Baaghi TV

Author: +9251

  • پی ٹی آئی جلسہ؛ اجازت نہ  دینے کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    پی ٹی آئی جلسہ؛ اجازت نہ دینے کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    پاکستان تحریک انصاف کی جلسہ اور دھرنا کی اجازت نہ دینے کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا ہے.
    ہائی کورٹ نے تحریک انصاف کی جانب سے جلسے اور دھرنے کی اجازت نہ دینے کے خلاف درخواست پر فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔ جسٹس عامر فاروق کے روبرو درخواست کی سماعت کے موقع پر پی ٹی آئی کے وکیل ڈاکٹر بابر اعوان عدالت میں پیش ہوئے۔ اسلام آباد انتظامیہ کو نوٹس کے باوجود کسی کے پیش نہ ہونے پر عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کو فوری طلب کرلیا۔

    وقفے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے درخواست کی سماعت کا دوبارہ آغاز کیا، جس میں ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد بیرسٹر جہانگیر جدون اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ ایڈووکیٹ جنرل نے 25 مئی کا سپریم کورٹ کا فیصلہ اور عمران خان کی جانب سے جمع کرایا گیا جواب عدالت کو پڑھ کر سنایا۔ ایڈووکیٹ جنرل بیرسٹر جہانگیر جدون نے عدالت کو بتایا کہ یہ آدھے گھنٹے میں اپنے بیان سے مکر جاتے ہیں، ہم ان پر اعتماد نہیں کرتے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ عمومی طور پر جلسوں کی اجازت سے متعلق کیا طریقہ کار ہے ؟، جس پر بیرسٹر جہانگیر جدون نے عدالت کو بتایا کہ ہوتا تو یہی ہے کہ پارٹی کی اجازت ہی سے یقین دہانی کرائی جاتی ہے، تاہم انہوں نے جو ریلی کی تھی اس سے نقصان ہوا تھا۔ پولیس والے زخمی ہوئے تھے ۔

    عدالت نے کہا کہ وکیل جو بھی بات کرتا ہے، وہ کلائنٹ کی طرف ہی سے کرتا ہے ۔ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے ہمیشہ ٹرمز اینڈ کنڈیشنز کی خلاف ورزی کی ہے، ہم ان پر اعتماد نہیں کر رہے ۔ 2 سینئر وکلا کی یقین دہانی کو پی ٹی آئی کی لیڈرشپ نے ماننے سے انکار کردیا۔ وکیل بابر اعوان نے عدالت کو بتایا کہ پٹیشن علی اعوان نے فائل کی ہے، وہ اس کے ذمے دار ہیں۔ جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا کہتے ہیں کہ جو جگہ آپ کو یہ دیں وہاں وہ نہیں ہو گا جو پہلے ہوا ؟۔ کون اس کی ذمے داری لے گا ؟ بابر اعوان نے جواب دیا کہ علی اعوان پارٹی سے ہیں، پارٹی اس کی ذمے داری لے گی۔

    ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ چیئرمین پی ٹی آئی سے جب تک رابطہ نہیں ہو جائے گا تب تک ہم ان پر اعتماد نہیں کر سکتے ۔ بیان حلفی پر چیئرمین پی ٹی آئی کے دستخط ہونے چاہییں، ہمارا بندہ ان کے پاس چلا جائے گا ۔ عدالت نے کہا کہ کل آپ نے یہاں کہا 6 ، 7 تاریخ ہے، پھر کچھ اور کہا، تاریخ کے حوالے سے آپ نے واضح ہونا ہے ۔ آپ کو جو بھی مقام دیا جاتا ، آپ یقین دہانی کرائیں کہ امن و امان برقرار رکھیں گے۔ کسی کو اس کی ذمے داری لینی ہوگی۔ ایسا نہ ہو کہ کہا جائے کہ لاہور یا کراچی والوں نے ایسا کیا ۔ خیال رکھیں گے کہ روڈز بلاک نہ ہوں،لوگوں کو مشکلات نہ ہوں۔ احتجاج آپ کا حق ہے لیکن شہریوں کے حقوق کا بھی خیال رکھنا ہو گا۔

    عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے احکامات میں احتجاجی ریلی کی حدود و قیود مقرر کی ہیں، جو عوام کے تحفظ کے لیے ہے۔ وکیل ڈاکٹر بابر اعوان نے بتایا کہ پی ٹی آئی ریلی 10 نومبر کے آس پاس پہنچے گی، جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اِردگرد کی بات نہ کریں آپ نے واضح بتانا ہے ۔ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اب تو یہ بھی کہہ رہے ہیں 10 ماہ تک رہیں گے، کوئی مقررہ تاریخ انہوں نے بتانی ہے۔ بعد ازاں عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد جلسے اور دھرنے کی اجازت نہ ملنے کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل؛ تحریک انصاف کو اسلام آباد میں دھرنے اور جلسے کی اجازت نہ ملنے پر عدالت نے انتظامیہ کو نوٹس جاری کیا تھا وفاقی دارالحکومت میں جلسہ اور دھرنا کرنے کی اجازت نہ ملنے کے خلاف تحریک انصاف کی جانب سے دی گئی درخواست کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے گزشتہ روز کی تھی. جس میں عدالت نے انتظامیہ کو آج کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے مجاز افسر کو عدالت طلب کرلیا تھا.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ امریکہ میں بینکوں اور نجی کمپنیوں سے بھتہ و تاوان لینے میں غیر معمولی اضافہ
    حکومت کا عالمی بینک کے ساتھ 50 کروڑ ڈالر کے معاہدہ
    گھر میں شوہر کی خدمت بیوی کی ذمہ داری نہیں ہے،مصری عالم دین کا فتوی
    پی ٹی آئی کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ تحریک انصاف نے حقیقی آزادی مارچ کے لیے این او سی کے درخواست دی ہے جب کہ اسلام آباد انتظامیہ اس معاملے کو لٹکا رہی ہے ۔ اجازت کی درخواست 6 اور 7 نومبر کے لیے کی گئی۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں کشمیر ہائی وے پشاور موڑ پر جلسے کا این او سی دینے کے لیے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو احکامات جاری کیے جائیں۔ درخواست میں کہا گیا کہ عدالت تحریک انصاف کے کارکنوں کو ہراساں کرنے سے روکنے اور آئی جی اسلام آباد کو تحریک انصاف کے جلسے، دھرنے کے لیے سکیورٹی فراہم کرنے کا حکم دے۔ عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت آج تک کے لیے ملتوی کردی تھی جبکہ ابھی دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا ہے.

  • چار ماہ میں تجارتی خسارہ 4.2 ارب ڈالر کم ہوگیا

    چار ماہ میں تجارتی خسارہ 4.2 ارب ڈالر کم ہوگیا

    رواں مالی سال کے ابتدائی چار ماہ کے دوران تجارتی خسارے میں4.2 ارب ڈالر کی کمی ہوئی، جو 27 فیصد کے مساوی ہے۔

    مرکزی بینک کی جانب سے درآمدات کے حوالے سے لگائی جانے والی مختلف پابندیاں تجارتی خسارے میں کمی کی بڑی وجہ بن کر سامنے آئیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ تجارتی خسارے میں کمی سے پاکستان کو بیرونی قرضوں کی ادائیگی میں سہولت میسر آئے گی۔
    ادارہ شماریات کے اعداد وشمار کے مطابق جولائی تا اکتوبر پاکستان کا تجارتی خسارہ 27 فیصد کمی کے بعد 11.5ارب ڈالر کی سطح پر آ گیا۔

    تاہم برآمدکنندگان اربوں روپے کی سبسڈیز، آسان قرضوں، کم محصولات اور گزشتہ چار سال کے دوران روپے کی قدر میں ہونے والی 100فیصد کمی کے باوجود اچھی کارکردگی نہ دکھا سکے، جس کے نتیجے میں 38 ارب ڈالر سالانہ برآمدات کا طے شدہ ہدف پانا ایک خواب بن کر رہ گیا۔ جولائی تا اکتوبر پاکستان کی برآمدات 8 کروڑ90 لاکھ ڈالر اضافے کے ساتھ 9.5 ارب ڈالر ہوگئیں۔

    اسٹیٹ بینک نے درآمدات کو محدود کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، مرکزی بینک کم وبیش ہر لیٹرآف کریڈٹ کی جانچ پڑتال کررہا ہے، اس نے امپورٹ کوٹا مقرر کیے ہیں اور اوپن اکاؤنٹس کے ذریعے درآمدات روک دی ہیں۔ ماہ بہ ماہ جائزہ لیا جائے تو اکتوبر میں برآمدات 3.7 فیصد کمی کے ساتھ 2.37 ارب ڈالر رہیں جبکہ درآمدات 13.2فیصد کمی کے بعد 4.6 ارب ڈالر رہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ امریکہ میں بینکوں اور نجی کمپنیوں سے بھتہ و تاوان لینے میں غیر معمولی اضافہ
    حکومت کا عالمی بینک کے ساتھ 50 کروڑ ڈالر کے معاہدہ
    گھر میں شوہر کی خدمت بیوی کی ذمہ داری نہیں ہے،مصری عالم دین کا فتوی
    یہ مسلسل دوسرا مہینہ تھا، جس میں ملکی درآمدات میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔اس کے نتیجے میں ماہانہ تجارتی خسارہ 22 فیصد کم ہوکر 2.3 ارب ڈالر کی سطح پر آگیا۔ اکتوبر میں درآمدات گزشتہ سال کے مقابلے میں 27فیصد یا 1.73ارب ڈالر کی کمی ہوئی، جس کے نتیجے میں گزشتہ سال کے مقابلے میں اکتوبر میں تجارتی خسارہ 42 فیصد یا 1.64ارب ڈالر کم ہوکر 2.3 ارب ڈالر رہ گیا۔

  • ایف بی آر کا رواں ماہ کیلیے ٹیکس وصولی ہدف 536.73 ارب مقرر

    ایف بی آر کا رواں ماہ کیلیے ٹیکس وصولی ہدف 536.73 ارب مقرر

    یف بی آر کا رواں ماہ کیلیے ٹیکس وصولی ہدف 536.73 ارب مقرر کردیا گیا ہے.

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے رواں ماہ کیلیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف536.73 ارب روپے مقرر کردیا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے رواں ماہ (نومبر 2022) کیلیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف536.73 ارب روپے مقرر کردیا جسے حاصل کرنے کیلیے ایف بی آرکو مجموعی طور پر 12.7 فیصد اضافہ درکار ہوگا۔

    اس سے قبل اکتوبر 2022 میں ایف بی آر کو 21 ارب روپے کے لگ بھگ ریونیو شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑا تھا،ایف بی آر کو 534.08 ارب روپے کے مقررہ ہدف کے مقابلے میں 513 ارب روپے کی عبوری ٹیکس وصولیاں حاصل ہوئی تھیں۔ تاہم پہلی سہ ماہی(جولائی تا ستمبر)کے دوران 1609 ارب روپے کے مقررہ ہدف سے 26 ارب روپے زائد وصولیاں کرنے کے باعث رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ(جولائی تا اکتوبر) کیلیے مقرر کردہ 2144 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل ہوگیا ۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سال 2022-23 کی دوسری سہ ماہی (اکتوبر تا دسمبر) کیلیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 2036.087ارب روپے جبکہ گزشتہ ماہ اکتوبر2022 کیلیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 534.080 ارب روپے مقرر کیا تھا. ایف بی آر کو اہداف کے حصول کیلیے سہ ماہی(اکتوبر تا دسمبر 2022) کیلئے 33.7 فیصدریونیو گروتھ درکار تھی جبکہ گزشتہ ماہ (اکتوبر 2022) کا ہدف حاصل کرنے کیلئے 19.6 فیصد ریونیو گروتھ درکار تاہم ملک بھر کے فیلڈ فارمشنز کو ان اہداف کے حصول کو یقینی بنانے کی ہدایات بھی جاری کردی تھی۔

    ٹیکس وصولیوں کے مقررہ کردہ اہداف سے متعلق نجی ٹی وی کو دستیاب دستاویز کے مطابق ایف بی آر کو دوسری سہ ماہی(اکتوبر تا دسمبر) کیلیے مقرر کردہ 2036.087 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل کرنے کیلیے گزشتہ مالی سال 2021-22 کی دوسری سہہ ماہی میں حاصل کردہ 1523.433 ارب روپے کے ریونیو کے مقابلے میں 33.7فیصد زیادہ ٹیکس وصولیاں کرنے کا حدف دیا گیا تھا. ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل کرنے کیلیے ان لینڈ ریونیو کی مد میں وصولیوں کا ہدف 1744.687ارب روپے مقرر کیا گیا جس میں انکم ٹیکس کی مد میں ہدف910.611 ارب روپے،ان ڈائریکٹ ٹیکسوں میں سے سیلز ٹیکس کی مد میں ہدف728.477 ارب روپے،فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں وصولیوں کا ہدف105.600 ارب روپے مقرر کیا گیا جبکہ کسٹمز ڈیوٹی کا ہدف291.400 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ امریکہ میں بینکوں اور نجی کمپنیوں سے بھتہ و تاوان لینے میں غیر معمولی اضافہ
    حکومت کا عالمی بینک کے ساتھ 50 کروڑ ڈالر کے معاہدہ
    گھر میں شوہر کی خدمت بیوی کی ذمہ داری نہیں ہے،مصری عالم دین کا فتوی
    خیال رہے کہ ماہ اکتوبرکیلئے534.080 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل کرنے کیلیے ان لینڈ ریونیو کی مد میں وصولیوں کا ہدف433.580 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے،انکم ٹیکس کا ہدف179.583 ارب روپے،ان ڈائریکٹ ٹیکسوں میں سے سیلز ٹیکس ہدف234.198 ارب روپے،فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کا ہدف29.800 ارب روپے مقررہے،کسٹمز ڈیوٹی کا ہدف90.500 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا.

  • فلم ضرار کے سانگ سیچوایشنل ہیں ڈانس دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے پپو سمراٹ

    فلم ضرار کے سانگ سیچوایشنل ہیں ڈانس دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے پپو سمراٹ

    معروف کوریو گراف پپو سمراٹ جنہوں نے لا تعداد فلموں‌کی کوریو گرافی کی .ان کا کوریو گرافی کی دنیا میں ایک نام ہے . ان کے سٹیپس پر کئی معروف ہیروئنز نے ڈانس کیا اور شائقین سے داد وصول کی. پپو سمراٹ نے بہت جلد ریلیز ہونے والی فلم ضرار کی بھی کوریو گرافی کی ہے. اس ھوالے سے ان سے ایک انٹرویو کیا گیا جب ان سے پوچھا کہ ضرار کی کوریوگرافی کی خاص بات کیا ہے تو انہوں‌نے کہا کہ اس فلم میں تمام گانے سیچویشنل ہیں اور ڈانس بھی اسی حساب سے کروایا گیا ہے. بھرتی کا نہ اس میں کوئی گانا ہے نہ ہی کوئی ڈانس. جب آپ فلم دیکھیں

    گے تو آپ کو محسوس ہو گا کہ فلم میں ڈانس کتنی خوبصورتی سے کروایا گیاہے. پپو سمراٹ نے کہا کہ خوشی ہے کہ پاکستانی فلمیں اچھا بزنس کر رہی ہیں. انہوں‌نے یہ بھی کہا کہ مجھے بہت امید ہے کہ ضرار بھی اچھا بزنس کریگی . ضرار جیسی فلمیں پاکستان میں تو کم از کم بہت کم بنتی ہیں.اس لئے اس فلم کو سپورٹ کریں. اس فلم کو شوٹ کرنے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے اور شاید آپ ٹریلر دیکھ کر اندازہ بھی کر سکتے ہیں. ہم سب نے بہت محنت کی ہے.

  • شان کی بھتیجی نتالیہ فلموں‌ میں آنے کےلئے تیار

    شان کی بھتیجی نتالیہ فلموں‌ میں آنے کےلئے تیار

    اداکار شان شاہد کی بھتیجی نتالیہ اعجاز فلموں میں آنے کے لئے تیار ہیں جی ہاں . نتالیہ بیرون ملک سے پڑھ کر آئی ہیں اور اب وہ اردو سیکھ رہی ہیں اور بہت جلد اپنا ڈیبیو کرنے جا رہی ہیں. نتالیہ نے حال ہی میں اداکار شان شاہد کی فلم ضرار کی پریس کانفرنس میں شرکت کی. وہاں ان سے انٹرویو کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے پاکستانی فلموں میں‌کام کرنے کا شوق ہے اس کے لئے میں‌تیاری کررہی ہوں. مجھے اردو بہت اچھی بولنی نہیں آتی اسلئے میں اردو بولنا سیکھ رہی ہوں، اسکے علاوہ سمجھ رہی ہوں‌کہ ڈائیلاگز ڈیلیوری کیسے کرنی ہوتی ہے ، چہرے کے تاثرات ہر

    چیز پر کام کررہی ہوں. ایک سوال کے جواب میں نتالیہ نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت بہت سارے اداکار اچھا کام کررہے ہیں لیکن میری خواہش ہے کہ میں اپنے چچا شان کے ساتھ کام کروں‌. میرے چچا شان ایک بہترین اداکار ہیں انہوں‌نے اپنی صلاحیتوں‌کا لوہا منوایا ہے میری بھی کوشش ہےکہ میں‌اتنا اچھا کام کروں‌کہ میرے بارے میں یہ کہا جائے کہ میں شان کی بھتیجی یا اعجاز شاہد کی بیٹی ہوں بلکہ میری اپنی ایک پہچان ہونی چاہیے. میں فلموں کا انتخاب سکرپٹ کی بنیاد پر کروں‌گی اور سکرپٹ اچھا ہو گا تو یقینا کروں گی نہیں اچھا ہو گا تو میں بالکل بھی نہیں کروں گی.

  • ستر سالہ نظام کو جادو کی چھڑی سے ایک دم ٹھیک  نہیں کرسکتے. چیف جسٹس اطہر من اللہ

    ستر سالہ نظام کو جادو کی چھڑی سے ایک دم ٹھیک نہیں کرسکتے. چیف جسٹس اطہر من اللہ

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ ستر سالہ نظام کو جادو کی چھڑی سے ایک دم ٹھیک نہیں کرسکتے.

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا ہے کہ ججز اور عدالتوں کو تنقید کا خوف یا گھبراہٹ نہیں ہے۔ اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کے دوران جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 7 سے پتہ چلا کہ ریاست کی تشریح میں عدلیہ کا ذکر ہی نہیں ہے.

    جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ عمارتیں کتنی ہی خوبصورت کیوں نہ ہوں سائلین کو سہولت نہ دے سکیں تو بے معنی ہیں، 70 سالہ نظام میں اصلاحات ضروری ہے، اس نظام کو جادو کی چھڑی سے تبدیل نہیں کرسکتے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ مجھے اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ ہمارے سائلین کو ہم پر اعتماد نہیں ہے کیونکہ انہیں بروقت انصاف نہیں ملتا ہے لہذا ہم کوشش میں ہیں کہ انہیں بروقت انساف ملنا چاہئے.

    ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ اس ںظام کو ٹھیک کرنا صرف عدالتوں یا کسی ایک کا کام نہیں ہے بلکہ اس میں سب اداروں کو مل جل کر کام کرنا ہوگا تاکہ ستر سالہ نظام کی خرابی کو ٹھیک کیا جائے.

    مزید یہ بھی پڑھیں؛ شادی کے 4 ماہ بعد بیوی شوہر کے لاکھوں روپے اور زیورات چُرا کر فرار
    تجدیدی فیس، ٹیلی کام کمپنیوں سے 9.5 ارب روپے وصول. پی ٹی اے
    وزیرِ اعظم شہباز شریف کی چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات، سٹریٹجک پارٹنرشپ مزید مضبوط کرنے پر اتفاق
    کراچی میں پولیس مقابلے میں ایس ایچ او زخمی، ڈاکو کی ہوئی موت
    وزیراعظم کل چین جائیں گے،متعدد یاداشتوں اور معاہدات پر دستخط ہونے کا امکان
    زمین کی سطح کے نیچے گرم چٹانوں سے زیادہ موثر توانائی پیدا کی جا سکتی ہے،تحقیق
    فارن فنڈڈ فتنے نےانقلاب نہیں خونی مارچ کااعتراف کرلیا ،مریم اورنگزیب
    اورنگی ٹاؤن؛ گھر میں سوئی گیس لیکیج سے دھماکا،5بچے والدین سمیت جھلس گئے

  • سانحہ مری کیس؛ عدالت نے ریسکیو 1122، ہائی وے ڈیپارٹمنٹ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کو ذمہ دار قرار دے دیا

    سانحہ مری کیس؛ عدالت نے ریسکیو 1122، ہائی وے ڈیپارٹمنٹ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کو ذمہ دار قرار دے دیا

    لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے سانحہ مری کیس کا فیصلہ سنا دیا، جس کے مطابق ریسکیو 1122، ہائی وے ڈیپارٹمنٹ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ سانحے کے ذمے دار ہیں۔ باغی ٹی وی کے مطابق سانحہ مری کیس میں لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس چودھری عبدالعزیز نے 4 ماہ قبل محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا، جس میں قرار دیا گیا ہے کہ ریسکیو 1122، ہائی وے ڈیپارٹمنٹ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ سانحے کے ذمے دار ہیں۔

    ذرائع کے مطابق تفصیلی فیصلہ پیر 7 نومبر کو جاری ہوگا۔ عدالتی فیصلے کے بعد مری میں تمام غیر قانونی عمارتیں مسمار ہوں گی۔ فیصلے میں عدالت نے حکم دیا کہ تمام کمرشل تعمیرات پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ ہوٹلز کا میکنزم بنایا جائے۔ مری کے ہوٹلز،گیسٹ ہاوٴسز کی کیٹگریز بنا کر کرائے مقرر کیے جائیں۔ واضح رہے کہ مری میں شدید برفباری کے بعد پیش آنے والے واقعات کی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ صوبائی ڈزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے اپنی ذمہ داری نبھانے میں کوتاہی برتی اور چھ سے نو جنوری کے درمیان شدید برفباری کے الرٹ کی روشنی میں نتائج سے نمٹنے کے لیے کوئی رابطہ میٹنگ یا ہنگامی منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی.

    رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ جب این ڈی ایم اے نے شدید موسم سے متعلق ایڈوائزری پنجاب میں ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے کو بھیجی تو اس وقت ڈی جی کا عہدہ ’خالی‘ تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ پی ڈی ایم اے کے واٹس ایپ گروپ پر بھیجی گئی ایڈوائزریز اتنی تاخیر سے پڑھی گئیں کہ منصوبہ بندی اور تیاری کے لیے وقت ہی نہیں بچا تھا۔ یاد رہے کہ سات اور آٹھ جنوری کی رات کو مری میں برفانی طوفان اور رش کے باعث 22 افراد کی اپنی گاڑیوں میں ہی موت ہو گئی تھی جس میں ایک ہی خاندان کے آٹھ افراد بھی شامل تھے۔

    خیال رہے کہ اس واقعے کے بعد پنجاب حکومت نے ایڈیشنل چیف سیکریٹری ہوم کی سربراہی میں سانحہ مری کی تحقیقات کے لیے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تھی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ شادی کے 4 ماہ بعد بیوی شوہر کے لاکھوں روپے اور زیورات چُرا کر فرار
    تجدیدی فیس، ٹیلی کام کمپنیوں سے 9.5 ارب روپے وصول. پی ٹی اے
    وزیرِ اعظم شہباز شریف کی چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات، سٹریٹجک پارٹنرشپ مزید مضبوط کرنے پر اتفاق
    کراچی میں پولیس مقابلے میں ایس ایچ او زخمی، ڈاکو کی ہوئی موت
    وزیراعظم کل چین جائیں گے،متعدد یاداشتوں اور معاہدات پر دستخط ہونے کا امکان
    زمین کی سطح کے نیچے گرم چٹانوں سے زیادہ موثر توانائی پیدا کی جا سکتی ہے،تحقیق
    فارن فنڈڈ فتنے نےانقلاب نہیں خونی مارچ کااعتراف کرلیا ،مریم اورنگزیب
    اورنگی ٹاؤن؛ گھر میں سوئی گیس لیکیج سے دھماکا،5بچے والدین سمیت جھلس گئے

  • پارلیمنٹ آزادی صحافت پر یقین رکھتی ہے. اسپیکر قومی اسمبلی

    پارلیمنٹ آزادی صحافت پر یقین رکھتی ہے. اسپیکر قومی اسمبلی

    اسپیکر قومی اسمبلی اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ آزادی صحافت پر یقین رکھتی ہے.

    سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف اور ڈپٹی سپیکر زاہد اکرم درانی نے کہا ہے کہ موجودہ پارلیمنٹ آزادی صحافت پر یقین رکھتی ہے،صحافت سے وابستہ افراد کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ صحافیوں کے خلاف جرائم کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر خصوصی پیغام میں انہوں نے کہا ہے کہ صحافتی برادری کے حقوق کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔آزاد صحافت ملک میں جمہوریت کی مظبوطی اور تسلسل کے لئے ضروری ہے۔اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران شہید ہونے والے صحافیوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔

    انہوں نے کہا کہ شہید ہونے والے صحافی حضرات کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ ارشد شریف کی صحافت کیلئے دی گئی خدمات قابل تحسین ہیں۔ صحافت ملک کے چوتھے ستون کا درجہ رکھتی ہے،صحافتی برادری کے تحفظ کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے ،ملک میں جمہوریت کی مضبوطی کے لئے صحافت کے شعبے سے وابستہ افراد کی جان و مال کا تحفظ اور آزادی صحافت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے،اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران شہید ہونے والے صحافی حضرات انتہائی قابل احترام ہیں۔ زاہد اکرم درانی نے کہا کہ شہید صحافیوں کی فرائض کی ادائیگی میں دی جانے والی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ شادی کے 4 ماہ بعد بیوی شوہر کے لاکھوں روپے اور زیورات چُرا کر فرار
    تجدیدی فیس، ٹیلی کام کمپنیوں سے 9.5 ارب روپے وصول. پی ٹی اے
    وزیرِ اعظم شہباز شریف کی چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات، سٹریٹجک پارٹنرشپ مزید مضبوط کرنے پر اتفاق
    کراچی میں پولیس مقابلے میں ایس ایچ او زخمی، ڈاکو کی ہوئی موت
    وزیراعظم کل چین جائیں گے،متعدد یاداشتوں اور معاہدات پر دستخط ہونے کا امکان
    زمین کی سطح کے نیچے گرم چٹانوں سے زیادہ موثر توانائی پیدا کی جا سکتی ہے،تحقیق
    فارن فنڈڈ فتنے نےانقلاب نہیں خونی مارچ کااعتراف کرلیا ،مریم اورنگزیب
    اورنگی ٹاؤن؛ گھر میں سوئی گیس لیکیج سے دھماکا،5بچے والدین سمیت جھلس گئے

  • ایک سال کے دوران اسلامی بینکاری کے سرمائے میں 40 فی صد اضافہ

    ایک سال کے دوران اسلامی بینکاری کے سرمائے میں 40 فی صد اضافہ

    ملک میں ایک سال کے دوران اسلامی بینکاری کے سرمائے میں 40 فی صد اضافہ.

    ڈپٹی گورنراسٹیٹ بینک ثمر حسنین نے کہا ہے کہ ایک سال کے دوران اسلامی بینکاری کے سرمائے میں 40 فیصد نمو ہوئی ہے۔ انسٹیٹیوٹ آف بزنس مینجمنٹ میں اسلامک بینکنگ اینڈ فنانس کانفرنس کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رواں برس ریلائبلٹی گروتھ میں بھی 30فیصد اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ بینکوں کو سکوک کی سہولیات ملنی چاہیے اس کی وجہ یہ ہے کہ سکوک کےاندر ایسیٹ کا ہونا ضروری ہے۔ اس ضمن میں ایسا اسٹرکچر ہونا چاہیے کہ کچھ حصوں میں فکسڈ ایسیٹ موجود ہوں۔

    ایک سروے کا حوالہ دیتے ہوئے ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ 90فیصد لوگ اسلامی بینکاری میں رہ کر کام کرنا چاہتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے پہلی مرتبہ شریعہ کمپلائنس سینٹر قائم کیا ہے جس میں مختلف سیکٹر کے لوگوں کی معاونت کی جارہی ہے۔ اسٹیٹ بینک نے شریعہ کورٹ اور سود فری بینکنگ پر عمل درآمد کے لیے عدالتی فیصلے کی گائیڈ لائن مانگی ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ شادی کے 4 ماہ بعد بیوی شوہر کے لاکھوں روپے اور زیورات چُرا کر فرار
    تجدیدی فیس، ٹیلی کام کمپنیوں سے 9.5 ارب روپے وصول. پی ٹی اے
    وزیرِ اعظم شہباز شریف کی چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات، سٹریٹجک پارٹنرشپ مزید مضبوط کرنے پر اتفاق
    اس موقع پر سی ای او البرکہ بینک زاہد احمد نے کہا کہ اسٹیٹ بینک شریعہ کے حوالے سے انتہائی متحرک انداز میں کام کررہا ہے۔ ہمارے پاس اسلامی قوانین اور ان کے جوابات موجود ہیں۔ صدر آئی بی ایم طالب کریم نے کہا کہ اب انسٹیٹیوٹ آف بزنس مینجمنٹ میں اسلامک اکاؤنٹنگ لیول پر نئے کورسزز کا آغاز کرنے جارہے ہیں۔ بینک اسلامی کے صدر عامر علی نے کہاکہ آئی بی ایم کی جانب سے اس کی بنیاد رکھنا لائق تحسین ہے۔ مقامی بینکنگ انڈسٹری کو اس حوالے سے بھرپور مدد فراہم کی جائے گی۔

  • بیرون میں مقیم پاکستانی ملکی ترقی و خوشحالی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں. صدر عارف علوی

    بیرون میں مقیم پاکستانی ملکی ترقی و خوشحالی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں. صدر عارف علوی

    صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں پر زوردیا ہے کہ وہ ملک کی ترقی و خوشحالی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہوئے اپنےعلم ودانش،تجربات اور مہارتوں کو بروئے کار لائیں،آن لائن پلیٹ فارمز کے باعث اپنے علم کو دوسروں تک پہنچانا بہت آسان ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی قابل قدر خدمات کے اعتراف میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے۔

    تقریب میں چیئرمین ویلفیئر سوسائٹی فار اوورسیز پاکستانیز رائٹس دائود غزنوی اوربڑی تعداد میں بیرون ملک مقیم ممتاز پاکستانیوں نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کو تعلیم یافتہ ، تربیت یافتہ اوراعلیٰ پیداواری انسانی وسائل کی ضرورت ہے جو کہ ملک کی ترقی و خوشحالی کو یقینی بنانے کےلئے بنیادی عنصر ہے۔ انہوں نے ان تمام متعلقہ فریقوں ، حکومت اورنجی شعبہ پر زوردیا کہ وہ پیداواری انسانی وسائل سے استفادہ کےلئے سازگار ماحول پیدا کرنے کےلئے ٹھوس اورجامع اقدامات کریں ،ماضی میں تربیت یافتہ افرادی قوت کی کمی کے باعث ملک کے جسمانی وسائل بروئے کار نہیں لائے جاسکے جس سے ملک کی ترقی وخوشحالی پر منفی اثر پڑا۔ انہوں نے کہا کہ وہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کےلئے ووٹ کے حق کے حصول کےلئے کوششیں کررہے ہیں جو کہ ٹیکنالوجی اور آئی ووٹنگ سے بآسانی ممکن ہے۔


    انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی اکثریت ان ممالک کے قوانین کے باعث پوسٹل بیلٹ حاصل نہیں کرسکتی اور نہ ہی ان کےلئے اپنا ووٹ ڈالنے کےلئے پاکستان آنا ممکن ہے ، اس لئے قابل اعتماد تصدیق شدہ اور ٹیکنالوجی پرمبنی الیکٹرانک ووٹنگ کا نظام بہترین ممکنہ حل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا ٹیکنالوجی کی مدد سے تیزی سے ترقی کررہی ہے تاہم بدقسمتی سے ہمارا ملک ٹیکنالوجی میں بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ انہوں نے متعلقہ فریقوں پر زوردیا کہ وہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹنگ کا حق دینے کےلئے ٹیکنالوجی پرمبنی سلوشنز پر عمل کریں۔

    انہوں نے کہاکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں میں اپنے بچوں کوقابل قبول سماجی و ثقافتی ماحول کی فراہمی کےلئے ملک میں واپس آکر بسنے کا رجحان بڑھ رہا ہے جو کہ خوش آئند ہے اورہمیں ان کی اعلیٰ معیاری تعلیم ، علم اور مہارتوں کواپنی مصنوعات اورخدمات کے معیارمیں بہتری کےلئے بروئے کار لانا چاہئے ۔ انہوں نے حکومت پر زوردیا کہ وہ اہلیت ، تعلیم اوراعلیٰ معیاری انسانی وسائل کوملازمتوں کےلئے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جو کہ ملک کی معیشت کے تمام شعبوں میں ترقی کےلئے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تربیت یافتہ اور تعلیم یافتہ انسانی وسائل کے معیار اورمقدارمیں بہتری اپنے کاروباری شعبے میں قانون پر منصفانہ اور شفاف عمل اورقابل تصدیق اورعملی کاروباری سرگرمیوں سے ہماری معیشت اورمالیاتی اشاریوں میں بہتری آئے گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ شادی کے 4 ماہ بعد بیوی شوہر کے لاکھوں روپے اور زیورات چُرا کر فرار
    تجدیدی فیس، ٹیلی کام کمپنیوں سے 9.5 ارب روپے وصول. پی ٹی اے
    وزیرِ اعظم شہباز شریف کی چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات، سٹریٹجک پارٹنرشپ مزید مضبوط کرنے پر اتفاق
    انہوں نے ملک میں اپنی محنت کی کمائی سے ترسیلات زر بھیج کرملک کی معیشت کو مضبوط کرنے پر بیرون ملک پاکستانیوں کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ایک کروڑ پاکستانی بیرون ملک مقیم ہیں اور وہ سب پاکستان کے سفیر ہیں ۔ انہوں نے ان سے درخواست کی کہ وہ ترسیلات زر باضابطہ بینکنگ چینلز سے بھیجیں تاکہ ان کی محنت کی کمائی ملک کی ترقی و خوشحالی کےلئے استعمال ہوسکے۔ چیئرمین ویلفیئر سوسائٹی فار اوورسیز پاکستانیزرائٹس دائود غزنوی نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابیوں کا جشن منایا جارہا ہے اور ان کی قابل قدر خدمات کا اعتراف کیا جارہا ہے۔ صدر مملکت نے مختلف شعبوں میں نمایاں مقام حاصل کرنےوالے اوورسیز پاکستانیوں میں ایوارڈز بھی تقسیم کئے۔