Baaghi TV

Author: +9251

  • آن لائن بزنس کیلئے بھارتی سافٹ ویئرز کا استعمال فوری ترک کیا جائے. این ٹی آئی ایس بی

    آن لائن بزنس کیلئے بھارتی سافٹ ویئرز کا استعمال فوری ترک کیا جائے. این ٹی آئی ایس بی

    آن لائن بزنس کیلئے بھارتی سافٹ ویئرز کا استعمال فوری ترک کیا جائے، این ٹی آئی ایس بی

    این ٹی آئی ایس بی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیکیورٹی الرٹ کے باوجود بھارتی سافٹ ویئرز کا استعمال، آن لائن بزنس کیلئے بھارتی سافٹ ویئرز کا استعمال فوری ترک کیا جائے. نیشنل ٹیلی کام سیکیورٹی بورڈ کی طرف سے جاری کی گئی ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ کارپوریٹ سیکٹر میں بھارتی کمپنی کے تیار کردہ سافٹ وئیرز استعمال ہورہے ہیں، 3 سال قبل بھی اس حوالے سے حکومت کو آگاہ کیا گیا تھا۔

    ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ وفاقی وزارتوں ڈویژنز چیف سیکرٹریز ٹیلی کام کمپنیوں کو ایک بار پھر متنبہ کیا جا رہا ہے کہ بھارتی کمپنی کے سافٹ وئیرز کے استعمال پر سائبر سیکیورٹی تحفظات ہیں۔ این ٹی آئی ایس بی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ آن لائن بزنس کے لیے بھارتی سافٹ وئیرز کا استعمال فوری ترک کیا جائے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    روسی رکن پارلیمنٹ اور صدر پیوٹن کے نقاد کی بھارت میں پراسرار ہلاکت
    خواتین پرپابندیاں،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا طالبان حکومت سے پالیسیاں بدلنے کا مطالبہ
    افسانہ نویس و ناول نگار اور مترجم قیصر نذیر خاورانتقال کرگئے.
    خیال رہے کہ پاکستان میں متعدد ادارے ایسی کمپنیوں سے سافٹ وئر خدمات حاصل کر رہی ہیں جن کا سوئچ بھارت کے اندر ہے کیونکہ ان کمپنیوں کو بھارتی افراد خرید چکے ہیں ،ایسے تمام سرکاری اداروں کو خبر دار کیا گیا کہ وہ خود کو ان کمپنیوں کے نیٹ سے الگ کر لیں ،جیسا کہ ملک میں بعض اہم مالی اور مالیاتی اداروں کی ڈیٹا بیس تک رسائی کی کوشش کی گئی اور جن کی تحقیقات ہوئیں جن میں یہ سامنے آیا کہ بھارتی ایچ سی ایل نے سافٹ وئیر بزنس کے کچھ حصوں کو خریدا ،اس بارے سرکاری اداروں کو خبردا ربھی کیا گیا مگر اب بھی کچھ سرکاری ادارے ایچ سی ایل کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہیں ،ان میں سے ایک ادارے میں حال ہی ڈیٹا کی چوری کے اطلاع سامنے آئیں ،ان اداروں کو کہا گیا ہے کہ خود کو اس نظام سے الگ کریں ۔

  • دسمبر تک 800 ارب روپے کا ہدف حاصل کرلیا تو بڑی بات ہوگی. طارق بشیرچیمہ

    دسمبر تک 800 ارب روپے کا ہدف حاصل کرلیا تو بڑی بات ہوگی. طارق بشیرچیمہ

    دسمبر تک 800 ارب روپے کا ہدف حاصل کرلیا تو بڑی بات ہوگی. طارق بشیرچیمہ

    طارق بشیر چیمہ نے کہا ہے کہ زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے جبکہ بلوچستان اور سندھ میں حالیہ سیلاب سے فصلیں تباہ ہوئیں. لہذا ملک کومشکلات سے نکالنے کیلئے کسانوں کاکردار اہم ہے انہوں نے مزید کہا کہ ماضی کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے گندم درآمد کرنا پڑ رہی ہے.

    انہوں نے مزید کہا کہ رواں سال گندم کاپیداواری ہدف 91فیصد مکمل کرلیا ہے اور وزیر اعظم نے کسانوں کیلئے زرعی قرضوں میں خاطر خوا ہ اضافہ کیا ہے جبکہ زرعی قرضوں میں 400 ارب روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، دسمبر تک 800 ارب روپے کا ہدف حاصل کرلیاتو بڑی بات ہوگی اور کوشش ہے پیداوار اتنی ہو کہ گندم درآمد نہ کرنی پڑے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    روسی رکن پارلیمنٹ اور صدر پیوٹن کے نقاد کی بھارت میں پراسرار ہلاکت
    خواتین پرپابندیاں،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا طالبان حکومت سے پالیسیاں بدلنے کا مطالبہ
    افسانہ نویس و ناول نگار اور مترجم قیصر نذیر خاورانتقال کرگئے.
    طارق بشیر چیمہ کے مطابق زرعی قرضوں کو بڑھا کر 1 ہزار 819 ارب روپے کیا گیا ہے، ڈی اے پی وافر مقدار میں موجود ہے، اور قیمت میں کمی بھی ہوئی ہے انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا تھا کہ قرضوں پر مارک اپ ختم کیاجائے. انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ کاشتکاروں کے وفود کے ساتھ ملاقات کریں گے جبکہ وزیراعظم شہبازشریف بھی کاشتکاروں کے وفود سے ملاقات کریں گے..

    طارق بشیر چیمہ کا کہنا تھا کہ ملک میں 2 لاکھ سے زائد ٹیوب ویلز بجلی پر چلتےہیں جبکہ ملک میں 12 لاکھ سے زائد ٹیوب ویلز ڈیزل پرچل رہےہیں اور وزیراعظم شہباز شریف نے کھاد کی قیمت 25 سو روپے تک کم کی جبکہ ڈی اے پی کا بیگ اس وقت 9 ہزار روپے میں مل رہا ہے. اور ہم چاہتے ہیں اس ملک کے عوام کو سہولت دی جانی چاہئے.

  • تین بار صوبائی حکومت سے ہیلی کاپٹر مانگا مگر انکار کیا گیا. گورنر خیبرپختونخوا کا دعویٰ

    تین بار صوبائی حکومت سے ہیلی کاپٹر مانگا مگر انکار کیا گیا. گورنر خیبرپختونخوا کا دعویٰ

    3بار صوبائی حکومت سے ہیلی کاپٹر مانگا، انکار کیا گیا، گورنر خیبرپختونخوا کادعویٰ
    گورنر خیبر پختونخوا غلام علی کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر کے استعمال کا بل دوبارہ آیا تو واپس بھیج دوں گا۔ پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر کے پی کا کہنا تھا تین بار صوبائی حکومت سے ہیلی کاپٹر مانگا لیکن انکار کیا گیا۔ غلام علی کا کہنا تھا ہیلی کاپٹر کے استعمال کا بل دوبارہ آیا تو واپس بھیج دوں گا، خیبرپختونخوا حکومت اور ترجمان بیرسٹر سیف کے بیان میں تضاد ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں گورنر خیبر پختونخوا کا کہنا تھا عمران خان کو اسمبلی واپس آنا چاہیے۔ یاد رہے کہ چند روز قبل یہ خبر سامنے آئی تھی کہ خیبر پختونخوا حکومت نے گورنر غلام علی کو ڈی آئی خان جانے کے لیے ہیلی کاپٹر دینے سے انکار کر دیا تھا۔ واضح رہے کہ گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی نے صوبائی حکومت کے ہیلی کاپٹر استعمال سے متعلق بل کو اعتراضات لگا کر واپس بھیج دیا تھا.

    دستاویز کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت کے ہیلی کاپٹر کے استعمال کو قانونی حیثیت دینے کا بل گورنر نے اعتراضات لگا کر واپس بھیج دیا گیا تھا۔ گورنر نے موقف اختیار کیا کہ بل آئین کے منافی ہے، ہیلی کاپٹر کے ماضی کے استعمال کو قانونی تحفظ دیا جارہا ہے۔ دستاویز کے مطابق گورنر خیبر پختونخوا نے مؤقف اختیار کیا کہ غیر مجاز افراد کی جانب سے ہیلی کاپٹر کا استعمال جرم ہے۔

    حاجی غلام علی نے مؤقف اختیار کیا کہ ہیلی کاپٹرز کے استعمال سے متعلق نیب اور دیگر اداروں میں تحقیقات ہو رہی ہیں۔ دستاویز کے مطابق اعتراضات میں کہا کہ الیکشن کمیشن میں ہیلی کاپٹر کے استعمال پر انکوائری اور سوالات زیرِ التوا ہیں۔ دستاویز کے مطابق بل آرٹیکل 62/63 کے منافی ہے، ہیلی کاپٹر کے ماضی کے استعمال کو قانونی تحفظ دیا جارہا ہے، جرم ہوچکا ہے جس کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے. اعتراضات میں مزید کہا گیا کہ بل گورنر، اسپیکر آفس کے لیے شرمندگی کا باعث بن سکتا ہے، صوبائی اسمبلی ہیلی کاپٹر سے متعلق ترامیم پر نظرثانی کرے۔

  • سب سے زیادہ انکم ٹیکس تنخواہ دار افراد اور صنعتی وکمرشل بجلی صارفین نے ادا کیا. ایف بی آر

    سب سے زیادہ انکم ٹیکس تنخواہ دار افراد اور صنعتی وکمرشل بجلی صارفین نے ادا کیا. ایف بی آر

    سب سے زیادہ انکم ٹیکس کنسلٹنٹس، امپورٹرز، سیونگ اکاؤنٹ ہولڈرز، تنخواہ دار افراد اور صنعتی وکمرشل بجلی صارفین نے ادا کیا ایف بی آر

     ودہولڈنگ ایجنٹس، جن میں زیادہ تر پرائیویٹ افراد شامل ہیں جب کہ مراعات یافتہ ٹیکس اہلکاروں سے بڑے ٹیکس کلکٹرز بن گئے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی مرتب کردہ تفصیلات کے مطابق سب سے زیادہ انکم ٹیکس کنسلٹنٹس، امپورٹرز، سیونگ اکاؤنٹ ہولڈرز، تنخواہ دار افراد اور صنعتی وکمرشل بجلی صارفین نے ادا کیا۔ ایف بی آر نے جولائی تا نومبر کے دوران انکم ٹیکس کی مد میں 1.1 ٹریلین روپے وصول کیے، جس میں سے 734 ارب روپے ان لوگوں نے جمع کیے، جو فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ملازم نہیں ہیں اور انہیں اس کام کا کوئی معاوضہ بھی نہیں دیا جاتا۔

    بیشتر ودہولڈنگ ایجنٹس نجی تنظیمیں یا صوبائی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹس ہیں۔ ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز کے ذریعے بیرون ملک ادائیگی والی منی ٹرانزیکشنز پر انکم ٹیکس کی وصولی میں بھی حیران کن طور پر 3,100 فیصد اضافہ ہوا۔ پلاسٹک کارڈز کے ذریعے بیرون ملک خریداری پر حکومت 2 فیصد تک ٹیکس وصول کرتی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    روسی رکن پارلیمنٹ اور صدر پیوٹن کے نقاد کی بھارت میں پراسرار ہلاکت
    خواتین پرپابندیاں،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا طالبان حکومت سے پالیسیاں بدلنے کا مطالبہ
    افسانہ نویس و ناول نگار اور مترجم قیصر نذیر خاورانتقال کرگئے.
    دوسری جانب ایف بی آر کو دسمبر میں ٹیکس وصولی کا 965 ارب روپے کا ہدف حاصل کرنے میں شدید مشکلات درپیش ہیں۔ اس نے گزشتہ روز اس اس سلسلے میں بمشکل 500 ارب روپے کا ہندسہ عبور کیا جبکہ ماہانہ ہدف حاصل کرنے کی خاطر مزید 460 ارب روپے جمع کرنے کے لیے صرف تین کاروباری دن باقی رہ گئے ہیں۔ ایف بی آر کی نااہلی کی تلافی کے لیے کمرشل بینک اب اوقات کار کے بعد بھی اپنی شاخیں کھلی رکھنے پر مجبور ہیں۔

  • عدالت کا ای سی ایل سے نام ہٹا کر بچوں کے پاسپورٹ واپس کرنے کی ہدایت

    عدالت کا ای سی ایل سے نام ہٹا کر بچوں کے پاسپورٹ واپس کرنے کی ہدایت

    عدالت کا ای سی ایل سے نام ہٹا کر بچوں کے پاسپورٹ واپس کرنے کی ہدایت

     اسلام آباد: ہائی کورٹ نے پاکستان لائے گئے بچوں کو ان کی ماؤں کے ساتھ پولینڈ بھیجنے کا حکم دیتے ہوئے ای سی ایل سے نام ہٹا کر بچوں کے پاسپورٹ واپس کرنے کی ہدایت کردی۔ پولینڈ کی 2 خواتین کی جانب سے اپنے بچوں کے والد کیخلاف حوالگی کے کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کی۔ اس موقع پر دونوں خواتین بچوں کے ساتھ عدالت میں موجود تھیں جب کہ پاکستانی شہری محمد سلیم، پولینڈ سفارت خانے کے حکام اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

    عدالت کے حکم پر ایف آئی اے نے بچوں اور والد کے پاسپورٹ حاصل کرلیے۔ سماعت کے آغاز پر پولش خواتین کے وکیل بیرسٹر عقیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کو دو تین ہفتوں کے لیے پاکستان لایا گیا، لیکن واپس نہیں بھیجا گیا۔ بچے 7 سال سے ماؤں کے ساتھ اور پولینڈ کے شہری ہیں۔ پاکستان میں وزٹ ویزا پر آئے۔ وکیل کے مطابق پولینڈ میں دونوں خواتین نے کرمنل کمپلینٹس درج کروائیں۔ یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ بچے پولش عدالتی حکم پر ماؤں کے پاس تھے۔ بچوں کے ساتھ ان کے والد نے وعدہ کیا کہ قرآن پڑھنے کے بعد وہ ان کو پولینڈ بھیج دے گا۔ 14 ماہ کا عرصہ ماؤں نے بہت مشکل سے گزارا ۔وہ بے یارو مددگار تھیں۔

    وکیل نے حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جسٹس خواجہ شریف نے 2010ء میں اسی طرح کے ایک کیس میں پولش بچے واپس بھیجے۔ پاکستان کی فیملی کورٹس بھی کم عمر بچے ماؤں کے حوالے کرتی ہیں۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ دونوں بچو ان کی پولش ماؤں کے حوالے کیے جائیں۔ پاکستانی شہری محمد سلیم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 7 سال سے زیادہ عمر کے بچوں سے عدالت رائے لے سکتی ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت نے دیکھنا ہے کہ آخری دفعہ بچے کس کے پاس تھے۔ ماں یا باپ جو بھی قانونی گارڈین ہے عدالت اپنافیصلہ کردے۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ میرے خیال میں 6 سال کے بچوں کا مذہب کیسے تبدیل کرایا جا سکتا ہے۔انہوں نے خود کہا کہ پولینڈ میں ان کے مابین طے تھا کہ وہ چرچ میں اور یہ مسجد میں بچے لے جایا کریں گے۔اس طرح پھر 18 سال کے بعد بچے خود طے کر لیں گے کہ انہوں نے کس طرف جانا ہے۔ عدالت نے دونوں بچوں کی ماؤں کو روسٹرم پر بلایا اور سوال کیا کہ کیا بچی کی والدہ نے نکاح سے پہلے اسلام قبول کیا، جس پر خاتون نے جواب دیا کہ میں نے 2005 میں نکاح کیا لیکن اسلام قبول نہیں کیا۔ عدالت نے دوسری خاتون سے پوچھا کہ کیا آپ کی سلیم کے ساتھ شادی تھی ؟، جس پر اس نے جواب دیا کہ میرا سلیم کے ساتھ نکاح نہیں تھا، نہ ہی اسلام قبول کیا،میں سلیم کے ساتھ بغیر نکاح لیونگ ریلیشن شپ میں تھی۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ کیا بچے پولینڈ کے اسکول میں پڑھ رہے تھے؟، جس پر خواتین نےبتایا کہ بچے پولینڈ کے اسکول میں پڑھ رہے تھے۔ عدالت نے پوچھا کیا بچے پاکستان میں بھی پڑھ رہے ہیں جس پر وکیل نے جواب دیا کہ بچے گلریز میں اقرا چلڈرن اسکول راولپنڈی میں پڑھ رہے ہیں۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے دونوں بچوں کو اپنے چیمبر میں بلایا۔ بعد ازاں عدالت نے محمد سلیم سے استفسار کیا کہ اگر بچے آپ کے پاس ہوں تو ماؤں کو کیا سہولت دیں گے؟، جس پر پاکستانی شہری نے کہا کہ جب بھی یہ (خواتین) کہیں گی، میں انہیں بچوں سے ملواؤں گا۔ عدالت نے خواتین سے پوچھا کہ اگر آپ کو بچے دیے جائیں تو کیا والد کو ملنے دیں گی، جس پر دونوں خواتین نے ہامی بھر لی۔

    بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے دونوں بچے ان کی پولش ماؤں کے حوالے کرنے کا حکم دیتے ہوئے ای سی ایل سے نام ہٹا کر بچوں کے پاسپورٹ واپس کرنے کی ہدایت کردی۔ عدالت نے قرار دیا کہ دونوں بچے اپنی ماؤں کے ساتھ پولینڈ جائیں گے۔ بچوں کی مائیں والد کی بچوں سے ملاقات میں سہولت دیں گی۔

  • الیکشن کمیشن یونین کونسلز کی تعداد کے مطابق حلقہ بندی کا پابند ہے، تحریری فیصلہ

    الیکشن کمیشن یونین کونسلز کی تعداد کے مطابق حلقہ بندی کا پابند ہے، تحریری فیصلہ

    الیکشن کمیشن یونین کونسلز کی تعداد کے مطابق حلقہ بندی کا پابند ہے، تحریری فیصلہ

    الیکشن کمیشن نے اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کا تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ یونین کونسلز کی تعداد کا تعین وفاقی حکومت کا اختیار ہے الیکشن کمیشن نے اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کا تحریری فیصلہ اور نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے۔

    تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یونین کونسلز کی تعداد کا تعین وفاقی حکومت کا اختیار ہے جب کہ الیکشن کمیشن یونین کونسلز کی تعداد کے مطابق حلقہ بندی کا پابند ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پارلیمان نے بلدیاتی قانون میں ترامیم کرکے صدر کو بھجوا دی ہیں، نئی ترامیم کے مطابق میئر کا انتخاب براہ راست اور پولنگ ایک ہی دن ہوگی۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے بلدیاتی انتخابات تا حکم ثانی ملتوی کر رہا ہے،اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کیلئے نیا شیڈول بعد میں جاری کیا جائے گا۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز الیکشن کمیشن نے وفاقی دارالحکومت میں رواں ماہ ہونے والے بلدیاتی انتخابات ملتوی کردیئے تھے۔ الیکشن کمیشن کے 5 رکنی بینچ نے منگل (27 دسمبر )کے روز اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات سے متعلق درخواستوں پر سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ کچھ دیر کے وقفے کے بعد الیکشن کمیشن نے مختصر فیصلہ سنادیا گیا تھا.
    جماعت اسلامی کا موقف
    سماعت کے دوران جماعت اسلامی کے وکیل حسن جاوید نے اپنے دلائل میں موقف اختیار کیا کہ اسلام آباد کے قیام کے 50 سال بعد بلدیاتی انتخابات ہوئے تھے، اس کے بعد 2 سال سے اسلام آباد میں عوام کی نمائندگی نہیں۔ حسن جاوید کی دلیل پر چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیئے کہ اس کے باوجود ہائی کورٹ نے ہمارا فیصلہ کالعدم قرار دیا۔ جس پر حسن جاوید نے کہا کہ کمیشن کا فیصلہ اس نکتے پر کالعدم ہوا کہ حکومت کا مؤقف نہیں سنا گیا۔

    چیف الیکشن کمشنر نے مکالمے کے دوران ریمارکس دیئے کہ ہائی کورٹ نے یونین کونسلز کی تعداد کا جائزہ لینےکابھی کہا۔ وکیل جماعت اسلامی نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نےالیکشن کمیشن کااختیار محدود نہیں کیا، انتخابی عمل میں حکومت کی مداخلت نہیں ہوتی، اگر انتخابات سے ایک رات قبل نوٹی فکیشن آتا تو کیا پولنگ رک جاتی؟ پولنگ سے چند دن قبل انتخابات ملتوی کرنا عوام کی توہین ہوگی۔
    تحریک انصاف کا موقف
    تحریک انصاف کی جانب سے بابر اعوان نے اپنے دلائل میں کہا کہ الیکشن کمیشن کےنوٹی فکیشن کی مکمل حمایت کرتےہیں، یہ غلط فہمی ہے کہ بلدیاتی قانون میں ترمیم ہوچکی ہے۔
    حکومتی موقف
    سابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے عدالت کو بتایا کہ یونین کونسلز کی تعداد میں اضافہ اسلام آباد کی آبادی میں اضافے کی وجہ سے ضروری ہے۔ الیکشن کمیشن بڑی تعداد میں شہریوں کو ان کے حقوق سے محروم نہیں رکھ سکتا، وفاقی ادارۂ شماریات نے اسلام آباد کی آبادی میں اضافے کا بتایا ہے۔
    اشتر اوساف نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن کو بھی آبادی میں اضافے کا معاملہ دیکھنا چاہیے، اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی آبادی میں اضافے کو تسلیم کیا ہے۔ الیکشن کمیشن نئے قانون کے مطابق اسلام آباد میں ازسرنو حلقہ بندیاں کرے، یونین کونسلز میں اضافے کے بعد ووٹر لسٹوں کو ازسرنو تشکیل دینا ہو گا.

    بابر اعوان نے کہا کہ بلدیاتی قانون میں ترمیم پر ابھی تک صدر کے دستخط نہیں ہوئے، صدر مملکت 10 دن میں بل منظور یا پارلیمان کو واپس کرنے کے مجاز ہیں، یکم جنوری تک صدرکےپاس وقت ہے، بلدیاتی الیکشن 31 دسمبر کو ہوگا۔

  • بھارت میں قائم غیرقانونی کال سینٹرز نے امریکی شہریوں سے 6,400 کروڑ لوٹ لیئے۔ ایف بی آئی

    بھارت میں قائم غیرقانونی کال سینٹرز نے امریکی شہریوں سے 6,400 کروڑ لوٹ لیئے۔ ایف بی آئی

    بھارت میں قائم غیرقانونی کال سینٹرز نے امریکیوں سے 6400 کروڑ لوٹ لیئے۔ ایف بی آئی کا دعوٰی

    امریکہ کی انٹیلیجنس ایجنسی ایف بی آئی نے دعوٰی کیا ہے کہ بھارت میں قائم غیر قانونی کال سینٹرز نے امریکی شہریوں سے تقریبا 6400 کروڑ لوٹ لیئے ہیں۔ ایف بی آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق؛ صرف پچھلے دو سالوں میں امریکی شہریوں کو 3 بلین ڈالر (25,000 کروڑ روپے) سے زیادہ کا نقصان پہنچایا گیا ہے۔  ایف بی آئی کے ڈیٹا کے مطابق گزشتہ 11 مہینوں میں انٹرنیٹ یا کال سینٹرز سے متعلق تمام فراڈز میں امریکیوں کے کھوئے گئے کل پیسے کا تخمینہ 10.2 بلین ڈالر لگایا گیا ہے جوکہ  پچھلے سال کے 6.9 بلین ڈالر کے مقابلے میں 47 فیصد زیادہ ہے۔


    بھارت کے معروف جریدے ٹائمز آف انڈیا کی خبر کے مطابق ہندوستان سے باہر کام کرنے والے فشنگ گینگوں کی جانب سے بوڑھے امریکی شہریوں کو ان کی زندگی کی بچت یعنی بچت کی گئی رقم دھوکہ دیہی کے ذریعے لوٹ لی گئی جبکہ  فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) نے اب نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے میں سی بی آئی، انٹرپول اور دہلی کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے ایک مستقل نمائندہ تعینات کیا ہے۔ اور  پولیس کو ٹاسک دیا گیا ہے کہ ان گروہوں کا پردہ فاش کرے جبکہ کرپٹو کرنسیوں کے ذریعے ہندوستانی سرزمین سے کام کرنے والے سنڈیکیٹس کو منتقل کی گئی رقم کو منجمد کرے گی۔

    ایک خصوصی انٹرویو میں امریکی سفارتخانے کے قانونی اتاشی اور ایف بی آئی کے جنوبی ایشیا کے سربراہ ٹائمز آف انڈیا کو بتایا کہ متاثرین کے ذریعے ایف بی آئی کی ویب سائٹ پر رپورٹ کردہ رومانس سے متعلق دھوکہ دہی جو 2021 میں کی گئی تقریبا 8,000 کروڑ روپے کے نقصانات کا تخمینہ ظاہر کرتی ہے۔ جبکہ  2022 کے آخری 11 ماہ جس میں ‘ٹیک سپورٹ’ جرائم کو شامل کریں تو دو سالوں میں 3 بلین ڈالر کے نقصانات بنتے ہیں۔ ان کا مزید بتانا تھا کہ  ان فراڈ کا زیادہ تر شکار 60 سال سے زیادہ عمر کے بزرگ ہیں۔

  • اپنی سستی سیاست کیلئے ملک کو نقصان پہنچا رہے۔ اسحاق ڈار

    اپنی سستی سیاست کیلئے ملک کو نقصان پہنچا رہے۔ اسحاق ڈار

    وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پاکستان مخالف پروپیگنڈا بند کیا جائے ہم ہوں یا نہ ہوں یہ ضرور آگے جائے گا.

    پاکستان اسٹاک ایکچینج کی تقریب سے خطاب کے دوران اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ساتھ کئی سال کا تعلق ہے، ملکی ترقی کے لیے پاکستان کا کاروباری طبقہ حکومت کے ساتھ کھڑا ہے، ہم ملکی معیشت کی بہتری کے لئے کوشاں ہیں، ہمیں کارپوریٹ سیکٹر کی طرف توجہ دینےکی ضرورت ہے۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں ایس ای سی پی پر توجہ نہیں دی گئی، وزارت خزانہ کی ذمہ داری سنبھالی تو پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر اسی ای سی پی پر توجہ دی۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ 3ماہ سے ایک بات روز سنتے ہیں کہ پاکستان ڈیفالٹ کرجائے گا، یہ ماضی کا پاکستان نہیں، کیوں ڈیفالٹ کرجائے گا، لوگ اس طرح کی باتوں پر توجہ نہ دیں، لوگوں کو ڈرا کر رکھا ہے کوئی سونا تو کوئی ڈالر خرید رہا ہے، لوگوں کو اس ڈر سے نکالنا ہوگا۔

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مجموعی قرضےجی ڈی پی کے 72 فیصد ہیں، کئی ممالک کے قرضے ان کی جی ڈی پی سے زیادہ ہیں وہ تو ڈیفالٹ نہیں کررہے، ہماری غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک نیچے چلا جاتا ہے۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کا خوبصورت مستقبل ہے، ہم ہوں یا نہ ہوں یہ ضرور آگے جائے گا، ہمیں پاکستان کو بھنور سے نکالنا ہے، ہمیں ماضی کی غلطیوں سے سیکھنا چاہیے. پاکستان کو دیوالیہ ہونے کا کوئی امکان نہیں، مشکل حالات ضرور ہیں، آگے جانے کے لیے کام کرنا ہوگا۔

    سینیٹر اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ سستی سیاست کے لیے ملک کو نقصان پہنچایا جارہا ہے، معیشت پرسیاست نہ کی جائے، ملک کو بھنور سے نکالنے کے لئے تعاون کیا جائے، معیشت پر سیاست نہ کی جائے، ملک کو بھنور سے نکالنے کے لئے تعاون کیا جائے۔

  • شدید دھند؛ فضائی اور ریلوے آپریشن متاثر ہونے سے مسافر پریشان

    شدید دھند؛ فضائی اور ریلوے آپریشن متاثر ہونے سے مسافر پریشان

    ملک میں شدید دھند کے باعث پروازوں اور ٹرینوں کا نظام شدید درہم برہم ہوگیا، جس کی وجہ سے مسافر سرد موسم میں انتظار کی کوفت اٹھانے پر مجبور ہیں۔

    لاہور کے علامہ اقبال ائرپورٹ پر شدید دھند کا راج برقرار ہے، جس کےکی وجہ سے کئی ملکی و غیر ملکی پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہو گئیں جب کہ رن وے پر حد نگاہ 50 میٹر تک ریکارڈ کی گئی۔

    ائرپورٹ ذرائع کے مطابق لاہور سے استنبول جانے والی  پرواز ٹی کے 715، استنبول سے آنے والی ترکش ائرلائن کی پرواز ٹی کے 714، مسقط جانے والی اومان ائرلائن کی پرواز  ڈبلیو وائے 342 منسوخ ہو گئیں جب کہ جدہ سے لاہور آنے والی پرواز پی کے 740 کل جمعرات کو صبح ساڑھے 4 بجے آپریٹ کروائی جائے گی۔

    دریں اثنا دبئی سے لاہور آنے والی پرواز پی کے 203 دس گھنٹے کی تاخیر کا شکار ہوئی۔ دبئی سے آنے والی دوسری پرواز پی کے 204 کو کل جمعرات کو صبح 4 بجے آپریٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    علاوہ ازیں لاہور سے کراچی جانے والی ائرسیال کی پرواز پی ایف 146 اور کراچی سے لاہور آنے والی ائرسیال کی پرواز پی ایف 145منسوخ کردی گئیں۔

    دوسری جانب شدید دھند کی وجہ سے ٹرین آپریشن بھی 7 سے 8 گھنٹوں کی تاخیر کا شکار ہے، جس کے باعث شدید سردی میں مسافر ریلوے اسٹیشنوں پر موسم کی شدت سے بے حال ہیں۔

    ریلوے ذرائع کے مطابق کراچی سے لاہور آنے والی پاک بزنس ایکسپریس 7 گھنٹے ، پاکستان ایکسپریس 8گھنٹے، تیزگام ایکسپریس 6 گھنٹے ، رحمان بابا  ایکسپریس 6 گھنٹے  اور ملت ایکسپریس 5 گھنٹے تاخیر کا شکار ہوئیں۔

    علاوہ ازیں  علامہ اقبال ایکسپریس5،  خیبر میل ایکسپریس 5، کراچی ایکسپریس 4، قراقرم ایکسپریس3، جعفر ایکسپریس 4 اور فرید ایکسپریس 3 گھنٹے تاخیر کا شکار ہوئیں۔

    ٹرینیں تاخیر کا شکار ہونے کی وجہ سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ شدید دھند کی وجہ سے ٹرینوں کی آمد اور روانگی کا صیح وقت  جاری نہ ہونے سے مسافروں کو شدید سرد موسم میں پلیٹ فارموں پر گھنٹوں انتظار کرنا پڑرہا ہے۔

  • پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر کو ڈیم فنڈ کے اکاؤنٹ سے متعلق چیف جسٹس پاکستان کو خط لکھا جائے گا

    پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر کو ڈیم فنڈ کے اکاؤنٹ سے متعلق چیف جسٹس پاکستان کو خط لکھا جائے گا

    پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر کو ڈیم فنڈ کے اکاؤنٹ سے متعلق معلومات دینے کی ہدایت کیلئے چیف جسٹس پاکستان کو خط لکھنے کا فیصلہ

    پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بھاشاڈیم، مہمند ڈیم، داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، نیلم جہلم منصوبے اور کے فور کراچی کے منصوبوں کا فرانزک آڈٹ کرانے کا حکم دے دیا۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز پی اے سی کا اجلاس چیئرمین نورعالم خان کی صدارت میں ہواجس میں وزارت آبی وسائل سے متعلق سال 2019-20 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیاگیا، چیئرمین نے کمیٹی اسٹاف کو ہدایات دیں کہ تمام منسٹریز کو خط لکھیں کہ ویری فیکیشن کے حوالے سے جو بھی آڈٹ آفیسر آپ سے لیفٹ رائٹ مانگناچاہتا ہے وہ پی اے سی اور وفاقی سیکرٹریز کو بتا دیں،ہم ایکشن لیں گے.

    جلاس میں داسو ہائیڈرو پاور منصوبے میں کنٹریکٹرز کو کام شروع ہونے سے پہلے ایڈوانس رقم دیئے جانے سے متعلق معاملہ زیر غور آیا، آڈٹ حکام نے کمیٹی کو معاملے سے متعلق بریفنگ دی۔رکن کمیٹی وجیہہ قمر نے کہا کہ ابھی تعمیر شروع نہیں ہوئی زمین نہیں ہے اورپیسے ایڈوانس میں دے دیئے، ٹھیکیدار کون تھا کس کو نوازا گیا؟ سیکرٹری آبی وسائل نے کمیٹی کو بتایا کہ ابھی تک زمین لی جارہی ہے رکن کمیٹی برجیس طاہر نے کہا کہ یہ ساڑھے چار ارب روپے کی پیمنٹ ہوئی، ایک روپیہ تو نہیں ہے، متعلقہ حکام نے کمیٹی کو بتایاکہ92فیصد زمین حاصل کر لی گئی ہے، زمین کے حصول کے لئے18ارب ادا کر چکے ہیں.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    روسی رکن پارلیمنٹ اور صدر پیوٹن کے نقاد کی بھارت میں پراسرار ہلاکت
    خواتین پرپابندیاں،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا طالبان حکومت سے پالیسیاں بدلنے کا مطالبہ
    افسانہ نویس و ناول نگار اور مترجم قیصر نذیر خاورانتقال کرگئے.
    چیئرمین کمیٹی نور عالم خان نے کہا کہ انکوائری کریں اور ذمہ داروں کا تعین کریں۔ نور عالم خان نے واپڈا کے مختلف منصوبوں میں خلاف ضابطہ طور پر بھرتی ہونے والے افراد کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہاکہ 114لوگ ہیں، ان کو کس قانون کے تحت ہائیر کیا گیا، اس میں بے ضابطگیاں ہیں، ایک ٹیلی ویژن آرٹس بھی دو لاکھ روپے لے رہی ہیں، ان لوگوں کوفارغ کریں. اجلاس میں نئی گاج ڈیم منصوبے کے لئے کنٹریکٹر کی جانب سے جعلی بینک گارنٹی دیئے جانے سے متعلق معاملہ تحقیقات کے لئے نیب کے سپرد کردیا گیا۔ دوسری جانب سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے حکومتی یقین دہانیاں کا اجلاس سینیٹر کامل علی آغا کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں1973کے آئین کے آرٹیکل 27میں فراہم کردہ ملازمت کے کوٹہ پر غور کیا گیا۔