Baaghi TV

Author: +9251

  • سابق ٹیسٹ کرکٹر سعید اجمل بھی قومی کرکٹ ٹیم کے باءولنگ کوچ کے امیدوار بن گئے

    سابق ٹیسٹ کرکٹر سعید اجمل بھی قومی کرکٹ ٹیم کے باءولنگ کوچ کے امیدوار بن گئے

    سابق ٹیسٹ کرکٹر سعید اجمل بھی قومی کرکٹ ٹیم کے باءولنگ کوچ کے امیدوار بن گئے

    لاہور ۔ 30 جولائی (اے پی پی) پوری دنیا میں اپنی سپن باولنگ کا جادو دکھانے والے سابق ٹیسٹ کرکٹر سعید اجمل بھی قومی کرکٹ ٹیم کے باولنگ کوچ کے امیدوار بن گئے ۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے لیجنڈ سپن باولر نے کہا کہ وہ قومی ٹیم کے باءولنگ کوچ کے عہدہ میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اگر انہیں موقع دیا گیا تو اپنے تجربہ سے قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کو مستفید کرنے کی پوری کوشش کروں گا ۔ سعید اجمل نے بتایا کہ وہ انگلینڈ اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیول 2 کے کوچنگ کورس کر چکے ہیں اور لیول تھری کوچنگ کورس میں اپریل میں شرکت کریں گے ۔ انہوں نے کہاکہ وہ اپنی اکیڈمی میں نوجوان کھلاڑیوں کی بڑی تعداد کی کوچنگ کررہے ہیں ۔

  • وزیر اعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس، اسلام آباد کا ماسٹر پلان جلد مکمل کرنے کی ہدایت

    وزیر اعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس، اسلام آباد کا ماسٹر پلان جلد مکمل کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ اجلاس ہوا ہے جس میں‌ فیصلہ کیا گیا ہے کہ احتساب کے عمل کو مزید موثر بنایا جائے گا،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ جرائم پیشہ افرادسےمجرموں جیساسلوک ہوناچاہیے، انہوں نے اسلام آباد کا ماسٹر پلان جلد مکمل کرنے کی ہدایات جاری کیں جبکہ وزیراعظم نے 2 روز بعد اسلام آباد ماسٹر پلان پراہم اجلاس طلب کرلیا ہے،

    وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اسلام آبادکےپوش علاقوں میں بلندعمارتوں کوترجیح دی جائے، اسی طرح کہا گیا ہے کہ سیکٹرجی 6جیسےمرکزی علاقےمیں بلندعمارتیں تعمیر کی جائیں،

  • دنیاپور : خونی روڈ پر حادثات جاری

    دنیاپور (نمائندہ باغی ٹی وی) کا سپر ہائی وے روڈ خونی روڈ بن چکا ہے یہاں پر حادثات روز کا معمول ہیں دنیاپور شہر میں داخل ہونے کیلئے کوئی مناسب یوٹرن نہ ہونا حادثات کی وجہ ہے

    گزرنے والے جمعہ کے دن بھی مناسب یوٹرن نہ ہونے کی وجہ سے کئی افراد گھائل اور ایک شخص جان کی بازی ہار گیا تھا خود ساختہ یوٹرن حادثات کا پیش خیمہ ثابت ہو رہا ہے

    آج بھی اس خود ساختہ یوٹرن نے ایک شخص کو ٹانگوں سے محروم کر دیا ہے دنیاپور کے نواحی علاقے کا رہائشی دنیاپور شہر میں داخل ہونے کیلئے جب اس خود ساختہ یوٹرن کے قریب پہنچا تو حادثے کا شکار ہو کر ٹانگوں سے محروم ہو گیا

  • جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے پروفیسر ڈاکٹر رضوان اللہ کوکب کی کتاب کی تقریب رونمائی

    فیصل آباد( نمائندہ باغی ٹی وی ) پاکستان کی تقسیم اور بنگلہ دیش بننے کا کوئی ایک طبقہ ‘ لیڈر یا ادارہ ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عالمی حالات’ محرومی کا مسلسل احساس ‘مشرقی پاکستان کی لیڈر شپ کاعوامی مؤقف سے دور رہنا اور مطالبات کو نظر انداز کرنا’سیاسی’ معاشی و معاشرتی صورتحال اور دیگر بہت سے عوامل تقسیم کی وجہ بنے۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے معروف تاریخ دان اور جی سی یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ و مطالعہ پاکستان کے انچارج ڈاکٹر رضوان اللہ کوکب کی کتاب ”مشرقی پاکستان میں علیحدگی پسندی : ناکام قیادت کا تحقیقی مطالعہ ” کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جی سی ویمن یونیورسٹی کی سابق وائس چانسلر اور جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کی ڈائریکٹر ایڈوانس سٹڈیز ڈاکٹر صوفیہ انور نے کہا ہے کہ معاشرے کے تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلنا ہی قیادت کی کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے۔ کسی بھی طبقے میں احساس محرومی ‘ معاشی وسائل کی تقسیم میں عدم مساوات’ سیاسی’ معاشی اور پاور سٹرکچر سے کسی بھی طبقے کی عدم شمولیت معاشروں اور قوموں کیلئے نقصان کا باعث بنتا ہے۔ ماضی کے تلخ حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقبل کیلئے بہتر منصوبہ بندی کرنا ہی زندہ قوموں کی پہچان ہوتی ہے۔ ڈاکٹر رضوان اللہ کوکب نے کہا کہ پاکستان کی تقسیم اور مشرقی پاکستان میں علیحدگی پسندی کا غیرجانبدارانہ انداز میں مطالعہ اور تحقیق کرنے کی ضرورت تھی۔ اس کتاب میں1947سے لے کر 1971تک کے حالات کا تحقیقی انداز میں غیرجانبدارانہ جائزہ لے کر صورتحال کو پیش کیا گیا ہے۔ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ قائداعظم پورا بنگال اور سکھوں سمیت پورا پاکستان لینا چاہتے تھے۔جہاں دو دوردراز کے دوجغرافیائی خطوں پر مشتمل ایک آزاد ملک (پاکستان ) کا بننا ایک تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ تھا وہیں مشرقی پاکستان کی علیحدگی دنیا کی تاریخ کا انوکھا واقعہ ہے کہ کسی بھی ملک کی اکثریتی آبادی نے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے اپنی الگ شناخت بنائی ۔ ہمیشہ اقلیت میں ہونے والے علیحدگی کی بات کرتے ہیں۔ مشرقی پاکستان میں علیحدگی پسندی کی تحریک صرف 70کی دہائی میں ہی شروع نہیں ہوئی۔ اس کی چنگاریاں 1947سے ہی پھوٹتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ قومی زبان کے ایشو سے تو ایک زمانہ آگاہ ہے۔ قائد اعظم نے اردو کو قومی زبان قرار بھی سی لئے دیا تھا کہ اردو پاکستان کے کسی صوبے یا علاقے کی زبان نہیں ہے۔ اگست 1947کی تاریخی ہجرت’ 1948 میں وسائل کی تقسیم’ 1949 میں آئین کے بنانے پر اختلاف’ عوامی مسلم لیگ اور یوتھ لیگ کا قیام اور متعدد دیگر عوامل علیحدگی پسندی کے چشمے سے پھوٹتی ہوئی چنگاریاں ہی تو تھیں۔ 1971کی جنگ کے حالات و نقصانات کے حوالے سے بھی دونوں طرف مبالغہ آرائی سے کام لیا جاتا ہے۔ مشرقی پاکستان کی تقسیم کے عوامل اور حالات کا دو نہیں چار( پاکستان’ بنگلہ دیش’ انڈیا اور عالمی صورتحال) تناظر میں جائزہ لینے کی ضرورت تھی اور اس کتاب میں ایسا ہی کیا گیا ہے۔ جی سی یونیورسٹی کے انگلش ڈیپارٹمنٹ کے سینئر فیکلٹی ممبر ڈاکٹر محمد آصف نے اس موقع پر کہا کہ ڈاکٹر رضوان اللہ کوکب کی اس کتاب کا سب سے اہم پہلو کو مجھے لگا وہ یہ ہے کہ پوری کتاب میں ڈاکٹر رضوان خود کہیں نظر نہیں آتی۔ انہوں نے عام تاریخ دانوں کی طرح بیانیہ انداز میں صورتحال پیش کرنے کی بجائے غیرجانبدارانہ انداز میں حقائق پیش کئے ہیںاور یہی اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ انہوں نے جس خوبی کے ساتھ حقائق کو غیرجانبدار رہتے ہوئے پیش کیا ہے وہ ان کا ہی خاصہ ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر اسماء آفتاب نے کہا کہ بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے اس سے کسی رعائت کی امید رکھنا ہی عبث ہے مگر مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے تناظر میں پاکستان کی اس وقت کی لیڈر شپ کا کردار بھی غلطیوں سے پاک نہیں ہے۔ ضرورت تھی کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے حوالے سے غیرجانبدارانہ بیانیہ کے ساتھ کام کرکے حقائق سامنے لائے جاتے۔ ڈاکٹر رضوان اللہ کوکب نے اس ضروت کو بری حد تک پورا کیا ہے اور تاریخ کے قارئین کو نئے زاوئیے سے حقائق کا جائزہ لینے کا موقع دیا ہے۔تقریب کے دوران جی سی یونیورسٹی شعبہ تاریخ کے لیکچرار حسن سانول نے بھی اظہار خیال کیا اور ڈاکٹر رضوان اللہ کوکب کو اس تاریخ کتاب کی تشکیل پر خراج تحسین پیش کیا۔

  • سوڈان، 2003ءمیں تباہ ہوئے طیارہ میں بچ جانے والا بچہ اس سال حج کی سعادت حاصل کر رہا ہے

    سوڈان، 2003ءمیں تباہ ہوئے طیارہ میں بچ جانے والا بچہ اس سال حج کی سعادت حاصل کر رہا ہے

    سوڈان سے 2003ءمیں حج کو جانے والاطیارہ تباہ ہو گیا تھا۔ طیارے میں 117مسافر سوار تھے۔ تمام کے تمام اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھے۔ صرف ایک شیرخوار بچہ ہی بچ سکا تھا۔

    بچ جانے والے بچے کا نام محمد الفاتح عثمان تھا۔ یہ طیارے میں واحد مسافر تھا جو زندہ بچا تھا۔

    بچے کا والد اس وقت سعودی عرب میں کام کر رہا تھا۔ جب اسے طیارے کے حادثے کی خبر ملی تووہ شاکڈ ہو گیا۔ یہ ایک معجزہ ہی تھا کہ پورے طیارے میں سے ایک بچہ بچ گیا ۔

    محمد الفاتح اس سال حج کر رہا ہے۔ وہ آئی ٹی میں تعلیم حاصل کر رہا ہے۔

    بچے کے والد نے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہو ں کہ میں اپنے بیٹے کے ساتھ اس برس حج کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔

  • شجاع آباد غیر قانونی درختوں کی کٹائی

    شجاع آباد غیر قانونی درختوں کی کٹائی

    شجاع آباد ستم ظریفی کی ایک اور داستان رقم کر دی گئی راجہ رام روڈ پر بستی عارب میں کسی نے سرکاری درختوں کو کاٹ کر روڈ پر پھینکا ہوا ہے اعلی حکام سے مطالبہ ہے کہ فوری طور پر اس کا نوٹس لیا جاے اور غیر قانونی طور پر درخت کاٹنے والوں کے خلاف فوری طور پر ایکشن لیا جائے یاد رہے درخت ماحولیاتی آ لو دگی کو کنٹرول کرنے کا بہت بڑا ذریعہ ہیں ۔ رانا اظہر منیر باغی ٹی وی ملتان شجاع آباد

  • گوجرانوالہ جی ٹی روڈ پر تجاوزات کے خاتمہ کے لیے گرینڈ آپریشن کب شروع ہو رہا ہے باغی ٹی وی نے پتا لگا لیا

    گوجرانوالہ: ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر(ریونیو) ڈاکٹر ذیشان حنیف نے کہا ہے کہ کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن وقاص علی محمود اور ڈپٹی کمشنر نائلہ باقر کی ہدایت پر جی ٹی روڈ سے تجاوزات کے خاتمہ کیلئے گرینڈ آپریشن کا آغاز آئندہ ہفتے کردیا جائے گا- اس ضمن میں تمام متعلقہ محکمے اپنا ٹھوس لائحہ عمل تشکیل دیں تاکہ مل جل کر اس مہم کو کامیاب بنایا جاسکے-
    ان خیالات کا اظہار انہوں نے اینٹی انکروچمنٹ مہم کے سلسلہ میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا- تمام تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنرز سٹی عثمان سکندر، صدر حناء ارشد، نوشہرہ ورکاں فیضان عارف، اے سی ہیڈ کوارٹر ماجد بن احمد، وزیرآباد وقار حسین، کامونکی شاہد جوتہ، سی ای او ایم ڈی جی ڈبلیو ایم سی میاں عتیق الرحمان، سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر فرجاد احمد سی ای او کارپوریشن امجد ڈھلوں، ضلع کونسل، پی ایچ اے، واسا، میونسپل کمیٹی، سوئی گیس، ہائی ویز کے علاوہ دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے اجلاس میں شرکت کی-
    ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو ڈاکٹر ذیشان حنیف نے ضلع کونسل، میونسپل کارپوریشن، واسا، ویسٹ مینجمنٹ کمپنی، پی ایچ اے اور محکمہ ہائی وے افسران کو تنبیہ کی کہ وہ آپس میں کوآرڈینشین مضبوط بناتے ہوئے مشترکہ لائحہ عمل کے تحت آپریشن شروع کریں – انہوں نے کہا کہ سرکار کی ایک ایک انچ سے قبضہ واگزا کروایا جائیگا- انہوں نے عوام الناس سے اپیل کی کہ وہ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں اور رضا کارانہ طور پر تجاوزات گرا دیں بصورت دیگر ان کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی- انہوں نے محکمہ واپڈا اور سوئی گیس کے افسران کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ موقع پر موجود رہیں تاکہ آپریشن کے دوران کسی قسم کی لیکیج کی صورت میں فوری طو رپر کنٹرول کیا جاسکے-انہوں نے مزید کہا کہ پلاسٹک کے پولی تھین بیگ انسانی صحت کیلئے نقصان دہ ہیں ان کی حوصلہ شکنی بھی ضروری ہے

  • ضلع رحیم یارخان میں پکار 15 پر رسپناس کے لیے ہر تھانہ کی سطح پر اہلکار تعینات کر دئیے گئے۔

    ضلع رحیم یارخان میں پکار 15 پر رسپناس کے لیے ہر تھانہ کی سطح پر اہلکار تعینات کر دئیے گئے۔

    رحیم یارخان ( ) پولیس ایمرجنسی ریسکیو 15 پکار 15 میں تبدیل پنجاب بھر کے 36 اضلاع کا مرکزی کنٹرول روم لاہور میں قائم کر دیا گیا۔ ضلع رحیم یارخان میں پکار 15 پر رسپناس کے لیے ہر تھانہ کی سطح پر اہلکار تعینات کر دئیے گئے۔اطلاع ملنے پر اہلار سات منٹ میں کالر کے پاس پہنچ جائیں گے۔ تفصیل کے مطابق پولیس ایمرجنسی ریسکیو15 کے نام سے عرصہ دراز سے کام کر رہی تھی جسے بہتر بنانے کے لیے انپسکٹر جنرل آف پولیس پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز نے ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے پنجاب بھر کے پولیس ایمرجنسی ریسکیو 15 کو پکار 15 کا نام دیکر پنجاب بھر کے36 اضلاع کا مرکزی کنٹرول روم لاہور میں قائم کر دیا ہے۔

    ڈی پی او عمر سلامت نے اس سلسلہ میں ضلع بھر کے ڈیوٹی آفیسرز سے ایک اہم میٹنگ کی اور انہیں آگاہ کیا کہ پکار 15 چوبیس گھنٹے عوام کی جانب سے کی جانے والی ایمرجنیس کالز پر تمام اضلاع کی پولیس کو پیغامات ارسال کرتا رہے گا جس پر متعلقہ ضلع کی پولیس سات منٹ کے اندر کالر کے پاس پہنچ کر کارروائی عمل میں لائے گی اور اس کارروائی کی رپورٹ مقامی پکار ریسکیو 15 کو کرے گا جو کہ مرکزی کنٹرول کو آگاہ کرے گا۔ ڈی پی او نے ڈیوٹی آفیسرز کو حکم دیا کہ پکار 15 کی کالز پر فوری رسپانس کے لیے ہر تھانہ میں اہلکار اور وہیکل 24 گھنٹے تیار رہے گا اور اس سلسلہ میں کسی قسم کی کوتاہی ہرگز نہ ہونے پائے گی۔
    انہوں نے کہا کہ اس منصوبہ کے تحت عوام کی بہتر خدمت اور ان کی اطلاع پر فوری کارروائی منصوبے کی کامیابی کی ضمانت ہے جس کے لیے تعینات ہونے والے اہکار پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کریں اور عوام کی پکار پر انہیں کسی صورت مایوسی نہ ہونے پائے۔ اس مقصد کے لیے ہر تھانہ پر اعلی پولیس افسران و جوانوں کی تعیناتی کا حکم دے دیا گیا ہے اور اس منصوبہ کے ثمرات عوام کو ملیں گے۔ قبل ازیں پولیس ایمرجنیس کی کالز رحیم یارخان میں آٹنڈ ہوتی تھیں اب وہ مرکزی کنٹرول روم لاہور میں آٹنڈ ہوں گی یہ تمام ڈیجیٹل سسٹم ہے جو کہ تیزی سے کام کرے گا اور عوام کو بہتر رپسپانس ملے گا۔

  • ٹوئٹر پر مشہور ”سکو پا تو مانا“ کا مطلب کیا؟

    ٹوئٹر پر مشہور ”سکو پا تو مانا“ کا مطلب کیا؟

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر کو مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔کچھ لوگ اسے بریکنگ نیوز کے لیے استعمال کرتے ہیں جبکہ زیادہ تر اسے رجحانات کو دیکھنے، کچھ اسے اپنی پسندیدہ شخصیات کو فالو کرنے اور کچھ اپنے دوستوں سے بات چیت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ تاہم ان میں سے دلچسپ ترین ”سکو پا تو مانا “ ہے۔
    https://twitter.com/freakin_dani/status/1152025059143241728
    آج کل ”سکو پا تو مانا “کا جملہ انٹرنیٹ خصوصاً ٹویئٹر پر ایک تصویریا ایک لفظ کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔ اب ہر ہفتہ انٹرنیٹ پر نیا چیلنج ہوتا ہے۔یہ نیا رجحان ٹویٹر پر بھی پھیل رہا ہے۔

    اربن ڈکشنری کے مطابق ”سکو پا تو مانا “زیمبین لفظ ہے جس کا معنی ہے ”کسی کو خاص موضوع پر اپنی اپنی رائے کا اظہار کرنا“۔جبکہ گوگل ٹرانسلیٹ پر اس کا مطلب ”آپ کے پاس کتنا کچھ ہے؟“


    ٹویئٹر پر یہ پہلی بار کب استعمال ہوا اس کے بارے میں کوئی آئیڈیا نہیں۔آج کل ٹویئٹر پر کسی بھی ڈسکشن کے کے لیے یہ لفظ استعمال ہو رہا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی ٹویئٹر کے بارے میں کسی کی رائے لینا چاہتا ہے تو وہ ٹویٹر کی تصویر لگائے گا اور یہی لفظ لکھے گا۔اس کے نیچے ہر صارف ٹویئٹر کے بارے میں اپنا نقطہ نظر شیئر کرے گا۔

  • اسد عمر نے پاکستان تحریک انصاف سے استعفیٰ دینے کی خبروں کی تردید کر دی

    اسد عمر نے پاکستان تحریک انصاف سے استعفیٰ دینے کی خبروں کی تردید کر دی

    سابق وزیرخزانہ اسد عمر نے پاکستان تحریک انصاف سے استعفیٰ دینے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کسی کی خواہش تو ہو سکتی ہے، میری نہیں۔

    ایک صحافی کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ استعفی والی بات کس نے اڑائی ہے اور اس کو مصطفی کمال کے ساتھ کیوں ملایا جا رہا ہے؟
    واضح‌رہے کہ اسد عمر کو وازارت خزانہ سے ہٹا دیا گیا تھا اور ان کی جگہ حفیظ شیخ کو وزیر خزانہ مقرر کیا گیا تھا.انہوں نے وزارت خزانہ کے قلمدان واپس لیے جانے کے بعد کسی بھی قلمدان کو قبول کرنے سے معذرت کر لی تھی.