Baaghi TV

Author: +9251

  • فرخ حبیب گرفتار کرلیئے گئے

    فرخ حبیب گرفتار کرلیئے گئے

    تحریک انصاف کے رہنماء فرخ حبیب کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ تحریک انصاف کے رہنماؤں نے اسے اغوا کا نام دیا ہے تاہم ذرائع کے مطابق انہیں قانون نافذ کرنے والے اداوں نے گرفتار کیا ہے اور تحریک انصاف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ صدر پاکستان تحریک انصاف ویسٹ پنجاب فرخ حبیب کو بھی اغوا کر لیا گیا ہے۔ ان کا جرم صرف یہ ہے کہ انہوں نے چیئرمین عمران خان کی حمایت ترک کرنے سے انکار کر دیا۔ وہ اس فسطائیت کے خلاف ڈٹ کے کھڑے ہیں۔ سپریم کورٹ، اعلیٰ عدالتیں اس لاقانونیت کو روکنے میں اپنا کردار ادا کریں۔


    تاہم واضح رہے کہ اس سے قبل اینٹی کرپشن نے پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب کو اینٹی کرپشن فیصل آباد ریجن نے گزشتہ 20 مارچ کو صبح 10 بجے طلب کیا تھا لیکن بار بار بلانے پر بھی
    وہ تفتیشی افسر کے سامنے پیش نہیں ہوئے تھے۔

    جبکہ یہ بھی یاد رہے کہ واضح رہے کہ لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پی ٹی آئی رہنما کی ضمانت کی درخواستیں خارج کردیں تھئ
    انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج اعجاز احمد بٹر نے تحریک انصاف کی ریلی کے دوران پولیس پر تشدد، اقدام قتل، جلاؤ گھیراؤ اور کار سرکار میں مداخلت سے متعلق کیس میں پی ٹی آئی رہنماء کی ضمانت کی درخواستیں خارج کیں تھی

  • نوازشریف کی واپسی کی یہ حتمی تاریخ ہے، رہنما مسلم لیگ ن

    نوازشریف کی واپسی کی یہ حتمی تاریخ ہے، رہنما مسلم لیگ ن

    مسلم لیگ (نواز) کے رہنما خواجہ اصف نے کہا ہے کہ نوازشریف 21 اکتوبر کو واپس آجائیں گے، نوازشریف کی واپسی کی یہ حتمی تاریخ ہے، نوازشریف کی واپسی میں اسٹیبلشمنٹ کی کوئی ہدایت یا دخل اندازی نہیں جبکہ سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ شہباز شریف سے متعلق خبریں گردش کرتی رہیں، بعض چیزوں کی ٹیلی فون پر مشاورت نہیں ہوسکتی، کچھ باتیں بالمشافہ کی جاتی ہیں۔

    تاہم خواجہ آصف نے مزید کہا کہ شہباز شریف نے نواز شریف سے الیکشن پر مشاورت کی، نواز شریف 21 اکتوبر کو واپس آجائیں گے، نوازشریف کی واپسی پر قیاس رائیاں چل رہی ہیں علاوہ ازیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ نوازشریف کی واپسی کی یہ حتمی تاریخ ہے، نوازشریف کی واپسی کی تیاری بھرپور انداز میں کررہے ہیں، اس میں اسٹیبلشمنٹ کی کوئی ہدایت یا دخل اندازی نہیں۔

    واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنما کا مزید کہنا تھا کہ نوازشریف کی واپسی پر گرفتاری پر کوئی بات نہیں کرسکتا، ن لیگ میں تقسیم کا کوئی علم نہیں۔

  • پی ٹی آئی وکیل نے  ٹاک شو کے دوران لیگی رہنماءکو تھپڑ مار دیا

    پی ٹی آئی وکیل نے ٹاک شو کے دوران لیگی رہنماءکو تھپڑ مار دیا

    سینئر صحافی حامد میر اپنے ایکس پوسٹ ،ہں دعویٰ کیا ہے کہ شیر افضل مروت نے سینیٹر افنان اللہ پر حملہ کردیا ہے جبکہ انکی طرف سے ایک ٹاک شو کی ریکارڈنگ کے دوران سینیٹر افنان
    اللہ پر حملہ انتہائی قابل مذمت ہے سیاسی اختلاف رائے کو ذاتی دشمنی نہیں بنانا چاہئیے


    جب سوشل میڈٰا پر اس حملے کی شدید قسم کی مزمت کی جارہی ہے اور کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ شیر افضل کو پی ٹی آئی کی طرف سے کوئی عہدہ نہیں دیا جبکہ دوسرے وکیل کو دیا گیا تو وہ ویسے غصے میں اس دوران رہنماء ن لیگ نے انہیں کچھ کہا تو انہوں نے تھپڑ مار دہا۔

    جبکہ مسلم لیگ ن کی سینئر قیادت کی طرف سے بھی اس کی سخت مزمت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف والوں کا کام ہی تشدد کرنا یا دوسروں کیخلاف عوام کو اکسانا ا س جماعت کا وطیرہ بن چکا ہے اور یہی ان ی سیاست ہے

  • شیر افضل مروت نے پی ٹی آئی وکیل شعیب شاہین کو غدار قرار دے دیا

    شیر افضل مروت نے پی ٹی آئی وکیل شعیب شاہین کو غدار قرار دے دیا

    ایڈووکیٹ شیرافضل مروت نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں شعیب شاہین ایڈووکیٹ کے خلاف سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے ان کے بارے میں کہا کہ شعیب شاہین پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم میں واحد غدار ہے، میں نے پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم کے غداروں کے بارے میں پہلے ٹویٹ کیا تھا، جسے میں نے کور کمیٹی کے سینئرز کے مشورے کے بعد ڈیلیٹ کردیا تھا

    انہوں نے کہا کہ میں واضح الفاظ میں اعلان کر رہا ہوں کہ پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم میں واحد غدار شعیب شاہین ایڈووکیٹ ہے، وہ اپریل 2023 کے آخری ہفتے میں پراسرار طور پر ابھرا اور میں اسے بنی گالہ میں قانونی کمیٹی کے اجلاس میں دیکھ کر حیران رہ گیا، اس سے پہلے وہ کبھی بھی انصاف لائرز فورم یا پی ٹی آئی کا حصہ نہیں رہے تھے اور بنی گالہ تک ان کی رسائی اس بات کی عکاسی کرتی تھی کہ انہیں ہماری صفوں میں کچھ لوگوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔
    شیرافضل مروت نے اپنے ٹویٹ میں مزید کہا کہ شعیب شاہین سروس ٹربیونل سے متعلق مقدمات نمٹاتے ہیں اور انہیں فوجداری قانون کی اے بی سی نہیں آتی، خان صاحب کے خلاف درج ایک بھی فوجداری مقدمے میں وکیل نہ ہونے کے باوجود، اس نے خان کا وکیل ظاہر کرنا شروع کر دیا جو کہ ایک فراڈ تھا، ہماری پارٹی کی طاقتور خفیہ قوتوں نے ان کی حمایت کی، جب پی ٹی آئی کی تمام قیادت الیکٹرانک میڈیا پر بلیک لسٹ ہو چکی تھی تو وہ واحد شخص تھا جسے نہ روکا گیا اور نہ ہی بلیک لسٹ کیا گیا۔
    پی ٹی آئی لیگل ٹیم ممبر کا کہنا تھا کہ ملازمت اور خدمات کے معاملے کے وکیل ہونے کی وجہ سے وہ عمران خان کی قانونی ٹیم میں غیر متعلق تھے لیکن پی ٹی آئی میں دو افراد کی پشت پر ہونے کی وجہ سے وہ قانونی ٹیم کی تقریباً ہر میٹنگ میں پہنچ جاتے تھے۔ جلد ہی میں نے محسوس کیا کہ ہماری قانونی حکمت عملی ریاست کے وکلاء کے علم میں پہلے سے موجود تھی۔ بعض اوقات اس نے ہماری معلومات محکمہ زراعت کو لیک کر دی اور ایک موقع پر اس نے میری جان بھی خطرے میں ڈال دی۔ اس نے مجھے اپنی شناخت ظاہر کرنے پر مجبور کیا لیکن پی ٹی آئی کے دو ذمہ دار عہدیداروں کی مداخلت پر میں نے وقتی طور پر یہ خیال ترک کر دیا۔
    ایڈووکیٹ شیرافضل مروت نے کہا کہ سال 2023 سے پہلے وہ ہمیشہ ایجنسیوں میں اپنے تعلقات پر فخر کرتا تھا اور یہ اسلام آباد کے بار میں عام معلومات کی بات ہے، شعیب شاہین کو معلوم تھا کہ میں ان کے پیچھے ہوں اور اس نے کچھ اور غداروں کے ساتھ مل کر میرے خلاف سازشیں شروع کر دیںم میں چیلنج کرتا ہوں کہ اس نے ایک بھی فوجداری مقدمے میں خان صاحب کی نمائندگی نہیں کی اور پھر بھی وہ بے شرمی سے خان کے وکیل ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، اس شخص نے ہماری قانونی جنگ میں ہمیں بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے، میں جانتا ہوں کہ یہ ٹوئٹ اس کے سہولت کاروں اور ساتھیوں کو تحریک انصاف میں میری پوزیشن کو کمزور کرنے کی ترغیب دے گا اور اپنے خفیہ دوستوں کے ذریعے مجھے نشانہ بنا سکتا ہے لیکن میں یہ مقدس فریضہ سمجھتا ہوں کہ پی ٹی آئی کے تمام کارکنوں کو اس گھٹیا چہرے سے آگاہ کروں۔
    ان کا مزید کہنا تھا کہ میں کل خان صاحب سے ملاقات کروں گا اور انہیں اپنے اس ٹویٹ کے بارے میں آگاہ کروں گا۔ میرے الفاظ پر نشان لگائیں یہ ٹویٹ بہت سے مجرموں اور ایجنٹوں کو تنگ کرے گا لیکن میں مشکلات اور دھمکیوں سے کھیلنا میرا مشغلہ ہے۔ اس ٹویٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ پی ٹی آئی کے تمام ورکرز تک پہنچ جائے۔
    تاہم اس پر تحریک انصافن نے شیل افضل مروت کے باین پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ ’شیرافضل مروت ایڈوکیٹ کا حالیہ بیان کلیتاً ان کی ذاتی رائے اور تاثرات پر مبنی ہے جس کا پاکستان تحریک انصاف سے کسی طور کوئی تعلق نہیں، پی ٹی آءی کی جانب سے ”ایکس“ پر جای بیان میں کہا گیا کہ ’شعیب شاہین ایڈووکیٹ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی منظور شدہ قانونی ٹیم کے کلیدی رکن، کور کمیٹی کا حصہ اور قانونی و سیاسی امور پر تحریک انصاف کے مؤقف کی ترجمانی کے مجاز ہیں‘۔
    جبکہ بیان میں مزید کہا گیا کہ ’پاکستان تحریک انصاف ابتلاء و آزمائش کے اس دور میں شعیب شاہین ایڈوکیٹ سمیت قانونی ٹیم کے تمام اراکین کی تحریک کیلئے خدمات کو نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتی اور ان کے عزم و استقلال کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے جبکہ شعیب شاہین نے شیر افضل کے الزامات کو ان کی ذاتی رائے قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شیر افضل کی بات پارٹی کا مؤقف نہیں، جو پارٹی میں تفرقہ پیدا کرے وہ پی ٹی آئی سے نہیں ہوسکتا اور شعیب شاہین نے مزید کہا کہ آج صبح شیر افضل سے متعلق پوچھے سوال کا جواب دیا تھا، پارٹی نے پانچ ترجمان نامزد کیے ہیں ان میں سے ایک میں ہوں، میرا مؤقف ہی پی ٹی آئی کا مؤقف ہے۔

  • بجلی 4 روپے 45 پیسے فی یونٹ تک مزید مہنگی

    بجلی 4 روپے 45 پیسے فی یونٹ تک مزید مہنگی

    نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے کے الیکٹرک صارفین کیلئے بجلی پھر مہنگی کردی ہے اور نیپرا نےکراچی کیلئے بجلی 4 روپے 45 پیسے یونٹ تک مہنگی کرنے کی منظوری دے دی، اضافے کی منظوری گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں دی گئی ہے۔

    جبکہ نیپرا نے کراچی کیلئے بجلی مہنگی کرنے کا فیصلہ نوٹیفکیشن کیلئے وفاقی حکومت کو بھجوادیا ہے اور نیپرا کے مطابق کے الیکٹرک صارفین سے اضافی وصولیاں اکتوبر اور نومبر 2023 میں کی جائیں گی، نیپرا کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک کیلئے 1.49 روپے سے 4.45 روپے فی یونٹ بجلی مہنگی کرنےکی منظوری دی گئی ہے۔

    خیال رہے کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے بجلی 5 روپے 40 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی منظوری بھی دی تھی اور نیپرا نے منظوری سال 2022-23 کی چوتھی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں دی تھی تاہم کہا گیا تھا بجلی مہنگی ہونے کا اطلاق لائف لائن کے الیکٹرک صارفین پر نہیں ہو گا لیکن نیپرا کے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ قیمتوں میں اضافے کا اطلاق پورے ملک کے لائف لائن صارفین اور کے الیکٹرک صارفین پر نہیں ہو گا۔

  • مغرب کا ساتھ دے کر پاکستان نے بڑی قیمت ادا کی, انوارالحق کاکڑ

    مغرب کا ساتھ دے کر پاکستان نے بڑی قیمت ادا کی, انوارالحق کاکڑ

    نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ پاکستان بڑی طاقتوں کے مقابلے میں فریقین کا انتخاب کیے بغیر اپنے مفادات پر توجہ دے رہا ہے، جبکہ مغرب چین کو محدود کرنے کی کوششوں میں جنون میں مبتلا ہے، پاکستان چین کو اپنا سدابہار دوست اور اسٹریٹجک شراکت دار سمجھتا ہے۔
    بدھ کو واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے انٹرویو میں نگراں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان یوکرین کے ساتھ روس کی جنگ پر غیرجانبدار ہے اور چین کو اپنے سدابہار دوست اور اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے۔
    انہوں نے کہا کہ یہ سرد جنگ نہیں ہے، یہاں کوئی آئرن کرٹن نہیں ہے، یہ اتنا مبہم نہیں ہے، ہر کوئی دیکھ رہا ہے کہ کیا ہو رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک ایسی راہ پر گامزن ہے جس کا انتخاب مغرب، روس اور چین کے درمیان مسابقت سے بچنے کے لیے کیا گیا ہے۔ جبکہ
    انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان امریکہ اور چین کی بڑھتی ہوئی دشمنی میں کسی بھی کیمپ کا حصہ بننے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
    انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ سوویت یونین کے خلاف اور 9/11 کے بعد دوبارہ مغرب کا ساتھ دے کر پاکستان نے بڑی قیمت ادا کی۔

    نگراں وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ 30 سالوں میں پاکستان کے ساتھ مغرب نے غیر منصفانہ سلوک کیا ہے، ’ہر قوم اپنے لیے… ہمیں اس مقابلے کی فکر کیوں کرنی چاہیے؟ یہ دو عظیم طاقتوں، دو عظیم تہذیبوں اور 150 سے زیادہ ممالک پر مضمرات کے درمیان ہے اور پاکستان ان ممالک میں سے صرف ایک ہے۔
    یوکرین کے بارے میں پاکستان کے غیر جانبدار مؤقف کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ بحران چیلنجز پیدا کر رہا ہے اور ساتھ ہی یہ خطے میں مواقع بھی پیدا کر رہا ہے اور ہم اسے دونوں طریقوں سے دیکھ رہے ہیں۔

    وزیراعظم نے پاکستان کی جانب سے یوکرین میں جنگی سازوسامان منتقل کرنے کے حوالے سے میڈیا رپورٹ میں الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کسی بھی قسم کی فروخت نہیں کی جو براہ راست یوکرین یا حتیٰ کہ کسی تیسرے فریق کے ذریعے بھی کسی قسم کا لین دین ہو۔
    پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی گرفتاری کے حوالے سے وزیراعظم نے مبینہ زیادتیوں کی تردید کی اور پاکستان کے اقدامات کا موازنہ 6 جنوری 2021 کو امریکی کیپیٹل پر حملہ کرنے والوں کی امریکہ میں گرفتاریوں سے کیا۔
    انہوں نے کہا کہ گرفتاریاں غیر قانونی کارروائیوں پر کی جا رہی ہیں، کوئی ایسا شخص جو آتشزنی یا توڑ پھوڑ میں ملوث ہے، یہ اس قسم کا طرز عمل نہیں ہے جسے کسی بھی لبرل جمہوریت کے ذریعہ فروغ دیا جاتا ہے یا اس کی تائید ہوتی ہے، تو پھر پاکستان سے یہ توقع کیوں کی جا رہی ہے کہ ہم اس طرح کے رویے کو معاف کریں؟

  • مالی ڈسپلن پرعمل درآمد کیا جائے گا، وزیر خزانہ

    مالی ڈسپلن پرعمل درآمد کیا جائے گا، وزیر خزانہ

    نگراں وزیر خزانہ شمشاد اختر کا کہنا ہے کہ ہول سیل اور ری ٹیل قیمتوں میں فرق کم کرکے قیمتوں میں استحکام لایا جائے، بجٹ اہداف پورے کرنے کے لیے مالی ڈسپلن پرعمل درآمد کیا جائے گا جبکہ اسلام آباد میں نگراں وزیرخزانہ ڈاکٹر شمشاد اخترکی زیر صدارت ہوا، جس میں صوبائی وزرائے خزانہ، دیگر متعلقہ وزراء اور افسران کی ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔
    جبکہ اجلاس میں ترقیاتی بجٹ کے استعمال پر نظرثانی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کنٹرول کرنے کا جائزہ لیا گیا، اس کے علاوہ تعلیم اور صحت کے شعبے میں سہولیات بہتر بنانے اور سماجی تحفظ کے ذریعے عوام کو ریلیف دینے پر بھی غور کیا گیا۔
    واضح رہے کہ اجلاس میں نگراں وزیر خزانہ شمشاد اختر کا صوبائی حکومتوں پر مہنگائی پر قابو پانے کے لیے کردار ادا کرنے پر زور دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ہول سیل اور ری ٹیل قیمتوں میں فرق کم کرکے قیمتوں میں استحکام لایا جائے، صوبے فوڈ سیکیورٹی یقینی بنانے اور سوشل سروسز بہتر بنائیں، معاشی خوشحالی اور پائیدار ترقی کے لیے وفاق اور صوبوں میں بہتر روابط ضروری ہیں۔
    تاہم انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان سرکاری اخراجات کو معقول بنانے کی گنجائش موجود ہے، صوبے سماجی تحفظ سمیت ترقیاتی منصوبوں پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنائیں، تصحیح شدہ اقدامات سے مالی وسائل کی بچت کے ساتھ صحت و تعلیم کے شعبوں میں بہتری آئے گی۔
    نگراں وزیر خزانہ نے صوبوں کو وفاقی فنڈنگ سے چلنے والے منصوبوں کی ترجیحی فہرست تیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ صوبے پرائمری بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے ریونیو اہداف حاصل کریں، اجلاس میں صوبوں نے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے بھرپور کوششوں کی یقین دہانی کرا دی اور یہ بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے بجٹ اہداف پورے کرنے کے لیے مالی ڈسپلن پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

  • آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا دورہ پشاور

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا دورہ پشاور

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے پشاور کا دورہ کیا اور ‘کے پی کے ویمن سمپوزیم 2023’ کے دورہ کے دوران خیبر پختونخوا کی معزز خواتین سے بات چیت کی ہے۔

    اعلامیہ کے مطابق آرمی چیف نے نگران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد اعظم خان کے ہمراہ صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں بھی شرکت کی۔ ویمن سمپوزیم کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں خواتین نے ملک کی ترقی میں مثبت اور اہم کردار ادا کیا ہے۔

    اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا کہ آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان کی ترقی و خوشحالی میں خواتین کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ آرمی چیف نے کہا کہ کے پی کے کی خواتین کو دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ کی وجہ سے کثیر الجہتی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    تاہم انہوں نے تمام مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے عزم، عزم اور بہادری کا ثبوت دیا ہے۔ آرمی چیف نے خواتین کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ کے پی کے اور نئے ضم شدہ اضلاع کی ترقی و خوشحالی میں حصہ لیں۔ ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے دوران آرمی چیف نے

  • ابتدائی حلقہ بندیوں کی رپورٹ شائع کر دی گئی

    ابتدائی حلقہ بندیوں کی رپورٹ شائع کر دی گئی

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ابتدائی حلقہ بندیوں کی رپورٹ شائع کر دی ہے جبکہ ابتدائی حلقہ بندیوں کی رپورٹ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر ڈال دی گئی ہے۔ اور ایکس پر بھی معلومات شیئر کی گئی ہے۔


    جبکہ الیکشن کمیشن کے مطابق حلقہ بندیوں کے نقشہ جات بھی ویب سائٹ پر موجود ہیں، ابتدائی حلقہ بندیوں کی اشاعت 30 دن یعنی 26 اکتوبر تک رہےگی، ابتدائی حلقہ بندیوں پر اعتراضات متعلقہ حلقےکا ووٹر کرسکتا ہے۔
    تاہم خیال رہے کہ الیکشن کمیشن کا کہنا ہےکہ 28 اکتوبر سے 26 نومبر تک اعتراضات پر فیصلےکیے جائیں گے، اعتراضات جمع کرانے والے کے لیے لازم ہےکہ وہ متعلقہ حلقےکا ووٹر ہو، ضلعےکے نقشے الیکشن کمیشن سے قیمت ادا کرکے لیے جاسکتے ہیں۔
    علاوہ ازیں الیکشن کمیشن کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ک ی آبادی 23 لاکھ 63 ہزار 863 ہے، اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی نشتیں 3 ہیں، اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی ایک نشست کا کوٹہ 7 لاکھ 87 ہزار 954 ہے تاہم پنجاب کی آبادی 12 کروڑ 76 لاکھ 88 ہزار 922 ہے، پنجاب میں قومی اسمبلی کی نشستیں 141 ہیں، پنجاب میں قومی اسمبلی کی ایک نشست کا کوٹہ 9 لاکھ 5 ہزار 595 ہے۔
    پنجاب میں صوبائی اسمبلی کی نشستیں 297 ہیں، صوبائی اسمبلی کی ایک نشست کا کوٹہ 4 لاکھ 29 ہزار 929 ہے۔
    سندھ کی آبادی 5 کروڑ 56 لاکھ 96 ہزار 147 ہے، سندھ میں قومی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد 61 ہے، سندھ میں قومی اسمبلی کی ایک نشست کا کوٹہ 9 لاکھ 13 ہزار 52 ہے۔
    سندھ میں صوبائی اسمبلی کی 130نشستیں ہیں، سندھ میں صوبائی اسمبلی کی ایک نشست کا کوٹہ 4 لاکھ 28 ہزار 432 ہے۔کراچی کی قومی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد 22 ہے،کراچی کے7 اضلاع میں سندھ اسمبلی کی نشستیں47 ہیں۔
    الیکشن کمیشن کی رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا کی آبادی 4کروڑ 8 لاکھ 56 ہزار 97 ہے، خیبرپختونخوا کی قومی اسمبلی کی نشستیں 45 ہیں، یہاں قومی اسمبلی کی ایک نشست کا کوٹہ 9 لاکھ7 ہزار 913 ہے، صوبے میں صوبائی اسمبلی کی 115نشستیں ہیں، صوبائی اسمبلی کی ایک نشست کا کوٹہ 3 لاکھ55 ہزار 270 ہے۔
    الیکشن کمیشن کے مطابق بلوچستان کی آبادی 1 کروڑ 48 لاکھ 94 ہزار 402 ہے، بلوچستان میں قومی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد16 ہے، یہاں قومی اسمبلی کی ایک نشست کا کوٹہ 9 لاکھ 30 ہزار 900 ہے۔
    بلوچستان میں صوبائی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد 51 ہے، بلوچستان میں صوبائی اسمبلی کی ایک نشست کا کوٹہ 2 لاکھ 92 ہزار 47 ہے۔

  • معروف شاعر ظفر اقبال کا جنم دن

    معروف شاعر ظفر اقبال کا جنم دن

    یہاں کسی کو بھی کچھ حسب آرزو نہ ملا
    کسی کو ہم نہ ملے اور ہم کو تو نہ ملا

    ظفر اقبال

    27 ستمبر 1933: تاریخ پیدائش

    اردو کے ممتاز شاعر ،ادیب و کالم نگار ظفر اقبال 27 ستمبر 1933 میں بہاول نگر کے ایک نواحی گائوں میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم بہاول نگر سے میٹرک اوکاڑہ سے ، سیکنڈ ایئر گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے اور ایل ایل بی لاء کالج اور پنجاب یونیورسٹ سے کیا۔ تعلیم سے فراغت کے بعد انہوں نے اوکاڑہ میں وکالت کی پریکٹس اور صحافت شروع کر دی وہ ایک بار اوکاڑہ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور دو بار اوکاڑہ پریس کلب کے صدر منتخب ہوئے ۔ ظفر اقبال کا پہلا شعری مجموعہ کلام ’’آب رواں‘‘ 1962ء میں شائع ہوا جس کے شائع ہوتے ہی ظفر اقبال اردو کے صف اول کے شعرأ میں شامل ہو گئے ۔ جس کے بعد ان کے دیگر مجموعے گلافتاب، رطب و یابس، عہد زیاں،غبار آلود سمتوں کا سراغ، سر عام ، عیب و ہنر، ہے ہنومان، اطراف اور تفاوت کے نام سے شائع ہوئے۔ ان کی شاعری کی کلیات ’’اب تک‘‘ کے نام سے تین جلدوں میں شائع ہوچکی ہے،ان کے کالموں کا مجموعہ ’’دال دلیہ‘‘ کے نام سے شائع ہواہے۔ ظفر اقبال اردو سائنس بورڈ کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا ہے ۔ معروف کالم نگار و اینکر پرسن آفتاب اقبال ان کے فرزند اور عائشہ نور ان کی پوتی ہیں ۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    خوشی ملی تو یہ عالم تھا بدحواسی کا
    کہ دھیان ہی نہ رہا غم کی بے لباسی کا

    چمک اٹھے ہیں جو دل کے کلس یہاں سے ابھی
    گزر ہوا ہے خیالوں کی دیو داسی کا

    گزر نہ جا یوں ہی رخ پھیر کر سلام تو لے
    ہمیں تو دیر سے دعوی ہے روشناسی کا

    خدا کو مان کہ تجھ لب کے چومنے کے سوا
    کوئی علاج نہیں آج کی اداسی کا

    گرے پڑے ہوئے پتوں میں شہر ڈھونڈتا ہے
    عجیب طور ہے اس جنگلوں کے باسی کا
    ،۔۔۔۔۔۔۔۔۔. . . ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    غزل
    کچھ نہیں سمجھا ہوں اتنا مختصر پیغام تھا
    کیا ہوا تھی جس ہوا کے ہاتھ پر پیغام تھا

    اس کو آنا تھا کہ وہ مجھ کو بلاتا تھا کہیں
    رات بھر بارش تھی اس کا رات بھر پیغام تھا

    لینے والا ہی کوئی باقی نہیں تھا شہر میں
    ورنہ تو اس شام کوئی در بدر پیغام تھا

    منتظر تھی جیسے خود ہی تنکا تنکا آرزو
    خار و خس کے واسطے گویا شرر پیغام تھا

    کیا مسافر تھے کہ تھے رنج سفر سے بے نیاز
    آنے جانے کے لیے اک رہگزر پیغام تھا

    کوئی کاغذ ایک میلے سے لفافے میں تھا بند
    کھول کر دیکھا تو اس میں سر بہ سر پیغام تھا

    ہر قدم پر راستوں کے رنگ تھے بکھرے ہوئے
    چلنے والوں کے لیے اپنا سفر پیغام تھا

    کچھ صفت اس میں پرندوں اور پتوں کی بھی تھی
    کتنی شادابی تھی اور کیسا شجر پیغام تھا

    اور تو لایا نہ تھا پیغام ساتھ اپنے ظفرؔ
    جو بھی تھا اس کا یہی عیب و ہنر پیغام تھا