Baaghi TV

Author: +9251

  • پولیس نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اہم کردار ادا کیا. وزیراعظم شہباز شریف

    پولیس نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اہم کردار ادا کیا. وزیراعظم شہباز شریف

    پولیس نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اہم کردار ادا کیا. وزیراعظم شہباز شریف

    اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ پولیس نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے، بیٹیاں ملکی ترقی میں بھرپور طریقے سےحصہ لے رہی ہیں، اس بات سے حوصلہ ملتا ہےکہ قوم کی بیٹیاں کس طریقے سے آگے بڑھ سکتی ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وژن نہ ہو تو سونا بھی ریت بن جاتا ہے، ہمارے بچے پوچھتے ہیں کہ 75سال بعد قائد کا پاکستان کہاں کھڑا ہے.

    وزیر اعظم نے کہا کہ چند دن قبل سعودی ڈویلپمنٹ فںڈ کا وفد آیا، سعودی وفد نے پلندہ کھول دیا کہ انہوں نے اسپتال کا منصوبہ تحفے میں دیاتھا، وہ قرضہ نہیں گرانٹ تھی مگر فائلیں الماری میں پڑی رہیں کسی کو فکر نہیں تھی، میں نے سعودی ٹیم سے شرمندگی کا اظہار کیا، معذرت کی اور 2 دن کا وقت مانگا، میں نے 48 گھنٹے دئیے اور اس میں ہرچیز مکمل تھی۔ سابق حکومت کو سعودی عرب نے مفت کا پیسا دیا وہ بھی استعمال نہیں کیا، اگر مفت اسپتال بن جاتا تو عوام کا ہی فائدہ ہوتا، انہوں نےکہا آپ منصوبے بنائیں، ایک آئل ریفائنری کا بھی کہا ہے، یہی آئل ریفائنری کا مںصوبہ وہ 2019 میں خود لےکر آئے تھے، اب وہ آئل ریفائنری لے کر آئیں گے جس کی مالیت 10 سے 12 ارب ہے۔

    پی ٹی آئی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ چین بھی پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے، امریکا سے ہمیں تعلقات خراب کرنے کی کیا ضرورت تھی، کشکول لے کر جاتے ہیں پھر کیا ضرورت تھی آبیل مجھے مار، یہ کہاں کی پاکستانیت، خدمت اور سیاست ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اپنی ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کاش ہمیں کسی کے پاس جاکر مانگنا نہ پڑتا، وقت بہت ضائع ہوگیا ہے مگر ابھی بھی وقت ہے، ہمارے پاس محدود وسائل ہیں، وزراءدن رات محنت کررہے ہوتے ہیں، وزیر خزانہ آج کل دن رات فنڈز کے حوالے سے فکرمند ہیں، وزیر خزانہ آئی ایم ایف اور دیگر اداروں سے بات کررہے ہیں۔

    بنگلا دیش سے متعلق وزیر اعظم نے کہا کہ میں یہ بات محتاط انداز میں کر رہا ہوں کہ اس وقت سوچ یہ تھی کہ یہ بوجھ ہے اس کو اتارو۔ کسی صورت بنگلا دیش کو پاکستان سے علیحدہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ آج بنگلا دیش کی ایکسپورٹ پاکستان سے زیادہ ہے۔

  • خرم لغاری کا پی ٹی آئی چھوڑنے اعلان، 5 ارکان اسمبلی بھی ساتھ شامل

    خرم لغاری کا پی ٹی آئی چھوڑنے اعلان، 5 ارکان اسمبلی بھی ساتھ شامل

    خرم لغاری کا پی ٹی آئی چھوڑنے اعلان، 5 ارکان اسمبلی بھی ساتھ شامل

    پاکستان تحریک انصاف کے رکن پنجاب اسمبلی خرم لغاری نے پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ 5 اراکین اسمبلی بھی پارٹی چھوڑ رہے ہیں۔ رکن پنجاب اسمبلی خرم لغاری نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ میرے ساتھ 5 ارکان پنجاب اسمبلی بھی پارٹی چھوڑ رہے ہیں اور پارٹی چھوڑنے والے تمام ارکان کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے۔

    انہوں نے کہا کہ میں پی ٹی آئی کے ساتھ مزید نہیں چل سکتا اور آج شام 4 بچے ملتان میں مشترکہ پریس کانفرنس کریں گے۔ خرم لغاری نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نوجوانوں کو غلط استعمال کر رہے ہیں اور نوجوانوں کو دھوکہ دیتے دیکھ کر دل دکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے حلقے میں موجود ہوں اور مشاورت کے بعد ہی پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ غیرت کےنام پرماں بیٹی قتل:ملزمان گرفتار
    عمران خان ایک جھوٹا شخص ہے جس کا چہرہ بے نقاب ہوچکا. وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ
    سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کیس میں پی ٹی آئی رہنما فیصل واوڈا سے دو سوالوں کے جوابات طلب کر لیے۔
    اگر آرمی چیف غدار ہے تو آج بھی اس سے چھپ کر کیوں ملتے ہیں. ڈی جی آئی ایس آئی
    آرمی چیف کو کہا تھا کہ اگروہ آپ کو توسیع دے رہےہیں تو میں بھی دے دیتا ہوں:عمران خان مان گئے

  • لانگ مارچ؛ سندھ پولیس کے اہلکار بھیجنے سے متعلق حلیم عادل کی درخواست مسترد

    لانگ مارچ؛ سندھ پولیس کے اہلکار بھیجنے سے متعلق حلیم عادل کی درخواست مسترد

    لانگ مارچ؛ سندھ پولیس کے اہلکار بھیجنے سے متعلق حلیم عادل کی درخواست مسترد

    سندھ ہائیکورٹ نے سندھ پولیس سے 6 ہزار اہلکار لانگ مارچ روکنے کے لیے اسلام آباد بھیجنے سے متعلق پی ٹی آئی رہنما و اپوزیشن لیڈر کی فوری سماعت کی درخواست مسترد کر دی۔ ہائیکورٹ میں سندھ پولیس کے 6 ہزار اہلکار لانگ مارچ روکنے کے لیے اسلام آباد بھیجنے سے متعلق پی ٹی آئی رہنما و اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

    حلیم عادل شیخ اور ان کے وکیل پیش نہیں ہوئے، عدالت نے فوری سماعت کی درخواست مسترد کر دی۔ دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ وفاقی، سندھ حکومت اور آئی جی سندھ کو 6 ہزار اہلکاروں کو واپس بلانے کے احکامات دیے جائیں، سندھ حکومت اور آئی جی سندھ کو کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی روک تھام کے لیے پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کا حکم دیا جائے۔

    درخواست گزار کے مطابق صوبے سندھ میں سیلاب زدہ علاقوں میں پولیس اہلکاروں کی اشد ضرورت ہے، گزشتہ کچھ ماہ سے کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں اصافہ ہوا ہے۔ عوام کے تحفظ کے لیے پولیس کی موجودگی ضروری ہے۔ واضح رہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے اعلان پر لانگ مارچ کا آغاز آج لاہور سے ہو رہا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ غیرت کےنام پرماں بیٹی قتل:ملزمان گرفتار
    عمران خان ایک جھوٹا شخص ہے جس کا چہرہ بے نقاب ہوچکا. وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ
    سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کیس میں پی ٹی آئی رہنما فیصل واوڈا سے دو سوالوں کے جوابات طلب کر لیے۔
    اگر آرمی چیف غدار ہے تو آج بھی اس سے چھپ کر کیوں ملتے ہیں. ڈی جی آئی ایس آئی
    آرمی چیف کو کہا تھا کہ اگروہ آپ کو توسیع دے رہےہیں تو میں بھی دے دیتا ہوں:عمران خان مان گئے

  • کسی جتھے کو اسلام آباد پر چڑھائی کی اجازت نہیں. وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ

    کسی جتھے کو اسلام آباد پر چڑھائی کی اجازت نہیں. وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ

    راولپنڈی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عمران خان کو چاہیے پنجاب حکومت برطرف کریں یا وہ محکمہ اینٹی کرپشن کی خبر لیں، عمران نیازی کو خوش کرنےکے لیےجاری کیا گیا وارںٹ واپس لیا گیا ہے، یہ سیاسی انتقام کی بدترین مثال تھی، افسران کو اس سطح تک نہیں جانا چاہیے تھا، عدالت نے مجھے ریلیف نہیں دیا قانون پر عمل کو یقینی بنایا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی مشترکہ پریس کانفرنس پر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ کل جو گفتگو ڈی جی آئی ایس پی آر اور ڈی جی آئی ایس آئی نےکی اس سےعوام باخبر ہوئے ہیں، کل سارا جھوٹ اور فراڈ عوام کی نظر میں رد ہوگیا، عوام کو صحیح معنوں میں حقیقت کا پتا چلا ہے۔
    وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ گزشتہ روز ادارے نے ایک اچھا اقدام کیا ہے، جب بھی ضرورت پڑے ایسی آگاہی دیتی رہنی چاہیے۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ہم کسی جتھہ کلچر کو پروان نہیں چڑھنےدیں گے، ایک جتھہ بیٹھا رہے گا دوسرا آئے گا یہ چیز ریاست کو تباہ کردیتی ہے، اسلام آباد میں احتجاج سے متعلق عدالت کا ایک فیصلہ موجود ہے، اس طریقہ کار کے مطابق آئیں گے تو ہم اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کریں گے۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ مخصوص جگہ پر آئیں گے تو ہم سیکیورٹی دیں گے۔ اگر وہ چڑھائی کرنے آئیں گے تو کسی جتھے کو اسلام آباد پر چڑھائی کی اجازت نہ ہوگی۔

    دوسری جانب ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب نے کہا ہے کہ رانا ثنا اللہ کو گرفتار نہیں کرنا چاہتے، چالان پیش ہوجائے تو پھر مقدمہ سے نام نہیں نکالا جا سکتا۔ لاہورہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے وزیرداخلہ کی وارنٹ گرفتاری کی منسوخی کی درخواست نمٹا دی۔ جج نے ریمارکس دیئے کہ ادارے سیاسی اعلیٰ کار بنے ہوئے ہیں، ایک آتا ہے مقدمہ کرتا ہے دوسرا آتا ہے ختم کردیتا ہے۔

    دوران سماعت عدالت نے ڈی جی اینٹی کرپشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا ایف آئی آر براہ راست رانا ثناء اللہ پر تھی یا سورس رپورٹ پر؟۔ڈی جی اینٹی کرپشن ندیم سرور نے بتایا کہ سورس رپورٹ پر ایف آئی آر کی گئی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ کس نے اس سورس رپورٹ پر کارروائی کی؟۔کیا مونس الہٰی کا فیصلہ نہیں ہوا ہائی کورٹ میں۔ہمیں اس کو فالو کرنا ہے۔نوٹس جو اینٹی کرپشن نے کیا۔اس پر کارروائی کرتا تو آپ کو پتا چلتا، آپ کیسے ڈی جی رہ سکتے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ غیرت کےنام پرماں بیٹی قتل:ملزمان گرفتار
    عمران خان ایک جھوٹا شخص ہے جس کا چہرہ بے نقاب ہوچکا. وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ
    سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کیس میں پی ٹی آئی رہنما فیصل واوڈا سے دو سوالوں کے جوابات طلب کر لیے۔
    واضح رہے کہ وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کی جانب سے وارنٹ گرفتاری اور ایف آئی آر اخراج کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس صداقت علی خان نے گزشتہ 17 اکتوبر کو سماعت کی تھی. دوران سماعت عدالت کی جانب سے ایڈیشنل ڈی جی اینٹی کرپشن پر اظہار برہمی کیا تھا، جسٹس صداقت علی خان نے استفسار کیا تھا کہ آپ نے مقدمے کے ثبوت پیش کرنے ہیں، ثبوت کہاں ہیں؟ عدالت کی جانب سے مزید کہا گیا تھا کہ رانا ثنااللہ نے جس ہاؤسنگ سوسائٹی سے پلاٹ خریدے وہ پلاٹوں کا خریدار ہے، آپ خریدار کو تحفظ دینے کے بجائے اس کے خلاف مقدمات بنا رہے ہیں۔

  • ارشد شریف قتل کیس: دو رکنی تحقیقاتی ٹیم کینیا روانہ کردی گئی

    سینئر صحافی ارشد شریف کے قتل کیس میں تحقیقات کے لیے 2 رکنی ٹیم کینیا روانہ ہو گئی۔

    سینئر صحافی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کے لیے ڈائریکٹر ایف آئی اے اطہر وحید کی سربراہی میں تشکیل دی گئی 2 رکنی ٹیم کینیا کے لیے روانہ ہوگئی، جہاں وہ مختلف زاویوں سے قتل کیس کی تحقیقات کرکے واقعے کے محرکات اور دیگر حقائق کا تعین کرے گی۔

    وزیر اعظم شہباز شریف کے احکامات پر وزارت داخلہ کی جانب سے تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی ٹیم کے دونوں ارکان ڈائریکٹر ایف آئی اے اکیڈمی اطہر وحید اور ڈپٹی ڈائریکٹر انٹیلی جنس بیورو عمر شاہد حامد جمعہ کی صبح روانہ ہوئے۔فلائٹ شیڈول کے مطابق ٹیم کے سربراہ اطہر وحید قطر ائرلائن کی پرواز نمبر 615 کے ذریعے اسلام آباد سے دوحا روانہ ہوئے جبکہ عمر شاہد حامد کراچی سے دوحا کے لیے روانہ ہوگئے۔ تحقیقاتی ٹیم کے دونوں ارکان دوحا ائرپورٹ پر اکٹھے ہوں گے، جہاں سے قطر ائرویز ہی کی پرواز نمبر 1341 کے ذریعے نیروبی روانہ ہوں گے۔ وزارت خارجہ اور کینیا میں پاکستانی سفارت خانہ تحقیقاتی ٹیم کو قیام کے دوران سہولیات و معاونت فراہم کرنے پابند ہوں گے۔

    ذرائع کے مطابق تحقیقاتی ٹیم کینیا میں ارشد شریف کے پہنچنے، رہائش کا بندوبست اور رہائش کس کے ساتھ اختیار رکھنے سمیت پیش آنے والے حالات و واقعات کے بارے میں حقائق معلوم کرے گی۔ علاوہ ازیں تحقیقاتی ٹیم ارشد شریف کی کینیا میں پوسٹ مارٹم رپورٹ، فائرنگ کا نشانہ بننے والی گاڑی اور ٹریول ریکارڈ کا جائزہ لینے کے علاوہ وہاں کی پولیس ٹیم سے بھی ملے گی۔ تحقیقاتی ٹیم کا کینیا میں قیام کا دورانیہ 2 ہفتے تک ہو سکتا ہے۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛ غیرت کےنام پرماں بیٹی قتل:ملزمان گرفتار
    عمران خان ایک جھوٹا شخص ہے جس کا چہرہ بے نقاب ہوچکا. وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ
    سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کیس میں پی ٹی آئی رہنما فیصل واوڈا سے دو سوالوں کے جوابات طلب کر لیے۔
    اگر آرمی چیف غدار ہے تو آج بھی اس سے چھپ کر کیوں ملتے ہیں. ڈی جی آئی ایس آئی
    آرمی چیف کو کہا تھا کہ اگروہ آپ کو توسیع دے رہےہیں تو میں بھی دے دیتا ہوں:عمران خان مان گئے

  • فارن فنڈڈ فتنے کے ساتھ وہی سلوک ہورہا ہے جس کا وہ مستحق ہے. وفاقی وزیر

    فارن فنڈڈ فتنے کے ساتھ وہی سلوک ہورہا ہے جس کا وہ مستحق ہے. وفاقی وزیر

    فارن فنڈڈ فتنے کے ساتھ وہی سلوک ہورہا ہے جس کا وہ مستحق ہے. وفاقی وزیر

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ فارن فنڈڈ فتنے کے ساتھ وہی سلوک ہورہا ہے جس کا وہ مستحق ہے۔ گزشتہ روز سابق وزیر اعظم نے ایک ٹی وی انٹرویو میں آرمی چیف کو مدت ملازمت میں توسیع دینے کی آفر اور ایوان صدرمیں ہونے والی ملاقات کی تصدیق کی تھی۔ اپنے انٹرویو میں عمران خان نے کہا تھا کہ دنیا چاہتی ہے کہ پاکستانی فوج کمزور ہو، جبکہ وہ ہمیشہ کوشش کرتے ہیں کہ ان کی کسی بات سے دنیا میں فوج کا تشخص خراب نہ ہو، اگر میں کسی طرح کا بھی جواب دوں تو ادارے کا نقصان ہو گا۔

    سابق وزیر اعظم کے بیان پر وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ فتنے نے مان لیا کہ انہوں نے آرمی چیف کو غیر معینہ مدت کے لیے توسیع کی پیشکش کی تھی۔ مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ عمران خان نے اقتدار میں آتے ہی اپنے قریبی لوگوں سے آنکھیں بدل لیں، پاکستان تحریک انصاف کو صرف فارن فنڈ فتنے نے کرش کیا ہے، فارن فنڈڈ فتنے کے ساتھ وہی سلوک ہورہا ہے جس کا وہ مستحق ہے۔

    عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ آپ نے کرپشن نہیں کی، 4 سال ڈاکے ڈالے ہیں، آپ کو آزاد میڈیا سے نہیں بلکہ اپنے اندر کے فتنے کا خوف تھا، شہباز شریف اور راناثنااللہ جرائم پیشہ تھے تو 4 سال میں ثابت کردیتے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک تباہی کی طرف جانے سے 6 ماہ پہلے بچ گیا، الیکشن آئینی مدت پوری ہونےپر اگلے سال ہوں گے، والدین اپنے بچوں،بچیوں اور فیملیز کو خونی مارچ سے محفوظ رکھیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ غیرت کےنام پرماں بیٹی قتل:ملزمان گرفتار
    عمران خان ایک جھوٹا شخص ہے جس کا چہرہ بے نقاب ہوچکا. وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ
    سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کیس میں پی ٹی آئی رہنما فیصل واوڈا سے دو سوالوں کے جوابات طلب کر لیے۔
    اگر آرمی چیف غدار ہے تو آج بھی اس سے چھپ کر کیوں ملتے ہیں. ڈی جی آئی ایس آئی
    آرمی چیف کو کہا تھا کہ اگروہ آپ کو توسیع دے رہےہیں تو میں بھی دے دیتا ہوں:عمران خان مان گئے

  • روشن ڈیجیٹل اکاونٹ میں 5ارب سے زائد جمع کرائے گئے. گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد

    روشن ڈیجیٹل اکاونٹ میں 5ارب سے زائد جمع کرائے گئے. گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد

    گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی تمام بیرونی ادائیگیاں وقت پر کرے گا۔ پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں روشن ایکوٹی انویسٹمٹ مہم سے متعلق منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہاکہ اسٹیٹ بینک کے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے اسٹاک ایکس چینج مارکیٹ میں سرمایہ کاری اہم سنگ میل ہے،روشن ڈیجیٹل اکاونٹ میں 5ارب سے زائد جمع کرائے گئے ہیں،مارکیٹ کو وسعت دینے پر کام کرنے کی ضرورت ہے،اوور سیز پاکستانیوں کو روشن ایکویٹی سرمایہ کاری سہولت دی جائے گی۔

    انھوں نے کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکاونٹ بیرون ملک مقیم لاکوں پاکستانیوں سرمایہ کاری کے مواقع دے رہا ہے،بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی روشن ڈیجیٹل میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ قبل ازیں پی ایس ایکس کی چئیرپرسن ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا کہ پی ایس ایکس کو ٹریژری بلوں کی نیلامی میں شامل کیا جائے تو اس کا فائدہ ہوگا،کیپیٹل مارکیٹ میں مالیاتی شعبے کا دائرہ کار بڑھے گا،پاکستان اسٹاک کا بہترین ٹریڈنگ سسٹم ہے،ہماری توجہ بچت کے فروغ سے کیپیٹل مارکیٹ کو وسعت دینا ہے،ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے پاکستان کا خروج اچھی خبر ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ غیرت کےنام پرماں بیٹی قتل:ملزمان گرفتار
    عمران خان ایک جھوٹا شخص ہے جس کا چہرہ بے نقاب ہوچکا. وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ
    سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کیس میں پی ٹی آئی رہنما فیصل واوڈا سے دو سوالوں کے جوابات طلب کر لیے۔
    اگر آرمی چیف غدار ہے تو آج بھی اس سے چھپ کر کیوں ملتے ہیں. ڈی جی آئی ایس آئی
    ایم ڈی سینٹرل ڈپازٹری کمپنی بدر الدین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکاونٹ ہولڈر تین نکات سے اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں، اسٹاک مارکیٹ میں آر ڈی اے کے ذریعے 8 ارب کی سرمایہ کاری کی گئی ہے، آر ڈی اے کے 10293 اکاونٹ ہولڈرز اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

  • سی پیک؛ پاکستان کا 18.5ارب ڈالرکے 5 منصوبوں پرکام تیزکرنے کا عندیہ

    سی پیک؛ پاکستان کا 18.5ارب ڈالرکے 5 منصوبوں پرکام تیزکرنے کا عندیہ

    سی پیک؛ پاکستان کا 18.5ارب ڈالرکے 5 منصوبوں پرکام تیزکرنیکا مطالبہ پاکستان کی طرف سے 3,100 میگاواٹ کے بجلی منصوبوں پر بھی کا م کی رفتار بڑھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ گزشتہ روز سی پیک کی جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا 11واں اجلاس ہوا جس کی صدارت وفاقی وزیرمنصوبہ بندی پروفیسراحسن اقبال اورچین کے وائس چئیرمین این ڈی آر سی لن نین شیو نے وڈیو لنک کے ذریعے مشترکہ طور پر کی۔ ایکسپریس کے مطابق؛ اجلاس میں کسی نئے منصوبے کا اعلان نہیں کیا گیا بلکہ اب تک آٹھ سال سے تاخیر کا شکار منصوبوں پر کام میں تیزی لانے کا جائزہ لیا گیا۔

    پاکستان نے جن منصوبوں پر کام کی رفتار تیزکرنے پرزور دیا ان میں 10ارب ڈالر کا ریلوے کا ایل ایم ۔I منصوبہ،1.2ارب ڈالر کا کراچی سرکلر ریلوے منصوبہ،1.6 ارب ڈالر کا آزاد پتن ہائیڈروپاور پراجیکٹ،2.5 ارب ڈالر کا کوہالہ پاورپراجیکٹ اور تین ارب ڈالر کا تھرکول بلاک ون پراجیکٹ شامل ہیں۔یہ مصوبے برسوں سے تاخیر کا شکار ہیں۔پاکستان نے چین سے 584 ملین ڈالر کے گوادر پاورپلانٹ کی منتقلی کی بھی درخواست کی۔

    وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال نے خصوصی اقتصادی زونز کے قیام سمیت کچھ عرصہ سے نظر انداز کیے گئے بعض منصوبوں کی نشاندہی کی اور چین سے درخواست کی وہ پاکستان کے ریل سسٹم کو بچانے کیلئے پاکستان کی مددکرے کیونکہ گزشتہ ایک سال سے ریلوے سسٹم میں کوئی سرمایہ کاری نہیں ہوئی،اگر اسے نظر اندازکیا جاتا رہا تو ایک سال میں پورا ریل سسٹم بیٹھ سکتا ہے۔ اجلاس کا کوئی اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا۔ساری تفصیلات وزیراعظم شہبازشریف کے یکم نومبرکوشروع ہونے والے دو روزہ چین کے دوران جاری کی جائیں گی۔ سفارتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے اس دورے میں انفراسٹرکچر اور انرجی کے کچھ منصوبے پائپ لائن میں ہیں،اس کے علاوہ چین کو پاکستان کی زرعی مصنوعات کی برآمدات میں سہولت بھی پیدا کی جائے گی۔ وزیراعظم شہبازشریف کے دورہ میں آئی ٹی اور خصوصی اقتصادی زونزکے قیام سمیت کیپسٹی بلڈنگ اور دفاعی تعاون میں فروغ کے معاہدے کیے جائیں گے۔

    اجلاس کے بعد وفاقی وزیراحسن اقبال نے گفتگوکرتے ہوئے کہا اگر ہم اس اجلاس کے فیصلوں کا اعلان کردیتے ہیں تو وزیراعظم کے دورہ کی ساری باتیں کھل جائیں گی۔ انہوں نے کہا 2013ء میں شروع ہونے والے سی پیک میں اب تک18.8 ارب ڈالر کے 28 منصوبے مکمل کیے جاچکے ہیں جبکہ 34 ارب ڈالر کی اسکیمیں یا تو زیرتکمیل ہیں یا ابھی تک ان کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس جے سی سی اجلاس میں پاکستان نے چین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ سی پیک فریم ورک میں طے کیے گئے ٹیکسوں اور انرجی کے ٹیرف کا قائم رہے گا۔پاکستان نے چین سے حب اور گوادر کے درمیان بجلی کی بلارکاوٹ ترسیل کیلئے نئی ٹرانسمیشن لائن بچھانے میں تعاون کی بھی درخواست کی ہے۔

    پاکستان10ہزار میگاواٹ کی سولر انرجی کی پیداوار میں بھی چین کے تعاون کا متمنی ہے۔ اجلاس میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو کیلئے تعاون پربھی بات چیت کی گئی۔پاکستان ،چین اور سعودی عرب گوادر میں آئل ریفانری بھی قائم کریں گے۔اس کے علاوہ چین کے ایسٹ سی گروپ نے گوادر فری زون میں پانچ ملین ٹن کی ایک دوسری ریفائنری قائم کرنے پربھی آمادگی ظاہرکی ہے۔ جے سی سی اجلاس میں بابوسر ٹاپ ٹنل کی فیزیبلٹی،کراچی حیدرآباد موٹر وے کی بحالی ،ساگو روڈ پراجیکٹ اور مظفرآباد مانسہرہ روڈ کی تعمیرکا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے بعد وفاقی وزیراحسن اقبال نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ حکومت نے سی پیک منصوبوں کو متنازعہ بنایا،اس سے سی پیک کی رفتار متاثر ہوئی ،2018 تک سی پیک جے سی سی کے 7 اجلاس ہوئے،گزشتہ 4 سالوں میں بدقسمتی سے صرف 3 اجلاس ہوئے۔

    انہوں نے کہا کہ جب ہماری حکومت آئی تو سی پیک منصوبوں کی رفتار بڑھانا ترجیح تھی،ہم نے سی پیک منصوبوں پر تحفظات دور کیے،چند نئے شعبوں کی سی پیک کے فریم ورک میں نشاندہی کی گئی،سی پیک میں واٹر ریسورسز مینجمنٹ کو بھی شامل کیا گیا،آبی وسائل پرتوجہ دینا ضروری ہوگیا ہے تاکہ سیلاب سے بچنے کے ساتھ ساتھ پانی کی قلت سے بچا جا سکے۔امید ہے اس تعاون سے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ وفاقی وزیراحسن اقبال نے کہا کہ آئی ٹی میں چین پاکستان کی کمپنیوں میں تعاون کو فروغ دیں گے۔چین سے کمپنیوں کو پاکستان میں ریسرچ سینٹرز کیلئے مدعوکر رہے ہیں،چین کے ساتھ سینڈک اور تھرکول مائننگ میں کامیاب ہوئے،پاکستان معدنی وسائل سے مالامال ہے مائننگ میں بھی ورکنگ گروپ قائم کیا۔

    احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ایکسپورٹس بڑھانے کیلیے چین سے ٹیکنیکل معاونت مانگا ہے۔اگر ہم نے اگلے پانچ سال میں ایکسپورٹ100 ارب کر لی تو مستقبل اور ہے اور دس سال میں کی تو مستقبل اور ہے۔پاکستان میں زرعی شعبے کو بھی فروغ دیا جائے گا،گوشت اور سبزیاں ایکسپورٹ کی کیپسٹی بڑھانے کیلئے چین سے مدد مانگی ہے۔ انہوں نے کہا عمران خان نے پاکستان کے ہر ادارے کو نشانے پر رکھا ہوا ہے،قوم کو اداروں سے لڑانے والے سیاست دانوں کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے،پاکستان کے مستقبل سے کھیلنے کی کسی کو اجازت نہیں دیں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ غیرت کےنام پرماں بیٹی قتل:ملزمان گرفتار
    عمران خان ایک جھوٹا شخص ہے جس کا چہرہ بے نقاب ہوچکا. وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ
    سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کیس میں پی ٹی آئی رہنما فیصل واوڈا سے دو سوالوں کے جوابات طلب کر لیے۔
    احسن اقبال نے کہا کہ عمران خان نے پاکستانی فوج کیخلاف جو مہم چلائی ہے وہ کوئی پاکستانی برداشت نہیں کر سکتا ،اب پتہ چلا ہے کہ آپ رات کی تاریکی میں فوج سے ملتے تھے،اگر پاکستان میں امپائر نیوٹرل ہے توآپ کو تکلیف ہے، ثابت ہوتا ہے آپ کے سپانسرز نے پاکستان میں آپ کو انتشار پیدا کرنے کا مینڈیٹ دیا ہے۔آپ پاکستان کے عوام کو پاکستانی فوج سے لڑانا چاہتے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر اور ڈی جی آئی ایس آئی کی پریس کانفرنس لمحہ فکریہ ہے،یہ نہایت گھناؤنا کھیل عمران خان کھیل رہے ہیں،مجھے جس بنیاد پر خان صاحب ڈاکو کہتے تھے اسے عدالتوں نے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔آپ کو شرم آنی چاہیے،آپ نے جو ڈاکے ڈالے اور چوری کی اس کا حساب کون دیگا؟ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کا آئندہ دورہ خاص طور پر ایک ایسے وقت میں اہم ہو گا جب چین کے صدر شی جن پنگ تیسری بار چین کے رہنما منتخب ہو چکے ہیں اور یہ پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

  • عمران خان کے خلاف نیا پنڈورا باکس کھل گیا

    عمران خان کے خلاف نیا پنڈورا باکس کھل گیا

    توشہ خانہ کا سرکاری ریکارڈ سامنے آنے پر تہلکہ خیز انکشافات سامنے آئے اور عمران خان کے خلاف نیا پنڈورا باکس کھل گیا۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق سنہ 2019 کے بعد عمران خان نے عرب ممالک سے ملنے والا کوئی تحفہ ظاہر نہیں کیا اور انہوں نے عرب ممالک کے 10 دوروں میں ملنے والے قیمتی تحائف چھپائے۔ توشہ خانہ کے ریکارڈ کے مطابق عمران خان نے یہ 10 دورے 2019 سے 2021 کے درمیان کیے، جن میں غیرملکی سربراہان کی جانب سے ملنے والے تحائف کی مالیت کروڑوں روپے بتائی گئی ہے۔ 10 میں سے 5 دوروں میں ملنے والے تحائف کو ہی ظاہر کیا گیا اور ملنے والے تحائف کی قیمت اصل سے کم دکھائی گئی یا صرف کم قیمت تحائف کو ہی ظاہر کیا گیا۔

    سرکاری ریکارڈ کے مطابق مہنگے اور زیادہ قیمتی تحائف ظاہر نہیں کئے گئے۔ سابق خاتون اوّل بشری بی بی بھی ان 10 دوروں میں عمران خان کے ہمراہ تھیں اُس کے باوجود انہوں نے صرف ایک دورے میں ملنے والے تحائف ظاہر کئے جبکہ ریکارڈ میں بشری بی بی کو دیگر دوروں میں ملنے والے تحائف کا کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔ ریکارڈ کے مطابق اس دورانیے میں فواد چوہدری، حماد اظہر، ملک امین اسلم اور مولانا طاہر اشرفی نے بھی ملنے والے تحائف ظاہر نہیں کئے جبکہ اسدعمر بھی ان دوروں میں سابق وزیر اعظم کے ساتھ تھے اور انہوں نے بھی بیرونِ ملک سے ملنے والے تحائف ظاہر نہیں کیے۔

    اسی طرح سابق مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد بھی پانچ دوروں میں عمران خان کے ساتھ تھے، انہوں نے صرف ایک گھڑی اور ہرن کا ماڈل ہی ظاہرکیا جبکہ ذوالفقار (زلفی) بخاری 4 دوروں میں عمران خان کے ہمراہ تھے۔ انہوں نے صرف دو دوروں میں ملنے والے تحائف ظاہر کئے۔ ریکارڈ کے مطابق سابق وزیراعظم کے اسٹاف کو ملنے والے تحائف سے معلوم ہوا ہے کہ عمران خان اور ان کے وفد کے ارکان کو زیادہ قیمتی تحائف ملے تھے۔ ریکارڈ کے مطابق فروری 2020 میں عمران خان کو 3 لاکھ 25 ہزار مالیت کی میز پر رکھنے والی گھڑی تحفے میں ملی۔

    اس دورے میں عمران خان کے ہمراہ وفد کے ارکان اور سرکاری افسران کو جو تحائف ملے وہ بیش قیمت کے تھے۔ اس دورے میں عمران خان نے جو تحفہ ظاہر کیا وہ دیگر کے مقابلے میں نہایت کم قیمت تھا۔ اسی طرح سابق وزیراعظم کے پی ایس سو کو ملنے والی گھڑی عمران خان کے ظاہرکردہ تحفے سے دو گنا زیادہ قیمت کی نکلی۔ اسی دورے میں شاہ محمودقریشی، زلفی بخاری اور ندیم بابر نے جو گھڑیاں ظاہر کیں، وہ عمران خان سے تین گنا زیادہ قیمت کی نکلیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ غیرت کےنام پرماں بیٹی قتل:ملزمان گرفتار
    عمران خان ایک جھوٹا شخص ہے جس کا چہرہ بے نقاب ہوچکا. وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ
    سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کیس میں پی ٹی آئی رہنما فیصل واوڈا سے دو سوالوں کے جوابات طلب کر لیے۔
    توشہ خانہ ریکارڈ کے مطابق عرب ممالک کی شاہی روایت ہے کہ وہ وفد کے دیگر ارکان کے مقابلے میں وزیراعظم کو زیادہ قیمتی تحائف دیے جاتے ہیں، شاہی روایت کے مطابق جواہرات کے درجے میں آنے والے تحائف ہی وزیراعظم کو دئیے جاتے ہیں اس کے برعکس عمران خان نے جو تحائف ظاہر کئے وہ عرب ممالک کی شاہی روایات کے مطابق نہیں ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ ممکن نہیں تھا کہ وزیراعظم کو کم قیمت جبکہ وزرا اور اسٹاف کو زیادہ مہنگے تحائف ملے ہوں، 44 ماہ کے اقتدار کے دوران عمران خان نے کوئی قیمتی تحفہ ظاہر نہیں کیا اور انہوں نے 110 ملین (11 کروڑ) مالیت کے تحائف ظاہر کیے۔ عمران خان نے یہ تحائف 20 فیصد رقم ادا کرکے حاصل کئے اور تحائف فروخت کرکے حاصل ہونے والی آمدن سے توشہ خانہ میں 20 قیمت جمع کرائی ۔ واضح رہے کہ عمران خان کو 21 اکتوبر کو الیکشن کمیشن توشہ خانہ کیس میں پہلے ہی نااہل قرار دے چکا ہے۔

  • تحریک انصاف آج لاہور سے اپنے لانگ مارچ کا آغاز کرے گی

    تحریک انصاف آج لاہور سے اپنے لانگ مارچ کا آغاز کرے گی

    تحریک انصاف آج لاہور سے اپنے لانگ مارچ کا آغاز کرے گی.

    تحریک انصاف آج لاہور سے اپنے لانگ مارچ کا آغاز کرے گی۔ سابق وزیراعظم عمران خان رات گئے لانگ مارچ کی تیاریوں کا جائزہ لینے لبرٹی پہنچے تھے، جہاں وہ کنٹینر پر آئے اور کارکنوں سے مختصر خطاب کیا۔ اس سے پہلے اپنے ویڈیو پیغام میں عمران خان نے عوام سے لانگ مارچ میں شرکت کی اپیل بھی کی۔ عمران نے کہا کہ صبح گیارہ بجے لبرٹی چوک لاہور سے تحریک کا آغاز کر رہا ہوں، یہ تحریک حکومت گرانے یا لانے کے لئے نہیں ہے بلکہ حقیقی آزادی تک جدوجہد جاری رہے گی۔ چاہتے ہیں ملک کے فیصلے ملک میں ہوں، کون حکومت کرے گا اس کا فیصلہ عوام کریں، بند کمروں میں فیصلے نہ ہوں۔

    دو روز قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ کے پہلے روز کا شیڈول جاری کر دیا گیا تھا۔ پی ٹی آئی لاہور کے صدر امتیاز شیخ نے لانگ مارچ کے پہلے روز کا شیڈول جاری کرتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ کا آغاز 28 اکتوبر بروز جمعہ کو لبرٹی چوک سے ہو گا اور مارچ کے پہلے روز ہم شاہدرہ تک ہی جائیں گے۔ لانگ مارچ کلمہ چوک سے براستہ فیروز پور روڈ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان لانگ مارچ کے پہلے روز شرکا سے آزادی چوک پر خطاب کریں گے۔

    لانگ مارچ کے دوسرے روز کا آغاز شاہدرہ چوک سے ہو گا۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کو اپنے علاقوں میں اشتہاری مہم اور کیمپس لگانے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ تین روز پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے اپنی پریس کانفرنس میں لانگ مارچ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ انتخابات نہیں کرائیں گے اس لیے لانگ مارچ کا اعلان کر رہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حقیقی آزادی مارچ ہے اور اس کا کوئی ٹائم فریم نہیں ہے، جی ٹی روڈ سے براستہ اسلام آباد پہنچیں گے۔ اسلام آباد لڑائی کرنے نہیں جا رہے اور نہ ہم نے ریڈ زون میں جانا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ غیرت کےنام پرماں بیٹی قتل:ملزمان گرفتار
    عمران خان ایک جھوٹا شخص ہے جس کا چہرہ بے نقاب ہوچکا. وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ
    سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کیس میں پی ٹی آئی رہنما فیصل واوڈا سے دو سوالوں کے جوابات طلب کر لیے۔
    اگر آرمی چیف غدار ہے تو آج بھی اس سے چھپ کر کیوں ملتے ہیں. ڈی جی آئی ایس آئی
    آرمی چیف کو کہا تھا کہ اگروہ آپ کو توسیع دے رہےہیں تو میں بھی دے دیتا ہوں:عمران خان مان گئے
    دوسری جانب وزارت داخلہ نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے عدم استحکام کا خدشہ ظاہر کیا ہے، وزارت داخلہ نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے حوالے سے تمام صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتوں کو خط لکھا ہے۔ وزارت داخلہ کے خط میں کہا گیا ہے کہ کسی کو زبردستی طاقت کے ذریعے وفاق پر چڑھائی کی اجازت نہیں دی جا سکتی، وفاق اور صوبائی حکومتوں کو آئین کے تحت اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہیے، آئین کے تحت ہر صوبہ وفاقی قوانین پر عملدرآمد کا پابند ہے، وفاق صوبوں کو ہدایات دے سکتا ہے، تمام سرکاری ملازمین ریاستی قوانین کے تابع ہیں۔ کسی حکومتی ملازم کو لانگ مارچ میں شرکت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔