(ادتیہ مینن انڈیا سے تعلق رکھنے والے نوجوان محقق اور صحافی ہیں۔ بھارتی سیاست پر ان کے تجزیات اور ڈیٹا کی بنیاد پر تجزیاتی رپورٹس معروف ویب سائٹ the quintپر شایع ہوتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں جمعیت علمائے ہند قائدین کے آر ایس ایس سے رابطوں اور مودی سرکار سے متعلق ان کے بیانات پر ادتیہ مینن کا ایک مضمون شایع ہوا، باغی ٹی وی کی ٹیم the quint کی مشکور ہے کہ انہوں نے یہ آرٹیکل شائع کیا )
مولانا ارشد مدنی اور مولانا محمود مدنی کی زیر قیادت جمعیت علمائے ہند کے دونوں دھڑوں کی جانب سے حال ہی میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور مودی سرکار سے متعلق مصالحانہ بیانات سامنے آئے ۔
مولانا ارشد مدنی نے حال ہی میں آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک(سربراہ) موہن بھاگوت سے ملاقات کی اور انھیں سراہا۔ ’’دی کوئنٹ‘‘ سے اس ملاقات کے بعد ہونے والی گفتگو کے چند اقتباسات حسب ذیل ہیں:
۔۔۔ ’’بھاگوت جی کی تنظیم (آر ایس ایس) انتہائی منظم ہے۔ میری رائے میں بھارت میں کوئی اور اس جیسا نہیں۔‘‘
۔۔۔’’آرایس ایس اپنے ہندو راشٹر کے تصور سے پیچھے ہٹ سکتی ہے‘‘
۔۔۔۔ ’’اگر آر ایس ایس ہم سے نرمی برتتی ہے تو ہم ایسا کیوں نہ کریں۔‘‘
مولانا محمود مدنی نے بھی آر ایس ایس کے حق میں کئی بیانات دیے اور کشمیر اور نشینل رجسٹر آف سٹیزن شپ(این آر سی) جیسے امور پر مودی سرکار کی حمایت کی۔ ان کے چند بیانات ملاحظہ کیجیے:
۔۔۔’’میرا خیال ہے کہ حالیہ دنوں میں آر ایس ایس نے نرم روی یا آزاد خیالی کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ ایک سنہرا موقع ہے میل جول کی حوصلہ ا فزائی ہونی چاہیے۔‘‘
۔۔۔۔’’این آر سی کی جانچ پڑتال پورے بھارت میں ہونی چاہیے تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہاں کتنے گھس پیٹھیے ہیں‘‘
۔۔۔ کشمیر ہمارا ہے اور ہمارا ہی رہے گا۔ ہم ہندوستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘‘
ان دونوں علما کے بیانات کو مختلف انداز میں دیکھا جاسکتا ہے۔ بعض کے خیال میں یہ بیانات مدنی صاحبان کے مابین جمیعت کی قیادت کے لیے جاری کھینچ تان کا نتیجہ ہے اور اب ان میں سرکاری سرپرستی حاصل کرنے کی دوڑ شروع ہوچکی ہے۔ دونوں ہی کاتعلق جمیعت کے بانی محمود الحسن اور اس کے سابق صدر حسین احمد مدنی کے خاندان سے ہے۔
سینٹر فور دی اسٹڈی آف ڈیولپنگ سوسائٹیز(سی ایس ڈی ایس) کے ہلال احمد کا کہنا ہے کہ جمیعت مسلمانوں کی نمائندگی نہیں کرتی اور وہ اس پر کشمیر اور این آر سی کو فرقہ ورانہ رنگ دینے کا الزام بھی عائد کرتے ہیں۔
مسلمانوں کے خلاف نفرت کی بنیاد پر ہونے والے جرائم(ہیٹ کرائمز) کو دستاویزی شکل دینے والے محمد آصف خان کے مطابق مدنی صاحبان ہندوتوا کے بیانیے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
تاہم مدنی صاحبان کے اس اقدام کو بڑے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے اور بالخصوص یہ دو پہلو بہت اہم ہیں۔ پہلے اسے جمیعت کی نظر سے دیکھنا چاہیے اور دوسرا اسے بھارت میں مسلمانوں کو درپیشن بڑے چیلنجز کے سیاق و سباق میں دیکھا جاسکتا ہے۔
جمیعت کا مؤقف کیا ہے:
جمیعت علمائے ہند اتر پردیش کے علاقے دیوبند میں قائم دارالعلوم کے علما کی نمائندہ تنظیم ہے۔ اگرچہ دیوبندی ہندوستانی مسلمانوں میں اقلیت میں ہیں، اور بعض اندازوں کے مطابق ہندوستانی مسلمانوں کی کل آبادی میں سے تقریبا پندرہ سے بیس فی صد اپنی شناخت بطور دیوبندی کرواتے ہیں، لیکن بریلویوں کے مقابلے میں ان میں زیادہ مرکزیت پائی جاتی ہے۔
اپنی اسی مرکزیت کی وجہ سے جمیعت بھارت میں مساجد کے سب سے بڑے نیٹ ورک پر کنٹرول رکھتی ہے۔ تاریخ طور پر مسلمانوں کی دیگر تنظیموں کے مقابلے میں جمیعت سیاسی جماعتوں اور حکومت میں زیادہ رسوخ رکھتی ہے۔
متحدہ قومیت:
جمیعت کی سیاسی فکر کی بنیاد متحدہ قومیت کے تصور پر ہے جو مولانا حسین احمد مدنی نے ۱۹۳۸میں اپنی کتاب ’’متحدہ قومیت اور اسلام‘‘ میں پیش کیا تھا۔
متحدہ قومیت کا تصور اس عقیدے کی مخالفت میں پیش کیا گیا تھا جس کے مطابق ہندو اور مسلمانوں کو دو الگ قومیتیں قرار دیا جاتا تھا اور مسلم لیگ کے محمد علی جناح جس پر یقین رکھتے تھے۔
متحدہ قومیت کے مطابق مختلف مذاہب کو مختلف اقوام کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔ اس کے بجائے قومیت کا تعلق زمینی حدود سے ہے جس میں مسلم و غیر مسلم ایک قوم کا حصہ ہوسکتے ہیں۔ مسلم اور غیر مسلم کے مابین رنگ، نسل زبان یا ثقافت جیسے مشترکات ہوسکتے ہیں۔
مدینہ کی مثال:
حسین احمد مدنی نے مشترکہ قومیت کی سند کے طور پر پیغمبر کے دور کے مدینہ کی نظیر پیش کی۔ ان کے مطابق ، میثاق مدینہ کے تحت یہود اور مسلمان قومیت کا یکساں احساس رکھتے تھے۔
میثاق مدینہ کی طرح ، جمیعت نے آزادی کے بعد یہ خیال پیش کیا کہ اب ہندوستان کے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے مابین ہندوستان کو ایک سیکیولر ریاست بنانے کا معاہدہ طے پاچکا ہے۔ بھارت کا آئین اس معاہدے کی نمائندگی کرتا ہے اور اس معاہدے میں شامل ہونے کی وجہ سے ہر مسلمان پر آئین کی پاسداری لازم ہے۔
جمیعت یقین رکھتی تھی کہ مسلمانوں کو عبادات اور عائلی و مخصوص قوانین کی پیروی کے لیے مسلم لیگ کے پاکستان کے بجائے کانگریس کے بھارت میں زیادہ سازگار ماحول میسر آئے گا۔ جمیعت کے قائدین مسلم لیگ کی قیادت کو بے عمل مسلمان سمجھتے تھے اور انھیں مسلم قوانین سے متعلق کانگریس سے وسعت ِقلبی کی توقع تھی۔
جمیعت کے متحدہ قومیت کے تصور پر مسلمانوں کا مکمل اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ دیوبند کے علما میں مولانا اشرف علی تھانوی اور مولانا شبیر احمد عثمانی نے اس تصور اور اس کی مدینہ سے تطبیق پر اعتراض کیا اور اسے نصوص کے خلاف قرار دیا۔ بعدازاں شبیر احمد عثمانی نے علیحدہ ہوکر جمیعت علمائے اسلام قائم کرلی اور قیام پاکستان کی حمایت کی۔ حسین احمد مدنی کے متحدہ قومیت کے تصور پر علامہ اقبال اور بانی جماعت اسلامی سید مودودی جیسی شخصیات نے بھی تنقید کی۔
مدنی صاحبان کا ’’عملی‘‘ نقطہ نظر :
مولانا ارشد مدنی اور مولانا محمود مدنی کے آر ایس ایس کے ساتھ رابطے ایک اعتبار سے حسین احمد مدنی کے پیش کردہ متحدہ قومیت کے تصور ہی کا پھیلاؤ ہے۔ انہوں نے اس تصور کی خلاف ورزی بھی کی ہے جس پر آگے چل کر بحث کی جائے گی۔
دونوں صاحبان یہ نتیجہ اخذ کرنےمیں حق بجانب ہیں کہ جب مولانا حسین احمد مدنی نے متحدہ قومیت کا تصور پیش کیا تو اس وقت کانگریس ہندووں کی نمائندہ تھی ، اور آج یہ نمائندگی بی جے پی کے پاس ہے۔ اس لیے ان کے تصور جہاں بینی کے مطابق ہندووں سے کسی بھی قسم کے مکالمے کے لیے وزیر اعظم مودی اور سربراہ آرایس ایس موہن بھاگوت سے بات کرنا ہوگی۔
لوک سبھا کے انتخابات میں کام یابی کے بعد مودی کے نام محمود مدنی کے ستایشی خط اور ارشد مدنی کی موہن بھاگوت سے ملاقات کو اسی سیاق و سباق میں دیکھنا چاہیے۔ جمیعت کے نزدیک کانگریس اور سماج وادی پارٹی جیسی سیکیولر جماعتوں کے ذریعے ہندووں سے بات کرنا بے سود ہوچکا ہے اور اس کے لیے بی جے پی اور آر ایس ایس ہی موثر ثابت ہوسکتی ہیں۔ یہ بلا شبہہ ایک معروضی حقیقت ہے اور اس کا ادراک کرنے پر مدنی صاحبان کو مورد الزام نہیں ٹھیرایا جاسکتا۔
….گومگو کا شکارمسلمان:
مدنی صاحبان کا بی جے پی اور آر ایس ایس کی جانب جھکاؤ دراصل مسلمانوں کی اس گومگو کی کیفیت کا نتجہ ہے جس کی بنیاد یہ سوال ہے کہ ہندووں کی اکثریتی مطلق العنانیت میں اپنی بقا کیسے ممکن بنائی جائے۔
سادہ انداز میں کہا جائے تو آزادی کے بعد ہی سے بھارتی مسلمان سمجھتے تھے کہ ’’سیکیولر ہندو‘‘ کے ذریعے ہی ’’فرقہ پرست ہندو‘‘ کو روکا جاسکتا ہے۔ سیاسی میدان میں اس رائے کا اظہار اس طرح ہوا کہ مسلمانوں نے کانگریس، جنتا دَل اور اس سے ٹوٹنے والی بی ایس پی ، دائین بازو کی جماعتوں جیسی سیکیولر فکررکھنے والی سیاسی پارٹیوں کو ’’مسلمان‘‘ جماعتوں پر ترجیح دی۔
ہندو ووٹرکی اکثریت مودی کے پیچھے چل پڑی اور بی جے پی نے ان سیکیولر جماعتوں کو پچھاڑ دیا۔ اب مسلمان اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کررہے ہیں۔
مسلمانوں میں کئی حلقوں کا خیال ہے کہ بند گلی سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس سے روابط بنائے جائیں۔
مدنی صاحبان اس فکر میں تنہا نہیں۔ مسلم اشرافیہ میں سابق مرکزی وزیر عارف محمود خان، کاروباری شخصیت ظفر سریشوالا، اور ماہر تعلیم فیروز بخت احمد اور ان جیسے دوسرے مسلسل کہتے آ رہے ہیں کہ مسلمان اب بی جے پی کو اچھوت سمجھنا چھوڑ دیں۔ بی جے پی بھی خان کو گورنر اور فیروز احمد اور سریشوالا کو مولانا آزاد نیشنل یونیورسٹی کاچانسلر بنا کر واضح اشارہ دے چکی ہے کہ اسے کیسے مسلمان درکار ہیں۔
عام خیال یہی ہے کہ (بی جے پی کی )حمایت ایشوز کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔
ماہرقانون اور نیشنل اکیڈمی آف لیگل اسٹڈیز اینڈ ریسرچ(نالسر) کے وائس چانسلر فیضان مصطفی نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں لکھا کہ ریزرویشن پر آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے خیالات سبھی کو سننے چاہییں۔
آرٹیکل ۳۷۰کے خاتمے کا وسیع پیمانے پر متعدد مسلمانوں نے خیر مقدم کیا،کہنہ مشق صحافی شاہد صدیقی سے لے کر سوشل میڈیا پر حلقہ اثر رکھنے والے تحسین پوناوالا اور زینب سکندر بھی حکومتی اقدامات کو سراہنے والوں میں شامل ہیں۔ مدنیوں کی طرح یہ حلقے بھارت کے موجودہ حقائق(جس سے مراد بی جے پی اور آر ایس ایس کی بالا دستی ہے) کو عملیت کی نظر سے دیکھنے کے قائل ہیں۔
تاہم یہ مکمل طور پر عملی نکتہ نظر نہیں۔
مدنی صاحبان سے کہاں چوک ہوئی:
باوجو یہ کہ مدنی صاحبان اور مسلم اشرافیہ کے چند لوگ بی جے پی اور آر ایس ایس کو ’’مائل‘‘ کرنے اور مخصوص معاملات میں ان کی حمایت کرنے کی ڈگر پر ہیں ، ان میں سے مؤخر الذکر نے مسلمانوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا ہے۔
مدنی صاحبان متحدہ قومیت کے تصور سے اس لیے منحرف ہوتے نظر آتے ہیں کہ انھوں نے یہ حقیقت فراموش کردی ہے کہ سیکیولر ریاست کے قیام کا معاہدہ دو طرفہ تھا اور صرف مسلمان ہی اس کے پابندنہیں تھے۔
بی جے پی اور ہندوتوا نے باضابطہ طور پر بھارت کو ہندو راشٹر قرار نہیں دیا تاہم ان کے متعدد فیصلوں سے بھارتی ریاست کی سیکیولر حیثیت کمزورپڑ رہی ہے اور یہ فیصلے بھارت کے اپنی اقلیتوں سے کیے گئے عہد کے بھی خلاف ہیں۔ مثال کے طور پر:
۔۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں گزشتہ چند برسوں میں اضافہ ہوا اور بی جے پی کی جانب سے انھیں روکنے کے لیے کوئی قابل ذکر کوشش نہیں کی۔ اس کے برعکس بی جے پی کے لیڈروں نے جھاڑ کھنڈ میں علیم الدین انصاری کے ہجومی قتل میں ملوث افراد کو پھولوں کے ہار پہنائے اور مغربی اتر پردیش میں محمد اخلاق کے قاتلوں کی عزت افزائی کی۔
۔۔شہریت کے قوانین میں ترمیم کے لیے متعارف کردہ بل میں پاکستان، بنگلا دیش اور افغانستان جیسے مسلم اکثریتی ملکوں کے غیر مسلم تارکین وطن کو شہریت دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ ایک امتیازی قانون ہے جس میں مسلمانوں کو بھارتی شہریت کے حق سے محروم رکھا گیا ہے۔
۔۔۔ گئو رکھشا پر بی جے پی اور آر ایس ایس کا بڑھتا ہوا اصرار نہ صرف ہندو عقائد کی بالادستی کے لیے کیا جارہا ہے بلکہ یہ دیگر لوگوں کے کھانے پینے کے انتخاب کی آزادی پر بھی قدغن ہے۔ گئو رکھشا اب اس حد تک پہنچ چکی ہے جہاں ہندووں کی خواہشات پر قانون کی حکمرانی کو قربان کردیا جاتا ہے۔
۔۔۔ عدالت کی جانب سے منسوخی کے باوجود مسلمانوں میں رائج ایک مجلس کی تین طلاق کو جرم قرار دیا گیا۔
۔۔۔ بی جے پی نے انتخابات ممیں اُس پرگیا ٹھاکر کو ٹکٹ دیا جس پر میلاگاؤں دھماکوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے، اس واقعے میں متعدد مسلمان جان سے گئے تھے۔ پرگیا ٹھاکر مہاتما گاندھی کے قاتل ،نتھورام گوڈسے کی تعریف و تحسین بھی کرچکی ہیں۔
۔۔۔ آرٹیکل ۳۷۰کی تنسیخ سے یہ بات واضح ہوگئی کہ بی جے پی اور آر ایس ایس اپنے نظریاتی اہداف کے لیے آئین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ آئین ریاست ہند کے جمیعت کے ساتھ عہد کا مظہر ہے ، اس میں دخل اندازی پر تشویش ہونی چاہیے تھی۔
ان مثالوں سے یہ تو واضح ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس سیکیولرزم کے تحفظ کے لیے فکر مند نہیں۔ ابھی تو ہم نے بی جے پی کے قائدین کے ان بیانات پر بات شروع بھی نہیں کہیں جن میں وہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے پر اکساتے اور ملک کو ہندو راشٹربنانے کے دعوے کرتے ہیں۔ اس کے بعد یکساں شہری قوانین اگلا قدم ہوسکتے ہیں، جو نجی زندگی سے متعلق ضابطوں کی آزادی، جمیعت کے نزدیک جس کی بہت قدر ہے، کے برخلاف ہوں گے۔
آر ایس ایس کو خوش کرنے اور ہندوستان میں اکثریت کی مطلق العنانیت کی راہ ہموار کرنے کے بجائے جمیعت اور مسلم اشرافیہ کو سیکیولرزم اور متحدہ قومیت کے تحفظ کے لیے حکومت کو جوابدہ بنانا چاہیے۔
(ترجمہ رانامحمدآصف)
Author: +9251
-

مدنی صاحبان آر ایس ایس کے معترف کیوں ؟ تحریر بھارتی صحافی ادتیہ مینن
-

خود کو بدلو گے تو بدلے گا پاکستان ، مگر عثمان بزداروزیرکو بدلنے لگے ، یہ ہے تبدیلی اور تبدیلی کی علامت
لاہور: پنجاب کی گڈ گورننس کے بھی عجیب پیمانے اور معیار، وزیراعلیٰ عثمان بزدار پنجاب کی بگڑتی ہوئے صورت حال کا ذمہ دار وزراء کو قرار دیتنے لگے ، پنجاب کے وزرا کو بار بار بدلنے والے عثمان بزدار نے اپنے اپنے آپ کو بدلنے کی ہرگز کوشش نہ کی ،
ذرائع کے مطابق وزیراعلی پنجاب نے کابینہ ارکان کی کارکردگی رپورٹس طلب کر لیں، سردار عثمان بزدار نے غیر تسلی بخش کارکردگی کے حامل وزراء کی وزارتیں فوری تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ کچھ وزراء سے وزارتوں کے قلمدان واپس لیے جانے کا امکان ہے، تین سے چار وزراء کی وزارتوں کو تبدیل کیا جایے گا۔ ایوان وزیراعلیٰ ذرائع کے مطابق وہی ارکان کابینہ کا حصہ رہیں گے جن کی کارکردگی تسلی بخش ہو گی۔مگر عوام پوچھتے ہیں کہ کیا عثمان بزدار کے علاوہ سب نااہل اور نکمے ہیںکہ جنہیں کام کرنا نہیںآتا
-

کراچی کے کتے کنڑول سے باہر ہیں ، میئر کراچی وسیم اخترنے بے بسی کا اظہار کردیا
کراچی: کراچی کے کتے کنٹرول سے باہر ہوگئے ہیں ان خیالات کا اظہار میئر کراچی وسیم اختر نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، وسیم اختر نے کہا کہ کتوں کے خلاف کارروائی کا اختیار ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشن کا ہے، کتوں کی تعداد اتنی ہوگئی ہے کہ کے ایم سی کے کنٹرول سے باہر ہے۔
سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ کتوں کو کچرے کے ڈھیروں سے خوراک ملتی ہے، کتوں کے خلاف کارروائی کا اختیار ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشن کا ہے۔میئر کراچی نے کہا کہ غلطیاں سب سے ہوئیں اب درست کرنے اور آگے بڑھنے کا وقت ہے، صوبے، وفاق قانون سازی، پالیسیاں بناتے ہیں، یہاں الٹا چل رہا ہے۔
-

انتظار ہوا ختم، شان شاہد کی فلم "زرار” کا ٹیزر جاری
شان شاہد نے سماجی رابطوں کی ویبسائٹ ٹویٹر پر اپنے مداحوں کو خشخبری دیتے ہوا کہا کہ اب انتظار ہوا ختم اور اس کے ساتھ ہی اپنی آنے والی فلم کا ٹیزر بھی شیئر کیا.
#zarrar https://t.co/LKxgoSxAKX
— Shaan Shahid (@mshaanshahid) September 19, 2019
شان شاہد کی فلم کا ٹیزر کسی بھی ہالی ووڈ کی پروڈکشن سے کم نہیں. فلم کا ٹیزر جب پاکستان کے سینیئر ڈسٹیبیوٹر, سینما اونر ندیم کو دکھایا گیا تو انہوں نے اس کی بھر پور تعریف کی اور کہا کہ پاکستانی فلموں میں اب دن بدن بہتری آ رہی ہے. فلم میں مداح جس طرح شان کو دیکھنا چاہتے تھے ویسے ہی پیش کیے گئے ہیں.
ندیم نے مزید ٹیزر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت ہی اعلی پروڈکشن ہے. ندیم نے کہا کہ فلم کے لیے دعا ہے کہ کامیاب ثابت ہو. فلم کی محنت رنگ لائے. ٹیزر پر مزید تبصرے بھی شیئر ہوتے رہیں گے.
-

وزیراعلیٰچونیاں پہنچ گئے ، پولیس کارکردگی صفر ، ملزم کی نشاندہی کے لیے 50 لاکھ کا انعام مقرر کردیا ،
چونیاں: وزیراعلیٰچونیاں پہنچ گئے ، پولیس کارکردگی صفر ، ملزم کی نشاندہی کے لیے 50 لاکھ کا انعام مقرر کردیا ، وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ چونیاں میں بچوں کیساتھ بدفعلی اور قتل میں ملوث افراد کو جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔وزیراعلیٰ پنجاب نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی اور واقعے کے حوالے سے اعلیٰ حکام سے بریفنگ بھی لی۔
چھانگا مانگا میںمنعقدہ اجلاس ہوا۔وزیراعلی کو کیس پر ہونے والی پیشرفت سے آگاہ کیا گیا اور جے آئی ٹی کی تحقیقات سے بھی اپ ڈیٹ کیا گیا۔ اس موقع پر سردار عثمان بزدار نے ہدایات جاری کیں کہ مقتول بچوں کے ملزمان کو جلد سے جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے۔ جن درندوں نے ہمارے پھول مسلے ہیں، وہ عبرتناک سزا کے حقدار ہیں۔
چونیاں واقعے سے متعلق وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ آئی جی کو ہدایت کی ہے جو افسر فارغ ہو رہے ہیں، ان کی پوسٹنگ دوبارہ نہیں ہوگی اور اس کیس میں کسی قسم کا دباؤ اور کوتاہی قبول نہیں کی جائے گی۔ ہم جو ایکشن لیں گے وہ سب کو نظر آئے گا۔کب نظر آئے گا یہ نہیںبتایا
ذرائع کےمطابق میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ آج چونیاں میں اظہار افسوس کیلئے حاضر ہوا ہوں۔ واقعے میں ملوث افراد کیخلاف کارروائی ہو رہی ہے، انھیں جلد کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ انہوں نے ملزموں کی اطلاع دینے والے کو 50 لاکھ روپے کا انعام دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔
وزیراعلیٰنے قصور میں بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے قصور کے اندر چائلڈ پروٹیکشن سیل بنانے کا بھی حکم دیا ہے جبکہ چونیاں کو ہم سیف سٹی کے ساتھ منسلک کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات کی روک تھام کیلئے مدد مل سکے۔
-

45 ایسی فلموں پر پابندی جن کا آپ گمان بھی نہیں کر سکتے
طلوع فجر کے بعد, ٹھیک ہے ، سنیما کا آغاز مضحکہ خیز وجوہات کی بناء پر بہت ساری فلموں کو مخصوص ممالک میں دکھائے جانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
سخت قوانین یا متضاد اعتقادات کی بدولت دنیا بھر کے سینسرز – چین ، آئرلینڈ ، لبنان ، جو صرف چند افراد کے نام بتائے ہیں – اس بات کا تعین کرنے کے لئے سخت محنت جاری رکھے ہوئے ہیں کہ آیا سنیما گھروں میں نئی ریلیز نمائش کے قابل ہیں یا نہیں۔
اگرچہ کچھ عنوانات ، بشمول گرافک ہارر فلموں ، ٹیکساس چیناس قتل عام اور دی ہیومن سینٹیپی 2 ، پر واضح وجوہات کی بناء پر پابندی عائد کردی گئی ہے ، لیکن غیر متوقع خصوصیات کی ایک طویل تاریخ ہے۔
کچھ مہینے پہلے اسٹینلے کبرک کی متنازعہ فلم اے کلاک اورنج کی دوبارہ ریلیز ہوئی تھی ، جس نے آسکر میں تصویر کے لئے نامزد کیا تھا خود کو متعدد ممالک (جنوبی افریقہ ، جنوبی کوریا ، وغیرہ) میں پابندی کا مرکز پایا۔
دیکھیے کن فلموں پر بین لگایا گیا..
45 films you never realised were banned https://t.co/Gza7D4geIu
— The Independent (@Independent) September 20, 2019
-

مہنگائی مار گئی ، پنجاب حکومت بھی غریب ہوگئی ، پیسے نہ ہونے کی وجہ سے پانچویں اور آٹھویں کے بورڈ امتحانات ختم
لاہور : تبدیلی والی سرکار کو مہنگائی لے ڈوبی ، پنجاب حکومت کے پاس پیسے ہی نہیںجس سے وہ اپنے صوبے کے طالب علموں کی تعلیمی حالت کو جانچنے کے لیے کوئی اچھا سے امتحان لے لے ، اطلاعات کے مطابق محکمہ سکول ایجوکیشن نے پانچویں اور آٹھویں جماعت کا پیک کے تحت لیا جانے والا امتحان ختم کردیا،
بالآخر ڈینگی پکڑا گیا ، محکمہ صحت نے خوشخبری سنادی ، کہاں سے پکڑا گیا اہم معلومات سامنے آگئیں
ذرائع کے مطابق بورڈ امتحانات نہ ہونے کی وجہ سے اب محکمہ سکول ایجوکیشن نے دو طرح کے ٹیسٹ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، پنجاب ایگزامینشن کمیشن اب بچوں کا صرف اسسمنٹ ٹیسٹ لے گا، ہر سال منتخب اضلاع سے منتخب سکولوں کے بچوں کے ٹیسٹ لیے جائیں گے۔جبکہ دوسرا ٹیسٹ سکولوں میں ہوگا جس میں تمام بچے شرکت کرینگے، سکول کا امتحان پاس کرنے والے بچوں کو سرٹیفکیٹ جاری کیے جائیں گے۔
یاد رہےکہ پرانی پالیسی کے تحت پنجاب ایگزمینشن کمیشن پورے پنجاب کے پرائمری اور مڈل کے امتحان منعقد کرتا تھا، جس میں 26 لاکھ سے زائد بچے شرکت کرتے تھے، دوسری طرف والدین کا کہنا ہے کہ حکومت اگر ہمارے بچوںکے سینٹر یا بورڈ امتحانات لینے کی اہل نہیںتو اسے مستعفی ہوجانا چاہیے


