Baaghi TV

Author: +9251

  • لودھراں : بجلی کے میٹر خطرہ بنتے جا رہے ہیں

    لودھراں (نمائندہ باغی ٹی وی)0بجلی کے پول سے میٹر اتارے جائیں اور کچھ میٹر ساتھ لگے بجلی کے پول پر نصب کئے جائیں،اہل محلہ

    تفصیل کے مطابق گلی چنیوٹی والی میں ایک ہی کھمبے پر کئی میٹر لگا دیے گئے ہیں جو کہ کسی خطرہ سے خالی نہ ہے اس کھمبے پر کی میٹر لگے ہونے کی وجہ سے بجلی کے تار جھول رہے ہیں اور گھروں کے اوپر سے تار گزر رہے ہیں جس کی وجہ سے مکین پریشان ہیں کیونکہ ان تاروں کے نیچے گھر ہیں یہ تاریں جانوروں کے بھانہ کے اوپر سے گزر رہیں گزشتہ روز بھی ایک تار گر کر نیچے گر گئی خوش قسمتی سے لاکھوں روپے مالیت کی بھینس بچ گئیں اہل محلہ نے ڈپٹی کمشنر اور ایکسئن واپڈا سے مطالبہ کیا ہے بجلی کے میٹر اتار کر دوسرے پول پر نصب کئے جائیں تاکہ آئندہ کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہو سکے –

  • برطانیہ ایرانی ٹینکر  کیسے  واپس کر ے گا شرائظ بتا دیں،

    برطانیہ ایرانی ٹینکر کیسے واپس کر ے گا شرائظ بتا دیں،

    برطانیہ نے ایرنی ٹینکر کو واپس کرنے کی شرائظ بتا دیں،

    برطانیہ نے ایرنی ٹینک کو واپس کرنے کی شرائظ بتا دیں، برطانوی وزیر خارجہ جیرمی ہنٹ کا کہنا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے انہیں آگاہ کیا ہے کہ تہران "گریس 1” تیل بردار جہاز کا مسئلہ حل کرنے کا خواہاں ہے اور وہ معاملے کو بڑھانا نہیں چاہتا ہے۔

    ہنٹ نے واضح کیا کہ اگر انہیں یہ ضمانت مل جائے کہ جبرالٹر کی عدالت میں قانونی اقدامات کے بعد مذکورہ تیل بردار جہاز شام کا رخ نہیں کرے گا تو جہاز کی واپسی آسان ہو جائے گی۔ ہنٹ کے مطابق انہوں نے ظریف کے ساتھ بات چیت میں ایرانی وزیر خارجہ کو اس بات کا اطمینان دلایا کہ لندن کے لیے اہم امر گریس 1 تیل بردار جہاز کے تیل کا ذریعہ نہیں بلکہ جہاز کی منزل ہے۔

    ادھر جبرالٹر کی پولیس نے گذشتہ ہفتے تحویل میں لیے جانے والے ایرانی تیل بردار جہاز کے کپتان اور عملے کے تین افراد کو رہا کر دیا گیا ہے۔ مذکورہ جہاز پر شبہ ہے کہ اس نے شام پر یورپی یونین کی پابندیوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

    جبرالٹر میں پکڑےگئے آئل ٹینکر کو غیر قانونی عمل قرار دیا ہے اور اسے فوری چھوڑنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

    ایران کا جبرالٹر میں پکڑے گئے آئل ٹینکر کو چھوڑنے کا مطالبہ کردیا۔

    واضح رہے کہ برطانوی بحریہ نے ایرنی آئل ٹینکر اپنی تحویل میں لے لیا تھا جسے ایرانی حکام نے برطانوی سفیر سے آئل ٹینکر کو چھوڑنے کا بھی فوری مطالبہ کیا تھا جب کہ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ موصول شدہ اطلاعات کے مطابق برطانیہ نے یہ کارروائی امریکا کےکہنے پر کی۔

    ایران کے سینئر عسکری حکام نے واقعے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر آئل ٹینکر کو فوری طور پر نہ چھوڑا گیا تو یہ تہران کا فرض ہے کہ وہ اسی طرح کرے اور برطانوی ٹینکر کو قبضے میں لے

  • شجاع آباد (نمائندہ باغی ٹی وی) پولیس اور حساس اداروں کا شہر کے مختلف مقامات پر سرچ آپریشن 9 مشکوک افراد گرفتار اسلحہ اور منشیات برآمد کر لی گئی مختلف جرائم میں ملوث افراد کے خلاف تھانہ سٹی میں مقدمات درج کر لیے گئے ہیں جبکہ سرچنگ کے دوران مشکوک افراد کی بائیو میٹرک بھی کی گئی ہے گاڑیوں کی رجسٹریشن اور کاغذات بھی چیک کیے گئے

    پولیس رانا اظہر منیر باغی ٹی وی ملتان ۔شجاع آباد

  • ڈیلی میل رپورٹ کی حقیقت پی ٹی آئی کےترجمانوں جیسی ہے، مریم اورنگ زیب

    ڈیلی میل رپورٹ کی حقیقت پی ٹی آئی کےترجمانوں جیسی ہے، مریم اورنگ زیب

    برطانوی اخبار کی رپورٹ کی حقیقت عمران خان کے ترجمانوں جیسی ہے نون لیگ کی ترجمان مریم اورنگ زیب کا رد عمل

    نون لیگ کی ترجمان مریم اورنگ زیب نے شہباز شریف کے متعلق برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ پر اپنا رد عمل پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانوی اخبارکی وہی شہرت ہے جو موجودہ کرائے کے ترجمانوں کی ہے عمران صاحب ایسی خبریں چھپوا کر آپ گزشتہ روز کی کامیاب ہڑتال کو ناکام نہیں بناسکتے ،.برطانوی اخبار نے عمران صاحب کے بارے میں کئی خبریں شائع کیں،

    شہبازشریف کا نیا سکینڈل، زلزلہ متاثرین کی امداد کھاتے رہے ،برطانوی اخبار

    ن لیگی ترجمان نے کہا کہ جج ارشد ملک کی وڈیو سے طوفان کارخ موڑنے کے لیےبرطانیہ میں لوگوں کی منت سماجت کی گئی.اپنا دفاع کرتےہوئے مریم اورنگ زیب نے کہا کہ برطانوی حکومت نے فنڈز کا غیرجانبدارانہ آڈیٹرز سے آڈٹ کرایا اورحکومت پنجاب کی کاوشوں کو سراہا گیا ،2018میں عالمی جریدے اکانومسٹ نے رپورٹ دی تھی کہ پاکستان میں تعلیم کا انقلاب آ رہا ہے ،رپورٹ میں گواہی دی گئی تھی کہ پنجاب میں شہبازشریف نے جو کام کیا وہ دہائیوں میں نہیں ہوا.

    شہباز شریف کے خلاف ہوں گی اب برطانیہ میں بھی تحقیقات

  • نیوزی لینڈ کا انگلینڈ کیخلاف ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ

    نیوزی لینڈ کا انگلینڈ کیخلاف ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ

    ورلڈ کپ 2019 آخری میچ میں نیوزی لینڈ نے میزبان ٹیم انگلینڈ کیخلاف ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا ہے۔

    ورلڈ کپ کی فیورٹ ٹیم اور میزبان انگلینڈ چوتھی مرتبہ ورلڈ کپ کا فائنل کھیلے گی۔ انگلش ٹیم 1992 کے بعد اب جاکے فائنل تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔

    نیوزی لینڈ کی ٹیم مسلسل دوسری بار فائنل تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ 2015 کے ورلڈ کپ فائنل میں کیویز کو آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی۔ دونوں ٹیمیں پہلی بار میگا ایونٹ میں تاریخی گراؤنڈ لارڈز میں آمنے سامنے ہوں گی ۔دونوں ٹیمیں ابھی تک کوئی ورلڈ کپ نہیں جیت پائیں۔

    دوہزار گیارہ اور 2015 کے ورلڈ کپ میں میزبان ٹیموں نے کامیابی حاصل کی۔ 2011 میں بھارت اور 2015 میں آسٹریلیا ورلڈ چیمپیئن بنا۔ ایک بار پھر ایسا موقع آیا ہے کہ میزبان انگلینڈ کی ٹیم اپنی سرزمین پر فائنل کھیل رہی ہے۔

    ورلڈ کپ کی تاریخ پر نظردہرائی جائے تو آسٹریلیا کی ٹیم پانچ بار عالمی چیمپئن رہ چکی ۔ ویسٹ انڈیز اور بھارت نے 2،2 مرتبہ ورلڈ کپ جیتا۔ پاکستان اور سری لنکا نے ایک ، ایک مرتبہ ورلڈ چیمپئن ہونے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔

  • شہباز شریف کے خلاف ہوں گی اب برطانیہ میں بھی تحقیقات

    شہباز شریف کے خلاف ہوں گی اب برطانیہ میں بھی تحقیقات

    شہباز شریف کے خلاف کرپشن کے سلسلے میں برطانیہ میں بھی تحقیقات ہوں گی۔

    اخبار میل آن لائن کے مطابق برطانوی شہری آفتاب محمود نے شہبازشریف کے لیے لاکھوں پاونڈز کی مبینہ منی لانڈرنگ کا اعتراف کیا جس کے بعد یہ جاننے کی کوشش کی جارہی ہے کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب کے اثاثے کیسے بڑھ رہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ برطانیہ نے 2005 کے زلزلہ متاثرین کے لیے پنجاب حکومت کے اکاونٹ میں 50 کروڑ پاونڈز جمع کرائے تھے لیکن شہباز شریف نے اس میں لاکھوں پاونڈز کی کرپشن کی۔

    شہبازشریف کا نیا سکینڈل، زلزلہ متاثرین کی امداد کھاتے رہے ،برطانوی اخبار

    برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں کرپشن سے چرائے گئے لاکھوں پاونڈز برمنگھم منتقل کیے گئے جہاں سے رقم شہبازشریف کے برطانوی بینک اکاونٹس میں منتقل ہوئی

    واضح رہے کہ برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ منی لانڈرنگ کے ذریعے برطانیہ منتقل کی جانیوالی رقم میں DFID سے لی گئی امداد کا حصہ شامل ہے۔

    رپورٹ کی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ پیسہ شہباز شریف کی اہلیہ، بچوں اور داماد کو منتقل ہوا، شہبازشریف کے داماد کو متاثرین کیلئے 10 لاکھ پاؤنڈز دیئے گئے تھے۔ سابق سیکریٹری آئی ڈی ایف ڈی کا کہنا ہے کہ امداد کا منی لانڈرنگ میں استعمال انتہائی تشویشناک ہے۔ دوسری جانب شہباز شریف فیملی نے ان الزامات کی تردید کر دی۔

  • بارش نے فائنل میں بھی رنگ میں بھنگ ڈال دی،

    بارش نے فائنل میں بھی رنگ میں بھنگ ڈال دی،

    بارش نے فائنل میں بھی رنگ میں بھنگ ڈال دی، بارش کے باعث ورلڈ کپ فائنل بھی تاخیر کا شکار ہو سکتا ہے .

    بارش نے فائنل میں بھی رنگ میں بھنگ ڈال دی لندن میں اتوار کی صبح اچانک شروع ہونے والی بارش کا سلسلہ جاری ہے اور لارڈز میں انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کا ورلڈ کپ فائنل میچ تاخیر کا شکار ہوسکتا ہے۔

    لارڈز میں پچ اور بولنگ رن اپ کو کورز سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔ کورز پر پانی کھڑا ہوا ہے اور اسے وقفے وقفے سے وائپرز کی مدد سے صاف کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بارش کی وجہ سے تماشائی بھی بڑی تعداد میں نہیں آسکے ہیں اور ہر جانب چھتریاں دکھائی دے رہی ہیں۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق صبح 10 بجے کے بعد بارش کی شدت میں بتدریج کمی آئے گی اور موسم بہتر ہوجائے گا۔ اوئن مورگن کی قیادت میں انگلینڈ کو فائنل کے لئے فیورٹ قرار دیا جارہا ہے۔ فائنل کے تمام ٹکٹس فروخت ہوچکے ہیں اور زبردست جوش و خروش نظر آرہا ہے۔

    دونوں ٹیموں نے کبھی ورلڈ کپ نہیں جیتا ہے اس لئے جو بھی جیتے گا، نیا چیمپئن سامنے آئے گا۔ ورلڈ کپ کے تمام ایڈیشنز میں شرکت کرنے والی ٹیموں میں نیوزی لینڈ اور انگلینڈ دو ایسی ٹیمیں ہیں جو اب تک کوئی بھی ورلڈ کپ اپنے نام نہیں کر سکیں۔

    لارڈ ز کے میدان پر ورلڈ کپ 2019 کے فائنل میں جیت جس بھی ٹیم کا مقدر بنی، تاریخ ضرور رقم ہو گی۔ انگلینڈ اب تک تین ورلڈ کپ کے فائنل کھیل چکا ہے جبکہ نیوزی لینڈ کا یہ لگاتار دوسرا فائنل ہو گا۔

    لارڈز میں1979میں انگلینڈ کو فائنل میں ویسٹ انڈیز نے شکست دی تھی جبکہ 1992کے فائنل میں پاکستان نے انگلینڈ کو شکست دے کر ورلڈ کپ جیتا تھا۔

    نیوزی لینڈ کی ٹیم مسلسل دوسری بار فائنل تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ 2015 کے ورلڈ کپ فائنل میں کیویز کو آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی۔ دونوں ٹیمیں پہلی بار میگا ایونٹ میں تاریخی گراؤنڈ لارڈز میں آمنے سامنے ہوں گی ۔دونوں ٹیمیں ابھی تک کوئی ورلڈ کپ نہیں جیت پائیں۔

    دوہزار گیارہ اور 2015 کے ورلڈ کپ میں میزبان ٹیموں نے کامیابی حاصل کی۔ 2011 میں بھارت اور 2015 میں آسٹریلیا ورلڈ چیمپیئن بنا۔ ایک بار پھر ایسا موقع آیا ہے کہ میزبان انگلینڈ کی ٹیم اپنی سرزمین پر فائنل کھیل رہی ہے۔

  • 5 ٹرانسفارمر جل کر تباہ ہوگئے

    5 ٹرانسفارمر جل کر تباہ ہوگئے

    چنیوٹ
    فیسکو چناب نگر کے اہلکاروں کی غفلت کی وجہ سے 5 ٹرانسفارمر جل کر تباہ ہوگئے ٹرانسفارمرز کو آگ لگنے سے ہونے والے دھماکے سے قریبی علاقے میں خوف وہراس پھیل گیا
    چناب نگر کے کمپلینٹ آفس کے عقب میں غیر قانونی طور پر سر عام ٹرانسفارمرذ کو رپیر کرتے ہوئے ٹرانسفارمرز کے نیچے آگ لگا کر گر م کیا جا رہا تھا کہ اس دوران ایک ٹرانسفارزور دار دھماکے سے پھٹ گیا جس کی وجہ سے قر یب پڑے 5 ٹر انسفارمر آگ کی لپیٹ میں آگئے آگ اس قدر شد ید تھی کہ پاس کےتمام لو گوں اور دوکان داروں نے اپنا سامان آٹھانا شروع کردیا اس دوران ریسکییو 1122 کو فون کیا گیا مقا می چناب نگر کے فائر بر یگییڈ نے آکر آگ پر قا بو پا لیا. اس موقع پر قر یب کے دوکانداروں نے بھاگ کر اپنی جا نیں بچائیں کوئی جا نی مالی نقصان نہیں ہوا ایس ڈی او فیسکو چناب نگر نے واقع سے لا تعلقی کا اظہا ر کیا ہے

  • س سیٹھ ص صحافی …

    س سیٹھ ص صحافی …

    کچھ دنوں سے ایک مشہور اینکر پرسن کی وڈیوز گردش میں ہیں جس میں وہ چیلنج کرتے نظر آتے ہیں کہ ‘آئو مجھے گرفتار کرو۔ میں پرویز مشرف نہیں کہ بھاگ جائوں گا وغیر ہ وغیرہ’ ۔۔۔ وہ اینکر سے سیاست دان زیادہ نظرآتے ہیں۔ورنہ اُنکا پرویز مشرف سے کیا لینا دینا. شائد سیاست دانوں کے ساتھ بیٹھ بیٹھ کر اُن پر بھی سیاست دانوں کا رنگ چڑھ گیاہے۔
    مجھے حیرانی اس بات کی ہوئی کہ اتنے کھڑپینچ اینکر کو بھی اپنی بات کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارہ کیوں لینا پڑ رہاہے جبکہ وہ روز سیاست دانوں کے ساتھ ایک پرائیویٹ چینل پر ٹاک شو میں محفل سجاتاہے ۔ کیاوجہ ہے کہ وہ اپنے مسائل کے لیے ٹاک شو کا پلیٹ فارم استعمال نہیں کرسکتے آخر وہ بھی تو بڑے صحافی ہیں اور کوئی اوراینکر بھی انہیں‌ بطور گیسٹ نہیں بلاتا ورنہ تو سوشل میڈیا کی کسی بھی ویڈیو پرٹاک شوز ہورہے ہوتے ہیں ۔۔۔ یہ آداب صحافت کے خلاف ہے یا سیٹھ اس کی اجازت نہیں دیتا۔ ۔۔؟؟؟
    وجہ کوئی بھی ہوچھوٹے موٹے صحافی یا میڈیا ورکرز سوچتے ہیں کہ جب اتنا تگڑا اینکر اپنی بات ٹی وی چینل پر بات نہیں کرسکتا تو اُنکی بات کون کرے گا جو ‘تبدیلی’ آنے کے بعد سب سے زیادہ سیٹھوں کے زیر عتاب ہیں ۔ وہ سیٹھ جنہوں نے انہی میڈیاورکرزکے خون پسینے سے بڑی بڑی ایمپائرز کھڑی کی ہیں ۔ایک چینل سے کئی چینل بنائے اور کئی کاروبار کھڑے کیے ۔جب اُنکا زرہ سا منافع کم ہوا تو سارا بوجھ میڈیا ورکرز پر ڈال دیاگیا۔ اخبار ہوں یا نیوز چینلز، سب نے بڑی تعداد میں میڈیا ورکرز کو نکال باہرکیا۔ تنخواہیں تیس فیصد سے لیکر پچاس فیصد تک کم کردی گئیں.
    حد تو یہ ہے کہ حالات کا رونا روتے ہوئے میڈیا کے سیٹھوں نے دو دو تینن تین تنخواہیں نیچے لگادیں ۔۔۔ کوئی چھوڑ کر جانا چاہے تو کہاجاتا ہے شوق سے جائوگزشتہ تنخواہیں نہیں ملے گی… مگر یہ تو اینکرز کا مسئلہ ہی نہیں !
    یہی ویڈیو والے اینکر صاحب مزدور ڈے پر ٹائ کوٹ چڑھا کر ایک بھٹے پر مزدوروں سے سوال کرتے نظرآئے کہ اُن کی زندگی کیسے گزرتی ہے اور پھر کسی مزدور کی داد رسی کروا کر ٹوئیٹر پر خود داد بھی سمیٹے نظر آئے ۔۔لیکن کیا ان اینکر صاب کو شائد یہ پتہ نہیں کہ میڈیا ورکرز کی حالت بھٹہ مزدوروں جیسی ہے ۔ میڈیا ورکرز بھی سیٹھوں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں ۔ سیٹھ ڈٹھائی سے ورکرز کی کئی تنخواہیں نیچے لگا رکھتے ہیں . حد تویہ ہے ہمارے جوڈیشیل سسٹم سے ورکرز کی بجائے سیٹھوں کو زیادہ ریلیف ملتے دیکھاہے۔ ۔۔
    اینکرز سارا دن چینلوں پر بیٹھ کر سیاسی دنگل کرواتے ہیں لیکن کتنی بار ایساہوا کہ کبھی میڈیا ورکرز کے استحصال پر کوئی پروگرام کیا گیاہو۔
    اگرکبھی کوئی چینل بند ہوتاہے تو یہی ورکررز ہوتے ہیں جو سڑکوں پر نظر آتے ہیں۔ اور سیٹھوں کے لیے آزادی اظہار کی جنگ لڑتے نظر آتے ہیں۔ لیکن جب یہی سیٹھ ورکرز کے چولھے بند کردیتے ہیں تو اور ورکرز سراپا احتجاج ہوتے ہیں تو کوئی بھی ٹی وی چینل ان کی آواز نہیں بنتا کوئی بھی اینکر ورکرز کا مقدمہ نہیں لڑتا۔کیونکہ سیٹھ اجازت نہیں دیتا۔ کئی میڈیا ورکرز جو کئی کئ سالوں سے سیٹھوں کے پاس کام کررہےتھے جھٹ میں فارغ کر دیے گئے۔ ان میں سے کچھ چھوٹے موٹے کام ڈھونڈ رہے ہیں۔ اور کچھ یوٹیوب پر طبع آزمائی کررہے ہیں ۔۔۔

    پرانے چینلوں سے جو لوگ نکالے گئے انہوں نے نئے آنے والے چینلوں کا رُخ کیا مگر وہاں بھی حالات ورکرز کے حق میں اچھے نہیں۔ یونیورسٹی سےڈگریاں لینے کے بعد جب سٹوڈنٹس نیوز چینلزکا رُخ کرتے ہیں توانہیں انٹرنشپ کے نام پر چھ چھ مہینے مفت کام کروایا جاتاہے ۔ اور پھر 15 ، 20 ہزار پر نوکری دے دی جاتی ہے ۔جو کئی کئی سال تک نہینں بڑھتی ۔ کئی ٹی وی چینل ایسے بھی ہیں جو اس سے بھی کم تنخواہ پر لوگوں کو رکتھے ہیں ۔مگر وہ بھی چھ چھ مہینے نہیں دیتے ۔ نہ میڈیکل نہ فیول اورنہ گریجوئٹی وغیرہ ۔
    اُن کے بارے میں کہا جاتا ہے ‘تُھوک سے پکوڑے تلتے ہیں’ اورمیڈیا ورکرز اکلوتی سیلری پر لگے رہتے ہیں اور وہ بھی وقت پر نہیں ملتی۔

    جو حال ہمارے ملک کے میڈیا ہائوسز کاہے میرے خیال میں میڈیا کی تعلیم میں یہ سبق بھی ڈالاجائےکہ میڈیاکی چھوٹی موٹی نوکری وہ کرے جواس کے ساتھ کوئی دوسرا کاروبار بھی کررہاہو۔۔۔یاپھر شادی بیاہ ، بیوی بچوں کے جھنجھٹ میں نہ پڑے کیونکہ یہ نوکری کسی بھی وقت جاسکتی ہے ۔۔۔

    لیکن یہ مسائل چھوٹے موٹے صحافیوں اورمیڈیا ورکرز کے ہیں ۔ بڑے اینکروں کے نہیں۔ کیونکہ یہ لوگ تو چینلوں سے لاکھوں روپے تنخواہ اور مراعات لیتے ہیں اور سیٹھ بھی انہیں تنخواہیں وقت سے بھی پہلےدے دیتے ہیں۔ کچھ اینکرز ایسے بھی ہیں جنہیں نوکری سے نکالا نہیں جاتا بلکہ یہ خود نئی نوکری پر چلے جاتےہیں ۔ تو پھروہ اینکرز ان ایشوز پر بات کر کہ سیٹھ کو ناراض کیوں کریں گے ۔
    رہی بات صحافتی تنظیموں کی تویہ تنظیمیں سال کے آخرمیں الیکشن کے دنوں میں جاگتی ہیں ۔صحافیوں کے حقوق کے خوب نعرے لگائے جاتے ہیں اورپھر آپس میں لڑ بھڑ کر ہار جیت کر سب سال بھر کے لیے ٹھنڈے پڑے جاتے ہیں ۔ پیمرا کی نظر بھی صرف مواد پر ہوتی ہے ۔میڈیا ہاوءسز میں صحافیوں کے  ہونے والے استحصال پر نہیں

    لیکن ایک بات ہے ۔۔جبسے ‘تبدیلی’ کی گرم ہوا چلی ہے ۔۔اس کی تپش کچھ اینکرز کوبھی لپیٹ میں لے رہی ہے ۔۔ کچھ فارغ کردیے گئے اور وہ اب یوٹیوب پر اپنا منجن بیچ رہے ہیں اور کچھ خاموشی سے تنخواہ کٹوا کر کام کررہے ہیں ۔ لیکن سیٹھ کو کوئی فرق نہیں پڑاکیونکہ اُس کے ٹی وی چینلز کے علاوہ بھی کئی کاروبار ہیں ۔ اور تبدیلی کےاثرات صرف میڈیا ورکرز ہی جھیل رہے ہیں ۔
    آئے روز چینلوں سے لوگ نکالے جارہے ہیں ۔۔اوروہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے بیٹھے رہتے ہیں ۔۔۔جو فارغ ہوجاتے ہیں اپنی قسمت پر آنسو بہاتے ہیں اور بچ جانے والے شکر بجا لاتے ہیں ۔۔سیٹھ کے آگے سب بے بس ہیں
    آزادی اظہار کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں کو میں اُس دن مانوں گا جب رپورٹر، کیمرہ مین ، ڈرائیور ، او بی وین آپریٹر، پی سی آر اور ایم سی آر سٹاف، نیوز روم ورکرز، رائٹرز، پروڈیوسرز، نان لینئر ایڈیٹرز اور دیگر ورکرز کے مسائل کے بارے میں بھی بولیں گے ! وہاں آزادی اظہار کے بھاشن اچھے نہیں لگتے جہا ں میڈیا ورکر یہ سوچ کر دفتر جائے کہ پتہ نہیں آج نوکری رہتی ہے یا پھر خدا حافظ کا پروانہ ملتا ہے ۔ یہاں سیٹھ کی چلتی ہے صحافی کی نہیں اور سیٹھ صرف کاروبار کرتا ہے اور اُسکی نظر صرف منافع پر ہوتی ہے صحافت جائے بھاڑ میں .

     

  • ڈیلی میل کے الزامات کی شہباز فیملی کی طرف سے تردید

    ڈیلی میل کے الزامات کی شہباز فیملی کی طرف سے تردید

    شہباز شریف فیملی نے ڈیلی میل کے الزامات کی تردید کر دی

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق شہباز شریف پر زلزلہ متاثرین کی امداد چوری کرنے کے برطانوی الزام کی شہباز فیملی کی طرف سے تردید آگئی ہے .شہباز شریف کے بیٹے سلمان شہباز نے کہا ہے کہ ان الزامات کے کوئی ثبوت نہیں ہیں یہ سب حکومتی پراپیگنڈہ ہے جو ان کو بدنام کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے جشہباز شریف کے صاحبزادے سلیمان شہباز نے اسے وزیراعظم عمران خان کی سرپرستی میں سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے اپنے اور اپنے خاندان پر لگائے جانے والے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ان الزامات کو ثابت کرنے کے لئے شواہد موجود نہیں۔
    واضح رہے کہ ڈیلی میل کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ برطانیہ کی غیر ملکی امداد میں پوسٹر بوائے کے طور پر استعمال ہونے والے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے خاندان نے زلزلہ متاثرین کے لیے دی جانے والی امداد میں سے چوری کی۔

    شہبازشریف کا نیا سکینڈل، زلزلہ متاثرین کی امداد کھاتے رہے ،برطانوی اخبار