Baaghi TV

Author: +9251

  • جس ملک کا سابق وزیراعظم عورتوں کے ریپ کو انکے لباس سے جوڑے تو عام آدمی کی عورت بارے کیا سوچ ہوگی جواد احمد

    جس ملک کا سابق وزیراعظم عورتوں کے ریپ کو انکے لباس سے جوڑے تو عام آدمی کی عورت بارے کیا سوچ ہوگی جواد احمد

    ایاز امیر کے بیٹے شاہنواز امیر نے جس بے دردی سے اپنی اہلیہ کا قتل کیا ہے اس پر درد دل رکھنے والے تڑپ اٹھے ہیں. برابری پارٹی پارٹی کے چئیرمین جواد احمد نے کہا ہے کہ ہم منافق ہیں اپنی عورت کو تو ہم بچا کر رکھنا چاہتا ہے لیکن دوسرے کی عورت پر ایسے نظر رکھتے ہیں جیسے کہ ہم بازار میں کھڑے ہیں اور اسکے ساتھ جیسا مرضی سلوک کریں لیکن جب ان کی اپنے گھر کی عورت ان کی باتوں سے اتفاق نہ کرے تو ایسے میں وہ اپنی عورتوں کو بھی ایسی عورتوں کی صف میں لا کھڑا کرتے ہیں جن کے ساتھ جیسا مرضی سلوک کیا جائے. خصوصی طور پر اگر وہ بات نہیں مان رہی اپنے ذہن کے مطابق چلنا چاہتی ہے تو اسکو مار دیا جائے یا قتل کر دیا جائے بیچ کا کوئی راستہ انہیں سمجھ نہیں آتا. انڈیپینڈینٹ ہے تو بدکرادری کا الزام لگا دیا جائے. ایسی سوچ

    بڑے خاندانوں سے لیکر چھوٹے خاندانوں تک پائی جاتی ہے. ہمارے ہاں جو ادیب اور دانشور ہیں وہ عورتوں کے بارے میں ایسی باتیں کرتے ہیں یا سوچ رکھتے ہیں کہ انسان پریشان ہوجاتا ہے. جیوڈشری میں بھی ایسی ہی سوچ کے مرد ہیں ورنہ عورتوں کو قتل کرنے والوں کو ضرور سزائیں ملیں. پدرسری نظام میں ایسا ہی ہوتا ہے. انصاف کا نظام تب بدلے گا جب عورت کو اس کا اصل مقام دیاجائے گا اسکو انسان سمجھ کر ٹریٹ کیا جائےگا جب سوسائٹی کی سوچ بدلے گی. کل جو واقعہ رونما ہوا ہے اسکے بارے سن کر دل بہت پریشان ہوا ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہم عورتوں کے بارے میں کیا سوچ رکھتے ہیں.

  • انصاف کے نظام میں سقم نہ ہوں تو لڑکی کا قتل کرنے والے کبھی نہ بچیں انجمن

    انصاف کے نظام میں سقم نہ ہوں تو لڑکی کا قتل کرنے والے کبھی نہ بچیں انجمن

    گزشتہ روز ایک دل دہلا دینے والی خبر سامنے آئی جس کے مطابق معروف کالمسٹ ایاز امیر کے بیٹے شاہنواز امیر نے اپنی اہلیہ سارا کو تشدد کرکے مار ڈالا مارنے کی وجہ کریکٹر کا ٹھیک نہ ہونا بتایا جا رہا ہے. اس واقعہ پر ری ایکشن دیتے ہوئے اداکارہ انجمن نے کہا ہے کہ ہمارے ملک میں بہت آسان ہے کسی عورت کو بد کردار کہہ کر رسوا کرنا یا قتل کر دینا. اگر ہماری ریاست اور ہمارا قانون عورت کو تحفظ دے اور اسے غیرت کے نام پر قتل کرنے یا اسکو کسی بھی وجہ سے قتل کرنے والے کو کڑی سے کڑی سزا بلکہ موت کی سزا سنائے اور سر عام پھانسی دے تو کسی کی جرائت نہیں ہو گی کہ وہ اس طرح کا کام کرجائے. انجمن نے کہا کہ فلمسٹار نادرا کا بھی قتل کر دیا گیا آج تک اس کے قاتل پکڑے نہ گئے ، نور مقدم کے قاتل

    نے اعتراف جرم بھی کر لیا لیکن کیا ہوا ؟کچھ بھی نہیں. قاتلوں کو جب سزا نہیں ملے گی تو ان کی حوصلہ افزائی ہو گی اور انہیں پتہ ہو گا کہ وہ جو بھی کرلیں انہیں کوئی کچھ نہیں‌کہہ سکتا اور اگر پکڑے بھی گئے تو چھٹ جائیں گے . کل کے واقعہ نے دل دہلا دیا ہے میں تو بار بار کہوں گی کہ ایسے قاتلوں کو سر عام پھانسی دی جائے تاکہ ان کی پھانسی کے عمل کو دیکھ کر دوسرے عبرت پکڑیں.

  • ڈیوٹی اور ٹیکس سے استثنیٰ،  گاڑیوں کی امپورٹ کی خبر  بے بنیاد. ایف بی آر

    ڈیوٹی اور ٹیکس سے استثنیٰ، گاڑیوں کی امپورٹ کی خبر بے بنیاد. ایف بی آر

    ڈیوٹی اور ٹیکس سے استثنیٰ گاڑیوں کی امپورٹ کی خبر بے بنیاد ہے. ایف بی آر

    گزشتہ دنوں سے ایک فیک نیوز زیر گردش ہے جس میں ایک جھوٹا دعوی کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے لیفٹیننٹ جنرلز اور اس سے اوپر کے افسران کو ریٹائرمنٹ پر 6000 سی سی تک کی بلٹ پروف گاڑیاں بغیر ٹیکسوں اورکسٹمز ڈیوٹی کے درآمد کرنے کی مشروط اجازت دے دی ہے۔ ایک جھوٹے ایف بی آر کے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق: لیفٹیننٹ جنرلز، آرمی چیف، چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی اور سروسز چیفس کو ریٹائرمنٹ کے بعد 6000 سی سی تک کی گاڑیاں منگوانے پر کسٹمز ڈیوٹی، سیلز ٹیکس، ودو ہولڈنگ ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سمیت تمام ٹیکسوں کی چھوٹ ہوگی۔ جبکہ اس بارے میں ایف بی آر نے وضاحت کی ہے کہ: ڈیوٹی اور ٹیکس سے استثنیٰ گاڑیوں کے لیے ایس آر او جاری نہیں کیا گیا ہے، اور کابینہ نے 2019 میں سہولت کی اجازت دینے کے فیصلے کی منظوری دی تھی تاہم اب تک اس سلسلے میں کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا.


    مزید یہ پڑھیں: کے پی حکومت نے وفاقی حکومت کو سیکیورٹی کے لیے پولیس نفری دینے سے انکار کردیا
    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا بدین میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ
    ڈان نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ: "یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ یہ سہولت کن شرائط سے مشروط ہوگی یا یہ صرف ریٹائرڈ آفیسرز پر لاگو ہوگی جبکہ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد چیزیں واضح ہو جائیں گی اور اس حکومتی فیصلے پر سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے یہ نوٹیفکیشن فی الحال مؤخر کر دیا، اب یہ نوٹیفکیشن وزیر اعظم سیکرٹریٹ اور وزیر خزانہ سے منظوری کے بعد جاری کیا جائے گا۔”

    واضح رہے کہ اس خبر کو کئی نجی ٹی وی چینلز نے بھی شائع کیا تاہم بعد میں اس جھوٹی خبر کو ہٹا دیا گیا، کیونکہ یہ خبر منگھڑت تھی لیکن اب جھوٹی خبر دینے پر ٹی وی چینل ایکسپریس کو پیمرا نے شوکاز نوٹس بھی جاری کردیا ہے.

    باغی ٹی وی اسلام آباد فیکٹ چیک نے پہلے ہی بتادیا تھا کہ یہ خبر سراسر ایک منگھڑت کہانی ہے. کیونکہ باغی ٹی وی کو معتبر ذرائع سے بتادیا گیا تھا یہ ایک فیک نیوزہے.

  • فواد چودھری کا مقصد جماعت اور عمران خان کو نقصان پہنچانا ہے. رہنماء پی ٹی آئی حامد خان

    فواد چودھری کا مقصد جماعت اور عمران خان کو نقصان پہنچانا ہے. رہنماء پی ٹی آئی حامد خان

    فواد چودھری کا مقصد جماعت اور عمران خان کو نقصان پہنچانا ہے. رہنماء پی ٹی آئی حامد خان

    پاکستان تحریک انصاف کے بانی رکن حامد خان نے پارٹی رہنما اور پی ٹی آئی دور حکومت میں وزیر اطلاعات پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ فواد چودھری بھیجے گئے ہیں۔ انہیں بھیجنے کا مقصد عمران خان اور پارٹی کو نقصان پہنچانا ہے۔ ماہر قانون دان نے نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے پارٹی کے دیگر رہنماؤں سے متعلق مزید انکشاف کیا کہ علیم خان اور جہانگیر ترین نے بھی چیئرمین پی ٹی آئی کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ عمران خان سے اختلافات کی وجوہات بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین اور علیم خان کو تحریک انصاف میں شامل کرنا اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس فائل کرنا سابق وزیراعظم سے دوریوں کا بنیادی سبب تھا۔

    پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ابتدا ہی سے یہ بات عمران خان کے علم میں لائی گئی تھی کہ علیم خان اور جہانگیر خان ترین دونوں پارٹی کو ہائی جیک کرنے کے لیے آئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کی وزارت عظمیٰ کے خاتمے میں بھی جہانگیر ترین اور علیم خان ہی کا بڑا ہاتھ ہے۔ حامد خان نے الزام عائد کیا کہ ان دونوں افراد ہی نے عمران خان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما نے مزید بتایا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف وزیراعظم کے ریفرنس پر دو ٹوک مؤقف دیا تھا کہ ایمان دار اور قابل جج کے خلاف ریفرنس مخصوص قوتوں کی جانب سے کروایا گیا ہے، اور یہ بات بعد میں ثابت بھی ہوئی کہ جہانگیر خان ترین، علیم خان اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے متعلق میرے خدشات اور دعوے غلط نہیں تھے۔ حامد خان نے دعویٰ کیا کہ معاملات کھل کر سامنے آنے پر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے شاہ محمود قریشی کو مجھے منانے کے لیے بھیجا تھا جس میں پیغام دیا گیا تھا کہ وہیں سے سفر کا پھر آغاز کرتے ہیں، جہاں سے سفر چھوٹ گیا تھا۔

  • ہرتیک روشن اور عمران ہاشمی ہوئے دیوانے دا لیجنڈ آف مولا جٹ کے پوسٹرز کے

    ہرتیک روشن اور عمران ہاشمی ہوئے دیوانے دا لیجنڈ آف مولا جٹ کے پوسٹرز کے

    ”دا لیجنڈ آف مولا جٹ” فلم ریلیز سے پہلے ہی بہت زیادہ چرچہ میں ہے۔ فلم کا ٹریلر ریلیز ہونے کے بعد پاکستان سمیت انڈیا میں بھی دھوم مچ گئی تھی۔ اب حال ہی میں ماہرہ خان اور حمائمہ ملک نے اپنے اپنے کرداروں کے پوسٹرز شئیر کئے ہیں۔ جیسے ہی انہوں نے پوسٹرز شئیر کئے تو ان کے بھارتی مداحوں نے بھی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بیسٹ وشز بھیجیں ۔ اداکار ہرتیک روشن نے ماہرہ خان کے پوسٹر کے نیچے لکھا لو اٹ اسی طرح سے عمران ہاشمی جنہوں نے اداکارہ حمائمہ ملک کے ساتھ ایک فلم بھی کی تھی انہوں نے اپنی دوست اور کو سٹار حمائمہ ملک کولکھا آپ پوسٹر میں بہت اچھی لگ رہی ہیں ہم فلم کی ریلیز کے منتظر ہیں۔ یوں فلم کا ٹریلر ریلیز ہونے پر بہت سارے انڈین فلم میکرز نے نیک تمنائوں کا اظہار کیا

    تھا۔ یاد رہے کہ فلم دا لیجنڈ آف مولا جٹ 13 اکتوبر کو ریلیز ہونے جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کی ابھی تک کی یہ سب سے بڑے بجٹ سے تیار کردہ فلم ہے۔ فلم میں فواد خان، حمزہ عباسی ، حمائمہ ملک اور ماہرہ خان اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ فلم کو بلال لاشاری نے ڈائریکٹ کیا ہے۔ فواد خان اور ماہرہ خان کے فواد ان کو ایک ساتھ دیکھنے کےلئے بےتاب ہیں اور خصوصی طور پر انہیں پہنجابی بولتے ہوئے دیکھنے کے لئے پرجوش ہیں۔

  • وفاقی حکومت نے صدر مملکت عارف علوی کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنے کے لئے مدعو کرلیا

    وفاقی حکومت نے صدر مملکت عارف علوی کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنے کے لئے مدعو کرلیا

    وفاقی حکومت نے صدر مملکت عارف علوی کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنے کے لئے مدعو کرلیا۔

    پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت نے صدر مملکت عارف علوی کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے لئے با ضابطہ مدعو کرلیا۔ اس حوالے سے اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کے تحفظات بھی دور ہوگئے ہیں۔ صدر کے پارلیمنٹ سے مشترکہ خطاب سے متعلق وفاقی حکومت، اتحادی جماعتوں اور اسپیکر آفس میں طویل مشاورت ہوئی۔ حکومت نے صدرمملکت کوخطاب کی دعوت دینے سے قبل دیگر آپشنز پربھی غورکیا۔
    ذرائع کا کہنا ہے کہ مخلوط حکومت کوخدشہ تھا کہ صدر اپنے خطاب میں سیاسی تناظر میں الفاظ استعمال کرسکتے ہیں۔ وفاقی حکومت صدر مملکت کو تحریری جبکہ صدر مملکت فی البدیہہ خطاب کے آپشنز پر غور کررہے تھے۔ قومی اسمبلی کے آئینی اور قانونی ماہرین نے وفاقی حکومت کو حکمت عملی سے آگاہ اور خطاب کے بارے میں قائل کیا۔ صدر مملکت کا مشترکہ اجلاس سے خطاب نئے پارلیمانی سال کے لئے ضروری ہے۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اکتوبر کے پہلے ہفتے میں طلب کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل 26 مئی 2022 کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں، سینیٹ اور قومی اسمبلی کا مشترکہ اجلاس طلب کیا تھا اس ضمن میں ایوانِ صدر سے جاری اعلامیے کے مطابق پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 26 مئی بروز جمعرات سہ پہر 4 بجے طلب کیا گیا تھا۔ مشترکہ اجلاس آئین کے آرٹیکل 54(1)چ کے تحت طلب کیا گیا تھا۔ یہاں یہ بات مدِ نظر رہے کہ موجودہ حکومت میں شامل جماعتوں نے تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں سابق وزیراعظم عمران خان کو اقتدار سے بے دخل کردیا تھا۔ جبکہ پی ٹی آئی حکومت نے تحریک عدم اعتماد اور حکومت کے خاتمے کو غیر ملکی سازش قرار دیا تھا اور احتجاجاً قومی اسمبلی سے استعفے دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

  • اسحاق ڈار کے دائمی وارنٹس معطل ہونے کا تحریری فیصلہ جاری

    اسحاق ڈار کے دائمی وارنٹس معطل ہونے کا تحریری فیصلہ جاری

    اسحاق ڈار کے دائمی وارنٹس معطل ہونے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا گیا ہے

    احتساب عدالت نے اسحاق ڈار کے دائمی وارنٹس معطل ہونے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اسحاق ڈار کو موقع دیا جاتا ہے 7 اکتوبر کو ٹرائل کا سامنا کرنے پیش ہوں، سات اکتوبر تک اسحاق ڈار کے وارنٹس پر عملدرآمد معطل رہے گا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ فیئر ٹرائل اور قانونی پراسیس کا بنیادی حق ہر شہری کو حاصل ہے۔ اسحاق ڈار کے وارنٹس ان کی عدالت حاضری یقینی بنانے کیلئے ہی تھے، اسحاق ڈار کے وکیل نے بتایا وہ متعدد بیماریوں میں مبتلا ہیں، بتایا گیا کہ اسحاق ڈار کو ڈاکٹر نے ابھی بھی کہا اپنے رسک پر سفر کریں۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز حتساب عدالت اسلام آباد نے اسحاق ڈار کے 7 اکتوبر تک وارنٹ معطل کر دئیے تھے۔ جج محمد بشیر نے ریمارکس میں کہا تھا کہ اسحاق ڈار کو پاکستان آنے پر گرفتار نہ کیا جائے۔ اسحاق ڈار پاکستان واپس آ جائیں پھر وارنٹ منسوخی کو دیکھیں گے۔ احتساب عدالت اسلام آباد میں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے دائمی وارنٹ گرفتاری کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی تھی، سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے وکیل قاضی مصباح عدالت میں پیش ہوئے تھے۔
    سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے دائمی وارنٹ گرفتاری کے خلاف درخواست پر سماعت جج محمد بشیر نے کی، اسحاق ڈار کے وکیل قاضی مصباح عدالت کے روبرو پیش ہوئے، وکیل اسحاق ڈار نے عدالت سے استدعا کی کہ اسحاق ڈار کے دائمی وارنٹ گرفتاری منسوخ کیے جائے۔ اسحاق ڈار ایئرپورٹ پر اترتے ہی سیدھے عدالت پیش ہو جائیں گے۔

    جج محمد بشیر نے استفسار کیا تھا کہ افضل قریشی پراسیکوٹر کہاں ہیں، نیب پراسیکوٹر نے بتایا کہ افضل قریشی عمرہ کی ادائیگی کیلئے گئے ہوئے ہیں۔ عدالت نے اسحاق ڈار کے دائمی وارنٹ معطل کرتے ہوئے انھیں سرنڈر کرنے کا موقع دیدیا، جج محمد بشیر نے ریمارکس میں کہا کہ اسحاق ڈار کو پاکستان آنے پر گرفتار نہ کیا جائے، اسحاق ڈار پاکستان واپس آ جائیں پھر وارنٹ منسوخی کو دیکھیں گے۔
    جبکہ تین روز قبل مسلم لیگ ن کے رہنما اسحاق ڈار نے وارنٹ گرفتاری کے خلاف درخواست احتساب عدالت میں دائر کی تھی، اسحاق ڈار کے وکیل قاضی مصباح نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے وارنٹ گرفتاری نیب واپس لے۔ وکیل قاضی مصباح نے عدالت سے استدعا کی کہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار سرنڈر کرنے کے لیے تیار ہیں اس لیے ان کو پاکستان واپسی پر گرفتار نہ کیا جائے۔

  • سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ہوابازوں کی ڈیوٹیز میں کمی کرنے کے احکامات جاری کردیئے

    سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ہوابازوں کی ڈیوٹیز میں کمی کرنے کے احکامات جاری کردیئے

    سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے ہوابازوں کی ڈیوٹیز میں کمی کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔

    باغی ٹی وی کو موصول تفصیلات کے مطابق گزشتہ 7 ماہ کے دوران پی آئی اے کے کپتانوں نے سول ایوی ایشن قوانین کی خلاف ورزی کی جبکہ دیگر آپریٹرز کے مقابلے زیادہ ڈیوٹیاں کیں، جس کی وجہ سے متعدد پروازیں تاخیر کا شکار بھی ہوئیں۔نایک سال کے دوران 55 پروازوں میں کپتانوں سے 12 گھنٹے سے زائد ڈیوٹی کروائی گئی جو آکاو قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے جبکہ سیفٹی کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ سول ایوی ایشن کا کہنا ہے کہ ڈیوٹیز سے متعلق ایس اوپیز واضح ہیں، ہوابازوں کی مسلسل ڈیوٹیز کسی بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ دوسری جانب ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ سول ایوی ایشن کا خط موصول ہوگیا ہے اس پر تجزیہ کررہے ہیں۔
    واضح رہے کہ قبل ازیں اضافی ڈیوٹی کے سبب پی آئی اے کیبن کریو کے ارکان اعصابی تناؤ کا شکار ہونے لگے تھے، جس کی وجہ سے عملے کی جانب سے غلطیاں سرزد ہورہی تھیں۔ قومی فضائی کمپنی کے عملے کے ایک رکن نے کراچی سے اسلام آباد جانے والی پرواز میں غلطی سے ایمرجنسی سلائیڈ کھول دی، جس کے بعد پی آئی اے انتظامیہ نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی تھی.

    ذرائع کا کہنا تھا کہ پی آئی اے پروازوں پر ڈیوٹی دینے والے عملے کے ارکان اضافی ڈیوٹیوں کے باعث ذہنی و جسمانی تھکاوٹ کے سبب سنگین نوعیت کی غلطیاں کرنے لگے ہیں۔ پیر کی صبح کراچی سے اسلام آباد کی پرواز پی کے 300 پر ڈیوٹی دینے والے کیبن کریو نے رن وے پر اڑان سے کچھ دیر قبل غلطی سےہنگامی سلائیڈ کھول دی تھی۔

    خیال رہے کہ ہنگامی سلائیڈ اس وقت آپریٹ کی جاتی ہےجب طیارہ کسی ہنگامی صورت حال میں لینڈ کرے اور مسافروں کا تیزی سے اخراج مقصود ہو۔ واقعے کے بعد ایمرجنسی سلائیڈ کھلنے کی وجہ سے طیارے کے ایک دروازے کو بند اور مسافروں کوکم کرنا پڑگیا۔ مذکورہ پرواز پر تقریباً 25 مسافر تکنیکی وجوہات کے سبب سفر کرنے سے رہ گئے۔

    ذرائع کے مطابق صورتحال مبینہ طور پر کریو سے پروازوں پر یومیہ 16 گھنٹے مسلسل ڈیوٹی کی وجہ سے پیدا ہورہی ہے جب کہ دیگر ائرلائنز میں کیبن کریو کے اوقات کار 12 گھنٹے ہیں۔ سول ایوی ایشن نے پی آئی اے کو انتہائی ضرورت کے پیش نظر زیادہ سے زیادہ 16 گھنٹے ڈیوٹی کی اجازت دی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ پی آئی اے میں کیبن کریو کو ماہانہ 5 آف ملتے ہیں جب کہ دنیا بھر کی دیگر ائرلائنز کیبن کریو کو ماہانہ 9 آف دیتی ہیں۔

    قومی ائرلائن کی پروازوں پر کیبن کریو کی قلت، گزشتہ عرصے کے دوران متعارف کروائی جانے والی وی ایس ایس اسکیم کے سبب پیدا ہوئی جبکہ ترجمان پی آئی اے کا کہنا تھا کہ پی کے 300 پر ہنگامی سلائیڈ کھلنے کے واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہے۔ کیبن کریو اور کپتان کے بیانات کی روشنی میں اس کا حتمی نتیجہ اخذ کیا جاسکے گا۔ پی آئی اے کی پروازوں پر کیبن کریو کی کوئی قلت نہیں ہے۔ انتہائی ایمرجنسی میں کیبن کریو سے 16 گھنٹے ڈیوٹی لی جاتی ہے،جس کی اجازت سی اےاے کی طرف سے دی گئی ہے۔ ہر 12 گھنٹے کی ڈیوٹی کے بعد کیبن کریو کو 24 گھنٹے کا آرام دیا جاتا ہے۔

  • آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نیب اور ایف آئی اے کی مداخلت سے ہے کیوں پریشان؟

    آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نیب اور ایف آئی اے کی مداخلت سے ہے کیوں پریشان؟

    آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ ملک کے تیل اور گیس کے شعبے پر قومی احتساب بیورو (نیب)، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور دیگر اسی طرح کے اداروں کے ریگولیٹری اور نیم عدالتی دائرہ اختیار کے کردار کو محدود کرے۔

    ڈان اخبار کی رپورٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق اپنی اسٹیٹ آف دی انڈسٹری رپورٹ 2021-20 میں یہ مطالبہ کرتے ہوئے ریگولیٹر نے بتایا کہ گیس کمپنیوں نے اس عرصے کے دوران تقریباً 5 لاکھ نئے گیس کنکشنز کا اضافہ کیا ہے حالانکہ پیداوار میں 6 فیصد کمی اور گیس کی قلت میں 11 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ملک کی مجموعی گیس سپلائی میں سندھ کا حصہ ایک سال میں 11 فیصد کم ہوا جب کہ ملک میں 700 سے زائد سی این جی اسٹیشنز قلت کے باعث بند ہو گئے۔

    رپورٹ کے ابتدا میں ریگولیٹر کا کہنا تھا کہ ‘اوگرا کے حوالے سے نیب، ایف آئی اے اور دیگر ایجنسیوں کے کردار کو دوبارہ دیکھنے کی ضرورت ہے، شاید متعلقہ ایجنسیوں کی جانب سے متعدد کیسز کی تفتیش کے باعث ریگولیٹر کا معمول کا کام گرفتاریوں اور پوچھ گچھ کی وجہ سے متاثر ہو رہا ہے’۔ انہوں نے کہا کہ ‘اوگرا ایک خودمختار ادارہ ہونے کی حیثیت اور نوعیت میں نیم عدالتی ہے، اسے تمام اسٹیک ہولڈرز کے مفادات کے تحفظ کے لیے ماضی اور مستقبل کے تناظر میں ریونیو کی ضروریات کے تعین سے متعلق معاملات کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے’۔

    اوگرا نے دیگر مسابقتی ایندھن، ایل پی جی، لکڑی اور کوئلے کی قیمتوں میں فرق کی وجہ سے رہائشی صارفین کی گیس کی طلب میں نمایاں اضافہ نوٹ کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بجلی، کاروبار اور کھاد جیسے شعبوں میں ترقی کے نتیجے میں قدرتی گیس کی دستیابی میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں اور فرنس آئل پر پیدا ہونے والی بجلی کی زیادہ لاگت کی وجہ سے حکومت نے پاور پلانٹس کو بھی گیس پر منتقل کر دیا۔

    دوسری جانب مقامی گیس کی پیداوار سال کے دوران 6 فیصد سے کم ہو کر 2,006 ملین مکعب فٹ یومیہ (ایم ایم ایف سی ڈی) ہو گئی جو ایک سال پہلے 2 ہزار 138 ایم ایم سی ایف ڈی تھی جبکہ گیس کی کھپت 3 ہزار 683 سے 5 فیصد سے بڑھ کر 3 ہزار 884 ایم ایم سی ایف ڈی تک جا پہنچی۔ پیداوار اور کھپت کے درمیان اس خسارے کو جزوی طور پر آر ایل این جی کی درآمدات کے ذریعے پورا کیا گیا، جس کا 2021-20 کے دوران قدرتی گیس کی سپلائی میں حصہ 29 سے بڑھ کر 33 فیصد ہو گیا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملک میں 13 ہزار 768 کلومیٹر ترسیل او ایک لاکھ 91 ہزار 478 کلومیٹر تقسیمی گیس پائپ لائنوں کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک ہے جبکہ ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی ایل نے سال 2021-20 کے دوران اپنے ٹرانسمیشن نیٹ ورک کو بالترتیب 37 کلومیٹر اور 17 کلومیٹر تک بڑھایا۔
    ایس این جی پی ایل نے اپنے نیٹ ورک میں مالی سال 2021 کے دوران 3 لاکھ 71 ہزار 618 نئے صارفین کو شامل کیا جس کے بعد اس کے مجموعی صارفین کی تعداد 74 لاکھ 10 ہزار ہوگئی۔ دوسری جانب ایس ایس جی سی ایل نے 95 ہزار 436 نئے کنکشنز دیے جس سے اس کے نیٹ ورک پر مجموعی طور پر 32 لاکھ 10 ہزار صارفین ہوگئے۔

    اوگرا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2021 کے اختتام تک گیس صارفین کی مجموعی تعداد ایک کروڑ 6 لاکھ 20 ہزار ہوگئی تھی۔ مالی سال 2020-21 کے دوران استعمال ہونے والی مجموعی گیس کا سب سے بڑا صارف پاور سیکٹر تھا جس کا حصہ 30 فیصد تھا اس کے بعد گھریلو سیکٹر 20 فیصد، کھاد 19 فیصد، جنرل انڈسٹری 8 فیصد اور کیپٹیو پاور 5 فیصد کا صارف رہا۔

  • نیب قوانین میں ترامیم محض اپنی ذات کے لئے کی گئیں ہیں. شیخ رشید احمد

    نیب قوانین میں ترامیم محض اپنی ذات کے لئے کی گئیں ہیں. شیخ رشید احمد

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ نیب قوانین میں من مانی ترامیم اپنی ذات کے لئے کی گئیں۔

    شیخ رشید نے ٹوئٹر پر بیان میں کہا کہ نیب قوانین میں من مانی ترامیم اپنی ذات کےلیے کی گئیں۔ جس دن فردجرم لگنی تھی اس دن شہبازشریف نےوزارت عظمیٰ کاحلف اٹھایا۔نیویارک جانےوالوں نےہزاروں ڈالرروزانہ کےکمرےمیں ٹھہرکرسیلاب کی امدادمانگی۔جتنی شاہ خرچی امریکا میں کی گئی اتنی مددبھی نہیں ملی72 وزراء پرہائیکورٹ میں رٹ دائرکردی۔


    شیخ رشید کا مزید کہنا تھا کہ مفتاح اسماعیل اور اسحاق ڈارمل کر یا لڑکر بھی معاشی حالات ٹھیک نہیں کر سکتے۔ دنیا میں پیٹرول سستا اور پاکستان میں مہنگا ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گولیاں اور ڈرون عوام کا راستہ نہیں روک سکتے۔ اسلام آباد پر چڑھائی نہیں داد رسی کے لیے آرہے ہیں۔ سول اور آرمڈ فورسز سے اپیل ہے کہ وہ سرکاری عمارتوں تک ہی محدود رہیں۔

    خیال رہے کہ گزشتہ دنوں خبر آئی تھی کہ نیب قوانین میں ترمیم کے بعد وزیراعظم شہباز شریف، حمزہ شہباز، راجا پرویز اشرف اور یوسف رضا گیلانی کے خلاف عائد الزامات سمیت 50 کرپشن ریفرنسز احتساب عدالتوں نے واپس کر دیے تھے. وزیراعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف رمضان شوگر ملز ریفرنس واپس ہو گیا تھا جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کے خلاف رینٹل پاور کے 6 کرپشن ریفرنسز واپس لے لیے گئے تھے۔

    اسی طرح پیپلز پارٹی کے سینیٹر اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف یو ایس ایف فنڈ میں کرپشن کا ریفرنس واپس لے لیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ سینیٹر سلیم مانڈوی والا، سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سردار مہتاب عباسی اور پیپلز پارٹی کی سینیٹر روبینہ خالد کے خلاف لوک ورثہ میں مبینہ خرد برد کا ریفرنس بھی واپس لے لیا گیا تھا۔ نیب قوانین میں ترمیم کے بعد مضاربہ اسکینڈل اور کمپنیز فراڈ کے ریفرنسز بھی احتساب عدالتوں سے واپس لے لیے گئے ہیں۔