Baaghi TV

Author: +9251

  • متنازعہ ٹوئیٹ کیس؛ اعظم سواتی کی درخواست ضمانت خارج کر دی گئی

    متنازعہ ٹوئیٹ کیس؛ اعظم سواتی کی درخواست ضمانت خارج کر دی گئی


    اعظم سواتی کی درخواست ضمانت خارج کر دی گئی

    اسلام آباد،اسپیشل جج سینٹرل نے اعظم سواتی کی درخواست ضمانت مسترد کردی ہے جبکہ دوران کیس کی سماعت کے جج اعظم خان نے کہا کہ اعظم سواتی کی درخواست ضمانت خارج کی جاتی ہے. تاہم خیال رہے کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید یہ بھی لکھا کہ اعظم سواتی نے ایک ہی جرم دو بار کیا ہے.

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سپیشل جج سنٹرل نے پی ٹی آئی رہنما سینیٹر اعظم سواتی کی ضمانت پر محفوظ فیصلہ ایک مرتبہ پھر موخر کر دیا تھا، جمعہ کو سماعت کے دوران پبلک پراسیکیوٹر رضوان عباسی اور درخواست گزار وکیل بابر اعوان کے معاون عدالت میں پیش ہوئے تھے، عدالت میں نئے تعینات ہونے والے جج محمد اعظم خان کے چارج نہ سنبھالنے کے باعث اعظم سواتی کی ضمانت بعد از گرفتاری پر محفوظ شدہ فیصلہ نہ سنایا جاسکا اور سماعت19 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی تھی.
    مزید یہ بھی پڑھیں.
    پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری کے شوہر انتقال کرگئے
    سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے طویل المدتی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا.وزیر خارجہ
    دل کے پیدائشی نقائص میں مبتلا بچوں کا اب اسٹیم سیلز سے علاج ممکن
    چیئر مین پی سی بی رمیز راجہ کو عہدے سے ہٹانے کی سمری وزیراعظم کو ارسال
    بھارتی اداکارہ عرفی جاوید کو دبئی پولیس نے حراست میں لے لیا
    جبکہ گزشتہ روز عدالت میں سماعت کے دوران پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے اعطم سواتی کیخلاف مقدمہ کا متن پڑھ کر سنایا تھا رضوان عباسی کے مطابق اعظم سواتی نے ٹویٹر پر توہین آمیز بیانات سے ایک ہی جرم 2بار کیا، اعظم سواتی نے اپنے ٹویٹر کے ویریفائیڈ اکاؤنٹ سے دونوں بار ٹویٹ کیا، اپنے ٹویٹس سے انکار بھی نہیں کیا، چاہتے تو ٹویٹس پراعظم سواتی کیخلاف مختلف مقدمات درج کر سکتے تھے، ٹویٹس میں اعظم سواتی کی زبان پرغور کریں ، کیا ذمہ دار شہری ایسی زبان استعمال کر سکتا ہے؟۔

  • پنجاب میں سیاسی بحران کے باعث 23 دسمبر کو "کے پی اسمبلی” تحلیل ہونے کا امکان نہیں

    پنجاب میں سیاسی بحران کے باعث 23 دسمبر کو "کے پی اسمبلی” تحلیل ہونے کا امکان نہیں

    پنجاب میں سیاسی بحران کے باعث 23 دسمبر کو "کے پی اسمبلی” تحلیل ہونے کا امکان نہیں ہے

    نجی ٹی وی نے دعوٰی کیا ہےکہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے کے پی اسمبلی کی تحلیل پنجاب کے ساتھ منسلک کر دی ہے. ذرائع کا بتانا ہے کہ پنجاب میں پیدا ہونے والے سیاسی بحران کے باعث 23 دسمبر کو خیبر پختونخوا اسمبلی تحلیل ہونے کا امکان نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق فواد چوہدری کی تجویز ہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کو پنجاب اسمبلی کے ساتھ تحلیل کیا جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب میں تکنیکی اور قانونی وجوہات پر اسمبلی 23 دسمبر کو تحلیل نہیں ہو سکتی۔

    یاد رہے کہ عمران خان نے 17 دسمبر کو اعلان کیا تھا کہ 23 دسمبر کو پنجاب اور کے پی کی اسمبلیاں تحلیل کر دیں گے جس کے بعد دو روز بعد قبل گورنر پنجاب نے وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ دیا تھا۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے آج بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ جمعے کے روز اسمبلی کو تحلیل کر دیں گے۔ جبکہ پنجاب اسمبلی توڑنے اور بچانے کی جنگ جیتنے کے لئے گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ آفس میں دو دو الگ الگ اجلاس طلب کرلئے گئے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے پنجاب اسمبلی توڑنے کے اعلان اور گورنر پنجاب کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب کو اعتماد کا ووٹ لینے کی ہدایت کے بعد صوبے میں عجیب سیاسی بحران پیدا ہوگیا ہے۔

    ایک طرف گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی کو آج اعتماد کا ووٹ لینے کی ہدایت کرتے ہوئے سہ پہر چار بجے اجلاس طلب کر رکھا ہے، تو دوسری جانب اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے گورنر کی جانب سے بلائے اجلاس کو غیر آئینی قرار دے دیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں.
    پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری کے شوہر انتقال کرگئے
    سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے طویل المدتی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا.وزیر خارجہ
    دل کے پیدائشی نقائص میں مبتلا بچوں کا اب اسٹیم سیلز سے علاج ممکن
    چیئر مین پی سی بی رمیز راجہ کو عہدے سے ہٹانے کی سمری وزیراعظم کو ارسال
    بھارتی اداکارہ عرفی جاوید کو دبئی پولیس نے حراست میں لے لیا
    ورنر پنجاب کی ہدایت پر گورنر ہاؤس میں اجلاس کے لیے رہنماؤں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، اور مسلم لیگ ن اورپیپلز پارٹی کے20 سے زائد رہنما گورنرہاؤس پہنچ چکے ہیں۔ دوسری جانب وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے وزیراعلی آفس میں مسلم لیگ ق کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔ وزیراعلی آفس میں شیڈول اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال پرتبادلہ خیال کیا جائے گا، اور آئندہ کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔

  • پی ٹی آئی کا استعفے منظوری پر ایک بار پھر سپریم کورٹ سے رجوع کا فیصلہ

    پی ٹی آئی کا استعفے منظوری پر ایک بار پھر سپریم کورٹ سے رجوع کا فیصلہ

    پی ٹی آئی کا استعفے منظوری کیلیے ایک بار پھر سپریم کورٹ سے رجوع کا فیصلہ

     تحریک انصاف نے قومی اسمبلی سے استعفوں کی منظوری کے لیے ایک بار پھر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی استعفوں کی منظوری کے لیے ایک بار پھر سپریم کورٹ جائے گی،ا س سلسلے میں قانونی ماہرین نے تیاری شروع کردی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں.
    پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری کے شوہر انتقال کرگئے
    سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے طویل المدتی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا.وزیر خارجہ
    دل کے پیدائشی نقائص میں مبتلا بچوں کا اب اسٹیم سیلز سے علاج ممکن
    چیئر مین پی سی بی رمیز راجہ کو عہدے سے ہٹانے کی سمری وزیراعظم کو ارسال
    بھارتی اداکارہ عرفی جاوید کو دبئی پولیس نے حراست میں لے لیا
    اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے استعفے منظوری میں تاخیر کے باعث سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے ایوان میں جانے کا اعلان کیا تو اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔ استعفوں کے لیے اسپیکر کے روبرو جانے کا اعلان کیا تو اسپیکر چھٹی پر چلے گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلسل تاخیر کے باعث پی ٹی آئی نے اس معاملے پر سپریم کورسٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے پی ٹی آئی کے مرحلے وار استعفوں کی منظوری کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا تھا جبکہ درخواست اعتراض کیساتھ واپس کردی گئی تھی.

    اسد عمر نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ عدالتِ عظمیٰ میں چیلنج کیا تھا، تحریک انصاف کی جانب سے اپیل ایڈووکیٹ فیصل چوہدری نے دائر کی تھی جس میں سپریم کورٹ سے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ پی ٹی آئی نےعوام سےتازہ مینڈیٹ لینے کیلئے قومی اسمبلی سے مستعفی ہونےکا فیصلہ کیا، عدالت عالیہ سے استدعا ہے کہ مرحلہ وار استعفوں کی منظوری کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دے۔

  • اغواء برائے تاوان میں ملوث پولیس اہلکار گرفتار کرلیا گیا

    اغواء برائے تاوان میں ملوث پولیس اہلکار گرفتار کرلیا گیا

    اغواء برائے تاوان میں ملوث پولیس اہلکار گرفتار جبکہ پولیس کے مطابق ملزم نے شہری سے تلاشی کے بہانے 3لاکھ چھینے اور اغواء کرلیا ہے.

    اغوا برائے تاوان کی واردات میں ملوث پیرودھائی تھانہ میں تعینات کانسٹیبل گرفتار کرلیا گیا۔ راولپنڈی میں اغوا برائے تاوان کی واردات میں ملوث پولیس اہلکار کو گرفتار کرلیا گیا ہے، ملزم نے پشاور کے رہائشی سے لاکھوں روپے چھینے اور اغوا بھی کرلیا۔ پولیس حکام کے مطابق ملزم پیرودھائی تھانہ میں تعینات ہے، اور وقوعہ سے 20 روز قبل ہی تبادلہ ہوکر آیا تھا، ملزم کیخلاف شکایت پر کارروائی کی گئی تو انکشاف ہوا کہ ملزم نے پشاور کے ایک شہری سے تلاشی کے بہانے 3 لاکھ چھینے اور اسے اغواء کرلیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں.
    پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری کے شوہر انتقال کرگئے
    سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے طویل المدتی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا.وزیر خارجہ
    دل کے پیدائشی نقائص میں مبتلا بچوں کا اب اسٹیم سیلز سے علاج ممکن
    چیئر مین پی سی بی رمیز راجہ کو عہدے سے ہٹانے کی سمری وزیراعظم کو ارسال
    بھارتی اداکارہ عرفی جاوید کو دبئی پولیس نے حراست میں لے لیا

    حکام نے بتایا کہ ملزم نے مغوی کے اہلخانہ سے فون پر 6 لاکھ تاوان مانگا، اور جب ملزم کی بتائی ہوئی رقم اور متعلقہ جگہ پر ایک شخص رقم لے کر پہنچا تو ملزم نے رقم لے کر آنے والے شخص سے پیسے لئے اور اسے بھی اغوا کرلیا، اور مزید ایک لاکھ منگوائے۔ پولیس کے مطابق ملزم کیخلاف قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جائے گی اور اس قسم کے ملزمان کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی.

  • چیئر مین پی سی بی رمیز راجہ کو عہدے سے ہٹانے کی سمری وزیراعظم نے منظور کرلی

    چیئر مین پی سی بی رمیز راجہ کو عہدے سے ہٹانے کی سمری وزیراعظم نے منظور کرلی

    چیئر مین پی سی بی رمیز راجہ کو عہدے سے ہٹانے کی سمری وزیراعظم نے منظور کرلی.

    وزیراعظم شہباز شریف نے نجم سیٹھی کو چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ بنانے کی منظوری دیدی۔ ذرائع کے مطابق نجم سیٹھی کی بطور چیئرمین پی سی بی تعیناتی کا باضابطہ نوٹیفکیشن کچھ دیرمیں جاری کر دیاجائے گا۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ 4 نوٹیفکیشن جاری کیے جائیں گے، 2019 کا کرکٹ بورڈ آئین ختم کر دیا جائے گا، 2019 میں وزیراعظم کے دو نامزد کردہ ناموں کو بھی ختم کردیا جائے گا، تیسرے نوٹیفکیشن میں 2014 کا آئین بحال کر دیا جائے گا اور چوتھے نوٹیفکیشن میں موجودہ بورڈ کو چلانے کے لیے ایک سیٹ اپ کا اعلان کیا جائےگا۔

    نجم سیٹھی رمیز راجا کی جگہ چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ جبکہ خیال رہے کہ چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ کو عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی گئی تھی۔ رمیز راجہ کو پی سی بی کی چیئرمین شپ سے ہٹانے کی سمری وزیراعظم کو ارسال کر دی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق وزارت بین الصوبائی رابطہ نے سمری گزشتہ رات وزیراعظم آفس بھجوا دی تھی۔ سمری میں پی سی بی گورننگ بورڈ ممبرز کے لیے دو نئے نام تجویز کیے گئے ہیں۔نجم سیٹھی اور شکیل شیخ کے نام سمری میں تجویز کئے گئے تھے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ رمیز راجہ اور اسد علی خان کی جگہ نئے نام شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔سمری کی باضابطہ منظوری وفاقی کابینہ سے لی جائے گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں.
    پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری کے شوہر انتقال کرگئے
    سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے طویل المدتی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا.وزیر خارجہ
    دل کے پیدائشی نقائص میں مبتلا بچوں کا اب اسٹیم سیلز سے علاج ممکن
    خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیر اعظم شہباز شریف سے سابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نجم سیٹھی نے ملاقات کی تھی، جس کے بعد انہیں دوبارہ چیئرمین پی سی بی بنانے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق نجم سیٹھی لاہور میں ظہرانے پر وزیر اعظم شہباز شریف سے ملے تھے، جس میں صدر مسلم لیگ ن نے انہیں دوبارہ چیئرمین پی سی بنانے کا اشارہ دے دیا تھا، وزیر اعظم نے پی سی بی کا 2014 کا آئین بحال کرنے کا بھی عندیہ دے دیا۔

    2014 کے آئین کی بحالی کے بعد ڈیپارٹمنٹ کرکٹ کی بحالی بھی ممکن ہو سکے گی، ذرائع کا کہنا تھا کہ آئی پی سی کی جانب سے کسی بھی وقت چیئرمین پی سی بی کو تبدیل کرنے کی سمری بھجوائی جا سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق چیٸرمین پی سی بی رمیز راجا کا کرکٹ بورڈ سے اقتدار ختم ہونے کے قریب ہے، گورننگ بورڈ ممبرز کیلٸے نجم سیٹھی اور شکیل شیخ کے نام سمری میں تجویز کیے گٸے ہیں۔

     

  • گزشتہ 10 سال کے دوران گوادر میں اقتصادی زون فعال ہوچکا..وانگ شنگ چی

    گزشتہ 10 سال کے دوران گوادر میں اقتصادی زون فعال ہوچکا..وانگ شنگ چی

    توانائی کے مسائل سے نمٹنے کیلئے پاکستان کی بھرپور معاونت کی گئی ہے.وانگ شنگ چی

    چینی سفارتخانے میں سیاسی و پریس سیکشن کے ڈائریکٹر وانگ شنگ چی نے کہا کہ گزشتہ 10 سال کے دوران گوادر میں اقتصادی زون فعال ہوچکا ہے اور پہلے مرحلے میں 40 کمپنیز گوادر میں مصروف عمل ہیں۔ تفصیلات کے مطا بق چائنہ میڈیا گروپ کے پلیٹ فارم ایف ’ایم -98 ‘اور پاکستان میں قائم چینی سفارتخانے کے اشتراک سے “چین کے حوالے سے ایک نیا نقطہ نظر”کے موضوع پر سیمینار کا انعقاد کیاگیا۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ گوادر میں جدید بین الاقوامی ہوائی اڈہ، ہسپتال اور میٹرو سینٹر بھی تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں، جبکہ سی پیک کے تحت گوادر کو ایکسپریس وے کے ذریعے قومی شاہراہ سے بھی منسلک کیا جاچکا ہے۔

    وانگ شنگ چی نے کہا کہ چین کی جانب سے توانائی کے مسائل سے نمٹنے کیلئے بھی پاکستان کی بھرپور معاونت کی گئی ہے، جس کی مثال پاکستان میں چین کی جانب سے تعمیر کئے گئے بجلی پیدا کرنے والے 11 منصوبے ہیں جو پاکستان میں بجلی کی مجموعی پیداوار کا ایک چوتھائی حصہ فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین میں حالیہ منعقدہ قومی کانگریس میں اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ چین عدم مداخلت کی پالیسی پر عمل پیرا رہے گا ، تقسیم کے بجائے اتحاد اور مسابقت کے بجائے تعاون پر یقین رکھے گا۔

    وانگ شنگ چی نے مزید کہا کہ چین جنگل کے قوانین کی مخالفت کرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ چین عالمی سطح پر ہم نصیب معاشریکی تشکیل میں مصروف عمل ہے،چین نے بی آر آئی کے علاوہ حال ہی میں عالمی ترقیاتی اقدام اور عالمی سلامتی کے اقدام متعارف کروائے ہیں جن کا مقصد عالمی سطح پر یکساں ترقی کو فروغ دینا ہے۔ چینی سفارتکار نے کہا کہ جی ڈی آئی کے تحت پاکستان کے مختلف شعبوں میں استعداد کار بڑھانے کیلئے ایک ہزار پروگرامز کا آغاز کیا گیا ہے، جن کی تعداد میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سی پیک کے تحت ترقی کی رفتار حوصلہ افزا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ چین آئی ٹی کے شعبے میں بھی پاکستان کو معاونت فراہم کر رہا ہے، جس کے تحت سائبرسیکیورٹی کو خصوصی اہمیت دی جارہی ہے۔ وانگ شنگ چی نے کہا کہ چینی سفارتخانے کی جانب سے حال ہی میں گوادر کے طلبا اور بلوچستان کی اساتذہ کو اسلام آباد مدعو کیاگیا، جہاں ان کے سی پیک سے متعلق تحفظات دور کرنے کی کوشش کی گئی۔ سیمینار سے پا کستان کے سابق سفیر علی سرور نقوی، ایئر وائس مارشل ریٹائرڈ اعجازمحمود ملک ،بین الاقوامی تعلقات کی ماہر ریما شوکت،اقتصادی امور کی ماہر ڈاکٹر نور فاطمہ اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر برائے سینٹر آف ساتھ ایشیا اینڈ انٹر نیشنل سٹڈیز ڈاکٹر محمود الحسن نے بھی پا ک چین تعاون، سی پیک اور چین کی تعمیر و تر قی کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی۔

  • توشہ خانہ ریفرنس؛ نوازشریف ، یوسف رضا گیلانی اور  زرداری کو بڑا ریلیف مل گیا

    توشہ خانہ ریفرنس؛ نوازشریف ، یوسف رضا گیلانی اور زرداری کو بڑا ریلیف مل گیا

    توشہ خانہ ریفرنس میں نوازشریف ، یوسف رضا گیلانی اور آصف زرداری کو بڑا ریلیف مل گیا

    احتساب عدالت نے توشہ خانہ ریفرنس نیب کو واپس کر دیا . توشہ خانہ ریفرنس میں سابق وزرائے اعظم نوازشریف اور یوسف رضا گیلانی جب کہ سابق صدر آصف زرداری کو بڑا ریلیف مل گیا۔ نیب ترمیمی آرڈیننس کے بعد سابق وزیراعظم نوازشریف، سابق صدر آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی کو بڑا ریلیف مل گیا ہے، کیوں کہ احتساب عدالت نے ان تینوں کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس نیب کو واپس کر دیا ہے۔

    احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے احکامات جاری کیے، اورعدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ نیب ترمیمی آرڈیننس کے تحت پچاس کروڑ سے کم کرپشن الزام پر کیس نہیں بنتا، جب کہ توشہ خانہ سے گاڑیاں لینے پر جعلی اکاؤنٹس سے 11 کروڑ کی ادائیگیوں کا ریفرنس دائر ہوا تھا۔

    خیال رہے کہ نواز شریف، آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی پر الزام ہے کہ وہ مختلف ممالک کے سربراہان کی جانب سے تحفے میں ملنے والی گاڑیاں معمولی رقم ادا کرنے کے بعد توشہ خانہ سے اپنے ہمراہ لے گئے تھے.
    مارچ 2020 میں پاکستان کے قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق صدر آصف علی زرداری سمیت دو وزرائے اعظم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی کے خلاف اسلام آباد کی ایک احتساب عدالت میں ’توشہ خانے‘ سے بیرون ملک سے تحائف کی صورت ملنے والی قیمتی کاریں خریدنے کا نیا ریفرنس دائر کیا تھا.
    مزید یہ بھی پڑھیں.
    پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری کے شوہر انتقال کرگئے
    سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے طویل المدتی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا.وزیر خارجہ
    دل کے پیدائشی نقائص میں مبتلا بچوں کا اب اسٹیم سیلز سے علاج ممکن

    نیب کے مطابق ان عوامی عہدیداروں نے خلاف ضابطہ توشہ خانے سے قیمتی گاڑیاں خریدی ہیں۔ توشہ خانے میں صدور اور وزرائے اعظم کو بیرون ملک سے ملنے والے تحائف کو رکھا جاتا ہے اور کوئی بھی اسے گھر نہیں لے جا سکتا۔ نیب کے ریفرنس میں سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی پر سنہ 2004 میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں بنائی جانے والی پالیسی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا تھا.

  • مستقبل میں سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بہتر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے.  چیئرمین این ڈی ایم اے

    مستقبل میں سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بہتر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے. چیئرمین این ڈی ایم اے

    مستقبل میں سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بہتر منصوبہ بندی اور ہم آہنگی کی ضرورت ہے.
    چیئرمین این ڈی ایم اے

    چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے کہا ہے کہ مستقبل میں سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بہتر منصوبہ بندی اور ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے این ڈی ایم اے کے زیر اہتمام پوسٹ مون سون سیزن 2022 سے متعلق جائزہ کانفرنس سے خطاب میں کیا ۔کانفرنس میں مختلف وفاقی و صوبائی محکموں نے حالیہ سیلاب کے دوران ریسکیو ، ریلیف اور بحالی کی سرگرمیوں کے دوران درپیش مسائل و چیلنجز اور ان کے ممکنہ حل سے متلعق اپنی تجاویز و سفارشات سے فورم کو آگاہ کیا۔

    حالیہ مون سون بارشوں کے اثرات اور جائزہ سے متلعق نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر میں منعقدہ قومی کانفرنس کی صدارت چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے کی۔ قومی فلڈ کمیشن ، محکمہ موسمیات ، سپارکو، پاکستان ریلویز ، نیشنل ہائی وے اتھارٹی،صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز ، ریسکیو 1122 اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے کانفرنس میں شرکت کی۔

    کانفرنس میں حالیہ سیلاب کے دوران ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں کے دوران پیش آنے والے چیلنجز، مسائل اور ان کے ممکنہ حل کا جائزہ لیا گیا۔متعلقہ وفاقی اداروں اور چاروں صوبوں، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز اور ریسکیو 1122 نے سیلاب نے حالیہ سیلاب کی وجوہات اور مستقبل میں اس صورتحال سے بچنے کے لیے تجاویز اور سفارشات پیش کیں۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں چیئرمین این ڈی ایم لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے کہا کہ سیلاب کی تباہ کاریوں پر قابو پانے اور ملک و قوم کو مزید جانی و مالی نقصانات سے بچانے پر تمام سول و عسکری ادارے تحسین کے مستحق ہیں ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں.
    پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری کے شوہر انتقال کرگئے
    سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے طویل المدتی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا.وزیر خارجہ
    دل کے پیدائشی نقائص میں مبتلا بچوں کا اب اسٹیم سیلز سے علاج ممکن
    انھوں نے کہا کہ یہ امر باعث اطمینان ہے کہ ملک کے تمام ادارے کسی بھی قدرتی آفت میں ہنگامی ردعمل کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں تاہم ہمیں مستقبل میں ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بہتر منصوبہ بندی اور ہم آہنگی کی بھی ضرورت ہے۔

  • ریاست کسی بھی دہشتگرد گروہ یا تنظیم کے سامنے نہیں جھکے گی.وزیراعظم

    ریاست کسی بھی دہشتگرد گروہ یا تنظیم کے سامنے نہیں جھکے گی.وزیراعظم

    دہشت گردی کا مسئلہ قومی سلامتی کا حساس معاملہ ہے، اجتماعی سوچ اورلا ئحہ عمل کی ضرورت ہے ۔وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے بنوں اور دیگر علاقوں میں دہشت گردوں کی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے ذریعے پاکستان میں افراتفری پھیلانے کی مذموم کوشش سختی سے کچل دیں گے، دہشت گردی کا مسئلہ قومی سلامتی کا حساس معاملہ ہے، اجتماعی سوچ اورلا ئحہ عمل کی ضرورت ہے ۔

    بدھ کووزیراعظم آفس کے میڈیاو نگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ ریاست کسی بھی دہشتگرد گروہ یا تنظیم کے سامنے نہیں جھکے گی، دہشتگردوں کے ساتھ آئین اورقانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔ وفاقی حکومت دہشت گردوں کی بیرونی سہولت کاری اور پناہ گاہوں کا سدباب بھی کرے گی ۔ پوری قوم اپنی دلیر افواج کے شانہ بہ شانہ دہشت گردی کا خاتمہ کرکے رہے گی ۔ وزیر اعظم نےدہشت گردی کے خلاف برسرپیکار فورسز کے جذبے اور عزم کو خراج تحسین پیش کیا۔ وزیراعظم نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا اور علاج معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ شہدا کی قربانیاں ضائع نہیں ہونے دیں گے، ردا لفساداور ضرب عضب دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ا ہم اقدامات تھے ۔

    مسلح افواج، پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسروں اور جوانوں کی عظیم قربانیاں ناقابل فراموش ہیں ۔ امن و امان کی بنیادی ذمہ داری صوبوں کی ہے لیکن وفاق ان سنگین مسائل پر آنکھیں بند نہیں کر سکتا۔ وزیراعظم نے کہاکہ دہشت گردی کے مقابلے کے لئےصوبوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد کرائیں گے ۔ صوبائی حکومت کی صلاحیت اور استعداد کار میں اضافہ دہشت گردی کے خاتمے میں اہم ہے ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں.
    پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری کے شوہر انتقال کرگئے
    سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے طویل المدتی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا.وزیر خارجہ
    دل کے پیدائشی نقائص میں مبتلا بچوں کا اب اسٹیم سیلز سے علاج ممکن
    وزیراعظم نے کہا کہ وفاق صوبوں میں انسداد دہشت گردی فورس اور ڈیپارٹمنٹ کی پیشہ ورانہ صلاحیت بہتر بنانے میں معاونت کرے گا ۔ خیبرپختونخوا کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی ازسرنو تشکیل پر کام کریں گے ۔ اپنی فورسز کی تمام ضروریات پوری کریں گے، جدید اسلحہ کی فراہمی اور پیشہ ورانہ تربیت پر توجہ دی جائے گی ۔

  • سیلاب؛ضروریات کے مقابلے میں 8.2 ارب ڈالر کے فرق کی نشاندہی

    سیلاب؛ضروریات کے مقابلے میں 8.2 ارب ڈالر کے فرق کی نشاندہی

     پاکستان نے سیلاب سے بحالی اور تعمیر نو کی کل 16.3 ارب ڈالر کی ضروریات کے مقابلے میں 8.2 ارب ڈالر کے فرق کی نشاندہی کی ہے۔

    پاکستان نے اندازہ لگایا ہے کہ وفاقی اور صوبائی بجٹ کے ذریعے بحالی اور تعمیر نو کے لیے فنڈز دینے کی اسکی صلاحیت 30 فیصد یا 4.9 ارب ڈالر تک محدود تھی۔ اس نے کمیونٹی سپورٹ تنظیموں سے مزید 5% یا $814 ملین اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈلز کے ذریعے 15% یا $2.5 ارب حاصل کرنے کا تخمینہ لگایا ہے۔

    تاہم بقیہ 8.2 ارب ڈالر یا 50% بیرونی ممالک اور کثیر جہتی قرض دہندگان سے وصولی کی مالیاتی حکمت عملی کے مطابق آنا ہے۔ 16.3 ارب ڈالر کی مجموعی بحالی کی ترجیحی لاگت میں سے، ایک سال تک کی فوری ضروریات کا تخمینہ 6.8 ارب ڈالر لگایا گیا۔ فوری ضروریات کل تخمینہ شدہ ضروریات کے 41% کے برابر ہیں۔

    آئی ایم ایف ریکوری لاگت کے فریم ورک کا انتظار کر رہا ہے جس کا مقصد تخمینہ لاگت کے اثرات کا اندازہ لگانا ہے، خاص طور پر قلیل مدتی، 6.5 ارب ڈالر کے پروگرام کی بقیہ مدت پر جو اگلے سال جون میں ختم ہو رہا ہے۔ تین سالوں پر محیط درمیانی مدت کے لیے مزید $6.2 ارب کی ضرورت ہوگی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں.
    پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری کے شوہر انتقال کرگئے
    سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے طویل المدتی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا.وزیر خارجہ
    دل کے پیدائشی نقائص میں مبتلا بچوں کا اب اسٹیم سیلز سے علاج ممکن
    ادھروزارت منصوبہ بندی نے زور دیا ہے مالیاتی مشکلات کے پیش نظر، عالمی اقتصادی صورتحال کے ساتھ، 4RF کیلئے مالیاتی لفافہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں، دو طرفہ اور کثیر جہتی شراکت داروں اور عالمی برادری کے درمیان مشترکہ ذمہ داری ہونا چاہیے۔ عوامی وسائل کا موثر استعمال اور مالیاتی جگہ بڑھانے کیلئے پالیسی اقدامات کے ساتھ مل جائے گا۔ نجی شعبے کی مالی اعانت کو متحرک کرنا اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ فریم ورک کی بہتری اہم ہوگی۔