Baaghi TV

Author: +9251

  • علی زیدی کراچی کی صفائی کی بجائے  ماہی گیروں کے مسائل حل کریں، مرتضیٰ وہاب

    علی زیدی کراچی کی صفائی کی بجائے ماہی گیروں کے مسائل حل کریں، مرتضیٰ وہاب

    کراچی: کراچی کی صفائی کی بجائے علی زیدی ماہی گیروں کے مسائل حل کریں ، ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ کے پی ٹی نے ماہی گیروں کیلئے کوئی اقدامات نہیں کیے۔کراچی کی صفائی کے لیے بڑی بے تاب ہے

    ذرائع کے مطابق کراچی فش ہاربر پر فلوٹنگ جیٹی کا افتتاح کرتے ہوئےکہا کہ وفاقی حکومت کا کوئی وعدہ پورا ہوتا نظر نہیں آرہا۔ کے پی ٹی نے ان ماہی گیروں کی فلاح کیلئے کوئی اقدام نہیں کیا۔ علی زیدی فوری طور پر ماہی گیروں کے مسائل حل کریں۔

    کراچی کی ابتر صورتحال پر بھی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ علی زیدی کراچی صاف کرنے کیلئے کوئی فنڈ نہیں لائے ہیں، انہوں نے کراچی والوں سے ہی چندہ مانگا ہے۔

  • استاد دامن کی سب سے بڑی خوبی ان کی فی البدیہہ گوئی تھی

    استاد دامن کی سب سے بڑی خوبی ان کی فی البدیہہ گوئی تھی

    استاد دامن کی پیدائش *
    4 ستمبر 1911 میں چوک متی لاہور میں پیدا ہوئے۔ والد میراں بخش درزیوں کا کام کر تے تھے۔ بچپن ہی میں استاد دامن نے گھر یلوحالات کے پیش نظر تعلیم کے ساتھ ٹیلر نگ کا کام بھی کرنا شروع کیا۔ جب استاد دامن کی عمر تیرہ سال ہو ئی تو ان کا خاندان چوک متی سے باغبانپورہ منتقل ہو گیا۔ انہوں نے باغبانپورہ میں درزیوں کی دکان شروع کی اور دیوسماج اسکول سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ انہیں شاعری کا شوق تو بچپن ہی سے تھا لیکن باقاعدہ طور پر شاعری کا آغاز میٹرک کے بعد کیا اور مختلف جلسوں اور مشاعروں میں اپنا پنجابی کلام سنانے لگے۔
    شہرت

    1940 میں میاں افتخار الدین کی صدارت میں ہو نے والے میونسپل کمیٹی لاہور کے اجلاس میں کمیٹی کارکردگی پر تنقید ی نظم پیش کی اور خوب داد حاصل کی۔ ان کے بعد ان کی عوامی مقبولیت میں اضافہ ہو تا گیا اور انہوں نے سیاسی جلسوں میں بھی نظمیں پڑھنے کا آغاز کیا۔ آپ کی شاعری زبان زدعام وخاص ہو گئی اور آپ ہر مکتب فکر کے لوگوں میں ہر دلعزیزشاعر کی حیثیت سے متعارف ہو ئے ۔
    مالی مشکلات

    پاکستان کی آزادی کے بعد ہو نے والے فسادات میں آپ کی دکان لوٹ لی گئی جس کے سبب آپ زبردست مالی بحر ان کا شکار ہو کر باغبا نپورہ سے بادشاہی مسجد کے قریب حجرے میں منتقل ہو گئے۔ آپ کے پاس کل اثاثہ ان کی چند کتابیں تھیں۔ 1949 میں آپ ٹکسالی گیٹ میں واقع اس حجرے میں منتقل ہو گئے جس میں شاہ حسین (مادھولال حسین)بھی مقیم رہے تھے اور تادم مرگ یہی حجرہ ان کا مسکن ٹھہرا۔ اسی دور میں استاد دامن کی شادی ہوئی لیکن کچھ ہی عر صہ بعد ان کا کم سن بیٹا اور بیوی انتقال کر گئے اور پھر تمام عمر شادی نہ کی ۔
    شاعری

    استاد دامن نے شاعری کا آغاز کیا تو ہمدم تخلص کر تے تھے لیکن جلد ہی اسے ترک تخلص کرنے لگے۔ پنجابی شاعری میں استاد ہمدم کے شاگرد ہو ئے اور ان کی شاگردی کو اپنے لیے باعث فخر تصور کرتے۔ دامن نے پنجابی شاعری کی فنی خوبیوں پر ملکہ رکھنے کی بدولت اہل علم وفن افراد سے استاد کا خطاب حاصل کیا۔ استاد دامن مزدوروں ‘کسانوں ‘غریبوں اور مظلوموں کے شاعر تھے۔ انہوں نے ان طبقوں کی حمایت اور حقوق کے لیے آواز اٹھائی اور ہمیشہ استحصالی طبقو ں کی مذمت کرتے رہے۔ انہوں نے پنجابی زبان و ادب کے فروغ کے لیے گرانقدر خدمات سر انجام دیں اور ادبی تنظیم پنجابی ادبی سنگت کی بنیاد رکھی اور تنظیم کے سکریٹری ر ہے۔ استاد دامن کے چاہنے والوں میں بھارتی اداکاروں کا شمار بھی ہوتا ہے جن میں اوم پرکاش،پران اور شیام کے نام نمایاں ہیں۔ اوم پرکاش کی فرمائش پر ہی استاد نے نورجہاں کی زیر ہدایات بننے والی فلم چن وے کے ایک ایک گیت کا مکھڑا لکھا۔ چنگا بنایا ای سانوں کھڈونا
    آپے بناؤونا تے آپے مٹاؤنا
    فی البدیہہ گوئی

    استاد دامن کی سب سے بڑی خوبی ان کی فی البدیہہ گوئی تھی۔ خدا نے انہیں ایسے ذہن اور فکر سے نوازا تھا کہ وہ موقع کی مناسبت سے چند لمحوں میں اشعار کی مالا پرو دیتے تھے اور حاضرین کے لیے تسیکن کے ساتھ ساتھ حیرت کے اسباب بھی پیدا کردیتے تھے۔ آزادی کے کچھ عرصہ بعد انہوں نے دلی میں منعقد مشاعرے میں یہ فی البدیہہ نظم پڑھی : جاگن والیاں رج کے لٹیا اے
    سوئے تسی وی او، سوئے اسیں وی آں
    لالی اکھیاں دی پئی دس دی اے
    روئے تسی وی او، روئے اسیں وی آں

    اس نظم کی سماعت پر حاضرین مشاعرہ بے اختیار رونے لگے۔ اس وقت مشاعرے میں پنڈت جواہر لعل نہرو (وزیر اعظم بھارت )بھی موجود تھے، انہوں نے استاد دامن سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ مستقل طور پر بھارت میں قیام فرمائیں لیکن انہوں نے جواب دیا کہ اب میرا وطن پاکستان ہے میں لاہور ہی میں رہوں گا بے شک جیل ہی میں کیوں نہ رہوں ۔
    محب وطن

    اس محب وطن شاعر نے ساری زندگی کسمپرسی کی حالت میں گزاری مگر مرتے دم تک اپنے وطن سے محبت کے گیت گاتا رہا۔ اس دھرتی کو نفرتوں، بے ایمانیوں اور عیاریوں سے پاک کرنے کے لیے محبتوں کے پھول بکھیرتا رہا اور ان برائیوں کی علانیہ نشان دہی اور مذمت کر تے رہا۔ استاد دامن نے آزادی کے بعد رونما ہونے والے سیاسی زوال پر سیا ست دانوں کی کوتاہیوں کی نشاندی کرتے ہوئے ان پر بھرپور تنقید کی اور عوامی شعور کو بیدار کیا۔ وہ وطن عزیر کی ترقی کے خواہاں تھے۔ اس ملک کے دن بدن زوال کی تصویر کشی کرتے ہوئے استاد دامن کہتے ہیں : بھج بھج کے وکھیاں چور ہوئیاں
    مڑ کے و یکھیا تے کھوتی بوہڑ ہیٹھاں استاد دامن اپنی شاعری میں زبان کے تکلف سے ہٹ کر اپنے خیالات اور نظریات کے پرچار پر زیادہ زور دیتے۔ وہ عام بول چال کی زبان میں اپنا خیال پیش کرکے سامعین و قارئین کے دلوں کی گہرائیوں کو چھولیتے۔ یہی ان کا مدعا تھا اور یہی ان کا مقصد حیات کہ بات دل سے نکلے اور دل پر اثر کرے۔ اس مقصد میں انہیں بھر پور کا میابی حاصل ہو ئی ۔
    پنجاب کی ثقافت

    استاد دامن نے پنجابی شاعری کے ذریعے پنجاب کی ثقافت کے تمام رنگوں کو اجاگر کیا۔ پنجاب کی ثقافت سے مزین ان کی لوک شاعری نے لوگوں کو خصوصی طور پر اپنی طرف متوجہ کیا۔ ان کے لہجے میں طنز اور مزاح تھا۔ انہوں نے مزاح کے انداز میں لوگوں کو معاشر تی برائیو ں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے ہمیشہ سچ کی تائید ا ور جھوٹ کی تردید کی ۔
    موضوعات

    استاد دامن کی شاعری میں لوک رنگ، تصوف، سیاسی موضوعات، روایتی موضوعات کے علاوہ روز مرہ زندگی کا ہر رنگ ملتا ہے۔ ان کی شاعری حقیقت نگا ری اور فطر ت نگاری کی خوبیوں سے مالامال ہے اور انسانی زندگی کی خوبصوت عکاس ہے۔ استاد دامن کی شاعرانہ عظمت کا اعتراف اس عہد کے عظیم اور منفرد شاعر فیض احمد فیض نے ایک نجی محفل میں یہ کہہ کر کیا کہ میں پنجابی میں صرف اس لیے شاعری نہیں کرتا کہ پنجابی میں شاہ حسین ‘وارث شاہ اور بلھے شاہ کے بعد استاد دامن جیسے شاعر موجود ہیں۔ بلاشبہ استاد دامن پنجابی ادب کا انمول خزانہ ہے ۔
    کتاب

    استاد دامن کی ایک خوبی ان کے حافظے کی تیزی تھی۔ ان کی یاد داشت بہت زیادہ تھی۔ جب قیام پاکستان کے بعد کچھ شر پسند عناصر نے ان کی ذاتی لائبریری اور دکان کو آگ لگا دی تو ان کی ذاتی تحریریں ‘ہیر کا مسودہ جسے وہ مکمل کر رہے تھے اور دوسری کتابیں جل کر راکھ ہو گئیں تو انہوں نے دل برداشتہ ہو کر اپنا کلام صفحات پر محفوظ کر نا چھو ڑدیا اور صرف اپنے حافظے پر بھر وسہ کر نے لگے۔ اس وجہ سے ان کا زیادہ تر کلام ضائع ہو گیا لیکن ان کی یاد میں قائم ہو نے والی استاد دامن اکیڈمی کے عہد یداروں نے بڑی محبت وکاوش سے ان کے مختلف ذہنوں میں محفوظ اور ادھر ادھر بکھر ے ہو ئے کلام کو یکجا کر کے دامن وے موتی کے نام سے ایک کتاب ہمارے سامنے پیش کی ۔استاد دامن اکیڈمی کی اس کاوش سے جہاں پنجابی ادب کو بہت فائدہ ہوا اور اس کے شعری سرمائے میں اضافہ ہوا وہاں شعری ذوق رکھنے والے افراد کو بھی استاد دامن کی شاعری سے فیض یاب ہو نے کا مو قع ملا۔ استاد دامن نے فلموں کے لیے بھی گیت لکھے۔ ان کا فلم غیرت تے نشان میں شامل یہ گیت بہت مشہور ہو ا۔ منیو ں دھرتی قلعی کرا دے میں نچاں ساری رات
    نہ میں سونے دی نہ چاندی دی میں پتل بھری پرات
    پنجابی کی خدمت

    استاد دامن، پنجابی کے علاوہ اردو سنسکر ت ‘ہندی اور انگریزی زبانوں پر بھی دسترس رکھتے تھے لیکن انہوں نے وسیلہ اظہار اپنی ماں بولی زبان پنجابی ہی کو بنایا۔ استاد دامن بلھے شاہ اکیڈمی کے سرپر ست ‘مجلس شاہ حسین کے سرپرست اور ریڈ یو پاکستان شعبہ پنجابی کے مشیر بھی تھے۔ ان مختلف حیثیتوں میں انہوں نے پنجابی زبان وادب کی ناقابل فر امو ش خدمت سر انجام دیں ۔
    فیض اور جالب

    استاد دامن کہا کرتے تھے کہ اگر کسی نے میرا اردو ایڈیشن دیکھنا ہو تو وہ حبیب جالب کو دیکھ لے۔ استاد دامن کو فیض اور جالب سے محبت تھی۔ 80 کی دہائی میں جب ان کے منہ بولے بیٹے سٹارعلائوالدین کا انتقال ہوا تو گویا استاد دامن کی کمر ٹوٹ گئی۔ بستر پر ہی پڑے رہتے ،کبھی ہسپتال اور کبھی گھر، پھر تھوڑے ہی عرصے کے بعد فیض صاحب بھی خالق حقیقی سے جاملے۔ استاد سے محبت کرنے والوں نے لاکھ روکا وہ نہ مانے اور اپنے یار دیرینہ کے جنازے پر پہنچ گئے۔ لوگوں نے استاد دامن کو پہلی بار دھاڑیں مارتے ہوئے دیکھا۔ ایسے معلوم ہوتا تھا کہ گویا تقسیم سے لے کر آج تک ٹوٹنے والی ساری قیامتوں کی اذیت فیض صاحب کے جانے کے بعد ہی ان تک آئی ہے۔ فیص صاحب کا انتقال 20 نومبر 1984ء کو ہوا اور اسی شام دامن کی ہمت بھی جواب دے گئی۔ ایسے ٹوٹے کے صرف تیرہ دن کے وقفے کے بعد فیض صاحب کے قدموں کے نشان چنتے چنتے رہی ملک عدم ہو گئے۔

    استاد دامن، اردو جاسوسی ادب کے عظیم مصنف ابن صفی صاحب کو بھی پڑھا کرتے تھے۔ نئے افق میگزین 1981 کے ایک شمارے میں ذکر ہے کہ محمد بدر منیر صاحب نے جب ان سے ملاقات کی تو استاد دامن نے ابن صفی صاحب کے ایک کردار کیپٹن حمید کا ذکر کیا تھا۔
    انتقال
    عوام سے پیار کرنے والا یہ عوامی شاعر 3 دسمبر 1984 کو اس دار فانی سے کوچ کر گیا اور اپنی وصیت کے مطابق اسی شاہ حسین (مادھو لال حسین)مزار کے احاطے میں واقع قبر ستان میں دفنایا گیا جس نے پنجاب کو جذب و مستی کی نئی کیفیات سے روشناس کیا تھا۔۔!!!

  • بجلی کی قیمت میں مزید اضافہ کردیا گیا

    بجلی کی قیمت میں مزید اضافہ کردیا گیا

    اسلام آباد: نیپرا نے بجلی 1 روپے 78 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی منظوری دے دی۔

    تفصیلات کے مطابق نیپرا نے فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 1 روپے 78 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی منظوری دے دی ۔ نیپرا نے جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 1 روپے 78 پیسے مہنگی کر دی ۔ جس سے صارفین پر 24 ارب 60 کروڑ روپے کا بوجھ پڑے گا۔ جولائی میں ہائڈل سے 32.53 فیصد اور کوئلے سے 14.33 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔ مقامی گیس سے 11.81 فیصد، درآمدی ایل این جی سے 24.71 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔

    واضح رہے کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا اطلاق کے الیکٹرک زرعی صارفین پر نہیں ہوگا۔

  • ہر کشمیری برہان وانی بن چکا، بھارت کی 3 ریاستیں مودی کے ساتھ نہیں‌ ہیں، فخر امام

    ہر کشمیری برہان وانی بن چکا، بھارت کی 3 ریاستیں مودی کے ساتھ نہیں‌ ہیں، فخر امام

    کشمیر کمیٹی کے چیئرمین فخر امام نے کہا ہے کہ بھارت نےمقبوضہ کشمیر کومقتل کیمپ بنادیا ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فخر امام نے کہاکہ ایسےمقتل کیمپ عالمی جنگ دوم میں بھی نہیں بنے، نریندرمودی ہٹلراورآر ایس ایس کے نظریےپرچل رہاہے، یاسین ملک پرتشدد کیاجارہاہے، آج دہشت گردی کرنےوالےکانام نریندرمودی ہے، وہ دن دورنہیں جب اقوام متحدہ کی قراردادوں کےمطابق مسئلہ کشمیرحل ہوگا، نہروایک دوغلہ انسان تھا، خودکوڈیموکریٹ کہتاتھا لیکن وہ تھا نہیں، وزرائےخارجہ اسی لیے آئےہیں کہ جانتےہیں خطے میں کچھ ہو نہ جائے، آج دووزرائے خارجہ پاکستان آئےہوئےہیں، ناگالینڈآزادی کاپرچم بلندکرچکاہے، بھارت کی 3تامل ریاستیں مودی اوربھارت کےساتھ نہیں ہیں، آسام میں 19لاکھ لوگوں کوشہریت سےمحروم کردیاگیا ہے،

    کشمیر کمیٹی کے چیئرمین نے کہاکہ آج ہر کشمیری برہان وانی بن کربھارت کامقابلہ کر رہاہے، کشمیری آج بےخوف ہوچکے وہ اب کسی سےنہیں ڈرتے، مودی گجرات کاقصاب تھااوریہی سب کرکےوزیراعظم بنا، بھارت نےسوچاتھاوہ نازی سوچ کوماڈرن طرزپراپناکربچ نکلےگا، بھارت نےجو قدم اٹھایاوہ اس سےبڑی حماقت کرنہیں سکتاتھا،

  • محرم الحرام کیلئے ضابطہ اخلاق جاری کردیا

    محرم الحرام کیلئے ضابطہ اخلاق جاری کردیا

    اسلام آباد:ملک میں امن و امان اور باہمی بھائی چارے کی فضا کو فروغ دینے اور اس کو برقرار رکھنے کے لیے وزارت مذہبی امور کی جانب سے جاری ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ تمام مکاتب فکر محبت اور رواداری کو فروغ دیں گے۔ ایک دوسرے کے اکابرین کے بارے میں احترام کیا جائے۔ علماء اور مقررین اپنی تقریروں میں اشتعال سے گریز کریں۔

    وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے کہا کہ فرقہ واریت کشمیریوں کی کسی طرح مدد نہیں کرسکتی۔ محرم الحرام کے ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کیلئے پیمرا اور میڈیا اداروں کو خطوط لکھے جائیں گے۔

    وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے کہا کہ میڈیا نفرت پھیلانے والے لوگوں کو موقع نہ دے۔ دنیا بھر میں کشمیر کیلئے آواز بلند کی جارہی ہے، بھارت میں مظلوم کشمیریوں کیلئے آواز اٹھ رہی ہے۔ مضبوط پاکستان ہی کشمیر کو آزاد کرا سکتا ہے۔

  • حجاب اپناؤ دین و دنیا بچاؤ تحریر: ساجدہ بٹ

    حجاب اپناؤ دین و دنیا بچاؤ تحریر: ساجدہ بٹ

    حجاب تو عزت و وقار دیتا ہے۔

    ہمارا دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں زندگی کے سب اصول بتائیے گئے ہیں۔
    یوں تو ہر طرح کے موضوع پر مکمل علم عطا فرما دیا گیا۔
    لیکن آج کے دور میں بےحیائی اور عُریانی عام ہو رہی ہے۔آخر کیوں یہ ماجرا زیادہ عام ہو رہا ہے؟؟
    اس کی سب سے بڑی وجہ عورتوں کا بے پردہ ہونا ہے
    جب عورت ہر کسی پر حسن کے جلوے بکھیرے گی تو بے حیائی ہی جنم لے گی۔
    پتہ نہیں کیوں آج کی عورت پردے سے اتنا دور بھاگتی ہے۔
    حلانکہ اِس میں تو عورت کی عزت و وقار قائم رہتا ہے ایک طرف تو دین اسلام کی تعلیمات پر عمل درآمد ہورہا ہوتا ہے اور دوسری طرف دنیاوی لحاظ سے دیکھا جائے تو ہر کوئی ایسی عورت کی بہت قدر کرتا ہے۔ایسی عورت کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
    دوسری طرف ایسی عورت جو بے پردہ ہو لوگ اس کی بلکل بھی قدر نہیں کرتے ۔
    بلکہ شک و شبہ میں پڑ کر گھر سے نکال دیا جاتا ہے ۔یا پھر ویسے ہی اُن کی کوئی عزت نہیں رہتی ۔
    تو پھر کیوں نہ ہم لوگ حجاب کو اپنا کر دین اور دنیا دونوں محفوظ کریں۔

    اپنی اسلامی تعلیمات کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ پردے کے احکام واضح طور پر بیان کیے گئے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ سے بے حد رہنمائی حاصل ہوتی ہے

    قرآنِ کریم میں اللّٰہ تعالیٰ نے واضح طور پر پردے کا حکم بھی نازل فرمایا اور ساتھ ہی ساتھ یہ تعلیمات بھی دی گئی کے آخر پردہ کیوں کیا جائے۔
    اس کی ضرورت کیا ہے۔
    اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا

    "آپ مومن عورتوں سے فرما دیں کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں”
    (سورۃ البقرہ)
    پھر اسی سورۃ البقرہ کی ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا

    "اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں ”
    پھر اس کے علاوہ وہ مرد جن سے زینت چھپانے کی پابندی نہیں اُن کے بارے میں بھی واضع تعلیمات دے دی گئی۔

    یعنی ان سب تعلیمات کے جاننے کے بعد معلوم ہوا کی پردے کی اسلام میں بہت اہمیت ہے ۔
    اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بے شمار تعلیمات پردے کے احکام کے بارے میں دیں
    حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔

    ایک دفعہ حضور کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی سے فرمایا
    غیر محرم عورت پر نظر پر نظر نہ جماؤ۔مسلسل دیکھتے نہ جاؤ جو نظر اچانک پڑ گئی وہ تو معاف ہے قصداً اگر غیر محرم پر نظر ڈالی تو یہ معاف نہیں۔

    اس طرح حضرت عائشہ صدیقہ کے اخیافی بھائی کی بیٹی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر آئیں تو رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم نے اپنا چہرہ دوسری طرف پھیر لیا جب آپ کو بتایا گیا کہ وہ حضرت عائشہ کی بھتجی ہیں تو آپ نے فرمایا جب عورت بالغ ہو جائے تو اس کے لیے حلال نہیں کے وہ اپنے منہ اور ہاتھ کے سوا جسم کا کوئی حصہ ظاہر کرے۔آپ نے ہاتھ کی حد بھی بیان فرمائی۔آپ نے اپنی کلائی پر ہاتھ رکھا۔آپ کی مٹھی و ہتھیلی کے درمیان صرف ایک مٹھی
    کی جگہ باقی تھی۔

    ہمارے پیارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کس طرح کھول کھول کر تمام تعلیمات واضع فرمائی تا کہ اُن کی اُمت مسلمہ کو کسی قسم کی پریشانی لاحق نا ہو۔
    لیکن افسوس کے ہم لوگ عمل کم کرتے ہیں ۔
    جب اللہ تعالٰی کی تعلیمات کی نا فرمانی کی جاتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ بھی انسان کو ذلت و رسوائی کی پستیوں میں گرا دیتے ہیں ۔جہاں صرف اندھیرا ہی اندھیرا چھا جاتا ہے اور کچھ نہ دکھائی دیتا ہے اور نا سمجھ عطا ہے

    درس قرآن کو گر ہم نے نہ بُھلایا ہوتا

    تو زمانے نے یہ زمانہ نہ دکھایا ہوتا۔

    آج کا معاشرہ بہت سی برائیوں سے بھرا ہوا ہے ۔جس میں سے سب سے زیادہ اہم ترین مسئلہ عورت کا بے پردہ ہونا ہے۔
    جو اصل فساد کی جڑ ہے۔بہت سی برائیاں بے پردگی کی وجہ سے پھیلتی ہیں

    لیکن اس معاشرے میں ایسی خواتین اور بیٹیاں بھی موجود ہیں جنہوں نے اپنی اسلامی تعلیمات کو اپنا کر معاشرے میں اہم مقام بھی حاصل کیا ہے ۔اور عزت و احترام کی نگاہ سے انہیں دیکھا جاتا ہے ۔
    میں ایسی بہنوں کو دل سے سلام کرتی ہوں۔

    حجاب پہننے والی لڑکی کی لوگ کتنی عزت کرتے ہیں ۔
    یہ میں اپنی آپ بیتی کہانی سناتی ہوں۔
    پہلے تو صرف کتابوں میں پڑھا یا سنا تھا کہ با پردہ اور حجاب پہننے والی لڑکی جو ہر طرح سے اپنے آپ کو محفوظ رکھے ہوئے با پردہ زندگی گزارے اُس کی عزت معاشرہ کرتا ۔
    لیکن میں نے اپنی آنکھوں سے ایسی لڑکی دیکھی جس کی ہر کوئی عزت کرتا ۔اُس کا ادب کرتا ۔
    میں خود اُسے دیکھ کر خدا کا شکر بھی ادا کرتی کہ ایسے بھی لوگ ہیں ابھی اس دنیا میں ۔
    وہ لڑکی میری کلاس فیلو تھی ۔میں چونکہ یونیورسٹی کی طالبہ ہوں ۔تو یہ تو سب کو معلوم ہے کہ وہاں لڑکے اور لڑکیاں اکھٹے تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔اور یونیورسٹی کا ماحول کیسا ہوتا ہے اس سے بھی سب با خوبی واقف ہیں۔
    میں اپنی کلاس کی لڑکی جس کا نام رانی ہے ۔اُس کے حجاب کو سلام کرتی ہوں ۔وہ لڑکی ما شاء اللہ اپنے آپ کو مکمل نقاب میں رکھتی کبھی اُس کو کسی لڑکے نے تو کیا ہم لڑکیوں نے بھی نہیں دیکھا ۔ایسا پردہ سبحان اللہ۔
    صرف یہ نہیں کہ پردہ کیا بلکہ اس نے اس پردے کی لاج رکھی اپنے آپ کو ہر فتنے سے محفوظ رکھا ۔کبھی کسی کی غیبت نہیں کی ۔کسی سے جھگڑا نہیں کیا۔ کسی کو برا بھلا نہیں کہا ۔کسی سے کبھی فضول بات چیت نہیں کی۔
    اُس نے پردہ تو کیا ہی لیکن جو پردے کا احترام کیا میں کہتی ہوں میرے پاس الفاظ نہیں کے کیا لکھوں ۔
    سب سے بڑی بات تو یہ کے سب اُس کی اتنی قدر کرتے احترام کرتے ۔اساتذہ کرام بھی اُس لڑکی کی بہت عزت و احترام کرتے۔
    کلاس کے تمام طالب علم اُسے بہت عزت دیتے اور جب اُس کے بارے میں بات کرتے تو کہتے رانی بہت اچھی لڑکی ہے رانی شریف لڑکی ہے۔
    حلانکہ اُس با پردہ ہونے کے علاوہ شاید کوئی اور خاص خوبی نہیں تھی جیسے کلاس میں کوئی بہت ذہین طالب علم ہو تو چلو کہا جاتا ہے اس لیے کلاس میں اساتذہ کرام بھی عزت کرتے ہیں ۔لیکن وہ عام سی طالب علم ہونے کے باوجود حد درجہ قدر کی نگاہ سے دیکھی گئی ۔وہ واقعی ہی صرف نام کی رانی نہیں کردار کی رانی بھی ہے ۔
    اُس کی اتنی عزت کیوں کی جاتی تھی کیوں کوئی بھی اُس سے مل کے یہ نا کہتا کے لڑکیاں تو سب آج کل کی بری ہوتی ہیں ۔یہ بھی ایسی ہو گی ۔اُس خدا کی بندی نے خدا کے احکام کی پابندی کی حجاب کو اپنا اشار بنا لیا ۔
    اپنی دین اور دنیا دونوں سنوار رہی ہے۔اللہ تعالیٰ اُسے مزید عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
    میری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو عمل کی توفیق عطا فرمائے اور با پردہ زندگی گزارنے کی توفیق دے۔
    اللہ تعالیٰ اُمت مسلمہ کی تمام ماؤں بہنوں بیٹیوں کو با پردہ رہنے اور اُس پردے کی لاج رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
    اُمت مسلمہ کی تمام عورتیں ایسی ہو جائیں کے کوئی غیر مسلم دیکھے تو پہچان جائے کہ یہ مسلمان عورت ہے قابلِ احترام ہے۔ ہمارا کردار ایسا ہو کے کوئی ہمارے بارے میں غلط تصور بھی اپنے ذہن میں نا لائے ۔
    چلو آج ہم بھی عہد کریں مغربی تہذیب کو ٹھوکر مار کر اپنی اسلامی تعلیمات کا لبدا اوڑھ کر حجاب اپنا کر اپنی دین اور دنیا دونوں محفوظ کر لیں ۔

    ہیں تیز ہوائیں تہذیب کی لیکن

    ماتھے سے دوپٹہ کبھی اڑنے نہیں دوں گی۔

    ان شاء اللہ۔

  • نادرا نے 64 لاکھ روپے دبا لئے ،  وکلا کیلئےسمارٹ کارڈ کا منصوبہ ٹھپ

    نادرا نے 64 لاکھ روپے دبا لئے ، وکلا کیلئےسمارٹ کارڈ کا منصوبہ ٹھپ

    لاہور : وکلاء کو سمارٹ کارڈ کی فراہمی کا منصوبہ عدم دلچسپی کےباعث ٹھپ ہوگیا، نادرا نے وکلاء کے 5 سال قبل وصول کیے گئے 64 لاکھ روپے بھی دبا لئے، رقم کی واپسی کے لئے پنجاب بار کونسل کےعہدیداروں اور نادرا حکام کے مذاکرات بھی ناکام ہوگئے۔

    پنجاب بار کونسل ذرائع کے مطابق پنجاب بار کونسل اور نادرا کے درمیان دوہزار تیرہ میں وکلاء کے سمارٹ کارڈ بنانے کا معائدہ ہوا، وکلاء کا سماعٹ کارڈ کے ذریعے عدالتوں میں داخلہ اور کیسز دائر ہونا تھے، اس منصوبے کی افتتاحی تقریب پنجاب بار کونسل میں ہوئی جس میں اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان تصدق حسین جیلانی شریک ہوئے چیرمین نادرا امتیاز تاجور سمیت دیگر افسران بھی شریک ہوئے تھے۔

    پنجاب بار کونسل کی طرف سے جاری تفصیلات کے مطابق معاہدے کے مطابق نادرا نے پنجاب بار کونسل سے سمارٹ کارڈ کی فراہمی کے لئے ایک کروڑ وصول کیے، نادرا نے ایک سال میں ایچ ای سی کی تصدیق کے بغیر ہی 36 لاکھ کے سمارٹ کارڈ جاری کئے، وکلاء کی عدم دلچسپی کے باعث منصوبہ ایک سال بعد ہی ٹھپ ہوگئی۔

    دوسری طرف وائس چیئرمین پنجاب بار کونسل چوہدری شاہنواز اسماعیل گوجر سمیت دیگر عہدیداروں کا کہنا ہے کہ آنہوں نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے ڈگریوں کی تصدیق کروا لی ہے، انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نادرا وکلا کے جمع کروائے گئے 64 لاکھ روپے واپس کرے

  • مشتاق احمد یوسفی کی ہجرت بھارت کیلیے بڑا نقصان تھا

    مشتاق احمد یوسفی کی ہجرت بھارت کیلیے بڑا نقصان تھا

    مشتاق احمد يوسفی کی پیدائش
    مشتاق احمد یوسفی (4 ستمبر 1921ء – 20 جون 2018ء) اردو کے بھارتی نزاد پاکستانی مزاح نگار تھے۔ ان کی ولادت تب کے ہندوستان اور اس وقت کے بھارت میں ہوئی مگر انہوں نے بطور مزاح نگار خود کو پاکستانی کہلوانا زیادہ پسند کیا اور تقسیم ہند کے بعد بھارت کو جو نقصان ہوا ان میں مشتاق احمد یوسفی کا ہجرت کر جانا بھی ہے۔ یوسفی بہت سے قومی اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے صدر بھی رہے۔ سنہ 1999ء میں حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں ستارہ امتیاز ملا پھر سنہ 2002ء میں پاکستان کا سب سے بڑا تعلیمی اعزاز نشان امتیاز سے نوازا گیا۔ مشتاق احمد یوسفی بڑے نستعلیق انسان تھے۔ وہ بینکر تھے۔ عوامی اور تعلقات عامہ کے آدمی نہیں تھے۔ وہ لکھتے کم تھے لیکن معیار پر نظر رکھتے تھے۔

    مشتاق احمد یوسفی 4 ستمبر 1923ء کو ہندوستان کے شہر جے پور میں ایک تعلیم یافتہ خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد عبد الکریم خان یوسفی جے پور بلدیہ کے صدر نشین تھے اور بعد میں جے پور قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر مقرر ہوئے۔ مشتاق احمد یوسفی نے راجپوتانہ میں اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کی اور بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں آگرہ یونیورسٹی سے فلسفہ میں ایم اے کیا اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے وکالت کی ڈگری لی۔ تقسیم ہند اور قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان سرحد پار کے شہر کراچی میں منتقل ہو گیا۔ وہ سنہ 1950ء میں مسلم کمرشیل بینک سے متعلق ہوئے اور ڈپٹی جنرل مینیجر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ سنہ 1965ء میں الائڈ بینک میں بحیثیت مینیجنگ ڈائریکٹڑ مقرر ہوئے۔ سنہ 1974ء میں یونائٹیڈ بینک کے صدر اور 1977ء میں پاکستان بینکنگ کونسل کے صدر نشین بنے۔ بنکاری کے شعبہ میں ان کی غیر معمولی خدمات پر انہیں قائد اعظم میموریل تمغا عطا ہوا۔
    خود نوشت خاکہ

    مشتاق احمد یوسفی نے اپنے اوپر بھی کافی کچھ لکھا ہے۔ یہ ان کی خاص بات تھی کہ انہوں نے دوسروں کے ساتھ خود کو بھی نہیں بخشا ہے۔ چنانچہ وہ چراغ تلے کے مقدمہ میں خود کا تعارف یوں کرواتے ہیں:

    نام: سرورق پر ملاحظہ فرمائیے
    خاندان: سو پشت سے پیشہ آبا سپہ گری کے سوا سب کچھ رہا ہے
    تاریخ پیدائش: عمر کی اس منزل پر آ پہنچا ہوں کہ اگر کوئی سنہ ولادت پوچھ بیٹھے تو اسے فون نمبر بتا کر باتوں میں لگا لیتا ہوں۔ اور یہ منزل بھی عجیب ہے۔ بقول صاحب “کشکول“ ایک وقت تھا کہ ہمارا تعارف بہو بیٹی قسم کی خواتین سے اس طرح کرایا جاتا تھا کہ فلاں کے بیٹے ہیں۔ فلاں کے بھانجے ہیں اور اب یہ زمانہ آگیا ہے کہ فلاں کے باپ ہیں اور فلاں کے ماموں۔ عمر رسیدہ پیش رو زبان حال سے کہہ رہے ہیں کہ اس کے آگے مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں۔
    پیشہ: گوکہ یونیورسٹی کے امتحانوں میں اول آیا، لیکن اسکول میں حساب سے کوئی طبعی مناسبت نہ تھی۔ اور حساب میں فیل ہونے کو ایک عرصے تک اپنے مسلمان ہونے کی آسمانی دلیل سمجھتا رہا۔ اب وہی ذریعہ معاش ہے۔ حساب کتاب میں اصولاً دو اور دو چار کا قائل ہوں۔ مگر تاجروں کی دل سے عزت کرتا ہوں کہ وہ بڑی خوش اسلوبی سے دو اور دو کو پانچ کر لیتے ہیں۔
    پہچان: قد: پانچ فٹ ساڑھے چھ انچ (جوتے پہن کر)
    وزن: اوور کوٹ پہن کر بھی دبلا دکھائی دیتا ہوں۔ عرصے سے مثالی صحت رکھتا ہوں۔ اس لحاظ سے کہ جب لوگوں کو کراچی کی آب و ہوا کو برا ثابت کرنا مقصود ہو تو اتمام حجت کے لیے میری مثال دیتے ہیں۔
    جسامت: یوں سانس روک لوں تو 38 انچ کی بنیان بھی پہن سکتا ہوں۔ بڑے لڑکے کے جوتے کا نمبر 7 ہے جو مجھے بھی فٹ آتا ہے۔
    حلیہ: اپنے آپ پر پڑا ہوں۔ پیشانی اور سر کی حد فاصل اڑ چکی ہے۔ لہذا منہ دھوتے وقت یہ سمجھ نہیں آتا کہ کہاں سے شروع کروں۔ ناک میں بذات کوئی نقص نہیں مگر دوستوں کا خیال ہے کہ بہت چھوٹے چہرے پر لگی ہوئی ہے۔
    پسند: مرزا غالب، ہاکس بے، بھنڈی، پھولوں میں، رنگ کے لحاظ سے سفید گلاب اور خوشبوؤں میں نئے کرنسی نوٹ کی خوشبو بہت مرغوب ہے۔ میرا خیال ہے کہ سرسبز تازہ تازہ اور کرارے کرنسی نوٹ کا عطر نکال کر ملازمت پیشہ حضرات اور ان کی بیویوں کو مہینے کی آخری تاریخوں میں سنگھایا جائے تو گرہستی زندگی جنت کا نمونہ بن جائے۔ پالتو جانوروں میں کتوں سے پیار ہے۔ پہلا کتا چوکیداری کے لیے پالا تھا۔ اسے کوئی چرا کر لے گیا۔ اب بر بنائے وضع داری پالتا ہوں کہ انسان کتے کا بہترین رفیق ہے۔ بعض تنگ نظر اعتراض کرتے ہیں کہ مسلمان کتوں سے بلاوجہ چڑتے ہیں حالانکہ اس کی ایک نہایت معقول اور منطقی وجہ موجود ہے۔ مسلمان ہمیشہ سے ایک عملی قوم رہے ہیں۔ وہ کسی ایسے جانور کو محبت سے نہیں پالتے جسے ذبح کرکے کھا نہ سکیں۔ گانے سے بھی عشق ہے۔ اسی وجہ سے ریڈیو نہیں سنتا۔
    چڑ: جذباتی مرد، غیر جذباتی عورتیں، مٹھاس، شطرنج۔
    مشاغل: فوٹو گرافی، لکھنا پڑھنا
    تصانیف: چند تصویران بتاں، چند مضامین و خطوط
    کیوں لکھتا ہوں: ڈزریلی نے اس کے جواب میں کہا تھا کہ جب میرا جی عمدہ تحریر پڑھنے کو چاہتا ہے تو ایک کتاب لکھ ڈالتا ہوں۔ رہا سوال کہ یہ کھٹ مٹھے مضامین طنزیہ ہیں یا مزاحیہ یا اس سے بھی ایک قدم آگے یعنی صرف مضامین، تو یہاں صرف اتنا عرض کرنے پر اکتفا کروں گا کہ وار ذرا اوچھا پڑے یا بس ایک روایتی آنچ کی کسر رہ جائے تو لوگ اسے بالعموم طنز سے تعبیر کرتے ہیں، ورنہ مزاح ہاتھ آئے تو بت، نہ آئے تو خدا ہے۔

    پھر جب سرگزشت میں اپنا تعارف کرایا تو انداز بدل گیا گو کہ اس بار بھی وہ مزاح کی پھلجھڑیاں بکھیرتے نظر آتے ہیں۔ ملاحظہ ہو:

    رنگ: سبھی رنگ پسند ہیں، سو کے نوٹوں کے رنگ بدلتے رہتے ہیں۔
    پھول: تیز مہکار چہکار نہیں بھاتیں، رات کی رانیاں، دونوں قسم کی۔ دور کسی اور کے انگن میں ہی سے مہک دیتی اچھی لگتی ہیں۔
    حسن: جہاں تک حسن کا تعلق ہے، وغیرہ وغیرہ پسند ہے۔
    حلیہ: آئینہ دیکھتا ہوں تو قادر مطلق کی صناعی پر جو ایمان ہے وہ کبھی متزلزل ہو جاتا ہے۔
    خاندان اور بچپن: اس صدی کی تیسری دہائی میں ایک خاتون نے جو اردو میں معمولی شد بد رکھتی تھی، اس زمانے کا مقبول عام ناول "شوکت آرا بیگم” پڑھا، جس کی ہیروئن کا نام شوکت آرا اور معاون کردار کا نام فردوس تھا۔ ان کے جب بیٹیاں ہوئیں تو دونوں کے یہی نام رکھے گئے۔ ایک کردار کا نام ادریس اور دوسرے خدائی خوار کا اچھن تھا۔ یہ دونوں انہوں نے اپنے چھوٹے بیٹے کو بطور نام اور عرفیت بخش دیے۔ بچے کل چار دستیاب تھے جبکہ ناول میں ہیرو کو چھوڑ کر ابھی ایک اور اہم کردار پیارے میاں نامی ولن باقی رہ گیا تھا۔ چنانچہ ان دونوں ناموں اور دہرے رول کا بوجھ بڑے بیٹے کو ہی اٹھانا پڑا جس کا نام ہیرو کے نام پر مشتاق احمد رکھا گیا تھا۔ یہ سادہ لوح خاتون میری ماں تھی۔ بحمداللہ 1 ناول کی پوری کاسٹ، باستثنائے شوکت آرا، جس کا طفولیت میں ہی انتقال ہو گیا تھا، زندہ و سلامت ہے۔ والدہ کی بڑی خواہش تھی کہ میں ڈاکٹر بنوں اور عرب جا کر بدووں کا مفت علاج کروں، اس لیے کہ ناول کے ہیرو نے یہی کیا تھا۔ مولا کا بڑا کرم ہے کہ ڈاکٹر نہ بن سکا۔ ورنہ اتنی خراب صحت رکھنے والے ڈاکٹر کے پاس کون پھٹکتا۔ ساری عمر کان میں اسٹھیسس کوپ لگائے اپنے ہی دل کی دھڑکنیں سنتے گزری۔ البتہ ادھر دو سال سے مجھے سعودی عرب، بحرین، قطر، عمان اور عرب امارات کی خاک نہیں تیل چھاننے اور شیوخ کی خدمت کی سعادت نصیب ہوتی رہی ہے۔ ناول کے بقیہ پلاٹ کا بے چینی سے انتظار کر رہا ہوں۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ اردو ادب کبھی زندگی پر اثر انداز نہیں ہوا وہ ذرا دیدہ عبرت نگاہ سے اس عاجز کو دیکھیں۔ یہ کچا چٹھا۔

    ادبی کام

    چراغ تلے 1961ء میں چھپی اور خاکم بدہن 1969ء میں، جب کہ زرگزشت 1976ء میں اور ان تین کتابوں کے ذریعے انہوں نے شگفتہ نثر نگاری کا جو اعلی معیار قائم کیا اس کا نمونہ دور دور تک کہیں اور نظر نہیں آتا تھا۔ آبِ گم، جو 1990ء میں چھپی ناول کی طرح مقبول ہوئی۔ یہ ایسی کتابیں تھیں جن کے وسیلے سے یوسفی صاحب اردو ادب کا ایک مستقل باب ہو چکے تھے۔ ایک اور کتاب بھی آئی تھی یوسفی صاحب کی، شامِ شعرِ یاراں۔ یہ کتاب 2014ء میں منظر عام پر آئی جو ان کی متفرق تحریروں کو جہاں تہاں سے جمع کرکے مرتب کر لی گئی تھی۔

    شامِ شعرِ یاراں جب شائع ہوئی تو ان کے مداحوں کو اس سے مایوسی ہوئی کیونکہ ان کے شائقین کے سامنے ان کا سابقہ معیار تھا جس کے وہ نئی کتاب میں منتظر تھے۔ شامِ شعرِ یاراں یوسفی کے مانوس اسلوب کے معیار پر نہیں اتری تھی۔ دراصل یہ آخری کتاب ان کے مضامین اور بعض تقریروں کا مجموعہ ہے۔
    بجھی بجھی شامِ شعر یاراں

    یوسفی کی آخری تصنیف کو ربع صدی گزر چکی تھی۔ چونکہ ان کے مداحوں کو ان کا چکسا لگ چکا تھا چنانچہ وہ آنے والی نئی تصنیف کا بڑی بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔ مشتاق احمد کی پرانی کتابیں، ان میں موجود گدگداتے جملے اور ان کا منفرد لب و لہجہ والا طنز و مزاح کچھ ایسی باتیں تھیں جو سب کو شوق انتظار میں مزہ دے رہی تھیں۔ کچھ یہ بھی سوچ رہے تھے کہ شاید اس میں آب گم والا معیار ہو یا چونکہ 25 برس بعد کچھ لا رہے ہیں تو اس سے بھی بڑھ کر کچھ ہو۔ مگر جب کتاب منظر عام پر آئی تو امیدوں کے سارے ارمان پانی میں بہ گئے۔ یہ کتاب کیا تھی تقریروں کا مجموعہ تھی اور پرانی کتابوں کے ڈھیروں اقتباس درج تھے۔ خدا جانے یوسفی صاحب نے اس کتاب کو کس نیت سے شائع کیا تھا مگر اس میں ان کا وہ معیار نظر نہ آیا جس کے لیے وہ مشہور تھے۔ ظفر سید بی بی سی اردو میں لکھتے ہیں کہ:
    ” کتاب آنے سے پہلے سب سوچتے تھے کہ اس میں یوسفی صاحب کو شاید ’آبِ گم‘ کے فلک بوس معیار کو ایک بار پھر چھونے میں مشکل پیش آئے گی۔ لیکن دلِ خوش فہم کے ایک گوشے میں ایک کرن یہ بھی پنپتی رہی کہ 25 سال بعد کتاب لا رہے ہیں تو کیا پتہ، اس میں کچھ چمتکار دکھا ہی دیں۔

    ویسے بھی کہا جاتا ہے کہ یوسفی صاحب کے اندر کا نقاد بہت سخت ہے، جب تک تحریر خود ان کے کڑے پیمانے پر سولہ آنے نہ اترے، اسے دن کی ہوا نہیں لگنے دیتے۔ ان کا مسودے کو پانچ سات سال تک ’پال میں رکھنے‘ والا فقرہ تو ویسے ہی بڑا مشہور ہے۔ کچھ امیدیں اس وجہ سے بھی بندھیں کہ افتخار عارف نے کراچی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ یوسفی صاحب نے گذشتہ عشروں میں سات سات سو صفحے کے دو سفرنامے، چار سو صفحے کا ایک ناول اور پتہ نہیں کیا کیا لکھ رکھا ہے، لیکن وہ انھیں شائع نہیں کروا رہے کہ ایک آدھ آنچ کی کسر ہے۔ بالآخر دکانوں کے چکر لگا لگا کر کتاب ہاتھ آئی تو پڑھ کر امیدوں کے محل زمین پر آ رہے۔ کتاب کیا ہے، طرح طرح کی الم غلم تحریریں جمع کر کے بھان متی کا کنبہ جوڑ رکھا ہے۔ اگر کالموں کے کسی مجموعے کی تقریبِ رونمائی میں تقریر کی ہے تو اسے بھی کتاب کی زینت بنا دیا ہے، کسی مرحوم کی یاد میں تاثرات پیش کیے تو کتاب میں درج کر ڈالے، سالانہ مجلسِ ساداتِ امروہہ میں اظہارِ خیال کیا تو لگے ہاتھوں اسے بھی شامل کر دیا اور پھر تکرار ایسی کہ خدا کی پناہ۔

    تصانیف

    چراغ تلے (1961ء)
    خاکم بدہن (1969ء)
    زرگزشت (1976ء)
    آب گم (1990ء)
    شامِ شعرِ یاراں (2014ء)

    یوسفی پارے

    مشتاق احمد یوسفی نے اپنی کتابوں بے شمار ایسے جملے کہے لکھے ہیں جو ضرب المثل بن گئے۔ لوگ انکو مزین اور رنگین تصاویر میں سجا کر فیس بک پر شیئر کرتے ہیں۔ واٹس ایپ پر اسٹیٹس لگاتے اور اقوال زریں کی طرح ان کو پھیلاتے ہیں۔ ان کے چند اقوال درج ذیل ہیں:

    "ادھر کچھ ماہ قبل ایک شوخ چنچل لڑکی ہمیں ملی۔ آدھ پون گھنٹے کی گفتگُو کے بعد کہنے لگی کہ یُوسفی صاحب! بات چیت میں تو آپ بالکل ٹھیک ٹھاک ہیں مگر تحریر میں بالکل لُچّے لگتے ہیں”۔ ( مُشتاق احمد یوسفی)
    کسی لڑکی نے پوچھا کہ "اپنی کمپنی انجوائے کرنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟”

    بولے: "ایسے دوست بنائیے اور ایسی کتابیں پڑھیے کہ جو آپ کو سوچنے کی تحریک دیں۔” لڑکی بولی "اور اگر ایسے دوست نہ ہوں تو؟” "ایسی حالت میں عام طور سے لڑکیاں شادی کر لیتی ہیں۔”

    بعض مردوں کو عشق ميں محض اس لیے صدمے اور ذلتيں اُٹھانی پڑتی ہيں کہ ”محبت اندھی ہوتی ہے” کا مطلب وہ يہ سمجھ بيٹھتے ہيں کہ شايد عورت بھی اندھی ہوتی ہے۔
    مرد کی آنکھ اور عورت کی زبان کا دم سب سے آخر میں نکلتا ہے۔
    وہ چچا سے پھوپا بنے اور پھوپا سے خسر الحذر۔
    پاکستان کی افواہوں کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ سچ نکلتی ہیں۔
    مسلمان کسی ایسے جانوار کو محبت سے نہیں پالتے جسے وہ ذبح کر کے کھا نہ سکیں۔
    آدمی ایک بار پروفیسر ہو جائے تو عمر بھر پروفیسر ہی رہتا ہے خواہ بعد میں سمجھداری کی باتیں ہی کیوں نہ کرنے لگے۔
    سردی زیادہ اور لحاف پتلا ہو تو غریب غربا منٹو کے افسانے پڑھ کر سو جاتے ہیں۔
    انسان واحد حیوان ہے جو اپنا زہر دل میں رکھتا ہے۔
    میرا تعلق تو اس بھولی بھالی نسل سے رہا ہے جو خلوصِ دل سے سمجھتی ہے کہ بچے بزرگوں کی دعا سے پیدا ہوتے ہیں۔
    الحمد للہ بھری جوانی میں بھی ہمارا حال اور حلیہ ایسا نہیں رہا کہ کسی خاتون کے ایمان میں خلل واقع ہو۔
    اسلام آباد درحقیقت جنت کا نمونہ ہے، یہاں جو بھی آتا ہے حضرت آدم کی طرح نکالا جاتا ہے۔
    کرنل محمد خان سے: ’کرنل صاحب، سفرنامے میں نازنینوں کی تعداد آپ کی ذاتی ضرورت سے کہیں زیادہ ہے، آخر بچارے مقامی گوروں کا بھی حقِ بدچلنی بنتا ہے۔‘
    پرانا مقدمے باز آدھا وکیل ہوتا ہے اور دائم المرض آدمی پورا عطائی۔
    طوطے سے مستقبل کا حال پوچھنے کا فائدہ یہ ہے کہ ہمیشہ ایک اور نیک فال نکالتا ہے، جس کا سبب یہ کہ دماغ کی بجائے چونچ سے کام لیتا ہے۔
    (جنرل ضیاء الحق اپنی تقریروں میں) چنگیزی طرزِ ادا سے مزاح کا ناس مار دیتے تھے، کیوں کہ مزاح ان کے مزاح، منصب، مونچھ، سری جیسی ابلواں آنکھوں اور وردی سے لگّا نہیں کھاتا تھا۔

    اعزازات

    ستارہ امتیاز: صدر پاکستان کے ہاتھوں سے سنہ 1999ء میں ملا۔
    ہلال امتیاز: صدر پاکستان کے ہاتھوں سے سنہ 2002ء میں ملا۔
    قائد اعظم
    پاکستان اکیڈمی برائے خطوط انعام سنہ 1990ء: سب سے بہترین کتاب کے لیے۔
    ہجرہ انعام
    آدم جی انعام: سب سے بہترین کتاب کے لیے۔

    وفات
    20 جون، سنہ 2018ء کو کراچی میں وفات ہوئی، کل 94 سال کی عمر پائی۔ 20 جون کو سلطان مسجد کراچی میں نماز جنازہ کے بعد ان کو سپرد خاک کیا گیا۔۔!!!

  • مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی اہم پریس کانفرنس، قرضوں اور مختلف منصوبوں سے متعلق تمام تفصیلات بیان کر دیں

    مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی اہم پریس کانفرنس، قرضوں اور مختلف منصوبوں سے متعلق تمام تفصیلات بیان کر دیں

    مشیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ اوردیگروفاقی وزرا نے پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ معاشی ٹیم ملک کی اقتصادی حالت کی بہتری کیلیے کوشش کر رہی ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان پر 30ہزارارب کا قرضہ چڑھا ہوا تھا ، درآمدات میں کمی کرنٹ اکاونٹ خسارہ بہتر کیا گیا ، آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کے پروگرام کو سراہا گیا، نجی سیکٹر کو بجلی گیس اورقرضوں میں سبسڈی دی گئی ، اقدامات کا مقصد ہے کہ نجی شعبہ روزگار کے مواقع بڑھائے، کفایت شعاری کے پروگرام میں سول حکومت کے اخراجات میں 50ارب روپے کمی کی، فوج کے اخراجات کو منجمد کیا گیا،کابینہ کی تنخواہیں کم کی گئیں ، قبائلی علاقوں کی ترقی کیلیے 150ارب روپے رکھے گئے ، درآمدات میں کمی کی وجہ سے بعض شعبوں کے ریونیو میں کمی بھی آئی، ٹارگٹ بڑھائے ہیں تاکہ ریونیو میں تاریخی سطح پراضافہ ہو ،

    مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہاکہ 250ارب کے منصوبے زراعت کے شعبے کے ہیں ، دوسیلولر کمپنیوں سے ایک دو روز میں حکومت کو 70ارب روپے ملے ہیں، ٹیکس دینےوالوں کی تعداد میں 27فیصد اضافہ ہواہے، ہر مہینے کی 16تاریخ کو برآمدکنندگان کو ٹیکس ریفنڈ کیے جائیں گے ، فیصلہ کیا گیا ہےبرآمدکنندگان کو فوری ٹیکس ریفنڈ کیے جائیں گے ، برآمدکنندگان کو ریفنڈ میں مشکلات آرہی تھیں ،
    2015سے آج تک کےتصدیق شدہ سیلز ٹیکس ریفنڈکے احکامات دیے گئے ہیں، انکم ٹیکس میں 2015سےآج تک کےدرمیانےطبقےکے ریفنڈ مکمل واپس کرنیکا فیصلہ کیا گیا ہے، تاجروں اور انکم ٹیکس میں ریفنڈ کیے گئے ، پاکستان میں 19 لاکھ لوگ ٹیکس فائلر تھے ،ہماری حکومت میں تعداد 25لاکھ تک بڑھائی گئی، انہوں نے کہاکہ گردشی قرضے میں 28ارب روپے کی کمی لائی گئی ہے، گردشی قرضے میں ہر ماہ 38ارب روپے اضافہ ہورہا تھا ،

    ان کا کہنا تھا کہ پاور سیکٹر میں چوری پکڑنے سے 100ارب روپے بچائے گئے ، ایل این جی پلانٹس کی پرائیویٹائزیشن سے 300ارب کا اضافہ ہوگا، دو سے 10ارب کے پراجیکٹ کی منظوری پی ڈی ڈبلیو میں ہی کرانے کا فیصلہ کیا، دس ارب سے بڑاپراجیکٹ ایکنک میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ،توقع ہے زرعی شعبے میں ترقی ساڑھے تین فیصد ہوگی ، پانچ سال کے دوران زرعی شعبے میں ترقی نہیں ہوئی بلکہ منفی میں تھی،معیشت کیلیے ٹارگٹ 2.4 فیصد رکھا ہے آسانی سے حاصل کرلیں گے، حکومت نے تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی کا فائدہ صارفین تک منتقل کیا، ایکنک میں 579ارب روپے کے پراجیکٹس منظور کیے گئے ہیں،

    مشیر خزانہ نے کہاکہ آٹے کی قیمت کنٹرول کیلیے ایک دو روز میں اسٹیک ہولڈرسے میٹنگ کی جائے گی ، ٹیکس وصولیاں مقررہ اہدا ف کے مقابلے میں 90فیصد پر آئیں ،جی آئی ڈی سی لانے کا مقصدکھاد کی قیمتوں میں کمی کرنا ہے ، وفاقی وزیر عمر ایوب نے کہاکہ جی آئی ڈی سی پر سپریم کورٹ کا ہر فیصلہ قبول ہوگا ، جی آئی ڈی سی پر417ارب کی رقم کا فیصلہ سپریم کورٹ کرے گی ، ایکسپورٹ ریفنڈ میں ایف بی آر اہل کاروں کا کردا رختم کردیا گیا ہے ، مشیر خزانہ نے کہاکہ جی آئی ڈی سی پر حکومت کی رہ نمائی کیلیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ،

  • آو چلیں  شہید کے گھر،ورثا شہدا کو خراج تحسین پیش کرنے کی تیاریاں جاری

    آو چلیں شہید کے گھر،ورثا شہدا کو خراج تحسین پیش کرنے کی تیاریاں جاری

    خانیوال (نمائندہ باغی ٹی وی)آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ یوم دفاع چھ ستمبر کا سلوگن”آئیں چلیں شہید کے گھر” کے تحت خانیوال میں بھی تیاریاں جاری ہیں۔مختلف تنظمیوں کے نمائندے یوم دفاع پر شہدائے پاکستان کے لواحقین کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ان کے گھر جائیں گے اور ان کے ورثا کو گلدستے اور سبز ہلالی پرچم پیش کریں گے۔
    تفصیلات کے مطابق خانیوال کے علاقہ جہانیاں اور ٹھٹھہ صادق اباد کے ورثا شہدا میں بھی ٹیم سرعام جہانیاں،انجمن صحافیان و پریس کلب ٹھٹھہ صادق آباد اور سول سوسائیٹی کا مشترکہ وفد ورثا شہدا کے گھر جائے گا اور ان کو خراج تحسین پیش کرے گا اور شہدا کے لواحقین کا شکریہ بھی ادا کریں گے۔باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تھٹھہ صادق اباد سے متصلہ چکوک کے تقریبا تیس شہدائے پاک فوج اور پنجاب پولیس ہیں جن میں سے چند شہدا جنگ ستمبر 1965 کے بھی شہد ہیں ۔ٹیم سرعام ،پریس کلب اور سول سوسائیٹی کا وفد شہدائے 1965 کے گھروں میں ان کے لواحقین سے خوصوی طور پہ ملیں گے۔