Baaghi TV

Author: +9251

  • علی ظفر جنسی حراسانی کیس؛ عدالت نے میشاء شفیع کو بذریعہ ویڈیو لنک جرح  کی اجازت دے دی

    علی ظفر جنسی حراسانی کیس؛ عدالت نے میشاء شفیع کو بذریعہ ویڈیو لنک جرح کی اجازت دے دی

    علی ظفر کے خلاف جنسی حراسانی کیس میں عدالت نے میشاء شفیع کو بذریعہ ویڈیو لنک جرح کی اجازت دے دی۔

    گلوکارہ میشا شفیع نے جنسی ہراسانی کیس میں کینیڈا میں مقیم ہونے پر سپریم کورٹ سے بذریعہ وڈیو لنک جرح کی اجازت کی درخواست دائر کی تھی۔ جس پر سپریم کورٹ نے میشا شفیع کی درخواست منظور کر کے گلوکارہ کو کینیڈا سے بذریعہ ویڈیو لنک جرح کی اجازت دیتے ہوئے تحریری حکمنامہ جاری کر دیا۔

    سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ میشا شفیع 2016 سے کینیڈا میں مقیم، دو بچوں کی والدہ ہیں، میشا شفیع کو محض ایک بیان ریکارڈنگ کے لیے پاکستان آنے کی ضرورت نہیں۔ سپریم کورٹ نے حکمنامے میں کہا کہ میشا شفیع جنسی ہراسانی کیس میں ان کا بیان اہمیت کا حامل ہے عدالت میں بیان ریکارڈنگ کے لیے ورچوئل موجودگی بھی کافی ہے یہ بہترین وقت ہے کہ عدالتوں میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال شروع ہو۔

    سپریم کورٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ میشا شفیع کو جرح کے لیے کینیڈا میں پاکستانی ایمبیسی جانے کی بھی ضرورت نہیں پچھلے 8 ماہ سے میشا شفیع سے جرح ہو رہی ہے، بدقسمتی سے جرح میں تاخیری حربوں سے متاثرہ فریق پر دباؤ ڈال کر بیان بدلوانے کی کوشش کی جاتی ہے، جرح کے دوران جج کو خاموش تماشائی بن کر نہیں بیٹھنا چاہئے۔
    سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ جج اگر محسوس کرے کہ جرح کا حق غلط استعمال ہو رہا ہے تو اسے مداخلت کرنی چاہئے۔

    یاد رہے کہ علی ظفر نے میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کا کیس اس وقت دائر کیا تھا جب اپریل 2018 میں گلوکارہ نے ان پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا تھا، جنہیں علی ظفر نے مسترد کردیا تھا۔ خیال رہے کہ اسی کیس میں میشا شفیع کی والدہ اداکارہ صبا حمید نے اکتوبر 2019 میں بیان قلم بند کرواتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا کہ علی ظفر نے نہ صرف ان کی بیٹی بلکہ دیگر خواتین کو بھی جنسی طور پر ہراساں کیا

    میشا شفیع کی جانب سے سنہ 2019 میں علی ظفر کے خلاف لاہور کی سیشن کورٹ میں ہتک عزت کا دو ارب روپے کا دعویٰ دائر کیا گیا تھا جسے فروری 2020 میں مسترد کر دیا گیا تھا۔ میشا شفیع کی قانونی ٹیم کی رکن نگہت داد کے مطابق اس کیس کو سیشن کورٹ نے اس لیے مسترد کیا تھا کیونکہ علی ظفر کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ میرے جانب سے پہلے دائر کردہ کیس اور یہ کیس ایک ہی نوعیت کا ہے۔

    یاد رہے کہ 18 اپریل 2018 کو پاکستان کی مقبول گلوکارہ، اداکارہ اور ماڈل میشا شفیع نے اپنی ایک ٹویٹ میں گلوکار اور اداکار علی ظفر پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا تھا۔ یہ پوسٹ اس وقت کی گئی جب دنیا بھر میں ‘می ٹو’ کی مہم اپنے عروج پر تھی جس کے تحت خواتین خود کو مبینہ طور پر جنسی ہراساں کرنے والے افراد کے خلاف آواز اٹھا رہی تھیں۔ نگہت داد کے مطابق میشا شفیع کی جانب سے علی ظفر پر ہتکِ عزت کا دعویٰ اس لیے کیا گیا ‘کیونکہ جب میشا نے علی کے خلاف ہراساں کیے جانے پر قانونی راستہ اختیار کیا تو انھوں نے مختلف انٹرویو اور اپنے بیانات میں میشا کے خلاف باتیں کیں جس سے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔
    انھوں نے اس بارے میں مزید بتایا کہ ‘دیگر الزامات کے علاوہ علی نے میشا پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ یہ سب اس لیے کر رہی ہیں کیونکہ وہ کینیڈا کی شہریت حاصل کرنا چاہتی ہیں۔
    دونوں گلوکاروں کے درمیان قانونی جنگ سال 2018 سے جاری ہے اور اس کا آغاز میشا شفیع کی جانب سے ایک ٹویٹ میں علی ظفر پر انھیں ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

    میشا شفیع نے اپنی ٹویٹ میں لکھا تھا کہ ‘اس طرح کھل کر بات کرنا آسان نہیں ہے، لیکن خاموش رہنا اور بھی زیادہ مشکل ہے۔ میرا ضمیر مجھے اب مزید اس کی اجازت نہیں دیتا۔ میری ہی صنعت میں میرے ساتھ کام کرنے والے ایک ساتھی نے مجھے ایک سے زیادہ بار جنسی طور پر ہراساں کیا ہے: علی ظفر نے۔ ‘یہ سب تب نہیں ہوا جب میں چھوٹی تھی یا صنعت میں نئی تھی۔ یہ میرے ایک پراعتماد، کامیاب، اور چپ نہ رہنے والی عورت ہونے کے باوجود ہوا۔ یہ میرے ساتھ دو بچوں کی ماں ہونے کے باوجود ہوا۔
    تاہم یہاں یہ سمجھنا بھی اہم ہے کہ اس وقت میشا شفیع اور علی ظفر کے مابین چار کیسز چل رہے ہیں، جس میں سے دو مقدمات علی ظفر نے دائر کیے ہیں اور دو مقدمات میشا شفی نے۔

    اس ضمن میں پہلا مقدمہ علی ظفر کی جانب سے میشا شفیع پر ہتکِ عزت کا دائر کیا گیا۔ علی ظفر نے جون 2018 میں لاہور کی سیشن عدالت میں میشا کے خلاف ہتک عزت آرڈیننس 2002 کے تحت دعویٰ دائر کر تھا۔ اس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ میشا شفیع نے جھوٹے الزامات کے ذریعے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے بعد میشا شفیع نے ہراساں کیے جانے کے حوالے سے علی ظفر کے خلاف صوبائی محتسب کے پاس شکایت درج کروائی تھی، جسے محتسب کی جانب سے مسترد کر دیا گیا تھا۔
    اس کے بعد یہی درخواست گورنر پنجاب کے پاس گئی اور اسے وہاں سے بھی مسترد کر دیا گیا۔

    میشا نے محتسب اور گورنر کی جانب سے اپنی شکایت کو مسترد کرنے کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ میں کام کرنے کی جگہ پر ہراساں کرنے کے خلاف پنجاب پروٹیکشن برائے خواتین ایکٹ2012 کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ میں سماعت کے بعد اکتوبر 2019 میں ان کی اپیل کو وہاں سے اس بنیاد پر خارج کر دیا گیا کہ میشا شفیع اور کمپنی کے مابین معاہدہ خدمات کی فراہمی کے لیے کیا گیا تھا اور اس کی ایک شق کے مطابق فریقین کے درمیان تعلقات کو ملازمت تصور نہیں کیا جائے گااس کے بعد میشا کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں کی گئی ہے اور پچھلے ایک سال سے اس کیس پر کوئی سماعت نہیں ہوئی۔

  • اسلام آباد میں بیوی کو گلا کاٹ کر قتل کرنے والے شوہر کو سزائے موت کا حکم

    اسلام آباد میں بیوی کو گلا کاٹ کر قتل کرنے والے شوہر کو سزائے موت کا حکم

    اسلام آباد میں بیوی کو گلا کاٹ کر قتل کرنے والے شوہر کو سزائے موت کا حکم

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عطا ربانی نے بچوں کے سامنے ماں کو گلا کاٹ کر قتل کرنے والے باپ کو سزائے موت کا حکم سنادیا۔ بچوں کی گواہی نے باپ کو سزائے موت دلوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر رانا حسن عباس نے اسٹیٹ کی جانب سے کیس کی پیروی کی۔ فیصلے کے مطابق پراسیکیوشن کیس کو ثابت کرنے میں کامیاب رہا۔

    مجرم ناصر حسین نے 19 نومبر 2020 کو بیوی کو دو بچوں کے سامنے قتل کیا۔ اٹھارہ سال قبل دونوں کی شادی ہوئی اور سہالہ میں کرائے کے گھر میں رہ رہے تھے۔ ان کی اولاد میں تین بیٹے دو بیٹیاں ہیں۔ مجرم سوزوکی لوڈر جبکہ مقتولہ گھروں میں کام کرتی تھی۔ مجرم نشے کا عادی اور بیوی پر ٹارچر کرتا تھا ۔ مقتولہ نے رشتہ داروں کو کئی بار اس بارے میں بتایا تھا۔ مدعی کے مطابق 19 نومبر 2020 کو صبح 8 بجے رشتے داروں کو کال آئی فرزانہ کو قتل کردیا گیا ، مدعی پولی کلینک پہنچے تو مقتولہ کے دو بیٹے حسنین اور محمد عاقب ہسپتال میں موجود تھے۔
    یہ بھی پڑھیں؛
    فیفا کے وارے نیارے ہوگئے؛ اسپانسر شپ سے ایک بلین ڈالر اضافی کمالیے
    پروین رحمان قتل کیس؛ ملزمان کو دی گئی سزا کالعدم قرار
    انتظار ختم! تاریخ کا مہنگا ترین عالمی فٹبال میلہ قطر میں سج گیا:میزبان ملک قطرپہلے میچ میں ہی ہارگیا
    بیٹوں نے عدالت کو بیان میں بتایا کہ والد نے ان کے سامنے والدہ کو قتل کیا۔ تھانہ سہالہ پولیس اسٹیشن میں ملزم کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ پراسیکوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کا جرم ثابت کرنے کے کافی شواہد موجود ہیں۔ ملزم نے اپنی بیوی کا قتل کرکے پانچ بچے یتیم چھوڑے ہیں۔ پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزم نشے کا عادی تھا خاتون پر ٹارچر کرتا تھا پھر اسے قتل کردیا سزا کا حقدار ہے۔

  • پرویز مشرف پر حملہ کرنے والے مجرم رانا تنویر کو رہا کرنے کا حکم

    پرویز مشرف پر حملہ کرنے والے مجرم رانا تنویر کو رہا کرنے کا حکم

    پرویز مشرف پر حملہ کرنے والے مجرم رانا تنویر کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
    سپریم کورٹ نے پرویز مشرف پر حملہ کرنے والے مجرم رانا تنویر کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ سابق آرمی چیف و صدر پرویز مشرف پر حملہ کرنے والے مجرم رانا تنویر کی سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

    مجرم کے وکیل حشمت حبیب نے عدالت میں مؤقف پیش کیا کہ رانا تنویر کی عمر قید کی سزا پوری ہو چکی ہے، سزا پوری ہونے کے باوجود رانا تنویر کو رہا نہیں کیا جا رہا۔ وکیل حشمت حبیب نے عدالت کو بتایا کہ عمر قید کی مدت 14 سال ہے، لیکن میرے مؤکل کو جیل میں قید تقریبا 20 سال ہو چکے ہیں۔ عدالت نے دونوں جانب کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے اپنی سزا مکمل کرنے والے مجرم رانا تنویر کو رہا کرنے کا حکم دے دیا، جب کہ مجرم کی رہائی کے خلاف وفاق اور پنجاب کی اپیلیں مسترد کردیں۔
    یہ بھی پڑھیں؛
    فیفا کے وارے نیارے ہوگئے؛ اسپانسر شپ سے ایک بلین ڈالر اضافی کمالیے
    پروین رحمان قتل کیس؛ ملزمان کو دی گئی سزا کالعدم قرار
    انتظار ختم! تاریخ کا مہنگا ترین عالمی فٹبال میلہ قطر میں سج گیا:میزبان ملک قطرپہلے میچ میں ہی ہارگیا
    رنا تنویر کو عمر قید کی سزا

    رانا تنویر حسین کو 31 دسمبر 2003 کو پنڈی ٹوٹل حملہ کیس میں گرفتار کیا گیا تھا، اور ملزم کو جرم ثابت ہونے پر 2005 میں سپریم کورٹ نے عمر قید کی سزا سنائی تھی، تاہم جیل حکام کی جانب سے سزا پوری ہونے کے باوجود رانا تنویر کو رہا نہیں کیا جا رہا تھا۔ سپریم کورٹ نے رہائی کا ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے وفاق پنجاب کی اپیلیں خارج کردی۔

  • مسلم لیگ ن نے الیکشن کمیشن کو آئندہ ماہ انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کی یقین دہانی کرادی

    مسلم لیگ ن نے الیکشن کمیشن کو آئندہ ماہ انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کی یقین دہانی کرادی

    مسلم لیگ ن نے الیکشن کمیشن کو آئندہ ماہ انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کی یقین دہانی کرادی۔
    مسلم لیگ ن نے الیکشن کمیشن کو آئندہ ماہ انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کی یقین دہانی کرادی ہے. ممبر نثار درانی کی سربراہی میں 4 رکنی الیکشن کمیشن نے مسلم لیگ ن میں انٹرا پارٹی انتخابات کے معاملے کی سماعت کی، جس میں ن لیگ کے وکیل سے سوال کیا گیا کہ آپ انٹرا پارٹی الیکشن کیوں نہیں کروا رہے؟۔ جواب فائل کریں جس میں انٹرا پارٹی الیکشن میں تاخیر کی وجوہات لکھی ہوں۔

    ن لیگ کے وکیل نے الیکشن کمیشن کو بتایا کہ ہم نے اس ہفتے پارٹی کا انٹرا پارٹی الیکشن کرانا تھا، لیکن وزیر اعظم کو کورونا ہو گیا۔ اب پارٹی کا 30 دسمبر کو یوم تاسیس اور مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس رکھا ہوا ہے۔ وکیل نے یقین دہانی کرائی کہ 30 دسمبر کو لازمی انٹرا پارٹی الیکشن کرا لیں گے۔ الیکشن کمیشن نے وکیل کی جانب سے یقین دہانی کے بعد کیس کی آئندہ سماعت 5 جنوری تک ملتوی کر دی۔ واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے گزشتہ سماعت پر انٹرا پارٹی الیکشن نہ کروانے پر شہباز شریف اور احسن اقبال کو شو کاز نوٹس جاری کیا تھا۔
    یہ بھی پڑھیں؛
    فیفا کے وارے نیارے ہوگئے؛ اسپانسر شپ سے ایک بلین ڈالر اضافی کمالیے
    پروین رحمان قتل کیس؛ ملزمان کو دی گئی سزا کالعدم قرار
    انتظار ختم! تاریخ کا مہنگا ترین عالمی فٹبال میلہ قطر میں سج گیا:میزبان ملک قطرپہلے میچ میں ہی ہارگیا
    خیال رہے کہ اس سے قبل انٹرا پارٹی انتخابات معاملے پر الیکشن کمیشن نے ن لیگ کو جواب کیلئے آخری موقع دیا تھا، الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انٹرا پارٹی الیکشن نہ کروانے کے معاملے پر مسلم لیگ (ن )کے صدر شہباز شریف اور سیکرٹری جنرل احسن اقبال کو نوٹسز جاری کر دئیے تھے، جبکہ سماعت 21 نومبر یعنی آج تک ملتوی کردی گئی تھی۔ ن لیگ کے انٹرا پارٹی الیکشن کے معاملے پر دائر درخواست کی سماعت نثار درانی کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے 4 رکنی بینچ نے کی تھی ۔م سلم لیگ (ن )کی طرف سے کوئی وکیل پیش نہیں ہوا تھا، جبکہ پارٹی آفس کے ملازم الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے تھے جبکہ اب مسلم لیگ ن نے الیکشن کمیشن کو آئندہ ماہ انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کی یقین دہانی کرادی ہے.

  • عمران خان کی ضمانت میں توسیع؛ جبکہ عدالت نے طبی رپورٹ طلب کرلی

    عمران خان کی ضمانت میں توسیع؛ جبکہ عدالت نے طبی رپورٹ طلب کرلی

    انسداد دہشتگردی عدالت؛ عمران خان کی ضمانت میں توسیع جبکہ عدالت نے طبی رپورٹ طلب کرلی

    انسداد دہشت گردی کی عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی ضمانت میں توسیع کرتے ہوئے اُن کی طبی رپورٹ طلب کرلی۔
    تھانہ سنگجانی میں درج احتجاجی مظاہرے اور کار سرکار میں مداخلت کے مقدمے پر کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں ہوئی۔

    عدالت نے عمران خان کی طبی بنیادوں پر آج کی سماعت میں حاضری سے استثنا کی درخواست منظور کرتے ہوئے سابق وزیراعظم کی عبوری ضمانت میں 28 نومبر تک توسیع کردی۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر عمران خان کی مکمل میڈیکل رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔ کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج راجا جواد عباس حسن نے کی، جہاں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے رائے تجمل حسین لاٹی عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ گولیاں لگنے کے باعث عمران خان شدید بیمار ہیں، اس لیے پیش نہیں ہو سکے ۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 28 نومبر تک ملتوی کردی۔
    یہ بھی پڑھیں؛
    فیفا کے وارے نیارے ہوگئے؛ اسپانسر شپ سے ایک بلین ڈالر اضافی کمالیے
    پروین رحمان قتل کیس؛ ملزمان کو دی گئی سزا کالعدم قرار
    انتظار ختم! تاریخ کا مہنگا ترین عالمی فٹبال میلہ قطر میں سج گیا:میزبان ملک قطرپہلے میچ میں ہی ہارگیا

    واضح رہے کہ کہ عمران خان کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت21 اگست کو اسلام آباد میں مقدمہ درج کیا گیا تھا جب کہ عدالت نے 25 اگست کو انہیں ضمانت دیتے ہوئے یکم ستمبر تک گرفتار کرنے سے روکا بھی تھا۔ جبکہ 20 اگست کو سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف اسلام آباد کے علاقے صدر کے مجسٹریٹ علی جاوید کی مدعیت میں تھانہ مارگلہ میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
    ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ 20 اگست کو پاکستان تحریک انصاف رہنما شہباز گِل کی گرفتاری کے خلاف عمران خان کی قیادت میں ریلی نکالی گئی جس کا راستہ زیرو پوائنٹ سے ایف 9 پارک تک تھا، اس دوران عمران خان کی تقریر شروع ہوئی جس میں انہوں نے اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ ترین افسران اور ایک معزز خاتون ایڈیشنل جج صاحبہ کو ڈرانا اور دھمکانا شروع کیا۔

  • بچوں پر ضرورت سے زیادہ سختی ڈپریشن کی وجہ بن سکتی. تحقیق

    بچوں پر ضرورت سے زیادہ سختی ڈپریشن کی وجہ بن سکتی. تحقیق

    نئی تحقیق کے مطابق بچوں پر ضرورت سے زیادہ سختی ڈپریشن کی وجہ بن سکتی ہے

    بچوں کی تربیت آسان کام نہیں اور اب انکشاف ہوا ہے کہ اگر بچوں پرضرورت سے زائد سختی کی جائے تو ان کا ڈی این اے متاثر ہوتا ہے جس سے وہ لڑکپن اور جوانی میں ڈپریشن کے شکار بھی ہوسکتے ہیں۔ اس طرح والدین کی سختی اور ڈانٹ ڈپٹ سے ان میں ایپی جنیٹکس تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں اور حیاتیاتی طور پر ان میں ذہنی تناؤ اور ڈپریشن کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ البتہ اس کے اثرات بلوغت میں ہی نمودار ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ اس کا منفی اثر ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچوں کی تربیت احساسِ تحفظ اور محبت کے ساتھ کی جائے تاکہ ان کی شخصیت متوازن ہوسکے۔

    یہ تحقیق اب جرمنی کی یونیورسٹی آف میونسٹر کی پروفیسر ایولِن وان ایشے نے کی ہے جو تحقیق کے وقت بیلجیئم کی جامعہ لیوون سے وابستہ تھیں۔ اس کی تفصیل یورپی کالج آف نیوروسائیکولوجی فارماکولوجی کی کانفرنس میں پیش کی گئی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ بچوں کو مارنے اور ان پر چیخنے چلانے کا عمل جین پڑھنے کے قدرتی عمل کو متاثر کرسکتا ہے اور یوں بچے کی مجموعی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔ اگرچہ اس مطالعے میں بہت کم افراد شامل ہیں لیکن ان کی شماریاتی اہمیت اپنی جگہ موجود ہیں۔ اس میں 21 نوعمر لڑکے اور لڑکیوں کو لیا گیا جنہیں والدین نے بہترین ماحول میں پروان چڑھایا تھا اور نرمی سے تربیت کی تھی۔ پھر 23 لڑکے لڑکیوں سے ان کا موازنہ کیا گیا جو اسی عمر کے تھے اور بچپن میں والدین کی پٹائی، سختی اور بے رخی جھیل چکے تھے۔ ان کی اوسط عمر 12 سے 16 برس تھی۔
    یہ بھی پڑھیں؛
    فیفا کے وارے نیارے ہوگئے؛ اسپانسر شپ سے ایک بلین ڈالر اضافی کمالیے
    پروین رحمان قتل کیس؛ ملزمان کو دی گئی سزا کالعدم قرار
    انتظار ختم! تاریخ کا مہنگا ترین عالمی فٹبال میلہ قطر میں سج گیا:میزبان ملک قطرپہلے میچ میں ہی ہارگیا
    پھر ماہرین نے شامل تمام افراد کا ڈی این اے پرکھا جس میں ڈی این اے کے ساڑھے چار لاکھ مقامات پر میتھائیلیشن کا جائزہ لیا گیا۔ میتھائلیشن ایک قدرتی عمل ہے جس میں کیمیائی اجزا کے چھوٹے ٹکڑے ڈی این اے سے منسلک ہوجاتے ہیں اور ان کی ہدایات پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اگر یہ عمل بڑھ جائے تو انسان ڈپریشن کا شکار ہوسکتا ہے۔ اب جن بچوں کی تربیت سخت ترین ماحول میں ہوئی تھی ان کے ڈی این اے میں تبدیلی کی شرح بلند تھی اور جائزے کے بعد اس کے آثار ان کی نفسیات میں بھی دیکھے گئے۔

  • طورخم بارڈر،کسٹم نے ایک ہفتہ میں 45 ہزار ڈالرز برآمد کیے

    طورخم بارڈر،کسٹم نے ایک ہفتہ میں 45 ہزار ڈالرز برآمد کیے

    طورخم بارڈر،کسٹم نے ایک ہفتہ میں 45 ہزار ڈالرز برآمد کیے

    کسٹم نے ایک ہفتہ میں طورخم بارڈر سے اسمگل ہونیوالے 45 ہزار ڈالرز برآمد کرلیے۔ طورخم سرحدی گزرگاہ کے ذریعے افغانستان امریکی ڈالرز اسمگلنگ کیخلاف کسٹم عملہ کا کریک ڈاؤن، ایک ہفتہ کے دوران 45 ہزار جبکہ اگست میں 26 ہزار امریکی ڈالرز سمیت دیگر غیرملکی کرنسی برآمد کر لی۔ ملزمان کے خلاف مقدمات درج کرکے تحقیقات شروع کر دیا۔ کلکٹر کسٹم خیبر پختونخوا معین الدین احمد وانی کے مطابق وفاقی وزارت داخلہ کے احکامات کی روشنی میں طورخم سرحدی گزرگاہ پر کسٹم انفورسمنٹ کا اضافی اور تجربہ کار عملہ تعینات کردیا گیا۔

    کسٹم کلکٹر معین الدین احمد وانی نے کہا کہ وزارت داخلہ نوٹیفیکیشن کے مطابق طورخم ایمیگریشن سیکشن اور مسافروں کی آمدورفت اور جامہ تلاشی کی اختیارات کسٹم انفورسمنٹ عملہ کو تفویض کردیا گیا اور افغانستان کوڈالرز کی سمگلنگ کیروک تھام کے لیے عملہ دن رات چوکس کردیا۔
    یہ بھی پڑھیں؛
    فیفا کے وارے نیارے ہوگئے؛ اسپانسر شپ سے ایک بلین ڈالر اضافی کمالیے
    پروین رحمان قتل کیس؛ ملزمان کو دی گئی سزا کالعدم قرار
    انتظار ختم! تاریخ کا مہنگا ترین عالمی فٹبال میلہ قطر میں سج گیا:میزبان ملک قطرپہلے میچ میں ہی ہارگیا
    انھوں نے کہا کہ طورخم سرحدی گزرگاہ پر ملک سے ڈالرز سمیت دیگر غیرملکی کرنسی افغانستان سمگل کرنے کی اطلاعات تھی۔ ڈالرز اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے ایڈیشنل کلکٹر سید ذاکر محمد کی قیادت میں عملہ نے گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران مختلف کاروائیوں میں 45 ہزار امریکی ڈالرز سمیت دیگر غیرملکی کرنسی کو افغانستان اسمگلنگ کو ناکام بنا دیا جبکہ ماہ اگست میں 26 ہزار امریکی ڈالرز کو قبضہ میں لیاگیااور ملزمان کیخلاف مقدمات درج کرکے بڑے پیمانے پر تحقیقات شروع کردیا

  • اے این ایف کی کارروائیاں؛ منشیات کی بھاری مقدار برآمد

    اے این ایف کی کارروائیاں؛ منشیات کی بھاری مقدار برآمد

    کراچی و کوئٹہ میں اے این ایف کی کارروائیاں، منشیات کی بھاری مقدار برآمد

     اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کی کراچی اور کوئٹہ میں کارروائیوں کے دوران بھاری مقدار میں منشیات برآمد کرلی گئی۔ باغی ٹی وی کے مطابق کراچی کے گنجان آباد علاقے اورنگی ٹاؤن کے قریب ایک کارروائی میں ملزم سے 2 کلو 400 گرام چرس برآمد کرلی گئی۔ حکام کے مطابق ملزم کراچی ہی کا رہائشی ہے، جسے گرفتار کرلیا گیا ہے۔

    دوسری جانب کوئٹہ میں ایک بڑی کارروائی کی گئی ہے، جس میں منشیات برآمد کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ اے این ایف حکام کے مطابق صوبائی دارالحکومت کے علاقے کچلاک میں کارروائی کے دوران افغان باشندے سے 94 کلو چرس برآمد ہوئی۔ ملزم قندھار کا رہائشی ہے۔ ترجمان اینٹی نارکوٹکس فورس کے مطابق ملزمان کے خلاف انسداد منشیات ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرکے تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی اے این ایف (اینٹی نارکوٹکس فورس) نے گزشتہ چند روز کے دوران ملک بھر میں منشیات کے خلاف کامیاب کارروائیوں میں کروڑوں روپے مالیت کی منشیات ضبط کرلی تھی. اے این ایف حکام کے مطابق کارروائیاں ملک کے مختلف شہروں میں کی گئیں۔ اے این ایف کو دوران تلاشی اسلام آباد موٹر وے ٹول پلازا کے قریب لوڈر گاڑی سے منشیات برآمد ہوئی۔ منشیات میں 2 کلو 600 گرام ہیروئین، 2 کلو 400 گرام چرس اور 988 گرام آئس شامل تھی جس پر باجوڑ کے رہائشی دو ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا تھا.
    یہ بھی پڑھیں؛
    فیفا کے وارے نیارے ہوگئے؛ اسپانسر شپ سے ایک بلین ڈالر اضافی کمالیے
    پروین رحمان قتل کیس؛ ملزمان کو دی گئی سزا کالعدم قرار
    انتظار ختم! تاریخ کا مہنگا ترین عالمی فٹبال میلہ قطر میں سج گیا:میزبان ملک قطرپہلے میچ میں ہی ہارگیا
    اسی طرح فیصل آباد ائیرپورٹ پر اے این ایف اور اے ایس ایف نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے دبئی جانے والے پشاور کے رہائشی ملزم کے لیپ ٹاپ سے 954 گرام چرس برآمد کی گئی تھی. کراچی انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل پر کویت جانے والے کنٹینر سے 90 کلوسے زائد ہیروئین برآمد ہوئی، تربت کیچ کے علاقے سے 94 کلو گرام چرس اور چمن کے علاقت سے 2881 لیٹر ممنوعہ کیمیکل برآمد ہوا تھا۔ ترجمان اے این ایف کے مطابق ملزمان کے خلاف انسدادِ منشیات ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرکے قانونی کارروائی کی جارہی ہے۔

  • فیس بک کا پروفائل سے مذہبی، سیاسی اور جنسی ترجیحات ہٹانے کا اعلان

    فیس بک کا پروفائل سے مذہبی، سیاسی اور جنسی ترجیحات ہٹانے کا اعلان

    فیس بک کا پروفائل سے مذہبی، سیاسی اور جنسی ترجیحات ہٹانے کا اعلان
    فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی مرکزی کمپنی میٹا نے کہا ہے کہ وہ صارفین کے فیس بک پروفائل سے پسند اور ترجیح کے تین زمرے ختم کر رہا ہے ان میں مذہب، جنسی میلان اور سیاسی پسند یا ناپسند کو ختم کیا جا رہا ہے جس پر یکم دسمبر سے عمل درآمد ہوگا۔ فیس بک نے اس ضمن میں بعض صارفین سے کہا ہے کہ وہ اب تک کئی پروفائل کے شعبوں کو ہٹا چکا ہے اور اس پر کہا گیا ہے دیگر صارفین کو فیس بک کے استعمال میں آسان نیوی گیشن کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ تاہم تجزیہ نگاروں نے کہا ہے کہ اسے ہٹانے یا نہ ہٹانے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔

    سب سے پہلے اس کی خبر سوشل میڈیا ماہر، میٹ نوارا نے دی ہے جس نے ایک صارف کو ملنے والا پیغام دیکھا ہے جس میں فیس بک نے کہا ہے کہ ان کی معلومات حذف کی جارہی ہیں۔ جن میں سیاسی خیالات، مذہبی رحجنی اور جنسی تعین شامل ہیں۔ دوسری جانب میٹا نے اپنے بیان میں بھی کہا ہے کہ ہم پروفائل ترجیحات (فیلڈ) میں مذہبی رحجانات، سیاسی خیالات، جنسی میلان اور پتا (ایڈریس) بھی حذف کر دیے گئے ہیں۔ جن افراد نے فیس بک پر پہلے دیئے گئے ان فیلڈ کو بھرا تھا ہم نے انہیں ہٹادیا ہے۔ تو اگر آپ یہ معلومات لکھیں گے تو جلد ہی انہیں مٹادیا جائے گا۔
    یہ بھی پڑھیں؛
    فیفا کے وارے نیارے ہوگئے؛ اسپانسر شپ سے ایک بلین ڈالر اضافی کمالیے
    پروین رحمان قتل کیس؛ ملزمان کو دی گئی سزا کالعدم قرار
    انتظار ختم! تاریخ کا مہنگا ترین عالمی فٹبال میلہ قطر میں سج گیا:میزبان ملک قطرپہلے میچ میں ہی ہارگیا
    دوسری جانب صارفین کو ہدف بنانے کے لیے خود فیس بک مارکیٹنگ ٹولز کے لیے یہ کوئی اچھی خبر نہیں، اگر کوئی مذہبی کتب فروخت کرنے والا ادارہ اس میں دلچسپی لینے والوں تک رسائی چاہتا ہے تو اب اس کے پاس کوئی انتخابی راہ نہ ہوگی۔ دوسری جانب فیس بک نے پہلے ہی جنوری 2022 سے صارفین ٹارگٹنگ کے آپشنز بھی ہٹانا شروع کئے ہیں جس میں اس کا دائرہ کار خاصہ وسیع ہے اور ان ترجیحات میں صحت، قومیت، علاقائیت، سیاسی وابستگی، جنسی ترجیحات اور دیگر امور شامل ہیں۔

  • پروین رحمان قتل کیس؛ ملزمان کو دی گئی سزا کالعدم قرار

    پروین رحمان قتل کیس؛ ملزمان کو دی گئی سزا کالعدم قرار

     سندھ ہائی کورٹ نے پروین رحمان قتل کیس میں ملزمان کی سزائیں کالعدم قرار دے دیں۔

    اورنگی پائلٹ پراجیکٹ کی سربراہ پروین رحمان کو2013 قتل کیا گیا تھا۔پروین رحمان قتل کیس کے ملزمان کو دسمبر2021 میں سزائیں سنائی گئی تھیں۔ انسداد دہشتگردی کی عدالت نے ملزم رحیم سواتی، امجد حسین، ایاز سواتی اور احمد حسین کو دو بار عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ سندھ ہائیکورٹ نے ملزمان کی سزاؤں کے خلاف اپیل منظورکرتے ہوئے سزاؤں کو کالعدم قراردیتے ہوئے حکم دیا کہ اگر ملزمان دوسرے کیسز میں مطلوب نہیں توانہیں رہا کیا جائے۔

    واضح رہے کہ کراچی کی ایک انسداد دہشتگردی کی عدالت نے سماجی کارکن پروین رحمان کے قتل کے مقدمے میں چار ملزمان کو پچھلے سال دو، دو مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ ان چار ملزمان رحیم سواتی, احمد خان, امجد اور ایاز سواتی پر دو, دو لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا۔ جبکہ پانچویں مجرم عمران سواتی کو قتل میں دیگر مجرموں کی معاونت کرنے پر سات سال قید اور دولاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔

    گذشتہ نو برسوں میں مجسٹریٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک پروین رحمان کے قتل کے مقدمے کی درجنوں سماعتوں کے بعد بالآخر 17 اکتوبر 2021 کو ٹرائل کورٹ نے اس کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا جو 28 اکتوبر 2021 کو سنایا گیا۔ یاد رہے کہ 13 مارچ 2013 کو سماجی کارکن پروین رحمان کو اپنے دفتر جاتے ہوئے ایک موٹر سائیکل پر سوار دو اسلحہ برادر افراد نے فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ یہ واقع کراچی کی مین منگھو پیر روڈ پر پیش آیا تھا۔
    خیال رہے کہ ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے جبکہ 55 برس کی سماجی کارکن کو ان کے ڈرائیور نے شدید زخمی حالت میں عباسی شہید ہسپتال پہنچایا تھا، جہاں وہ علاج کے دوران دم توڑ گئیں۔ انھیں گردن میں گولیاں لگی تھیں۔