Baaghi TV

Author: +9251

  • کرینہ کپور تعلیم کی آگاہی منفرد انداز میں دے رہی ہیں

    بالی ووڈ کی بیبو آخری بار ویری دی ویڈنگ میں دکھائی دینے والی، فلموں کی دلچسپ لائن ہے۔ اداکارہ انگریز میڈیم میں عرفان اور رادھیکا مدن اکھشے کمار ، کیارا اڈوانی اور دلجیت دوسنجھ کے ساتھ گڈ نیوز میں، عامر خان کے ساتھ "لال سنگھ چڈھا” اور تخت میں رنویر سنگھ ، عالیہ بھاٹ، وکی کوشل، جنہوی کپور کے ساتھ نظر آئیں گی۔ بھومی پیڈنیکر اور انیل کپور۔

    اس کے علاوہ اداکارہ اپنے معاشرتی کاموں کے لئے بھی جانا جاتا ہے۔ کرینہ کپور خان بہت سارے سماجی اقدامات سے وابستہ ہیں اور بچوں کی تعلیم ان میں سے ایک ہے۔ کرینہ گذشتہ کئی سالوں سے معیاری تعلیم کے شعبے میں یونیسف انڈیا سے وابستہ ہیں۔ وہ بچوں میں دوستانہ اسکولنگ کے پیغام کو پھیلانا چاہتی ہے اور ہندوستان میں رائٹ ٹو ایجوکیشن (آر ٹی ای) کے دائرہ کار میں ثانوی تعلیم کو شامل کرنے کی ضرورت پر بھی

    https://www.instagram.com/p/B4AfkSmFNzF/?igshid=1c4yd6yyyqi7x

    ہم سب جانتے ہیں کہ کرینہ کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر سرگرم نہیں ہیں۔ لیکن ہم اس کے مداحوں کے صفحوں سے اس کے بارے میں اپ ڈیٹ کرتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں ایک فین پیج نے بیبو کی ایک تصویر شائع کی ہے جس میں وہ تعلیم کو فروغ دے رہی ہے۔ تصویر میں، کرینہ اپنی کھجور کی طرف دیکھ رہی ہیں ، جہاں انہوں نے لکھا ہے، "تعلیم” اداکارہ کثیر رنگ کے لباس میں ہمیشہ کی طرح شاندار نظر آتی ہیں۔

    واضح رہے کرینہ نے حال ہی میں ایک ڈانس ریئلٹی شو میں جج کی حیثیت سے جارحانہ آغاز کیا۔

  • یکجہتی کشمیر ریلی

    فیصل آباد(محمد اویس کی رپورٹ)حکومت پنجاب کی ہدایات پر کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی اور بھارتی مظالم کے خلاف محکمہ محنت کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی جس کی قیادت ڈائریکٹر لیبر ملک منور اعوان نے کی ۔ریلی میں محکمہ لیبر کے افسران،مزدور رہنما اورسول سوسائٹی کے افراد نے انڈین فوج کے مظالم کی بھرپور انداز میں مذمت کی۔کشمیریوں سے اظہار یکجہتی ریلی لیبر آفس سے شروع ہو کر اکبر آباد چوک سے ہوتی ہوئی جیل روڈ پر جا کر اختتام پذیر ہوئی۔ریلی کے شرکاءنے بھارتی مظالم کے خلاف تحریروں پر مشتمل بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ڈائریکٹر لیبر نے کشمیریوں کی آزادی کے لئے لازوال قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قوم کے دل کشمیری بھائیوں کے ساتھ ڈھرکتے ہیں اور جدوجہد آزادی میں کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے کشمیری عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہیدوں کا خون ضرور رنگ لائے گا۔دیگر مقررین نے اقوام عالم پر زور دیا کہ وہ کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا نوٹس لے اور کشمیر میں جاری انسانیت سوز کارروائیوں کو فورا بند کرایا جائے۔اس موقع پر کشمیر کی آزادی کی دعا بھی کی گئی۔

  • مسلمان ربیع الاوٌل کے منتظر،مولاناانتشاراورخون خرابے کے متمنی،اکابرین اہلسنت والجماعت

    اسلام آباد:مسلمان ربیع الاوٌل کے منتظر،مولاناانتشاراورخون خرابے کے متمنی،اسلام اورپاکستان عزیز،اکابرین اہلسنت والجماعت نے مولانا فضل الرحمن کی سوچ اور فکرسے برات کا اعلان کردیا ، سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے آزادی مارچ کے وقت کا تعین مناسب نہیں کیا، ستائیس اکتوبر یوم سیاہ ہے اسی دن مہاراجے کشمیر پر قابض ہوئے تھے،

    نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بنانے میں اہلسنت کے اکابرین نے اہم کردار ادا کیا تھا اور اس ملک کو مستحکم کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ یہ دن کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر منایا جانا چاہیے۔ اہل سنت جماعت مولانا کے مارچ اور دھرنے کی حمایت نہیں کررہی ۔

    سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ ماہ ربیع الاول کی آمد نزدیک ہے جس کی وجہ سے ملک میں داخلی انتشار کی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے، ان تمام باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں بحثیت قوم یکجا ہو نا چاہیے۔مولانا کی سب کرتوتیں سامنے لانا چاہتے ہیں‌مگربدنامی اہلسنت کی ہوگی

    حامد رضا نے کہا کہ سوشل میڈیا پر باتیں ہورہی ہیں کہ اہل سنت جماعت بھی اس دھرنے کی حمایت کر رہی ہے جبکہ اس میں کوئی صداقت نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ اہل سنت نے ہمیشہ اپنے مذہب اور ملک کیلئے مثبت قدم اٹھائے ہیں جس میں قوم وملک کا کوئی نقصان نہ ہو۔انہوں نے مزید بتایا کہ 26 اکتوبر کو جناح کنونشن سنٹر میں استحکام پاکستان و اظہاریکجہتی کشمیر کے حوالے سے عظیم الشان کانفرنس کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں پاکستان بھر سے مذہبی رہنما شرکت کریں گے۔

    بھنگالی شریف کے سجادہ نشین پیرسید مخدوم عباس شا ہ نے کہاکہ بھارت کی جانب سے کشمیر میں اسی لاکھ لوگوں کو خوراک سے محروم کیا گیا ڈیڈ لاک کی کیفیت میں محصور رہے۔پریس کانفرنس میں پیر سید خالد سلطان، سیدمعصوم شاہ ودیگر رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

  • مریخ کی مٹی کی حیران کن خصوصیات

    ناسا کے انسائٹ مارس لینڈر کے اوپر لگنے والی گرمی کی تحقیقات 10 سے 16 فٹ زیر زمین جانے کے لئے ڈیزائن کی گئیں، "تل” کے نام سے سیلف ہتھوڑے لگانے والے آلے کا استعمال کرتے ہوئے۔ لیکن تل اس کی فروری 2019 کی تعیناتی کے فورا. بعد 0.3 میٹر یا اس سے نیچے ہی پھنس گیا اور مہینوں تک اس کی نشاندہی نہیں کی جاسکی۔

    جمعہ 18 اکتوبر کو 22 ویں سالانہ بین الاقوامی میں ایک پریزنٹیشن کے دوران جمعہ (18 اکتوبر) کو بتایا گیا، "ہم نے کچھ دیر کے لئے اپنے سروں کو کھرچتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ہم کیا کر سکتے ہیں۔” لاس اینجلس میں مارس سوسائٹی کا کنونشن۔

    انسائٹ ٹیم نے تل کی پیشرفت نہ ہونے کی دو ممکنہ وضاحتوں پر تبادلہ خیال کیا: یا تو ایک بڑا پتھر اپنا راستہ روک رہا ہے یا چھوٹا سا کھودنے والا ریڈ سیارے کی مٹی سے رگڑ کھو بیٹھا ہے۔ گندگی پر اچھی گرفت کے بغیر ، تل زیادہ حرکت نہیں کرسکتا۔

    پچھلے ہفتے ہمیں ایک خبر کے مطابق ان سائٹ ٹیم نے "پننگ” کی تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے چند سینٹی میٹر منتقل کرنے کے لئے تل حاصل کرلیا تھا جس سے زمین کے مٹی کے اسپوپ پر تل کے خلاف رگڑ پیدا ہوتی تھی۔ اس نتیجہ نے ظاہر کیا کہ قیاس نمبر دو غالبا رقم پر تھا اور امید کی پیش کش کی تھی کہ اس کے نتیجے میں تل اس کی گہرائی تک جاسکتی ہے۔

    لیکن یہاں تک کہ اگر اس کا خاتمہ نہیں ہوتا ہے تو تل نے اس ٹیم کو مریخ کے بارے میں کچھ دلچسپ باتیں سکھائیں ہوں گی۔ ہفمین نے کہا، مثال کے طور پر، زمین پر کھودنے والے عام سوراخوں کے برعکس انسائٹ کے چھلکے سے کھدائی کی جانے والی جگہ میں اس کے گرد کے گرد گندگی کا کوئی ہونٹ نہیں ہے۔

    "مٹی کہاں گئی؟” انہوں نے کہا۔ "بنیادی طور پر اس کا زور زمین پر گر گیا لہذا ایسا لگتا ہے کہ یہ بہت ہم آہنگ ہے حالانکہ یہ بہت خاک ہے۔” اور یہ خصوصیات کا ایک عجیب و غریب مرکب ہے ، جس میں سختی سے یہ مشورہ دیا گیا ہے کہ مریخ کی گندگی ایک سے زیادہ طریقوں سے اجنبی ہے۔

    ہفمین نے کہا، "زمین پر ہم نے جو کچھ بھی دیکھا ہے اس سے مٹی کی خصوصیات بہت مختلف ہیں جو پہلے ہی ایک بہت ہی دلچسپ نتیجہ ہے۔” انجائسٹ سائنسدانوں کو کرسٹ سے لے کر کور تک سیارے کا ایک تفصیلی 3D نقشہ بنانے میں مدد فراہم کرنے والے جیسے مریٹین داخلہ کی تحقیقات کر رہی ہے۔ مشن ٹیم کے ممبروں نے کہا ہے کہ اس کام سے چٹانوں کے سیارے کیسے بنتے اور تیار ہوتے ہیں اس کے بارے میں ایک بہت بڑی بات سامنے آجائے گی۔

    لینڈر کے پاس دو اہم سائنس آلات ہیں: گرمی کی جانچ پڑتال جس کو سرکاری طور پر ہیٹ فلو اور جسمانی خصوصیات کا پیکیج (HP3) کہا جاتا ہے اور سی ای آئ ایس (سنجیدہ تجربہ برائے داخلہ ڈھانچہ) کے نام سے جانا جاتا ہے۔

    ہاف مین نے بتایا کہ SEIS کو پہلے ہی 150 زلزلے کے واقعات کا پتہ چلا ہے جن میں سے 23 یقینی طور پر ہلاکتیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہاں زمین پر 3 شدت والے زلزلے سے صرف 23 میں سے تین بڑے تھے۔ ہفمین نے کہا، "تو بہت سارے طوفان لیکن آپ کی توقع سے کم اہم قسم کی۔”

    زیادہ تر زلزلے ٹیکٹونک پلیٹوں کی نقل و حرکت کی وجہ سے ہوتے ہیں جو ہمارے سیارے کی پرت کو بناتے ہیں۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ مریخ میں ایسی پلیٹیں نہیں ہیں۔ ناسا کے عہدیداروں کے مطابق ریڈ سیارے کے زلزلے – اور زمین کے چاند پر بھی اس کا امکان مسلسل ٹھنڈک اور چٹان کے سنکچن کا نتیجہ ہے جو تناؤ کا سبب بنتا ہے جو بالآخر پرت کو ٹوٹ جاتا ہے۔

  • بنگلہ دیش کے خلاف سیریز میں سخت مقابلہ ہوگا ، بسمعہ معروف

    قومی ویمنز کرکٹ ٹیم کی کپتان بسمعہ معروف نے کہا کہ سیریز سے قبل 30 روزہ کیمپ میں فیلڈنگ میں بہتری پر خاص توجہ دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اسکواڈ میں شامل بیٹرز اور باؤلرز بھی بھرپور فارم میں ہیں۔

    بسمعہ معروف نے کہا کہ بنگلہ دیش کے خلاف سیریز میں سخت مقابلہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ یہ سیریز پاکستان کے لیے سیزن اوپنر کی حیثیت رکھتی ہے جو آئندہ 2 ماہ کے دوران انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف شیڈول سیریز کی تیاریوں میں مدد دے گی۔

    کپتان قومی ویمنز کرکٹ ٹیم کاکہنا ہے کہ ندا ڈار اور ثناء میر کی عدم دستیابی کے باعث جونیئر کھلاڑیوں کوقومی ویمنز ٹیم میں جگہ دی گئی ہے، لہذا یہ سیریز نئی کرکٹرز کے لیے قومی اسکواڈ میں مستقل جگہ بنانے کے لیے بہترین موقع ہے۔
    انہوں نے کہا کہ پہلی بار قذافی اسٹیڈیم میں انٹرنیشنل ویمنز کرکٹ میچ کے انعقاد پر تمام کھلاڑی پرجوش ہیں اور بہترین نتائج کے لیے سخت محنت کریں گی۔ بسمعہ معروف کوامید ہے کہ اس تاریخی موقع پرویمنز کرکٹ کو اسپورٹ کرنے شائقین کرکٹ کی بڑی
    تعداد اسٹیڈیم کا رخ کرے گی۔

    قذافی اسٹیڈیم میں تاریخ رقم کی جائے گی

    بنگلہ دیش ویمنز کرکٹ ٹیم کی کپتان سلمہ خاتون نے کہا کہ پاکستان ٹیم اپنے ہوم گراؤنڈ پر آسان حریف نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ وہ ایک بار پھر پاکستان آمد پر خوش ہیں۔ دونوں ٹیموں کے درمیان ہمیشہ سخت مقابلہ ہوتا ہے۔ سلمہ خاتون نے کہا کہ سیریز کے لیے متواز ی اسکواڈ موجود ہے۔ تمام کرکٹرز ایک یونٹ بن کر سیریز میں کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کریں گی۔
    دونوں ٹیموں کے سکواڈ دعج زیل ہیں

    پی ایس ایل 2020 کا پاکستان میں بہترین سہولیات کیساتھ انعقاد کریں گے، وسیم خان

    اسکواڈز:
    پاکستان:
    بسمعہ معروف)کپتان(،عالیہ ریاض، سدرہ نواز، ناہیدہ خان ، ڈیانا بیگ،جویریہ خان، سدرہ
    امین، عائشہ ظفر، عمیمہ سہیل، ارم جاوید،ثناء میر، صبا نذیر، سعدیہ اقبال، کائنات امتیاز
    اور انعم امین۔

    بنگلہ دیش :
    سلمہ خاتون )کپتان(، عائشہ رحمٰن، ایکا مولک، فرگانہ حق، جہان آرا ءعالم،خدیجہ
    الکبرہ، لتا موندل، نگار سلطانہ، پنا گوش، رومانہ احمد، سنجیدہ اسلام،شمیم سلطانہ،شانجیدہ اختر، شرمین اختراورشرمین سلطانہ۔

  • تشریف لائیں ، آزادی مارچ کریں،حکومت نے جال تیارکرلیا

    اسلام آباد:حکومت نے آزادی مارچ سے نبٹنے کی حکمت عملی تیار کرلی ، دوسری طرف وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے حزب اختلاف کی جماعتوں کو پیشکش کی ہے کہ وہ پریڈ گراؤنڈ میں احتجاج کریں تو تمام ممکنہ سہولتیں فراہم کی جا سکتی ہیں۔

    ایف اے ٹی ایف سے پاکستان کا نام کیوں نہیں نکالا جارہا، وزیراعظم 

    حکومتی اور رہبر کمیٹیوں کے اجلاس کے دوران ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران درانی ہاؤس پہنچے جہاں انہوں نے حزب اختلاف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کو اپنی پیشکش سے آگاہ کیا۔ضلعی انتظامیہ نے اس موقع پراس بات کا اظہار بھی کیا کہ وزیراعظم عمران خان نے حکم دیا ہے کہ آزادی مارچ کوتمام تر سہولیات فراہم کی جائیں

    مولانافضل الرحمن نفرت اوربغاوت کادرس دیتے ہیں ، ہائی کورٹ

    ذرائع کے مطابق ضلعی انتظامیہ کے افسران نے اپنی آمد کے متعلق کہا کہ وہ حزب اختلاف سے تمام نکات پر بات چیت کرنے کے لیے آئے ہیں۔وفاقی پولیس افسران نے رہبر کمیٹی کو بتایا کہ وہ پریڈ گراونڈ میں احتجاج کریں توشرکائے احتجاج کوبہتر انداز سے سہولیات دے سکتے ہیں‌

    رہبر کمیٹی کے مطالبات سامنے آگئے،پرویزخٹک ڈٹ گئے

  • جب ہم کہتے ہیں جموں کشمیر تو اس میں پاکستانی کشمیر اور گلگت بلتستان شامل ہیں، بپن راوت

    جب ہم کہتے ہیں جموں کشمیر تو اس میں پاکستانی کشمیر اور گلگت بلتستان شامل ہیں، بپن راوت

    بھاتی آرمی چیف بپن راوت نے پریس کانفرنس کے دوران ایک بار پھر پاکستان کےخلاف ہرزہ سرائی کی ہے.

    بھارتی آرمی چیف کی بڑی دھمکی، کہا کنٹرول لائن کریں گے عبور

    بھارتی آرمی چیف نے کہا کہ جب ہم کہتے ہیں کہ جموں کشمیر. جموں کشمیر کی مکمل ریاست میں پاکستانی کشمیر اور گلگت بلتستان شامل ہیں. اس لیے پاکستانی کشمیر اور گلگت بلتستان مقبوضہ خطہ ہے. اس خطہ پر ہمارے مغربی ہمسایہ نے قبضہ کر رکھا ہے.

    بپن راوت نے پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پاکستانی کشمیر کو دہشت گرد کنٹرول کرتے ہیں. پاکستان جموں کشمیر کے امن کو تہہ و بالا کرنے کی کوشش کر رہا ہے.

  • قذافی اسٹیڈیم میں تاریخ رقم کی جائے گی

    تاریخ میں پہلی بار،پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم قومی کرکٹ کےگڑھ میں ایکشن میں دیکھائی دیں گی۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کی ویمنز کرکٹ ٹیموں کے درمیان 3 ٹی ٹونٹی میچوں پرمشتمل سیریز کاآغاز 62 اکتوبر سے قذافی اسٹیڈیم میں ہوگا۔

    دونوں ٹیمیں 33 ماہ میں دوسری مرتبہ ایک دوسرے کے مدمقابل آئیں ۔ قومی ویمنز کرکٹ ٹیم نے گذشتہ سال اکتوبر میں بنگلہ دیش کا دورہ کیا تھا۔ 4 میچوں کی سیریز میں مہمان ٹیم نے 3 0 سے کامیابی حاصل کی۔ آسٹریلیا میں بگ بیش لیگ کھیلنے میں مصروف ندا ڈار سیریز میں شرکت نہیں کررہی ہیں۔تجربہ کار اسپنر ثناءمیر بھی بنگلہ دیش کے خلاف پہلے ٹی ٹونٹی میچ کے لیے دستیاب نہیں ہوں گی۔ دونوں کھلاڑیوں کی عدم دستیابی کے باعث بنگلہ دیش کے خلاف سیریز میزبان ٹیم کے لیےاپنے بیک اپ کھلاڑیوں کو آزمانے کا بہترین موقع ہے۔

    30 روزہ دورے پر پاکستان آئی بنگلہ دیش ویمنز کرکٹ ٹیم 3 ٹی ٹونٹی میچوں کے علاوہ 6 ایک روزہ میچوں میں بھی شرکت کرے گی۔ پاکستان کو دسمبر میں ورلڈ چیمپئن شپ میں شامل میچز کے لیےملائشیا کے میدانوں میں انگلینڈ کی میزبانی کرنی ہے۔ قذافی اسٹیڈیم لاہور میں شیڈول سیریزدرحقیقت انگلینڈ کے خلاف سیریز کے لیےقومی ویمنز کرکٹ ٹیم کی تیاریوں میں معاون ثابت ہوگی۔
    خواتین کرکٹ کے فروغ کی پالیسی پر عمل پیرا پاکستان کرکٹ بورڈ نے 3 ٹی ٹونٹی میچوں پر مشتمل سیریز کے تمام میچوں کو لائیو اسٹریم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    مزید پڑھیں
    پی ایس ایل 2020 کا پاکستان میں بہترین سہولیات کیساتھ انعقاد کریں گے، وسیم خان

  • رہبر کمیٹی کے مطالبات سامنے آگئے،پرویزخٹک ڈٹ گئے

    اسلام آباد: حکومت کی مذاکراتی کمیٹی اور اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہوگیا، دونوں کمیٹیوں کے اراکین اور رہنماؤں کی ملاقات اکرم درانی کے گھر پر ہوئی۔حالات وواقعات سے یہی ظاہر ہےکہ ان میں سے پہلے دو مطالبات ناقابل قبول جبکہ باقی دوقابل ترمیم ہوسکتے ہیں‌،

    ایف اے ٹی ایف سے پاکستان کا نام کیوں نہیں نکالا جارہا، وزیراعظم

    ذرائع کےمطابق حکومت کی مذاکراتی ٹیم نے رہبر کمیٹی سے ملاقات کی اور مذاکرات شروع کرنے پر زور دیا۔ حکومتی کمیٹی میں سینیٹ چیئرمین صادق سنجرانی، پرویز الہیٰ، نورالحق قادری، اسد عمر اور اسد قیصر شامل تھے۔ملاقات کے اس دورمیں صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ مذاکرات سے مسائل کا حل نکالنا جمہوریت کا حسن ہے، ہم بات چیت اور مفاہمت کےلیے یہاں آئےہیں، رہبرکمیٹی کےساتھ بات چیت کر کے مسئلے کا حل نکالیں گے۔

    چاندی اور سونے کے تمغے،جتنے زیادہ بچے اتنا زیادہ معاوضہ

    وفاقی وزیر داخلہ اور مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’’وزیراعظم کے استعفے پر کوئی بات نہیں ہوگئی اور نہ ایسا کوئی مطالبہ سنا جائے گا‘‘۔ پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ ’’میں اور صادق سنجرانی مفاہمت کرانے آئے ہیں‘‘۔

    دشمن موقع کے تلاش میں،آزادی مارچ ہدف ہوسکتا ہے

    ذرائع کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے چار نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کی گئی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ وزیراعظم فوری طور پر استعفیٰ دیں، فوجی کے بغیر نئی انتخابات کرائے جائیں، اسلامی دفعات کا تحفظ اور سویلین اداروں کی بالادستی قائم کی جائے جبکہ حکومتی کمیٹی آزادی مارچ میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالے۔

  • مولانافضل الرحمن نفرت اوربغاوت کادرس دیتے ہیں ، ہائی کورٹ نے ثبوت مانگ لیئے

    لاہور :مولانا فضل الرحمن جب بھی بولتے ہیں ، ملکی اداروں کے خلاف بغاوت پراکستاتے ہیں اور ان کی گفتگوسے نفرت کے علاوہ خیرکی کوئی بات نہیں‌نکلتی ،لہٰذامولاناکے تقریرکرنے اور اداروں کے خلاف زبان درازی کرنے پر پابندی لگادی جائے ، ملک بھی محفوظ،معاشرہ بھی محفوظ اور مذہبی شدت پسندی بھی ختم ہوجائے گی ، اطلاعات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے خلاف بغاوت کی کارروائی کے لیے درخواست پر تقاریر کاتحریری متن پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

    کشمیر اور امت مسلمہ ——از–علی حسن اصغر

    تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس محمد امیر بھٹی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے خلاف بغاوت کی کارروائی کے لیے مقامی شہری کی درخواست پر سماعت کی۔درخواست میں کہا گیا کہ مولانا فضل الرحمان نے کہا آسیہ بی بی کا فیصلہ بیرونی دباو میں دیا گیا، جو توہین عدالت ہے، مولانا نے آزادی مارچ کے لیے ڈنڈا بردار کارکن تیارکئےجوقانون کے منافی ہے،مولانا کے اس عمل سے بھارت خوش اور مغرب میں اسے عالمی امن کے لیے خطرہ قراردیا جارہا ہے،

    ایف اے ٹی ایف سے پاکستان کا نام کیوں نہیں نکالا جارہا، وزیراعظم 

    درخواست گزار نے استدعا کی عدالت مولانا فضل الرحمان کےخلاف بغاوت کی کاروائی اور الیکشن کمیشن کو مولانا فضل الرحمان کو ہونے والی فنڈنگ سے متعلق تحقیقات کا حکم دے جبکہ پیمرا کو مولانا فضل الرحمان کی تقاریر نشر کرنے سے روکے۔عدالت نے درخواست گزار کومولانا فضل الرحمن کی تقاریر کاتحریری متن پیش کرنے کی ہدائت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 28اکتوبرتک ملتوی کر دی۔

    دشمن موقع کے تلاش میں،آزادی مارچ ہدف ہوسکتا ہے