Baaghi TV

Author: +9251

  • چاندی اور سونے کے تمغے،جتنے زیادہ بچے اتنا زیادہ معاوضہ

    قازقستان : ایک طرف دنیا میں غریب اور ترقی پزیرملکوں میں آبادی پرقابوپانے کے لیے دوبچوں کا تصور تیزی سے مقبول ہورہا ہے ،کچھ ممالک نے دو سے زائد بچوں کی پیدائش پر والدین کو سرکاری ملازمت کےلیے نااہل قرار دے دیا ہے لیکن ایک ملک ایسا بھی ہے دو سے زائد بچوں کی پیدائش پر نہ صرف معاوضہ دیتا ہے بلکہ زیادہ بچے پیدا کرنے والی ماں کو میڈل سے بھی نوازتا ہے۔

    اساتذہ منتخب نمائندوں کے ساتھ کیسے پیش آئیں؟حکم آگیا

    ذرائع کے مطابق مسلمان ملک قازقستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ جس نے ’مدر ہیروئن پروگرام‘ کے نام سے یہ منصوبہ شروع کیا ہے، یہ منصوبہ بڑا ہی دلچسپ اور انوکھا ہے، اطلاعات کے مطابق 1944 میں سابق سوویت یونین میں اس پروگرام کا اعلان اور اس پرعمل درآمد ہوا تھا اور پہلا انعام دس بچوں کی والدہ کو دیا گیا تھا۔

    قازقستان حکومت نےسوویت دور کے اس منصوبے کو ازسرے نوترامیم کے ساتھ جاری رکھتےہوئے بچوں کی افزائش کی شرح کے مطابق ان کی ماؤں کو میڈل سے نوازنے کا سلسلہ بھی شروع ہوا ہے، چھ بچوں کی ماں کو چاندی کا میڈل جبکہ سات یا اس سے زیادہ بچوں کی پیدائش پر سونے کا میڈل دیا جاتا ہے۔

    حریم شاہ،وزارت داخلہ کے حرم میں‌پہنچ گئی،اہم انکشافات

    غیر ملکی میڈیا کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب زیادہ بچوں کو جنم دینے والی خواتین کو بچوں کی عمر 21 برس ہونے تک معاوضہ فراہم کیا جاتا ہے لیکن جن خواتین نے 4 سے کم بچوں کو جنا ہوتا ہے انہیں معاوضہ نہیں دیا جاتا۔ تاہم جو خواتین 7 یا اس سے زیادہ بچوں کو جنم دیتی ہیں انہیں زندگی بھر معاوضہ فراہم کیا جاتا ہےایک چھ بچوں کی والدہ نے بتایا کہ مجھے حکومت کی جانب سے ماہانہ 370 ڈالر دئیے جاتے ہیں جو میرے لیے کافی ہیں۔

  • پالیسی کون بناتا ہے ؟؟؟

    کیا کوئی سجاول ریاض کو جانتا ہے ؟؟ سجاول ،پاکستان انڈر 19 کا نائب کپتان ہے اور پاکستان کی طرف تمام لیول کی کرکٹ کھیل چکا ہے اور اسے زرعی ترقیاتی بینک کی طرف سے نوکری دی گئ۔مگر پاکستان میں کلب کرکٹ ختم ہونے کے بعد ZTBLنے ایک لیٹر کے زریعے مطلع کیا ہے کہ آپ کرکٹ کو خیر آباد کہیں اور واپس آکر ”Peon”کی نوکری کریں۔
    پی سی بی کے لاکھوں میں تنخواہیں لینے والے دیسی بابوئوں نے آتے ہی ریجنز /ڈیپارٹمنٹل کرکٹ بند اس وجہ سے کی کہ اقربا پروری اور سفارش کلچر کو ختم کیا جا سکے۔وہ تو ختم نہ ہو ئے (حالیہ ٹیم سلیکشن سے اندازہ لگا یا جا سکتا ہے) لیکن اس پالیسی نے کھلاڑیوں کو بیروزگار ضرور کر دیا ہے۔اسی مد میں ایل سی سی اے میں 14 سال سے کام کرنے والے گراونڈ مین شوکت علی کو تین ماہ سے تنخواہ نہیں دی گئی اور نوکری سے فارغ کردیا گیا۔تو پوچھنا تھا ،پالیسی کون بناتا ہے؟؟
    بحیثیت ایک کرکٹ شائق اورکرکٹ کھیلتے اور دیکھتے اپنی عمر کی تیس بہاریں گزار چکا ہوں۔مجھے نہیں پتہ چلا آج تک کہ پاکستان کرکٹ کو بہتر بنانے کےلئے پالیسی کون بناتا ہے۔تحریر میں حقائق اس بات کے عکاس ہونگے کہ پالیسی بنانے اور اسے نافذ کرنے کےلئے کرکٹ کھیلنے اور کا با غور مشاہدہ صیحح پالیسی کو بنانے میںکتنا کار گر ثابت ہوتے ہیں۔
    وسیم خان ،حال ہی میں پاکستانی کرکٹ بورڈ میںتعینات ہونے والے ایم ڈی ہیں۔ وزیر اعظم کے لائے ہوئے احسان مانی نے اُنہیں اپنے اقتدار کے فورا” بعد تعینات کیا۔سوال یہاں یہ ہے کہ کیا وہ پاکستان میں ہونے والے کلب کرکٹ کو سمجھتے ہیں ؟؟ کیا محض ایک انگلش کاونٹی کے سی او کو پورے کرکٹ بورڈ کا ایم ڈی لگا دینا درست عمل ہے؟؟ تو یوںپرچیوں کا سلسلہ شروع ہوا چاہتا ہے۔
    مصباح الحق کو ایک ہی وقت میں چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ بنانے کی لوجک ابھی عام عقل میں آنے والی نہیںتھی ک موصوف نے آسٹریلیا کےلئے ٹیم انائونس کرنے کی پریس کانفرنسز کر کے اپنی اہلیت اور پالیسی کے فیلئر کو ایک دفعہ پھر عیاں کر دیا۔
    مصباح،9 اکتوبر کو کی گئی پریس کانفرنس میںایک سوال کہ جواب میں کہتے ہیں ،عثمان قادر کیا ڈومیسٹک کھیلا ہے جو اُسے نیشنل ٹیم میں سلیکٹ کیا جائے ۔ (یہاں اس بات کو بالکل نہیں بھولنا چاہئیے کہ اس وقت کپتانی سرفراز کے پاس تھی)۔ٹھیک گیارہ دن بعد جب آسٹریلیا کے لئے تینوں فارمیٹس کےلئے ٹیمز کا اعلان ہوا تو ایک اور پریس کانفرنس داغ دی۔اور عثمان قادر کو نہ صرف ٹیم میں سلیکٹ کیوں کیا اس پر صحافیوں کو بھاشن دیا ، بلکہ قصیدہ گوئی بھی کہ جناب بگ بیش کھیل کر آئے ہیں اور بال گھوماتا اچھی ہے سکٹ اچھی کرتا بلا بلا۔۔اب عثمان قادر کو سلیکٹ کرنے کے پیچھے نئے ٹی ٹونٹی کے کپتان بابر اعظم کی دوستی کا عنصر بھی شامل ہے۔اگر ہندسوں پر جائیں، تو دائیں ہاتھ کے لیگ سپنرززاہد محمود نے حالیہ نیشنل ٹی 20 کپ میں سائو تھ پنجاب کی جانب سے 5 میچز میں 13 کی اوسط سے 9 کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا۔جبکہ عثمان قادر نے 4 میچز میں 16کی اوسط سے 5 کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا۔
    دوسری طرف ایک الگ ہی دوڑ پنجاب اور سندھ کی لابیز کی شروع ہوئی ہوئی ہے۔مصباح الحق نے آتے ہی ذاتی حیثیت میں پرفارم نہ کرنے پر نہ صرف سرفراز احمد کوکپتانی سے ہٹا دیا ساتھ ہی ساتھ ٹیم سے بھی فارغ کر دیا۔اور کہا کہ ڈومیسٹک میں پرفارم کرے ٹیم کے دروازے اُس کےلئے کھلے ہیں۔تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں یہ بات واضح اور روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کبھی بھی کپتانی سے نکالے شخص کو ٹیم میں نہیں رکھا۔پرفارمنس کی بنیاد پر اگر کم از کم ٹیسٹ میں کسی کو رکھا جاتا تو فواد عالم ضرورسلیکٹ کیا جاتا۔بیسیوں ایسے نام ہیں جن میں تابش خان (کراچی سے) ، سہیل تنویر ، ذیشان اشرف میرٹ ہوتا تو انہیں بھی آسٹریلیا ٹور میں شامل کیا جاتا۔اگلے سال 2020 میں ٹی 20 ورلڈکپ آرہا ہے اور ٹیم میں کوئی سینئر پلیئر نہیں ہے۔کیا ہی بہتر ہوتا اگر محمد حفیظ یا شعیب ملک کی بھی جگی بنتی تا کہ جونئیر پلئرز ،سینئرز کے ساتھ ملکر کھیلتے اورہم ایک مضبوط ٹیم ورلڈ کپ میں اُتارتے۔
    ہم نے سوچا تھا کہ عمران خان کے آنے کے جہاں اور بہت سے ڈیپارٹمنٹ صحیح ہونگے وہیں کرکٹ تو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے مگر جہاں لوگ انڈے بیچتے ہوں یا وین چلا کر گزارا کرنے پر مجبور ہوں
    تو پو چھنا پڑے گا کہ پالیسی کون بناتا ہے ؟؟

  • مشرق وسطیٰ  میں مسلمانوں کو پھر سے مسلکی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی تیاریاں

    مشرق وسطیٰ میں مسلمانوں کو پھر سے مسلکی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی تیاریاں

    مشرق وسطیٰ میں عوام کو پھر سے مسلکی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی تیاریاں ہورہی ہیں.
    مشرق وطیٰ کے ممالک عراق ، لبنان، شام اور یمن میں ایرانی اثرو رسوخ کو واضح طور پر دیکھا جاتا ہے..یمن کے حوثی باغیوں کو کو اسلحہ اور وسائل دینے کا الزام بھی ایران پر ہے.ان حالات میں اب حالات بدل رہے ہیں . عراق میں اب لوگوں میں‌ایران کے خلاف عوامی سطح پر منفی رجحان پائے جاتے ہیں اور وہاں‌کے عوام ایرانی مداخلت سے بے زاری کا اظہار کر تے ہیں.کل سے شروع ہونے والے عراقی عوام کے مظاہر ے میں سرعام ایرانی سپریم لیڈر اور روحانی پیشوا کے خلاف نعرے لگانے لگے.
    عراق کے دارالحکومت بغداد میں جمعرات کو ہونے والے ایک مظاہرے کے دوران لوگوں نے حکومت کے خلاف نعرے لگائے جسے ایران کی حمایتی سمجھا جاتا ہے.۔پولیس نے حکومت مخالف مظاہرین کو وسطی بغداد میں تحریر اسکوائر اور گرین زون تک جانے والی تمام سڑکیں بند کردیں۔ مظاہرے کے وقت بغداد بالخصوص گرین زون اور دیگرحساس مقامات پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔
    عراقی دارالحکومت میں تحریراسکوائر میں سیکڑوں مظاہرین جمع ہوئے۔ انہوں نے جب انہوں نے ” سب چور ” کے نعرے لگائے اور حکومت کی بد انتظامی پر سخت نکتہ چینی کی،
    ادھر شام لبنان کے دارالحکومت بیروت کے وسط میں حزب اللہ کے حامیوں نے ایران میں ولایت فقیہ کے نظام کے بانی آیت اللہ خمینی اور موجودہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی حمایت میں نعرے بازی کی۔

    نوازشریف سزا معطلی کی درخواست، عدالت نے بڑا حکم دے دیا

    اقوام متحدہ کے عالمی دن پر وزیراعظم عمران خان نے کیا پیغام دیا؟ اہم خبر

  • سرگودہا میں کانگو وائرس کانسٹیبل کی جان لے گیا

    سرگودھا(نمائندہ باغی ٹی وی )پولیس کانسٹیبل کانگو وائرس کے مرض کے باعث جاں بحق ہو گیاتفصیلات کے مطابق محمد زاہد سیشن کورٹ سرگودھا میں سکیورٹی ڈیوٹی پر متعین تھا پانچ روز قبل بیمار ہونے پر علاج کےلئے اسلام آباد منتقل کیا گیاکانگو وائرس کے انکشاف پر علاقہ مکینوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی
    محکمہ صحت نے حفاظتی اقدامات کےلئے ٹیم تشکیل دے دی، سی ای او ہیلتھ حرکت میں آگئے

  • حریم شاہ،وزارت داخلہ کے حرم میں‌پہنچ گئی،اہم انکشافات

    لاہور:ٹک ٹاک سٹار،متنازع کردار،مگر بڑے بڑے کرداروالی ملکہ ٹک ٹاک حریم شاہ نے وزارت داخلہ کے حرم میں پہنچ کراپنی حقیقت کا ایک بار پھرپول کھول کرسب کو حیران کردیا ، اطلاعات کے مطابق وزارت داخلہ کے کمیٹی روم میں ویڈیو بنانے کے بعد شہرت پانے والی ٹک ٹاک سٹار حریم شا ہ کےخلاد سنگین دفعات کا مقدمہ درج کرنے کے مطالبے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کرادی گئی۔

    دھوکے ،فریب اور شاترانہ کردارکی حامل حریم شاہ وزارت داخلہ آفس کیسے پہنچیں یہ سوال تو ابھی باقی ہے، مگر یہ ضرور ہے کہ اب حریم شاہ کے خلاف کچھ فیصلے ضرور ہوں گے، اطلاعات کے مطابق حریم شاہ کے اس گھنونے کردار کی وجہ سے اس کے خلاف قرارداد پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رکن صوبائی اسمبلی سمیرا کومل کی جانب سے جمع کرائی گئی ہے۔

    قرارداد میں کہا گیا ہے کہ حریم شاہ نے وزار خارجہ کے دفتر میں ویڈیو بناکر سیکیورٹی پر سوالیہ نشان کھڑے کردیے ہیں۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ایک سوشل میڈیا سٹار کی اعلی سرکاری دفتر میں رسائی قابل مذمت ہے۔قرارداد کے مطابق حریم شاہ نے انکشاف کیا کہ وہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملنے گئی تھی۔ حریم شاہ نے وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھ کر حکومت کی ترجیحات کا بھی پول کھول دیا ہے۔

    قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حریم شاہ کی وزارت خارجہ کے دفتر میں داخلے کی تحقیقات کی جائیں اور اس کےخلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حریم شاہ کو دفتر خارجہ تک رسائی دینے والوں کےخلاف بھی کارروائی کی جائے۔

    یادرہے کہ کچھ ہفتے قبل ٹک ٹاک کے نام پر شہرت پانے والی ٹکٹکٹائیں‌ پاکستان کے ایک معروف صحافی ،ممتاز اینکرمبشرلقمان کے خلاف بھی پراپیگنڈہ کرچکی ہیں‌،لیکن جب مبشر لقمان نے ان دودھوکہ باز سٹارزکے خلاف قانونی اقدام اٹھانے کا فیصلہ کیا توسزا ڈرسے حریم شاہ اور صندل خٹک نے معافی مانگی اور یہ اقرار کیا کہ انہوں نے سب کچھ کسی کےکہنے پر جھوٹے الزامات لگاءے تھے

  • سول کورٹ سرگودہا نے سکول ٹیچر کی ٹانگیں توڑنےکے مقدمے کا فیصلہ سنا دیا

    سرگودہا(نمائندہ باغی ٹی وی ) سرگودھا:سول کورٹ سرگودھا نے گورنمنٹ سکول ٹیچر کی ٹا نگیں توڑنے کے مشہور مقدمہ کا فیصلہ سنادیا، تفصیلات کے مطابق
    عدالت نے مقدمہ میں نامزد پیپلز پارٹی کے سابق ایم پی اےاسلم مڈھیانہ کو فریقین کے مابین راضی نامہ ہونے پر بری کر دیا۔
    مڈھ رانجھا میں سات سال قبل 0212 میں علاقہ کی کھلی کچہری میں گورنمنٹ ہائی سکول کا ٹیچر نفیس احمد پیش تھا،
    سکول ٹیچر نفیس احمد نے اس وقت علاقہ کے وڈیرے پی پی پی کے سابق ایم پی اے محمد اسلم مڈھیانہ پر جرائم پیشہ افراد کی سر پرستی کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے چوروں کی نانی قرار دیا تھا۔
    کھلی کچہری کے چند روز بعد ایک حملہ میں گورنمنٹ ہائی سکول کے نفیس احمد کی ٹانگیں توڑ دی گئیں۔
    نفیس احمد نے تھانہ مڈھ رانجھا میں سابق ایم پی اے محمد اسلم مڈھیانہ کے خلاف قاتلانہ حملہ کے الزام کا مقدمہ درج کروایا تھا
    جسکا سول کورٹ سرگودھا میں مقدمہ سات سال سے زیر سماعت رہا، گزشتہ روز سول جج جہانزیب بخاری نے مقدمہ کی سماعت کی،عدالت نے فریقین میں راضی نامہ پر مقدمہ میں ملوث ملزم سابق ایم پی اے niمحمد اسلم مڈھیانہ کو بری کر کے کیس نمٹا دیا۔مقدمہ میں ملوث سابق ایم پی اے محمد اسلم مڈھیانہ کا پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر 1992 میں رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

  • ڈی پی او گجرات کی عوام الناس کے ڈی پی او آفس میں کھلی کچہری ۔۔۔۔۔۔

    گجرات (چوہدری فیضان ارشاد سے ) انصاف کی فور ی فراہمی اور شہریوں کے مسائل کے فوری حل کیلئے ڈی پی او گجرات کاڈی پی او آفس میں کھلی کچہری کا انعقاد۔تفصیلات کے مطابق ڈی پی او گجرات سید توصیف حیدرنے ڈی پی اوآفس میں شہریوں کے مسائل سننے اور ان مسائل کے فوری حل کیلئے کھلی کچہری کا انعقاد کیا،جس میں ضلع کی مختلف جگہوں سے آئے ہوئے شہریوں نے اپنے مسائل ڈی پی او گجرات کوبراہ راست پیش کئے۔ڈی پی او گجرات نے فردا ً فرداً شہریوں کے مسائل سنے اور انکو درپیش مسائل کے حل کے لئے موقع پر ہی متعلقہ افسران کو احکامات جاری کئے۔
    اس موقع پر ڈی پی او گجرات سید توصیف حیدر کہنا تھا کہ کھلی کچہری لگانے کا مقصد شہریوں کے ان مسائل کا حل ہے جو کسی وجہ سے تھانہ سطح پر حل نہ ہو رہے ہوں۔تمام پولیس افسران اپنے اپنے لیول پر شہریوں کے لئے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔

  • اساتذہ منتخب نمائندوں کے ساتھ کیسے پیش آئیں؟حکم آگیا

    لاہور:اساتذہ کوہرصورت عزت دی جائے جو قومیں اپنے استاد کی عزت نہیں کرتیں وہ کامیاب نہیں ہوتیں‌، اساتذہ کو بھی معاشرے کے دیگر افراد کے ساتھ احترام کے ساتھ پیش آنا چاہیے ، جولوگ منتخب ہوکر آتے ہیں ان کو بھی عزت دی جائے ، وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے ایجوکیشن اتھارٹیز کو ہدایات جاری،

    محکمہ سکول ایجوکیشن نے پنجاب بھر کی ایجوکیشن اتھارٹیز کو ممبر قومی و صوبائی اسمبلی کا خیال رکھنے کی ہدایت جاری کردی، جاری کردہ مراسلے میں افسران کو عوامی نمائندوں سے خصوصی طور پر مناسب رویہ اختیار کرنے کا حکم دیا گیا۔ سرکاری سکولوں میں بہترین سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے ممبر قومی و صوبائی اسمبلی کے ساتھ اخلاق سے پیش آنےکی ہدایت کی گئی۔

    سکول ایجوکیشن کیجانب سے یہ مراسلہ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر جاری کیا گیا، مراسلےمیں مزید کہا گیا ہے کہ عوامی نمائندوں اور سرکاری افسران کو سکولوں کی ویلفیئر کیلئے ایک ٹیم کی طرح کام کرنا چاہیے، اگر کسی معاملے پر اختلاف ہو تو اسے اچھے ماحول میں حل کیا جائے۔وزیراعلٰی نے مزید کہا کہ ارکان اسمبلی اساتذہ سے مل کر تعلیمی مسائل حل کرنے کی کوشش کریں

  • ایف بی آر نے دیا شناختی کارڈ کی شرط میں کمی کا عندیہ

    ایف بی آر نے دیا شناختی کارڈ کی شرط میں کمی کا عندیہ

    حکومت نے شناختی کارڈ کی شرط میں نرمی کا عندیہ دے دیا۔ شبر زیدی نے کہا کہ شناختی کارڈ کی شرط پر نرمی برتی جائے گی۔
    چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا ہے کہ شناختی کارڈ کی شرط سے کاروبار متاثر ہو رہے ہیں، کاروبار متاثر ہوں گے تو ٹیکس کی سکت نہیں رہے گی، شناختی کارڈ کے مطالبے پر دو راستے ہیں، شناختی کارڈ یا تو ختم کر دیں یا کوئی درمیانہ راستہ نکالیں۔
    واضح‌ رہے کہ اس سے پہلے حکومت شناختی کارڈ کی شرط پر سختی سے کاربند تھی جس وجہ سے تجارتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی تھیں.
    مشیر تجارت نے تاجروں کے لیے اہم بات کہہ دی
    اس سے پہلے تاجر اور ایف بی آر کی درجن سے زائد ملاقاتیں ہو چکی ہیںِ، تاجر کہتے ہیں 50 ہزار سے زائد کی خریداری پر شناختی کارڈ کی شرط ختم اور ٹیکسوں میں کمی کی جائے جبکہ ایف بی آر نے شناختی کارڈ کی شرط ختم کرنے سے صاف انکار کردیا۔

  • مشیر تجارت نے تاجروں کے لیے اہم بات کہہ دی

    مشیر تجارت نے تاجروں کے لیے اہم بات کہہ دی

    مشیر تجارت نے ٹیکس کے معاملے میں کسی طرح کے دباؤ میں آنے سے انکار کیا ہے.ان کا کہنا ہے کہ یہ ذہن تبدیل کرنا ہوگا.
    وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت رزاق داؤد نے کہا ہے کہ تاجروں کے اندراج اور ٹیکس کے نفاذ پر حکومت کا دباؤ میں آنا ناممکن ہے اور وہ معیشت کی سمت درست کرے گی۔ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس نیٹ میں نہ آنے کے مائنڈ سیٹ کو تبدیل ہونا ہوگا، اس میں بے شک وقت لگے۔
    رزاق داؤد نے کہا کہ تاجر مینوفیکچررز کے زریعے حکومت پر دباؤ ڈلوانے کے خواہشمند ہیں کیونکہ حکومت نے شرط رکھی ہے کہ مینوفیکچررز اپنی مصنوعات صرف رجسٹرڈ کمپنی کو بیچ سکیں گے۔ جب کہ تاجروں کا موقف ہے کہ حکومت کے ٹیکسوں میں بے تحاشا اضافے کی وجہ سے تاجر برادری پریشان ہوگئی، حکومت کو سب سے پہلے زیادہ ٹیکس والوں کو پکڑنا چاہیے تھا کہ ان سے سو فیصد ٹیکس وصول کیا جاتا اور بعد میں چھوٹے تاجروں کی طرف جایا جاتا ،

    عالمی مارکیٹ سمیت پاکستان بھر میں سونے کی قیمت میں اضافہ