Baaghi TV

Author: +9251

  • ملک میں گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں. وزارتِ فوڈ سیکورٹی

    ملک میں گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں. وزارتِ فوڈ سیکورٹی

    وزارت فوڈ سیکورٹی کا کہنا ہے کہ ملک میں گندم کے وافر ذخائر ہیں۔

    نیشنل فلڈ ریسپانس کوآرڈینیشن سنٹر کے اجلاس میں وزارت فوڈ سیکورٹی نے تفصیلی بریفنگ دی۔ وزارت فوڈ سیکورٹی کے مطابق ملک میں گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں اور وفاق اور صوبوں میں گندم مطلوبہ مقدار میں موجود ہے۔ وزارت فوڈ سیکورٹی کا کہنا تھا کہ قومی طلب کے مطابق گندم کے ذخائر موجود ہیں۔ گندم کی فراہمی اور ترسیل کو ہر صورت ممکن بنایا جائے گا۔

    نیشنل فلڈ ریسپانس کوآرڈینیشن سنٹر کے جاری اعلامیہ کے مطابق: مزید وضاحت دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ: گندم اور دیگر اشیائے خوردونوش کا 6 ماہ کے استعمال کے لیے وافر ذخیرہ موجود ہے اور کسی قسم کی قلت کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ تاہم موجودہ اسٹاک پچھلے سالوں کی مقدار سے زیادہ ہے. انہوں نے فورم کو بتایا کہ بعض کارٹیل صرف اپنے مفادات کے لیے گندم کی قلت کا جھوٹا تاثر پیدا کر رہے ہیں۔ اس معاملے کے حقائق یہ ہیں کہ گندم کا 153 دن کا ذخیرہ دستیاب ہے اور 30.5 ملین ٹن گندم کی سالانہ قومی طلب کو یقینی بنانے کے لیے خریداری کے منصوبے جاری ہیں۔

    تاہم فورم نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے کہا کہ وہ دیگر اہم غذائی اشیا کی دستیابی کو بھی یقینی بنائیں خاص طور پر سندھ اور بلوچستان میں غیر معمولی سیلاب سے متاثر خواتین کے لیے خشک دودھ اور غذائی سپلیمنٹس سمیت بچوں کی خوراک کو یقینی بنایا جائے. لیکن اس حوالے سے ایک شہری نے باغی ٹی وی اسلام آباد سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سینئر سیٹزن نے کہا کہ: اگر واقعی پاکستان میں گندم کی وافر مقدار موجود ہے تو پھر آٹا کیونکہ مہنگا ہے؟ انہوں یاد دلاتے ہوئے بتایا کہ 2010 میں بھی پاکستان میں اس وقت ملکی ضروریات سے بھی 10 لاکھ ٹن زیادہ گندم موجود تھی۔ لیکن بد قسمتی سے گندم کے وہ بھر پور ذخائر بھی پاکستان میں حکام ، عوام اور کاشتکاروں کو خوشیاں فراہم کرنے کا ذریعہ نہیں بن پائے تھے.

  • سکردو میں خوفناک زلزلہ، متعدد افراد زخمی جبکہ راستے بند

    سکردو میں خوفناک زلزلہ، متعدد افراد زخمی جبکہ راستے بند

    اسکردو کے علاقے روندو میں زلزلہ کے شدید جھٹکے سے راستے بند ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    مقامی انتظامیہ کے مطابق اسکردو میں پیر کی صبح زلزلے کے باعث کئی مقامات پر لینڈ سلائڈنگ اور پہاڑی تودے گرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ زلزلے کے بڑے جھٹکے کے بعد آفٹر شاکس کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اسکردو کی مرکزی شاہراہ پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ ملوپہ موڑ پر کئی گاڑیاں بھاری پتھر گرنے کے باعث پھنسی ہوئی ہیں اور کچھ گاڑیوں کو نقصان بھی پہنچا ہے۔

    انتظامیہ کی جانب سےمرکزی شاہراہ پر شہریوں کو سفر کرنے سے اجتناب کرنے کی ہدایت جاری کردی گئی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں موبائل سروس نہ ہونے سے جانی نقصان کی حتمی اطلاعات نہیں ملی ہیں تاہم 3 زخمیوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ روندو میں گزشتہ سال بھی زلزلے کے بعد 3 ماہ تک آفٹر شاکس آتے رہے تھے جس کے باعث شہریوں کو گھر چھوڑنا پڑا تھا اور نئی تعمیر ہونے والی اسکردو شاہراہ کو بھی نقصان پہنچا تھا۔

    زلزلے کیسے اور کیوں آتے ہیں؟

    زلزلے قدرتی آفت ہیں جن کے باعث دنیا بھر میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق زمین کی تہہ تین بڑی پلیٹوں سے بنی ہے۔ پہلی تہہ کا نام یوریشین، دوسری بھارتی اور تیسری اریبین ہے۔ زیر زمین حرارت جمع ہوتی ہے تو یہ پلیٹس سرکتی ہیں۔ زمین ہلتی ہے اور یہی کیفیت زلزلہ کہلاتی ہے۔ زلزلے کی لہریں دائرے کی شکل میں چاروں جانب یلغار کرتی ہیں۔

    زلزلوں کا آنا یا آتش فشاں کا پھٹنا، ان علاقوں ميں زیادہ ہے جو ان پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں ایک مرتبہ بڑا زلزلہ آ جائے تو وہاں دوبارہ بھی بڑا زلزلہ آ سکتا ہے۔ پاکستان کا دو تہائی علاقہ فالٹ لائنز پر ہے جس کے باعث ان علاقوں میں کسی بھی وقت زلزلہ آسکتا ہے۔ کراچی سے اسلام آباد، کوئٹہ سے پشاور، مکران سے ایبٹ آباد اور گلگت سے چترال تک تمام شہر زلزلوں کی زد میں ہیں، جن میں کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقے حساس ترین شمار ہوتے ہیں۔ زلزلے کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا پانچواں حساس ترین ملک ہے۔

    پاکستان انڈین پلیٹ کی شمالی سرحد پر واقع ہے جہاں یہ یوریشین پلیٹ سے ملتی ہے۔ یوریشین پلیٹ کے دھنسنے اور انڈین پلیٹ کے آگے بڑھنے کا عمل لاکھوں سال سے جاری ہے۔ پاکستان کے دو تہائی رقبے کے نیچے سے گزرنے والی تمام فالٹ لائنز متحرک ہیں جہاں کم یا درمیانے درجہ کا زلزلہ وقفے وقفے سے آتا رہتا ہے۔
    کشمیر اور گلگت بلتستان انڈین پلیٹ کی آخری شمالی سرحد پر واقع ہیں اس لئے یہ علاقے حساس ترین شمار ہوتے ہیں۔ اسلام آباد، راولپنڈی، جہلم اور چکوال جیسے بڑے شہر زون تھری میں شامل ہیں۔ کوئٹہ، چمن، لورالائی اور مستونگ کے شہر زیرِ زمین انڈین پلیٹ کے مغربی کنارے پر واقع ہیں، اس لیے یہ بھی ہائی رسک زون یا زون فور کہلاتا ہے۔

    کراچی سمیت سندھ کے بعض ساحلی علاقے خطرناک فالٹ لائن زون کی پٹی پر ہیں۔ یہ ساحلی علاقہ 3 پلیٹس کے جنکشن پر واقع ہے جس سے زلزلے اور سونامی کا خطرہ موجود ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صرف بالائی سندھ اور وسطی پنجاب کے علاقے فالٹ لائن پر نہیں، اسی لئے یہ علاقے زلزے کے خطرے سے محفوظ تصور کئے جا سکتے ہیں۔

    دوسری طرف قدیم زمانے میں زلزلے سے عجیب طرح کی روايات اور کہانیاں منسوب تھیں۔ جیسے ہم نے اپنے بچپن میں سنا تھا کہ ایک بہت بڑے بیل نے زمین کو اپنے ایک سینگ پر اٹھایا ہوا ہے۔ جب وہ سینگ بدلتا ہے تو زلزلہ آ جاتا ہے۔ یونان کی دیومالائی کہانیوں میں بتایا گیا ہے کہ سمندر کا دیوتا پوسیڈان جب اپنی برچھی زمین کو چبھوتا ہے تو زلزلہ آ جاتا ہے۔ قدیم یونانی فلاسفروں کا خیال تھا کہ زمین کے اندر گیسیں بھری ہوئی ہیں۔ جب گیسیں باہر نکلنے کی کوشش کرتی ہیں تو زلزلہ آ جاتا ہے۔

    اٹھارہویں صدی تک نیوٹن سمیت مغربی سائنس دان اس نظریے کے حامی تھے کہ زمین کی تہوں میں موجود آتش گیر مادوں کے پھٹنے سے زلزلے آتے ہیں۔ لاس اینجلس کی ساؤتھ کیرولائنا یونیورسٹی کے ایک ماہر جان ویڈیل کہتے ہیں کہ زمین کے اندر موجود چٹانی پرتیں مسلسل حرکت میں رہتی ہیں اور جب وہ اپنی جگہ سے کھسکتی ہیں تو ان کے کناروں پر شدید دباؤ پڑتا ہے اور جب یہ دباؤ ایک خاص سطح پر پہنچتا ہے تو وہ زلزلے کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔

    زلزلے کے جھٹکوں سے زمین کی سطح پر موجود چیزوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ عمارتیں اور دوسری تنصیبات گر جاتی ہیں۔ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ جاتی ہیں۔ درخت اور بجلی کے پول زمین بوس ہو جاتے ہیں۔ اگر متاثرہ علاقے میں دریا یا جھیلیں ہوں تو ان کی جگہ بدل سکتی ہے۔ پہاڑوں میں دراڑیں پڑ سکتی ہیں۔ اگر زلزلے کا مرکز سمندر کی تہہ یا ساحلی علاقوں کے قریب ہو تو سمندری طوفان اور سونامی آ سکتے ہیں اور بپھری لہریں ساحلی علاقوں میں بڑے پیمانے پر نقصان کا سبب بن سکتی ہیں۔

    ہماری زمین کے بعض حصوں کے نیچے چٹانوں کی پرتیں اس نوعیت کی ہیں کہ ان میں نسبتاً زیادہ حرکت ہوتی ہے۔ چنانچہ ان علاقوں میں زلزلے بھی کثرت سے آتے ہیں۔ بعض ملک اور علاقے زلزلوں کے زون میں واقع ہیں۔ ان میں نیوزی لینڈ، انڈونیشیا، فلپائن، جاپان، روس، شمالی امریکہ میں بحرالکاہل کے ساحلی علاقے، وسطی امریکہ، پیرو اور چلی شامل ہیں۔ اسی طرح بحرالکاہل کے کئی حصے بھی ان علاقوں میں شامل ہیں جہاں زیادہ زلزلے آنے کا خدشہ رہتا ہے۔

    ریکٹر اسکیل کیا ہے؟

    ریکٹر اسکیل ایک پیمانہ ہے جس سے زلزلے کی شدت کی پیمائش کی جاتی ہے۔ ریکٹر اسکیل کے موجد ایک امریکی سائنس دان چارلس ریکٹر ہیں جنہوں نے 1935 میں ایک آلہ متعارف کرایا تھا جس میں ایک سے 10 کے اسکیل پر زلزلے کی پیمائش کی جا سکتی ہے۔

    زلزلے کی اقسام

    زلزلوں کو عمومی طور پر تین اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ریکٹر اسکیل پر چار درجے سے کم شدت کے زلزلوں کو معمولی یا کمزور نوعیت کا زلزلہ کہا جاتا ہے کیونکہ اس سے زیادہ نقصان کا اندیشہ نہیں ہوتا۔ چار سے زیادہ اور چھ سے کم درجے کا زلزلہ درمیانی شدت کا زلزلہ کہلاتا ہے، جس سے تھوڑا بہت نقصان پہنچ سکتا ہے، جیسے چینی کے برتن اور پلیٹیں وغیرہ ٹوٹ سکتی ہیں۔ جب کہ ریکٹر اسکیل پر 6 سے 7 شدت کے زلزلے عمارتوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ جب زلزلے کی شدت 8 کے ہندسے بڑھتی ہے تو وہ تباہ کن شکل اختیار کر سکتا ہے۔ عمارتیں ملبے کے ڈھیروں میں تبدیل ہو سکتی ہیں، سڑکیں اور ریلوے لائنیں ٹوٹ پھوٹ سکتی ہیں۔

    زلزلے میں کیا کرنا چاہیے؟

    زلزلے کی صورت میں فوری طور پر عمارت سے باہر کھلی جگہ پر چلے جانا چاہیے۔ اگر باہر نکلنا ممکن نہ ہو تو میز یا اسی نوعیت کی کسی دوسری چیز کے نیچے پناہ لینی چاہیے تاکہ آپ خود کو چھت یا دیواروں سے ممکنہ طور پر گرنے والے ملبے سے بچا سکیں۔ زلزلے کے دوران کھڑکیوں، بھاری فرنیچر اور بڑے آلات وغیرہ سے دور رہیں۔

  • شیری رحمان کلائمیٹ ویک نیو یارک سٹی 2022 میں شرکت کے لئے امریکہ روانہ

    شیری رحمان کلائمیٹ ویک نیو یارک سٹی 2022 میں شرکت کے لئے امریکہ روانہ

    وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان کلائمیٹ ویک نیو یارک سٹی 2022 اور اقوم متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لئے امریکہ روانہ ہو گئی ہیں۔

    شیری رحمان کلائمیٹ ویک نیویارک سٹی CWNYC 2022 میں پاکستان کی نمائندگی کرے گی، شیری رحمان کلائمیٹ ویک میں پاکستان کو درپیش ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے حوالے سے دنیا کو آگاہ کرے گی، شیری رحمان مختلف ممالک اور شراکت داروں کے ساتھ پری کاپ 27 ملاقاتیں بھی کرے گی۔

    یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی صرف ایک سمت کی پیروی نہیں کرتی. وزیر اعظم

    وفاقی وزیر شیری رحمان وزیر اعظم کی قیادت میں پاکستان کے وفد کے ہمراہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھی شرکت کرے گی، جبکہ یو این جی اے اجلاس میں شرکت ساتھ مختلف ممالک کے وزراء، نمائندگان، اور عالمی اداروں کے سربراہان سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گی۔ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلی کے نقصانات پر خصوصی بند کمرہ اجلاس کرے گی۔

    موسمیاتی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ

    گلوبل وارمنگ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا اور مشترکہ مسئلہ بنا ہوا ہے جدید دور کے انسان نے جب سے ترقی کے راستے پر چلنا شروع کیا ہے تب سے اسکا معیارِ زندگی بہتر ہوا ہے ، صعنتوں میں ترقی ہوئی ہے،ٹیکنالوجی نے زندگی آسان کردی ہے، سفر آرام دہ ہو چکے ہیں ، غرض ہر چیز میں بہتری دیکھنے کو ملی مگر اس ترقی کی دوڑ میں انسان نے اپنی زمین، ماحول اور آب و ہوا کو نظر انداز کردیا جس کے نتیجے میں گلوبل وارمنگ جیسےخطرناک چیلنج کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جسے زمینی درجہ حرارت بڑھنا بھی کہتے ہیں جس کے اثرات نہ صرف حیوانات اور زراعت کے لئے خطرناک ہیں بلکہ انسا نی آبادی کے لئے بھی خوفناک ہیں۔

    موسمیا تی تبدیلی آج کی دنیا کا سب سے خوفنا ک مسئلہ ہے انسانیت کی بھلائی اسی میں ہے وہ جلد از جلد اس کو حل کریں سا ئنسدان موسمیاتی تبدیلی کو کرہ ارض کا ابھرتا ہوا خطرہ قرار دیتے ہیں انٹر گورنمنٹل پینل آف کلائی میٹ چینج کے مطابق گزشتہ 160سالوں سے کرہ ارض کی آب و ہوا میں جو تبدیلیاں ہوئی ہیں جن میں سب سے نمایاں گلوبل وارمنگ یعنی زمین کے درجہ حرارت میں اضافہ ہے ایک اندازے کے مطابق نصف انیسوی صدی سے اکیسوی صدی تک کا عرصہ انتہائی گرم تھا اور 2005گرم ترین سال تھا جس کے نتیجے میں گلیشئرپگھل رہے ہیں ،مختلف جانوروں کی نسلیں تباہ ہو رہی ہیں ،سطح سمندر بلند ہو رہی ہے جولہروں میں طوفان اور سونامی کا با عث بنتی ہے اوریہ سطح آئندہ سو سالوں میں مزید 2فٹ بلند ہوجائے گی یہ موسمیاتی تبدیلی انسانی سرگرمیوں کا باعث ہے جیسے صعنتی انقلاب ، جنگلات کا کٹاؤ،نامیاتی ایندھن کا استعمال ، آبادی میں اضافہ یہ تمام عوامل فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور نائٹرس آکسائیڈ کے اخراج کا سبب بنتے ہیں مزیدکچھ گیسس مثلاًاوزون ،سلفر ہیگزافلورائڈ،ہائڈروفلوروکاربنز،پرفلوروکاربنز اور کلورو فلورو کاربنز شامل ہیں یہ تمام گرین ہاؤس گیسس کہلاتے ہیں جوسورج کی روشنی سے کیمیائی تعامل کر کے حرارتی توانائی پیدا کرتے ہیں اس عمل کو گرین ہاؤس ایفیکٹ کہتے ہیں جس سے زمین کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے اور گلوبل وارمنگ ہوتی ہے۔

  • اسلام آباد: ڈینگی سے ایک مریض چل بسا جبکہ  57 افراد متاثر

    اسلام آباد: ڈینگی سے ایک مریض چل بسا جبکہ 57 افراد متاثر

    اسلام آباد میں ایک دن میں ڈینگی سے 1 مریض چل بسا جبکہ 57 افراد متاثر، اور مجموعی تعداد 14 سو تک پہنچ گئی ہے.

    پاکستان میں ڈینگی وائرس میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اسلام آباد میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ڈینگی سے 57 افراد متاثر ہوئے۔ جبکہ اسلام آباد میں ڈینگی میں مبتلا ایک اور شخص انتقال کر گیا، انتقال کرنے والا شخص ترلائی کا رہائشی تھا۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر زعیم ضیاء کا کہنا ہے کہ ڈینگی سے جاں بحق ہونے والا شخص نجی اسپتال میں زیر علاج تھا۔

    ڈی ایچ او کے مطابق اسلام آباد میں ڈینگی کی مجموعی تعداد 1388 تک جا پہنچی ہے جبکہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ڈینگی سے ایک مریض جاں بحق ہوا جس کے بعد ‏اسلام آباد میں ڈینگی سے جاں بحق افراد کی تعداد پانچ ہو گئی ہے۔
    ‏اسلام آباد کے شہری علاقے میں گزشتہ جوبیس گھنٹے کے دوران ڈینگی کے 45 کیسز رپورٹ ہونے سے متاثر افراد کی تعداد 532 ہو گئی ہے، جبکہ اسلام آباد کے دیہی علاقے میں گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران ڈینگی سے 45 کیسز رپورٹ ہوئے۔ پمز ہسپتال میں ڈینگی کے کل مریضوں کی تعداد 194 ہے اور پولی کلینک میں ڈینگی کے 45 جبکہ کیپیٹل اسپتال میں 25 مریض زیر علاج ہیں۔

    پنجاب میں ڈینگی کے 152 کیسز رپورٹ ہوئے ، سیکریٹری صحت کے اعداد و شمار کے مطابق راولپنڈی میں 71، لاہور 47 اور گوجرانولہ میں ڈینگی کے 12 کیسز رپورٹ ہوئے۔ قصور، وہاڑی اور شیخوپورہ سے ڈینگی کے 3، 3 کیسز سامنے آئے، ملتان، نارووال اور ساہیوال سے ڈینگی کے 2،2 کیسز رپورٹ ہوئے، لیہ ،راجن پور ،حافظ آباد، خانیوال، چکوال، ننکانہ صاحب اور سیالکوٹ سے ایک ایک کیس رپورٹ ہوئے۔
    رواں سال پنجاب بھر میں ڈینگی کے 3 ہزار 437 کیسز ریکارڈ ہوئے، جبکہ صوبائی دارلخلافہ لاہور سے ڈینگی کے ایک ہزار 384 کیسز سامنے آئے ہیں، پنجاب بھر میں ڈینگی سے 4 ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔

  • اگر حکومت سندھ کو اتنا خیال ہے تو پھر آکٹرائی اور اضلاع ٹیکس "کے ایم سی” کو براہ راست جمع کرنے دے

    اگر حکومت سندھ کو اتنا خیال ہے تو پھر آکٹرائی اور اضلاع ٹیکس "کے ایم سی” کو براہ راست جمع کرنے دے

    اگر حکومت سندھ کو اتنا خیال ہے تو پھر آکٹرائی اور اضلاع ٹیکس "کے ایم سی” کو براہ راس جمع کرنے دے

    ایک ٹوئٹر صارف امبر دانش نے کہا ہے کہ: اگر حکومت سندھ کو اتنا خیال ہے تو پھر آکٹرائی اور اضلاع ٹیکس "کے ایم سی” کو براہ راست جمع کرنے دے؟ ان کا مزید کہنا تھا کہ: اور اس ٹیکس کی مد میں جو اربوں کے واجبات سندھ حکومت نے کے ایم سی کو ادا کرنے ہیں وہ بھی فورا دا کردیں۔ کے ایم سی آج ہی اپنے پیروں پر کھڑی ہونے لگے گی۔


    خیال رہے کہ دوسری جانب گزشتہ روز بلدیہ عظمی کراچی کا متنازعہ میونسپل یوٹیلٹی سروسز ٹیکس کے الیکٹرک کے بلوں میں شامل کرنے کے ردعمل میں شہریوں نے کچرا کے الیکڑک کی گاڑیوں میں ڈالنا شروع کر دیا تھا تفصیلات کے مطابق کے ایم سی کا متنازعہ ایم یو سی ٹی بل جو کے ایم سی جمع کرنے کا ہدف پورا کرنے میں ناکام نظر آرہی تھی اس نے 7 فیصد کمیشن کے عوض کے الیکڑک کے بلوں کے ذریعے شہریوں سے وصول کرنا شروع کر دیا، اس سے کے الیکٹرک کو سالانہ 50 کروڑ روپے کا فائدہ ہوگا، ان کو صرف بل پر پرنٹ کرنا ہے اور رقم جمع کرنی ہے۔

    متنازعہ بل جس پر عدالت عالیہ کی جانب سے کچھ وقت کے لیے حکم امتناعی بھی حاصل ہوا تھا تاہم کے ایم سی مسلسل ان بلوں کو بھیج رہی تھی لیکن ریکوری ناہونے کے برابر تھی۔ کے الیکڑک کے بلوں میں آنے کی صورت میں شہریوں کو ہر صورت بل ادا کرنا پڑ رہا ہے ورنہ بجلی منقطع ہو جائیں گی لیکن اس کا ردعمل بھی بھرپور انداز سے نظر آرہا ہے۔ شہر میں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں اور شہریوں نے ردعمل میں کچرا اٹھا کر کےالیکٹرک کی گاڑیوں میں ڈالنا شروع کر دیا جس سے عملے کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    اسی طرح کے الیکٹرک کا شکایتی نمبر 118 جہاں بجلی کے مسائل کے لیے شہری اپنی شکایات درج کرواتے تھے اب شہریوں نے کچرے کی شکایت 118 پر درج کروانا شروع کر دی جبکہ کے الیکڑک کا نمائندہ مسلسل وضاحت دیتا رہا کہ یہ ہماری ذمہ داری نہیں ہے آپ کے ایم سی کو فون کریں جس پر شہری کا کہنا تھا کہ آپ کے ایم سی کے پیسے وصول کر رہے ہیں لہٰذا آپ ہماری شکایت کے ایم سی کو درج کروائیں یا پھر وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر بلدیات اور ایڈمنسٹریٹر کراچی کو پہنچائیں کیونکہ آپ ان کا ٹیکس جمع کر رہے ہیں تو شکایت سننا بھی آپ کی ذمہ داری ہے۔

    واضح رہے کہ کے الیکٹرک کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بھی کچرے کی شکایت درج کروائی جا رہی ہے جس سے ادارے کو مسلسل کام کرنے میں دشواری کا سامنا ہو رہا ہے جبکہ شہریوں کا کہنا کے کہ ایم یو سی ٹی بل ایک متنازعہ ہے جو اب طاقت کے ذریعے کے الیکٹرک کی ملی بھگت سے سندھ حکومت وصول کر رہی ہے اگر اس بل کو فوری طور ختم نا کیا گیا تو ہم کچرا کے الیکڑک کی گاڑیوں اور دفتر کے سامنے ڈالیں گے۔

  • موسمیاتی تبدیلی صرف ایک سمت کی پیروی نہیں کرتی. وزیر اعظم

    موسمیاتی تبدیلی صرف ایک سمت کی پیروی نہیں کرتی. وزیر اعظم

    وزیر اعظم شہباز شریف نے جاپان میں سمندری طوفان سے تباہی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کو موسمیاتی تبدیلی کی ہولناکیوں سے بیدار ہونے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ موسمیاتی تبدیلی صرف ایک سمت کی پیروی نہیں کرتی ہے.

    وزیر اعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ جاپان کے عوام سمندری طوفان نان ماڈول کی تباہ کاریوں کا سامنا کر رہے ہیں۔جاپان کے عوام اور حکومت سے مخلصانہ ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی صرف ایک سمت کی پیروی نہیں کرتی یہ کسی بھی ملک میں تباہی لا سکتی ہے۔دنیا کو موسمیاتی تبدیلی کی ہولناکیوں سے بیدار ہونے کی ضرورت ہے۔


    واضح رہے کہ اس صدی کا سب بڑا سمندری طوفان کہلائے جانے والے ٹائیفون نان ماڈول نے جاپانی جزیرےکیوشو سے ٹکرانے کے بعد تباہی مچادی ہے۔ جاپان کی موسمیاتی ایجنسی کے مطابق جاپانی جزیرے میں شدید طوفانی بارشوں کے ساتھ 162 کلومیٹر (100 میل) فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں۔ جزیرے پر ہوائی اور ٹرین سروس مکمل طور پر بند کر دی گئیں ہیں۔ طوفان کے باعث سے تقریباً 3 لاکھ گھر بجلی سے محروم ہیں۔ جبکہ حکومت کی جانب سے 40 لاکھ افراد کو انخلا کا حکم دیا گیا تھا۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل غیر ملکی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق سمندری طوفان کے ٹکرانے کے خطرے کی وجہ سے گزشتہ روز انتظامیہ نے 2 ملین لوگوں کو اپنے گھر بارچھوڑ کر محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی ہدایت کردی تھی، جاپان کے محکمہ موسمیات کے مطابق سمندری طوفان اپنی شدت کے ساتھ جاپان کے جنوب مغربی حصے سے ٹکرائے گا جس کے باعث تیز ہوائیں اور شدید بارش بھی ہوسکتی ہے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق طوفان کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوسکتی ہے کیونکہ سمندری طوفان کی شدت کو دیکھتے ہوئے پانچوے درجے کا طوفان قرار دیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ لینڈ سلائیڈنگ، دریا اور ندی نالوں میں سیلابی صورتحال کا بھی سامنا ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا جبکہ طوفان کے باعث جاپان میں فلائیٹ آپریشن بھی متاثر ہوا ہے جاپان ائیرلائنز اور آل نیپون ائیر ویز نے پہلے ہی اپنی 335 پروازوں کو منسوخ کردیا.

  • پاکستان سیلاب کی تباہ کاری اور قرضوں کے باوجود بالکل ڈیفالٹ نہیں ہوگا. مفتاح اسماعیل

    پاکستان سیلاب کی تباہ کاری اور قرضوں کے باوجود بالکل ڈیفالٹ نہیں ہوگا. مفتاح اسماعیل

    کیا پاکستان تباہ کن سیلابوں کے باوجود بھی غیر ملکی قرضوں کی ذمہ داریوں میں "بالکل ڈیفالٹ” نہیں کرے گا؟ لیکن وزیر خزانہ نے گزشتہ اتوار کو کہا کہ مشکلات کا شکار معیشت کو مستحکم کرنے کے لیئے بنائی گئی اصلاحات سے کوئی بڑا انحراف نہیں ہوگا۔ اور پاکستان سیلابی صورتحال کے باوجود بھی بالکل ڈیفالٹ نہیں کرے گا.

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق: سیلاب نے 33 ملین پاکستانیوں کو متاثر کیا ہے، اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے، اور 1,500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں لہذا اسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اب یہ تشویش پیدا ہوگئی ہے کہ کیا پاکستان غیر ملکی قرض ادا نہیں کر پائے گا؟

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ایک انٹرویو میں غیر ملکی ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ: چیلنجنگ ماحول کے پیش نظر استحکام کا راستہ تنگ تھا، اور یہ اب بھی تنگ ہو گیا ہے، لیکن کچھ بھی ناممکن نہیں ہے اور ہم بہتری کیلئے کوششاں ہیں. وزیر خزانہ نے روئٹرز کے نمائندہ خصوصی جبران نئیر پیش امام کو مزید بتایا: اگر ہم سمجھداری سے فیصلے کرتے رہیں گے اور جوکہ ہم کریں گے تو ہم ایسی کسی صورت حال کا شکار نہیں ہوں گے.
    ان کا مزید کہنا تھا کہ: پاکستان سخت پالیسی فیصلوں کی بدولت کئی مہینوں کی تاخیر کے بعد انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام کو دوبارہ پٹری پر لانے میں کامیاب رہا۔ لیکن تباہ کن بارش اور سیلاب کے آنے سے ملک کا کافی نقصان ہوگیا ہے. اسماعیل نے کہا کہ تباہی کے باوجود استحکام کی زیادہ تر پالیسیاں اور اہداف ابھی بھی راستے پر ہیں، بشمول گرتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ۔

    اگست کے آخر میں آئی ایم ایف کی فنڈنگ ​​میں 1.12 بلین ڈالر کی آمد کے باوجود مرکزی بینک کے ذخائر 8.6 بلین ڈالر ہیں، جو صرف ایک ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔اور آخری سال کا ہدف بڑھانا تھا۔ ان کے مطابق: پاکستان اب بھی ذخائر میں 4 بلین ڈالر تک اضافہ کر سکے گا، یہاں تک کہ اگر سیلاب سے روئی جیسی مزید درآمدات میں کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس کو 4 بلین ڈالر کا نقصان پہنچے اور برآمدات پر منفی اثر پڑے۔ انہوں نے اندازہ لگایا کہ سیلاب کے بعد کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2 بلین ڈالر سے زیادہ نہیں بڑھے گا۔
    مفتاح نے کہا: انتہائی غریب لوگوں کو کافی نقصان ہوا ہے اور ان کی زندگیاں دوبارہ کبھی اس طرح نہیں ہوں گی یا پھر اس روٹین میں‌ آنے سے وقت لگے گا۔ لیکن ہمارے بیرونی اور مقامی قرضوں کو پورا کرنے اور مائیکرو اکنامک طور پر مستحکم ہونے کے معاملے میں، کچھ چیزیں قابو میں ہیں۔

  • فلم انڈسٹری کی بقاء کے لئے کیا ضروری ہے حیدر سلطان راہی نے بتا دیا

    فلم انڈسٹری کی بقاء کے لئے کیا ضروری ہے حیدر سلطان راہی نے بتا دیا

    پنجابی فلموں کے نامور اداکار اور سلطان راہی کے بیٹے حیدر سلطان نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ فلم انڈسٹری کو چلانے کےلئے نئے اور جوان خون کی ضرورت ہے اسی میں فلم انڈسٹری کی بقاء ہے. ہمیں نئے لوگوں‌کو چانس دینا ہوگا تبہی انڈسٹری آگے بڑھ سکے گی. انہوں نے پرڈیوسرز اور ہدایتکاروں سے کہا کہ ان کو نئے لوگوں‌کو متعارف کروانے کا رسک لینا پڑے گا جیسا کہ کسی دور میں ہوتا آیا ہے. اگر ہم نئے لوگوں کو چانس نہیں دیں گے تو نئی کھیپ کیسے تیار ہو گی. حیدر سلطان نے مزید کہا کہ جو دنیا سے چلا جاتا ہے اس جیسا کوئی دوسرا نہیں آتا اسی طرح سے جو انڈسٹری کو چھوڑ جاتے

    ہیں کسی بھی وجہ سے ان کا خلاء کبھی پورا نہیں ہوسکتا. حیدر سلطان مزید یہ بھی کہتے ہیں کہ کراچی ڈرامہ انڈسٹری میں جس طرح نئے لڑکے لڑکیاں آئے ہیں اسی طرح سے ہمیں فلم انڈسٹری میں بھی نئے لڑکے لڑکیاں لانی چاہیں. یاد رہے کہ حیدر سلطان راہی پنجابی فلموں میں ہی کام کرتے ہیں اور وہ آج تک گنڈاسہ کلچر سے باہر نہیں آئے رواں برس ان کی ایک فلم اشہتاری گجر ریلیز ہوئی اس میں بھی انکو گنڈاسہ پکڑے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے. حیدر سلطان راہی کے دعوے کے مطابق ان کی فلم کو پنجاب کے سرکٹ میں بہت پسند کیا گیا اور سپر ہٹ ہوئی .

  • فیصل قریشی کے نزدیک انمول تحفہ کیا ہے؟

    فیصل قریشی کے نزدیک انمول تحفہ کیا ہے؟

    سب جانتے ہیں کہ فیصل قریشی دوستیاں نبھانے والے انسان ہیں . فیصل قریشی اپنی دوستی کو محفوظ رکھنے اور چلانے کےلئے ہر حد عبور کر جاتے ہیں. حال ہی میں انہوں نے ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے دوستی کے متعلق ہی بات کی ہے . ان کا کہنا ہے کہ میں بہت خوش قسمت ہوں کہ جس کو زندگی میں جو بھی دوست ملے مخلص ملے. میرے پاس بہترین دوست ہیں اور میں ان کو انمول تحفہ سمجھتا ہوں اسلئے میری کوشش ہوتی ہے کہ میں اپنی دوستی کو ایسے چلائوں اور نبھائوں کہ اگلے کو کبھی میری طرف سے کوئی شکایت نہ ہو. فیصل قریشی نے یہ بھی کہا کہ میں نے کام اور اچھا کام کرکے نیک نامی کمائی ہے. میں نے آج تک جو بھی کردار نبھائے میرے مداحوں نے مجھے بہت سراہا میں آج جو کچھ بھی

    ہوں انہی کے پیار اور انکی محبت کی بدولت ہوں. فیصل قریشی نے مزید یہ بھی کہا کہ میں نے فلموں میں بھی کام کیا اس کے بعد ہی ٹی وی کی طرف آیا ، لاہور نے مجھے بہت عزت بخشی مجھے بہت شہرت دی اسکے بعد جب کراچی کام منتقل ہو گیا تو میں بھی کراچی چلا گیا لیکن لاہور کی خوبصورت یادیں میرے دل میں رہتی ہیں . فیصل قریشی نے مزید کہا کہ میں پراجیکٹس سائن کرنے میں جلدی نہیں کرتا اگر کچھ سمجھ آئے اور کردار و کہانی اچھی لگے تو ہی سائن کرتا ہوں.

  • جیکولین سکیش کوخوابوں کا شہزادہ سمجھتی تھیں سپیشل کمشنر آف پولیس رویندر یادو

    جیکولین سکیش کوخوابوں کا شہزادہ سمجھتی تھیں سپیشل کمشنر آف پولیس رویندر یادو

    جیکولین فرینینڈنس جو آج کل 200 کروڑ روپے کی بھتہ خوری اور منی لانڈرنگ میں ملوث تہاڑ جیل میں قید ملزم سکیش چندر شیکھر کیس میں شامل تفتیش ہیں. پولیس ان سے مسلسل تفتیش کررہی ہے. حال ہی میں سپیشل کمشنر آف پولیس رویندر یادو نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ہم نے جیکولین فرنینڈنس سے کافی پوچھ گچھ کی ہے اور انہوں نے تفتیش کے دوران کافی باتوں کا اعتراف کیا ہے. انہوں نے کہا کہ جیکولین چندر شیکھر سکیش سے کافی متاثر تھیں ان کو اپنے خوابوں کا شہزادہ سمجھتی تھیں. سپیشل کمشنر آف پولیس رویندر یادو نے یہ بھی کہا کہ جیکولین چندر

    شیکھر کے پیار میں بری طرح پھنس چکی تھیں یہاں تک کہ وہ جان چکی تھیں کہ وہ ایک مجرم ہیں اور کوئی اچھے کام نہیں کرتے پھر وہ مسلسل انکو اپنی زندگی میں شامل کئے ہوئےتھیں .انہوں نے بتایا کہ جیکولین اور چندر شیکھر کے درمیان دوستی سے بڑھ کر تعلق تھا. یاد رہے کہ اس کیس میں جیکولین فرینینڈنس کے ساتھ ساتھ معروف ڈانسر نورا فتحی سے بھی تفتیش کی جا رہی ہے کیونکہ وہ بھی چندر شیکھر سے رابطے میں تھیں اور ان سے انہوں نے قیمتی تحائف لئے. یاد رہے کہ جیکولین فرنینڈینس اور نورا فتحی دونوں ہی بالی وڈ میں کافی مقبول ہیں ان کے کافی مداح پائے جاتے ہیں لیکن اس کیس کے بعد ان کی مقبولیت میں تھوڑی بہت کمی ضرور آئی ہے.