Baaghi TV

Author: +9251

  • بھارتی آرمی چیف کی بڑی دھمکی، کہا کنٹرول لائن کریں گے عبور

    بھارتی آرمی چیف کی بڑی دھمکی، کہا کنٹرول لائن کریں گے عبور

    بھارتی آرمی چیف بپن راوت نے پاکستان کو لائن آف کنٹرول عبور کرنے کی دھمکی دے دی۔ آرمی چیف نے ٹائمز آف انڈیا کو ایک انٹرویو میں ”سرجیکل اسٹرائیک “کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تک پیغام واضح طور پہنچایا جا چکا ہے۔

    بھارتی آرمی چیف نے پاکستان کو دی ایک اور سرجیکل اسٹرائیک کی دھمکی

    جنرل راوت نے پاکستان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اب اگر ایل او سی عبور بھی کرنی پڑی تو ہم گریز نہیں کریں گے۔ خواہ اس کے لیے ہمیں زمینی یا فضائی کوئی بھی طریقہ اختیار کرنا پڑے ۔ راوت کے مطابق اگر پاکستان کی طرف سے ایل او سی پر کوئی دراندازی نہیں ہوتی تو یہ سرحد برقرار رہے گی۔

    آرمی چیف نے عمران خان کی اقوام متحدہ والی تقریر پر بھی تنقید کی۔

    بھارتی فوج آزاد کشمیر میں کسی بھی وقت آپریشن کرسکتی ہے، بھارتی آرمی چیف نے دھمکی دے دی

    واضح رہے کہ یہ بھارتی آرمی چیف کی طر ف سے پہلی بار دھمکی نہیں ہے ۔ اس سے پہلے بھی وہ کئی بار ایسے دھمکی آمیز بیانات دے چکے ہیں۔ صرف رواں ماہ کے دوران ہی جنرل راوت سرجیکل اسٹرائیک اور آزاد کشمیر پر حملے کی دھمکی دے چکے ہیں۔

    بھارتی فوجی سربراہ کی پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی، عسکریت پسندی کو فروغ دینے کا الزام

    بھارتی آرمی چیف نے پاکستان کو ایک اور سرجیکل اسٹرائیک کی دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان نے بالاکوٹ میں ’دہشت گرد کیمپوں‘ کو پھر سے کھول دیا ہے۔بھارت نے فروری میں بالاکوٹ میں سرجیکل سٹرائیک کا دعوی کرکے جہادی کیمپ تباہ کرنے کا دعوی تو کیا لیکن اس کا ایک بھی ثبوت دنیا کے سامنے پیش نہ کر سکا۔ اس کے برعکس پاکستان نے بھارت کے دو طیارے مار گرائے۔ ایک پائلٹ ابھی نند ن بھی پاکستان میں گرفتار ہوا۔

    اس سے پہلے بھی ایک بیان میں بھارتی آرمی چیف بپن راوت نے کہا تھا کہ بھارتی فوج آزاد کشمیر میں فوجی کارروائی کے لیے تیار ہے۔ فوجی کارروائی کا فیصلہ سیاسی حکومت نے کرنا ہے۔

    یاد رہے کہ بھارتی آرمی چیف پاکستان کے خلاف دھمکی آمیز بیان دینے میں اکیلے نہیں ہیں۔ بھارتی وزرا ءاور انتہاپسند رہنما بھی پاکستان کو سبق سکھانے کی دھمکی دیتے رہتے ہیں۔

  • سینیٹر طلحہ محمود کی زیرصدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس، اہم امور کا جائزہ لیا گیا

    سینیٹر طلحہ محمود کی زیرصدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس، اہم امور کا جائزہ لیا گیا

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلحہ محمود کی زیر صدارت وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کلب میں منعقد ہوا، قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اسلام آباد کلب کے کھانے کے معیار،فراہم کردہ سہولیات، مینجمنٹ کمیٹی کاسٹیٹس و کارکردگی، اسلام آباد کلب کی فی میل سٹاف کوحراساں کرنے کے الزامات کے علاوہ اسلام آباد کلب کے ممبران کو سپلیمنٹ دینے کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا،

    کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہونا جہاد ہے، مودی کی فاشسٹ‌ حکومت کو ہر فورم پر بے نقاب کریں گے، عمران خان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین کمیٹی سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ اسلام آباد کلب بہترین سہولیات و سروسز کا ادارہ ہے، ادارے کی طرف سے فراہم کردہ سروسز کو مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ممبران کو زیادہ سے زیادہ سہولیات میسر ہو سکیں۔ سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ یہ کلب ایک کمپنی تھا 1978میں ایک آڑڈینس کے ذریعے کمپنی کو کلب میں تبدیل کیا گیا، یہ کلب دو کلاسز کیلئے بنایا گیا تھا مگر اسکے رولز نہیں بنائے جا سکے یہ کلب اب بہت بڑا ادارہ بن چکا ہے جس میں بے شمار سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، اس کے سٹیٹس کا فیصلہ کرنا چاہئے، انہوں نے کہا کہ کلب کی مینجمنٹ کمیٹی کے آٹھ ممبران ہوتے ہیں جن میں سے 5 ممبران مختلف محکموں کے سیکرٹریز ہیں جبکہ 3پرائیویٹ ممبر ہوتے ہیں ان کو بھی حکومت نامزد کرتی ہے پرائیویٹ ممبران کا انتخاب ممبران کلب سے ہونا چاہئے، 1978کے بعد اسکے قانون میں کوئی ترمیم نہیں کی گئی اس کلب کی کارکردگی کی سالانہ رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش ہونی چاہئے، اسلام آباد کلب کے کھانے کے معیار کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا، کمیٹی کو بتایا گیا کہ ادارے کی ڈیلی ا نسپیکشن رپورٹ تیار ہوتی ہے اور عملے کو ٹریننگ کے علاوہ ویکسینشن، میڈیکل چیک اپ بھی لازمی حصہ بنایا گیا ہے۔ کھانے کے معیار اور دیگر سروسز کا جائزہ لینے کیلئے ہاشوکمپنی اور سی ڈی اے سے اس کی انسپیکشن بھی کرائی ہے،

    کلب ممبران اور ان کے مہمانوں کے کھانے اور دیگر سروسز کے حوالے سے فیڈ بیک بھی لیا جاتا ہے جس پر وزیر پارلیمانی امور محمد اعظم خان سواتی نے کہا کہ صرف ایک کمپنی سے اسکی انسپیکشن کیوں کرائی ہے. سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ پنجاب پیور اتھارٹی اور ایک بین الاقوامی تنظیم بھی کھانوں کا معیار اور سروسز چیک کرتے ہیں اُن سے انسپیکشن کرانی چاہئے، انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کلب کے سٹاف کے رویوں کو مزید بہتر کیا جائے کسی کے ساتھ امتیارزی سلوک نہیں رکھنا چاہئے۔ سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ روم سروسز کے ساتھ ممبران کیلئے ناشتے والی جگہ کی سروسز کو بھی مزید بہتر بنایا جائے، سینیٹر ثمینہ سعید اور سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ اسلام آباد کلب کے کھانے کے معیار کو پہلے کی طرح مزید بہتر کیا جائے۔ جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ ایسا موثر سسٹم بنایا جائے جس سے اسلام آباد کلب کے عملے کی مزید اصلاحات ہو سکے اور مختلف سروسز کا معیار بھی بہتر ہو سکے،

    بلاول کی مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کی حمایت کا اعلان، کہا وفد مولانا کے پاس بھیج رہا ہوں

    حکومت کے گھیراؤ کے لئے مولانا فضل الرحمان نے پھیلائی جھولی

    مولانا کا آزادی مارچ، مولانا متحرک، رابطے، ملاقاتیں شروع

    سینیٹر اسد اشرف نے کہا کہ اس کلب کو دیگر ملکی و بین الاقوامی سطح پر قائم کلبز کے ساتھ اشتراک کو فروغ دینا چاہئے تا کہ اس کلب کے ممبران کو وہ بہترین انٹر ٹین کر سکیں۔ قائمہ کمیٹی نے اسلام آباد کلب کو سندھ کلب کے ساتھ اشتراک کو فروغ دے کر معاملات کو بہتر کرنے کی سفارش کر دی۔ ۔ ایڈمنسٹریٹر اسلام آباد کلب نے کہا کہ پاکستان کا یہ واحد کلب ہے جو قانون کے تحت چل رہا ہے اس کو اگر حکومتی جیکٹ میں لایا گیا تو مسائل پیدا ہونگے۔ کمیٹی کو بتایاگیا کہ اسلام آباد کلب کو مزید بہتر بنانے کیلئے کچھ نئے رولز بنا کر بھیجوائے ہیں قائمہ کمیٹی نے اُسکی کاپی طلب کر لی، کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز محمد جاوید عباسی، نجمہ حمید، ڈاکٹر اسد اشرف، روبینہ خالد، مشتاق احمد، انور لال دین،نصیب اللہ بازئی، مشاہد اللہ خان، ثمینہ سعید کے علاوہ و فاقی وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی، ایڈمنسٹریٹر اسلام آباد کلب محمد جہانزیب خان، اسپیشل سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن ڈاکٹر صفدر، سیکرٹری اسلام آباد کلب اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی،

  • فیصل آباد : ٹک ٹوک پر اسلحہ کی نمائش کرنے کا رجحان خطرناک حد تک بڑھ گیا

    فیصل آباد ۔۔۔
    ٹک ٹوک پر اسلحہ کی نمائش کرنے کا رجان بڑھنے لگا ۔
    فیصل آباد
    تھانہ رضا آباد کے رہائشی نوجوان کی جدید اسلحہ کے ساتھ شوشل میڈیا پر تصویریں سامنے آگیں ۔
    فیصل آباد
    رضا آباد کے رہاشی نوجوان بلاول اور حسن اسلحہ کے ساتھ پکس اور وڈیو منظر عام پر ۔
    فیصل آباد
    نوجوان سرعام فائرنگ کرتے اور علاقہ میں خوف و ہراس پھیلا تے ہیں
    فیصل آباد
    متعلقہ تھانہ کی طرف سے کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی ۔
    فیصل آباد
    چند روز قبل بھی تھانہ رضا آباد کے علاقہ میں فائرنگ کا واقعہ ہوا تھا۔

  • شہباز شریف نے قومی اسمبلی اجلاس میں وزیراعظم عمران خان سے اہم مطالبہ کر دیا

    شہباز شریف نے قومی اسمبلی اجلاس میں وزیراعظم عمران خان سے اہم مطالبہ کر دیا

    مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان دورہ امریکا سے متعلق ایوان کو آگاہ کریں،

    شہباز شریف قومی خزانے کا ضیاع کرتے رہے، رپورٹ سامنے آ گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہباز شریف نے قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دیگرارکان کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے جائیں، انہوں نے کہاکہ امید تھی کہ وزیراعظم آج ایوان کو کشمیرسے متعلق اعتماد میں لیں گے، ڈپٹی اسپیکرکے الیکشن میں گرفتارارکان اسمبلی کا ایوان میں ہونا ضروری ہے، واضح رہے کہ آج قومی اسمبلی اجلاس سے قبل وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا تھا جس میں انہوں نے رہنماؤں‌ کو اعتماد میں لیا،

    شہباز شریف ایک بار پھر نیب کے ریڈار پر، نیب نے بڑا فیصلہ کر لیا

    نواز شریف کی جیل میں زندگی خطرے میں ،صحت کے حوالہ سے اہم انکشاف باغی ٹی وی سامنے لے آیا

    جیل میں نواز شریف کو قتل کرنے کی سازش کی جارہی ہے، شہباز شریف

    نوازشریف و زرداری کو چھوڑنے کا اعلان، پاکستانی سیاست میں ہلچل مچ گئی

    تحریک انصاف کے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کشمیریوں کامقدمہ جہاد سمجھ کر لڑ رہے ہیں، مقبوضہ کشمیرمیں بھارت بدترین ظلم کررہاہے، پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کااجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا، اس موقع پر وزیر خارجہ کی طرف سے مسئلہ کشمیرپرحکومتی سفارتکاری پربریفنگ دی گئی، اجلاس کے دوران وزرااورحکومتی ارکان نے وزیراعظم کو جنرل اسمبلی اجلاس میں شاندار خطاب پرخراج تحسین پیش کیا، اجلاس میں پارلیمنٹ کےاندراپوزیشن کےاحتجاج سےنمٹنےکی حکمت عملی پربھی غورہوا، اجلاس میں مسئلہ کشمیرپرحکومتی اقدامات اورآئندہ کالائحہ عمل طےکرنےپربات چیت ہوئی،

  • عوام متحد رہیں، آزادی کشمیر قریب ہے، سید علی گیلانی کا بڑا پیغام

    عوام متحد رہیں، آزادی کشمیر قریب ہے، سید علی گیلانی کا بڑا پیغام

    مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ کشمیری عوام کی بے مثال قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی اور آزادی کشمیر کا سورج جلد طلوع ہونے والا ہے۔

    بھارتی حکومت کشمیر میں کیا کرنے جارہی ہے؟ سید علی گیلانی نے پول کھول دیا، بڑی خبر

    سری نگر سے کشمیر میڈیا سروس کو موصول اپنے پیغام میں ، سینئر رہنما نے تمام کشمیری سیاستدانوں پر زور دیا کہ وہ کشمیری عوام کے خلاف مذموم عزائم میں ہندوستان کا ساتھ دینے سے باز رہیں۔.

    انہوں نے وادی کشمیر ، جموں خطہ اور لداخ کے عوام سے متحد رہنے کی اپیل کی اور کہا کہ کشمیری عوام اپنی شناخت ، مذہب اور عزت سے کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

    سید علی گیلانی نے پاکستان سے ایسا مطالبہ کیا کہ مودی سرکار ہوئی پریشان

    سیدعلی گیلانی نے حریت رہنماﺅں پر زور دیا کہ وہ عوام کے ساتھ کھڑے رہیں اور بھارتی قبضے کے خلاف جدوجہد میں ان کی رہنمائی کریں۔ تحریک آزادی کو تیز کرنے کے لیے مزاحمتی کیلنڈر بھی جلد جاری کیا جائے گا۔

    بھارت ساری فوجیں بھی کشمیر میں مسلط کردے ، منزل پھر بھی ” آزادی ” ہوگی ‘سید علی گیلانی ڈٹ گئے

    سید علی گیلانی نے کشمیری پولیس اہلکاروں سے کہا کہ وہ اپنی ماوں ، بہنوں اور بھائیوں کو گندے ہندوتوا کے فلسفہ کے غلام بننے سے بچانے کے لئے ہندوستان کی سہولت فراہم نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک کو تیز کرنے کے لئے معاشرے کے تمام طبقات کے لئے مزاحمتی کیلنڈر جلد جاری کیا جائے گا۔ سید علی گیلانی نے حریت رہنماوں پر زور دیا کہ وہ عام عوام کے ساتھ چپکے رہیں اور بھارتی قبضے کے خلاف جدوجہد میں ان کی رہنمائی کریں۔

    دریں اثنا ،بھارتی نیم فوجی دستوں نے سری نگر کے مختلف علاقوں میں کشمیریوں سے اپنی جائیدادیںکرائے پر دینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ کشمیریوں کے مطابق اگر وہ ایسا کرنے سے انکار کرتے ہیں تو انہیں ہراساں کیا جاتا ہے اور انہیں فوری طور پر گھر خالی کرنے کو کہا جاتا ہے۔

  • عنوان:حزب اختلاف ہیجان کا شکار کیوں؟—- از — ملک شفقت اللہ

    عنوان:حزب اختلاف ہیجان کا شکار کیوں؟—- از — ملک شفقت اللہ

    ستائیس ستمبر اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس میں عمران خان نے انتہائی دھیمے مگر مضبوط لہجے میں جن چار نکات پر بات کی وہ عکاس ہے ان کے اچھے اور حساس حکمران ہونے کا۔زندگی کے ہر سانس کو جی کر، اسے اپنے دل و دماغ میں اتار کر اور زندہ دلی سے تمام معالات پر فیصلہ کن قدم اٹھانے والا ہی ایک مضبوط اور اچھا حکمران ہوتا ہے۔ہم جانتے ہیں کہ پاکستان کی موجودہ حکومت اقتدار کی قدروں سے نابلد ہے لیکن کم از کم اپنی ذات سے نکل کر ملکی مفادات کیلئے جذبات رکھتی ہے۔

    مخالفین کا پراپیگنڈا اور بیوروکریسی کی ہٹ دھرمی بھی ان کیلئے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو رہی ہے جس کا حل آئندہ بلدیاتی انتخابات میں نکال دیا گیا ہے لیکن پراپیگنڈوں کا شاید کوئی حل نہیں کیونکہ یہ آزادی اظہار رائے پر ضرب ہوگی اور بلا واسطہ یا بالواسطہ عوام الناس بھی اس کے زد میں آ ئے گی۔عمران خان نے جہاں دنیائے عالم میں مسلمانوں کا مؤقف کھل کر بیان کیا ہے وہیں ہمیں داخلی سطح پر ملک دشمنوں کے سہولت کاروں کو بھی لگام دینے کی ضرورت ہے۔ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ اتنی فسطائیت اور قنوطیت کیوں پھیلائی جا رہی ہے؟

    عمران خان کی تقریر کے بعد جس طرح سے اچانک کچھ حلقے تیز ہوئے ہیں وہ اسی بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ ساری کالی ہے۔سب کا مقصد اور کچھ نہیں بس پاکستان کو کمزور کرنا اور اس میں خانہ جنگی شروع کرواناہے۔ ن لیگیوں نے اس تقریر پر یہ سوال اٹھائے کہ تقریر کرنے سے اگر کچھ ہو جاتا تو اس سے پہلے بھی کئی تقریریں ہو چکی ہیں،کیا ہوا؟ بلاول بھٹو کا بیان آ یا کہ یہ تقریر بے معنی اور بے بنیاد تھی، عمران خان امت مسلمہ کا اور پاکستان کا واضح مؤقف نہیں پیش کر پائے۔ کیا عمران خان وہاں اے کے 47 یا کوئی جی تھری بندوقیں لے کر جاتا اور کسی پرانی فلم کے ناکام عاشق کی طرح سب کی کن پٹی پر تان کر کہتا مجھے کشمیر دے دو نہیں تو نعشیں بچھا دوں گا نعشیں! کشمیرتو نہ ہوا دیوداس کی پارو ہوئی!۔

    فضل الرحمٰن نے اپنا مؤقف نہیں بدلا، حالانکہ وہ شاید اس سے انجان ہیں کہ ان کے پروگراموں کی وجہ سے ان کی رہی سہی سیاسی ساکھ بھی جاتی جا رہی ہے۔ہم جانتے ہیں کہ عمران خان کے منتخب ہوتے ہی فضل الرحمٰن نے دو الزامات لگائے تھے، ان میں سے ایک یہودی ایجنٹ قرار دینا اور دوسرا دھاندلی کا تھا۔انتخابات میں بری طرح ناکامی کے ردعمل کے طور پر مولانا حکومت کو بلیک میل کر رہے تھے کہ وہ دھرنا دینے لگے ہیں،عمران خان کو ہٹا کر ہی دم لیں گے، پھر میڈیا پر ایک افواہ اڑا دی کہ حکومت نے فضل الرحمٰن کا دھرنا رکوانے کیلئے سعودی عرب سے مدد مانگ لی ہے۔ اسی پس منظر میں سلیم صافی نے جب سوال کیا کہ آپ دھرنا کیوں دے رہے ہیں؟تو فضل الرحمٰن نے جواباََ کہا کہ عمران خان کی حکومت گرانے کیلئے،

    سلیم صافی نے سوال کو بڑھاوا دیتے ہوئے پوچھا کہ اگر فرض کریں کہ عمران خان کی حکومت چلی جاتی ہے اور دوبارہ انتخابات منعقد ہوتے ہیں جس میں عمران خان دو تہائی اکثریت سے کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر؟ تو فضل الرحمٰن نے کہا کہ میں دوبارہ دھرنا دوں گا کیونکہ یہ پھر سے دھاندلی ہوئی ہو گی،یہاں یہ سوال ہے کہ اگر اتنی ہی دھاندلی ہوئی ہے تو پہلے اپنے بیٹے سے استعفیٰ کیوں نہیں دلواتے؟ اور عمران خان نے جو تقریر کی ہے اس کیلئے پہلے اسرائیل کو منایا ہے اس کے بعد کی ہے، فضل الرحمٰن کا منشور ہمیشہ سے رہا ہے کہ ہم پاکستان میں شریعت محمدی کا نفاذ چاہتے ہیں، حالانکہ فضل الرحمٰن مشرف دور میں سرحد کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں اور کوئی ایک بھی قانونی مثال نہیں ملتی جو شریعت محمدی سے ماخذ کی گئی ہو یا شرعی ہو۔

    اسی دور میں جب فضل الرحمٰن نے امریکہ کا دورہ کیا تھا تو وہاں امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات کے دوران کہا تھا کہ مجھے پاکستان کی حکومت کا موقع دیں میں آپ کو مایوس نہیں کروں گا،خود تو یہودی ایجنٹ بننے کیلئے تیار تھا مگر جب رد عمل نہیں ملا تو اسلام یاد آ گیا، یعنی اس کا اسلام اسلام آباد ہے؟۔ مولانا سے یہاں چند سوالات ہیں کہ آپ دس سال کشمیر کمیٹی کے چئیر مین رہے، آپ نے کشمیریوں کیلئے کیا کیا؟ آپ کہتے ہیں تقریروں سے کیا ہوتا ہے!سچ کہتے ہیں کیونکہ آپ عورت کی حکمرانی کو حرام کہتے ہیں لیکن اس کے اقتدار سے فائدہ اٹھایا،مشرف کو وردی کی دھمکی دے کر ڈیرہ غازی خاں میں زمین الاٹ کروا لی،نواز شریف بھی یہودی ایجنٹ اور کراچی سے خیبر تک کرپشن کی داستانیں رقم کرنے والے تھے لیکن وہ بالکل اسلامی ہوگئے جب آپ کشمیر کمیٹی کے چئیرمین بن گئے اور بہت سی مراعات بھی حاصل کیں،

    آپ نے اپنے عمل سے لفظ مدرسے کو گالی پڑوائی،آپ تو یوں کہہ رہے ہیں کہ تقریروں سے کچھ نہیں ہوتا جیسے اس سے پہلے کے حکمران اقوام متحدہ میں تھپڑوں، مکوں اور ٹینکوں، میزائلوں سے بات کرتے تھے۔پوری حکمت عملی سے سازشیں رچائی جا رہی ہیں، سیاہ سی تو اپنی جگہ اس میدان میں صافی صحافیوں نے بھی میدان خالی نہیں چھوڑا، بلکہ ذوالفقار علی بھٹو، معمر قذافی، یاسر عرفات وغیرہ کے حوالے دیئے کہ انہوں نے بھی اقوام متحدہ میں ایسی پرجوش تقریر کی تھی جس کے بعد انہیں مار دیا گیا، یعنی عمران خان کو بلا واسطہ دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ آپ نے دنیائے عالم کی بات کر کے اپنی جان جوکھم میں ڈال لی ہے۔کوئی کشمیر کے مسئلے کو چوتھے نمبر پر بیان کرنے کی وجہ سے بڑھکیں مار رہا تھا۔عاصمہ شیرازی نے تقریرپر جو تبصرے کئے وہ بھی سازشی بیانات سے کم نہیں۔

    حامد میر جو نواز شریف کو کرپٹ کہتا رہا ہے وہی آج نواز شریف کو اچھا بنا کر پیش کر رہا تھا۔ جس دن عمران خان کی تقریر تھی اسی دن کئی میڈیا گروپ دوسرے ایشوز پر بات کر رہے تھے۔یہاں کچھ باتیں تو عیاں ہوچکی ہیں کہ حزب اختلاف اپنی کرپشن کو چھپانے کیلئے، فضل الرحمٰن صر ف اقتدار کیلئے اور لفافہ صحافی صیہونی سازش کو بڑھاوا دینے کیلئے دن رات مگن ہیں۔ اس پراپیگنڈے میں ایم کیو ایم لندن، بلوچ لبریشن آرمی اور پی ٹی ایم بھی پیچھے نہیں رہی، ایم کیو ایم نے اپنے مقتولین کی تصویریں لگا کر نیویارک میں ٹرک چلوا دیئے حالانکہ یہ وہ  دہشتگرد، ڈکیت اور ٹارگٹ کلر تھے جنہوں نے کراچی میں اودھم مچا رکھا تھی،

    ایسے حیوانوں کے ساتھ او ر کیا سلوک کیا جاتا جن کی جارحیت رکنے کا نام تک نہیں لے رہی تھی، لندن میں بی بی سی نے بی ایل اے کے خیر بیار مری کا انٹرویو کیا جس میں اس نے خوب پراپیگنڈا رچایا، حالانکہ اسی امریکہ نے بی ایل اے اور اس کی ذیلی تنظیموں کو بین الاقوامی دہشتگرد قرار دیا ہوا ہے، پی ٹی ایم خانہ جنگی پھیلانے میں مصروف رہی۔ یہ جتنا مرضی کر لیں، اللہ تعالیٰ نے عمران خان کو جتنی عزت دے دی ہے وہ یہ چاہ کر بھی کم نہیں کر سکتے اور ان کی ذلت اب ان کیلئے رقم ہو چکی ہے۔ اگر آج ہنوز کے سارے دھوکے باز اور فراڈیے حیوان عمران خان کے اور پاک آرمی کے خلاف ہیں تو یہ ان کے حق پر ہونے کی گواہی ہے۔یہ تقریر ہر صورت پاکستان اور اسلام کے حق میں تھی، اس سے حزب اختلاف میں ہیجانی کیوں؟

    عنوان:حزب اختلاف ہیجان کا شکار کیوں؟—- از — ملک شفقت اللہ

  • پاکستان بمقابلہ سری لنکا ، بابر اعظم نے شاندار سینچری جڑ دی

    پاکستان بمقابلہ سری لنکا ، بابر اعظم نے شاندار سینچری جڑ دی

    پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دوسرا ون ڈے کراچی میں کھیلا جا رہا ہے ، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا ، پاکستان نے پہلی اننگز میں مقررہ 50 اوورز میں 305 رنز بنائے ،
    پاکستان کی اننگز کا آغاز فخر زمان اور امام الحق نے کیا، اور 73 رنز کی شراکت داری قائم کی ، اس کے بعد امام الحق 31 رنز ڈی سلوا کا شکار ہو گئے، فخر زمان پاکستان میں اپنے پہلے ون دے میچ کو 54 رنز کی اننگز سے یادگار بنا لیا ، لیکن میچ کی پہلی اننگز کی سرخی پاکستان کرکٹ ٹیم کی رن مشین بابر اعظم ثابت ہوئے جنہوں نے 105 گیندوں پر 4 چھکوں اور 8 چوکوں کی مدد سے 115 رنز کی شاندار اننگز کھیلی اور کیریر کی گیارھویں سینچری اسکور کی ، حارث سہیل نے 40 اور افتحار احمد نے 32 رنز کی اننگز کھیلی، سری لنکا کی جانب سے ڈی سلوا نے دو جبکہ لاہیرو کمارا اور ادانا نے ایک ایک وکٹ حاصل کی ،

  • وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کی لورا لائی دھماکہ کی شدید مذمت

    وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کی لورا لائی دھماکہ کی شدید مذمت

    وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے لورالائی ضلع میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعہ کی شدید مذمت کی ہے،

    بلوچستان کے لورا لائی ضلع میں دھماکہ، سکیورٹی اہلکار شہید، 3 زخمی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان نے سیکیورٹی اہلکارکی شہادت پر دکھ اورافسوس کا اظہار کیا ہے، جام کمال خان نے کہاکہ سیکیورٹی اہلکاروں نےدہشت گردوں کادلیری سےمقابلہ کیا، سیکیورٹی اہلکاروں نےجرات وبہادری کی اپنی روایات کو برقرار رکھا، وزیراعلیٰ بلوچستان کی طرف سے شہید اہلکار کے لواحقین سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا گیا ہے،

    بلاول کی مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کی حمایت کا اعلان، کہا وفد مولانا کے پاس بھیج رہا ہوں

    حکومت کے گھیراؤ کے لئے مولانا فضل الرحمان نے پھیلائی جھولی

    مولانا کا آزادی مارچ، مولانا متحرک، رابطے، ملاقاتیں شروع

    واضح رہے کہ بلوچستان کے ضلع لورالائی میں دھماکہ سے ایک سکیورٹی اہلکار شہید، تین زخمی ہو گئے ہیں، یہ دھماکہ لورا لائی علاقہ میں کوئٹہ روڈ پر واقع زراعت کالونی کے قریب ہوا ہے، کہا جارہا ہے کہ یہ خودکش دھماکہ تھا اور اس دھماکہ میں پولیس ایگل اسکواڈ کے ایک اہلکار کی شہادت کے ساتھ تین اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سکیورٹی اہلکاروں نے دو خودکش حملہ آوروں‌ کا پیچھا کیا، اس دوران ایک خودکش حملہ آور نے خود کو اڑا لیا جبکہ دوسرے کو سکیورٹی اہلکاروں نے ہلاک کر دیا، دھماکے کے بعد پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری تعداد جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ہے اور کوئٹہ روڈ کو ایف سی، لیویز نے گھیرے میں لے رکھا ہے، لورا لائی علاقہ میں‌ پیش آنے والے اس واقعہ پر وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے متعلقہ اداروں سے دھماکے کی رپورٹ طلب کر لی ہے،

    یہ بات بھی واضح رہے کہ ہفتہ کے دن بلوچستان میں‌ ہی ضلع قلعہ سیف اللہ کے علاقے چمن میں دھماکا ہوا تھا جس میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری مولانا محمد حنیف سمیت 3 افراد شہید اور 20 زخمی ہو گئے تھے، چمن میں ہونیوالا دھماکا خیز مواد موٹر سائیکل میں نصب تھا، دھماکے کا نشانہ جے یو آئی (ف) کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری رہنما مولانا محمد حنیف تھے جو زخمی کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے تھے، اس واقعہ کی وزیراعظم عمران خان، شاہ محمود قریشی اور مولانا فضل الرحمن سمیت دیگر سیاسی و مذہبی لیڈروں نے مذمت کی اور شہداء کے بلندی درجات کی دعا کی تھی،

  • بلوچستان کے لورا لائی ضلع میں دھماکہ، سکیورٹی اہلکار شہید، 3 زخمی

    بلوچستان کے لورا لائی ضلع میں دھماکہ، سکیورٹی اہلکار شہید، 3 زخمی

    بلوچستان کے ضلع لورالائی میں دھماکہ سے ایک سکیورٹی اہلکار شہید، تین زخمی ہو گئے ہیں،

    چمن دھماکہ میں شہید ہونے والوں کی تعداد 3 ہو گئی، جے یو آئی ف رہنما مولانا محمد حنیف بھی شامل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یہ دھماکہ لورا لائی علاقہ میں کوئٹہ روڈ پر واقع زراعت کالونی کے کچھ فاصلہ پر ہوا ہے، کہا جارہا ہے کہ یہ خودکش دھماکہ تھا اور اس دھماکہ میں پولیس ایگل اسکواڈ کے ایک اہلکار کی شہادت کے ساتھ تین اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سکیورٹی اہلکاروں نے دو خودکش حملہ آوروں‌ کا پیچھا کیا، اس دوران ایک خودکش حملہ آور نے خود کو اڑا لیا جبکہ دوسرے کو سکیورٹی اہلکاروں نے ہلاک کر دیا، دھماکے کے بعد پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری تعداد جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ہے اور کوئٹہ روڈ کو ایف سی، لیویز نے گھیرے میں لے رکھا ہے، لورا لائی علاقہ میں‌ پیش آنے والے اس واقعہ پر وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے افسوس کا اظہار کیا ہے اور متعلقہ اداروں سے دھماکے کی رپورٹ طلب کر لی ہے،

    بلاول بھٹو کا جے یو آئی ف رہنما مولانا محمد حنیف کی شہادت پر رنج و غم کا اظہار

    واضح رہے کہ ہفتہ کے دن بلوچستان میں‌ ہی ضلع قلعہ سیف اللہ کے علاقے چمن میں دھماکا ہوا تھا جس میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری مولانا محمد حنیف سمیت 3 افراد شہید اور 20 زخمی ہو گئے تھے، چمن میں ہونیوالا دھماکا خیز مواد موٹر سائیکل میں نصب تھا، دھماکے کا نشانہ جے یو آئی (ف) کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری رہنما مولانا محمد حنیف تھے جو زخمی کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے تھے، اس واقعہ کی وزیراعظم عمران خان، شاہ محمود قریشی اور مولانا فضل الرحمن سمیت دیگر سیاسی و مذہبی لیڈروں نے مذمت کی اور شہداء کے بلندی درجات کی دعا کی تھی،

    بلاول کی مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کی حمایت کا اعلان، کہا وفد مولانا کے پاس بھیج رہا ہوں

    حکومت کے گھیراؤ کے لئے مولانا فضل الرحمان نے پھیلائی جھولی

    مولانا کا آزادی مارچ، مولانا متحرک، رابطے، ملاقاتیں شروع

  • عامر خان کی آدھی رات کو والدہ کے ساتھ ملاقات کی وجہ کیا ہے؟

    عامر خان کی آدھی رات کو والدہ کے ساتھ ملاقات کی وجہ کیا ہے؟

    عامر خان فی الحال اپنی فلم کی شوٹنگ میں مصروف ہیں. اداکار کو اپنے کردار کے لئے 20 کلوگرام وزن کم کرنا پڑا ہے جس کے لئے انہیں اپنی غذا کو سخت جانچ کے تحت رکھنا پڑتا ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے جیسے اداکار کو اپنی آدھی رات کی خواہشوں سے نمٹنے میں مشکل وقت گزر رہا ہے۔

    معروف پورٹل میں موصولہ اطلاعات کے مطابق، "عامر نے ایک خاص پروٹین بھاری غذا کھائی ہے جس میں ابلی ہوئی یا پکی ہوئی سبزیاں، سبز ص، دال اور کثیر اناج کی روٹی ہوتی ہے۔ اس غذا میں اتنی سختی ہوئی ہے کہ سپر اسٹار نے ترسنا شروع کردیا۔ چنانچہ کچھ ہفتوں کے دوران وہ اپنی والدہ کے گھر سے آدھی رات کی سیر کر رہے ہیں جو اس کے تیار کردہ کبابوں پر کھڑا ہونا ہے۔ عامر کے کھانے کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی والدہ نے اب غذا کے موافق ویگن کباب بنانا شروع کر دیئے ہیں۔ وہ ان کے ساتھ اپنا فریج اسٹاک کرتی ہیں تاکہ اداکار جب چاہے اپنی مدد کرسکیں۔

    عامر خان کے کام کے بارے میں بات کرتے ہوئے اداکار کو آخری بار "ٹھگس آف ہندوستان” میں دیکھا گیا جس میں امیتابھ بچن، فاطمہ ثنا شیخ، کترینہ کیف کی ہمراہ اداکاری ہوئی ہے۔ فلم چاندی کی اسکرینوں پر اچھی طرح سے کام نہیں کرسکی اور بطور سنجیدگی سامنے آگئی۔ اب ، اداکار کے شائقین بے تابی سے اس کی اگلی سیر کے منتظر ہیں۔