Baaghi TV

Author: +9251

  • آئمہ بیگ کو نور جہاں کا کونسا گیت پسند ہے ؟‌

    آئمہ بیگ کو نور جہاں کا کونسا گیت پسند ہے ؟‌

    آئمہ بیگ جن کی گلوکاری کوخاصا پسند کیا جاتا ہے وہ بھی دوسرں کی طرح میڈم نور جہاں کے فن کی دیوانی ہیں. انہوں نے نور جہاں کی 22 ویں برسی کے موقع پر کہا ہے کہ میڈیم نور جہاں کی گائیکی سے ہم جیسے کیا ہم سے بعد میں آنے والے بھی یہاں تک کہ رہتی دنیا تک لوگ سیکھتے رہیں گے. ان کی گائیکی ہم سب کے لئے مشعل راہ ہے. آئمہ بیگ نے کہا کہ نور جہاں کے گائے ہوئے گیت کا کور کرتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے بلکہ اس خیال سے بھی ڈر لگتا ہے. کیونکہ دل میں‌احساس رہتا ہے کہ کہیں‌کوئی غلطی نہ ہوجائے. آئمہ بیگ نے کہا کہ ان کا انداز سب سے

    الگ تھا وہ جیسا میک اپ کرتی تھیں‌جیسے ملبوسات زیب تن کرتی تھیں‌ وہ سب اتنا خوب صورت تھا کہ دیکھ کر دل خوش ہوجاتا تھا. آئمہ بیگ نے کہا کہ مجھے نور جہاں‌کے بہت سارے گانے پسند ہیں اور اکثر گنگناتی بھی رہتی ہوں لیکن ان کا ایک گیت مجھے بہت اچھا لگتا ہے ” میں‌ تے میرا دلبر جانی بلیاں تے پریم کہانی ” . یہ گیت جتنی بار سنو اتنی باراچھا لگتا ہے. آئمہ بیگ نے کہا کہ نور جہاں ہمارے ملک کی شان ہیں ہماری موسیقی کی جان ہیں .

  • کراچی کا ساحل سبزکچھوؤں کے لیے موت کا دہانہ بن گیا

    کراچی کا ساحل سبزکچھوؤں کے لیے موت کا دہانہ بن گیا

     ہاکس بے کا ساحل سبزکچھووں کے لیے موت کا دہانہ بن چکا ہے،ساحلوں پربڑھتی تعمیرات کی وجہ سے کچھووں کے انڈے دینے کی جگہیں ختم ہوتی جارہی ہیں۔

    مادہ کچھواگنجان آبادی والے ساحلوں پرانڈے دینے پرمجبورہے،تفریحی ہٹس پرہونے والی ڈانس پارٹیز،میوزک شورشرابے،تیزبرقی قمقموں کی چکاچوند،سمندرکنارے فراٹے بھرتی کاروں نےگرین ٹرٹل کے افزائش نسل کے مقام کو تباہی سے دوچارکردیا،نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ساحل پرموجود آوارہ کتے اورچیل کوے بھی کچھووں کے لیے عفریت ثابت ہورہے ہیں۔ ساحلوں کی آلودگی اوردیگرمتفرق خطرات کی وجہ سے اولیوریڈلی(زیتونی کچھوے) کراچی کے ساحلوں سے روٹھ چکے ہیں،واحد رہ جانے والی نسل سبزکچھووں کی بقا کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ مادہ کچھوا دماغ میں موجود قدرتی مقناطیسی سیال کی وجہ سے اپنی اوسط عمر70سال میں 10سے15مرتبہ افزائش نسل کے لیے اپنی جائے پیدائش کا رخ کرتی ہے۔

    کرہ ارض کی خشکی وپانی پرصدیوں سے موجود کچھوا وہ واحد جاندارہے،جس کو اپنے بچے دیکھنا نصیب نہیں ہوتے۔ ہاکس بے کے ساحلی مقامات سینڈزپٹ اورپیراڈائزپوائنٹ سمیت تاحدنگاہ پھیلا ساحل آبی حیات کے لیے عفریت بنتا جارہا ہے،سمندرکنارے بڑی تعداد میں ماضی قریب اورماضی بعید میں بننے والے تفریحی ہٹس کی تعمیرنے ان کچھووں سے قدرتی مسکن چھین لیے۔ رات کے وقت ان ہٹس میں ڈانس پارٹیوں،بلند آوازمیں بجنے والامیوزک،غل غپاڑہ،تیزبرقی قمقموں اورچکاچوند کا سبب بننے والی اسپاٹ اور فلڈلائٹس کا بے دریغ استعمال ان مادہ کچھووں کے لیے موت کا دہانہ ثابت ہورہی ہیں۔

    رہی سہی کسران نجی محفلوں کے دوران ڈیزرٹ سفاری ،گھڑسواری جبکہ بیش قیمت فراٹے بھرتی کاروں کا سمندرکنارے آزادنہ اوردھڑلے سے نقل وحرکت ہے،جس نے کچھووں کے اس قدرتی مسکن کو تباہی کےدہانے پرپہنچادیا۔ ان کچھوؤں کی بقا کے لیے کام کرنے والےمقامی رضا کار شاہ میربلوچ کے مطابق نشے میں دھت ان بگڑے رئیس زادوں کو اگرمنع کیا جاتا ہے،تویہ سنگین نتائج کی دھمکیاں دینا شروع کردیتے ہیں،اوربسااوقات جارحانہ رویے کے دوران انتہائی اقدام سے بھی گریز نہیں کرتے۔ گرین ٹرٹل(سبزکچھوے)کی مادہ کے انڈوں اوربچوں کے لیے ایک بہت بڑاخطرہ ساحل پرمٹرگشت کرنے والے آوارہ کتے اورفضاوں میں منڈلاتے چیل کوے ہیں،جوان کے انڈے بچے کھاجاتےہیں،آج سے دودہائی قبل سمندری کچھوؤں کی سات اقسام سندھ،بلوچستان کے ساحلی مقامات پرپائی جاتی تھیں،تاہم سمندری آلودگی،تجارتی سرگرمیوں اورتفریحی عوامل کی وجہ سے یہ تعداد صرف 2رہ گئی،ان دواقسام میں سے اولیوریڈلی(زیتونی کچھوے)بھی ناپید ہوچکے ہیں۔

    سن 2010کے بعد کوئی بھی زندہ زیتونی مادہ کچھواکراچی کے ساحلوں پرنہیں دیکھا گیا،البتہ مردہ حالت میں لہروں کے دوش پربہتے کنارے پرضرور رپورٹ ہوچکے ہیں،ماہرین حیوانات و ماحولیات اس بات پر متفکر ہیں کہ آخر وہ کیا وجوہات ہیں جن کی بناء پر اولیو ریڈلی نے سینڈز پٹ سے منہ موڑ لیا۔ تاہم کچھ عوامل پر ماہرین متفق ہیں جن میں ساحل کی گندگی ،بے لگام ساحلی تعمیرات، مچھلی کے شکار کے دوران نقصان دہ جال کا دھڑلے سے استعمال،آوارہ کتوں اور چیل ،کوؤں کی بہتات ہے جس نے اولیو ریڈلی کا سرے سے ہی صفایا کردیا،کیونکہ اولیوریڈلی انتہائی حساس مزاج کاکچھوا ہےاور اپنے لیے ہر خطرے کو بہت جلد بھانپ لیتا ہے۔ سینڈز پٹ پر جابجا موجود کچرے کے ڈھیروں میں پلاسٹک کی تھیلیاں بڑی مقدار بھی موجود ہیں جوساحل کے کنارے مادہ کچھوے کے افزائش نسل کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں،کم وبیش ان ہی عوامل کی وجہ سے اب بچ جانے والی واحد نسل گرین ٹرٹل (سبزکچھوے)کی معدومیت کے بھی شدید خطرات پیداہوچکے ہیں۔

    ساحلوں پربڑھتی تعمیرات کی وجہ سے کچھووں کے انڈے دینے کی جگہیں ختم ہوتی جارہی ہیں،اسی وجہ سے مادہ کچھواگنجان آبادی والے ساحلوں پرانڈے دینے پرمجبورہے،ساحل پر بکھرے ماہی گیری جالوں کے ٹکڑے،پلاسٹک کی تھیلیاں اور کچرے کے ڈھیر جسے ساحل پر بنے درجنوں ہٹس پر تفریح کے لیے آنے والے،عارضی قیام کے بعد انتہائی لاپروائی سے ساحل پر پھینک دیتے ہیں،کچھووں کے بچوں کے موت کے شکنجے بن جاتے ہیں اورانڈوں سے نکل کر پانی میں جانے کے چکر میں ان شکنجہ نما جالوں اور کچرے کے ڈھیر میں پھنس کراکثراوقات آوارہ جانوروں کا لقمہ بن جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تفریح کے لیے ساحل پر آنے والوں کو،اپنا رویہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے،اگر یہاں آنے والے افراد اس بات کو اپنی عادت بنالیں کہ وہ اپنے کھانے پینے کی اشیا سے بننے والا کچرا جاتے وقت ذمے داری سے اپنے ساتھ لے جاکر کسی صحیح جگہ پر ٹھکانے لگا دیں گے تو یقیناً اس عمل کے دوررس نتائج برآمد ہوں گے۔

    اس عمل سے بیک وقت آبی حیات اور ساحلی مقام کی خوبصورتی کو مزید کسی تباہی وبربادی سے بچایا جاسکتا ہے،جس دوران مادہ کچھوا گڑھا بنارہی ہوتی ہے تو اکثر پلاسٹک بیگ وغیرہ اس قدرتی عمل کے درمیان حائل ہوجاتے ہیں اور کوشش کے باوجوداکثر وبیشتر وہ اپنے چیمبر نہیں بناپاتی اور واپس پانی میں چلی جاتی ہے،یہ بہت بڑا خطرہ ہے جن کی وجہ سے کچھووں کا قدرتی مسکن شدید متاثر ہورہاہے۔ اگر یہ مادہ کچھوا انڈے دینے میں کامیاب بھی ہوجائے توبھی ایک اور بھیانک خطرہ آوارہ کتوں کی شکل میں موجود ہے جو کچھووں کے افزائش نسل کے اس مقام پر انڈوں اور بچوں کو کھانے کے لیے دن رات گھوم رہے ہوتے ہیں،کیونکہ آوارہ کتوں کو دن بھر تفریح کے لیے آنے والے بچھا کچا کھانا ڈال دیتے ہیں اوردن بھر وافر مقدار میں ملنے والے کھانے کے بعد یہ آوارہ کتے اس بات سے بھی آگاہ ہوچکے ہیں کہ کچھووں کی افزائش کے مقام پربھی ان کے کھانے کے لیے کچھ موجود ہے،ریت میں دبے ان انڈوں کی بو کتے،نیولے اورسانپ باآسانی سونگھ لیتے ہیں،جو ان انڈوں کو کھاجاتے ہیں جبکہ ان انڈوں سے بچے نکلنے کے بعدبھی فضاؤں میں منڈلانے والے چیل اورکووں کی وجہ سے خطرے کی تلواران کےسرپرلٹکتی رہتی ہے۔

    ایک اورہولناک خطرہ کسی عفریت کی طرح سمندرمیں لگے ماہی گیری کے جال ہیں،جن میں بچے پھنس جاتے ہیں جبکہ ان کے مسکن کے آس پاس سے گذرنے والی کشیوں کے انجنوں کے بلیڈ یا توانھیں زخمی کردیتے ہیں یا پھر یہ ان لانچوں کے بلیڈ میں آکرمرجاتے ہیں،ماہرین کے مطابق پاکستان سمیت دنیا بھرمیں تین اقسام کے کچھوے پائے جاتے ہیں،جن میں سمندری،میٹھے پانی اورخشکی کے کچھوے شامل ہیں،سمندری کچھووں کی 7جبکہ میٹھے پانی کی 8اقسام پائی جاتی ہیں،اس کے علاوہ خشکی کی 2اقسام بھی موجود ہیں،میٹھے پانی کے کچھووں میں پنجوں اورناخنوں دونوں اقسام کے کچھوے ملتے ہیں،سمندری کچھوے اپنے بازووں کونہیں سمیٹ سکتے البتہ میٹھے پانی کے کچھوے اپنے بازووں کو سمیٹ لیتے ہیں،کچھوا دنیا کا واحد جاندارہے،جس کو اپنے بچے دیکھنا نصیب نہیں ہوتے۔ مادہ کچھواانڈے دیکرواپس گہرے پانیوں میں لوٹ جاتی ہے،ماہرین کے مطابق کچھووں میں بھی انسانوں کی طرح جسمانی اپاہج اوراندھے بچے پیداہوتے ہیں،اوردیگرمعذوری کے شکاربچے بھی پیداہوتے ہیں،کچھوے کی اوسط عمر70سال کے لگ بھگ ہوتی ہے،مگریہ 100سال تک بھی جیتے ہیں،ماہرین کے مطابق یہ جاندارڈائنا سار کے دورسے کرہ ارض پرموجود ہیں،مادہ کچھوا ایک وقت میں 120سے170کی تعداد میں انڈے دیتی ہے،ان انڈوں کی ساخت ٹیبل ٹینس کے بڑی گیند جیسی ہوتی ہے۔

    چینی اورکورین کچھوے کے گوشت کے علاوہ اس کے انڈوں کو بھی رغبت سے کھاتے ہیں،مادہ سبز کچھوا کراچی کے سینڈز پٹ،پیراڈائزپوائنٹ کے علاوہ بلوچستان کے ساحلی مقامات جیوانی،گوادر،اورماڑہ پسنی،دھیران،فرنچ بیچ،مبارک ولیج اورکیپ ماونزے اورچرنا جزیرے پربھی افزائش نسل کے لیے رخ کرتی ہے،افزائش نسل کے دوران پہلے مرحلے میں مادہ کچھوا ساحل کی مٹی پرجگہ کے انتخاب کے بعد اپنی پچھلی ٹانگوں کی مدد سے پورے جسم کو مٹی سے ڈھانک لیتی ہے،پھرکھدائی شروع کردیتی ہے۔ اس دوران مادہ کچھوا تین سے ساڑھے تین فٹ گہراگڑھاکھودتی ہے،عموما انڈے دینے کا یہ عمل رات کے وقت ہوتا ہے،جب ہرجانب گہراسکوت ہوجاتا ہے،انڈوں سے بچے نکلنے کا عمل 45سے60دن پرمحیط ہوتا ہے جبکہ افزائش نسل کا کل دورانیہ اگست کے وسط سے فروری کے وسط تک تقریبا 7ماہ تک جاری رہتا ہے،اس دوران اگربارش ہوجائے تویہ انڈے پانی لگنے کی وجہ سے خراب ہوجاتے ہیں۔ پاکستان ان 11ممالک میں شامل ہے،جہاں مادہ کچھواافزائش نسل کے لیے اس کے ساحلی مقامات کا رخ کرتی ہے،ان ممالک میں کینیڈا،جرمنی،اٹلی،اسٹریلیا،برطانیہ،سری لنکا،بھارت اوربنگلہ دیش شامل ہے، سائنسی اعتبار سے قدرت نے مادہ کچھوے کے دماغ میں ایک مقناطیسی سیال رکھا ہے،جس کے ذریعے مادہ کچھوا افزائش نسل کے لیے ٹھیک اس مقام تک پہنچ جاتی ہے،جہاں کا وہ خمیر ہوتی ہے۔

    ماہرین کہتے ہیں کہ عام طورپریہ کچھوےبحراوقیانوس،بحرالکاہل اوربحرہند کے گرم اورمعتدل ساحلوں کے قرب وجوار میں پائے جاتے ہیں،ان کو گرین ٹرٹل ان کی بیرونی رنگت کی وجہ سے نہیں بلکہ جسم میں پائی جانے والی سبزرنگ کی چربی کی وجہ سے کہا جاتا ہے، سندھ وائلڈ لائف ان کو ٹیگ کرتے ہیں،پاکستان کا کوڈ این ہے،کراچی کے ساحل پرٹیگ کیے جانے والے کچھوے بعدازاں ایران،بھارت اورمسقط کے ساحلوں پربھی پائے گئے ہیں۔ ان مادہ کچھووں کی ترجیح نرم ریت والی مٹی ہوتی ہے،جہاں یہ آسانی سے گڑھا بناکرانڈوں کو ریت میں گہرائی تک دباسکے،سمندری کچھووں کی زندگی حیرت انگیزحقائق سے بھری پڑی ہے،ان کچھووں کے بچے ایک بارانڈے سے نکل کر سمندرمیں چلے جائیں توپھرزندگی بھرلوٹ کرنہیں آتے،ماسوائے مادہ کچھوے کے جو اپنی 70سالہ اوسط عمرمیں 10سے15دفعہ اسی ساحل کا رخ کرتی ہے،جہاں سے اس نے اپنی زندگی کا سفرشروع کیا ہوتا ہے،ایک دلچسپ حقیت یہ بھی ہے کہ جس وقت سمندری کچھوے کے بچے انڈوں میں بن رہے ہوتے ہیں،اس دوران اگرریت کا درجہ حرارت 27ڈگری سے زیادہ ہوتو مادہ کچھوے کی تولید ہوتی ہے جبکہ 27ڈگری سے کم پرنرکچھوا وجود میں آتا ہے۔

    محکمہ سندھ وائلڈ لائف نے ان مادہ کچھووں کی افزائش نسل کے لیے ہاکس بے ٹرٹل بیچ پرخصوصی اقدامات کررکھے ہیں،ایک بڑے احاطے میں ان کے انڈوں کے گھونسلوں کو گول آہنی گرل سے محفوظ کیاہے،اس ہیچری میں انڈوں سے بچے نکلنے کے تولید کے مراحل طے ہوتے ہیں،آفیسرسندھ وائلڈ لائف اشفاق میمن کے مطابق کراچی کے ساحل پرمادہ کچھووں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے،رواں سال ستمبرسے اب تک 25ہزارانڈوں کوتولیدگی کے عمل کے لیے محفوظ کیا جاچکا ہے،جس سے نکلنے والے ساڑھے دس ہزاربچوں کورواں سال سمندرمیں چھوڑا جاچکا ہے،اشفاق میمن کا کہنا ہے کہ ابھی فروری کے وسط تک افزائش نسل کا سلسلہ برقراررہے گا،فروری میں رپورٹ ہونے والی مادہ کچھووں کے انڈوں سے بچے اپریل میں نکلے گے،جس کے بعد حتمی اعدادوشمارکی رپورٹ مرتب کیے جاسکے گے،ان کا کہنا ہے کہ ایک قوی امید ہے کہ اس سال 30ہزاربچوں کا ہدف پوراہوجائےگا۔ سن 1975سے اب تک 9لاکھ کے لگ بھگ کچھووں کے بچے سمندرمیں چھوڑے جاچکے ہیں،سندھ وائلڈ لائف کے رضا کارغروب آفتاب کے بعد ساحل پرگشت شروع کردیتے ہیں،جس وقت مادہ کچھوا انڈے دیکرسمندرمیں لوٹ جاتی ہے،تو گارڈز ان گڑھوں سے انڈے نکال کرسندھ وائلڈ لائف کی ہیچری میں لے جاتے ہیں،جہاں کے محفوظ احاطے میں ان انڈوں کو دوبارہ گہرے گڑھوں میں دبادیا جاتاہے،اورپرگھونسلے کا باقاعدہ ریکارڈ رکھاجاتاہے،40سے60دنوں میں انڈوں سے بچے نکلنا شروع ہوجاتے ہیں،جنھیں گارڈزسمندری لہروں کے حوالے کردیتے ہیں،جس کے بعد ان کی ذمہ داری ختم اورقدرت کا قانون شروع ہوجاتا ہے،آئی یوسی این کی ایک تحقیق کے مطابق انڈوں سے بحفاظت نکلنے والے کچھووں کی بقا کا تناسب اعشاریہ ایک فیصد ہے،یعنی ایک ہزاربچوں میں سے کوئی ایک زندہ بچ پاتا ہے۔

    یہی وہ نقطہ فکرہے،جس کی وجہ سے عالمی ادارے اورسندھ وائلڈ لائف ان بچوں کی بقا کے لیے مسلسل سرگرداں ہیں،ماہرین کے مطابق کچھوے سمندر کی گہری تہہ میں ایک ایسے کردارکے حامل ہیں،جس پرسمندر کی پوری دنیا کی سلامتی کا دارومدارہے،ان کچھووں کی خوراک تہہ آب اگنے والی سمندری گھانس ہے،جس کو یہ اپنی خوراک کے ذریعے ایک خاص حد سے بڑھنے نہیں دیتے،اگرکچھوے اس گھانس کو کھانا چھوڑدیں تواس گھانس کی بلندی کی وجہ سے سمندرمیں شدید گھٹن پیداہوسکتی ہے۔

  • میڈم نور جہاں مجھے اپنی بہو بنانا چاہتی تھیں سنگیتا بیگم

    میڈم نور جہاں مجھے اپنی بہو بنانا چاہتی تھیں سنگیتا بیگم

    سینئر اداکارہ سنگیتا بیگم نے ملکہ ترنم نور جہاں کی 22 ویں برسی کے موقع پر ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے کہا ہے کہ میڈم نور جہاں کے ساتھ میرا بہت سارا وقت گزرا. انہوں نے دو بار مجھے اپنی بہو بنانے کی کوشش کی ، پہلے وہ اچھو کا رشتہ لیکر آئیں میں نے کہا کہ نہیں‌اچھو تو میرا بھائی ہے پھر وہ اکبر کے لئے مجھے بہو بنانا چاہتی تھیں لیکن ایسا نہ ہو سکا. وہ اکثر میرے گھر میں‌آجاتی تھیں اور کہا کرتی تھیں کہ روٹیاں بنائو. میں گول گول چھوٹی چھوٹی روٹیاں بناتی تھی ، روٹیاں‌پھولتیں تو میڈم بہت خوش ہوتیں. ان کا ہئیر سٹائل ان کا ساڑھی پہننے کا انداز مجھے بہت پسند تھا. ایک سوال کے جواب میں سنگیتا بیگم نے کہاکہ میڈم نور جہاں کی نقل اس دنیا میں کوئی بھی نہیں‌کر سکتا.

    سنگیتا بیگم نے کہا کہ میڈم کے بہت سارے گیت مجھ پہ پکچرائز ہوئے ان کی اچھی عادت یہ تھی کہ وہ گانے سے پہلے پوچھ لیا کرتی تھیں کہ کس ہیروئین پر پکچرائز ہو رہا ہے، جس ہیروئین پر ان کا گانا پکچرائز ہوتا تو ایسا لگتا کہ اسی کی آواز ہے. جس دن ان کا انتقال ہوا تو میں بہت روئی مجھے ایسا لگا کہ جیسے میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے.

  • الیکشن کمیشن کا وفاقی حکومت کا یونین کونسلز بڑھانے کا نوٹیفکیشن مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار

    الیکشن کمیشن کا وفاقی حکومت کا یونین کونسلز بڑھانے کا نوٹیفکیشن مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار

    الیکشن کمیشن کا وفاقی حکومت کا یونین کونسلز بڑھانے کا نوٹیفکیشن مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسلام آباد کی یونین کونسلز کی تعداد بڑھانے کا حکومتی فیصلہ مسترد کرنے کا الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات سے متعلق درخواست پر محفوظ فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت نے یونین کونسلز کی تعداد بڑھانے کا حکومتی فیصلہ مسترد کرنے کا الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا۔

    عدالت نے اسلام آباد میں 31 دسمبر کو پولنگ کرانے یا نہ کرانے کا فیصلہ الیکشن کمیشن پر ہی چھوڑ دیا، اور الیکشن کمیشن کو تمام فریقین کو سن کر دوبارہ فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا۔ ہائیکورٹ نے اپنے حکمنامے میں کہا ہے کہ الیکشن کمیشن تمام فریقین کو حق سماعت دے، 27 دسمبر کو الیکشن کمیشن یو سیز بڑھانے پر وفاقی حکومت کا مؤقف سنے، الیکشن کمیشن 28 دسمبر کو ووٹرز فہرستوں پر اعتراضات بھی سنے۔

    جبکہ خیال رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ میں یونین کونسلز کی تعداد اضافہ کیس میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے سوال کیا تھا کہ جون میں یونین کونسلز کی تعداد میں اضافہ ہوا تو الیکشن کمیشن نے بھی کر دیا تھا تو الیکشن کمیشن اب یونین کونسلز کی تعداد میں اضافہ کیوں نہیں مان رہا؟ جس پر ڈی جی لیگل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ دراصل اب الیکشن کا شیڈول جاری ہو چکا ہے.

    چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ الیکشن کا شیڈول تو تب بھی جاری ہو چکا تھا. چیف جسٹس نے کہا کہ سابق چیف جسٹس نے لکھا تھا کہ الیکشن کا شیڈول تبدیل کیا جائے.چیف جسٹس عامر فاروق نے سوال کیا کہ ایک معاملہ ووٹر لسٹوں میں درستگی کا بھی ہے.جب یونین کونسلز کی تعداد 101 ہوئی تو کیا ووٹر لسٹوں میں تبدیلی کا پراسیس کیا گیا؟ جس پر ڈی گی الیکشن کمیشن نےعدالت کو جواب دیاکہ پراسس کیا گیا تھا.

    اس پر چیف جستس نے سوال کیا کہ اگر پراسیس کیا گیا تھا تو اس سے متعلق کوئی ڈاکومنٹ ہے تو وہ بھی دکھائیں. جواب میں الیکشن کمیشن نے ووٹرز لسٹوں میں تبدیلی کا ریکارڈ عدالت میں پیش کر دیا. چیف جسٹس عامر فاروق نے مزید استفسار کیا کہ کیا ووٹرز نے الیکشن کمیشن کی جانب سے پراسیس کے دوران اپنا ووٹ درست نہیں کرایا؟ اور کہا کہ کیا آپ ووٹوں کی درستگی کے لیے الیکشن کمیشن کے پاس گئے؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ روات کے ووٹرز گولڑہ میں اور گولڑہ کے ووٹرز روات میں شامل ہیں، ووٹرز الیکشن کمیشن کے پاس گئے تو انہوں نے کہا الیکشن شیڈول کے اعلان کے بعد تبدیلی نہیں ہو سکتی۔

    جبکہ ڈی جی ای سی پی نے کہا یہ ووٹوں کی درستگی کے لیے پراسیس کے دوران نہیں آئے اور جب آئے تو بہت دیر ہو چکی تھی۔ جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا جو بھی سیاسی جماعت اقتدار میں ہو وہ بلدیاتی الیکشن میں دلچسپی نہیں لیتی۔ چیف جسٹس عامر فاروق نے مزید کہا اگر 2020 میں ایک مدت پوری ہوئی تھی تو تبھی الیکشن ہو جاتے، کوئی اے سیاسی جماعت ہو یا بی وہ دلچسپی نہیں لیتی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اسلام آباد میں جب تک دہلی کی طرز کی چھوٹی پارلیمنٹ نہیں بنتی مسائل حل نہیں ہونگے جبکہ چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن کا حتمی موقف کیا ہے بتا دیں جس پر ڈی جی لا الیکشن کمیشن نے کہا ہمارا موقف ہے کہ بلدیاتی الیکشن وقت پر ہی ہوں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے یہ عدالت الیکشن کمیشن کو کوئی ڈائریکشن جاری نہیں کریگی۔

    واضح‌رہے گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسلام آباد میں 31 دسمبر کو بلدیاتی الیکشن رکوانے کی درخوست پر الیکشن کمیشن سمیت تمام فریقین کو ایک دن کے لیے نوٹس جاری کیاتھا. اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواست پر سماعت کی تھی. مسلم لیگ ن کے چیئرمین کے امیدوار شہزاد اورنگزیب کی جانب سے وکیل عادل قاضی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ وہ وفاقی حکومت کی بات نہیں مانتے۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کرتے ہوئے کہا تھا کہ آج کے دن 125 یونین کونسلز موجود ہیں، 101 پر الیکشن کیسے کرائیں گے؟ انتخابی شیڈول کے بعد یونین کونسلز کی تعداد میں اضافہ کیا گیا۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا تھا کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم کا بل بھی اسمبلی میں موجود ہے۔ یونین کونسلز کی تعداد میں اضافے سے متعلق وفاقی حکومت نے الیکشن کمیشن کی جانب سے نوٹیفکیشن مسترد کرنے کا فیصلہ چیلنج کیا تھا. ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد بیرسٹر جہانگیر جدون کے ذریعے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا عدالت نے بلدیاتی انتخابات سے متعلق درخواستوں کو یکجا کر کے سماعت ایک دن کیلئے ملتوی کر دی تھی.

  • شجاع آباد سے فرار ہو کر کراچی پہنچنے والے بچے اپنے محسن کی شفقت کے اسیر

    شجاع آباد سے فرار ہو کر کراچی پہنچنے والے بچے اپنے محسن کی شفقت کے اسیر

    ملتان کے نواحی علاقے شجاع آباد سے فرار ہو کر کراچی پہنچنے والے بچے اپنے محسن کی شفقت کے اسیر ہوگئے۔

    ملتان کے نواحی علاقے شجاع آباد سے فرار ہو کر کراچی پہنچنے والے بچے اپنے محسن کی شفقت کے اسیر ہوگئے۔ نشے کے عادی باپ کے ظلم سے تنگ اکر شجاع اباد کے تین کم سن بھائی بہن کراچی پہنچے تھے. تینوں کم عمر بہن بھائی ایک ہفتے سے کراچی اتحاد ٹاون کے ایک خدا ترس شہری شاہد اقبال کے گھررہائش پزیر ہیں.

    شاہد اقبال کا کہنا تھا کہ 12 دسمبر کو رات گئے بس کے اخری اسٹاپ پر بچے بے یارومددگار ملے تھے . خالص خدا کی رضا کے لئے بچوں کو اپنے گھر لایا تھا اور پولیس کو اگاہ کیا تھا تنیوں بہن اور بھائیوں کی والدین تک پہنچانے کیلئے شہری شاہد اقبال نے پولیس سے رجوع کیا تھا. جس کے بعد ایس ایچ او اتحاد ٹاؤن سب انسپکٹر غلام رسول نے سی پی او ملتان سے رابطہ کیا اور اتحاد ٹاؤن پولیس نے متعلقہ تھانہ سٹی شجاع آباد سے رابطہ کرکے بچوں کے والدین کو ڈھونڈ نکالا بچوں ی اطلاع ملتے ہی بچوں کی والدہ شجاع آباد سے تھانہ اتحاد ٹاؤن پہنچ گئیں .

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پچوں کو والدہ کے حوالے کردیا گیا ہے صبح بس یا ٹرین کے ذریعے روانہ کیا جائے گا بچوں اور والدہ کو شجاع آباد پہنچانے کے انتظامات ایس ایچ او اتحاد ٹاؤن نے ذاتی خرچ پر کئے پولیس حکام کا مزید کہنا اہے کہ بچوں کے حوالے سے تمام قانونی تقاضے مکمل کئے جائیں گے
    بچوں میں 12 سالہ شاہ نور، 10 سالہ محمد اذان اور 7 سالہ فیضان شامل ہیں.
    بچوں کا کہنا تھا کہ کراچی میں اپنے ماموں کے گھر جانا چاہتے تھے لیکن معلوم نہیں وہ کہاں رہتے ہیں. کراچی میں شاہد اقبال کے گھر شفقت اور محبت ملی ہے واپس والدین کے پاس نہیں جانا چاہتے انکل نے کراچی میں ہمیں بالکل اپنے بچوں کی طرح رکھا کھانا ملتا ہے
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    گورنرپنجاب آج رات وزیراعلیٰ کوڈی نوٹیفائی کرنیکا ڈیکلریشن جاری کرینگے:رانا ثناء اللہ
    گورنرپنجاب نے وزیراعلیٰ پنجاب کوڈی نوٹیفائی کردیا
    پرویز الہی سبکدوش، پی ٹی آئی اور ق لیگ کا عدالت جانے کا فیصلہ
    میگ لیننگ پاکستان کے خلاف ہوم سیریز میں ٹیم کی قیادت کریں گی
    رباط میں اسلامی مخطوطات کی بین الاقوامی نمائش شروع
    جبکہ بچوں کی والدہ نے شاہد اور پولیس افسر غلام رسول کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں ان کی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے میرے بچے ملا دیئے.
    غلام رسول صاحب کی مشکور ہوں جن کی کوشش سے بچے ملے پولیس نے بچے گھر تک پہنچانے کیلئے انتظامات کئے ہیں.

  • سروں کی ملکہ نور جہاں کی آج 22 ویں برسی

    سروں کی ملکہ نور جہاں کی آج 22 ویں برسی

    سروں کی ملکہ نور جہاں کی آج بائیسویں برسی ہے نور جہاں آج بھی اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ ہیں اورہمیشہ رہیں گی.انہوں نے ہزاروں گیت گائے کئی فلموں میں‌اداکاری کی ، پاکستان کی پہلی خاتون ڈائریکٹر ہونے کا اعزاز بھی رکھتی ہیں. ان کی خدمات کے عوض انہیں 1957 میں صدارتی ایوارڈ تمغہ امتیاز اور بعد ازاں پرائیڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا گیا۔ 1965 کی جنگ میں انہوں نے میرے ڈھول سپاہیا، اے وطن کے سجیلے جوانوں، ایہہ پتر ہٹاں تے نیئی وکدے، او ماہی چھیل چھبیلا، یہ ہواؤں کے مسافر، رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو، میرا سوہنا شہر قصورنیں سمیت بے شمار ملی نغمے گا کر قوم اور فوج کے جوش و ولولہ میں اضافہ کیا۔ لتا منگیشکر سمیت ہندوستان اور پاکستان کے بڑے اور نامور موسیقار، گلوکار ان کی شخصیت آواز اور اداکاری کے دیوانے تھے.میڈم نور جہاں نے انہوں نے 10ہزار سے زائد غزلیں و گیت گائےجو آج بھی کانوں میں‌رس گھولتے ہیں. نور جہاں21

    ستمبر 1923ء کو قصور میں پیدا ہوئیں۔انہیں پیار سے اللہ وسائی کہا جاتا تھا۔انکا گھرانہ موسیقی اور گانے بجانے سے وابستہ تھا اسی لیے ان کے گھروالوں نے انہیں بھی موسیقی کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے استاد کے پاس بٹھادیا۔ استاد بابا غلام محمد سے موسیقی کی تربیت حاصل کی انہیں کلاسیکی روایتی ہندوستانی موسیقی کی خصوصی طور پر تربیت دی گئی تھی انکو ٹھمری، دھرپد، خیال اور دیگر اصناف موسیقی پر چھوٹی عمر میں ہی عبور حاصل ہوچکاتھا۔ انہوں نے کم سنی میں ہی اسٹیج پر اداکاری اور گلوکاری کا مظاہرہ کیا۔ جب تک یہ دنیا قائم ہے نورجہاں کو اور ان کی گائیکی کو یاد رکھا جائے گا.

  • بیرون ملک مقیم پاکستانی ہمارا انتہائی قابل قدر اثاثہ ہیں وزیر اعظم

    وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لئے عالمی معیار کی رہائشی سہولتوں کی تعمیر پربریفنگ دی گئی.

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ہمارا انتہائی قابل قدر اثاثہ ہیں، ان کی فلاح و بہبود اور حقوق کا تحفظ ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لئے عالمی معیار کی حامل رہائشی سہولتیں تعمیر کرنے کے حوالے سے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

    کیپٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے حکام نے اس حوالے سے وزیر اعظم کو تفصیلی بریفنگ دی۔اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اسحاق ڈار، وزیراعظم کے مشیر احد چیمہ، معاون خصوصی طارق باجوہ، سابق ارکان قومی اسمبلی ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، انجم عقیل، چیئرمین سی ڈی اے کیپٹن (ر) محمد عثمان یونس اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    گورنرپنجاب آج رات وزیراعلیٰ کوڈی نوٹیفائی کرنیکا ڈیکلریشن جاری کرینگے:رانا ثناء اللہ
    گورنرپنجاب نے وزیراعلیٰ پنجاب کوڈی نوٹیفائی کردیا
    پرویز الہی سبکدوش، پی ٹی آئی اور ق لیگ کا عدالت جانے کا فیصلہ
    میگ لیننگ پاکستان کے خلاف ہوم سیریز میں ٹیم کی قیادت کریں گی
    رباط میں اسلامی مخطوطات کی بین الاقوامی نمائش شروع
    وزیراعظم نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بین الاقوامی معیار کی رہائشی سہولتیں فراہم کرنا ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لئے وفاقی دارالحکومت میں جدید سہولیات سے آراستہ ہاؤسنگ یونٹس تعمیر کئے جائیں۔ اس ضمن میں عالمی شہرت کی حامل تعمیراتی کمپنیوں کی خدمات حاصل کی جائیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ان ترقیاتی منصوبوں کو جلد از جلدمکمل کیا جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ہمارا انتہائی قابل قدر اثاثہ ہیں۔ ان کی فلاح و بہبود اور حقوق کا تحفظ ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

  • پی سی بی نے پاک نیوزی لینڈ  سیریز کیلئے کمنٹری پینل کا اعلان کردیا۔

    پی سی بی نے پاک نیوزی لینڈ سیریز کیلئے کمنٹری پینل کا اعلان کردیا۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان سیریز کیلئے کمنٹری پینل کا اعلان کردیا۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان سیریز کیلئے کمنٹری پینل کا اعلان کردیا ہے. بورڈ کی جانب سے پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے دونوں میچز اور آئی سی سی کرکٹ ورلڈکپ سپر لیگ کے تین میچز کے لیے کمنٹری پینل کا اعلان کیا ہے، جس میں بازید خان، کرس ہیرس، ڈینی موریسن، اسکاٹ اسٹائرس، سائمن ڈول، عروج ممتاز اور وقار یونس شامل ہیں۔ سیریز میں 27 فل ہائی ڈیفینیشن کیمرے، بشمول بگی کیم اور مکمل ہائی ریویو سسٹم بھی دستیاب ہوگا۔

    واضح رہے کہ دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کا پہلا میچ ٹیسٹ میچ 26 دسمبر سے کراچی میں کھیلا جائے گا جبکہ دوسرا ٹیسٹ 3 جنوری کو ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں شیڈول ہے۔ اسی طرح تینوں ون ڈے میچز کی میزبانی کے فرائض بھی کراچی کے سپرد کیے گئے ہیں، جو بالترتیب 10، 12 اور 14 جنوری کو نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    گورنرپنجاب آج رات وزیراعلیٰ کوڈی نوٹیفائی کرنیکا ڈیکلریشن جاری کرینگے:رانا ثناء اللہ
    گورنرپنجاب نے وزیراعلیٰ پنجاب کوڈی نوٹیفائی کردیا
    پرویز الہی سبکدوش، پی ٹی آئی اور ق لیگ کا عدالت جانے کا فیصلہ
    میگ لیننگ پاکستان کے خلاف ہوم سیریز میں ٹیم کی قیادت کریں گی
    رباط میں اسلامی مخطوطات کی بین الاقوامی نمائش شروع
    ڈرائیونگ سیکھتے ہوئے شہری کو کچلنے والی ملزمہ اور لواحقین میں راضی نامہ
    عدالت نے استفسار کیا کہ اگر آپ پاس کےاکثریت ہے تو پھر ڈر کس بات کا ہے؟ یہ سارا بحران ختم ہوسکتا ہے فیصلہ تو اسمبلی نے ہی کرنا ہے ،
    خیال رہے کہ کیوی ٹیم دوسرے مرحلہ میں 13 اپریل سے 7 مئی تک دوبارہ پاکستان کا دورہ کرے گی، اس دوران دونوں ممالک کے درمیان 5 ٹی20 انٹرنیشنل اور اتنے ہی ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیلے جائیں گے۔

  • ڈرائیونگ سیکھتے ہوئے شہری کو کچلنے والی ملزمہ اور لواحقین میں راضی نامہ

    ڈرائیونگ سیکھتے ہوئے شہری کو کچلنے والی ملزمہ اور لواحقین میں راضی نامہ

     ڈرائیونگ سیکھتے ہوئے شہری کو کچلنے والی ملزمہ اور شہری کے ورثا کے درمیان راضی نامہ ہوگیا ہے.

     ڈرائیونگ سیکھتے ہوئے شہری کو کچلنے والی ملزمہ اور شہری کے ورثا کے درمیان راضی نامہ ہوگیا جس کے بعد لڑکی کی ضمانت مںظور کرلی گئی۔ اسلام آباد سیکٹر ڈی 12 میں ملزمہ نور عدن تیمور نے ڈرائیونگ سیکھنے کے دوران 40 سالہ شخص سلطان سکندر کو حادثے میں مار دیا تھا۔ اس واقعے سے متعلق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں سماعت ہوئی، ملزمہ اور شہری کے ورثا ، جج ایڈیشنل سیشن جج طاہرعباس سپرا کی عدالت میں پیش ہوئے۔

    عدالت میں بتایا گیا کہ ملزمہ اور مرحوم کے لواحقین کے درمیان راضی نامہ ہوگیا ہے، ملزمہ نے 69 لاکھ روپے ورثا کو ادا کردیے ہیں، ملزمہ نے لواحقین کو 9 لاکھ روپے نقد اور 60 لاکھ ڈرافٹ کی شکل میں ادا کیے۔ مدعی مقدمہ لبنیٰ افتخار اور مرحوم کی بیوہ شاہدہ پروین نے عدالت کے سامنے کیس واپس لینے کا بیان دے دیا اور کہا کہ ملزمہ سے 69 لاکھ روپے وصول کرکے راضی نامہ کرلیا ہے، مقدمہ مزید آگے بڑھانا نہیں چاہتی۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    گورنرپنجاب آج رات وزیراعلیٰ کوڈی نوٹیفائی کرنیکا ڈیکلریشن جاری کرینگے:رانا ثناء اللہ
    گورنرپنجاب نے وزیراعلیٰ پنجاب کوڈی نوٹیفائی کردیا
    پرویز الہی سبکدوش، پی ٹی آئی اور ق لیگ کا عدالت جانے کا فیصلہ
    میگ لیننگ پاکستان کے خلاف ہوم سیریز میں ٹیم کی قیادت کریں گی
    رباط میں اسلامی مخطوطات کی بین الاقوامی نمائش شروع
    بعد ازاں عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ملزمہ اور مرحوم کے لواحقین کے درمیان راضی نامہ ہوگیا ہے، ملزمہ کی عبوری ضمانت کنفرم کی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ 14 دسمبر کو یہ واقعہ پیش آیا جس میں ملزمہ نے ڈرائیونگ کرتے ہوئے شہری کو کچل کر ہلاک کردیا تھا۔

  • ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا محمود جان پر فائرنگ

    ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا محمود جان پر فائرنگ

    ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا محمود جان پر فائرنگ

    ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا محمود جان پر فائرنگ ہوئی ہے تاہم خوش قسمتی سے وہ محفوظ رہے۔ خیبر پختون خوا کے ضلع تورغر کی یونین کونسل شگئی میں ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا محمود جان پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کردی، تاہم خوش قسمتی وہ محفوظ رہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ہے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے جبکہ مفرور ملزمان کی تلاش کےلیے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے.

    ایس پی آپریشنز کاشف عباسی کہنا ہے کہ محمود جان شگئی کے نواحی علاقے کی ایک تقریب میں موجود تھے، اور جس ہجرے میں تقریب تھی اس کے قریب فائرنگ کاواقعہ پیش آیا، فائرنگ کے واقعے میں محمود جان محفوظ رہے۔ پولیس حکام نے بتایا کہ محمودجان کا خاندانی زمینی تنازعہ چل رہا ہے، تاہم ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے، واقعے کی تفتیش شروع کردی گئی ہے، اور محمود جان سے بھی بیانات لئے جارہے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    گورنرپنجاب آج رات وزیراعلیٰ کوڈی نوٹیفائی کرنیکا ڈیکلریشن جاری کرینگے:رانا ثناء اللہ
    گورنرپنجاب نے وزیراعلیٰ پنجاب کوڈی نوٹیفائی کردیا
    پرویز الہی سبکدوش، پی ٹی آئی اور ق لیگ کا عدالت جانے کا فیصلہ
    میگ لیننگ پاکستان کے خلاف ہوم سیریز میں ٹیم کی قیادت کریں گی
    رباط میں اسلامی مخطوطات کی بین الاقوامی نمائش شروع
    جبکہ ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا محمود جان کا کہنا ہے کہ فائرنگ پشاور کے علاقے ریگی میں لائیو اسٹاک سے متعلق ایک تقریب سے خطاب کے دوران ہوئی ہے. اور محافظوں کی جوابی فائرنگ پر حملہ آور فرار ہوگئے ہیں.