Baaghi TV

Author: +9251

  • بھارت میں کانگریس کارکنان کے مظاہرے، راہل گاندھی سے استعفیٰ واپس لینے کا مطالبہ

    بھارت میں کانگریس کارکنان کے مظاہرے، راہل گاندھی سے استعفیٰ واپس لینے کا مطالبہ

    بھارت میں‌ کانگریس کے کارکنان نے صدر راہل گاندھی سے استعفیٰ واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے ملک کے مختلف علاقوں‌ میں احتجاجی مظاہرے کئے ہیں.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کانگریس کارکنان کی جانب سے دہلی، بنگلور اور دوسرے مختلف شہروں‌ کی جانب سے کئے گئے. مظاہرہ کرنے والے کارکنان کا کہنا تھاکہ پارٹی کو مضبوط بنانے اور کارکنان کے حق میں راہل گاندھی کی قیادت ضروری ہے لہٰذا انھیں استعفیٰ واپس لینا چاہیے۔ مظاہرے میں حصہ لینے سے قبل نئی دہلی کی سابق وزیراعلیٰ اور دہلی کانگریس کی صدر شیلا ڈکشت نے کہا کہ کارکنان مظاہر ہ کرکے اپنے جذبات کا اظہار کررہے ہیں۔ راہل گاندھی کے استعفیٰ کی پیشکش کے بعد سے پورے ملک کے کارکنان میں مایوسی کا ماحول ہے۔

    کرناٹک کے دارلحکومت بنگلور میں‌بھی کانگریس کے کارکنان نے مظاہرہ کر کے راہل گاندھی سے استعفیٰ‌واپس لینے کا مطالبہ کیا. مظاہرین نے ہاتھوں میں‌پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر راہ گاندھی سے استعفیٰ‌ لینے کے مطالبات درج تھے.

    یاد رہے کہ الیکشن میں‌ مودی کی پارٹی بی جے پی سے شکست کے بعد راہل گاندھی نے لوک سبھا الیکشن میں پارٹی کی شکست کی ذمہ داری لیتے ہوئے کانگریس کی پالیسی ساز یونٹ کانگریس مجلس عاملہ میں استعفیٰ کی پیشکش کی تھی تاہم مجلس عاملہ کے اراکین نے ان کا استعفیٰ مسترد کر دیا تھا لیکن راہل گاندھی استعفیٰ دینے پر بضد ہیں اور انہوں نے پارٹی کے مرکزی ذمہ داران سے کہا ہے کہ وہ گاندھی خاندان کے علاوہ پارٹی صدر ڈھونڈ لیں. اس سلسلہ میں انہیں‌ منانے کی کوششیں‌تاحال ناکام رہی ہیں.

  • بھارت، میڈیکل کی طالبہ کو زبردستی جے شری رام کے نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا

    بھارت، میڈیکل کی طالبہ کو زبردستی جے شری رام کے نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا

    بھارت میں ایک برقع پہنے ہوئی میڈیکل کی طالبہ کو زبردستی جے شری رام کے نعرے لگانے پر مجبور کئے جانے کا واقعہ پیش آیا ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ مشرقی بنگال کے ایک میڈیکل کالج میں‌پیش آیا ہے جہاں دس سے بارہ ہندو انتہاپسندوں نے طالبہ کو ہندوؤں کے حق میں‌ مذہبی نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا. متاثرہ طالبہ میڈیکل کالج میں‌ فائنل ایئر میں زیر تعلیم ہے. مذکورہ طالبہ نے بتایا کہ وہ اپنی ایک سہیلی کے ہمراہ رات کنٹین سے کھانا کھا کر واپس آرہی تھی کہ انہوں نے ہمیں جے شری رام کے نعرے لگانے پر مجبور کیا تو ہم وہاں‌سے بھاگ نکلے. متاثرہ طالبہ کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے انہوں نے ان لوگوں‌کو کالج میں‌ نہیں‌دیکھا.

    متاثرہ طالبہ کا کہنا تھا کہ مقامی پولیس نے ابتداء میں شکایت درج کرنے سے انکار کردیا لیکن شکایت میں سے دھمکی کا لفظ نکالنے کی شرط پر انہوں نے ہماری شکایت درج کی۔ لیکن بعد ازاں دوسرے دن وہ لفظ بھی شامل کردیاگیا۔ مذکورہ طالبہ نے مزید کہا کہ میں ہمیشہ برقع پہن کر باہر نکلتی ہو ں۔ لیکن آج تک میرے ساتھ اس طرح کا معاملہ پیش نہیں آیا۔ اس وقت سڑک پر کوئی موجود نہیں تھا جو ہماری مدد کرسکے۔

    یاد رہے کہ حالیہ لوکھ سبھا الیکشن میں‌ہندوانتہاپسند تنظیم بی جے پی کی کامیابی کے بعد یہ چوتھا واقعہ ہے جس میں زبردستی مسلمانوں کو جئے شری رام کے نعرہ لگانے پر مجبور کیا گیا اور تشدد کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے.

  • یو نٹی آف اپوزٹ (جنس مخالف کا اشتراک) ۔۔۔ فرحان شبیر

    یو نٹی آف اپوزٹ (جنس مخالف کا اشتراک) ۔۔۔ فرحان شبیر

    مسئلہ یہ ہے کہ ہم مردوں نے فطرت کے تقسیم کار یعنی Distribution of work کی بنا پر مرد اور عورت میں پائے جانے طاقت اور قوت کے فرق ، جسمانی و ذہنی ساخت کے فرق کو عورت پر غلبہ اور تسلط کا ہتھیار بنا لیا ہے ۔ وہی جو ہر طاقتور کمزور کے ساتھ کرتا ہے وہی ہم مردوں نے عورت کے ساتھ کیا ۔ لیکن دنیا میں کسی جاندار کے نر نے مادہ کے ساتھ یہ سلوک نہیں رکھا جو نوع انسان میں مرد نے عورت کے ساتھ کیا ۔ بلے اور بلی میں نہ بلا برتر ہے نا گھوڑے اور گھوڑی میں گھوڑی کمتر ۔ کبھی ہم نے سوچا کہ آخر جانوروں میں یہ پھٹیک کیوں نہیں ہے کہ کتیا ، کتے کی محتاج ہو یا بلی ، بلے کے کھانے کے لئیے اچھی اچھی بوٹیاں الگ کر رہی ہے ۔

    یہ ہم انسانوں نے عجب تیر مارا ہے اس ساری کائینات کی انواع و اقسام کی حیات میں ۔ ہم نے حیات کے اس سفر میں اپنے ہی ہم سفر کو اپنے قدموں تلے روندھنا شروع کردیا اور یہ بھول گئے کہ فطرت کے اس توازن کو بگاڑنے کا نتیجہ مرد کی پرواز کو بھی متاثر کریگا ۔ آج گھر کی گاڑی چل تو رہی ہے لیکن اک پہیہ گول اور ایک چوکور ۔ ایک محکوم شخصیت کی عورت کیسے زندہ و آزاد مرد کی پرورش کر پائیگی ۔ مرد کے اسی جذبہ تغلب نے مرد اور عورت دونوں کو ہی حاکم اور محکوم کی نفسیات کا اسیر بنا کر ان دونوں کی آپسی زندگی کو ہزار الجھاووں میں گرفتار کر رکھا ہے ۔

    ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ مرد اور عورت میں طاقت کا توازن ہو یا عقل اور جذبات کے کم زیاددہ استعمال کا معاملہ ۔ خواتین کا زیادہ بولنا ہو یا مردوں کا دوستوں میں چائے پر دو دو گھنٹے ، بھلے خاموشی میں ہی گزار دینا ۔ یہ مرد اور عورت کے different ہونے ، دو الگ الگ جزبات ، احساسات رکھنے والی ذاتوں اور پرسینیلیٹیز ہونے کو ظاہر کرتا ہے نہ کہ انکی inequality یا عدم برابری کو ۔ اس جسمانی اور جذباتی اختلاف سے کوئی حاکم اور محکوم نہیں بن جاتا ۔ کسی کو برتری اور کمتری کا سرٹیفیکیٹ نہیں مل جاتا ۔

    مرد اور عورت میں ان اختلافات کا ذمہ دار فطرت کا وہ تقسیم کار رہا ہے جس کے لحاظ سے مرد کا کردارlunch chaser کا ہوتا تھا اور ہے ۔ یعنی گھر کے معاش کا ، بچوں کے کھانے کا انتظام کرنا ۔ اب چاہے وہ جنگل میں بھالے سے ہرن کا شکار کرنا ہو یا پھر سنگلاخ زمینوں کا سینہ چیر کر خوشہ گندم کو اگانا۔ اس ذمہ داری کو ادا کرنے کے لئیے مرد کو جس طرح کی صلاحتیں چاہئیے تھی اس میں انہی صلاحیتوں کا ارتقا ہوتا چلا گیا ۔ جنگل میں خونخوار درندوں کا شکار ہو یا پہاڑ کھود کر فصل اگانا ۔ چوڑا سینہ ، مضبوط کاٹھی ، Tunnel vision کا زیادہ ہونا ، شکار کو تیر اور بھالے سے نشانہ بنانے کے لئیے دماغ میں اسپیشیل (spatial ) کیلکولیشن کا خانہ بڑا ہونا یا مردوں کی دیگر صلاحیتیں اسی لنچ چیسنگ ٹاسک کو پورا کرنے کے لئیے درکار ہوتی تھی ۔

    اور فطرت کے اسی تقسیم کار کی رو سے عورت کا کردار Nest defender کا رہا ہے یعنی جس نے اپنے بچوں کی ، غاروں سے لیکر جنگلات میں جھونپڑیوں اور زمینوں پر بنے پکے مکانوں میں رینگنے والے حشرات الارض سے محفوظ رکھنے سے لیکر اپنے بچوں کو طرح طرح کے invaders سے بچانا تھا ۔جہاں عورت نے تنگ و تاریک اندھیرے غاروں میں کھانا پکانے کے ساتھ ساتھ بیک وقت چار پانچ بچوں پر نظر بھی رکھنی ہوتی تھی ۔ گھر کو سجانا بھی تھا اور بچوں کی رونے کی آواز سے انکی پرابلم بھی سمجھ لینا بھی لازمی ۔یہی وجہ ہے کہ خواتین کا spherical vision زیادہ ہوتا ہے ۔ یعنی خواتین کو ذرا سائیڈ دیکھنے کے لئیے نظر گھمانی نہیں پڑتی ۔ خواتین جذبات کو emotions کو بہت اچھی طرح sense کرتی ہیں ۔ ظاہر ہے ایک دودھ پیتے بچے کو سمجھنے کے لئیے دماغ میں emotional faculty کا بڑا ہونا ضروری ہے ۔

    اسی طرح خواتین سرگوشی یا آواز سننے میں مردوں سے آگے ہوتی ہیں لیکن آواز کی سمت یا ڈائریکشن بتانے میں مرد زیادہ بہتر ہوتے ہیں ۔ ظاہر ہے جنگلات میں شکار کرتے ہوئے خود کو بھی جانوروں سے بچانا ہوتا تھا اور اسکے لئیے ایک ایک آہٹ پر کان لگانے ہوتے تھے کہ نہ جانے کس سمت سے کوئی سانپ یا چیتا دبوچ لے ۔ اسکے لئیے فوکس یااٹینشن کا ہونا لازمی ہے زرا سی distraction سے زندگی داو پر لگ سکتی تھی ۔ No wonder کہ ہم مرد گاڑی چلاتے ہوئے فون پر بات کرتے وقت ٹیپ کا والیم بھی کم کرتے ہیں اور سب سے چپ رہنے کی التماس بھی جبکہ ہماری بیگمات اور امائیں کھانا پکانے کے ساتھ ساتھ ، ڈرامہ سیریل ، فون پر آدھے خاندان کے ساتھ Gossips اور آپکو بھی نمٹا رہی ہوتیں ہیں .خواتین multi tasking میں اسی لئیے مردوں سے بہتر ہوتی ہیں کہ وہ ہزاروں سال سے یہی ملٹی ٹاسکنگ کرتی آرہی ہیں ۔ آج بھی جب گھر میں بچہ روتا ہے ماں کو رونے سے پتہ چل جاتا ہے کہ بچہ بھوکا ہے یا کان میں درد ہے جبکہ مرد حضرات کا ایک ہی جملہ ہوتا ہے ” یار یہ روئے جا رہا ہے چپ ہونے کا نام ہی نہیں لے ، آخر اسکا مسلہ کیا ہے ، دودھ پی لیا اب سو جا بھائی ۔ وغیرہ وغیرہ ”

    خواتین اور مردوں کا مختلف professions کا چننا اور subjects choice میں بھی دونوں کا یہ difference نظر آتا ہے ۔ generally خواتین ڈے کئیر ، پرائمری و سیکینڈری ایجوکیشن ، آرٹس ، ایموشنل انٹیلیجنس ، لینگویجز، لٹریچر، ڈیزائننگ (اور لڑکوں کے شکوں کے مطابق رٹے?) میں بہتر ہوتی ہیں ۔جبکہ مرد عمومی طور پر پیور سائینسز ، گیمز ، گیجٹز، انجینئرنگ، کشتی ، گھڑسواری ، وار فئیر، بلو کالر جابس میں زیادہ رجحان رکھتے ہیں ۔ ( واضح رہے کہ یہ لازم نہیں کہ کوئی خاتون انجینئر نہیں بن سکتی یا مرد میک اپ آرٹسٹ یا ڈے کئیر پر جاب نہیں کر سکتا ۔ لیکن عموما یہ تعداد آٹے میں نمک سے بھی کم ہوتی ہے ۔ حتی کہ یورپ اور امریکہ میں بھی ایسا نہیں کہ جتنے مرد انجینئر یا پائلٹ ہیں اتنے ہی خواتین بھی یا ڈے کئیر میں بھی اتنے ہی مرد ہوں جتنی کہ خواتین )

    جب تک انسان غاروں ، پہاڑوں اور جنگلات کی زندگی گذارتا رہا تب تک تو غالبا ٹھیک ہی چلا ہوگا لیکن جس دن انسان نے اپنی محنت کا سودا کیا اور دوسرے انسان نے اسکی محنت کا مول لگایا اس دن سے جہاں معاشرے میں دو طبقات ، دو کلاسز نے جنم لے لیا وہیں فیملی یونٹ میں بھی پیسے کمانے والے اور نہ کمانے والے کی بنیاد پر درجہ بندی ، غالب و مغلوب ، برتر و کمتر کی تقسیم در آئی ۔ گو کہ فطرت کا منتہا و مقصود مرد اور عورت دونوں کا اپنی اپنی صلاحیتوں کا بہترین استعمال کرنا اور ایک دوسرے کی کمیوں کو پورا کرتے ہوئے حیات (life) کے اس سفر میں نسل انسانی کو بہتر سے بہتر بناتے چلے جانا ہے ۔ لیکن مرد نے اپنی طاقت اور کمائی کو عورت پر غالب ہونے ، اس پر حکم چلانے اور اپنا مطیع و فرمانبردار بنانے میں استعمال کیا ۔

    حقیقت تو یہ کہ کمہار کے ایک ہی چاک سے بنے برتنsize اور shapes میں الگ ہوتے ہیں لیکن انکی مٹی انکا substance ایک ہی ہوتی ہے ۔ کوئی نہیں کہتا کہ گھڑا چونکہ بڑا ہے پانی اسٹور کرتا ہے لہذا اس
    کی مٹی برتر ہے اور پیالہ چونکہ چھوٹا ہوتا ہے لہذا اسکی مٹی کمتر ۔ یہ دونوں فطرت کے ایک تقسیم کار کے تحت لازم و ملزوم ہیں ۔ ایک کے بغیر دوسرے کا وجود ادھورا ہی رہتا ہے اور استعمال کرنے والا بھی مشکل میں ۔ اسی طرح مرد ہو یا عورت جب تک ایکدوسرے کے فزیکل ، ایموشنل اور کھوپڑی کے مختلف ہونے کا برابری کی بنیاد پر احترام نہیں کرینگے تب تک غلبہ و تسلط کی یہ جنگ دونوں ذاتوں یعنی مرد اور عورت میں ایک حقیقی پیار ، محبت اور احترام کا تعلق پیدا کرنے میں رکاوٹ ڈالتی رہیگی ۔

    ہم مردوں کو بھی چاہئیے کہ پہلے خواتین کو ایک ذات، ایک شخصیت ، ایک پرسینیلیٹی ، ایک آزاد شعور تو سمجھیں ۔ عورت کی جس نرم و نازک جسمانی ساخت کو ہم نے اسکی کمزوری سمجھ رکھا ہے وہ رحم مادر میں جنین سے لیکر ایک بچہ کی پرورش کے لئیے لازمی درکار تھی جیسے ہم مردوں کا سخت جان ہونا ہماری کوئی فضیلت نہیں ہمارے آبا و اجداد نے جس کام کا ذمہ اپنے سر لیا یعنی lunch chasing کا ، یہ اسی کا نتیجہ ہے ۔ غلبہ اور تسلط کی اس جنگ میں کبھی ہم نے سوچا ایک قوت فیصلہ سے محروم ، زمانے کے سرد و گرم سے ناآشنا ، کچلی ہوئی ، پسی ہوئی ، کبھی باپ ، تو کبھی بھائی اور پھر شوہر اور اولاد کے سہاروں پر زندگی گزارے جانے کا احساس لے کر جینے والی عورت کس طرح ایک ، مضبوط ، خوش باش ، پراعتماد قسم کی اولاد کی تربیت کر پائیگی ۔ اگر انسان نے شاہراہ حیات پر اپنے سفر کو خوشگوار بنانا ہے تو اسے اپنے شریک سفر کو سمجھنا ہوگا عورت کے opposites کو مرد کے opposites کے ساتھ unite کرنا ہوگا ۔

  • سینکڑوں وفاقی وصوبائی محکمہ کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی(کیسکو)کے اربوں روپے کے نادہندہ نکلے.

    سینکڑوں وفاقی وصوبائی محکمہ کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی(کیسکو)کے اربوں روپے کے نادہندہ نکلے کیسکو کی جانب سے جاری کردہ فہرست کےمطابق صوبائی حکومت کے وہ تمام ذیلی محکمے جو کیسکوکے نا دہندہ ہیںاُن میںپبلک ہیلتھ انجینئرنگ 5516ملین روپے ، محکمہ تعلیم کے ذمہ 4809ملین روپے، محکمہ صحت کے ذمہ 1698ملین روپے،بلوچستان پولیس636ملین روپے ،لوکل گورنمنٹ اینڈرورل ڈیولپمنٹ کے ذمہ 255ملین روپے ، کمیونیکشن اینڈورکس ڈیپارٹمنٹ208ملین روپے، بلوچستان کمشنرز172ملین روپے، ڈپٹی کمشنرزبلوچستان 553ملین روپے، محکمہ خزانہ 18ملین روپے، محکمہ جیل 56ملین روپے، ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ209ملین روپے، بلوچستان فوڈ ڈیپارٹمنٹ51ملین روپے، محکمہ جنگلات تقریباً38ملین روپے، فشریز ڈیپارٹمنٹ60ملین روپے، محکمہ ایری گیشن کے ذمہ 73ملین روپے، لائیواسٹاک ڈیپارٹمنٹ50ملین روپے،بلوچستان بلڈنگ کے ذمہ 96ملین روپے، بی ایم سی کے ذمہ تقریباً 33ملین روپے، سوشل ویلفیئرڈیپارٹمنٹ80ملین روپے، بلوچستان ڈیولپمنٹ اتھارٹی تقریباً15ملین روپے ،محکمہ واسا کے ذمہ 220ملین روپے جبکہ لوکل باڈیز کے ذمہ 646ملین سے زائد کے بقایاجات واجب الاداہیں۔ وفاقی محکموںکے ذمہ بھی کیسکوکے بجلی واجبات بقایاجات ہیں اُن میں پاکستان پوسٹ آفسز کے ذمہ 120ملین روپے،پاکستان ٹیلی کمیونکیشن کارپوریشن 109ملین روپے، الیکشن کمشنر ساڑھے14ملین روپے، سینٹرل ایکسائز لینڈکسٹم کے ذمہ تقریبا53ملین روپے ،ڈی جی رجسٹریشن نادار 38ملین روپے، پلانٹ پروٹیکشن تقریبا16ملین روپے، سوئی سدرن گیس کے ذمہ 24ملین روپے، نیشنل بینک آف پاکستان14ملین روپے، گوادرپورٹ اتھارٹی کے ذمہ 10ملین روپے، میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے ذمہ تقریباً13ملین روپے، محکمہ آرکیالوجی کے ذمہ 12ملین روپے کے بقایاجات شامل ہیں۔

  • راولپنڈی زرعی ٹاسک فورس کی کاروائی

    راولپنڈی زرعی ٹاسک فورس کی کاروائی

    راولپنڈی: وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی ہدایت پرزرعی ٹاسک فورس کا جعلی اور غیر معیاری زرعی ادویات اور کھادوں کے خلاف پنجاب بھر میں آپریشن جاری ہے ۔ حکومت پنجاب جعلی اور غیر معیاری زرعی ادویات کے خلا ف زیرو ٹالرینس پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔ اس سلسلے میں محکمہ زراعت کے مقامی حکام نے غیر قانونی فیکٹری شہزاد ایگرو سروسز پر چھاپہ مارا .
    چھاپہ کے دوران تقریباًً35کلو گرام/لِٹر جعلی اور غیر معیاری زرعی ادویات قبضہ میں لے لیں ۔جس کی مالیت کا تخمینہ 69ہزار 20روپے لگایا گیا ہے ۔فیکٹری مالکان کے خلاف ایف آئی آر رجسٹرڈ کرائی گئی ہے ۔اس سلسلے میں چیئرمین ٹاسک فور س میاں علمدارعباس نے کہا ہے کہ کسانوں کااستحصال کرنے والے مافیا کے خلاف ایسی کاروائیاں جاری رہیں گی اور حکومت پنجاب کسانوں کو سستے اور معیاری زرعی مداخل کے حصول میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتی رہے گی

  • جموں‌ میں‌ دو کشمیری گرفتار، بھارتی فوج کا پاکستان کیلئے جاسوسی کا الزام

    جموں‌ میں‌ دو کشمیری گرفتار، بھارتی فوج کا پاکستان کیلئے جاسوسی کا الزام

    مقبوضہ جموں‌ میں بھارتی فوج نے ایک فوجی کیمپ کے باہرسے دو افراد کو گرفتار کر کے ان پر مبینہ طور پر پاکستان کیلئے جاسوسی کا الزام عائد کیا ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں‌کشمیریوں‌کو مبینہ طور پر ہندوستانی فوجی کیمپ کے باہر تصاویر لیتے اور ویڈیو بناتے ہوئے گرفتار کیا گیا ہے. بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ ہندوستانی فوجی اہلکاروں نے دونوں کو مشکوک حالت میں پارا منڈل موہر کے نزدیک رتنا چوک ملٹری سٹیشن کے آس پاس دیکھ کر حراست میں‌لیا. بھارتی فورسز کا کہنا ہے کہ دونوں‌ کو پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے.

    رپورٹ‌کے مطابق مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار کشمیری نوجوانوں‌ میں سے ایک کا تعلق کٹھوعہ اور دوسرے کا ڈوڈہ سے ہے.

  • بھارتی فوج نے شوپیاں میں ایک اور کشمیری نوجوان شہید کر دیا، 20 سے زائد زخمی

    بھارتی فوج نے شوپیاں میں ایک اور کشمیری نوجوان شہید کر دیا، 20 سے زائد زخمی

    مقبوضہ کشمیر کے شوپیاں علاقہ میں بھارتی فوج نے نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران ایک کشمیری نوجوان کو شہید کر دیا ہے جس پر ہزاروں‌کشمیریوں‌نے شدید احتجاج کیا ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج نے نوجوان کی شہادت کے بعد پتھراؤ کرنے والے نوجوانوں‌پر زبردست فائرنگ بھی کی جس سے 20 سے زائد کشمیری زخمی ہو گئے. شہید نوجوان کا نام سجاد احمد پرے بتایا جاتا ہے.

    یہ جھڑپیں شوپیاں کے مضافات میں واقع پنجورہ ،گگہ لرو نامی گائوں میں اُس وقت شروع ہوئیں جب ہندوستانی فورسز نے یہاں کشمیری مجاہدین کی موجودگی کی اطلاع کے بعد آپریشن شروع کیا تاہم یہاں‌سے کسی کشمیری مجاہد کی موجودگی کی اطلاع نہیں‌ ملی.

  • مقبوضہ کشمیر، بھارتی فائرنگ سے زخمی  کشمیریوں کی تعداد 90 ہو گئی، متعدد کی بینائی متاثر ہونے کا خدشہ

    مقبوضہ کشمیر، بھارتی فائرنگ سے زخمی کشمیریوں کی تعداد 90 ہو گئی، متعدد کی بینائی متاثر ہونے کا خدشہ

    بھارتی فوج کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کے کولگام علاقہ میں نہتے کشمیریوں‌ پر اندھا دھند پیلٹ گن کے چھرے برسانے سے زخمی ہونے والوں‌کی تعداد 90 ہو گئی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیلٹ گن کے چھرے آنکھوں میں‌ لگنے سے ایک درجن سے زائد کشمیری زخمی ہوئے ہیں جن کی بینائی متاثر ہونے کا اندیشہ ہے. کولگام میں پیلٹ برسانے اور فائرنگ کے بعد نوے سے زائد کشمیری زخمی ہوئے تو کشمیری نوجوانوں‌کی بڑی تعداد ہسپتال بلڈ دینے کیلئے پہنچ گئی. اس دوران کشمیریوں‌کی طرف سے بھارتی درندگی کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا. کشمیریوں نے اسلام، آزادی اور پاکستان کے حق میں زبردست نعرے بازی کی.

    یاد رہے کہ بھارتی فوج کی طرف سے روزانہ نام نہاد سرچ آپریشن کی آڑی میں نہتے کشمیریوں‌کو شہید کیا جارہا ہے.

  • خلیجی ریاست سے عید الفطر کے حوالہ سے بڑی خبر آ گئی

    خلیجی ریاست سے عید الفطر کے حوالہ سے بڑی خبر آ گئی

    عمان (مسقط_نمائندہ باغی ٹی) عمان میں نجی اور سرکاری شعبوں کے لیے عید الفطر کی تعطیلات کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ 4 جون 2019ء بروز منگل سے 6 جون 2019ء بروز جمعرات تک 3 چھٹیاں دی گئی ہیں
    عمان نیوز ایجنسی کے مطابق غیر سرکاری اداروں اور کمپنیوں میں 4 جون سے عید الفطر کی تعطیلات کا آغاز ہو گا اور جمعہ المبارک کی معمول کی چھٹی کو ملا کر مجموعی طور پر 4 دن عام تعطیل رہے گی۔ جبکہ سرکاری اداروں میں 29 رمضان المبارک 4 جون سے شروع ہونے والی چھٹیوں کا اختتام 8 جون بروز ہفتہ کو ہو گا۔ اور تمام سرکاری ادارے اتوار 9 جون سے معمول کے مطابق کھل جائیں گے۔ یاد رہے جمعہ اور ہفتہ کو ریاست میں ہفتہ وار عام تعطیل ہوتی ہے۔

  • مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ‌ ممتا بنرجی کا نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں‌ شمولیت سے انکار

    مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ‌ ممتا بنرجی کا نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں‌ شمولیت سے انکار

    بھارت میں مغربی بنگالی کی وزیر اعلیٰ‌ ممتا بنرجی نے ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں‌شرکت سے معذرت کر لی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کے حلف برداری کی تقریب میں شرکت کرنے کے اعلان کے ایک دن بعد ہی ممتا بنرجی نے کہا کہ نئے حالات میں وہ مودی کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت نہیں کریں گی۔ یا د رہے کہ کل 30مئی کو نریندر مودی دوسری مدت کیلئے وزیر اعظم کے عہدہ کا حلف لیں گے۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ انہوں نے حلف برداری کی تقریب میں شرکت کرنے کا فیصلہ کیا تھا مگر آخری چند گھنٹوں میں دیکھا کہ میڈیا میں بی جے پی کی جانب سے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ مغربی بنگال میں سیاسی تشدد کے واقعات میں 54افراد کی موت ہوگئی ہے جبکہ یہ بالکل جھوٹ ہے. بنگال میں سیاسی بنیادوں‌پر قطعی طور پر قتل نہیں‌ ہوا لہٰذا موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ مودی کی حلف برداری کی تقریب میں‌ شرکت نہ کروں.

    یاد رہے کہ مودی دوسری مرتبہ وزیر اعظم کا حلف اٹھا رہے ہیں.