں اب تک ملازمتوں میں پچاس ہزارکے قریب کمی کی اطلاع ملی ہے۔ اگر صورتحال میں بہتری نہیں آئی تو تعداد بڑھ سکتی ہے۔ وادی میں1100 ہوٹلوں میں سے تقریبا 80 فیصد تین ماہ سے بند ہیں۔ انہوں نے ساؤتھ ایشین وائر کو بتایا کہ یہاں تقریباً 300 ریسٹورانٹ، 900 ہاؤس بوٹ ، 600 شکارا کشتیاں اور 5000 ٹیکسیاں ہیں ، جن کا براہ راست انحصار سیاحت پر ہے۔

    کے سی سی آئی کے صدر نے مزید بتایاکہ سیاحت کے علاوہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرنے والے دیگر نجی دفاتر بند کر دیے گئے ہیں۔ مختلف کورئیر سروسز میں کام کرنے والے تقریباً 3000 لڑکے بیکار بیٹھے ہیں ، انٹرنیٹ سروسز کی معطلی کی وجہ سے ، تمام ای کامرس کمپنیوں نے وادی میں سروسز کی فراہمی بند کردی ہے۔ نجی اسکولوں میں کام کرنے والے اساتذہ کو خدشہ ہے کہ اگر صورتحال ایسے ہی رہی تو انہیں ملازمت سے برطرف کردیا جائے گا۔ نجی اسکول کی ایک استاد شازیہ نے بتایاکہ انہیں پچھلے دو ماہ سے تنخواہیں نہیں دی گئیں۔

    جب نیوز ایجنسی نے اسکول کی انتظامیہ سے رابطہ کیا تو انہوں نے شکوہ کیا کہ طلبا پچھلے تین ماہ سے واجبات جمع نہیں کرواسکے ہیں ، جس وجہ سے وہ اساتذہ کو تنخواہیں دینے سے قاصر ہیں۔ 5 اگست کے بعد سے ، کاروباری ادارے ، پبلک ٹرانسپورٹ ،تعلیمی ادارے اور دکانیں اپنے "اوپن اینڈ شٹ شیڈول” کے تحت بند ہیں۔ بیشتر دکانیں اورکاروباری ادارے صبح 7 بجے سے صبح 10 بجے تک کھلے رہتے ہیں ، لیکن دن میں بند رہتے ہیں ايک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ2011 کی مردم شماری کے مطابق وادی کشمیر کی آبادی 70 لاکھ افراد پر مشتمل ہے اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وادی میں معاشی شعبوں سے تقریباً20 لاکھ افراد اپنا روزگار کماتے ہیں۔

  • دنیا کی دو بڑی کمپنیاں پاکستان میں کس منصوبہ پر کام کر رہی ہیں؟ فواد چوہدری نے بتا دیا

    دنیا کی دو بڑی کمپنیاں پاکستان میں کس منصوبہ پر کام کر رہی ہیں؟ فواد چوہدری نے بتا دیا

    وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ چین کی بیٹری بنانے والی دوسری بڑی کمپنی پاکستان میں لیتھیم بیٹری بنانے کا کارخانہ لگائے گی،


    اسلام آباد ۔ 28 اکتوبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ دنیا کی دو بڑی کمپنیاں سولر پینل بنانے کے پلانٹس پاکستان میں لگارہی ہیں، وفاقی وزیر نے پیر کو ایک ٹویٹ میں کہا کہ چین کی بیٹری بنانے والی دوسری بڑی کمپنی پاکستان میں لیتھیم بیٹری بنانے کا کارخانہ لگائے گی اور بیٹری پر چلنے والی بسیں بھی پاکستان میں ہی بنیں گی،

    انہوں نے کہا کہ سیاسی تماشبینی میں اچھی خبریں تو کھوجاتی ہیں پھر بھی مجھے بہت خوشی ہے کہ دینا کی دو بڑی کمپنیاں سولر پینل بنانے کے پلانٹس پاکستان میں لگارہی ہیں،

  • مقبوضہ جموں و کشمیر، گرینیڈ حملہ میں 20کشمیری زخمی

    مقبوضہ جموں و کشمیر، گرینیڈ حملہ میں 20کشمیری زخمی

    مقبوضہ جموں کشمیر کے ضلع سوپور میںایک گرینیڈ حملہ میں 20کشمیری زخمی ہو گئے۔

    مقبوضہ کشمیر، سی آرپی ایف کے جوانوں پر گرینیڈ حملہ

    بھارتی میڈیا کے مطابق سوپور میں بس اڈا کے قریب نامعلوم افراد سیکورٹی فورسز کو گرینیڈ کے ذریعے نشانہ بنایا گیا لیکن نشانہ صحیح نہیں لگا ۔ جس کی وجہ سے گرینیڈ اڈے پر موجود لوگوں کے درمیان گر کر پھٹ گیا جس سے کم ازکم 20کشمیری زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں سے تین کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔حملہ کے فوراً بعد پولیس اور سیکورٹی فورسز نے علاقہ کا محاصرہ کرلیا ۔ابھی تک کسی بھی عسکریت پسند گروپ نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ تین دنوں میں یہ دوسرا حملہ ہے اور اس سے پہلے کرن نگر علاقہ میں ایک گرینیڈ حملہ میں سی آر پی ایف کے چھ جوان زخمی ہوگئے تھے۔ سوپوربس اڈہ پر ہوئے حملہ کی فی الحال کسی بھی تنظیم نے ذمہ داری نہیں لی ہے۔

    مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوج کا دو مجاہدین کو شہید کرنے کا دعوی

    واضح رہے کہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے ایک تقریر میں کہا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں پلوامہ طرز کا حملہ کر سکتا ہے۔

  • سانحہ ساہیوال کے ملزمان کی بریت، پنجاب حکومت نے بڑا قدم اٹھا لیا

    سانحہ ساہیوال کے ملزمان کی بریت، پنجاب حکومت نے بڑا قدم اٹھا لیا

    سانحہ ساہیوال کے ملزمان کی بریت کو پنجاب حکومت کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے،

    مولانا فضل الرحمن کی زیرقیادت مارچ کو اسلام آباد آنے دینا ہے یا نہیں؟ فیصلہ ہو گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی ہدایات پر پنجاب حکومت کی طرف سے یہ اقدام اٹھایا گیا ہے، حکومت پنجاب نے ایڈیشنل پراسیکیوٹر عبدالصمد خان کے توسط سے لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی ہے جس میں ملزمان کی بریت پر اعتراض اٹھایا گیا اور کہا گیا ہے کہ یا تومقدمے کی تفتیش درست نہیں ہوئی یا پھرگواہوں نے اپنے بیانات تبدیل کر لیے ہیں، وزیراعظم کی ہدایات پر پنجاب حکومت کی طرف سے کی گئی اپیل میں فاضل عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ قانون کے تحت گواہوں کے بیانات تبدیل کرنے اور ناقص تفتیش پر ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے، اسی طرح یہ بھی کہا گیا ہے کہ سانحہ ساہیوال کے ملزموں کی بریت کا فیصلہ کالعدم قراردیا جائے،

    این آر او ملے گا یا نہیں وزیر اعظم نے اعلان کردیا

    واضح رہے کہ لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 24 اکتوبر کو سانحہ ساہیوال میں 4 افراد کے قتل میں ملوث پولیس اہلکاروں کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا تھا جس پر عوامی سطح پر سخت بے چینی دیکھنے میں آئی تھی، اس فیصلہ کے بعد پنجاب حکومت کی جانب سے اب لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی ہے،

  • صحت مند پنجاب وزیراعظم کو اہم بریفنگ اہم رہنما شریک

    لاہور:وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت صوبہ پنجاب میں صحت کے شعبے میں سہولیات کی بہتری اور اصلاحات کے حوالے سے اجلاس۔اجلاس میں وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، وزیر تعلیم شفقت محمود، معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد، چیف سیکرٹری پنجاب نسیم یوسف کھوکھر اور دیگر متعلقہ افسران شریک ہوئے

    اس اہم اجلاس میں صحت کے شعبے میں سہولیات کو بہتر بنانے کے ضمن میں نئے اقدامات کے تحت پانچ بڑے ہسپتالوں کے شعبہ حادثات میں فراہم کی جانے والی سروسز کو مزید بہتر بنانے، ہسپتالوں کی او پی ڈیز کی مرمت و تزئین ، مددگار کاونٹرز کا قیام اور ہسپتالوں کے انتظامی و مالی امور کو بہتر بنانے کی غرض سے اقدامات پر بریفنگ دی گئی

    بریفنگ کے دوران ہسپتالوں کے انتظامی امور میں سزا اور جزا کے نظام اور غریب مریضوں کو بہتر اور بروقت علاج کی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے اقدامات پر وزیر اعظم کو آگاہ کیا گیا ۔

    وزیراعظم کو بتایا گیا کہ تیس ضلعوں میں ہیلتھ کارڈ کی فراہمی کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ بقایا چھ اضلاع میں بھی جلد ہیلتھ کارڈ کا اجرا کردیا جائے گا ۔ ہیلتھ کارڈ سہولت کے ذریعے مستحقین کو علاج کی سہولیات کی فراہمی شروع ہو چکی ہے۔ زیادہ سے زیادہ مستحقین کو ہیلتھ کارڈ کے ذریعے علاج معالجے کی سہولت کی فراہمی کو یقینی بنایا جارہا ہے ۔ مستقبل میں امراض قلب کے نئے ہسپتالوں کے قیام کے منصوبوں اور صوبہ میں ڈینگی پر قابو پانے کےلئے اقدامات پر وزیراعظم عمران خان کو آگاہ کیا گیا ۔

    وزیراعظم عمران خان نے محکمہ اوقاف کے زیر انتظام زمینوں کی نشاندہی کر کے نجی شعبے کے ہسپتالوں کو لیز پر دینے اور ہیلتھ کارڈ کے تحت ان نجی ہسپتالوں سے مستحقین کے علاج کو منسلک کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔عوام الناس کو صحت کی بروقت اورمعیاری سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے ۔ اس ضمن میں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں

    وزیراعظم نے مزید کہا کہ ماضی میں امیر کو تو معیاری علاج معالجے کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے اقدامات لئے گئے مگر غریب اور متوسط طبقے کو معیاری اور بر وقت علاج کی سہولیات کی فراہمی پر کوئ توجہ نہیں دی گئی ۔ موجودہ حکومت اس ضمن میں ایک مربوط حکمت عملی کے تحت وضع کیے گئے روڈ میپ کی تکمیل پر عمل پیرا ہے جس سے طبقات کے فرق کے بغیر ہر شہری علاج معالجے کی بہترین سہولیات حاصل کر سکے گا ۔

  • ظالمانہ ٹیکسز اور 50 ہزار روپے کی خریداری پر شناختی کارڈ کی شرط کے خلاف ہڑتال

    مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کی جانب سے وفاقی حکومت اور ایف بی آر کی جانب سے ملک کے چھوٹے تاجروں اور دکانداروں پر لگائے جانیوالے ظالمانہ ٹیکسز اور 50 ہزار روپے کی خریداری پر شناختی کارڈ کی شرط کے خلاف کل بروز منگل اور بدھ کے دن یعنی 29 اور 30 اکتوبر2019 کو پورے پاکستان میں مکمل شٹرڈاون ہڑتال ہوگی جس میں تمام تجارتی ادارے بند رہینگے اور ہر قسم کا کاروبار مکمل طور پر بند رہے گا تمام ملک کے بڑے بڑے شہر بازار، گلیاں اور مارکیٹیں یعنی کہ ہر چھوٹا بڑا دکان داراپنا کاروبار بند رکھے گا اور کوئی بھی دکان کھلی نہیں ہوگی کل اور پرسوں پورا دن ہڑتال ہوگی تمام تاجر برادری سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے ساتھ بھر پور تعاون کرے. شکریہ
    منجانب:خواجہ شاہد رزاق سکا صدر،چوہدری محمود عالم جٹ سیکرٹری انجمن تاجران سٹی رجسٹرڈ فیصل آباد

  • مولانا فضل الرحمن کی زیرقیادت مارچ کو اسلام آباد آنے دینا ہے یا نہیں؟ فیصلہ ہو گیا

    وفاقی سیکریٹری داخلہ اعظم سلیمان کی زیرصدارت وزارت داخلہ میں اہم اجلاس ہوا ہے،

    این آر او ملے گا یا نہیں وزیر اعظم نے اعلان کردیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں اسلام آباد اور راولپنڈی کے پولیس وضلعی انتظامیہ کے حکام نے شرکت کی، سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں مارچ کو اسلام آباد آنے دینا ہے، اگر کوئی ایسی ویسی صورتحال پیدا ہوئی تو موقع پر فیصلہ کیا جائے گا، وزارت داخلہ میں قائم فیوژن سیل کے افسران نے بھی اجلاس میں شرکت کی،

    واضح‌ رہے کہ مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں اپوزیشن کا آزادی مارچ سکھر سے ملتان کیلئے روانہ ہوگیا ہے جبکہ مارچ میں کارکنوں کی بڑی تعداد شریک ہے، ملک بھر سے قافلے بھی شامل ہونا شروع ہو گئے ہیں، آزادی مارچ گزشتہ روز کراچی سے شروع ہوا اورحیدر آباد، ہالا، مٹیاری، نواب شاہ، خیر پور سے ہوتا ہوا سکھر پہنچا، مارچ براستہ پنوعاقل، گھوٹکی، اوباڑو پنجاب میں داخل ہو گا، بلوچستان سے قافلے بھی رواں دواں ہیں جو مرکزی قافلے میں شامل ہوں گے، میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ آزادی مارچ کے پنجاب میں داخلے کیلئے سندھ پنجاب بارڈر پر رکھے گئے کنٹینرز کو ہٹا لیا گیا ہے،