Baaghi TV

Author: +9251

  • پی ٹی ایم اور پاکستان کا خون — تحریرعرفان مہمند

    پی ٹی ایم اور پاکستان کا خون — تحریرعرفان مہمند

    پی ٹی ایم جس کا خمیر محسود تحفظ موومنٹ سے اٹھا، اس تحریک نے بہت سے پشتون نوجوانوں کو ایک ایسے خواب کی تعبیر کا مژدہ سنایا جس کو لئیے پشتون قوم کے نوجوان، بڑے و بوڑھے کئی سالوں سے ریاست کی طرف آس لگائے دیکھ رہے تھے۔ خواب تھا امن کا، ترقی کا، ریاست سے اس بات کا وعدہ لینے کا جس میں پشتون علاقوں سے دہشتگردوں اور دہشت گردی کا خاتمہ ہو اور وہاں امن، سکون، تعمیر، ترقی، خوشحالی، کاروبار، تعلیم و صحت جیسے معاملات پنپ سکیں۔

    بہت تیزی سے بہت سے نوجوان اور ہر مکتبہ فکر کے لوگوں نےاس تحریک کے لئیے وقت دینا شروع کیا مگر چند ہی ہفتوں میں جب تحریک کے اکابرین نے اپنے آگے پیچھے لوگوں کا جم غفیر دیکھا تو وہ شاید اپنے اصلی ایجنڈا کو زیادہ دیر چھپا نہ سکے اور ان کے پروگرام اور جلسے "یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی’ ہے جیسے واہیات نعروں سے گونج اٹھے۔
    اس کے بعد ریاست پاکستان اور اس کی افواج کے خلاف ہر وقت اور ہر موقع پر لوگوں کو اشتعال دلایا گیا۔ بین الاقوامی میڈیا نے بھی اس بات کو خوب خوب اچھالا۔

    کبھی منظور پشتین کا جلسے سے خطاب جس میں وہ GHQ کو دہشت گردوں کا گڑھ کہتا ہے اور کبھی اس کا بیان جس میں وہ قائد و اقبال پر تبرا کرتا اور مذاق اڑاتا ہے.کبھی علی وزیر کی بیان جس میں وہ فوج اور عوم کے تصادم کی بات کرتا ہے اور کبھی کہیں وہ فوج کو مارنے اور گھسیٹنے کی بات کرتا ہے۔ کہیں آزاد پشتونستان کی بازگشت سنائی دیتی ہے اور کہیں فوج کو قابض کہنے کے ساتھ ساتھ ہر طرح کی گالی دی جاتی ہے۔ کہیں پنجابی کو نسل پرستانہ جملوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور کہیں لوگوں کو چیک پوسٹ پر حملہ کرنے پر ابھارا جاتا ہے تاکہ وہ پکڑے گئے دہشت گردوں کو چھڑوا سکیں۔

    کہیں پر یہ دھمکی دی جاتی ہے کہ فوج نکل جائے ورنہ ہم خود نبٹ لیں گے فوج سے۔۔۔ اور کہیں دہشت گردوں کی آمد کو روکنے کے لئیے لگائی جانے والی باڑ کو روکنے کے لئیے آوازیں اٹھائی جاتی ہیں۔ کہیں ایک معصوم بچی کی لاش پر سیاست کی جاتی ہے اور کہیں ایک مظلوم باپ کی فریاد رسی کو مذاق اور گالم گلوچ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ غرض ہر وہ کام اور معاملہ روا رکھا گیا جس نے امن اور خوشحالی کے خواب کو ریاست سے ٹکراؤ اور خون ریزی کے عمل سے بدل دیا۔ اور اب کل رات شمالی وزیرستان کے علاقے سپین واگ میں دو فوجی اہلکاروں کی پی ٹی ایم کے ہی سپورٹرز کے ہاتھوں شہادت اس بات کی غماز ہے کہ پی ٹی ایم اب ہر وہ حد عبور کرنے کے لئیے تیار ہے جس کے ذریعے وہ لوگوں کے خون کو حلال کروا کر اپنے مقاصد پورے کر سکے۔

    منظور پشتین ہو یا علی وزیر یا محسن داوڑ، عبداللہ ننگیال ہو یا احتشام افغان، ادریس پشتین ہو یا ندیم عسکر، فوزیہ ہو یا ثنا اعجاز اور عائشہ گلا لئی سب کے سب کا چہرہ ایک ایک کر کے بے نقاب ہوا چاہتا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ ریاست ان بھیڑ کی کھال مین چھپے بھیڑیوں سے اس خطے کو نجات دلائے ۔ پشتون اس وقت تک امن اور چین کی بانسری نہیں بجا سکتے جب تک اس طرح کے عناصر کو کیفر کردار تک نہ پہنچایا جائے۔ پی ٹی ایم کو خون کی لت بہت پہلے سے لگ گئی تھی مگر اب پی ٹی ایم نے کھل کر اس کو بہانا بھی شروع کر دیا ہے۔ اس خون آشام بھیڑئیے کو ایک بلا بننے سے پہلے ہی نبٹ لینا چاہئیے۔۔ورنہ شاید پشتونوں کی ایک اگلی پوری نسل کو دہشت گردوں کے ایک نئے گروہ سے نبٹنا پڑ جائے گا۔
    از قلم عرفان مہمند

  • ضلعی انتظامیہ کی طرف سے عوامی مسائل حل کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی

    ضلعی انتظامیہ کی طرف سے عوامی مسائل حل کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی

    رحیم یار خان( )ڈپٹی کمشنر جمیل احمد جمیل نے کہا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے عوامی مسائل حل کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی۔اس سلسلے میں عوامی شکایات براہ راست سن کر ان کے حل کے لئے محکمانہ اقدامات کئے جا رہے ہیں۔انہوں نے اپنے دفتر میں کھلی کچہری کے دوران شہریوں کے مسائل سنتے ہوئے مزید کہا کہ ہر شعبہ زندگی میں شہریوں کو ریلیف کی فراہمی اولین ترجیح ہے جس کے لئے ضلع کی سطح پر مختلف محکموں کی سروسز کے معیار میں بھی بہتری لائی جا رہی ہے۔

  • فضائی میزبان/ ائیر ہوسٹس ، تحریر محمد فہد شیروانی

    فضائی میزبان/ ائیر ہوسٹس ، تحریر محمد فہد شیروانی

    دنیا کے سب سے پہلے فضائی میزبان ہونے کا اعزاز جرمنی سے تعلق رکھنے والے "Heinrich Kubis” کو حاصل ہے۔ ہینرچ کو یہ اعزاز مارچ 1912 میں حاصل ہوا جب اس نے جرمن ایئرلائن میں سفر کرنے والے مسافروں کی پہلی بار میزبانی کی۔
    دنیا کی پہلی ایئرہوسٹس ہونے کا اعزاز "Ellen church” کو 25 سال کی عمر میں 1930 میں حاصل ہوا جب “United Airlines” نے ان کی خدمات حاصل کیں۔ انٹرنیشنل رولز کے مطابق ائیر ہوسٹس بننے کے لئے اُن لڑکیوں کو ترجیح دی جاتی ہے جو اچھی شکل و صورت کی حامل ہوں، جن کا وزن 100 سے 116 پونڈ ہو، جن کا قد 5 فٹ 4 انچ سے کم نہ ہو، ذہنی جسمانی طور پر مکمل فٹ ہوں اور مقامی زبان کے ساتھ ساتھ مختلف زبانوں خصوصا انگریزی پر عبور حاصل ہو۔
    1936 میں ایئرہوسٹس نے باقاعدہ طور پر فضائی میزبان کی اہمیت حاصل کی اور فضائی کمپنیوں نے مرد سٹیورڈز کی نسبت ائیر ہوسٹس کو ہائر کرنے پر ترجیح دینا شروع کردی۔ انتہائی پرکشش تنخواہ و سہولیات کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں مفت کی سیر کی وجہ سے اس پروفیشن نے جلد ہی لڑکیوں میں مقبولیت حاصل کر لی اور کو اپنی جانب راغب کیا اور ائیر ہوسٹس کی نوکری لڑکیوں کے لئے کشش کا باعث بن گئی۔ ایک سروے کے مطابق دنیا بھر کی زیادہ تر لڑکیوں/خواتین کی خواہش ہوتی/رہی ہے کہ وہ ائیر ہوسٹس بن جائیں۔
    ائیر ہوسٹس اور سٹیورڈز کا شمار جہاز کے عملے میں ہوتا ہے اور ان کا براہ راست تعلق مسافروں کو دی جانے والی سہولیات سے ہے۔ ائیر ہوسٹس کا اہم کردار جہاز میں سفر کرنے والے مسافروں کو حفاظتی امور سے آگاہ کرنا اور ان کی رہنمائی کرنا ہے۔ ائیر ہوسٹس اور فضائی عملے کو باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال میں وہ مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنائیں رکھیں گے۔ اس کے علاوہ مسافروں کی صحت اور خوارک سے متعلق خیال رکھنا بھی ان کے فرائض میں شامل ہے۔
    موجودہ ہوائی/فضائی قوانین کے مطابق ہر پرواز سے پہلے ائیر ہوسٹس مسافروں کو حفاظتی بریفنگ دیتی ہیں۔ اس بریفنگ میں حفاظتی اقدامات اور ایمرجنسی کی صورت میں جہاز سے نکلنے کے طریقہ کار اور راستوں کی بارے میں بتایا جاتا ہے۔ ہر پرواز سے قبل مکمل جانچ پڑتال کی جاتی ہے اور مسافروں کو حفاظتی بیلٹ لگانے کی تلقین کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ایئرہوسٹس اس بات کو بھی یقینی بناتی ہیں کہ جہاز کے ایمرجنسی راستوں کے قریب سیٹوں پر بیٹھے مسافر کی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال میں عملے کے ساتھ مدد کریں گے۔ پرواز کے دوران فضائی کمپنی کی جانب سے مسافروں کو دی جانے والی سہولیات مثلاً آئی پیڈ، کمبل، کشن، فوڈ وغیرہ کا خیال رکھنا بھی ایئرہوسٹس کی ذمہ داری میں شامل ہے لیکن ائیر ہوسٹس کی سب سے اہم ذمہ داری مسافروں کی حفاظت کو بہر صورت یقینی بنانا ہے۔
    دنیا بھر کی فضائی کمپنیوں میں فضائی میزبانوں میں لڑکیوں کی تعداد مردوں کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ ہر ملک کے اپنے قوانین کے تحت میں جہاز میں ایئرہوسٹس کی تعداد کا تعین کیا جاتا ہے۔ابتدا میں 50 سیٹوں سے کم تعداد کے جہاز میں ایئرہوسٹس کا ہونا لازم نہی تھا مگر اب ایسا نہیں ہے۔ موجودہ دور میں جدید سہولیات اور حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے اب تقریباً ہر جہاز میں ائیر ہوسٹس کا ہونا لازم ہے۔ بلکہ اب تو پرائیوٹ جہاز کے لئے بھی ائیر ہوسٹس کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں اور انہیں جہاز کے عملے میں لازم وملزوم سمجھا جاتا ہے۔
    ائیر ہوسٹس کو دوران پرواز ہونے والی کسی بھی قسم کی ایمرجنسی کے لئے خصوصی تربیت دی جاتی ہے جن میں ابتدائی طبی امداد، دوران پرواز بچے کی پیدائش، ہائی جیکنگ، کیبن میں دھواں بھر جانا، پانی پر لینڈنگ اور ہنگامی انخلا وغیرہ شامل ہیں۔ ایسی صورتحال میں مسافروں کو ائیر ہوسٹس و فضائی عملے کی ہدایات کے مطابق ان کے ساتھ مکمل تعاون کرنا چاہئے تاکہ ایمرجنسی کے صورتحال پر آسانی سے قابو پایا جا سکے۔

  • کونسی شخصیت سنجیدہ کوشش کرے تو مسئلہ کشمیر کے حل کی گارنٹی دی جاسکتی ہے؟ عمران خان نے بتا دیا

    کونسی شخصیت سنجیدہ کوشش کرے تو مسئلہ کشمیر کے حل کی گارنٹی دی جاسکتی ہے؟ عمران خان نے بتا دیا

    وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عالمی طاقتوں کو بتایا فلیش پوائنٹ کشمیر کامسئلہ حل نہ ہوا تو پوری دنیا پر اثر پڑے گا،

    پاک، بھارت روایتی جنگ ہوئی تو اختتام ایٹمی جنگ پر ہو گا، عمران خان کا الجزیرہ کو انٹرویو

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ امریکی صدر سنجیدہ مداخلت کرتےہیں تومسئلہ کشمیرکےحل کی گارنٹی دی جاسکتی ہے، ہم نےعالمی اداروں ،چین،امریکا ،روس جیسی سپرطاقتوں سےرابطےکیےہیں، بھارت پاکستان کی مذاکرات کی پیشکش کو غلط طریقے سے لے رہاہے، ان حالات میں بھارت سے مذاکرات کرنے کاسوال ہی نہیں ہوتا،

    وزیر اعظم عمران خان کا قطر کے ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا کہ سی پیک منصوبوں سےملکی وعلاقائی معیشت پرمثبت اثرات مرتب ہونگے، سی پیک منصوبہ پاک چین دوستی کامظہر ہے،

  • بنگلہ دیش بھی کشمیر بنے گا پاکستان کے نعروں سے گونج اٹھا ، چٹاگانگ میں ہزاروں بنگالی مسلمانوں کا کشمیریوں کے حق میں مظاہرہ

    بنگلہ دیش بھی کشمیر بنے گا پاکستان کے نعروں سے گونج اٹھا ، چٹاگانگ میں ہزاروں بنگالی مسلمانوں کا کشمیریوں کے حق میں مظاہرہ

    چٹاگانگ : بنگلا دیش کے مسلمان بھی کشمیر اور کشمیری مسلمانوں کے حق میدان میں آگئے ، بنگلہ دیش میں جگہ جگہ کشمیویوں کے حق میں مظاہرے ، جلوس اور جلسے ، بنگلہ دیش کی فضائیں ” کشمیر بنے گا پاکستان ” کے نعروں سے گونج اٹھا


    باغی ٹی وی کو بنگلا دیش سے ملنے والی اطلاعات اور تفصیلات کے مطابق بھارت کے خلاف سب سے بڑا مظاہرہ چٹاگانگ کے میدان میں ہوا جہاں ایک لاکھ سے زائد بنگالی مسلمانوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف احتجاج کیا اور بھارتی مظالم کی پرزور مذمت کی ،

    چٹاگانگ سے اطلاعات کےمطابق سخت ترین موسلا دھار بارش کے باوجود دسیوں ہزار بنگالی مسلمان چٹاگانگ کے میدان میں گھنٹوں موجود رہے اور کشمیریوں کی آزادی کے لیے بھرپور انداز سے آواز بلند کی، لوگوں نے چٹاگانگ کی فضاوں کو کشمیر کے نعروں سے معطر کردیا ، اطلاعات کے مطابق اس کے علاوہ بھی بنگلہ دیش کے چپے چپے میں بھارت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے اور بھارتی مظالم کی پروزانداز میں مذمت کی

  • پاک، بھارت روایتی جنگ ہوئی تو اختتام ایٹمی جنگ پر ہو گا، عمران خان کا الجزیرہ کو انٹرویو

    پاک، بھارت روایتی جنگ ہوئی تو اختتام ایٹمی جنگ پر ہو گا، عمران خان کا الجزیرہ کو انٹرویو

    وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عام حالات ہوتے تو میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ماحولیات پر بات کرتا، پاکستان ان ممالک میں ہے جنہیں سب سے زیادہ ماحولیاتی تبدیلیوں کا سامنا ہے، مغربی ملکوں ، بھارت میں مسلمانوں کو اسلاموفوبیا کی صورتحال کا سامنا ہے، بھارت میں مسلمانوں کو اسلاموفوبیا کے تحت ظلم و ستم کا سامنا ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق قطر کے ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بات کرونگا، مقبوضہ کشمیر میں 80لاکھ کشمیری مسلمان تقریباً6ہفتےسے محاصرے میں ہیں، بھارت مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی کررہاہے ،آبادی پر نسلی حملے کر رہاہے، بھارت مقبوضہ وادی میں بربریت سےتوجہ ہٹانےکیلیےپاکستان پردہشتگردی کاالزام لگارہاہے، خدشہ ہے بھارت فروری کی طرح پاکستان میں دوبارہ ایسی حرکت کرسکتاہے، مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی کارروائی پرردعمل کاالزام بھارت پاکستان پر لگاسکتاہے،

    عمران خان نے کہاکہ بھارت نسل کشی سےتوجہ ہٹانے کیلیے ردعمل کا الزام پاکستان پرلگاسکتاہے، بھارت ہمیں ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں ڈلوانے کی کوشش کرتا رہا، بھارت ہمیں بلیک لسٹ میں ڈلواکر معاشی دیوالیہ کرنا چاہ رہا تھا، بھارت کاایجنڈا اورعزائم جان کر ہم پیچھے ہٹ گئے، پاکستان جنگ میں پہل نہیں کرےگا، میں جنگ کےخلاف ہوں ، پاکستان اوربھارت میں روایتی جنگ ہوئی تواختتام ایٹمی جنگ پرہوگا، ایٹمی جنگ کے نتائج بھیانک ہوں گے،

    انہوں نے کہاکہ سی پیک منصوبوں سےملکی وعلاقائی معیشت پرمثبت اثرات مرتب ہونگے، سی پیک منصوبہ پاک چین دوستی کامظہر ہے، امریکی صدر سنجیدہ مداخلت کرتےہیں تومسئلہ کشمیرکےحل کی گارنٹی دی جاسکتی ہے، عالمی طاقتوں کو بتایا فلیش پوائنٹ کشمیر کامسئلہ حل نہ ہواتوپوری دنیا پر اثر پڑےگا، ہم نےعالمی اداروں ،چین،امریکا ،روس جیسی سپرطاقتوں سےرابطےکیےہیں، ان حالات میں بھارت سے مذاکرات کرنے کاسوال ہی نہیں ہوتا، بھارت پاکستان کی مذاکرات کی پیشکش کو غلط طریقے سے لے رہاہے، بی جےپی انتہاپسند وں کی حکومت نسل پرست اور فاشسٹ ہے،

  • بزدل بھارتی فوج نے سویلین آبادی کو نشانہ بنالیا ، فائرنگ میں ایک خاتون شہید ، 4 خواتین سمیت 6 زخمی

    بزدل بھارتی فوج نے سویلین آبادی کو نشانہ بنالیا ، فائرنگ میں ایک خاتون شہید ، 4 خواتین سمیت 6 زخمی

    راولپنڈی:بزدل بھارتی فوج نے کنٹرول لائن پر عام شہریوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا ، اطلاعات کےمطابق بھارتی فوج نے ایک بار پھر لائن آف کنٹرول کے مختلف سیکٹر پر بلااشتعال فائرنگ کی ہے جس کے نتیجے میں ایک خاتون شہید اور 4 خواتین سمیت 6 افراد زخمی ہوگئے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول کے مختلف سیکٹر پر بلااشتعال فائرنگ کی ہے، بھارتی فوج نے نکیال اور جندروٹ سیکٹرز پر شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فائرنگ سے بالاکوٹ گاؤں کی فاطمہ بی بی شہید ہوگئیں۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج کی شہری آبادی پر بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں 4 خواتین سمیت 6 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ مغربی بارڈر پر 2 مختلف واقعات میں 4 سیکیورٹی اہلکار شہید اور ایک زخمی ہوا تھا۔افغانستان کے بارڈر پر یہ حملہ پاکستان دشمن پی ٹی ایم نے کیا ہے

  • وزیر اعلیٰ پنجاب کی پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کی فائرنگ کی مذمت

    وزیر اعلیٰ پنجاب کی پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کی فائرنگ کی مذمت

    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے پاک افغان سرحد پردہشتگردوں کی فائرنگ کی مذمت کی ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کی طرف سے پاک فوج کے شہید جوانوں کی عظیم قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا گیا، سردار عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ شہداء کی لازوال قربانیوں کو ہم سلام پیش کرتے ہیں،

    واضح‌ رہے کہ آج پاک افغان سرحد پر دہشت گردی کے واقعات میں پاک فوج کے چار جوان شہید ہوئے ہیں،

  • افغان طالبان کے وفد کی روس میں اہم ملاقاتیں

    روس: افغان طالبان کے وفد کی روس میں اہم ملاقاتیں ہوئی ہیں جس میں امریکا کے ساتھ مذاکرات کا معاملہ زیر بحث لایا گیا.

    تفصیلات کے مطابق امریکہ کے ساتھ مذاکرات ختم ہونے کے بعد افغان طالبان کا وفد روس پہنچا ہے، جہاں ان کی ملاقاتیں اہم عہدیداروں سے ہوئی ہیں. اس موقع پر طالبان کے سینئر رہنما نے انکشاف کیا کہ اس دورے کا مقصد لوگوں کا بتانا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات اس وقت ملتوی کیے جب معاملات حل ہونے کے بالکل قریب تھے، اور معاہدے پر صرف دستخط ہونا باقی تھے. ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہم لوگ مذاکرات کرنے کیلئے تیار بیٹھے ہیں.

    دوسری جانب روس کی جانب سے امید ظاہر کی گئی کہ افغان طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات دوبارہ سے ہوں گے اور یہ معاملہ جلد ہی حل کرلیا جائے گا.

  • شمالی وزیرستان پاک فوج پر حملہ ، پی ٹی ایم نے ذمہ داری قبول کرلی

    شمالی وزیرستان پاک فوج پر حملہ ، پی ٹی ایم نے ذمہ داری قبول کرلی

    اباخیل : شمالی وزیرستان ابا خیل کے علاقے میں پاک فوج کے جوانوں پر دہشت گردانہ حملہ پاکستان دشمن ، بھارت اور افغانستان کی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیم پی ٹی ایم نے کیا ، شمالی وزیرستان: شمالی وزیرستان کے علاقہ اباخیل میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے پاک فوج کا جوان شہید اور ایک زخمی، جوابی کاروائی کے دوران پی ٹی ایم کے دو دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں،

    باغی ٹی وی کے مطابق گزشتہ رات شمالی وزیرستان میں اباخیل اور سپین وام میں پاک فوج کی پٹرولنگ پارٹی معمول کے گشت پر تھی،پارٹی جب ابا خیل کے قریب پہنچی تو ان پر گھات لگائے پی ٹی ایم کے دہشت گردوں نے حملہ کر دیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں دو حملہ آوار ہلاک اور ایک سپاہی اختر شہید ہوگیا، جبکہ ایک سپاہی زخمی بھی ہوا ہے۔

    https://twitter.com/PaasoonOfficial/status/1172823816944402432

    شمالی وزیرستان سے باغی ٹی وی کو موصول ہونے والی معلومات کےمطابق پی ٹی ایم کی طرف سے اس حملے کے دوران فوجیوں نے چیخ چیخ کا بتایا بھی کہ ہم فوجی ہیں آپ لوگ کون ہیں اور کیوں فائرنگ کر رہے ہیں؟ لیکن فائرنگ جاری رہی،فوج نے جوابی فائرنگ کی تو ان کے دو بندے ہلاک ہوئے۔فوج نے علاقے کا محاصرہ کر لیا لیکن گاؤں کے اندر نہیں گئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق پی ٹی ایم نے شہید ہونے والی فوجی کی لاش کی خوب بے حرمتی کی اور اس کی ویڈیو بھی بنائی،ہلاک ہونے والے پی ٹی ایم کے سرگرم کارکن بتائے جاتے ہیں اور پاک فوج اور پاکستان مخالف سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔واقعہ ہوتے ہی پی ٹی ایم کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے پاک فوج کو ٹارگٹ کلرزقرار دے کر ڈھنڈورا شروع کر دیا گیا۔

    دوسری طرف علاقہ عمائدین کا کہنا ہے کہ پاک فوج ہماری حفاظت کیلئے رات کو گشت کرتی ہے، پی ٹی ایم نے کس بنیاد پر فوجیوں پر حملہ کیا،یاد رہے باقاعدہ طور پر پی ٹی ایم نے پہلی بار اس حملےکی ذمہ داری قبول کی ہے اور فخر سے شہید ہونے والی فوجی کی تصاویر شیر کر کے بتا رہی ہے کہ باقیوں کا بھی یہی انجام ہوگا۔