Baaghi TV

Author: +9251

  • اسلام آباد، کراچی اور لاہور ایئرپورٹس کی آوٹ سورسنگ کا عمل تیز

    اسلام آباد، کراچی اور لاہور ایئرپورٹس کی آوٹ سورسنگ کا عمل تیز

    اسلام آباد، کراچی اور لاہور ایئرپورٹس کی آوٹ سورسنگ کا عمل تیز

    اسلام آباد، کراچی اور لاہور ایئرپورٹس کی آوٹ سورسنگ کا عمل تیز کرتے ہوئے وزیر اعظم کی ہدایت پر سول ایوی ایشن نے فریم ورک کو حتمی شکل دے دی. پلاننگ ڈویژن کی جانب سے ایئرپورٹ آوٹ سورسنگ سے متعلق ہدایت سول ایوی ایشن کو موصول ہوگئی، ایئرپورٹ آؤٹ سورسنگ کے لیے بین الااقوامی جریدوں میں رواں ماہ ٹینڈر کے اجراء کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    حکومت نے ایئر پورٹ آوٹ سورسنگ میں دوست ممالک کو ترجیح دینے کا پلان بنایا ہے جس کے لیے سعودی عرب، یو اے ای، قطر، چین اور ترکیہ کی کمپنیوں کو ترجیح بنیادوں پر مدعو کیا جائے گا۔

    آوٹ سورس سے سالانہ ڈھائی سے تین سو ملین ڈالرز حاصل ہوں گے اور معاہدے کے تحت ایئرپورٹ 25 سال کے لیے آوٹ سورس ہوں گے۔

    ایئر پورٹ ٹرمینل سروسز، پارکنگ، اسٹوریج، کارگو، ہینڈلنگ اور صفائی کے شعبے بھی آوٹ سورس کیے جائیں گے جبکہ ایئرپورٹ سیکیورٹی اور ایئر ٹریفک کنٹرولر کے شعبے سول ایوی ایشن کے پاس ہی رہیں گے۔ جبکہ تینوں بڑے ایئر پورٹس سے سالانہ 30 ارب آمدن حاصل ہوتی ہے۔

    خیال رہے کہ حکومت نے غیرملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرنے کے لیے کراچی، اسلام آباد اور لاہور کے ایئرپورٹس غیرملکی آپریٹرز کو دینے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ  وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت وزیراعظم ہاﺅس میں ایوی ایشن کے امور پر اہم اجلاس ہوا تھا جس میں ملک میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرنے کے لئے بڑا فیصلہ کیا گیا تھا۔

    یاد رہے کہ اجلاس میں بین الاقوامی ساکھ کے حامل انٹرنیشنل آپریٹرز کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، جس کے تحت پہلے مرحلے میں ملک کے تین بڑے ایئرپورٹس کو انٹرنیشنل آپریٹرز کے ذریعے چلایا جائے گا اور انٹرنیشنل آپریٹرز اسلام آباد، لاہوراورکراچی کے ہوائی اڈوں کوچلانے میں معاونت فراہم کریں گے۔ علاوہ وزیں اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ مذکورہ ایئرپورٹس کو غیرملکی آپریٹرز کو 20 سے 25 سال کے لیے دیا جائے گا۔

  • قومی ادارہ صحت کی جانب سے کورونا کے نئے ویرینٹ کی خبر کی تردید کردی

    قومی ادارہ صحت کی جانب سے کورونا کے نئے ویرینٹ کی خبر کی تردید کردی

    قومی ادارہ صحت کی جانب سے کورونا کے نئے ویرینٹ کی خبر کی تردید کردی

    قومی ادارہ صحت کی جانب سے کورونا کے نئے ویرینٹ کی خبر کی تردید کردی گئی ہے کہ اور قومی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کورونا کے نئے قسم کا تاحال کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا جبکہ کورونا کے نئے ویرینٹ کی خبریں بے بنیاد ہیں سربراھ قومی ادارہ صحت کے مطابق ملک میں نئے ویرینٹ سے نمٹنے کے حوالے سے انتطامات مکمل ہیں.

    خیال رہے کہ اس سے قبل مختلف میڈیا پر یہ خبر چلی تھی کہ "قومی ادارہ برائے صحت اسلام آباد کی جانب سے چین میں پائے جانے والے ”ایکس بی بی ویرئینٹ“ کی پاکستان میں موجودگی کی تصدیق کردی ہے۔ قومی ادارہ برائے صحت اسلام آباد اور آغا خان یونیورسٹی کے ماہرین کی جانب سے منگل 3 جنوری کو ”ایکس بی بی“ ویرئینٹ کی پاکستان میں موجودگی کی تصدیق کی گئی۔

    این آئی ایچ اور آغا خان یونی ورسٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ ویرئینٹ کی تصدیق جینوم سیکونسنگ کے ذریعے کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ابھی تک پاکستان میں “ بی ایف۔7 “ ویرئینٹ کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

    دوسری جانب سابق وفاقی مشیر صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ غالب امکان ہے کہ بی ایف۔7 ویرئینٹ بھی پاکستان پہنچ چکا ہے۔ جب کہ جامعہ کراچی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر فیصل محمود نے بھی ڈاکٹر سلطان کے دعوے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے بھی سو فیصد یقین ہے کہ دونوں ویرئینٹس پاکستان آچکے ہیں۔

    حکام اور ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ان دونوں نئے ویرئینٹس سے کوئی بڑا خطرہ نہیں، پاکستانیوں کی قوت مدافعت بہت بہتر ہے۔
    3 جنوری کو موصول رپورٹ کے مطابق پاکستان میں آج صرف 15 کرونا کے کیسز سامنے آئے ہیں، جب کہ مثبت کیسز کی شرح صرف اعشاریہ چالیس فیصد تھی۔

    ماہرین صحت نے یقین دلاتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں کرونا سے چین جیسے حالات پیدا ہونے کا قطعاً کوئی امکان نہیں۔
    واضح رہے کہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے ملک چین میں کرونا کی نئی لہر نے ہنگامی صورت حال پیدا کردی ہے، جہاں یومیہ کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث طبی سہولیات کے اداروں پر دباؤ بڑھ گیا اور عملے کی کمی کا سامنا ہے۔

    چین میں کرونا کی نئی شکل کا ویریئنٹ تیزی سے دیگر ممالک میں بھی پھیل رہا ہے جس کے باعث کئی ممالک چین پر سفری پابندیوں کے قوانین کے نفاذ پر غور کر رہے ہیں۔
    گزشتہ سال 2022 دسمبر میں ہونے والے چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کے اجلاس میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا تھا کہ آئندہ سال کے اختتام تک چین میں کرونا سے مزید 10 لاکھ سے زیادہ اموات ہو سکتی ہیں۔”

  • معاشی بحالی اور منی بجٹ کے لئے ابتدائی تجاویز کی تیاری پر کام شروع

    معاشی بحالی اور منی بجٹ کے لئے ابتدائی تجاویز کی تیاری پر کام شروع

    حکومت نے معاشی بحالی اور منی بجٹ کے لئے ابتدائی تجاویز کی تیاری پر کام شروع کردیا ہے۔

    ملک کے موجودہ معاشی حالات کے باعث حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی بڑھانے اور جی ایس ٹی لگانے پرغورشروع کردیا ہے۔ حکومت نے معاشی بحالی اور منی بجٹ کے لئے ابتدائی تجاویز کی تیاری پر کام شروع کردیا ہے۔ تجاویز کی روشنی میں ملک کی پائیدار معاشی ترقی کے لئے 10 سالہ منصوبہ تیار کیا جائے گا۔ چین، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور قطر سمیت دوست ممالک سے مدد لی جائے گی جب کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر کا تعین مارکیٹ کے مطابق ہوگا۔

    اس وقت مٹی کے تیل پر 4 روپے 34 پیسے، لائٹ ڈیزل پر 8.56 روپے فی لیٹر ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 32.50 روپے جب کہ پیٹرول پر ڈیولپمنٹ لیوی 50 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی وصول کی جارہی ہے۔ رواں مالی سال حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی کی مد میں 855 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا لیکن یہ ہدف پورا ہوتا نظر نہیں آرہا جس کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات اور گیس صارفین پر لیوی بڑھانے پر غور کیا جارہا ہے۔

    اس وقت پیٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی وصول نہیں کیا جارہا لیکن لیوی نہ بڑھانے کی صورت میں جی ایس ٹی عائد کرنے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔ پیٹرول، بجلی اور گیس کی راشننگ کے ذریعے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پورا کرنے کی تجویز پر غور کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ صوبوں کو منتقل ہونے والے فنڈز گیس اور بجلی کے شعبے میں نقصانات سے منسلک کرنے کی تجویز ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    دوسرا ٹیسٹ؛ نیوزی لینڈ کا پاکستان کیخلاف بیٹنگ کا فیصلہ
    متنازع ٹوئٹ کیس؛ اعظم خان سواتی کے بیٹے نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے خلاف عدم اعتماد کا خط واپس لے لیا۔
    ڈومیسٹک کرکٹرز کی سن لی گئی، پیر سے بقایاجات کی ادائیگی کا کام شروع
    قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس آج پھر ہوگا،ہوں گے بڑے فیصلے
    غیر ضروری درآمدات کی حوصلہ شکنی کیلئے ایک سے 3 فیصد فلڈ لیوی لگانے کی تجویز زیر غور ہے۔ ٹارگٹڈ سبسڈی صرف کم آمدن والے غریب طبقے کو دی جائے گی جب کہ عام دکانداروں اور تاجروں کو فکسڈ ٹیکس کے ذریعے نیٹ میں لانے کے پلان پر بھی غور کیا جارہا ہے۔

  • ملائیشین وزيراعظم نے دورہ پاکستان کی دعوت قبول کرلی

    ملائیشین وزيراعظم نے دورہ پاکستان کی دعوت قبول کرلی

    ملائیشین وزيراعظم نے دورہ پاکستان کی دعوت قبول کرلی ہے

    وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے دورہ پاکستان کی دعوت ملائیشیا کے ہم منصب اسماعیل صابری یعقوب نے قبول کرلی۔ وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کی جانب سے ملائیشیا کے ہم منصب اسماعیل صابری یعقوب سے منگل 3 جنوری کو ٹیلی فون پر رابطہ کیا گیا۔ اس موقع پر شہباز شریف نے ملائیشین ہم منصب کو وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے ملائیشیا کے نئے وزیراعظم اور عوام کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو میں پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان برادرانہ قریبی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے پر اتفاق کیا گیا، جب کہ تجارت و سرمایہ کاری سمیت باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا۔ دوران گفتگو وزیراعظم پاکستان نے ملائیشین ہم منصب کو جنیوا میں ہونے والی ڈونرز کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    دوسرا ٹیسٹ؛ نیوزی لینڈ کا پاکستان کیخلاف بیٹنگ کا فیصلہ
    متنازع ٹوئٹ کیس؛ اعظم خان سواتی کے بیٹے نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے خلاف عدم اعتماد کا خط واپس لے لیا۔
    ڈومیسٹک کرکٹرز کی سن لی گئی، پیر سے بقایاجات کی ادائیگی کا کام شروع
    قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس آج پھر ہوگا،ہوں گے بڑے فیصلے
    وزیراعظم نے سیلاب متاثرین کی امداد اور بحالی کيلئے ڈونرز کانفرنس کے انعقاد سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر ملائیشین وزیراعظم نے ڈونرز کانفرنس میں اعلیٰ سطح کا وفد بھجوانے کی یقین دہائی کرائی۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ملائیشیا کے وزیراعظم اسماعیل صابری یعقوب کے پاس وزیر خزانہ کا قلمدان بھی ہے۔ ملائیشین وزیراعظم نے پاکستانی ہم منصب کو بھي ملائیشیا کے دورے کی دعوت دی، جب کہ شہباز شریف کی جانب سے دی گئی دورہ پاکستان کی دعوت ملائیشین وزيراعظم نے قبول کرلی۔

  • پاکستان میں کووڈ-19 کی صورتحال قابو میں ہے. وزیرِ اعظم شہباز شریف

    پاکستان میں کووڈ-19 کی صورتحال قابو میں ہے. وزیرِ اعظم شہباز شریف

    پاکستان میں کووڈ-19 کی صورتحال قابو میں ہے. وزیرِ اعظم شہباز شریف

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملک میں کووڈ-19 کی صورتحال ہر جائزہ اجلاس ہوا اجلاس کو خطے سمیت پوری دنیا اور پاکستان میں اس وقت کووڈ کی صورتحال، کووڈ کی نئی اقسام، ان کی روک تھام کیلئے کئے گئے اقدامات اور ویکسینیشن کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا. جبکہ اجلاس کو بتایا گیا کہ کووڈ کی نئی قسم سے پاکستان کو بظاہر کوئی خطرہ نہیں کیونکہ پاکستان کی 90 فیصد آبادی مکمل طور پر اور 95 فیصد آبادی جزوی طور پر ویکسینیٹڈ ہے. 5 سے 12 سال کے تین کروڑ 50 لاکھ بچوں میں ویکسینیشن کی شرح 25 فیصد ہے جبکہ اس کو آئندہ مہینوں میں 100 فیصد کر دیا جائے گا. پاکستان میں انفیکشن کی اوسط شرح 0.2 سے 0.5 فیصد ہے اور گزشتہ 15 ہفتوں سے کووڈ سے کوئی موت واقع نہیں ہوئی.

    اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ کووڈ-19 کی نئی اقسام کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے باڈر پر مؤثر انتظامات کئے گئے ہیں. اس کے ساتھ ساتھ ہوائی اڈوں پر رینڈم سامپلنگ کی شرح بڑھا کر 2 فیصد کر دی گئی ہے اور متاثرہ ممالک سے آنے والے ہوائی جہازوں کی فیومیگیشن کے ساتھ ساتھ مسافروں کی سکریننگ بھی مزید مؤثر بنائی گئی ہے. اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومت کے اقدامات اور وزیرِ اعظم کی خصوصی توجہ کی بدولت پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے جس میں جینوم سرویلنس یقینی بنائی گئی ہے جسکی بدولت بہت جلد وائرس کی نئی قسم کی نشاندہی ممکن ہوتی ہے.

    وزیرِ اعظم نے وزارتِ نیشنل ہیلتھ سروسز، NCOC حکام اور سول ایوی ایشن حکام کے کووڈ-19 کی روک تھام کے اقدامات کی تعریف کی. علاوہ ازیں وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان میں کووڈ-19 کی صورتحال قابو میں ہے جبکہ پانچ سے بارہ سال کے بچوں کی 100 فیصد ویکسینیشن کو ہنگامی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے.اور پاکستان کی سرحدوں اور ہوائی اڈوں پر آمدورفت پر سکریننگ کو مزید مؤثر بنایا جائے. وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ سرحدوں اور ہوائی اڈوں پر سکریننگ کے نظام کی تھرڈ پارٹی جانچ پڑتال کرکے رپورٹ پیش کی جائے.

    وزیرِ اعظم کے مطابق پاکستان میں پچھلے 15 ہفتوں میں کووڈ-19 سے ایک بھی موت نہ ہونا خوش آئند امر ہے. جبکہ مجھ سمیت پوری قوم ویکسین عطیہ کرنے والے ممالک کے شکرگزار ہے. اور کووڈ-19 انفیکشن کی کم شرح خوش آئند ہے مگر ہمیں ہر وقت تیار رہنا ہوگا. انہوں نے کہا کہ کووڈ-19 کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے اقدامات کرنے والے تمام عہدیداران اور NCOC کی کوششیں قابلِ ستائش ہیں.

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی امن پر کوئی سمجھوتا نہیں ، دہشت گردی ناقابل برداشت ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں وزیراعظم نے گزشتہ روز قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے فیصلوں سے متعلق بتاتے ہوئے کہا کہ این ایس سی نے کئی گھنٹے طویل مشاورت کے بعد اہم فیصلے کیے، جن میں سے دو نمایاں ہیں۔


    دہشت گردی کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ اجلاس میں طے پایا ہے کہ پاکستان کی رٹ چیلنج کرنے والے دہشت گردوں کے لیے ریاست زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائے گی اور قیام امن پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اقتصادی روڈ میپ ملکی معیشت کو بحال کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کے لیے ریلیف کے اسباب بھی پیدا کرے گا۔ دریں اثنا وزیراعظم شباز شریف نے ملائیشین ہم منصب اسماعیل صابری یعقوب سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے انہیں وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے پر مبارک باد دی ہے۔ وزیراعظم نے ملائیشیا کے نئے وزیراعظم اور عوام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    دوسرا ٹیسٹ؛ نیوزی لینڈ کا پاکستان کیخلاف بیٹنگ کا فیصلہ
    متنازع ٹوئٹ کیس؛ اعظم خان سواتی کے بیٹے نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے خلاف عدم اعتماد کا خط واپس لے لیا۔
    ڈومیسٹک کرکٹرز کی سن لی گئی، پیر سے بقایاجات کی ادائیگی کا کام شروع
    قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس آج پھر ہوگا،ہوں گے بڑے فیصلے
    دونوں وزرائے اعظم نے پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان برادرانہ قریبی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے اور تجارت وسرمایہ کاری سمیت باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم نے ملائیشین ہم منصب کو 9 جنوری کو جنیوا میں ہونے والی ڈونرز کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی ۔ وزیراعظم نے پاکستان کے سیلاب متاثرین کی امداد اور بحالی کے لیے ڈونرز کانفرنس کے انعقاد سے آگاہ کیا ، جس پر ملائیشین وزیراعظم نے ڈونرز کانفرنس میں اعلیٰ سطح کا وفد بھجوانے کی یقین دہائی کرا دی۔ علاوہ ازیں وزیراعظم نے ملائیشین ہم منصب کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی، جسے انہوں نے قبول کرتے ہوئے شہباز شریف کو بھی ملائیشیا کے دورے کی دعوت دی۔

  • کراچی ٹیسٹ؛ نیوزی لینڈ کی آٹھویں وکٹ 340 رنز پر گرگئی

    کراچی ٹیسٹ؛ نیوزی لینڈ کی آٹھویں وکٹ 340 رنز پر گرگئی

    کراچی ٹیسٹ؛ نیوزی لینڈ کی آٹھویں وکٹ 340 رنز پر گرگئی

    کراچی: سیریز کے دوسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں نیوزی لینڈ نے پاکستان کے خلاف آٹھ وکٹوں کے نقصان پر 340رنز بنا لیے۔
    دوسرا روز
    نیوزی لینڈ نے اپنی بقیہ اننگز 309 رنز 6 وکٹوں پر شروع کی لیکن اش سودھی 11 رنز پر نسیم شاہ کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔ ٹام بلنڈل 51 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
    پہلا روز
    دوسرے سیشن میں اوپنر ڈیون کانوے نے سنچری مکمل کی لیکن چائے کے وقفے کے بعد ڈیون کانوے 122 رنز کی اننگز کھیل کر سلمان آغا کی گیند پر کیچ تھما بیٹھے۔ کین ولیمسن 36 رنز بنا کر نسیم شاہ کی گیند پر وکٹ کے پیچھے کیچ آؤٹ ہوئے جبکہ ڈیرل مچل 3 رنز بنا کر سلمان آغا کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔

    ہینری نکولس 26 رنز اور اور مائیکل بریسویل صفر پر پویلین لوٹ گئے۔ پہلے روز کھیل کے اختتام پر ٹام بلنڈل 30 اور اش سودھی 11 رنز پر وکٹ پر موجود ہیں۔ پہلے سیشن میں کیوی ٹیم کے اوپنرز نے 119 رنز بنائے تھے تاہم کھانے کے وقفے کے بعد ٹام لیتھم 71 رنز بنا کر نسیم شاہ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہوگئے۔

    کھانے کے وقفے سے قبل پاکستان نے اپنے تمام پانچ بولرز کا آزمایہ تھا تاہم کوئی بھی بولر وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا تھا۔
    ٹاس
    نیوزی لینڈ نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا۔ قومی ٹیم نے محمد وسیم اور اسپنر نعمان علی کی جگہ فاسٹ بولر حسن علی اور نسیم شاہ کو شامل کیا جبکہ مہمان ٹیم نے فاسٹ بولر نیل واگنر کی جگہ میٹ ہینری کو ٹیم کا حصہ بنایا. دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ ڈرا ہوگیا تھا، سیریز آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کا حصہ ہے۔ نیشنل اسٹیڈیم میں دوسرا ٹیسٹ دیکھنے کے لیے تماشائیوں کا داخلہ مفت ہے۔
    پاکستان ٹیم
    امام الحق، عبداللہ شفیق، شان مسعود، کپتان بابراعظم، سعود شکیل، وکٹ کیپر سرفراز احمد، آغا سلمان، حسن علی، نسیم شاہ، ابرار احمد، میر حمزہ۔
    نیوزی لینڈ ٹیم
    ٹام لیتھم، ڈیون کونوے، کین ولیمسن، ہینری نکولس، ڈیرل مچل، ٹام بلنڈل، مائیکل بریسویل، کپتان ٹم ساوتھی، اش سودھی، میٹ ہینری، اعجاز پٹیل۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    دوسرا ٹیسٹ؛ نیوزی لینڈ کا پاکستان کیخلاف بیٹنگ کا فیصلہ
    متنازع ٹوئٹ کیس؛ اعظم خان سواتی کے بیٹے نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے خلاف عدم اعتماد کا خط واپس لے لیا۔
    ڈومیسٹک کرکٹرز کی سن لی گئی، پیر سے بقایاجات کی ادائیگی کا کام شروع
    قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس آج پھر ہوگا،ہوں گے بڑے فیصلے

  • جدہ جانیوالی پی آئی اے کی پرواز کئی گھنٹے تاخیر کا شکار; عازمین عمرہ سراپا احتجاج

    جدہ جانیوالی پی آئی اے کی پرواز کئی گھنٹے تاخیر کا شکار; عازمین عمرہ سراپا احتجاج

    جدہ جانیوالی پی آئی اے کی پرواز کئی گھنٹے تاخیر کا شکار; عازمین عمرہ سراپا احتجاج

    جناح انٹرنیشنل ائرپورٹ سے جدہ جانے والی قومی ائرلائن کی پرواز کئی گھنٹے کی تاخیر کا شکار ہوگئی، جس کی وجہ سے عازمین عمرہ احتجاج پر مجبور ہوگئے۔ پی آئی اے کی پرواز پی کے 731 کراچی سے جدہ کے لیے جانی تھی، جو فنی خرابی کے سبب کئی گھنٹے کی تاخیر کا شکار ہوگئی۔ اس موقع پر عمرہ ادائیگی کے لیے جانے والے زائرین نے کراچی ائرپورٹ پر احتجاج کیا۔ مسافروں کا کہنا تھا کہ کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود پرواز کی روانگی سے متعلق کچھ نہیں بتایا جارہا۔ائرپورٹ پر مسافروں اور عملے میں تلخ کلامی بھی ہوئی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    دوسرا ٹیسٹ؛ نیوزی لینڈ کا پاکستان کیخلاف بیٹنگ کا فیصلہ
    متنازع ٹوئٹ کیس؛ اعظم خان سواتی کے بیٹے نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے خلاف عدم اعتماد کا خط واپس لے لیا۔
    ڈومیسٹک کرکٹرز کی سن لی گئی، پیر سے بقایاجات کی ادائیگی کا کام شروع
    قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس آج پھر ہوگا،ہوں گے بڑے فیصلے
    خیال رہے کہ طیارے کو پیر کی شام جدہ کے لیے روانہ ہونا تھا جب کہ پرواز پی کے 731 کے بوئنگ 777 میں فنی خرابی کو 10 گھنٹے سے زائد گذرچکے ہیں۔ ترجمان پی آئی اے کے مطابق انجینئرز طیارے میں فنی خرابی کو دور کر نے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کے بعد پرواز کو دوپہر ایک بجے روانہ کردیا جائے گا۔ ائرپورٹ پر مسافروں کےکھانے پینے اور دیگرضروریات کا خیال رکھا جارہا ہے۔

    واضح رہے کہ اس حوالے سے باغی ٹی وی کے نیوز ایڈیٹر ملک رمضان اسراء نے پی آئی اے کے ترجمان سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ ” یہ مسئلہ جہاز میں فنی خرابی کی وجہ سے ہوا لہذا اسے دور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جبکہ پرواز 1 بجے روانہ ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسافروں کی لاوئنج میں خاطر مدارات کی جارہی ہے مگر ان کی حفاظت کے پیش نظر خرابی کو مکمل طور پر دور کئے بغیر پرواز روانہ نہیں کی جاسکتی ہے.

  • چیف الیکشن کمشنر کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر اعتراض عائد

    چیف الیکشن کمشنر کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر اعتراض عائد

    چیف الیکشن کمشنر کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر اعتراض عائد

    رجسٹرار اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر اعتراض عائد کردیا۔ چیف الیکشن کمشنر، 4 ارکان، داخلہ اور کابینہ ڈویژن سیکرٹریز کے خلاف دائر کی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ 31 دسمبر کو بلدیاتی انتخابات کرانے کے فیصلے پر عمل نہ کرنے پر توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار نے اعتراض میں کہا ہے کہ آئینی عہدہ رکھنے والے چیف الیکشن کمشنر ے خلاف کیسے توہین عدالت دائر ہو سکتی ہے؟ توہین عدالت کی درخواست پی ٹی آئی رہنما علی نواز اعوان کی جانب سے ایڈووکیٹ سردار تیمور اسلم کی وساطت سے دائر کی گئی ہے۔ خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے انٹراکورٹ اپیل دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ بے شمار وجوہات پر الیکشن آج ممکن ہی نہیں تھے، بیلٹ پیپرز چھپوائی کے بعد پرنٹنگ کارپوریشن میں موجود تھے جنہیں 14 ریٹرننگ افسران کے دفاتر میں پہنچانا تھا، 14 ہزارسے زائد اسٹاف نے الیکشن ڈیوٹی کے فرائض سرانجام دینا تھے۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    دوسرا ٹیسٹ؛ نیوزی لینڈ کا پاکستان کیخلاف بیٹنگ کا فیصلہ
    متنازع ٹوئٹ کیس؛ اعظم خان سواتی کے بیٹے نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے خلاف عدم اعتماد کا خط واپس لے لیا۔
    ڈومیسٹک کرکٹرز کی سن لی گئی، پیر سے بقایاجات کی ادائیگی کا کام شروع
    قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس آج پھر ہوگا،ہوں گے بڑے فیصلے

  • وفاقی حکومت ایم کیو ایم کے تحفظات دور کرنے میں تاحال ناکام

    وفاقی حکومت ایم کیو ایم کے تحفظات دور کرنے میں تاحال ناکام

    وفاقی حکومت ایم کیو ایم کے تحفظات دور کرنے میں تاحال ناکام

    وفاقی حکومت کے اتحاد میں شامل جماعتیں سندھ میں بلدیاتی حد بندی کے معاملے پر ایم کیو ایم پاکستان کے تحفظات کو دور کرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے مذاکرات ڈیڈ لاک کا شکار ہو گئے ۔ بلاول ہاؤس میں اتحادی جماعتوں کا اجلاس بے نتیجہ ختم ہو گیا ۔ مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے اراکین میڈیا سے بات کئے بغیر روانہ ہو گئے ۔ دیگر رہنماؤں نے بھی چپ سادھ لی ۔

    اجلاس کی اندرونی کہانی کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کراچی کی چوہتر یونین کونسلز کی حد بندی کو تبدیل کرنے کے مطالبے پر ڈٹ گئی ہے ۔ ایم کیو ایم رہنماؤں کا موقف ہے کہ سندھ حکومت تحریری معاہدے کے تحت اسمبلی سے قانون سازی کے ذریعے اس مسئلے کو حل کر سکتی ہے ۔ جبکہ سندھ حکومت کا موقف ہے کہ اس قانون سازی سے سندھ کے دیگر اضلاع میں بھی حد بندی تبدیل کرنا پڑے گی ۔ قانونی طور پر حد بندی کو تبدیل کرنا ممکن نہیں ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    توشہ خانہ چور بتارہا ہے کہ اس نے کیا کیا؟ مریم اورنگزیب
    چین سے آنیوالی بوگیاں پاکستان میں چلنے کے قابل نہ ہونے کا انکشاف

    حکومتی وفد نے اجلاس میں ہونے والی گفتگو سے وزیر اعظم شہباز شریف کو آگاہ کیا اور پھر اسلام آباد لوٹ گئے۔وزیر اعظم شہباز شریف حکومتی وفد سے ملاقات کے بعد آصف زرداری سے بات کریں گے ۔ایم کیو ایم نے رائے لینے کیلئے آج کارکنوں کو طلب کر لیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ حلقہ بندیوں سے متعلق ایم کیو ایم کا اپنا مؤقف ہے۔ جسے الیکشن کمیشن کے سامنے رکھا ہے۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے پر عمل کریں گے۔

    وسیم اختر کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے حلقہ بندیوں پر تحفظات برقرار ہیں۔ایم کیو ایم حلقہ بندیوں کے ذریعے کسی جماعت کو شہری سندھ پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ پیپلز پارٹی معاہدوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائے یا پھر ہم سے کسی بھی معاہدے پر عمل درآمد کی امید نہ رکھے،

  • توشہ خانہ چور بتارہا ہے کہ اس نے کیا کیا؟ مریم اورنگزیب

    توشہ خانہ چور بتارہا ہے کہ اس نے کیا کیا؟ مریم اورنگزیب

    توشہ خانہ چور بتارہا ہے کہ اس نے کیا کیا؟ مریم اورنگزیب

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے چیئرمین پی ٹی آئی کے حالیہ انٹرویو پر انہیں آڑے ہاتھوں لے لیا۔ ایک بیان میں مریم اورنگزیب نے عمران خان سےسوال کیا کہ ایکسٹینشن نہیں دینی چاہیے تھی تو پھر کیوں دی تھی؟ اور جو 2021 سے اپریل 2022میں کیا گیا، وہ عمران خان کو 2 جنوری 2023 میں یاد آرہا ہے؟ انہوں نے مزید کہا کہ پہلے عمران خان کہتے تھے کہ وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ یہ شہبازشریف کو وزیراعظم بنائیں گے، اب کہتے ہیں کہ انہیں گرمیوں میں پتا چل گیا تھا، عمران خان کا بیانیہ موسمیاتی تبدیلی کا شکار ہوگیا ہے، موسم کے حساب سے ان کے بیان بھی بدل رہے ہیں۔


    وزیر اطلاعات کے مطابق توشہ خانہ چور بتارہا ہےکہ اس نے کیا کیا، خان صاحب پاکستان کو ڈيفالٹ کرنے کاآپ کا پلان فیل ہوگیا۔ خیال رہے کہ اس سے قبل بھی ایک بیان میں وزیر اطلاعات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ "کیا بندہ ہے؟ عید شب رات کی تمیز نہ ہی نئے سال کا کوئی خیال؟ دعا اور نہ ہی کبھی خیر کا کوئی کلمہ؟ اپنی ذات میں قید شخص کو آگے کی سوچ نہیں، نہ کسی کے غم کا خیال نہ کسی کی خوشی کا احساس۔جسے دوسروں کی خوشی میں خوشی اور غم میں دکھ بانٹنا نہ آتا ہو وہ بائیس کروڑ عوام کا کیا سوچتا؟”

    یاد رہے کہ اس سے قبل عمران خان نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پلان بنایا گیا تھا کہ شہباز شریف کو لانا ہے لہذا مجھے کچھ دیگر اشارے بھی ملے لیکن مجھے اعتماد تھا مگر شاہ زین بگٹی کے جانے کے بعد واضح ہوگیا کہ ہمیں ہٹانے کا پلان ہے۔