Baaghi TV

Author: +9251

  • کاسمیٹک مصنوعات کے نقصانات سے خبردار کرنے والی سعودی ایپلی کیشن متعارف

    کاسمیٹک مصنوعات کے نقصانات سے خبردار کرنے والی سعودی ایپلی کیشن متعارف

    کاسمیٹک مصنوعات کے نقصانات سے خبردار کرنے والی سعودی ایپلی کیشن متعارف

    اتھارٹی نے کچھ کاسمیٹکس کے مضر اثرات سے بچنے کے لیے متعدد طریقہ کار پر عمل کرنے کی ضرورت کا مشورہ دیا ہے. سعودی عرب کی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی نے کہا ہے کہ کاسمیٹک مصنوعات کے مضر اثرات کی اطلاع دینا صارفین کو انفیکشن سے بچانے میں معاون ہے۔ اس سے مستقبل میں ان مضر اثرات کے دوبارہ ہونے کا امکان کم ہو جاتا ہے۔

    سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر شائع ہونے والی تعلیمی معلومات میں نشاندہی کی ہے کہ ضمنی اثرات کا مطلب کسی ناپسندیدہ اثر کا ہونا ہے جو پروڈکٹ استعمال کرتے وقت کسی عنصر یا بہت سے عوامل کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ ان مضر اثرات کی علامات میں جلد کا لال ہونا، بالوں کا گرنا، خارش ہونا، سانس بند ہونا اور جلن ہونا شامل ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آج ترکیہ کی نامور مصنفہ کالدہ ادیب خانم کا یوم وفات ہے
    قلعہ سیف اللہ کے قریب خوفناک ٹریفک حاثہ میں 7 افراد جاںبحق
    وزیر اعظم شہباز شریف وفد کے ساتھ جنیوا پہنچ گئے
    ایک کمرے میں دو دو کلاسز؛ کراچی میں سرکاری اسکول کی عمارت ٹھیکیدار نے کرائے پر دیدی
    اتھارٹی نے ضمنی اثرات سے بچنے کے لیے متعدد طریقوں پر عمل کرنے کی ضرورت کا مشورہ دیا اور کہا کہ مصنوعات کو مینوفیکچرر کی ہدایات کے مطابق مناسب جگہ پر ذخیرہ کیا جائے، ان پروڈکٹس کو کو ایک دوسرے کے ساتھ نہ ملایا جائے، ان میں دیگر مصنوعات شامل نہ کی جائیں، ان کا استعمال دی گئی ہدایت کے مطابق کیا جائے اور دیگر احتیاطی تدابیر پر عمل کیا جائے۔

  •  قلعہ سیف اللہ کے قریب خوفناک ٹریفک حادثے میں 7 افراد جاںبحق

     قلعہ سیف اللہ کے قریب خوفناک ٹریفک حادثے میں 7 افراد جاںبحق

     قلعہ سیف اللہ کے قریب خوفناک ٹریفک حادثے میں 7 افراد جاںبحق

     قلعہ سیف اللہ کے قریب خوفناک ٹریفک حاثہ7 افراد کی جان لے گیا۔ بلوچستان کے علاقے قلعہ سیف اللہ کے قریب بس حادثے میں سات افراد جاں بحق اور دس زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو سول اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ حادثے کی شکار بس کوئٹہ سے پشاور جارہی تھی ۔ ڈپٹی کمشنر قلعہ سیف اللہ کے مطابق حادثہ قلعہ سیف اللہ اور مسلم باغ کے درمیان نیشنل ہائی وے پر توروسکی کے مقام پر پیش آیا۔

    تیز رفتار منی ٹرک مخالف سمت سے آنے والی مسافر بس سے ٹکرا گیا ۔زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں خیال رہے کہ اس سے قبل بھی بھی بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ میں ٹریفک حادثے کے دوران زخمی ہونے والا 13 سالہ لڑکا بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کرگیا تھا. بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ میں گزشتہ سال مسافر وین موڑ کاٹتے ہوئے اختر زئی کے علاقے میں حادثے کا شکار ہوئی تھی۔ اندوہناک حادثے میں مسافر وین میں سوار 22 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے تھے، جب کہ حادثے میں 13 سالہ لڑکا شدید زخمی ہوا تھا، جسے فوری طبی امداد کیلئے کوئٹہ منتقل کیا گیا تھا، تاہم لڑکا زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اسپتال میں دوران علاج چل بسا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آج ترکیہ کی نامور مصنفہ کالدہ ادیب خانم کا یوم وفات ہے
    قلعہ سیف اللہ کے قریب خوفناک ٹریفک حاثہ میں 7 افراد جاںبحق
    وزیر اعظم شہباز شریف وفد کے ساتھ جنیوا پہنچ گئے
    ایک کمرے میں دو دو کلاسز؛ کراچی میں سرکاری اسکول کی عمارت ٹھیکیدار نے کرائے پر دیدی

    حادثہ اتنا شدید تھا کہ مسافر وین مکمل طور پر تباہ ہوگئی تھی۔ وین موڑ کاٹتے ہوئے پہاڑؑی سے نیچے پتھروں میں گری تھی، جس سے جانی نقصان زیادہ ہوا۔ مسافر وین میں 23 افراد سوار تھے، جس میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ لاشوں کو ضروری کارروائی کیلئے ڈسٹرکٹ اسپتال قلعہ سیف اللہ منتقل کیا گیا تھا، جو جائے حادثہ سے 40 سے 45 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ڈپٹی کمشنر قلعہ سیف اللہ حافظ قاسم نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا تھا کہ راستہ دشوار ہونے کے باعث لاشیں اٹھانے میں مشکل پیش آرہی ہے، جس میں کئی گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی تمام اسپتالوں میں ایمر جنسی نافذ کردی گئی تھی، جب کہ امدادی کاموں میں مدد کیلئے لیویز اہلکار بھی پہنچ گئے تھے۔

  • آج ترکیہ کی نامور مصنفہ کالدہ ادیب خانم کا یوم وفات ہے

    آج ترکیہ کی نامور مصنفہ کالدہ ادیب خانم کا یوم وفات ہے

    آج ترکیہ کی نامور مصنفہ کالدہ ادیب خانم یوم وفات ہے

    آغانیاز مگسی
    ترکی کی تاریخ میں جس طرح مصطفٰی کمال پاشا، انور پاشا اور طلعت پاشا کے نام نمایاں ہیں۔ اسی طرح خواتین میں خالدہ ادیب خانم المعروف خالدہ ادیب آدیوار کا نام بھی ناقابل فراموش ہے۔ خالدہ ادیب خانم 1884ء میں پیدا ہوئیں۔ آپ سلطان عبدالحمید کے وزیر خزانہ عثمان ادیب پاشا کی دختر تھیں۔ 1889ء میں آپ نے تعلیم کا آغاز کیا اور ابتدائی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد 1910ء میں بی اے کا امتحان نہایت اعلیٰ نمبروں کے ساتھ پاس کیا۔ دورانِ تعلیم آپ کی شادی آپ کے پروفیسر صحافی احمد صالح سے ہوگئی۔ ان کے شوہر نے چند سال بعد دوسری شادی کر لی۔ خالدہ خانم نے اس بات کو نا پسند کرتے ہوئے خلع لے کر شاہی فوج کے ڈاکٹر خالد بے سے شادی کر لی لیکن کچھ عرصہ بعد ڈاکٹر خالد بے کا انتقال ہو گیا۔

    خالدہ خانم نے لکھنے لکھانے کا سلسلہ کم عمری سے ہی شروع کر دیا تھا۔ محض سولہ سال کی عمر میں آپ نے ”ترکی پردے‘‘ پر ایک نہایت عمدہ کتاب لکھی اور بعد میں افسانہ نگاری شروع کر دی۔ ان کے اسلوبِ بیان میں ایسی ندرت اور تازگی تھی کہ انہوں نے بہت جلد ترکی کر کے افسانہ نگاروں کی صف اول میں جگہ حاصل کر لی۔ آپ کے افسانوی مجموعوں کی نہ صرف ترکی بلکہ یورپ میں بھی خوب پذیرائی ہوئی اور روسی، فرانسیسی، جرمن، انگریزی اور عربی زبان میں ان کے تراجم ہوئے۔ خالدہ خانم نے جب شاعری کی جانب توجہ کی تو قلیل مدت میں اس شعبہ میں بھی مہارت اور شہرت حاصل کر لی۔ 1935ء میں خالدہ ادیب خانم نے ڈاکٹر ایم اے انصاری کی دعوت پر ہندوستان کا دورہ کیا اور ”درونِ ہند‘‘ کے عنوان سے اپنی یادداشتیں لکھیں۔

    خالدہ خانم اگرچہ ادبی مشاغل میں مصروف تھیں لیکن ان کے اندر ایک مصلح بھی چھپا ہوا تھا۔ وہ ترکی کی خواتین میں جدید خیالات کا فروغ چاہتی تھیں۔ اس مقصد کے یئے انہوں نے ملک میں چھوٹی چھوٹی نسوانی انجمنیں قائم کیں۔ وزارتِ تعلیم پر زور دیا کہ ترک عورتوں کو جدید تعلیم حاصل کرنے کی سہولیات بہم پہنچائے۔ ان سرگرمیوں کی بدولت خالدہ ادیب خانم ترکی میں باوقار خاتون رہنما تسلیم کی گئیں اور ترکوں کا ہر حلقہ ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے لگا۔

    ترکی میں سلطان عبدالحمید خان کی حکومت تبدیل ہوئی تو نوجوانانِ ترکی اپنے ملک کو ترقی دینے کی کوششوں میں مصروف ہوگئے۔ خالدہ خانم کی کوششوں کی بدولت مدبرین ترکی مطالباتِ نسواں کے حامی ہوگئے۔ اس مقصد کے لیے خالدہ خانم نے ترکی کے اخبارات میں مضامین لکھے جن کا خاطر خواہ اثر سامنے آیا۔ ترکی کی دستور پسند جماعت کی حمایت میں انہوں نے یورپ اور امریکہ کے اخبارات میں مضامین کا سلسلہ شروع کیا۔ امریکہ کے اخبارات نے ان مضامین کو نہایت فخر کے ساتھ شائع کیا اور کہا کہ یہ ہمارے ہی کالج کی ایک معلمہ ہیں جو آج اپنے ملک میں رہنما کی حیثیت اختیار کر گئی ہیں۔

    انور پاشا اور طلعت پاشا نے خالدہ خانم کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کو سیاسی آئین وضوابط کی تشکیل میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ جلد ہی خالدہ خانم کو شام کے صوبے میں تعلیمات کی وزیر مقرر کیا گیا۔ آپ نے ایک جامع لائحہ عمل مرتب کیا اور ملک میں ابتدائی مدارس اور ہائی سکولوں کاجال بچھا دیا۔ علاوہ ازیں یتیم خانے قائم کئے، مذہبی تبلیغ کا بندوبست کیا، ارمن اور کرد بچوں کی تعلیم پر خاص توجہ دی۔ شام کے گورنر جنرل جمال پاشا ان سے سیاسی معاملات پر مشورے بھی کرتے تھے۔

    آپ شام میں ہی تھیں کہ پہلی جنگ عظیم بھڑک اٹھی۔ آپ شام سے ترکی کے دارالحکومت استنبول آگئیں اور وزارتِ دفاع کی امداد میں مصروف ہوگئیں۔ آپ نے امریکہ کے اخبارات میں مضامین لکھے اور وہ مجبوریاں بیان کیں جن کی بناء پر ترکی کو جنگ میں شامل ہونا پڑا۔ ”نیویارک ٹائمز‘‘ نے ان کے مضامین کو نہایت قدرووقعت کے ساتھ شائع کیا۔ اسی دوران ترکوں کی وحدت یا پان توران ازم پر ان کی کتاب بہت مقبول ہوئی۔ اس کتاب میں ترکوں کی شجاعت کے جذبات کو اس طرح ابھارا گیا تھا کہ حکومت نے فوج میں اس کتاب کے ہزاوروں نسخے تقسیم کرائے۔ جنگ کے دور میں خالدہ خانم ترکی کی سراوٴں اور مساجد میں جاتیں اور ان کی امداد واعانت کے علاوہ لوگوں کی حوصلہ افزائی بھی کرتیں۔

    1918ء میں خالدہ خانم نے غیور اور قوم پرست لیڈر عدنان بے شادی کر لی۔ وہ انجمن اتحاد ترقی کے ممتاز ممبر اور محترم رہنما خیال کیے جاتے تھے۔ عدنان بے بعد میں انقرہ میں لارڈ چیف جسٹس کے عہدے پر بھی کام کرتے رہے اور پھر دولت انقرہ کی طرف سے انقرہ کے گورنر جنرل بھی مقرر کیے گئے۔ پہلی جنگ عظیم کا خاتمہ ہوا تو ترکوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ دیئے گئے۔ قسطنطنیہ پر اتحادی افواج کا قبضہ ہوگیا۔ قوم پرست خاص طور پر ان کا نشانہ بنے۔ اس دوران آزاد ترکی کے لیے مصطفٰی کمال پاشا نے جدوجہد جاری رکھی تو خالدہ خانم نے ان کے حق میں قسطنطنیہ میں لاکھوں کے مجمعوں میں آ تش بار تقاریر کیں، یہاں تک کہ کٹھ پتلی وزیراعظم کو آپ کی گرفتاری کا حکم دینا پڑا۔ آپ اپنے شوہر کے ساتھ نہایت تکالیف سے گزریں اور خفیہ طور پر مصطفٰی کمال پاشا سے جا ملیں۔ مصطفٰی کمال پاشا نے آپ کی قدر کی اور آپ کو ملک کی وزیرِ تعلیمات مقرر کیا۔ آپ نے ایک بار پھر اصلاحی اور تعلیمی کاموں کا سلسلہ شروع کیا۔

    جولائی 1921ء تک آپ کی سیاسی و تعلیمی خدمات کا سلسلہ جاری رہا۔ انہی دِنوں اطلاعات ملیں کہ یونانی لشکر انقرہ پر حملہ کرنے والا ہے تو پورے اناطولیہ میں مصطفٰی کمال پاشا کی قیادت میں دفاعِ وطن کا جذبہ پورے جوش و خروش کے ساتھ بیدار ہو گیا۔ اس موقع پر خالدہ خانم نے مادرِ وطن کے دفاع کے لیے ترک خواتین کے میدان میں لانے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لیے انہوں نے ایک جنگی سکیم بھی تیار کی جس کا مقصد ترکی خواتین کو باقاعدہ لشکر میں بھرتی کیا جانا تھا. خواتین کا لشکر مردوں کے لشکر کے پیچھے رسد، بار برداری اور زخمیوں کی طبی امداد کے فرائض انجام دینے کے لیے تیار ہواتھا۔ خالدہ خانم نے اس مقصد کے لیے پورے ملک کا طوفانی دورہ کیا۔ ہزاروں عورتوں کو فوج میں بھرتی کیا۔ وزارتِ جنگ نے ان کی فوجی تربیت کا انتظام کیا۔ جب ہزاروں خواتین کو فوجی تربیت دی جا چکی تو ان کے باقاعدہ فوجی دستے بنا دیئے گئے۔ یہ دستے اناطولیہ میں پُلوں، تارگھروں اور ریلوے سٹیشنوں کی حفاظت کی خدمات انجام دینے لگے۔

    خواتین کے فوجی دستوں نے یونانیوں پر نہایت کامیاب شب خون مارے۔ جب ستمبر 1921ء میں یونانیوں کا سب سے بڑا فوجی حملہ ہوا تو خالدہ خانم یہ نفس نفس میدانِ جنگ میں موجود تھیں اور نسوانی دستہ بھی ان کے ہمراہ تھا۔ اسی طرح ایک مشہور لڑائی میں جہاں فیلڈ مارشل عصمت پاشا فوج کی کمان کر رہے تھے، خالدہ خانم مجاہدین کے عقب میں اپنے نسوانی لشکر کے ساتھ موجود تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ اگر غازی عصمت پاشا، نسوانی لشکر کو پیش قدمی سے روک نہ دیتے تو خالدہ خانم یقیناً اس جنگ میں شہید ہو جاتیں کیوں کہ ان کا جوشِ جہاد بہت زیادہ بڑھا ہوا تھا۔

    یورپ اور امریکہ کے اخبارات میں ترک خواتین کی عسکریت اور خالدہ خانم کی قیادت پر حیرانی کا اظہار کیا گیا۔ وہ پہلے ہی ترکی میں ایک خاتون کو وزیر تعلیم کے تعینات کیئے جانے پر حیران تھے۔ 19 اکتوبر کو رافت پاشا نے اعلان کیا کہ کہ قسطنطنیہ پر ترکانِ احرار کا قبضہ ہو چکا ہے اور اتحادی رخصت ہو چکے ہیں۔ آخر جنوری 1922ء میں ڈاکٹر عدنان بے کو حکم دیا گیا کہ وہ جا کر رافت پاشا سے گورنری کا چارج لے لیں۔ چنانچہ خالدہ خانم اپنے جلیل القدر شوہر کے ساتھ اناطولیہ سے قسطنطنیہ پہنچ گئیں۔

    خالدہ خانم نے تمام عمر ترکی کی خدمت میں گزاری۔ وہ ترکی میں جمہوری نظریات کے فروغ کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار تھیں۔ وہ امریکن گریجویٹ ہونے کی بناء پر مغربی طرزِ زندگی کی عادی تھیں لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ مغربی حکومتیں ترکی کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کر رہیں تو انہوں نے ترکی لباس اور رہن سہن کو اپنا لیا۔ خاص طور پر میدانِ جنگ میں وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سنت میں سیاہ عمامہ باندھتیں تو فوجیوں میں جوش وخروش کی لہر دوڑ جاتی۔ آپ نے ستر سال سے زیادہ عمر پائی اور 9 جنوری 1964ء کو آپ کا انتقال ہوا۔

    نام:کالدہ ادیب خانم
    سن ولادت:1884ء
    تاریخ وفات:09 جنوری 1964ء
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)قمیص من نار-1923
    ۔ (2)اندرون ہند-1937
    ۔ (3)ترکی میں مشرق و مغرب کی کشمکش
    ۔ 1938
    ۔ (4)اندرون حیدرآباد-1939
    ۔ (5)پیراہن آتشین
    ۔ (6)دختر سمرنا
    ۔ (7)ربیعہ

  • ہرتیک روشن شدید ڈپریشن کا شکار کب ہوئے؟‌

    ہرتیک روشن شدید ڈپریشن کا شکار کب ہوئے؟‌

    اداکار ہرتیک روشن جنہوں نے 2000 میں فلم کہو نا پیار ہے سے بالی وڈ میں قدم رکھا. ہرتیک روشن کاکیرئیر بہت عروج پر جا کر ایک دم نیچے آنا شروع ہوا . ہرتیک روشن کی بہت ساری فلمیں فلاپ ہوئیں اس کے باوجود ان پر فلاپ ایکٹر کا ٹیگ نہیں لگا. ہرتیک روشن بتاتے ہیں کہ ان کے کیرئیر میں ایک ایسا وقت بھی آیا کہ جب وہ ڈپریشن کا شکار ہو گئے اور ڈپریشن بھی انہیں شدید قسم کا ہوا. ہرتیک روشن کہتے ہیں کہ میں جب 2019 میں‌ایکشن تھرلر مووی وار کی شوٹنگ کررہا تھا تو اس میں میرا ڈپریشن اس حد تک بڑھ چکا تھا کہ مجھے لگتا تھا کہ میں مر جائوںگا.

    اور مجھے جینے کی راہ نظر نہیں آتی تھی . ہرتیک روشن نے اپنے حالیہ انٹرویو میں لوگوں سے اپنے ڈپریشن کی کیفیت کو شئیر کیا اور ان کو بتایا کہ وہ کس طرح سے ڈپریشن سے باہر نکلے اور خود کو سنبھالا . انہوں نے یہ بھی کہا کہ حالات کیسے بھی ہوں ، مایوسی کو خود پر سوار نہیں‌ہونے دینا چاہیے. انہوں نے کہا کہ مجھے پہلے پتہ نہیں تھا کہ میں ڈپریشن کا شکار ہو رہا ہوں لیکن جب اپنی حالت کے بارے میں پتہ چلا تو میں نے سوچ لیا کہ بس اب زندگی میں تبدیلی لانی ہے اور میں اپنی زندگی میں تبدیلی لایا.

  • کرن جوہر نے 20 کرو‌ڑ‌مانگنے والے فنکاروں کی کلاس کر دی

    کرن جوہر نے 20 کرو‌ڑ‌مانگنے والے فنکاروں کی کلاس کر دی

    بالی وڈ کے معروف فلم میکر کرن جوہر نے بہت سارے آرٹسٹوں کواپنی فلموں سے بریک دیا، عالیہ بھٹ ،سدھارتھ ملہوترا و دیگر کے نام قابل زکر ہیں جن کو کرن جوہر نے راتوں رات سٹار بنا دیا. کرن جوہر نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ میری فلم سٹوڈنٹ آف داائیر بنائی وہ باکس آفس پر کامیاب رہی اس میں جن فنکاروں‌کو بھی متعارف کروایا انکو ایک زبردست قسم کا بریک ملا. لیکن مجھے اس فلم میں پیسے کا بہت نقصان ہوا ، اور مٰیں ایک کامیاب فلم بنا کر بھی اپنے پیسے کا نقصان کروا بیٹھا. انہوں نے آرٹسٹوں کے رویے پر بھی بات کی انہوں نے کہا کہ ان کو کوئی فلم آفر کریں تو وہ بیس کروڑ معاوضہ مانگتے ہیں جبکہ باکس آفس پرپانچ کرو‌ڑ کی اوپننگ کی یقین دہانی تک نہیں‌کروا پاتے. انہوں نے کہا کہ

    خوش فہمی کا دنیا بھر میں علاج نہیں‌ہے کچھ آرٹسٹ خوش فہمی کی دنیا میں‌رہتے ہیں. انہوں نے کہا کہ میں نے ہندی سینما کے لئے بہت کام کیا لیکن میں‌ دل سے سمجھتا ہوں کہ اس وقت تیلگو فلمیں‌زیادہ منافع بخش ہیں. یوں کرن جوہر نے دل کھول کر کلاس کی زیادہ معاوضہ مانگنے والے فنکاروں کی.

  • سشمیتا سین سابق بوائے فرینڈ روہمن شال پھر سے ایک ساتھ ؟‌

    سشمیتا سین سابق بوائے فرینڈ روہمن شال پھر سے ایک ساتھ ؟‌

    سشمیتا سین بالی وڈ کی وہ اداکارہ ہیں جن کے ساتھ سیکنڈل ایسے چلتے ہیں جیسے سایہ . سشمیتا اپنے کام کی وجہ سے کم اور اپنے سکینڈلز کی وجہ سے زیادہ شہرت رکھتی ہیں. سشمیتا سین کے درجن بھر کے قریب تو بوائے فرینڈز رہ چکے ہیں‌ جن میں پاکستانی کرکٹر وسیم اکرم کا نام بھی شامل ہے. گزشتہ برس ان کی دوستی کے چرچے بزنس مین للت مودی کے ساتھ ہوئے کہا جا رہا تھا کہ دونوں شادی کرلیں گے لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہوا بلکہ ان دونوں کی دوستی بہت جلد ہی ہوا ہو گئی. اب سشمیتا سین کا نام ایک بار پھر ان کے سابق بوائے فرینڈ روہمن شال کے ساتھ لیا جا رہا ہے، دونوں کی گزشتہ برس دوستی ختم ہو گئی تھی لیکن یہ دونو‌ں پھر سے ایک دوسرے کے ساتھ دکھائی دے رہے ہیں. سشمیتا سین اور روہمن شال

    دونوں نے ایک فیملی ویڈنگ میں شرکت کی ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کر پھر سے ان کا تعلق خبروں‌کی زینت بن گیا ہے . یہ شادی بھی سشمیتا کے ایک رشتہ دار کی تھی جس میں روہمن نے اپنے بھائی اور بھابھی کے ساتھ شرکت کی. اس شادی میں سشمیتا اور روہمن کی شرکت کی تصاویرسوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔سشمیتا سین کے بھائی راجیو سین نے اپنے انسٹاگرام ہینڈل پر کلکتہ میں ہونے والی اس شادی میں شریک اپنی فیملی اور روہمن کی تصاویر شئیر کیں .

  • منشا پاشا اپنی پہلی شادی اور طلاق پر بول پڑیں

    منشا پاشا اپنی پہلی شادی اور طلاق پر بول پڑیں

    اداکارہ منشا پاشا جن کی اداکاری کو بہت زیادہ سراہا جاتا ہے، بہت سارے لوگوں کو پتہ ہے کہ شاید معروف وکیل جبران ناصر کے ساتھ ان کی پہلی شادی ہے لیکن ایسا نہیں ہے کہ منشا کی پہلے بھی شادی ہوئی لیکن اسکا انجام خوشگوار نہ ہوا. تاہم اس حوالے سے منشا پاشا نے کبھی بھی بات نہیں کی. لیکن حال ہی میں انہوں نے اپنی پہلی شادی اور طلاق کے بارے میں بات کی . انہوں نے کہا کہ میں‌ اپنی پہلی شادی کے بارے میں‌کبھی بھی بات نہیں‌کرنا چاہتی نہ ہی کرتی ہوں ، میں نے جس کے ساتھ شادی کی وہ شوبز انڈسٹری سے ہی تھا ، اور کیمرے کے پیچھے کام کرتا تھا. انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں‌کو لگتا ہے کہ بس شادی ہی زندگی کا آخر ہے حالانکہ شادی دو لوگوں کا آپسی رشتہ ہوتا ہے نہ چل سکے تو اسکو

    زندگی کا آخر نہیں سمجھنا چاہیے. یاد رہے کہ منشا پاشا نے دوسری دوسری شادی جبران ناصر سے کی ہے اور وہ ان کے ساتھ کافی خوش ہیں. وہ اکثر اپنے شوہر کی تعریفیں‌کرتی دکھائی دیتی ہیں. حال ہی میں انہوں نے دعا زھری کیس میں اپنے شوہر کو سوشل میڈیا پر مبارکباد دی اور ان کی دن رات کی محنت کو سراہا .

  • شیزان خان کی ضمانت ملتوی، وکیل تنیشا کی فیملی پر بھڑک اٹھا

    شیزان خان کی ضمانت ملتوی، وکیل تنیشا کی فیملی پر بھڑک اٹھا

    بھارتی ٹی وی ڈراموں‌ کی اداکارہ تنیشا کی خود کشی پر جہاں ان کے مداح پریشان ہیں وہیں شیزان خان اور ان کے گھر والے بھی پریشانی کاٹ کر رہے ہیں. شیزان خان پر تنیشا کو دھوکہ دینے کے الزامات ان کی والدہ کی طرف سے لگائے گئے ہیں ، اُدھر کچھ اتنہا پسند ہندو تنیشا کی موت کو لو جہاد کا نتیجہ قرار دے ہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ شیزان تنیشا کو مسلمان کرنا چاہتا تھا ، لو جہاد کی آڑ میں انتہا پسند ہندو تنیشا کی والدہ کے ساتھ کھڑے ہو گئے ہیں ان کی کوشش ہے کہ شیزان خان کو ہر حال میں سزا ملے. اس سلسلے میں وہ مسلسل ایسے بیانات دے رہے ہیں جس سے کیس

    سو فیصد الجھتا جائے اور شیزان خان پر ان کے الزامات سچ ثابت ہونے میں کوئی شک باقی نہ رہ جائے. اطلاعات کے مطابق شیزان خان کے وکیل بھرپور کوشش کررہے ہیں‌کہ ان کی ضمانت ہو جائے لیکن 9 جنوری یعنی آج کے دن تک ضمانت کو ملتوی کر دیا گیا تھا دیکھنا یہ ہے کہ وکیل دوبارہ یہ کوشش کرتا ہے تو اسکو کتنی کامیابی ملتی ہے یا کامیابی ملتی بھی ہے یا نہیں‌. جب شیزان خان کی ضمانت 9 جنوری تک ملتوی ہوئی تو شیزان خان کے وکیل تنیشا کی فیملی پر بھڑ‌اٹھے کہ جان بوجھ کر یہ سب کیا اور کروایا جا رہا ہے.

  • خواتین کی بے عزتی بند کی جائے سونیا حسین کی ٓآگ لگاتی پوسٹ

    خواتین کی بے عزتی بند کی جائے سونیا حسین کی ٓآگ لگاتی پوسٹ

    اداکارہ سونیا حسین جو کہ اکثر ایسے کردار کرتی ہیں جن میں خواتین کو ایک مضبوط پیغام ملے ، وہ اکثر سوشل ایشوز خاص کر خواتین کے ساتھ سوسائٹی کے رویے پر بات کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں خواتین کی کنڈیشن پر بات کی ۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو ہر روز ہراسمںٹ ، بے عزتی اور طرح طرح کے عجیب و غریب ہر قسم کے طعنے سننے کو ملتے ہیں۔ خواتین کی بے عزتی بند کی جائے ، خواتین لیڈرز ہیں ، اچیورز ہیں اور فائٹرز ہیں۔ ہم پاکستان کا مستقبل ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ ہماری عزت کی جائے اور ہمیں عزت کے قابل سمجھا جائے۔ سونیا حسین کی اس پوسٹ کو بہت زیادہ سراہا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے مکمل طور پر درست بات کی ہے۔ یاد رہے کہ سونیا حسین کے کریڈٹ

    پر گڑیا جیسے ڈراموں کے کردار ہیں۔ انہوں نے فلموں میں بھی قسمت ٓازمائی ہے لیکن انہیں بڑی سکرین پر وہ کامیابی نہیں مل سکتی جو انہیں ٹی وی پر ملی ہے۔ سونیا حسین نے کم عمری میں اداکاری کی اور ایسے کردار ان کی ہمیشہ سے ترجیح رہے ہیں جو سوسائٹی کو سوچنے پر مجبور کر ے دیں اسکو بعض معاملات میں اپنا طرز عمل تبدیل کرنے پر مجبور کر دیں۔

  • رنیبر اور عالیہ نے میڈیا کو کس بات پہ دو ٹوک انداز میں نہ کہہ دیا ؟‌

    رنیبر اور عالیہ نے میڈیا کو کس بات پہ دو ٹوک انداز میں نہ کہہ دیا ؟‌

    رنبیر کہور اور عالیہ بھٹ دونوں گزشتہ برس اپنی شادی اور پھر بیٹی کی پیدائش کی وجہ سے کافی چرچا میں رہے. یہ جوڑا بیٹی کی پیدائش کے بعد فلمی پارٹیز میں‌ متحرک ہو گیا ہے حال ہی میں مکیش امبانی کے بیٹے کی منگنی میں ان دونوں کو دیکھا گیا. عالیہ بھٹ اپنی بیٹی کی پیدائش کو اپنی زندگی کا بہترین تحفہ قرار دیتی ہیں. یہ جوڑا ایک دوسرے کے ساتھ کافی خوش ہے دونوں ہی اپنی بیٹی کی بہترین پرورش کے لئے کافی پرجوش ہیں. دونوں نے حال ہی میں‌میڈیا کو دو ٹوک انداز میں کہہ دیا ہے نہ؟ اور نہ بھی کہا ہے اس بات پر کہ میڈیا انکی بیٹی کی تصاویر اتارنا چاہ رہا تھا لیکن رنیبر اور عالیہ نے میڈیا کو صاف منع کرتے ہوئے کہا کہ جب ٹھیک وقت آئیگا اور اسکی مناسب عمر ہو گی تب میڈیا کو اجازت دے

    دی جائیگی بچی کی تصاویر بنانے کی. لیکن ابھی آپ ہماری فیملی کی پرائیویسی کا خیال رکھیے. یاد رہے کہ عالیہ اور رنبیر کپور کی بیٹی کا نام راحا کپور ہے اور اسکی دادی نیتو کپور اسکی آمد پر بے حد خوش ہے. عالیہ بھٹ‌اسی سال اپنی فلموں کی شوٹنگ کروائیں گی. گزشتہ برس انکی اپنے شوہر رنبیر کے ساتھ پہلی پکچر براہمسٹرا ریلیز ہوئی جس نے کامیابی حاصل کی. شائقین نے ان دونوں‌کو ایک ساتھ بہت سراہا.