Baaghi TV

Author: +9251

  • نور مقدم کے لئے انصاف نہیں ملا اور ایک اور قتل ہو گیا ہے ماورا حسین کی جذباتی پوسٹ

    نور مقدم کے لئے انصاف نہیں ملا اور ایک اور قتل ہو گیا ہے ماورا حسین کی جذباتی پوسٹ

    باصلاحیت اداکارہ ماورا حسین نے بھی بول پڑی ہیں سارا کے بیہمانہ قتل پر. انہوں نے کہا کہ ہمیں نور مقدم کے قتل کے بعد آج تک انصاف نہیں ملا ، اس دوران اور بہت ساری لڑکیاں قتل ہو گئیں ہم ان سب کے گھر والوں کو انصاف ملنے کے منتظر تھے کہ ایک اور قتل ہو گیا ہے. ماورا حسین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس بے دردی سے دبئی پلٹ سارا کو قتل کیا گیا ہے اسکو دیکھ اور سن کر رونگھٹے کھڑے ہورہے ہیں. خدا سارا کے گھر والوں کو صبر عطا کرے، اللہ تعالی ان کو اس صدمے کو سہنے کی ہمت عطا کرے . ماورا حسین نے جسٹس فار سارا کا ہیش ٹیگ بھی پوسٹ کے آخر میں لگایا. یاد رہے معروف کالمسٹ ایاز امیر کے بیٹے شاہنواز امیر کی تین ماہ قبل سارا سے شادی ہوئی تھی سارا دبئی

    میں رہتی تھیں اور وہیں ملازمت بھی کرتی تھیں ابھی وہ اپنے شوہر کے پاس آئیں ہی تھیں کہ کسی بات کی تلخی پر شاہنواز نے سارا کو موت کے گھاٹ اتار دیا اس قتل کو دیکھ کر نور مقدم کے قتل کے زخم تازہ ہو گئے ہیں. ظاہر جعفری اعتراف جرم کر چکا ہے لیکن ابھی تک کیا ہوا ہے ؟ ہمارے ملک میں لڑکیاں عورتیں بچیاں قتل کر دی جاتی ہیں چند دن افسوس کیا جاتا ہے بعد میں بات ہو ا ہوجاتی ہے مجرم بھی چھٹ جاتے ہیں.

  • اس سال ہم ایوارڈز کو کینسل کیا جا سکتا تھا مدیحہ رضوی برس پڑیں

    اس سال ہم ایوارڈز کو کینسل کیا جا سکتا تھا مدیحہ رضوی برس پڑیں

    ہم ایوارڈز جو کہ آج کے دن کینڈا میں ہو رہے ہیں ان پر بے حد تنقید ہوئی ہے. سوشل میڈیا پر تو ہم ایوارڈز کو اٹینڈ کرنے والے تمام فنکاروں اور سلطانہ صدیقی سمیت ہم ٹی وی کی مکمل مینجمنٹ پر تنقید کی جا رہی ہے. کہا جا رہا ہے کہ ملک جب سیلاب اور پانی میں ڈوب رہا ہے ایسے میں فنکاروں کا ایوارڈز میں جانا ناچ گانے کے ریہرسلز کی وڈیو جاری کرنا باعث شرم ہے. ایسے میں بہت سارے فنکاروں کو وضاحت بھی دینا پڑی کہ ہم کینڈا میں سیلاب زدگان کے لئے فنڈ ریزنگ کررہے ہیں. لیکن اب تو شوبز انڈسٹری سے ہی ہم ایوارڈ کے اس سال انعقاد پر آوازیں اٹھ رہی ہیں. سینئر اداکارہ دیبا بیگم کی بیٹی مدیحہ رضوی نے حال ہی میں کہا ہے کہ ہم ایوارڈز اس سال کینسل بھی کئے جا سکتےتھے لیکن یہ ایوارڈز کے

    نام پر ڈرامہ کیوں کہ جی ملک کا بہت نقصان ہوا ہے لوگوں کا نقصان بہت ہوا ہے اور ہم کینڈا فنڈ ریزنگ کے لئے جا رہے ہیں. مدیحہ رضوی کی اس پوسٹ سے بہت سارے سوشل میڈیا صارفین نے اتفاق کیا ہے. سب کا کہنا ہے کہ ہم ایوارڈز کو اس برس کینسل کر دینا چاہیے تھا جبکہ بشری انصاری نے کہا ہے کہ اس قسم کا کوئی بھی ایونٹ کرنے کےلئے بہت پیسہ لگتا ہے پوری پلاننگ ہوئی ہوتی ہے ایکدم سے کینسل کرنا آسان نہیں ہوتا.

  • بے وفائی کا الزام غلط ہے، جب قیس سے ملی شگری سے تعلق ختم ہو چکا تھا آئمہ بیگ نے خاموشی توڑ دی

    بے وفائی کا الزام غلط ہے، جب قیس سے ملی شگری سے تعلق ختم ہو چکا تھا آئمہ بیگ نے خاموشی توڑ دی

    جب سے برطانوی ماڈل طیلولہ مائر نے پاکستانی گلوکارہ آئمہ بیگ اور قیس احمد کی چیٹنگ اور آڈیو کال سوشل میڈیا پر جاری کی ہے تب سے آئمہ بیگ ہیں تنقید کی زد میں . برطانوی ماڈل نے آئمہ بیگ پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ شہباز شگری سے منگنی کے دوران انہیں دھوکہ دیتی رہیں اور میرے بوائے فرینڈ کے ساتھ تعلقات استوار کرنے میں لگی رہیں. اس کے بعد آئمہ بیگ آ گئی ہیں شدید تنقید کی زد میں گلوکارہ کافی پریشان ہیں کیونکہ ان کو دھوکے باز کہا جا رہا ہے ان پر بےوفائی کا الزام لگایا جا رہا ہے. لیکن آئمہ بیگ نے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے اپنی طرف سے سب کلئیر کرنے کی کوشش کی ہے انہوں نے کہا ہے کہ میری اور قیس احمد کی ملاقات جب ہوئی اور ہماری دوستی جب ہوئی اس وقت میرا شہباز

    شگری سے تعلق ختم ہو چکا تھا لہذا مجھ پر بےوفائی کا الزام غلط لگایا جا رہا ہے میں اپنے رشتے میں مخلص رہی لیکن جب میری ملاقات قیس سے ہوئی میری شہباز شگری سے منگنی ختم ہو چکی تھی. یاد رہے کہ شہباز شگری پہلے سے شادی شدہ تھے لیکن ان کی طلاق ہو چکی تھی اس کے بعد انہوں نے آئمہ بیگ کے ساتھ منگنی کی. آئمہ بیگ کے ساتھ بظاہر تو ان کا تعلق ٹھیک چل رہا تھا لیکن معاملات اس وقت خراب ہوئے جب آئمہ کی دوستی قیس کے ساتھ ہوئی .

  • میری اہلیہ نے مجھے بہتر انسان بننے میں بہت مدد کی علی ظفر

    میری اہلیہ نے مجھے بہتر انسان بننے میں بہت مدد کی علی ظفر

    گلوکار و اداکار علی ظفر جو کہ اکثر و بیش تر اپنی اہلیہ عائشہ فاضلی کی تعریفیں کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں انہوں نے حال ہی میں بالی وڈ ہنگامہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی ماں نے انہیں بہت سپورٹ کیا انہیں اچھا انسان بنایاسب کی مائیں یہ سب کرتی ہیں میری ماں نے بھی کیا لیکن میری ماں کے بعد اگر مجھے کسی نے سنبھالا، مجھے اچھا انسان بنانے میں مدد کی تو وہ میری اہلیہ عائشہ فاضلی ہیں. انہوں نے زندگی کے مشکل ترین وقت میں میرا ساتھ دیا انہوں نے مجھے بہت کچھ سکھایا بتایا. علی ظفر نے مزید کہا کہ عائشہ فاضلی کے ساتھ گزرنے والا

    ہر دن ہر لمحہ کسی نعمت اور رحمت سے کم نہیں ہے. یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب علی ظفر نے اپنی اہلیہ عائشہ فاضلی کی تعریف کی ہے اس سے پہلے بھی وہ شادی کی سالگرہ پر کئی بار اپنی اہلیہ کے ساتھ شادی کو اپنی زندگی کا بہترین فیصلہ قرار دے چکے ہیں. عائشہ فاضلی اور علی ظفر نے 2009 میں شادی کی علی ظفر سکینڈلز کی زد میں بھی آئے لیکن عائشہ نے اپنا گھر خراب نہیں کیا اور اپنے شوہر کے قدم کے ساتھ قدم ملا کر کھڑی رہیں. عائشہ نے واقعتا ثابت کیا ہے کہ وہ بہترین بیوی اور بہترین بہو ہیں.

  • دھرنے سے نمٹنے کے لئے اسلام آباد پولیس نے باقاعدہ پلان تیار کرلیا

    دھرنے سے نمٹنے کے لئے اسلام آباد پولیس نے باقاعدہ پلان تیار کرلیا

    تحریک انصاف کے دھرنے سے نمٹنے کے لئے اسلام آباد پولیس نے باقاعدہ پلان تیار کرلیا ہے.

    اسلام آباد پولیس کے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ خان کی خصوصی ہدایت پر کمانڈنٹ ایف سی صلاح الدین محسود اور آئی جی اسلام آباد ڈاکٹر اکبر ناصر خاں کی زیر صدارت دھرنے سے نمٹنے کے لئے سنٹرل پولیس آفس میں اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں دھرنے سے نمٹنے کے لئے باقاعدہ پلان تیار کرلیا گیا۔


    اسلام آباد پولیس نے جاری اعلامیہ میں لکھا: ایف سی کی جتنی بھی تعداد کی ضرورت پڑی مہیا کی جائے گی ۔ افسران کو کسی بھی لاءاینڈ آرڈر صورتحال سے قانون کے مطابق نمٹنے کے لئے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جبکہ تمام افسران لاءاینڈآرڈر صورتحال سے قانون کے مطابق نمٹنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہیں. آئی جی اسلام آباد کا کہنا تھا: اسلام آباد کیپیٹل پولیس شہرکے امن و امان میں خلل ڈالنے کی ہرگز اجازت نہیں دے گی اور شہریوں کی جان و مال اور نجی وسرکاری املاک کے تحفظ کے لئے تمام تر ضروری اقدامات بروئے کار لائے گی۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ممکنہ لانگ مارچ اور دھرنے کے باعث سندھ پولیس کو اسلام آباد بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا تھا. باغی ٹی وی تفصیلات کے مطابق انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) سندھ کے احکامات پر 400 اہلکاروں کو اسلام آباد رپورٹ کرنے کی ہدایت کی ہے اور سندھ پولیس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر سندھ پولیس کے 3 ہزار اہلکاروں کو وفاقی دارالحکومت میں بھیجا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق سندھ میں سیلاب کے باعث اہلکاروں کو اسلام آباد بھیجنے میں مشکلات کا سامنا ہے جبکہ سندھ پولیس کو نفری کی کمی بھی درپیش ہے جس کے باعث اہلکاروں کو اسلام آباد بھیجنے سے سندھ میں محکمانہ معاملات نمٹانے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

  • سارا کے قتل کے بعد ماہرہ خان بھی بول اٹھیں، بولیں ایک اور ہیش ٹیگ، انصاف کا ایک اور طویل انتظار

    سارا کے قتل کے بعد ماہرہ خان بھی بول اٹھیں، بولیں ایک اور ہیش ٹیگ، انصاف کا ایک اور طویل انتظار

    گزشتہ روز سارا نامی ایک لڑکی اپنے شوہر کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتار دی گئی. معروف کالمسٹ ایاز امیر کے بیٹے شاہنواز جن کے بارے میں کہا جا تا ہے کہ وہ نشے کا عادی ہے اور اس نے نشے کی حالت میں اپنی اہلیہ کو قتل کر دیا لیکن ملزم نے پولسی کو بیان دیا ہے کہ اسکی اہلیہ کا افئیر تھا. اب اس شک کی بنیاد پر شاہنواز نے اپنی اہلیہ کو بے دردی سے قتل کرکے اسکی لاش کو باتھ روم ٹب میں ڈال دیا. اس واقعہ پر ہر آنکھ اشکبار ہے. ہر کوئی اس واقعہ کی مذمت کر رہا ہے. اداکارہ ماہرہ خان نے بھی اس واقعہ کی شدید مذمت کی ہے انہوں نے کہا کہ کب عورتوں کو انصاف ملے گا جو غصے کی حالت میں مار دی گئی . انہوں نے لکھا کہ کہ ایک اور ہیش ٹیگ ، انصاف کا ایک طویل انتظار . ” انصاف میں تاخیر

    انصاف سے انکار ہے. انہوں نے اپنی ٹویٹر پوسٹ پر جسٹس فار سارا کا ہیش ٹیگ بھی لگایا .یوں ماہرہ خان نے بھی اپنے ٹویٹ کے زریعے ملک کے انصاف کے نظام پر سوالات اٹھا دئیے. ماہرہ خان کے اس ٹویٹ سے بہت سارے لوگوں نے اتفاق کیا اور کہا کہ ہمارے ملک میں انصاف مشکل سے ملتا ہے اور عورت اگر قتل کر بھی دی جائے تو اسکو آنر کلنگ کا رنگ دیدیا جاتا ہے اور اکثر و بیش تر مجرم قتل کو آنر کلنگ کا رنگ دیکر بچ بھی جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آئے دن عورتیں قتل ہوتی ہیں اور قتل کرنے والے بے کوف و خطر پھرتے ہیں.

  • دا لیجنڈ آف مولا جٹ کے لئے فواد خان کو کتنا وزن بڑھانا پڑا ؟‌

    دا لیجنڈ آف مولا جٹ کے لئے فواد خان کو کتنا وزن بڑھانا پڑا ؟‌

    پاکستان اور بھارت میں یکساں‌مقبولیت رکھنے والے فواد خان جن کی فلم دا لیجنڈ آف مولا جٹ اگلے ماہ ریلیز ہونے جا رہی ہےاس ھوالے سے فواد خان نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ دا لیجنڈ آف مولا جٹ کا کردار مولا جٹ کرنے کے لئے ان کو اپنا کتنا وزن بڑھانا پڑا. انہوں نے کہا کہ اس کردار کےلئے میں نے اپنا پچیس تیس کلو وزن بڑھایا .اسی چکر میں میں ہسپتال جا پہنچا اور میرے گردے صحیح سے کام کرنا بند ہو گئے تھے پھر ڈاکٹروں کی ہدایات پر عمل کیا اور خود پر توجہ دی. فواد خان نے کہا کہ اپنی جسامت میں تبدیلی کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا آپ اپنا وزن کم زیادہ تو کر لیتے ہیں لیکن اسکا صحت پر بہت

    زیادہ نقصان ہوتا ہے. میں نے دا لیجنڈ آف مولا جٹ کا کردار کرنے کےلئے خود کا وزن تو بڑھا لیا لیکن جو میری صحت پر اثر پڑا اور جو میرا حال
    ہوا وہ مجھے ہی پتہ ہے اور میرا خیال ہے کہ میں آئندہ ایسی کوئی حرکت اپنے ساتھ نہیں کروں گا. ایک سوال کے جواب میں فواد خان نے کہا کہ میرا وزن 75 کلو تھا لیکن مجھے سو کلو تک وزن لیجانا تھا. فلم کے لئے پہلے وزن بڑھایا پھر کم کیا بس اسی دوران صحت کے حوالے سے کافی ڈسٹربڈ رہا. فواد خان نے زور دیا کہ کوئی بھی کام کرنے کےلئے خود کی صحت پر سمجھوتا نہ کریں. یاد رہے کہ دا لیجنڈ آف مولا جٹ 13 اکتوبر کو ریلیز ہو رہی ہے.

  • فنکاروں پر تنقید کرنے والے سیلاب زدہ علاقوں میں جا کر کیا خود کشتیاں چلا رہے ہیں ؟ بشری انصاری

    فنکاروں پر تنقید کرنے والے سیلاب زدہ علاقوں میں جا کر کیا خود کشتیاں چلا رہے ہیں ؟ بشری انصاری

    اداکارہ بشری انصاری نے حال ہی میں ایک وڈیو شئیر کی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ میں انڈس ہسپتال کی طرف سے سیلاب زدگان کےلئے فنڈ ریزنگ کرنے دبئی آئی ہوں، ہماری پوری توجہ سیلاب زدگان کی طرف ہے. میں سن رہی ہوں کہ کچھ لوگ ہم ایوارڈز پر تنقید کررہے ہیں، حالانکہ یہ تنقید بالکل ہی بےجا ہے کیونکہ یہ سمجھنا چاہیے کہ جب کسی ایونٹ کے انعقاد کا پلان کیا جاتا ہے تو اس ھوالے سے منصوبہ بندی مہینوں پہلے شروع کر دیاجاتی ہے،بھاری پیمانے پر پیسہ لگتا ہے یہ کوئی آسان نہیں ہوتا کہ ایکدم سے کسی بھی ایونٹ جس کی تیاریاں مہینوں پہلے کر لی گئی ہوں اسکو کینسل کر دیا جائے. سلطانہ صدیقی نے اعلان کیا ہے کہ ان ایوارڈز اور یہاں پر ہم جو تقاریب کررہے ہیں ان سے حاصل ہونے والی آمدنی

    کا پانچ فیصد ہم سیلاب زدگان کو دیں گے جو کہ اچھی خاصی امائونٹ بنتی ہے.بشری انصاری نے یہ بھی کہا کہ جس طرح سے کرکٹرز کھیل کے زریعے فنڈز اکٹھے کر کے سیلاب زدگان کو دے رہے ہیں اسی طرح سے فنکار بھی کررہے ہیں. جو لوگ فنکاروں پر تنقید کررہے ہیں کیا وہ سیلاب زدہ علاقوں میں کشتیاں چلا رہے ہیں؟ نہیں نا .اسلئے ہم سب اپنی طرف سے جو جو کرسکتے ہیں کر رہے ہیں ایک دوسرے پر تنقید کرنے کی بجائے اپنا اپنا کام کرنا چاہیے. اور یقین رکھیے کہ سب ٹھیک ہوجائیگا.

  • سیلابی صورتحال میں بچوں کا تعلیمی مستقبل کیا ہوگا؟

    سیلابی صورتحال میں بچوں کا تعلیمی مستقبل کیا ہوگا؟

    سیلابی صورتحال میں بچوں کا تعلیمی مستقبل کیا ہوگا؟

    پاکستان میں حالیہ غیر معمولی بارشوں کی وجہ سے سیلاب نے سب سے زیادہ متاثر سندھ کو کیا ہے۔ اس قدرتی آفت کی وجہ سے سندھ کے 23 اضلاع اور ایک کروڑ 45 لاکھ سے زیادہ آبادی کو نقصان پہنچا ہے۔ سیلاب نے مجوعی طور پر 16 ملین بچوں کو متاثر کیا ہے، جنھیں صحت و غذا کے ساتھ تعلیمی سرگرمیاں معطل ہونے کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ فہمیدہ یوسفی نے اپنے مضمون میں لکھا کہ بے گھر ہونے والے خاندانوں کے پاس نہ تو غذا ہے اور نہ ہی صاف پانی۔ اسکولوں، پانی کا نظام اور صحت کی سہولیات کا اہم بنیادی ڈھانچہ تباہی کا شکار ہے۔ ایک جانب سندھ کے سیلاب متاثرین صحت اور غذا کے بحران کا سامنا کررہے ہیں، تو دوسری جانب سیلاب کی تباہ کاریوں نے بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔

    ریلیف کیمپوں میں موجود یہ بچے شدید دکھ، خوف، پریشانی اور ذہنی اذیت کا سامنا کررہے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے نہ صرف اپنے گھر کو، اپنے پیاروں کو، اپنے پسندیدہ کھلونوں اور ماحول کو تو کھویا ہی ہے بلکہ اپنے اسکولوں کو بھی کھو دیا ہے۔ سندھ کے وزیر تعلیم سید سردار شاہ نے اپنے ایک بیان میں اس خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں بیس سے بائیس لاکھ بچوں کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ سندھ میں سرکاری اسکولز کی کل تعداد 44217 ہے، جن میں سے 22291 اسکولوں کی عمارتوں کو ریلیف کیپمپ میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ 5619 اسکولوں کی عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہیں، جبکہ 11922 اسکولوں کی عمارتوں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ جس کا مطلب 17541 اسکولز کی عمارتیں متاثر ہیں، یعنی چالیس فیصد اسکول تباہ ہوگئے ہیں۔ تو پھر اس ایمرجنسی صورتحال میں بچوں کا تدریسی عمل کیسے بحال ہوگا؟

    ذرائع کے مطابق محکمہ ایجوکیشن سندھ کے تحت تمام اضلاع میں ٹینٹ اسکول قائم کیے جارہے ہیں۔ اب تک پرائمری سطح کے 1254 ٹینٹ اسکولز قائم کیے جاچکے ہیں جبکہ سیکنڈری اسکولوں کی تعداد 146 ہے۔ مخلتف سیلابی کیمپس میں جاکر رضاکارانہ طور پر بچوں کو پڑھانے والوں کا کہنا ہے کہ بچے پڑھنا اور سیکھنا چاہتے ہیں اور ان کا رسپانس بہت مثبت ہے۔ لیکن ان بچوں کو کاؤنسلنگ کی اشد ضرورت ہے کیونکہ ان کا یہ ٹراما بہت بڑا ہے اور ہم کوشش کررہے ہیں کہ ان کی مدد کریں اور ان کے ایج گروپس کے حساب سے مختلف قسم کی نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں سے ان کو مصروف رکھیں۔ ریلیف کیمپس میں تعلیمی سرگرمیاں بحالی ضروری ہے ریلیف کیمپوں میں عارضی طور پر ہی سہی لیکن تعلیمی سرگرمیوں کا محدود پیمانے پر ہی بحال کیا جانا بہت ضروری ہے۔ اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ متاثرہ بچوں نے اپنے گھر ڈوبتے دیکھے، اپنی چیزوں کو تباہ ہوتا دیکھا اور لوگوں کو مرتے دیکھا ہے، اس سانحے نے جو نفسیاتی دباؤ ڈالا ہے بچوں کو اس نفسیاتی دباؤ سے نکلنے میں مدد مل سکے گی۔

    ناگہانی آفت کی وجہ سے پاکستان کے تعلیمی نظام کو جو نقصان پہنچا ہے وہ ناقابل تلافی ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس قدرتی آفت پر کسی کا کنٹرول نہیں۔ اس وقت سیلاب متاثرین کے ریلیف کیمپوں میں موجود بچوں کو پڑھانے کا انتظام کرنے والے رضاکار، فلاحی ادارے اور حکومت اپنی اپنی سطح پر کوشش کررہے ہیں کہ وہاں موجود بچوں کو تعلیمی طور پر مصروف کیا جائے تاکہ تعلیم کا سلسلہ محدود طور پر ہی سہی لیکن شروع کیا جاسکے۔ فلڈ ایمرجنسی کے ساتھ ساتھ تعلیمی ایمرجنسی بھی لگانا ہوگی۔
    سیلاب سے متاثرہ بچوں کی ذہنی بحالی ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی طور پر جب بھی کوئی ڈیزاسٹر جیسا کہ سیلاب وغیرہ آتا ہے تو سب سے پہلے سائیکولوجسٹ اور سائیکاٹرسٹ کی ٹیم بنائی جاتی ہے جو ریلیف کیمپ میں موجود بچوں کی تشخیص کرتے ہیں۔ سب سے پہلے تو ماہرین کی یہ ٹیم دیکھتی ہے کہ یہ بچے کن کن ذہنی بیماریوں کا سامنا کررہے ہیں۔ اس کےلیے باقاعدہ بچوں کے انٹرویو کیے جاتے ہیں تاکہ اندازہ کیا جاسکے کہ بچوں کو کس طرح کے ٹریٹمنٹ کی ضرورت ہے اور اسی کے مطابق بچوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ تاہم پاکستان کی بات کی جائے تو سیلاب کی تباہی بہت زیادہ ہے، حکومت متاثرین کی بنیادی ضروریات ہی پورا کرلے تو وہی بہت ہے۔

    سیلاب متاثرین بچے Post-Traumatic Stress Disorder(PTSD) سے گزرتے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے اپنے والدین کو شدید خوف میں دیکھا ہے اور وہ ان کی پریشانی اور تکلیف کی وجہ سے پریشان ہوجاتے ہیں۔ سیلاب کے فلیش بیک ان کے دماغ میں چل رہے ہوتے ہیں، اس کی وجہ سے ان بچوں کو نیند میں ڈراؤنے خواب آتے ہیں۔ یہ بچے اس وقت شدید خوف اور احساس کمتری کا بھی شکار ہیں۔ ان بچوں کے رویے میں افسردگی اور خاموشی بڑھتی جاتی ہے اور وہ ڈپریشن کی طرف بھی جاسکتے ہیں۔ ایسے میں بچے اپنے آپ سے تعلق ختم کرلیتے ہیں اور اپنے ماحول سے فرار چاہتے ہیں۔ کبھی روتے ہیں، کبھی سر میں درد کی شکایت کرتے ہیں۔ اس وقت ان بچوں کو سائیکولوجیکل کاؤنسلنگ کی ضرورت ہے تاکہ ان بچوں کی خوداعتمادی کو بحال کیا جاسکے۔ سیلاب کی تباہ کاریوں کے اثرات بچوں پر تادیر رہیں گے، اس کےلیے ان کی ذہنی تعلیم اور تربیت کی اشد ضرورت ہوگی۔

  • فیک نیوز پر نجی ٹیلی ویژن چینل ایکسپریس نیوز کو پیمرا کا شوکاز نوٹس، جواب طلب

    فیک نیوز پر نجی ٹیلی ویژن چینل ایکسپریس نیوز کو پیمرا کا شوکاز نوٹس، جواب طلب

    فیک نیوز دینے پر نجی ٹیلی ویژن چینل ایکسپریس نیوز کو پیمرا نے شوکاز نوٹس جاری کردیا.

    ایکسپریس نیوز نے ایک خبر دی تھی جس کا عنوان تھا "اعلیٰ فوجی افسران کیلیے ریٹائرمنٹ پر 6 ہزار سی سی بلٹ پروف گاڑی پر ٹیکس کی چھوٹ” تاہم بعدازاں اس خبر کو ادارے نے اپنی ویٹ سائیٹس سے ڈیلیٹ کردیا تھا.واضح ریے کہ اس خبر میں ایکسپریس نیوز نے دعوی کیا تھا کہ: "وفاقی حکومت نے لیفٹیننٹ جنرلز اور اس سے اوپر کے افسران کو ریٹائرمنٹ پر 6000 سی سی تک کی بلٹ پروف گاڑیاں بغیر ٹیکسوں اورکسٹمز ڈیوٹی کے درآمد کرنے کی مشروط اجازت دیدی ہے۔

    ایکسپریس نیوز نے ایف بی آر سے منسوب ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق دعوی کیا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرلز، آرمی چیف، چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی اور سروسز چیفس کو ریٹائرمنٹ کے بعد 6000 سی سی تک کی گاڑیاں منگوانے پر کسٹمز ڈیوٹی، سیلز ٹیکس، ودو ہولڈنگ ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سمیت تمام ٹیکسوں کی چھوٹ ہوگی۔ تاہم بعد ازاں اس خبر کے سامنے آنے کے بعد ایف بی آر نے ایسے نوٹیفیکیشن کی تردید کردی جس کے تحت یہ دعوی کیا جارہا تھا.

    ادھر پیمرا نے اس جھوٹی خبر پر نجی وی چینل کو شوکاز نوٹس دیتے ہوئے کہا کہ ارشاد انصاری کے نام سے جو خبر ایکسپریس پر شائع ہوئی وہ فیک نیوز ہے کیونکہ اب اس حوالے سے ایف بی آر نے تردید کردی ہے کہ ایسا کسی قسم کا کوئی نوٹیفیکیشن جاری نہیں ہوا ہے. لہذا ایکسپریس نیوز نے قانون کے سیکشن 20 آف پیمرا آرڈیننس ایکٹ 2002 جیسے پیمرا (ترمیمی) ایکٹ 2007، پیمرا رول 15، اور پیمرا رول 2019 وغیرہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بنا کسی تصدیق کے یہ خبر چلائی ہے. پیمرا نے کمپنی کے سی ای او کو 4 اکتوبر کو طلب کرتے ہوئے تنبیہ کی کہ وہ اپنا لکھا ہوا جواب بھی ساتھ لائے.