Baaghi TV

Author: +9251

  • آٹو میٹک ویدر اسٹیشن سے اگلے 10 روز کی پیشگوئی کی جا سکے گی

    آٹو میٹک ویدر اسٹیشن سے اگلے 10 روز کی پیشگوئی کی جا سکے گی

    آٹو میٹک ویدر اسٹیشن سے اگلے 10 روز کی پیشگوئی کی جا سکے گی.

    موسم کے بارے میں لگ بھگ 10 روز قبل پیش گوئی کرنے کے لیے کراچی سمیت ملک بھر میں 300 آٹومیٹک ویدر اسٹیشن نصب کیے جائیں گے جب کہ اے ڈبلیو ایس کے لیے ورلڈ بینک کی جانب سے رقم مہیا کی جائے گی۔ آٹومیٹک ویدر اسٹیشن کے ذریعے درجہ حرارت، ہوا کی رفتار و سمت، نمی کا تناسب، بادلوں کی بلندی، حد نگاہ سمیت دیگر موسمی صورتحال کا مشاہدہ ممکن ہوگا۔ جناح ٹرمینل سمیت شہر کے 5 مقامات پر آٹومیٹک ویدر اسٹیشنز پہلے سے فعال ہیں۔

    ہائیڈرومیٹ اینڈ کلائمٹ سروسز پراجیکٹ کے لیے ورلڈ بینک کی جانب سے حکومت پاکستان کے ذریعے محکمہ موسمیات کو سافٹ لون دیا جائے گا، جس کے تحت پورے پاکستان میں 300 آٹومیٹک ویدر اسٹیشن نصب کیے جائیں گے۔ چیف میٹرولوجسٹ کراچی سردار سرفراز کے مطابق شہرقائد سمیت سندھ بھر میں 55 آٹومیٹک ویدر اسٹیشنز کی تنصیب ہو گی، صوبے میں اس وقت ویدر اسٹیشنز کی تعداد 17 ہے جبکہ بیشتر اضلاع میں موسمی پیش گوئی کے آلات نصب نہیں ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ 14 نومبر ذیابیطس کا عالمی دن؛ ذیابیطس کی وجوہات، بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
    پی ٹی آئی کو خود کی شروع کی گئی بدتمیزی مہنگی پڑگئی؛ لندن میں ابسولوٹلی چور کے نعرے
    امریکہ کو چین کے ساتھ تنازع میں نہیں گھسیٹا جائے گا. امریکن صدر جوبائیڈن
    بلدیاتی الیکشن میں تاخیر کیس؛ ایم کیو ایم کی فریق بننے کی درخواست مسترد
    اس منصوبے کے تحت ہر تحصیل میں ایک ویدر اسٹیشن لگایا جائے گا، منصوبے کے لیے محکمہ زراعت اور آبپاشی کی زمینیں حاصل کی جائیں گی جبکہ ملک کے باقی صوبوں میں بھی اے ڈبلیو ایس کی تنصیب سرکاری اراضی پر عمل میں لائی جائیگی۔ محکمہ موسمیات نے اس سے قبل اپنے ریڈار بجٹ کے ذریعے 5 آٹومیٹک ویدر اسٹیشنز نصب کیے، جن پر ایک کروڑ 20 لاکھ روپے لاگت آئی تھی۔ ورلڈ بینک سے رقم موصول ہونے کے بعد پیپرا رولز کے تحت اس منصوبے کی تکمیل کے لیے ٹینڈر طلب کیا جائے گا، اس منصوبے اور اس سے منسلک ورلڈ بینک کے تعاون سے مکمل ہونے والے دیگر منصوبوں کی تکمیل میں ڈھائی سے 3 سال کا عرصہ لگے گا۔

  • اس ملک کے لیے ہمارا سب کچھ حاضر ہے۔ شاہین افریدی

    اس ملک کے لیے ہمارا سب کچھ حاضر ہے۔ شاہین افریدی

    قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بالر شاہین شاہ آفریدی نے کہا ہے کہ ملک کے لیے ہمارا سب کچھ حاضر ہے۔

    فائنل میں انگلینڈ کے بعد شاہین آفریدی نے ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ عظیم ٹیم کا ایک چھوٹا سا حصہ ہونے پر فخر ہے، قومی کرکٹ ٹیم کی محنت جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ملک کیلئے ہمارا سب کچھ حاضر ہے۔


    ایک صارف ٹوئیٹی نے لکھا کہ شاہین خان آپ پر ایسے دس فائنل قربان ہیں کیونہ آپ نے اپنی طرف سے بھر پور محنت کی تھی. لہذا آپ اپنا خیال رکھا کریں کیونکہ آپ سے بڑھ کچھ نہیں ہے. ایک صارف نے لکھا کہ ہمیں اپنے ملک کے کھیلاڑیوں سے پیار ہے کوئی بات نہیں اگر اس بار ہار تو کوئی بات نہیں پر ہماری ٹیم فائینل میں تو پہنچی ہے لہذا ہمیں انہیں سرہانا چاہئے اور انکی اس محنت پر دات دینی چاہئے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ 14 نومبر ذیابیطس کا عالمی دن؛ ذیابیطس کی وجوہات، بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
    پی ٹی آئی کو خود کی شروع کی گئی بدتمیزی مہنگی پڑگئی؛ لندن میں ابسولوٹلی چور کے نعرے
    امریکہ کو چین کے ساتھ تنازع میں نہیں گھسیٹا جائے گا. امریکن صدر جوبائیڈن
    بلدیاتی الیکشن میں تاخیر کیس؛ ایم کیو ایم کی فریق بننے کی درخواست مسترد
    واضح رہے گزشتہ روز انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) ٹی 20 ورلڈکپ کے فائنل میں انگلینڈ نے پاکستان کو پانچ وکٹوں سے شکست دے کر ٹورنامنٹ اپنے نام کر لیا۔ میلبرن کے میدان میں کھیلے گئے میچ میں انگلینڈ نے پاکستان کی جانب سے دیا گیا 138 رنز کا ہدف 18 ویں اوور میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔ پاکستان کو سب سے بڑا دھچکا اس وقت لگا جب تجربہ کار بولر شاہین شاہ آفریدی انجری کے باعث 16 واں اوور مکمل کئے بغیر باہر چلے گئے۔

  • پاکستان کو چیری کے باغات کو ماحول دوست پیداوار پر توجہ دینی چاہیے۔ ڈاکٹر گو وین لیانگ

    پاکستان کو چیری کے باغات کو ماحول دوست پیداوار پر توجہ دینی چاہیے۔ ڈاکٹر گو وین لیانگ


    ایگریکلچرل کمشنر ڈاکٹر گو وین لیانگ نے کہا ہے کہ پاکستان کو چیری کے باغات کو ماحول دوست پیداوار پر توجہ دینی چاہیے۔

    پاکستان میں چینی سفارت خانے کے ایگریکلچرل کمشنر ڈاکٹر گو وین لیانگ نے کہا ہے کہ پاکستان میں چیری کے باغات کو ماحول دوست پیداوار پر توجہ دینی چاہیے، بلوچستان میں پیدا ہونے والی چیری کو ایئرکولنگ کے بعد پاکستان سے چین برآمد کیا جا سکتا ہے، جی بی کے علاقے میں پیدا ہونے والی چیری کو خنجراب پاس پر ریفریجریٹڈ کنٹینرز کے ذریعے بھی چین برآمد کیا جا سکتا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ 14 نومبر ذیابیطس کا عالمی دن؛ ذیابیطس کی وجوہات، بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
    پی ٹی آئی کو خود کی شروع کی گئی بدتمیزی مہنگی پڑگئی؛ لندن میں ابسولوٹلی چور کے نعرے
    امریکہ کو چین کے ساتھ تنازع میں نہیں گھسیٹا جائے گا. امریکن صدر جوبائیڈن
    بلدیاتی الیکشن میں تاخیر کیس؛ ایم کیو ایم کی فریق بننے کی درخواست مسترد
    پاکستان میں چینی سفارتخانے کے ایگریکلچرل کمشنر ڈاکٹر گو وین لیانگ نے چائنا اکنامک نیٹ کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ چینی مارکیٹ میں پاکستانی چیری کے داخلے کی منظوری سے پاکستان کی چیری انڈسٹری کی ترقی متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان چیری کے پودے لگانے کے علاقے کو بڑھانے، یونٹ کی پیداوار اور پھلوں کے معیار کو بہتر بنانے اور کولڈ ٹریٹمنٹ کی سہولیات کی تعمیر میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے چینی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے لیے تعاون کر سکتے ہیں،دونوں ملکوں نے زرعی مصنوعات کی برآمدات سے متعلق چار پروٹوکولز پر دستخط کیے ہیں۔

    واضح رہے کہ ماہرین کہتے ہیں کہ چیری کے پھل کے مختلف فوائد درج زیل ہیں.
    جلد کے مسلے کا حل
    چیری کا پھل روزانہ کھانے میں سرخ چیری کے استعمال سے ایکنی، سیا اور جلد کے دیگر تمام مسائل کا علاج کیا جا سکتا ہے۔ وٹامن اے کی سطح اور اینٹی بیکٹیریل خصوصیات جلد کے مسائل کو دور کرنے اور اسے صاف اور بے عیب رکھنے میں مدد کرتی ہیں۔ چیری جلد کو سورج کے نقصان، سیاہ دھبوں اور داغ دھبوں سے بچانے کے لیے بھی جانی جاتا ہے۔ اس لیے روزانه چیری کا استعمال کیا جانا ضروری بنانا چاہیے.
    چیری قوت مدافعت بڑھاتی ہے
    میلاٹونن ایک انزائم ہے جو سرخ چیری میں اچھی مقدار میں موجود ہوتا ہے۔ یہ مدافعتی نظام کو بہتر بنانے اور اسے مختلف انفیکشن اور بیماریوں کے خلاف مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے۔ اس کے علاوہ، 100 گرام چیری میں تقریباً 15 فیصد وٹامن سی ہوتا ہے جو کہ نزلہ، زکام وغیرہ جیسے عام مسائل سے بچنے کے لیے بے حد ضروری ہے۔
    تمام پھلوں اور سبزیوں کی طرح چیری بھی ایک طاقتور اینٹی آکسیڈینٹ کی طرح کام کرتی ہے۔ فلیوونائڈز، چیری کے جوس میں ایک قسم کا اینٹی آکسیڈنٹ پودوں کے ذریعے انفیکشن سے لڑنے کے لیے بنایا جاتا ہے۔ ایک تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کیمیکل مدافعتی نظام کے کام پر اہم اثر ڈال سکتی ہیں۔
    چیری دل کے لیے صحت بخش خوراک
    چیری دل کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے ایک بہترین غذا ہے۔ چیری میں کیلوریز کم ہوتی ہیں اور فائبر، وٹامنز، معدنیات، غذائی اجزاء اور آپ کے لیے دوسرے اچھے اجزاء سے بھرے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں آپ کو وٹامن سی، اے، اور کے بھی ملیں گے۔ ہر لمبے تنے والا پھل پوٹاشیم، میگنیشیم اور کیلشیم بھی فراہم کرتا ہے۔
    چیری بلڈ پریشر کو کم کر سکتی ہے
    چیری اور بیری کا جوس ہائی پولی فینول کی وجہ سے بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے کیونکہ یہ قدرتی پودوں کے مرکبات ہیں جو صحت کے لیے فوائد رکھتے ہیں۔ ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ جس نے صرف چیری کے جوس کو پیا اس انسان میں بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کے بڑھنے کی طاقت وقت کے ساتھ جلد ہی کم ہونے لگتی ہے۔ چیری میں کئی غذائی اجزاء ہوتے ہیں جو بلڈ پریشر میں مدد کرسکتے ہیں، بشمول پولیفینول اور پوٹاشیم۔ پولیفینول ایک قسم کا اینٹی آکسیڈینٹ ہے جو آکسیڈیٹیو نقصان کو روک سکتا ہے۔
    چیری وزن کی بحالی میں مدد کرتی ہے
    چیری میں پائی جانے والی گلیسمیک کی کم خصوصیات کے علاوہ اس کے علاوہ اس میں پایا جانے والا فایبر کا مواد انہیں وزن کو برقرار رکھنے میں مدد دینے کے لیے بہترین بناتا ہے۔

  • پاکستان میں غربت کی اصل وجہ؛ نوجوانوں میں سیکھنے کے جذبے کی کمی ہے

    پاکستان میں غربت کی اصل وجہ؛ نوجوانوں میں سیکھنے کے جذبے کی کمی ہے

    پاکستان میں غربت کی اصل وجہ؛ نوجوانوں میں سیکھنے کے جذبے کی کمی ہے.

    پاکستان اس لیے غریب نہیں کہ ہمارے پاس مادی وسائل کی کمی ہے بلکہ یہ ملک اس لیے مفلس ہے کہ یہاں کے لوگوں بالخصوص نوجوانوں میں سیکھنے کے جذبے کی کمی ہے۔ وطن عزیز کو خسارے کا سامنا بھی اسی وجہ سے ہے کہ ہمارے نوجوان سوشل میڈیا پر تو ہر روز کئی گھنٹے صرف کردیتے ہیں لیکن اپنے علم وہنر میں اضافے کے لیے کبھی مفت آن لائن کورسز کرنے پر توجہ مرکوز نہیں کرتے۔

    ایک رپورٹ کے مطابق ماہرین معاشیات، دانشور اور میڈیا اکثر یہ تو بتاتا ہے کہ ادائیگیوں کے توازن اور معیشت کا خسارہ کس طرح ہماری اقتصادی کارکردگی کو متاثر کررہا ہے لیکن اس خسارے کی بنیادی وجہ یعنی سیکھنے میں عدم دلچسپی پر کبھی بات نہیں کی جاتی۔ پاکستان میں تعلیمی اداروں کی تمام تر توجہ صرف کلاس روم میں حاضری، امتحانات کے انعقاد اور ڈگریاں تفویض کرنے پر ہے ، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر سال ہزاروں نوجوان ڈگریاں لے کر فارغ التحصیل ہوتے ہیں اور پھر اچھی نوکری کی تلاش میں برسوں مارے مارے پھرتے ہیں۔

    ہمارے تعلیمی ادارے یقینی طور پر اس بات کے ذمے دار ہیں کہ وہ طلبہ میں سیکھنے اور اپنا علم وہنر بڑھانے کا ذوق وشوق پیدا نہیں کرتے۔ ڈیجیٹل رابطوں کے اس جدید دور میں بھی ہمارے نوجوان تک نت نئے علوم وفنون سیکھنے کے لیے ذاتی کوششیں کرتے ہوئے نظر نہیں آتے۔ ہمارے لوگوں کی ساری دلچسپی افواہ سازی اور سیاسی بیان بازی میں ہوتی ہے جبکہ کتب خوانی اور فری آن لائن کورسز کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں لیتا۔اس معاملے میں طلبہ، کاروباری حضرات، سرکاری عہدیداران اور پالیسی سازوں کا رویہ ایک جیسا ہی دکھائی دیتا ہے۔

    نوجوانوں کا معاملہ تو ایک طرف رہا، عمر رسیدہ افراد بھی سیکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتے، وہ سمجھتے ہیں کہ اب ان کی عمر سیکھنے کی نہیں رہی اور انہیں سالہا سال کا جو تجربہ حاصل ہے، وہ سیکھنے کے عمل کا متبادل ہوسکتا ہے جبکہ درحقیقت ایسا نہیں ہے۔ اس دور میں کسی بھی شخص کے، چاہے وہ کسی بھی عمر کا ہو، اپنے شعبے میں مقابلہ آرائی کے قابل ہونے کے لیے نئے علوم وفنون پر دسترس نہ سہی، اس سے شدھ بدھ حاصل کرنا لازم ہے۔ ہمارے سیاست دان بھی کانفرنسوں اور سیمینارز میں بھی محض اس لیے شریک ہوتے ہیں کہ وہ اسے اظہارخیال کا ایک موقع گردانتے ہیں، انہیں کچھ سیکھنے سے ہرگز کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔حکومت اور بلدیاتی اداروں کی بھی ساری دلچسپی پارک اور نئی سڑکیں بنانے میں ہوتی ہے، وہ کتب خانے بنانے کو ہرگز ضروری خیال نہیں کرتے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ 14 نومبر ذیابیطس کا عالمی دن؛ ذیابیطس کی وجوہات، بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
    پی ٹی آئی کو خود کی شروع کی گئی بدتمیزی مہنگی پڑگئی؛ لندن میں ابسولوٹلی چور کے نعرے
    امریکہ کو چین کے ساتھ تنازع میں نہیں گھسیٹا جائے گا. امریکن صدر جوبائیڈن
    بلدیاتی الیکشن میں تاخیر کیس؛ ایم کیو ایم کی فریق بننے کی درخواست مسترد
    پاکستانی اسکولوں میں جانے والے بچوں کے بیگ ترقی یافتہ ملکوں کے بچوں کے بیگس کے مقابلے میں زیادہ بھاری ضرور ہوتے ہیں لیکن ہمارے طلباء وطالبات میں اختراع پسندی، مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت اور ٹیم ورک اسکلز کی کمی پائی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر پاکستان کیسے مالی اور ادائیگیوں کے توازن کے خسارے سے چھٹکارا پاسکتا ہے، اس کا جواب یہی ہے کہ نوجوانوں میں علم وتحقیق سے دلچسپی پیدا کرکے اور لوگوں میں سیکھنے کے جذبے کو نمو دے کر ہی ہم اس خسارے سے جان چھڑا سکتے ہیں۔

  • نیا سال 2023  پاک چین ٹورازم  ایکسچینج کے طور پر منائیں گے. چینی قونصل جنرل ژاؤ شیریں

    نیا سال 2023 پاک چین ٹورازم ایکسچینج کے طور پر منائیں گے. چینی قونصل جنرل ژاؤ شیریں

    چین کا کہنا ہے کہ نیا سال 2013 پاک چین ٹورازم ایکسچینج کے طور پر منائیں گے.

    چین کے قونصل جنرل ژاؤ شیریں نے کہا ہے کہ نئے سال کو ’’ پاک چین ٹور ازم اور ایکسچینج ‘‘ کے طو رپر منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ چین کے قونصل جنرل ژاؤ شیریں نے انسٹیٹیوٹ آف انٹر نیشنل ریلیشنز اینڈ میڈیا ریسرچ کے زیر اہتمام 20 ویں سی پی سی کانگریس، پارٹی پالیسی، پراسپیکٹس اور اس کے پاک چین تعلقات پر اثرات کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین پاکستانی حکومت کے ساتھ ساتھ اس کی عوام کو حقیقی اسٹیک ہولڈر سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کی سست رفتاری پر کسی کو مورد الزام ٹھہرانا ٹھیک نہیں لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ سی پیک اپنی اصل رفتار سے بحال ہو گیا اور سی پیک کے نئے فیز میں چار نئے کوریڈورز کا اضافہ ہوگیا جن میں ہیلتھ ، آئی ٹی، انڈسٹریل اور گرین کوریڈورز شامل ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ 14 نومبر ذیابیطس کا عالمی دن؛ ذیابیطس کی وجوہات، بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
    پی ٹی آئی کو خود کی شروع کی گئی بدتمیزی مہنگی پڑگئی؛ لندن میں ابسولوٹلی چور کے نعرے
    امریکہ کو چین کے ساتھ تنازع میں نہیں گھسیٹا جائے گا. امریکن صدر جوبائیڈن
    بلدیاتی الیکشن میں تاخیر کیس؛ ایم کیو ایم کی فریق بننے کی درخواست مسترد
    ژاؤ شیریں نے کہا کہ چینی قیادت صرف حکومت نہیں بلکہ پاکستان کے ہر فرد اور سوسائٹی کے ساتھ مل کر چلنا چاہتی ہے کیونکہ سی پیک سے حاصل ہونے والے فوائد کے اصل حقدار عوام ہیں، 2023 پاک چائنہ تعلقات اور سی پیک کی ترقی اور تعاون کی نئی شکلوں اور قسموں کی جدید مثال قائم کریگا۔ انہوں نے کہا کہ نئے سال کو ’’ پاک چین ٹور ازم اور ایکسچینج ‘‘ کے طو رپر منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس ضمن میں بیجنگ کے پیلس میوزیم میں گندھارا آرٹ نمائش کا خصوصی اہتمام کیا جائیگا جس میں پاکستان کے متنوع کلچر اور چین کے ساتھ پاکستان کے تاریخی تعلقات کو موثر انداز میں پیش کیا جائیگا۔

  • عمران خان پر مبینہ حملہ کے مقدمہ کیلئے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر

    عمران خان پر مبینہ حملہ کے مقدمہ کیلئے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر

    عمران خان پر مبینہ حملہ کے مقدمہ کیلئے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کردی گئی ہے.

    پی ٹی آئی نے عمران خان حملے کے مقدمے کیلئے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں آئینی درخواست دائر کر دی جس میں نامزد ملزمان کے نام شامل نہ کرنے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا۔ درخواست شاہ محمود قریشی، عثمان بزدار، شفقت محمود اور دیگر اراکین پارلیمان نے دائر کی۔ درخواست میں اعظم سواتی کے واقعے پر کارروائی کرنے اور ارشد شریف کے پسماندگان کی داد رسی کی استدعا بھی کی گئی ہے۔

    عثمان بزدار نے درخواست ڈپٹی رجسٹرار سپریم کورٹ اعجاز گورائیہ کے پاس جمع کروائی۔ ڈپٹی رجسٹرار نے تحریک انصاف کی آئینی درخواست وصول کرکے درخواست کا ڈائری نمبر فراہم کر دیا۔ موقف اپنایا گیا کہ تحریک انصاف کے رہنماؤں نے جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواست دائر کی ہے، سپریم کورٹ ان معاملات پر سوموٹو نوٹس لیکر کاروائی کرے۔ اسی طرح کی درخواست سپریم کورٹ پشاور رجسٹری میں ڈپٹی اسپیکر محمود جان، صوبائی وزراء عاطف خان، شوکت یوسفزئی، کامران بنگش، ڈاکٹر امجد، سینیٹر عثمان ترکئی اور خواتین ایم پی ایز کی جانب سے بھی جمع کروائی جائے گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ 14 نومبر ذیابیطس کا عالمی دن؛ ذیابیطس کی وجوہات، بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
    پی ٹی آئی کو خود کی شروع کی گئی بدتمیزی مہنگی پڑگئی؛ لندن میں ابسولوٹلی چور کے نعرے
    امریکہ کو چین کے ساتھ تنازع میں نہیں گھسیٹا جائے گا. امریکن صدر جوبائیڈن
    بلدیاتی الیکشن میں تاخیر کیس؛ ایم کیو ایم کی فریق بننے کی درخواست مسترد
    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں وزیر آباد میں اللہ والا چوک کے مقام پر جب تحریک انصاف کے لانگ مارچ کا کنٹینر پہنچا تھا تو وہاں اچانک فائرنگ ہوئی جس کے نتیجے میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان سمیت بعض دیگر لوگ مبینہ طور پر زخمی ہوگئے جبکہ اب پی ٹی آئی اب اپنی مرضی کی ایف آئی آر کے اندراج کیلئے تگ ودو کررہی ہے.

  • عمران خان امریکی سازش کا بیانیہ پسِ پشت ڈالنے سے بات ختم نہیں ہو گی. مریم اورنگزیب

    عمران خان امریکی سازش کا بیانیہ پسِ پشت ڈالنے سے بات ختم نہیں ہو گی. مریم اورنگزیب

    عمران خان امریکی سازش کا بیانیہ پسِ پشت ڈالنے سے بات ختم نہیں ہو گی. مریم اورنگزیب

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا عمران خان کے فنانشل ٹائمز کو انٹرویو پہ ردِ عمل سامنے آگیا۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان امریکی سازش کا بیانیہ پسِ پشت ڈالنے سے بات ختم نہیں ہو گی ، آپ کو جواب دینا پڑے گا، جس بیانیہ پہ پورے ملک میں انتشار اور جھوٹ پھیلایا، جواب دیے بغیر صرف دستبرداری کافی نہیں۔


    انہوں نے کہا کہ آج عمران سے سوال نہیں بلکہ آج عمران کی بات پہ یقین کرنے والوں کے لئے سوالیہ نشان ہے، جھوٹے ، ملکی مفاد سے کھیل کھیلنے والے فارن فنڈڈ فتنے کی بات سُننے والوں کے لئے سوالیہ نشان ہے، پارلیمان کو ، افواجِِ پاکستان کو ، اداروں کو غدار ٹھہرا کر صرف یہ کہہ کر کہ it’s behind me and it’s over ” اور بات ختم ؟ ایسے نہیں عمران خان ایسے نہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ 14 نومبر ذیابیطس کا عالمی دن؛ ذیابیطس کی وجوہات، بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
    پی ٹی آئی کو خود کی شروع کی گئی بدتمیزی مہنگی پڑگئی؛ لندن میں ابسولوٹلی چور کے نعرے
    امریکہ کو چین کے ساتھ تنازع میں نہیں گھسیٹا جائے گا. امریکن صدر جوبائیڈن
    بلدیاتی الیکشن میں تاخیر کیس؛ ایم کیو ایم کی فریق بننے کی درخواست مسترد
    ان کا کہنا تھا کہ اپنے جھوٹ کے لئے آئینی عہدوں سے آئین شکنی کروائی، عمران خان ملک کو تہس نہس کر کے آج امریکی سازش کے بیانیہ سے دستبردار ہو گئے ہیں، عمران خان نے اپنے حامیوں کو پاگل اور بھیڑ بکریاں سمجھ رکھا ہے۔ واضح رہے کہ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو انٹرویو میں عمران خان نے کہا ہے کہ امریکی سازش کا معاملہ ختم ہو چکا، پاکستان کو امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے چاہئیں۔

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے فنانشل ٹائمز کو انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکی سازش کا بیانیہ ختم، اب امریکہ سے اچھے تعلقات زندگی کی آخری خواہش ھے۔عمران خان امریکی سازش کے بیانیے کو پیچھے چھوڑ کر امریکا کے ساتھ پھر سے اچھے تعلقات قائم کرنے پر تیار ہوگئے۔برطانوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ امریکی سازش کا معاملہ ختم ہوچکا۔ پاکستان کو دنیا بھر خاص طور پر امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے چاہییں۔پاکستان اور امریکا کے تعلقات غلام اور مالک کے رہے ہیں، لیکن اس میں بھی زیادہ قصور پاکستانی حکومتوں کا تھا۔

    دوسری جانب ن لیگی رہنما، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بیرونی مداخلت اور امپورٹڈ حکومت کا رولا ختم.. امریکہ کے ترلے شروع. فرماتے ھیں”کہ جہاں تک میرا تعلق ھے یہ معاملہ ختم ھے یہ اب میرے پیچھے رہ گیا ھے”.

  • بلدیاتی الیکشن میں تاخیر کیس؛ ایم کیو ایم کی فریق بننے کی درخواست مسترد

    بلدیاتی الیکشن میں تاخیر کیس؛ ایم کیو ایم کی فریق بننے کی درخواست مسترد

    بلدیاتی الیکشن میں تاخیر کیس؛ ایم کیو ایم کی فریق بننے کی درخواست مسترد

    سندھ ہائی کورٹ نے جماعت اسلامی اورپی ٹی آئی کےکیس میں فریق بننے کی ایم کیو ایم کی فوری سماعت کی درخواست مسترد کردی۔ کراچی اور حیدرآباد میں بلدیاتی الیکشن میں تاخیر کے حوالے سے کیس میں ایم کیو ایم پاکستان کے وکلا کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑگیا۔ سندھ ہائی کورٹ نے جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کے کیس میں فریق بننے کی ایم کیو ایم کی فوری سماعت کی درخواست مسترد کردی ہے۔

    ایم کیوایم کے وکیل ایڈووکیٹ طارق منصورنےعدالت کو بتایا کہ جماعت اسلامی اورپی ٹی آئی کے کیس میں فریق بنناچاہتے ہیں، آج کیس لگا ہوا ہے ہمیں بھی فریق بننے کی اجازت دیں۔ عدالت نے ریمارکس دئیے کہ آپ کی درخواست دائر ہوگئی ہے تو روٹین میں آجائے گی اور دیکھ لیں گے۔ عدالت نے فریق بننےکی ایم کیو ایم کی فوری سماعت کی درخواست مسترد کردی۔

    واضح رہے کہ کراچی اور حیدر آباد میں بلدیاتی الیکشن میں تاخیر کا معاملہ پر ایم کیو ایم نے کیس میں فریق بننے کے لیے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی. جبکہ اس موقع پر رہنما ایم کیو ایم وسیم اختر کا کہنا تھا کہ ہم نے فریق بننے کی درخواست دائر کی ہے، جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کی کی درخواست میں فریق بننا چاہتے ہیں، بلدیاتی انتخابات سے قبل قانونی پیچیدگیوں کا جائزہ لینا ضروی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ 14 نومبر ذیابیطس کا عالمی دن؛ ذیابیطس کی وجوہات، بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
    پی ٹی آئی کو خود کی شروع کی گئی بدتمیزی مہنگی پڑگئی؛ لندن میں ابسولوٹلی چور کے نعرے
    امریکہ کو چین کے ساتھ تنازع میں نہیں گھسیٹا جائے گا. امریکن صدر جوبائیڈن
    وسیم اختر کا کہنا تھا کہ فری اینڈ فیئر الیکشن ضروری ہیں، ہم نے 4سال بے اختیار رہ کر گزارے ہیں، الیکشن سے پہلے حلقہ بندیوں کی خامیوں کو دور کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کے پاس بھی گئے ہیں، ہماری درخواستیں زیر التوا ہیں، پی ٹی آئی نے افرا تفری کا ماحول پیدا کیا ہوا ہے۔

  • دھرنے کے باعث سڑکوں کی بندش؛ اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئی جی کو طلب کرلیا

    دھرنے کے باعث سڑکوں کی بندش؛ اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئی جی کو طلب کرلیا

    دھرنے کے باعث سڑکوں کی بندش، اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئی جی کو طلب کرلیا ہے.

    پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے دھرنے کے باعث اسلام آباد میں سڑکوں کی بندش کیخلاف درخواست پراسلام آباد ہائیکورٹ نے آئی جی اسلام آباد کو طلب کرلیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں تاجروں کی پی ٹی آئی دھرنے کے باعث سڑکوں کی بندش کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کے دوران استفسار کیا کہ موٹر وے وفاقی حکومت کے ماتحت آتی ہے حکومت موٹر وے کیوں نہیں کھلواتی۔ پارلیمنٹ کے سامنے بھی احتجاج ہوتا ہے پھر آپ وہ کیوں بند کرتے ہیں۔ پورے اسلام آباد میں کنٹینر ایسے پڑے ہیں جیسے کوئی اور حالات ہوں۔اچھی سے اینٹی رائیٹس فورس کیوں نہیں بناتے کنٹینر کیوں لگاتے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ 14 نومبر ذیابیطس کا عالمی دن؛ ذیابیطس کی وجوہات، بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
    پی ٹی آئی کو خود کی شروع کی گئی بدتمیزی مہنگی پڑگئی؛ لندن میں ابسولوٹلی چور کے نعرے
    امریکہ کو چین کے ساتھ تنازع میں نہیں گھسیٹا جائے گا. امریکن صدر جوبائیڈن
    ایڈشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ امن و امان صوبائی حکومت کا معاملہ ہے اس لیے بند ہوتا ہے۔عدالت نے آئندہ سماعت پر آئی جی اسلام آباد کوطلب کرتے ہوئے حکم دیا کہ آئی جی دھرنے اور رستوں کی بندش سے متعلق رپورٹ پیش کریں۔ کیس کی سماعت 17 نومبر تک ملتوی کردی گئی۔ دھرنے کے باعث سڑکوں کی بندش کے خلاف تاجروں نے درخواست دائر کی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ اپریل میں حکومت کی تبدیلی کے بعد سے اب تک احتجاج کیے جارہے ہیں۔آزادی مارچ دھرنا کا اعلان اور قائدین کی ہدایت پر سڑکیں بند کردی گئیں جس سے شہریوں اور تاجروں کو مشکلات کا سامنا ہے اور بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ حکومت کو سڑکیں خصوصاً موٹروے پر ٹریفک روانی برقرار رکھنے کی ہدایت کی جائے۔ پی ٹی آئی کو پابند کیا جائے کہ دھرنے اور جلسے کا انعقاد اسلام آباد سے باہر کریں۔

  • 14 نومبر ذیابیطس کا عالمی دن؛  ذیابیطس کی وجوہات، بچاؤ کیسے ممکن ہے؟

    14 نومبر ذیابیطس کا عالمی دن؛ ذیابیطس کی وجوہات، بچاؤ کیسے ممکن ہے؟

    14 نومبر کو دنیا بھر میں ذیابیطس کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ ہر سال اس بیماری سے لاکھوں افراد متاثر ہوتے ہیں۔ یہ بیماری اس وقت لاحق ہوتی ہے جب جسم اپنے اندر موجود شکر کو حل کرکے خون میں شامل نہیں کرپاتا۔

    ذیابیطس ایک خطرناک بیماری ہے جس سے سالانہ کئی افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ ذیابیطس کی پیچیدگیوں کے باعث متاثرہ شخص کے وزن میں تیزی سے کمی آتی ہے۔ متاثرہ مریض کو دل کے دورے، فالج، نابیناپن اور گردے ناکارہ ہونے جیسے مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔ شہریار شوکت کا کہنا ہے کہ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سفید چینی کے براہ راست استعمال، کولڈ ڈرنکس کے زیادہ استعمال اور جسمانی سرگرمیاں نہ ہونے سے ذیابیطس کا مرض لاحق ہونے کے امکانات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں سفید چینی کا استعمال انتہائی زیادہ ہے۔ عوام میں یہ بھی ایک غلط تاثر ہے کہ سفید چینی کی جگہ گڑ کا استعمال کیا جائے تو نقصان نہیں ہوتا، جبکہ ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ چینی کسی بھی شکل میں ہو انسان کےلیے اس کا زیادہ استعمال نقصان دہ ہی ہے۔ تمباکو کا استعمال بھی ذیابیطس کے مرض کا باعث بن سکتا ہے۔

    انسانی جسم میں انسولین نامی ایک ہارمون موجود ہوتا ہے۔ یہ ہارمون جسم میں گلوکوز کی مقدار کو کنٹرول کرتا ہے۔ اگر یہ ہارمون ٹھیک سے کام نہ کرے یا کام کرنا چھوڑ دے تو جسم میں گلوکوز کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور انسان ذیابیطس نامی خاموش قاتل کا شکار ہوجاتا ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں کو زندگی بھر میٹھی چیزوں کے استعمال سے پرہیز کرنا پڑتا ہے اور شوگر کو کنٹرول کرنے والی ادویہ کا استعمال بھی کرنا پڑتا ہے۔ اگر یہ مرض زیادہ پیچیدگی اختیار کرلے تو ذیابیطس کے مریضوں کو انسولین کے انجکشن بھی استعمال کرنا پڑتے ہیں۔ نارمل انسانوں میں انسولین خود بنتی ہے لیکن اس مرض کی پیچیدگیوں کے باعث انسولین جسم میں بننا بند ہوجاتی ہے۔ ذیابیطس جسم کے دوسرے حصوں کے ساتھ ساتھ ہاتھوں، پیروں اور ان کی انگلیوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ ہاتھوں اور پیروں میں گلٹیاں ہوجانے یا کسی زخم کے بگڑ جانے کی صورت میں انہیں کاٹنا بھی پڑ سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ زیادہ تر افراد ذیابیطس کی دو اقسام کا شکار ہوتے ہیں۔ ذیابیطس کی پہلی قسم میں لبلبہ انسولین بنانا بند کردیتا ہے، جس کی وجہ سے شکر خون کے بہاؤ میں جمع ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ یہ تو معلوم نہیں کیا جاسکا کہ اس کی اصل وجہ کیا ہے لیکن طبی ماہرین کا خیال ہے کہ شاید ایسا جینیاتی اثر کی وجہ سے ہوتا ہے یا کسی وائرل انفیکشن کی وجہ سے بھی ایسا ہوسکتا ہے کہ لبلبے میں انسولین بنانے والے خلیے خراب ہوجاتے ہیں۔ ذیابیطس کے مریضوں کا دس فیصد اسی قسم کا شکار ہوتا ہے، جبکہ ذیابیطس کی دوسری قسم میں لبلبہ یا تو ضرورت کے مطابق انسولین نہیں بناتا یا جو بناتا ہے وہ ٹھیک طریقے سے کام نہیں کرتی۔ ایسا عموماً درمیانی اور بڑی عمر کے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ تاہم یہ مرض کم عمر کے زیادہ وزن والے افراد، سست طرزِ زندگی اپنانے والے اور کسی خاص نسل سے تعلق رکھنے والے افراد خصوصاً جنوبی ایشیائی افراد کو بھی لاحق بھی ہوسکتا ہے۔

    ذیابیطس کی چند مخصوص علامات ہیں جن میں زیادہ پیاس لگنا، تھکاوٹ کا محسوس ہونا، جسم سے محلولی فضلات کا ضرورت سے زیادہ خارج ہونا، وزن کا تیزی سے کم ہونا، نظر کا کمزور ہونا اور معمولی زخموں کا بھی نہ بھرنا شامل ہیں۔ کسی بھی فرد میں اگر یہ علامات ظاہر ہوں تو اسے جلد از جلد ذیابیطس کا ٹیسٹ کرانے اور طبی ماہر سے رابطہ کرنا چاہیے۔

    تحقیقات کے مطابق پاکستان میں گزشتہ دس سال کے دوران ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں تیس لاکھ افراد کا اضافہ ہوا۔ مریضوں کی تعداد میں سب سے زیادہ اضافہ صوبہ خیبرپختونخوا میں ہوا۔ اس وقت ملک میں ذیابیطس کے مرض میں مبتلا مریضوں کی تعداد 90 لاکھ سے بڑھ چکی ہے۔ اس مرض کی مجموعی شرح 4.18 فیصد سے زیادہ ہے۔ وزارت صحت کی دستاویزات کے مطابق سال 2010 میں ملک میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد 3.42 فیصد کے اوسط کے ساتھ 59 لاکھ 86 ہزار سے زیادہ تھی۔ سال 2015 میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد 3.83 فیصد کے اوسط کے ساتھ 74 لاکھ 82 ہزار سے زیادہ ہوگئی۔ وزارت صحت کی دستاویزات کے مطابق ذیابیطس کے 41.5 فیصد مریض ورزش اور دیگر جسمانی سرگرمیاں نہ ہونے کی وجہ سے اس مرض میں مبتلا ہوچکے ہیں جبکہ 19.1 فیصد افراد مختلف صورتوں میں تمباکو استعمال کرنے کی وجہ سے اس مرض میں مبتلا ہوچکے ہیں۔

    وزارت صحت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مختاط اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پاکستان میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد 1 کروڑ پانچ لاکھ سے زیادہ ہے اور سالانہ بنیاد پر ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں 2 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہورہا ہے۔ ملک میں گزشتہ دو سال کے دوران ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد معلوم کرنے کےلیے سروے نہیں کیا گیا لیکن گزشتہ برسوں کے اعدادوشمار کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس وقت مریضوں کی تعداد ایک کروڑ سے بڑھ گئی ہے۔

    پاکستان میں لوگ میٹھے کا استعمال بہت زیادہ کرتے ہیں، گوشت اور غیر متوازن غذا بھی مرض میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ واضح رہے کہ ملک بھر میں اسکول جانے والے بچوں کی بھی ایک بڑی تعداد اس مرض کا شکار ہورہی ہے جس کی بڑی وجہ کھیل کود میں کمی اور جسمانی سرگرمیوں کا نہ ہونا ہے۔

    حکومت پاکستان ملک میں ذیابیطس کے مرض کو کنٹرول کرنے کےلیے آگاہی پروگرامز کا انعقاد کررہی ہے۔ ذیابیطس ایک جینیاتی بیماری ہے یہ بھی ایک حقیقت ہے لیکن صحتمند زندگی گزارنے کےلیے ہر فرد کو احتیاط کرنا ہوگی تاکہ ذیابیطس ہونے کے امکانات کم ہوسکیں۔ ذیابیطس سے بچاؤ کےلیے سب سے ایم یہ ہے کہ سبزیوں اور پھلوں سمیت صحتمند غذا کا استعمال کیا جائے، میٹھی اشیا اور شکر کے استعمال کو کم سے کم کیا جائے جبکہ جسمانی سرگرمیوں کو بھی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔