Baaghi TV

Author: +9251

  • پاکستان میں سکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے ، سری لنکن اوپنر

    پاکستان میں سکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے ، سری لنکن اوپنر

    پاکستان میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کیلئے قیام پزیر سری لنکن ٹیم کے اوپنر بلے باز دانوشکا گونتھلاکا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ کیلئے ایک محفوظ ملک ہے، ہم یہاں آکر بہت خوش ہیں اور ہمیں سکیورٹی کے متعلق کوئی مسئلہ نہیں ہے ،
    پاکستان بمقابلہ سری لنکا پہلے ٹی ٹوئنٹی کے مین آف دا میچ دانوشکا گونا تھلاکا نے کہا ” میں پہلے ٹی ٹوئنٹی میں اپنی پرفارمنس پر بہت خوش ہوں اور اپنے کھیل کو مزید بہتر بنانے کی کوشش کروں گا ،

  • اسمبلی میں بیٹھے لوگوں کو سب معلوم ہے کہ یہ چیز کہاں تیار ہوتی ہے؟ نصرت سحر عباسی نے کیا بڑا انکشاف

    اسمبلی میں بیٹھے لوگوں کو سب معلوم ہے کہ یہ چیز کہاں تیار ہوتی ہے؟ نصرت سحر عباسی نے کیا بڑا انکشاف

    مسلم لیگ فنکشنل کی خاتون رکن اسمبلی نصرت سحر عباسی نے کہا ہے کہ حکومت قراردادیں پاس کرانے کے باوجودعمل درآمد کرانے میں ناکام رہی ہے،

    حکومت کو ٹف ٹائم کیسے دیا جائے؟ سیاسی رہنماؤں نے سر جوڑ لئے، باہم رابطے جاری

    بھارتی فضائیہ کا طیارہ گر کر تباہ، ہلاکتوں کا سن کر انڈیا میں غم کی لہر دوڑ گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نصرت سحر عباسی نے کہا کہ اسمبلی میں لوگ قوانین بناکربڑے بڑے دعوے کرتے ہیں، اسمبلی میں بیٹھے ایم پی ایز کو معلوم ہے کہ گٹکا کہاں تیار ہوتا ہے، ہمارےدماغ میں بہت کچھ ہےلیکن ہمیں اسمبلی میں بولنےنہیں دیا جاتا، کراچی سےکشمورتک پولیس کومعلوم ہےگٹکاکہاں بک رہاہے، کراچی سےکشمورتک ہرجگہ گٹکابک رہا ہے، پچھلے11سالوں میں بے پناہ قانون سازی ہوئی ہے،

    بھارتی فضائیہ کے سربراہ نے ہندوستانی طیاروں کی کارکردگی کا پول کھول دیا، کیا کہا؟ جان کر ہوں حیران

    مسلم لیگ فنکشنل کی خاتون رکن اسمبلی نصرت سحر عباسی نے حکومت پر سخت الزام تراشی کی اور کہا کہ حکومت قراردادیں تو پاس کرواتی ہے لیکن ان قراردادوں‌ پر عمل درآمد کروانے میں بری طرح ناکام ہے،

     

  • حکومت کو ٹف ٹائم کیسے دیا جائے؟ سیاسی رہنماؤں نے سر جوڑ لئے، باہم رابطے جاری

    حکومت کو ٹف ٹائم کیسے دیا جائے؟ سیاسی رہنماؤں نے سر جوڑ لئے، باہم رابطے جاری

    جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی طرف سے آزادی مارچ کے اعلان پر مختلف سیاسی جماعتوں نے باہم رابطے تیز کر دیے ہیں اور حکومت کو ٹف ٹائم دینے کیلئے باہمی مشاورت کا سلسلہ جاری ہے،

    بھارتی فضائیہ کا طیارہ گر کر تباہ، ہلاکتوں کا سن کر انڈیا میں غم کی لہر دوڑ گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آزادی مارچ سمیت دیگر اہم معاملات پر غوروفکر کیلئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی کے مابین اہم ملاقات ہوئی ہے، اس موقع پر مولانا فضل الرحمن کی طرف سے 27 اکتوبر کو آزادی مارچ کے اعلان اور اس میں شرکت و دیگر معاملات سے متعلق تفصیلی گفتگو کی گئی، دونوں‌ رہنماؤں نے آزادی مارچ کے حوالہ سے آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی بات چیت کی، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کی یہ ملاقات وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہوئی ہے،

    دھرنا نہیں ہو گا بلکہ…..مولانا فضل الرحمان نے اہم اعلان کر دیا

    حکومت کی اپیل مسترد،جے یو آئی ڈٹ گئی، کہا ایسا نہیں ہو سکتا

    آزادی مارچ، مولانا فضل الرحمان نے تاریخ کا اعلان کر دیا،کہا روکا تو پاکستان جام کر دیں گے

    بلاول بھٹو اور اسفند یار ولی کی ملاقات کے بعد میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے پیپلز پارٹی کے مرکز رہنما فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اس ملاقات میں دونوں لیڈروں کے درمیان ملک کی سیاسی صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی بات ہوئی ہے، انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت دھاندلی کی پیداوار ہے، اس کے لئے سبھی اپوزیشن جماتیں متحد ہیں اور انہیں متحد رہنا ہوگا، اس کے بغیر حکومت کو گھر نہیں بھیجا جاسکتا، دونوں رہنماؤں کی ملاقات سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے میاں‌ افتخار حسین کا کہنا تھا کہ ایسی فضا بنائی جائے کہ 27 تاریخ کو پوری اپوزیشن کی تاریخ بن جائے، واضح‌ رہے کہ مسلم لیگ ن سمیت دیگر جماعتیں‌ بھی اس سلسلہ میں‌ باہم رابطے رکھے ہوئے ہیں اور مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کے حوالہ سے مشاورت کی جارہی ہے، پیپلز پارٹی نے احتجاجی دھرنے میں شرکت سے انکار کیا ہے، ادھر شہباز شریف بھی آزادی مارچ میں مسلم لیگ ن کی طرف سے قیادت کرنے سے انکار کر چکے ہیں اور ن لیگ کی شرکت کی صورت میں احسن اقبال قیادت کریں گے،

  • اقوام متحدہ میں فلسطین کا مقدمہ —از –صابر ابو مریم

    اقوام متحدہ میں فلسطین کا مقدمہ —از –صابر ابو مریم

    مسئلہ فلسطین کی ابتداء کو آئندہ ماہ ایک سو دو برس مکم ہو جائیں گے۔ تاریخ میں عام طور پر مسئلہ فلسطین کی ابتداء 1948ء سے کی جاتی ہے جب غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کا ناپاک وجود قیام عمل میں آیا تھا تاہم اگر دقیق نگاہ سے ا س مسئلہ کا مشاہدہ کیا جائے تو اس کی ابتداء تو اسی دن ہو گئی تھی جب بوڑھے استعمار برطانیہ کے اعلیٰ عہدیدارجیمز بالفور نے ایک اعلان نامہ کے ذریعہ فلسطین کی تقسیم صہیونیوں کے حق میں کرنے کے لئے حکومت برطانیہ کو خط لکھا تھا۔ اس اعلان کو اعلان بالفور کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور یہ 2نومبر سنہ1917ء کی بات ہے کہ جب پہلی جنگ عظیم کے خاتمہ کے فوری بعد صہیونیوں نے فلسطین پر قبضہ کی ٹھان لی تھی۔

    چیف جسٹس آف پاکستان نے ملک بھر کے لیے بہت بڑا حکم جاری کردیا، کیا ہے یہ حکم ؟…

    اقوام متحدہ جو اس وقت لیگ آف نیشن کے نام سے کام کر رہی تھی،فلسطین کا مقدمہ پیش کیا گیا تو عالمی طاقتوں کی ایماء پر اس مقدمہ کو صہیونیوں کے مقابلہ میں زیادہ پذیرائی حاصل نہ ہو پائی۔سنہ1922ء کے بعد 1947ء میں نئی اقوام متحدہ نے قرار داد نمبر 181کے ذریعہ فلسطین کی ناجائز تقسیم کا اعلان کر ڈالا۔نتیجہ میں دنیا بھر سے لا کر بسائے جانے والے صہیونیوں کے لئے جعلی ریاست اسرائیل سنہ1948ء میں قیام عمل میں آ گئی۔

     

    وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ میں مسئلہ فلسطین ہمیشہ بنیادی مسائل کی فہرست میں ٹاپ پر رہا ہے اور اس عنوان سے اقوام متحدہ نے کئی ایک قرار دادیں منظور کی ہیں جن کو بعد ازاں صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کی جانب سے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا جاتا رہاہے۔

    بہرحال ہم بات کرتے ہیں اقوام متحدہ کے 74ویں سالانہ اجلاس کی کہ جو فلسطین پر صہیونیو ں کے غاصبانہ تسلط کے 72سال مکمل ہو نے پر ہو رہا ہے۔اس اجلاس کی تمام تر روئیداد کو دیکھنے اور طائرانہ نظر دوڑانے پر اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اگر دنیا کے سب سے اہم ترین اور پہلے مسئلہ کی طرف کسی نے توجہ مبذول کروائی ہے تو ایران اور ترکی تھے کہ جن کے سربراہان مملکت نے اپنی تقاریر میں فلسطین پر صہیونیوں کے غاصبانہ تسلط کے خلاف بات کی اور فلسطینیوں کے لئے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔

    مخالفین نہیں‌ اپنے ہی وزیراعظم کی کشتی ڈبو رہے ہیں ، ایماندار وزیراعظم کو6 چیزیں

    ایران کی اگر بات کریں تو ایران، سنہ 1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت فلسطینیوں کی تحریک آزادی اور فلسطین کی آزادی کا سب سے بڑا خواہاں ہونے کے ساتھ ساتھ عملی طور ر فلسطین کاز کا مدد گار بھی ہے، حتیٰ کہ ایران کے دستور میں فلسطین سمیت دنیا کے تمام مظلوموں کی حمایت بنیادی اصولوں کی دستاویز کے طور پر درج بھی ہے۔لہذا ایران کے صدر روحانی نے اپنا فریضہ سمجھتے ہوئے بھی فلسطین کاز کی حمایت کو اقوام متحدہ کے فورم پر بیان کیا اور فلسطین کا مقدمہ پیش کیا ہے۔

    دوسری طرف ترکی کے سربراہ مملکت رجب اردگان ہیں کہ جو ایران کے ہمسایہ بھی ہیں۔ماضی میں بھی فلسطین کا زکی حمایت میں پیش پیش رہے ہیں حالانکہ حکومتی سطح پر ترکی کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات موجودہیں لیکن اردگان حکومت نے گاہے بہ گاہے فلسطین کاز کی حمایت جاری رکھی ہوئی ہے۔ترکی کے صدر کے طرز حکومت اور دنیا کے بدلتے سیاسی حالات میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔حالانکہ شروع شروع میں ترکی شام کے خلاف سرگرم تھا اور یہی اردگان کہتے تھے کہ بشار الاسد کی حکومت کو جانا ہو گا لیکن اب ان کا موقف تبدیل ہو چکا ہے اور یہ سمجھ چکے ہیں کہ شام سمیت عراق کو غیر مستحکم کرنے کا امریکی منصوبہ جہاں شام و عراق کو تباہ کر دیتا وہاں ساتھ ساتھ ترکی بھی اس کا شکار بنے بغیر نہ رہتا۔

    بات کرتے ہیں اقوام متحدہ کے حالیہ سالانہ اجلاس کی اور اس میں فلسطین کا مقدمہ پیش کرنے کی تو ایران کے بعد ترک صدر تھے کہ جنہوں نے فلسطین کا زکی کھل کر حمایت کی اور صہیونی جرائم کو آشکار کرتے ہوئے صہیونیوں کی مکاریوں اور ظلم و ستم کی داستانوں کو بیان کیا۔اردگان کی تقریر کے تاریخی جملوں میں قابل ذکر جملے یہ تھے کہ آج دنیا میں سب سے زیادہ نا انصافی فلسطینیوں کے ساتھ ہو رہی ہے۔

    ڈان کے سابق سٹی ایڈیٹر ابوالحسنات انتقال کر گئے

    آج مقبوضہ فلسطین صہیونی مظالم کی زدمیں ہے اور سب سے زیادہ ناانصافی فلسطینی عوام کے ساتھ ہو رہی ہے جبکہ غاصب اسرائیل کہ جو سنہ1947ء سے پہلے کوئی وجود نہ رکھتا تھا آج تک ظلم و ستم کے ساتھ مقبوضہ فلسطین پر قابض ہے اور فلسطینیوں پر ظلم و ستم کی داستانیں رقم کر رہاہے۔یہاں اردگان کے جملوں کو تاریخی جملے کہنے کا ایک ہدف یہ بھی ہے کہ انہوں نے صہیونی جعلی ریاست اسرائیل کی اصل حقیقت کی قلعی کھول دی ہے اور بتایا ہے کہ سنہ1947ء سے پہلے اسرائیل نام کی کوئی ریاست نہ تھی، اس کا واضح مطلب یہی بنتا ہے کہ اردگان نے مسئلہ فلسطین کے حوالے سے فلسطین کی آزاد ریاست کہ جس کی بنیاد سنہ1948ء سے قبل کی ہے اس کی حمایت کی ہے جس میں اسرائیل نام کی کوئی ریاست وجود نہیں رکھتی۔

    اردگان نے اسرائیل کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ رسید کرتے ہوئے اقوام عالم سے سوال کیا کہ یہ بات کیسے ممکن ہے کہ جولان کی پہاڑی علاقوں کو جعلی ریاست اسرائیل دنیا کی آنکھوں کے سامنے اپنے اندر ضم کر لے جیسا کہ پہلے بھی اسرائیل نے فلسطینی علاقوں کو مقبوضہ بنا رکھا ہے۔یعنی اس عنوان سے اردگان کا موقف شام کی حمایت میں بھی سامنے آیا ہے جو بہت بڑی تبدیلی کا اشارہ ہے۔

    اردگان کی تقریر میں اہم ترین بات جو غاصب صہیونیوں کے جھوٹے پراپیگنڈے کو زائل کرنے کے لئے کافی تھی وہ اردگان کا تقریر کے دوران ہاتھوں میں مقبوضہ فلسطین کا نقشہ اٹھا کر اقوام عالم کو دکھانا تھا۔اردگان کے ہاتھوں میں موجود فلسطین کا نقشہ در اصل صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کے ان جھوٹے اور منفی پراپیگنڈوں کا جواب بھی تھا کہ جس میں وہ گذشتہ برس ہاتھوں میں ایسی من گھڑت تصاویر لے کرآئے تھے کہ ایران کی ایٹمی تنصیبات اور دیگر بتا رہے تھے تاہم اس مرتبہ اردگان کے ہاتھوں میں فلسطین کا نقشہ صہیونی ریاست کے وجود کی نفی کے ساتھ بہترین حربہ تھا جس پر اب تک صہیونی ذرائع ابلاغ میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

    اسرائیل کی تکلیف کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نیتن یاہو کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں انہوں نے ترک صدر کو فلسطین کے حقائق بیان کرنے اور صہیونی ریاست کی نفی کرنے کو جھوٹ کا پلندا قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اردگان نے فلسطین کی حمایت اور اسرائیل کی نفی کے معاملے میں جھوٹ بیان کیا ہے۔واضح رہے کہ اردگان نے کہا تھا کہ سنہ1947ء سے قبل دنیا میں کسی بھی جگہ اسرائیل نام کی کوئی ریاست وجود نہ رکھتی تھی۔یقینا یہ ایک تاریخی حقیقت ہے تاہم صہیونی وزیر اعظم نیتن یاہو اس بات پر شدید برہم ہیں۔نیتن یاہو نے ساتھ ساتھ ترک صدر کو کرد عوام کا قاتل بھی قرار دیا ہے۔

    نیتن یاہو کے جواب میں ترک صدر کے ترجمان ابراھیم کالن نے نیتن یاہو کی باتوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترک صدر کی جانب سے تاریخی حقائق بیان کرنے پر لگتا ہے کہ نیتن یاہو کا دماغی توازن خراب ہو چکا ہے۔

    خلاصہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے حالیہ سالانہ اجلاس میں مسلم دنیا کے 57ممالک میں سے صرف ایران اور ترکی ہی واضح طور پر فلسطین کی حمایت میں کھڑے نظر آئے ہیں جبکہ امید یہ کی جا رہی تھی کہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اپنی تقریر میں کشمیر کے ساتھ ساتھ مسلم امہ کے اولین مسئلہ فلسطین کو بھی اجاگر کریں گے۔

    اقوام متحدہ میں فلسطین کا مقدمہ —
    تحریر:صابر ابو مریم صابر ابو مریم


    سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
    پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی

  • فلم "درج” پر پابندی کیوں عائد کر دی گئی؟

    فلم "درج” پر پابندی کیوں عائد کر دی گئی؟

    معروف اداکار و ڈائریکٹر شمعون عباسی نے ان کی آنے والی فلم پر پابندی کی تصدیق کر دی ہے.

    شمعون عباسی کے مطابق فلم کو سندھ اور پنجاب سینسر بورڈز سے کلیئرنس سرٹیفکیٹ حاصل چکا تھا جو ڈسٹری بیوشن کمپنی کے پاس ہیں لیکن سینٹرل بورٖڈ نے بغیرکوئی وجہ بتائے فلم کی پاکستان میں نمائش پر پابندی لگا دی ہے اور پابندی لگانے لے لیے انہوں نے کوئی ٹھوس وجہ بھی نہیں بتائی۔

    مداحوں کے سوالات پر پابندی کی تصدیق کرتے ہوئے شمعون عباسی نے سوشل میڈیا پر پوسٹ میں لکھا کہ جب تک کوئی نوٹس جاری نہیں ہوتا تب تک فلم ’’ دُرج‘‘ پاکستان میں ریلیز نہیں کی جائے گی۔ تاہم شمعون پرامید ہیں کہ سینسر بورڈ اس معاملے میں ان کی مدد کر سکیں.

    شمعون عباسی نے مزید بتایا کہ فلم کا ٹریلر بھی پاکستان سمیتھ دنیا بھر میں مقبول ہوا ہے. اور مداح بہت اچھا ریسپونس کر رہے ہیں. فلم کا پاکستانی مداحوں کے علاوہ بھارتیوں، ناروے، انڈونیشیا سمیتھ کئی ملکوں کے مداحوں کو انتظار ہے.

  • چیف جسٹس آف پاکستان نے ملک بھر کے لیے بہت بڑا حکم جاری کردیا، کیا ہے یہ حکم ؟ ہرکوئی جان کر داد دینے لگا

    چیف جسٹس آف پاکستان نے ملک بھر کے لیے بہت بڑا حکم جاری کردیا، کیا ہے یہ حکم ؟ ہرکوئی جان کر داد دینے لگا

    اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے مقدمات کو جلد سے جلد نبٹانے کے لیے ملک بھر میں نئی ماڈل کورٹس کے قیام کا حکم صادر کردیا ہے ، اطلاعات کے مطابق ملک بھر کی ماڈل کورٹس میں مقدمات کے تیز ترین فیصلوں کا ریکارڈ، کارکردگی دیکھتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان نے مزید ماڈل کورٹس کے قیام کا حکم جاری کردیا ہے۔

    ماڈل کورٹس کے فوائد کے پیش نظر چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے تمام ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کو تین روز میں نئی ماڈل کورٹس قائم کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ ہر ڈویژنل ہیڈ کوارٹر پر مزید ایک نئی ماڈل کورٹ قائم کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق چیف جسٹس کی طرف سے ہدایت کےمطابق نئی قائم کردہ ماڈل کورٹس کچھ اس طرح کام کریں گی ، ڈویژنل سطح پر قائم ہونے والی ماڈل کورٹس قتل اور منشیات کے مقدمات کی سماعت کریں گی، ہر ضلع میں دیوانی اپیلوں اور فوجداری مقدمات کی سماعت کیلئے بھی مزید ماڈل کورٹس بنیں گی۔

    پاکستان میں مقدمات کی بڑھتی ہوئی شرح کی وجہ سے ماڈل کورٹس نے یکم اپریل 2019 میں اپنے کام کا آغاز کیا، اب تک پاکستان کی 373 ماڈل کورٹس 36 ہزار 881 مقدمات کے فیصلے کرچکی ہیں جبکہ 98 ہزار 647 گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے ہیں۔ نئی عدالتوں کے قیام کے بعد اس کی رپورٹ چیف جسٹس آف پاکستان کو پیش کی جائے گی۔

  • بھارتی فضائیہ کا طیارہ گر کر تباہ، ہلاکتوں کا سن کر انڈیا میں غم کی لہر دوڑ گئی

    بھارتی فضائیہ کا طیارہ گر کر تباہ، ہلاکتوں کا سن کر انڈیا میں غم کی لہر دوڑ گئی

    بھارتی ریاست تلنگانہ میں ہندوستانی فضائیہ کا طیارہ گر کر تباہ ہو گیا ہے،

    کیا پی اے ایف کو پہلے ہی معلوم ہوچکا ہے اور رافیل فائٹر جیٹ کے راز کھل چکے ہیں جو ہندوستانی فضائیہ کو پہنچائے جائیں گے؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تلنگانہ کے دارالحکومت حیدر آباد سے ایک سو کلومیٹر دور ضلع وقار آباد میں پیش آنے والے حادثہ میں طیارے کے دو پائلٹ ہلاک ہو گئے ہیں، بھارتی میڈیا نے عینی شاہدین کے حوالہ سے بتایا ہے کہ تباہ ہونے والے طیارے نے ضلع کے سلطان پور گاؤں کے کپاس کے کھیت میں گرنے سے پہلے 15 منٹ تک اسی علاقہ میں چکر لگائے، بتایا گیا ہے کہ بے قابو ہونے والے اس طیارہ کے گرنے سے پہلے اس میں آگ بھی لگی تھی،

    بھارتی فضائیہ کے سربراہ نے ہندوستانی طیاروں کی کارکردگی کا پول کھول دیا، کیا کہا؟ جان کر ہوں حیران

    بھارتی میڈیا کے مطابق راجیو گاندھی ایوی ایشن اکیڈمی حیدرآباد کے ان دو پائلٹوں نے بیگم پیٹ ائیرپورٹ سے طیارہ اڑایا تھا تاہم تھوڑی ہی دیر بعد اس کا رابطہ بیگم پیٹ ایئرپورٹ سے منقطع ہو گیا تھا، ہلاک ہونے والے پائلٹوں میں سے ایک کی شناخت پرکاش وشال کے طورپر کی گئی ہے، طیارے کے تباہی کے بعد مقامی لوگوں نے اس واقعہ کی اطلاع پولیس کو دی جس پر اہلکاروں نے وہاں‌ پہنچ کر دیکھا تو دونوں پائلٹ ہلاک ہو چکے تھے،

  • چارسدہ بارہ سالہ یتیم بچہ درانتی سے زبح قاتل گرفتار

    چارسدہ بارہ سالہ یتیم بچہ درانتی سے زبح قاتل گرفتار

    چارسدہ (نمائندہ باغی ٹی وی)تھانہ خانمائی پولیس کی کامیاب کاروائی ۔
    تھانہ خانمائی کے حدود قلعہ کورونہ میں 13سالہ یتیم سکول طالب علم سراج کے اندھے قتل کیس کا سراع لگا کر پولیس نے چند گھنٹوں کے اندر درندہ صفت ملزم کو گرفتارکرلیا،ملزم مقتول کا پڑوسی نکلا اور ملزم اورمقتول کے درمیان،جنسی تسکین کا تعلق تھا،ملزم نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا جبکہ ا ہلیان خانمائی کا پولیس کو چند گھنٹوں کے اندر ملزم کے گرفتاری پر خراج تحسین پیش کرنے کے لئے بڑی تعداد میں لوگ تھانہ چارسدہ سٹی پہنچ گئے۔
    اس حوالے سے ڈی ایس پی سرڈھیر ی آیاز محمود خان نے ایس ایچ اوز بہرمند خان،اشفاق خان،انوسٹی گیشن آفیسر حبیب الحسن کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ4اکتوبر کو عصر کے وقت مقتول سراج ولد شوکت علی ساکن قلعہ کورونہ جوکہ چھٹی جماعت کا طالب علم تھا۔ مویشوں کے لئے چارہ لانے کیلئے گھر سے نکل کر واپس نہیں آیا اگلی دن پانچ اکتوبر کو گنے کے کھیتوں سے ان کی ذبخ شدہ نعش ملی۔تھانہ خانمائی میں مقتول کی والدہ کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔آئی جی خیبرپختونخواہ ڈاکٹر محمد نعیم خان،آر پی اومردان محمد علی کے ہدایت پر ڈی پی او چارسدہ عرفان اللہ خان نے ان کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دی جس نے جدید سائنسی خطوط پر تفشیش کرتے ہوئے انتہائی قلیل وقت میں ملزم اعجاز ولد سید احمد سکنہ قلعہ کورنہ کو گرفتار کرلیا۔ڈی ایس پی سٹی ایاز محمود نے بتایا کہ ملزم اعجاز نے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے دوران تفشیش بتایا کہ وہ اور مقتول سراج آپس میں جنسی تسکین کیا کرتے تھے وقوع کے روز گنے کے کھیتوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تکرار ہوئی جس پر اس نے مقتول سراج کا گلہ دباکرہلاک کیا اورمقتول کے گلے کے نیچے درانتی پڑا تھا جن سے ان کے گردن پر نشانات پڑے تھے ڈی ایس پی نے بتایا کہ مقتول کے ذبح ہونے کے حوالے سے بھی تفشیش جاری ہے۔انہوں نے کہاکہ کے مقتول کے پڑوس کے قریب گھر کو تالے لگے تھے جس پر انہیں شک ہوا اور ملزم تک ر سائی حاصل کی اور پولیس ٹیم نے ملزم اعجاز ولد سید احمد سکنہ قلعہ کورونہ کو امیر آباد پل سے گر فتا ر کرلیا۔بعد ازاں علاقے خانمائی کے بڑی تعداد میں افراداورمقتول کے رشتہ داران تھانہ سٹی چارسدہ پہنچ کر پولیس خانمائی کے ملزم کے چند کھنٹوں کے اندر گرفتار کرنے کو پولیس کا اچھا اقدام قرار دیااورکہاکہ پولیس کیس کاروائے سے مظلوم خاندان کو انصاف کے فراہمی یقینی ہوئے اور پولیس کو خراج تحسین پیش کیا۔

  • عمران خان نے اپنی تقریر میں یہ بات تو کی نہیں؟ میاں‌ افتخار حسین نے نئی بات کہہ دی

    عمران خان نے اپنی تقریر میں یہ بات تو کی نہیں؟ میاں‌ افتخار حسین نے نئی بات کہہ دی

    عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ہمیں خوشی ہوگی کہ مولانا فضل الرحمان کو کامیابی ملے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق میاں افتخار حسین نے کہا کہ ایسی فضا بنائی جائے کہ 27 تاریخ پوری اپوزیشن کی تاریخ بن جائے، ہم چاہتے ہیں کہ شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے، موجودہ حکومت نے ملک کو تباہ کردیا ہے ، عمران خان نےاقوام متحدہ میں پاکستان کی پگڑی اچھالی، حکومت چاہتی ہے کہ اپوزیشن تقسیم ہو جائے، مولاناصاحب اے پی سی کا اجلاس بلائیں تاکہ آئندہ کا لائحہ عمل طے کر لیں،

    میاں‌ افتخار حسین نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے، موجودہ حکومت نے ملک کو تباہ کردیا ہے ، عمران خان نے تقریرمیں کشمیر کی آزادی اور حق خودارادیت کی بات نہیں کی،

  • وزیراعلیٰ پنجاب نے ایک اور شہر میں‌ صحافی کالونی کے قیام کی خوشخبری سنا دی

    وزیراعلیٰ پنجاب نے ایک اور شہر میں‌ صحافی کالونی کے قیام کی خوشخبری سنا دی

    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ وزراء کی تبدیلی کارکردگی پرمنحصر ہے،

    وزیراعلیٰ پنجاب نے صحافیوں‌ کو بڑی خوشخبری سنا دی، اہم خبر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سردار عثمان بزدار نے اوکاڑہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کےلیےصحافی کالونی بنائی جائےگی، تحریک انصاف میں کوئی گروپ بندی نہیں ہے، جب وقت آئےگاپنجاب حکومت حکمت عملی بنائے گی، جےیوآئی کےدھرنے کی کوئی فکرنہیں ہے، واضح رہے کہ وزیراعلیٰ‌ پنجاب سردار عثمان بزدار نے ملتان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کے مسائل کے حل کیلئے جرنلسٹ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کا سب آفس ملتان میں کھولا جائے گا، وزیراعلیٰ نے صحافیوں کو بھی صحت انصاف کارڈ کے اجراء کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ ہاؤسنگ کالونی فیز ٹو کیلئے کمشنرکو ہدایات جاری کردی گئی ہیں اورصحافیوں کا یہ مسئلہ بھی حل کریں گے،

    دھرنا نہیں ہو گا بلکہ…..مولانا فضل الرحمان نے اہم اعلان کر دیا

    حکومت کی اپیل مسترد،جے یو آئی ڈٹ گئی، کہا ایسا نہیں ہو سکتا

    آزادی مارچ، مولانا فضل الرحمان نے تاریخ کا اعلان کر دیا،کہا روکا تو پاکستان جام کر دیں گے

    ان کا کہنا تھا کہ ملتان پریس کلب کی گرانٹ کے ایشو کو بھی حل کیا جائے گا، جنوبی پنجاب کی ترقی و خوشحالی کیلئے 35فیصد فنڈز رکھے گئے ہیں اور یہ فنڈز صرف جنوبی پنجاب پر ہی خرچ ہوں گے، انہوں نے کہاکہ پنجاب کابینہ نے جنوبی پنجاب کیلئے مختص فنڈز کسی اور مقصد کیلئے استعمال کرنے پر پابندی عائد کردی ہے،