Baaghi TV

Author: +9251

  • 1993ء کے بعد کتنے فلسطینی گرفتار ہوئے…. لرزہ خیز رپورٹ آگئی

    1993ء کے بعد کتنے فلسطینی گرفتار ہوئے…. لرزہ خیز رپورٹ آگئی

    1993ء سے لے کر اب تک ایک لاکھ 20ہزار فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا۔

    اگست میں کتنے فلسطینی گرفتار ہوئے …. رپورٹ آگئی

    مرکز اطلاعات فلسطین کی رپورٹ کے مطابق 13 اکتوبر 1993ءکو فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا جسے ‘اوسلو’ سمجھوتے کا نام دیا گیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق سنہ 1993ءمیں طے پائے گئے اس معاہدے کے بعد سے اب تک اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ایک لاکھ 20 ہزار فلسطینی گرفتار ہو چکے ہیں۔

    ایک ویب سائٹ ‘فلسطینی زندانوں کے پیچھے’ پر شائع رپورٹ میں نے بتایا کہ سنہ 1993 کے اوسلو سمجھوتے کے بعد قابض صہیونی ریاست کی طرف سے توہین اور تذلیل میں مزیدا ضافہ ہوا۔ صہیونی دشمن کے انتقامی حربوں اور بلیک میلنگ میں کئی گنا اضافہ ہوا۔

    فلسطینی تجزیہ نگار عبدالناصر فروانہ کے بقول 1993ء کو طے پائے سمجھوتے کے بعد فلسطینیوں کی گرفتاریوں میں کا سلسلہ روز انہ کی بنیاد پر جاری رہا۔ اس دوران اب تک ایک لاکھ 20 ہزار فلسطینیوں کوحراست میں لیا گیا۔

    فروانہ نے کہا کہ 1993ء سے 2000ءتک فلسطینیوں کی گرفتاریوں میں تھوڑی کمی آئی تاہم 2000ء میں شروع ہونے والی تحریک انتفاضہ کے بعد فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی ریاست کا وحشیانہ کریک ڈاﺅن شروع ہوا۔

    اوسلومعاہدے کے بعد دو ہزار خواتین اور 17500 بچوں کو حراست میں لیا گیا۔ اس عرصے میں اسرائیلی جیلوں میں اسرائیلی فوج کے تشدد سے 107 فلسطینی جام شہادت نوش کرگئے۔ رواں ماہ 8 فلسطینی اسرائیلی عقوبت خانوں میں شہید ہوئے۔

    خیال رہے کہ اسرائیل کے دو درجن حراستی مراکز میں 5700 فلسطینی قید ہیں۔ ان میں 220 بچے، 38 خواتین اور 500 انتظامی قیدی ہیں۔

  • پاکستان کے پہلے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ،سابق گورنر مشرقی پاکستان

    پاکستان کے پہلے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ،سابق گورنر مشرقی پاکستان

    لیفٹیننٹ جنرل (ر) اعظم خان کی وفات
    13 ستمبر 1994ء کو پاکستان کے پہلے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور مشرقی پاکستان کے سابق گورنر لیفٹیننٹ جنرل (ر) اعظم خان لاہور میں وفات پاگئے۔
    لیفٹیننٹ جنرل (ر) اعظم خان 1910ء میں متھرا ضلع پشاور میں پیدا ہوئے تھے۔ 1929ء میں انہیں انڈین آرمی میں کمیشن ملا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران انہوں نے برما کے محاذ پر خدمات انجام دیں۔
    قیام پاکستان کے بعد 1950ء میں انہیں میجر جنرل بنایا گیا۔
    1953ء میں جب لاہور میں احمدیوں کے خلاف تحریک پر قابو پانے کے لئے مارشل لاء لگایاگیا تو وہ پاکستان کے پہلے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے عہدے پر فائز ہوئے۔
    اکتوبر 1958ء میں صدر ایوب خان کے مارشل لاء کے زمانے میں انہوں نے سینئر وزیر اور پھر وزیر مہاجرین و بحالیات کے عہدے پر خدمات انجام دیں۔ 1960ء سے 1962ء کے دوران وہ مشرقی پاکستان کے گورنر رہے اور اپنی عوامی خدمات کے باعث عوام میں ایک ہر دلعزیز شخصیت کی حیثیت حاصل کی۔ جنرل اعظم خان نے بعدازاں عملی سیاست میں بھی حصہ لیا مگر اپنی شفاف شخصیت کے باعث اس شعبے میں کوئی خاص کامیابی حاصل نہ کرسکے۔۔!!!

  • لہری ،معروف پاکستانی مزاحیہ اداکار

    لہری ،معروف پاکستانی مزاحیہ اداکار

    لہری کی وفات ۔۔!!
    معروف پاکستانی مزاحیہ اداکار۔ اصل نام سفیر اللہ صدیقی،2 جنورری 1929 میں پیدا ہوئے۔ اپنے فلمی کیریئر کا آغاز پچاس کی دہائی میں بلیک اینڈ وائٹ فلموں سے کیا۔
    منور ظریف، نذر اور آصف جاہ کے بعد لہری کے لیے فلم انڈسٹری میں اپنے لیے جگہ بنانا کسی معرکے سے کم نہ تھا۔ لہری سے پہلے اداکار یعقوب بہترین مزاحیہ اداکار کہلاتے تھے مگر لہری نے اپنی محنت اور کام کی لگن سے یعقوب کو بہت پیچھے چھوڑدیا-
    وہ تقسیم ہند سے قبل بھارت میں پیداہوئے تاہم تقسیم کے فوراًبعد پاکستان ہجرت کرکے کراچی میں آبسے۔ انہوں نے پاکستان آکر پہلی ملازمت اسٹینو ٹائپسٹ کی حیثیت سے کی۔ دن بھر ڈیوٹی انجام دینے کے بعد شام کے اوقات میں وہ صدر میں ہوزری کا سامان فروخت کرنے لگے۔ انہیں اداکاری کا شوق تھا مگر اس شوق کو جلا بخشنے کے لیے انہیں درست سمت نہیں مل رہی تھی۔
    کیرئر کا آغاز
    لہری نے فن کی دنیا میں پہلا قدم اسلامیہ کالج میں ایک فنکشن میں ‘مریض عشق’ کے نام ایک ڈرامے میں پرفامنس دے کر کیا جس میں ان کو بے انتہا پزیرائی ملی اپنی اس شاندار کارگردگی سفیر اللہ ہو گئے خوش فہمی کا شکار اور پہنچ گئے ریڈیو پاکستان پر ریڈیو پاکستان کے پہلے آڈیشن میں فیل قرار دے دیا گیا لیکن باہمت اور محنتی انسان نے ہمت نہیں ہاری اور انتھک محنت کے بعد آخر قسمت کی دیوی ان پر مہربان ہو گئی ۔ 1955ء میں لچھو سیٹھ (شیخ لطیف فلم ایکسچینج والے) نے ایک فلم ‘انوکھی’ بنانے کا اعلان کیا جس میں ہیروئن کا کردار ادا کرنے کے لیے ان کی بھانجی شیلا رمانی بھارت سے پاکستان تشریف لائیں اس طرح سفیر اللہ کو اس فلم میں اپنی خداد داد صلاحیتوں کو پردہٴ سیمیں پر پیش کرنے کا موقع ملا اور ان کی یہ پہلی فلم 1956ء کے اوائل میں نمائش کے لیے پیش کردی گئی۔
    عروج

    ان کی پہلی فلم ’انوکھی‘ تھی جو سنہ 1956 میں ریلیز ہوئی۔ ان کی آخری فلم ’دھنک‘ تھی جو سنہ 1986 میں بنی تھی۔ ان کا فلمی کیریئر تیس سال پر محیط ہے اور ایک اندازے کے مطابق انھوں نے 220 فلموں میں کام کیا جن میں تین پنجابی فلموں کے علاوہ باقی سب اردو فلمیں تھیں۔ سفیر اللہ لہری کو سنہ 1964 سے 1986 تک کا بہترین مزاحیہ قرار دیتے ہوئے نگار ایوارڈ سے نوازا گیا۔
    کا رہائے نمایاں
    فلمیں

    انوکھی (1956)
    انسان بدلتا ہے ,
    رات کے راہی،
    فیصلہ، جوکر،
    کون کسی کا، آگ،
    توبہ،
    پیغام، (1964 ایوارڈ یافتہ)
    کنیز، (1965 ایوارڈ یافتہ)
    جیسے جانتے نہیں،
    دوسری ماں،
    اِک نگینہ،
    اِک مسافراِک حسینہ،
    چھوٹی امی،
    میں وہ نہیں(1967 ایوارڈ یافتہ)
    تم ملے پیار ملا،
    صاعقہ (1968 ایوارڈ یافتہ)
    بہادر،
    نوکری،
    بہاریں پھر بھی آئیں گی،
    افشاں،
    رم جھم،
    بالم،
    جلتے سورج کے نیچے،
    پھول میرے گلشن کا،
    انجان،
    پرنس،
    ضمیر،
    آنچ،
    صائمہ، (1985 ایوارڈ یافتہ)
    دل لگی، (1972 ایوارڈ یافتہ)
    آگ کا دریا،
    ہمراز،
    دیور بھابھی،
    داغ،
    نئی لیلیٰ نیا مجنوں، (1969 ایوارڈ یافتہ)
    بندھن،
    آج اور کل (1976 ایوارڈ یافتہ)
    تہذیب،
    دلہن رانی،
    زبیدہ،
    زنجیر،
    نیا انداز، (1979 ایوارڈ یافتہ)
    موم کی گڑیا،
    جلے نہ کیوں پروانہ،
    گھرہستی،
    رسوائی،
    بدل گیا انسان،
    انجمن (1970 ایوارڈ یافتہ)
    اپنا پرایا،
    دو باغی،
    سوسائٹی،
    انہونی،
    ننھا فرشتہ،
    ایثار،
    دامن،
    آنچل،
    بیوی ہو تو ایسی (1986 ایوارڈ یافتہ)
    دھنک 1986

    مزید فہرست مظہر میگزین۔ لہری
    ڈرامے

    آنگن ٹیڑھا
    یس سر نو سر (اسٹیج پلے)

    اعزازات

    وہ واحد مزاحیہ اداکار تھے جہنوں نے 12 مرتبہ اپنی منفرد اداکاری پر نگار ایوارڈز حاصل کیے اور حکومت پاکستان نے ان کی اس خدمات پر 1996 میں حسین کارگردگی کے ایوارڈ سے نوازا۔[3] ان کے نگار ایوارڈ حاصل کرنے والی فلمیں درج ذیل ہيں :

    پیغام، (1964)
    کنیز، (1965)
    میں وہ نہیں(1967)
    صاعقہ (1968)
    نئی لیلیٰ نیا مجنوں، (1969)
    انجمن (1970)
    دل لگی، (1972)
    آج اور کل (1976)
    نیا انداز، (1979)
    صائمہ، (1985)
    بیوی ہو تو ایسی (1986)

    تاثرات وتبصرے

    لہری برصغیر کی فلمی دنیا اپنی طرز کے منفرد اداکار تھے۔ ان کے بعد فلمی دنیا، ٹی وی اور سٹیج میں مزاح سے وابستہ ہونے والے تمام لوگ ان کی ہنرمندی اور بڑائی کے قائل ہیں اور ان میں سے بیشتر سمجھتے ہیں کہ لہری ایک ایسے اداکار تھے جنھوں نے نہ صرف فلمی دنیا میں اپنے لیے جگہ بنائی بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی مزاح کا ایک نیا راستہ دکھایا۔
    خوبی

    لہری کی خاص بات ان کے ڈائیلاگز تھے۔ جس انداز سے وہ بولتے وہی ان کی پہچان بنا۔۔ ان کی بذلہ سنجی کا کمال دیکھیے کہ بیمار ہوں یاپریشان کبھی شکن نہ آئی ماتھے پر۔۔ لہری نے ہمیشہ ایسی کامیڈی کی جس پر شائقین ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہوجائیں۔۔۔۔ لیکن ان کے جملوں پر کوئی ناراض نہیں ہوا۔۔۔ لہری کو بارہ نگار ایوارڈز اور فلم انڈسٹری کی جانب سے خصوصی ایوارڈز سے نوازا گیا۔۔

    لہری برصغیر کی فلمی دنیا اپنی طرز کے منفرد اداکار تھے۔ ان کے مزاح کی خاص بات ان کے برجستہ جملے ہوتے تھے اور وہ کبھی مزاح کے لیے جسمانی حرکتوں سے کام نہیں لیتے تھے۔ ان کے اس انداز کے پیرو کاروں میں معین اختر مرحوم سرفہرست ہیں اور پاکستان کے حیات مزاح کاروں میں انور مقصود نے بھی انھی کے انداز کو کمال دیا۔
    ہم عصروں کی نظر میں
    شبنم اور رابن گھوش

    اداکارہ شبنم اپنے شوہر روبن گھوش کے ساتھ 2012 میں پاکستان کے دورے پر آئیں تو خاص طور پر لہری کی عیادت کے لیے گئیں۔ ایک تقریب میں شبنم نے لہری کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا ’ہمارے (شبنم اور روبن گھوش) پاکستان کے تمام ہی اداکاروں سے ایسے مراسم ہیں جیسے وہ ہمارے خاندان ہی کے رکن ہوں لیکن لہری ان لوگوں میں سے ہیں جن کا میں بے حد احترام کرتی ہوں، صرف اس لیے نہیں کہ وہ برِ صغیر کے ایک بڑے اداکار ہیں بلکہ اس لیے بھی کہ وہ ایک انتہائی اچھے انسان ہیں۔‘
    نئے فنکاروں کی نظر میں
    شکیل صدیقی

    اداکار شکیل صدیقی نے کہا کہ اداکار لہری ہمارے طنز و مزاح کے شعبے کے وہ درخشاں ستارے تھے جس کی روشنی میں مجھ سمیت دیگر فنکاروں نے اپنا فنی سفر شروع کیا، وہ ہمارے لیے درخشاں مثال تھے۔
    کاشف خان

    اداکار کاشف خان نے کہا کہ میں تو ان ہی کے حوالے سے پہچانا جاتا ہوں، میں نے کامیڈی کا انداز لہری سے سیکھا اور ان ہی کی طرز پر میں ملک اور بیرون ملک پرفار م کرتاہوں، لہری پاکستان فلم انڈسٹری کے لیجینڈ کامیڈین تھے، خدا ان پر رحمتیں نچھاور کرے۔
    بذلہ سنجی

    خود داری کے ساتھ ساتھ لہری کا فن ظرافت بھی ابھی زندہ ہے۔ کراچی میں آخری ایام میں میڈیا کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران بھی جہاں انہوں نے اپنے اوپر گزرنے والی تکالیف کا ذکر کیا وہیں اپنے مخصوص فن کو وہ فراموش نہ کرسکے۔ ان کا کہنا تھا "میں ڈھائی کمرے کے فلیٹ میں مقیم ہوں اور کے ای ایس سی نے اسی فلیٹ کا بل 36500روپے بھیجا ہے۔ جب میرے بچوں نے مجھے بل دکھایا تو میں نے سوچا شاید کسی کا فون نمبر لکھا ہے لیکن وہ مجھ پر واجب الادا رقم تھی۔ یہ مجھ پر ڈینگی وائرس سے بڑا حملہ ہے۔ اس قدر بڑی رقم دیکھ کر میں پریشان ہوں کہ اب کس طرح گزارہ ہو گا”۔
    آخری ایام

    ان کا آخری ایوارڈ نگار ایوارڈ تھا جو 1993ء میں ان کی فلمی خدمات کے اعتراف کے طور پر دیا گیا۔ لہری پر سب سے پہلے 1985ء میں بنکاک میں فلم کی شوٹنگ کے دوران فالج کا اٹیک ہوا، پھر قوت بینائی میں کمی آنے لگی، اس طرح وہ فلمی دنیا سے آہستہ آہستہ کنارہ کش ہوتے چلے گئے۔ طویل ترین بیماریوں نے لہری کو نہایت کمزور کر دیا ہے۔ وہ فالج کے مرض میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ ذیابیطیس کے بھی مریض ہیں۔ پہلے بھی کئی مرتبہ اسپتالوں میں انگنت دن گزار چکے ہیں۔ ذیابیطس کے مرض میں ہی ان کی ایک ٹانگ کاٹنا پڑی۔ ان کی زندگی کے آخری ایام میں اداکار معین اختر نے ان کی بڑی دیکھ بھال کی۔ انتقال سے پہلے عید الفطر کے دوسرے روز سے کراچی کے نجی اسپتال میں زیر علاج تھے جہاں انہیں پھیپھڑ وں میں پانی بھر جانے کے باعث لایا گیا تھا تاہم ان کی حالت زیادہ خراب ہونے پر انہیں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

    13 ستمبر 2012 میں طویل علالت کے بعد ان کا انتقال ہوا۔ لہری نے پسماندگان میں پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں سوگوار چھوڑی ہیں۔۔!!!

  • حق واپسی ریلیوں پر اسرائیلی فائرنگ، 55 فلسطینی زخمی

    حق واپسی ریلیوں پر اسرائیلی فائرنگ، 55 فلسطینی زخمی

    فلسطینی علاقے غزہ میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں کم سے کم 55 فلسطینی مظاہرین زخمی ہوگئے۔

    اسرائیلی فوج کی احتجاجی ریلی پر فائرنگ، درجنوں فلسطینی زخمی

    مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ میں ہونے والی حق واپسی ریلیوں پر اسرائیلی فوج نے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جس کے نتیجے میں کم سے کم 55 فلسطینی زخمی ہوگئے۔ 29 فلسطینی براہ راست گولیاں لگنے جب کہ دیگر شہری آنسوگیس کی شیلنگ سے زخمی ہوئے۔
    ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے پر امن فلسیطنیوں پر مشین گنوں سے شیلنگ کی جس کے نتیجے میں متعدد فلسطینی زخمی ہوگئے۔زخمیوں میں سے بعض کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ ہر جمعہ کو غزہ میں مختلف مقامات پر حق واپسی ریلیاں نکالی جاتی ہیں۔ فلسطینی مظاہرین کی حق واپسی تحریک 30 مارچ 2018ءسے جاری ہے۔ اس تحریک کے آغاز سے اب تک 300سے زائد فلسطینی شہید جبکہ 31000 سے زاید زخمی ہو چکے ہیں۔

  • 70ہزار سے زائد جاپانی 100 سال کی عمر کو پارکرگئے، ہیروشیما اور ناگاساکی کے مناظردیکھنے والے بھی موجود ہیں

    70ہزار سے زائد جاپانی 100 سال کی عمر کو پارکرگئے، ہیروشیما اور ناگاساکی کے مناظردیکھنے والے بھی موجود ہیں

    ٹوکیو: 70ہزار سے زائد جاپانی 100 سال کی عمر کو پارکرگئے ۔اس ایشیائی ملک میں شرح پیدائش انتہائی کم ہے جبکہ گزشتہ 49 سال کے دوران یہاں بڑی عمر کے افراد میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر یہی سلسلہ رہا تو یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے،

    جاپان میں عمروں کا تعین کرنے والے ادارے کے مطابق اس وقت جاپان میں عمر کی سنچری مکمل کرنے میں خواتین مردوں سے کہیں آگے ہیں۔ کُل 71238 افراد میں سے 88.1 فیصد خواتین اپنی زندگی کی 100 یا اس سے زائد بہاریں دیکھ چکی ہیں۔

    وزارت صحت کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق سو سالہ افراد کی تعداد 1989 کے مقابلے میں 23 گنا بڑھ چکی ہے۔جاپان میں 100 سال سے زیادہ عمر کی خواتین کی کل تعداد اس اتوار کو 62775 ہو جائے گی جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 1321 افراد زیادہ ہے۔

    دوسری طرف 100 سال سے زائد عمر کی ایک خاتون کے بارے میں بھی یہ رپورٹ ائی ہےکہ جاپان کے شہر فوکواوکا کی رہائشی کین تاناکا جو کہ 116 سال کی عمر رکھتی ہیں جاپان کی معمر ترین خاتون ہیں۔ کین تاناکا گینز بُک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق دنیا کی معمر ترین زندہ شخصیت ہیں۔چیٹیٹسُو واٹانابی جاپان کے معمر ترین زندہ مرد ہیں، ان کی عمر 112 سال ہے۔

  • ٹرک مالک کا کتنا چالان ہوا؟ جان کر ہوش اڑ جائیں۔

    ٹرک مالک کا کتنا چالان ہوا؟ جان کر ہوش اڑ جائیں۔

    بھارت میں یکم ستمبر 2019 سے لاگو نئے موٹر وہیکل ایکٹ کے بعد سے چالان کی رقم سن کر لوگوں کے ہوش اڑ جاتے ہیں۔نئے ایکٹ کے تحت ٹریفک کی خلاف ورزی کرنے والوں پر بھاری جرمانہ عائد کیا جا رہا ہے۔ اڈیشہ کے سمبل پور میں ٹریفک ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے پر ٹرک مالک کاساڑھے چھ لاکھ روپے کا چالان کاٹا گیا ہے۔ ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ نے سات ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے کے لئے ٹرک مالک کو چھ لاکھ ترپن ہزار ایک سو روپے کے چالان کی رسید تھما دی ہے۔

    ’بھگوان رام‘ کا بھی چالان ہو گیا

    بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ٹرک کے مالک شیلیش شنکر لال گپتا گزشتہ 5 سال سے ٹیکس ادا نہیں کر رہے تھے، اس کے ساتھ ساتھ ٹریفک قوانین کی بھی خلاف ورزی جاری تھی۔ محکمہ ٹرانسپورٹ نے کئی ٹریفک ضابطوں کی خلاف ورزی کے تحت مجموعی طور پر 6 لاکھ 53 ہزار 100 روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے سب سے مہنگا چالان بھگوان رام نامی شخص کا دہلی میں ہوا تھا ۔بھگوان رام نے 1.41لاکھ روپے کا جرمانہ کورٹ میں جمع کروا یا تھا۔ اسی طرح ایک چالان 86 ہزار روپے کاتھا اور یہ چالان دہلی کے ایک ٹرک ڈرائیور کو اوور لوڈنگ کے جرم میں ہریانہ میں کیا گیا تھا۔

  • اساتذہ کے تبادلوں کے لیے 61 دن  مختص

    اساتذہ کے تبادلوں کے لیے 61 دن مختص

    لاہور: تعلیمی معیار بہتر بنانے کی طرف رواں دواں پنجاب کا محکمہ تعلیم، ہر روز نئے فیصلے نئے احکامات مگر صورت حال جوں کی توں ، اطلاعات کے مطابق محکمہ سکول ایجوکیشن نے اساتذہ کے تبادلوں کے حوالے سے نئی پالیسی جاری کردی ،ہر سال یکم جون سے 31 جولائی تک اساتذہ کے تبادلوں سے پابندی اٹھا لی جائے گی۔

    محکمہ سکول ایجوکیشن کے مطابق نئی پالیسی کے مطابق ہر سال اساتذہ کے تبادلے کیے جائیں گے، ہر سال یکم جون سے 31 جولائی تک اساتذہ کے تبادلوں سے پابندی اٹھا لی جائے گی۔

    محکمہ سکول ایجوکیشن ذرائع کے مطابق اب پنجاب میں اساتذہ کے تبادلے آن لائن ہی ہونگے، محکمہ سکول ایجوکیشن کے مطابق کنٹریکٹ اساتذہ بھی تبادلوں سے فائدہ اٹھا سکیں گے، محکمہ سکول ایجوکیشن نے نئی پالیسی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا۔

  • پنجاب حکومت کی ترجمان کے لیے قرعہ عائشہ نذیر جٹ کے نام نکل آیا ، اس کےبعد کون ہوگا ترجمان پنجاب حکومت ، نئی بحث چھڑ گئی

    پنجاب حکومت کی ترجمان کے لیے قرعہ عائشہ نذیر جٹ کے نام نکل آیا ، اس کےبعد کون ہوگا ترجمان پنجاب حکومت ، نئی بحث چھڑ گئی

    ·لاہور : عائشہ نذیرجٹ پنجاب حکومت کی نئی ترجمان ، کیا یہ آخری ترجمان ہوں گی یا اس کے بعد کئی اور بھی ترجمان آزمائے جائیں گے ، بہر کیف اطلاعات یہی ہیں کہ وہاڑی سے پی ٹی آئی کی شکست خوردہ پارٹی رکن عائشہ نذیر جٹ کو ترجمان مقرر کردیا گیا ہے ،

    باغی ٹی وی کے مطابق عائشہ نذیر جٹ کی بحثیت ترجمان پنجاب حکومت میں‌ پی ٹی آئی کے ماہر حکومت ساز جہانگیر ترین کا بڑا کردار ہے، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ عائشہ نذیر جٹ کی سلیکشن وزیراعظم کو اعتماد لے کر گئی ہے ، لیکن دوسری طرف ناراض حلقے مزید ناراض دکھائی دیتے ہیں،

  • ایس ایچ او حاضر ہوں، ڈی پی او نے احکامات صادر کر دیے

    ایس ایچ او حاضر ہوں، ڈی پی او نے احکامات صادر کر دیے

    سرگودہا(نمائندہ باغی ٹی وی )ڈی پی او حسن مشتاق سکھیرا نے دونئے ایس ایچ اوز اور ایک انوسٹی گیشن آفیسرتعینات جبکہ تین ایس ایچ او کو لائن حاضر کر نے کے احکامات صادر کر دیئے۔ تفصیلات کے مطابق انسپکٹر ارشد گوندل کو پولیس لائن سے ایس ایچ او تھانہ لکسیاں، انسپکٹر قیصر الہی کو پولیس لائن سے ایس ایچ او تھانہ سٹیلائٹ ٹاؤن، انسپکٹر حاجی خان کو پولیس لائن سے انچارج انوسٹی گیشن تھانہ صدرتعینات کر دیا گیاہے جبکہ ایس ایچ او تھانہ سٹیلائٹ ٹاون انسپکٹر شہزاد فیض،ایس ایچ او تھانہ لکسیاں انسپکٹر عبدالقیوم اور ایس ایچ او تھانہ صدر انسپکٹر خدا بخش کو پولیس لائن رپورٹ کرنے کا حکم دیا ہے۔

  • شجاع آباد  تھانہ صدر پولیس کی بڑی کاروائی  بین الاضلاعی ڈکیت گینگ گرفتار کر لیا گیا

    شجاع آباد تھانہ صدر پولیس کی بڑی کاروائی بین الاضلاعی ڈکیت گینگ گرفتار کر لیا گیا

    شجاع آباد(نمائندہ باغی ٹی وی ) تھانہ صدر پولیس کی بڑ ی کاروائی بین الاضلاعی ڈکیت گینگ گرفتار کر لیا گیا تفصیلات کے مطابق تھانہ صدر پولیس نے ایک دبنگ کاروائی کرتے ہوئے بین الاضلاعی ڈکیت گینگ گرفتار کر لیا ہے ملزمان سے اسلحہ برآمد کرلیا گیا اور درجنوں ڈکیتی کی وارداتوں کا انکشاف بھی ہوا ہے ایس ایچ او تھانہ صدر عدنان ٹیپو نے ڈکیتی کی واردات کو ناکام بناتے ہوئے ڈکیت گینگ کو گرفتار کیا ایس ایچ او تھانہ صدر عدنان ٹیپو نے میڈیا سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کے تھانہ صدر پولیس نے ڈکیتی کی واردات کو ناکام بناتے ہوئے بین الاضلاعی گینگ جاوید عرف کوڑا گینگ کے تین ارکان کو گرفتار کیا ہے ۔ ملزمان نے 25 وارداتوں کا اعتراف بھی کرلیا ہے ملزمان تھانہ سٹی شجاع آباد ، تھانہ صدر شجاع آباد،ملتان ،بہاول پور اور لودھراں کے متعدد علاقوں میں ڈکیتی اور راہزنی کی وارداتوں میں مطلوب تھے اور اب قانونی تقاضوں کے مطابق ملزمان کو شناختی پریڈ کے لئے ملتان بھیجا جا رہا ہے ملزمان کا ریمانڈ حاصل کرکے ان سے مزید تفتیش اوربرآمدگی کی جائے گی۔ رانا اظہر منیر نمائندہ باغی ٹی وی ملتان شجاع آباد