Baaghi TV

Author: +9251

  • سرکاری آٹا کی تقسیم کے دوران غریب شہری ٹرک کے نیچے آگیا

    سرکاری آٹا کی تقسیم کے دوران غریب شہری ٹرک کے نیچے آگیا

    سرکاری آٹا کی تقسیم کے دوران غریب شہری ٹرک کے نیچے آگیا جسے شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کردیا گیا۔

    نجی ٹی وی کے مطابق ملک بھر کی طرح خیبر پختون خوا میں بھی آٹا کا بحران جاری ہے جس سے نمٹںے کے لیے سرکاری سطح پر کم نرخوں پر آٹا کی فراہمی جاری ہے۔ پشاور کے علاقے رنگ روڈ کبوتر چوک میں آٹا کی تقسیم جاری تھی کہ دھکم پیل کے دوران شہری آٹا تقسیم کرنے والے ٹرک کے نیچے آگیا۔ اطلاعات کے مطابق شہری کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں اسے بچانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ یاد رہے کہ چند روز قبل متھرا میں بھی آٹے کی تقسیم پر ہنگامہ آرائی ہوگئی تھی۔

    دوسری جانب شہریوں نے شکایت کی کہ پشاور میں یوٹیلٹی سٹور اور محکمہ خوراک کے سستے آٹا کی مارکیٹ میں فروخت ہونے کی شکایات کا نوٹس لیا جانا چاہئے پشاور شہر اور اس کے نواحی علاقہ جات میں قائم یوٹیلٹی سٹورز اور فرنچائز پر ہر روز آنے والا آٹا ہفتے میں صرف ایک یا دو دن فروخت کیا جا رہا ہے روزانہ کے حساب سے آٹا فروخت نہ ہونے کی وجہ سے صارفین کی لائنیں لگ جاتی ہیں اور اکثر اوقات محنت کش اور مختلف قسم کی ملازمتوں اور کاریگری وغیرہ سے وابستہ لوگ آٹا خرید نہیں پاتے.

    ایک شہری نے اس حوالے تجویز دی کہ سرکاری آٹا کی تقسیم کے نظام میں خامیوں کو دور کرنے کے لئے اس کی تقسیم کاروں کے ساتھ جس مقام پرآٹاتقسیم ہو رہا ہو وہاں کے معززین کی کوئی کمیٹی بھی بنائی جائے جس میں علمائے کرام ‘ اساتذہ اورملازمتوں سے سبکدوش سرکاری افسران شامل ہوں اس طرح کی کمیٹی کو سیاسی کارکنوں سے پاک رکھا جائے اور اس کی نگرانی میں سرکاری آٹا کی تقسیم ہوتو حقدارافراد کو آٹا منظم انداز سے مل سکتا ہے اور لڑائی جھگڑوں کی بھی نوبت نہیں آئے گی سرکاری آٹا کی تقسیم کی ویڈیو بنا کر اس کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ پیشہ ور افراد باربار آٹا لیکر بازارمیں فروخت نہ کر سکیں۔

  • کرونا وائرس سے بڑوں کو بچانے کے لیے بچوں کو ویکسین کرانی پڑے گی. وزیر صحت

    کرونا وائرس سے بڑوں کو بچانے کے لیے بچوں کو ویکسین کرانی پڑے گی. وزیر صحت

    وفاقی وزیرصحت قادر پٹیل نے کہا ہے کہ کرونا وائرس سے بڑوں کو بچانے کے لیے بچوں کو ویکسین کرانی پڑے گی۔

    اسلام آباد میں قادر پٹیل نے بچوں کو کرونا ویکسین لگانے کی مہم کا افتتاح کردیا۔ اس موقع پر انھوں نے کہا کہ کرونا کے خطرے کا انتظار کرنے سے بہتر یہ ہے کہ اس سے بچاؤ کی تدابیر کرلیں۔ یہ وباء کم ضرور ہوئی ہے لیکن خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے اور بطور زندہ قوم چاک و چوبند رہنا چاہیے۔

    انھوں نے کہا کہ کرونا وائرس سے بڑوں کو بچانے کے لیے بچوں کو ویکسین کرانی پڑے گی۔وفاقی وزیرنے بتایا کہ مہم کے دوران ملک بھر میں 80 لاکھ بچوں کو کرونا سے بچاؤ کی ویکسین لگائی جائے گی اور جیسے جیسے ویکسین ملتی رہے گے، یہ مہم جاری رہے گی۔ ادھر سندھ میں 5 سے 11 سال کے بچوں کو کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسینیشن مہم کا افتتاح وزیر صحت سندھ ڈاکٹرعذرا فضل پیچوہو نے کردیا۔

    اس موقع پر امریکہ کے ڈپٹی چیف آف مشن اینڈرو شوفر قائم مقام قونصلر جنرل، سیکریٹری صحت سندھ ذوالفقار علی شاہ، ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر جمن بہوتو، ای پی آئی سندھ ڈاکٹر ارشاد احمد میمن سمیت دیگر حکام بھی موجود تھے۔ مہم کا پہلا مرحلہ 24 ستمبر تک جاری رہے گی جس میں کراچی اور حیدرآباد کے 24 لاکھ بچوں کو ویکسین لگائی جائے گی۔ محکمہ صحت سندھ کے مطابق بچوں کو فائزرکی بائیواین ٹیک ویکسین لگائی جارہی ہے جس کی 2 خوراکیں کم از کم 28 دنوں کے وقفے سے دی جائیں گی اور اس کا اندراج نادرا میں کيا جائے گا۔ وزیرصحت نے بتایا کہ ہم مل جل اس لیے رہے ہیں کیوں کہ ویکسینیشن ہوچکی ہے اور اب بچے اسکول جا رہے ہیں۔ اب بچوں کو ویکسین لگا رہے ہیں تاکہ وہ محفوظ رہیں۔

    قومی ادارہ صحت کے مطابق کورونا سے بچاؤ کی ویکسین لگانے کی مہم 24 ستمبر تک جاری رہے گی، تعلیمی اداروں میں ویکسین لگانے کے لیے کیمپ لگائے جائیں گے۔ بچوں کی ویکسینیشن کیلئے نادرا میں اندراج کرانا ضروری ہوگا اور ب فارم کے ذریعے بچوں کی ویکسینیشن کی انٹری کرائی جائے گی۔
    این آئی ایچ کی جانب سے ہدایات دی گئی ہیں کہ لوگ اپنے بچوں کو کورونا ویکسین کی دو خوراکیں لگوائیں، دوسری خوراک پہلی خوراک کے 21 سے 56 دنوں کے اندر لگوانے ہو گی۔ پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس فروری 2020 میں ریکارڈ ہوا تھا جبکہ اکستان میں کورونا وائرس کے خلاف ویکسینیشن کا آغاز فروری 2021 میں کیا تھا۔

    واضح رہے قومی ادارہ برائے صحت نے گزشتہ روز کہا تھا کہ: پاکستان میں 5 سے 12 سال کی عمر کے بچوں کو کورونا سے بچاو کی ویکسین لگانے کی مہم کا آغاز کل یعنی سوموار سے ہوگا۔ قومی ادارہ صحت کی جانب سے 5 سے12سال کے بچوں کو کورونا ویکسین لگانے کی اپیل کی گئی تھی۔ بچوں کو کورونا سے بچانے کے لیے ویکسینیشن کرانا ضروری قرار دیا گیا تھا.
    خیال رہے کہ 19 ستمبر سے شروع ہونے والی ویکسینیشن مہم 24 ستمبرتک جاری رہے گی۔ بچوں کو والدین کی رضا مندی سے اسکولوں میں ویکسین لگائی جائے گی۔ والدین بچوں کو قریبی ویکسینیشن سنٹرز سے بھی ویکسین لگوا سکتے ہیں۔ بچوں کو بھی کورونا ویکسین کی دو ڈوز لگائی جائیں گی ۔ دوسری خوراک پہلی خوراک کے 21 دن بعد لگائی جائے گی۔

    تاہم خیال رہے کہ گزشتہ دنوں سے کورونا میں کافی کمی نوٹ کی گئی اور نئے کیسز کی تعداد میں بھی نمایاں طور پر کمی دیکھنے میں آئی ہے لیکن پھربھی احتیاطی طور پر حکومت یہ فیصلہ کیا ہے.

  • گوری خان نے ماں ہو کر بیٹی کو دیدیا ایک ایسا مشورہ کہ سن کر آپ رہ جائیں حیران

    گوری خان نے ماں ہو کر بیٹی کو دیدیا ایک ایسا مشورہ کہ سن کر آپ رہ جائیں حیران

    کافی ون کرن جو کہ بھارت کا کافی مقبول پروگرام ہے. اس کے ہوسٹ کرن جوہر جن کو بھی بطور مہمان بلاتے ہیں ان کے سامنے وہ ایسے سوال رکھ دیتے ہیں کہ جن کا جواب یقینی طور پر کنٹرورشل بن جاتا ہے. حال ہی میں کرن جوہر نے شاہ رخ خان خان کی اہلیہ گوری خان کو بطور مہمان اپنے پروگرام میں مدعو کیا. کرن جوہر نے گوری سے ایک سوال کیا کہ اپنی بیٹی سہانا خان کو کیا اور کس قسم کا مشورہ دیں گی تو گوری خان نے کہا کہ میں اپنی بیٹی سے کہوں گی کہ ” ایک ہی وقت میں دو لڑکوں کو کبھی بھی نہ ڈیٹ کرے” . گوری خان کے ساتھ اس پروگرام میں مہیپ کپور اور بھاونا پانڈے بھی بطور مہمان شریک تھیں.گوری نے یہاں تک کہا کہ اگر شاہ رخ خان کے ساتھ ان کی محبت کی کہانی کو عنوان دیا جائے تو وہ ہو

    گا ”دل والے دلہنیا لے جائیں گے” ۔کرن جوہر اس سوال کے جواب میں کافی مسکرائے. یاد رہے کہ گوری خان بہت جلد ایک پروگرام ہوسٹ کرنے جا رہی ہیں جس میں وہ بالی وڈ کے معروف سٹارز کے گھر سجاتی ہوئی دکھائی دیں گی.شاہ رخ خان اپنی اہلیہ کے پروگرام کے لئے کافی پرجوش ہیں دوسری طرف گوری خان کی بیٹی سہانا خان فرحان اختر کی فلم سے اپنا ڈیبیو کررہی ہیں اسکی شوٹنگ تقریبا مکمل ہو چکی ہے. اب دیکھنا یہ ہے کہ کنگ خان کی بیٹی سکرین پر کیا رنگ جماتی ہے.

  • راولپنڈی: خاتون سمیت 4 ذہنی معذور افراد بازیاب، مزید تین ملزمان گرفتار

    راولپنڈی: خاتون سمیت 4 ذہنی معذور افراد بازیاب، مزید تین ملزمان گرفتار

    ذہنی معذوروں سے بھیک منگوانے اور تشدد کے معاملے میں راولپنڈی پولیس نے خاتون سمیت چار ذہنی معذور افراد کو بازیاب کرکے تین مزید ملزمان کو گرفتار کرلیا، سرغنہ خادم حسین پہلے ہی گرفتار ہے۔

    نجی ٹی وی کے مطابق گنجمنڈی پولیس نے ذہنی معذور افراد سے بھیک منگوانے والے 3 مزید ملزمان آصف، ظفر اور شاہد کو گرفتار کرکے خاتون سمیت چار ذہنی معذور افراد کو بازیاب کرالیا جن میں ان میں حیات، راشد، مرتضی اور فاطمہ شامل ہیں۔ گرفتار ملزمان ذہنی معذور افراد سے شہر کے مختلف علاقوں میں بھیک منگواتے تھے۔
    گزشتہ روز گروہ کے سرغنہ خادم حسین کی معذور افراد پر تشدد کرکے اپنی خدمت کرانے اور بھیک سے جمع ہونے والی رقم گنتی کرنے کی ویڈیوز وائرل ہوئیں تھیں جس پر سی پی او راولپنڈی شہزاد ندیم بخاری نے نوٹس لیتے ہوئے مرکزی ملزم خادم حسین کو گرفتار کروا کر 27 ہزار روپے کی نقدی برآمد کی تھی۔

    سی پی او راولپنڈی شہزاد ندیم بخاری کا کہنا تھا کہ ملزمان کے سفاکانہ اقدام نے انسانیت کو شرما دیا، ملزمان کو سخت سے سخت سزا دلوانے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے اور ملزمان سے تفتیش کے دوران مزید ملزمان کی گرفتار ی کی کوشش کی جائے گی، شہری ایسی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اورپولیس کو اطلاع دیں، ذہنی معذور افراد پر تشدد یا ان کا استحصال برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ولپنڈی پولیس نے معذور افراد سے جبری بھیک منگوانے اور ان پر تشدد کرنے والے سفاک شخص کو گرفتار کرلیا تھا۔ راولپنڈی میں ذہنی معذور افراد سے بھیک منگوانے اور تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سی پی او راولپنڈی شہزاد ندیم بخاری نے نوٹس لیا تھا، جس پرگنجمنڈی پولیس نے فوری ایکشن لیتے ملوث ملزم کو گرفتار کرلیا تھا اور بھیک سے جمع ہونے والی نقدی برآمد کرلی تھی.

    پولیس کے مطابق گرفتار شخص کی شناخت خادم حسین کے نام سے ہوئی ہے، جس کے قبضے سے بھیک کی جمع ہونے والی 27 ہزار رقم بھی برآمد کرلی گئی تھی، اس وقت ابتدائی تفتیش میں ملزم نے دو ذہنی معذور افراد سے بھیک منگوانے کا انکشاف کیا تھا۔ اس ضمن میں سی پی او راولپنڈی شہزاد ندیم بخاری کا کہنا تھا کہ ذہنی معذورافراد پر تشدد اور ان سے بھیک منگوانا افسوسناک اور نا قابل برداشت فعل ہے، سفاک ملزم کو قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی جبکہ گرفتار ملزم سے متاثرہ معذور افراد کی بازیابی سمیت دیگر امور پر تفتیش کی جائے گی۔

  • براہمسٹرا کے لئے جب رنیبر نے شاہ رخ سے رابطہ کیا تو ان کا ری ایکشن کیا تھا؟

    براہمسٹرا کے لئے جب رنیبر نے شاہ رخ سے رابطہ کیا تو ان کا ری ایکشن کیا تھا؟

    حال ہی میں ریلیز ہوئی فلم براہمسٹرا میں شاہ رخ خان نے ایک چھوٹا سا کردار ادا کیا. اس کردار کے حوالے سے رنبیر کپور اور عالیہ بھٹ نے اپنے حالیہ انٹرویو میں بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ جب شاہ رخ خان کو اس فلم میں کردار آفر کیا گیا تو ان کا پہلا ری ایکشن کیا تھا.انہوں نے بتایا کہ
    ہم دونوں ہدایتکار آیان مکھر جی کے ساتھ کنگ خان کی رہائش گاہ پر گئے. اور ان کو بتایا کہ وہ ایک فلم بنا رہے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہماری اس فلم میں ایک کردار کریں. تو شاہ رخ خان نے بغیر سوچے سمجھے اس کردار کو ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی اور کہا کہ

    کہانی جو بھی ہے جیسی بھی ہے اور میرا کردار جیسا بھی ہے میں کرنے کو تیار ہوں. یاد رہے کہ برہمسٹرا 9 ستمبر 2022 کو پانچ زبانوں ہندی، تامل، تیلگو، کنڑ اور ملیالم میں بھارت سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں ریلیز کی گئی۔ فلم میں عالیہ بھٹ اور رنبیر کپور کے علاوہ ناگارجن اکینینی، امیتابھ بچن اور مونی رائے نے بھی اہم کردار نبھائے۔ فلم میں عالیہ رنبیر پہلی بار ایک ساتھ اکٹھے ہوئے ہیں. اس میں شاہ ر‌خ خان کے مختصر کردار کو بھی کافی پسند کیا گیاہے. فلم نے ریلیز ہوتے ہی دھوم مچا دی اس سے قبل اس فلم کے ٹریلر نے شائقین کے دل جیت لئے تھے. کہا جا رہا ہے کہ فلم چار سو کروڑ کی لاگت سے تیار کی گئی ہے.

  • پنجاب لوکل ایکٹ2022: کیا پی ٹی آئی اور ق لیگ کی پنجاب حکومت کا قانون لوکل گورنمنٹ کی خودمختیاری کو کم کرتا ہے؟

    پنجاب لوکل ایکٹ2022: کیا پی ٹی آئی اور ق لیگ کی پنجاب حکومت کا قانون لوکل گورنمنٹ کی خودمختیاری کو کم کرتا ہے؟

    پنجاب میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کی مشترکہ حکومت نے پرانے قانون کو منسوخ کر دیا تھا اور اس کی جگہ ایک ایسا قانون لایا جو لوکل گورنمنٹ کی خود مختاری کو کم کرتا ہے اور جمہوریت کی روح کو مجروح کرتا ہے۔

    احمد اقبال کی ایک لینکڈ ان پوسٹ کے مطابق: یہ قانون میئر سپر ووٹوں کے ذریعے کونسل میں بالا اکثریت حاصل کرے گا جس کے نتیجے میں بغیر دانتوں والی کونسل ہوگی بغیر مطلب یہ ایک بے اختیار کونسل ہوگی، احمد اقبال نے مزید لکھا کہ: اس قانون کے مطابق صرف اور صرف وزیراعلیٰ کے پاس منتخب میئر کو ہٹانے یا مقامی حکومتوں کو تحلیل کرنے کا اختیار ہوگا جو انتہائی غلط ہے.

    علاوہ ازیں یہ ہے کہ 110 ملی میٹر پلس والے صوبے میں ایل جیز کی تعداد 450 سے کم کر کے محض 46 کر دی گئی۔ جبکہ اس کے ساتھ ہی پنجاب کے 15 تیزی سے بڑھتے ہوئے ثانوی شہر کارپوریشنز کے طور پر اپنی اعلیٰ حیثیت کھو دیں گے۔ 300 سے زیادہ شہر اپنی آزاد لوکل گورنمنٹ کی حیثیت سے محروم ہو جائیں گے اور انہیں زیادہ تر دیہی ضلع کونسلوں میں ضم کر دیا جائے گا۔ اور اس کے علاوہ اس طرح خواتین، مذہبی اقلیتوں، مزدوروں، کسانوں اور نوجوانوں کی نمائندگی بھی کم ہوئی جائے گی۔ جبکہ سب سے بڑا ظلم یہ کہ بڑے میٹروپولیٹن شہروں کے لیے تحصیل درجے اور ٹاؤن ٹائر کو ختم کر دیا گیا ہے۔

    احمد اقبال نے اپنی پوسٹ میں دعوی کیا کہ: بدقسمتی سے پنجاب کے لیے تین سالوں میں یہ چھٹا قانون ہو گا۔ جبکہ اس درمیان، پنجاب میں لوکل حکومت کو غیر آئینی طور پر تحلیل کر دیا گیا، اور پنجاب میں مقامی حکومتیں گزشتہ نو ماہ سے منتخب نمائندوں کے بغیر ہیں۔

    احمد نے علی چیمہ کے ایک مضمون کا زکر کرتے ہوئے کہ انتخابی طریقہ اقتدار کو مستحکم کرنے کے لیے مسولینی کے استعمال کردہ "Acerbo قانون” سے متاثر ہے۔ جبکہ واضح رہے علی شیمہ کا یہ مضمون 31 جنوری 2022 کو ڈان اخبار میں شائع ہوا تھا، علی چیمہ نے اس مضمون میں لکھا کہ: اقتدار سنبھالنے کے ایک سال سے بھی کم عرصہ بعد پی ٹی آئی نے پنجاب میں بلدیاتی قانون سازی میں بنیادی اصلاحات کا اپنا وعدہ پورا کیا۔ پنجاب کے 2019 لوکل گورنمنٹ ایکٹ نے پارٹی کی بنیاد پر براہ راست منتخب میئر کا نظام متعارف کرایا۔ امریکہ میں اچھی طرح سے قائم، اس نظام کو انگلینڈ کے کئی شہروں، ترکی میں، اور دیگر ممالک کی ایک حد میں اپنایا گیا ہے۔

    علی چیمہ نے مزید لکھا تھا کہ: اس ماڈل کے حامی کئی ایسے دلائل پیش کرتے ہیں جو پاکستانی تناظر میں گونجتے ہیں۔ براہ راست انتخابی اختیار رکھنے والے میئرز کو صوبائی حکومت کے مقابلے میں زیادہ سودے بازی کی طاقت حاصل ہوگی، جس سے مقامی حکومتوں کو جڑ پکڑنے میں مدد ملے گی۔ شہر یا ضلع بھر میں انتخابی مینڈیٹ میئر کے احتساب کا ایک طاقتور نقطہ فراہم کرتے ہیں۔ اس سے میئرز کو ضلع یا شہر بھر کے مسائل پر توجہ مرکوز کرنے کی ترغیب ملے گی، نہ کہ ہائپر لوکل مسائل جو چھوٹے وارڈوں سے منتخب ہونے والے مقامی کونسلرز کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔

    یاد رہے کہ جون 2022 کے گزٹ کے مطابق: تقرریوں اور تبادلوں کے اختیارات سیکرٹریز سے لے کر منسٹر لوکل گورنمنٹ کو دے دیئے گئے ہیں۔ 2021 میں ق لیگ کی تجویز پر دو اضلاع کو میٹرو پولیٹن کارپوریشن کا درجہ دیا گیا تھا وہ بھی دے دیا گیا، اور 11 کے بجائے 9 میٹروپولیٹن کارپوریشنزہوں گی۔

    نئے ایکٹ میں گجرات اور سیالکوٹ کو میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے درجے سے نکال دیا گیا ہے، جب کہ بلدیاتی ایکٹ کے مطابق مقامی حکومتیں 2022 میں ہونے والی نئی مردم شماری کے بعد مقررہ علاقے کی حدبندیاں کرنے کی مجاز ہوں گی۔ ایکٹ میں لاہور کو بھی میٹرو پولیٹن کا درجہ دیا گیا ہے، میٹرو پولیٹن اور میونسپل کارپوریشن اپنی جائیدادوں کی رپورٹ تشکیل دیں گے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق شہری علاقوں کو بھی میٹرو پولیٹن اور میونسپل کارپوریشن کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ جب کہ دیہاتی علاقوں کو ڈسٹرکٹ کونسل کا نام دیا گیا ہے۔نئے ایکٹ میں 25 ہزارسے ڈھائی لاکھ والے ضلع کو ميونسپل کميٹی کا درجہ ديا گيا ہے، جب کہ ڈھائی لاکھ سے زائد آبادی والے ضلع کو ميونسپل کارپوريشن کا درجہ حاصل ہوگا۔

  • سٹیج سے شائقین بالکل خفا نہیں  نسیم وکی

    سٹیج سے شائقین بالکل خفا نہیں نسیم وکی

    گزشتہ روز نسیم وکی کی انڈین پنجابی فلم ”ماں دا لاڈلا” کی لاہور میں سکریننگ ہوئی، سکریینگ میں انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسی بات بالکل نہیں ہے کہ ڈرامہ شائقین سٹیج سے خفا ہو کر گھر بیٹھ گئے ہیں. ایک وقت تھا جب لاہور میں دو تین تھیٹر ہوا کرتے تھے آج ان کی تعداد کافی بڑھ چکی ہے. ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب کوئی چیز اچھی چل رہی ہو تو لوگ اس کا حصہ بنتے جاتے ہیں جب نہ اچھی چل رہی ہو تو لوگ اس میں سے نکلتے جاتے ہیں. تو بہت سارے آرٹسٹ سٹیج کرتے رہے اور بہت ساروں نے چھوڑ بھی دیا لیکن سٹیج آج

    تک چل رہا ہے اور لوگ اسے پسند کررہے ہیں. فیملیاں بھی بڑی تعداد میں آتی ہیں لہذا میں اس تاثر کی نفی کرتا ہوں کہ فیملیاں سٹیج کا رخ کرنا چھوڑ گئی ہیں. نسیم وکی نے ماں دا لاڈلا فلم کے حوالے سے کہا کہ اس فلم میں کام کرنے کا بہت مزہ آیا . میں‌نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ میں ایسا کام کروں کہ جس سے پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند ہو، میرے مداح اس فلم کو دیکھ کر یقینا بہت زیادہ خوش ہوں گے. قیصر پیا کی یقینا یہ پہلی انڈین پنجابی فلم ہے انہوں نے بھی فلم میں بہت اچھا کردار ادا کیا ہے.

  • انڈین اور پاکستانی فنکاروں کی پنجابی فلم ماں دا لاڈلا کی لاہور میں سکریننگ

    انڈین اور پاکستانی فنکاروں کی پنجابی فلم ماں دا لاڈلا کی لاہور میں سکریننگ

    انڈین پنجابی فلم ”ماں دا لاڈلا” جس میں ترسیم سنگھ جسڑ اور نیروباجوہ کے علاوہ پاکستانی فنکار نسیم وکی ، افتخار ٹھاکر اور قیصر پیا نے اہم کردار ادا کئے ہیں. گزشتہ روز اس فلم کی لاہور میں سکریننگ کی گئی. اس موقع پر نسیم وکی موجود تھے انہیں فلم میں ہیرو کا کردار کرنے والے ترسیم سنگھ جسڑ نے وڈیو کال کی اور بے حد خوشی کا اظہار کیا پنجابی میں بولے” مینوں بوہت خوشی اے کے میری فلم پاکستان اچ ریلیز ہو رئی اے” . فلم میں پنجابی کلچر کو دکھایا گیا ہے بیرون ملک میں شوٹ ہونے والی اس فلم میں پاکستانی فنکاروں کے کردار نمایاں ہیں. ماں دا لاڈلا فلم کی ریلیز کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے کہا جا رہا ہےکہ اس فلم کے بعد دیگر انڈین فلموں کی ریلیز کے راستے کھلیں گے. فلم میں نیروباجوہ کافی

    خوبصورت لگ رہی ہیں کہانی میں ایک سوشل ایشو کو ہائی لائٹ کیا گیا ہے. نسیم وکی اور افتخار ٹھاکر کے فلم میں ڈائیلاگز نے شائقین کو خوب محظوظ کیا. یا درہے کہ فلم میں نسیم وکی ، افتخار ٹھاکر اور قیصر پیا کے علاوہ نرمل رشی، روپی گل نے بھی اہم کردار ادا کئے ہیں. دو گھنٹے پر محیط یہ فلم کامیڈی ڈرامہ ہے. فلم کی سکریننگ پر افتخار ٹھار اور قیصر پیا اپنی نجی مصروفیات کی وجہ سے نہیں پہنچ سکے یوں سکریننگ میں‌نسیم وکی پر تمام نظریں جمی رہیں.

  • پی ایف یو جے (سکینڈنیوئین) کی جانب سے سویڈن انتخابات کی کوریج اور شہریوں کو معلومات کی فراہمی کیلئے ہلپ لائن قائم

    پی ایف یو جے (سکینڈنیوئین) کی جانب سے سویڈن انتخابات کی کوریج اور شہریوں کو معلومات کی فراہمی کیلئے ہلپ لائن قائم

    پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (سکینڈنیوئین)چیپٹرکے زیراہتمام سویڈن کے انتخابات کی کوریج کے حوالے سے تنظیم کے مقامی عہدیداروں کی جانب سے مقامی صحافیوں اورشہریوں کو معلومات کی فراہمی کے لیے ایک ہیلپ لائن قائم کردی گئی

    پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (سکینڈنیوئین)چیپٹرکے زیراہتمام سویڈن کے انتخابات کی کوریج کے حوالے سے تنظیم کے مقامی عہدیداروں کی جانب سے مقامی صحافیوں اورشہریوں کو معلومات کی فراہمی کے لیے ایک ہیلپ لائن قائم کی گئی. پی ایف یو جے سیکنڈنیویا کے صدر جنیدنوازچوہدری‘سیکرٹری زبیرحسین اور دیگر نے صدر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس جی ایم جمالی اور سیکرٹری جنرل رانا محمد عظیم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات میں پی ایف یوجے کی قیادت نے جس طرح سے پاکستان اور اب پاکستان سے باہر بھی آزادی صحافت و آزادی اظہار رائے کے لیے جو جدوجہد کی ہے وہ قابل تحسین ہے .

    انہوں نے کہا کہ پی ایف یو جے سکینڈنیویا قیادت کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے سیلاب سے متاثرہ صحافیوں کی مدد کے لیے جلد فنڈریزنگ شروع کررہی ہے . پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سیکرٹری جنرل رانا محمد عظیم کی ہدایت پر سکینڈنیوئین چیپٹرکے صدر کی جانب سے سکینڈنیویاکے مختلف ممالک کے صحافیوں کے اعزازمیں پذیرائی کی تقریب اسٹاک ہوم سویڈن میں منعقدکی گئی جس میں پاکستانی نژاد صحافیوں کے علاوہ کمیونٹی کے دیگر افراد نے بھی شرکت کی اس موقع پر سویڈن کی معروف عرب کاروباری شخصیت نے پاکستانی پرچم کا کیک بطور اعزاز پیش کیا.

    سویڈن کے انتخابات میں پاکستانی میڈیا پر انتخابات کے حوالے سے معلوماتی خبروں کے بروقت نشر ہونے کا نہ صرف پاکستانی کمیونٹی نے خیرمقدم کیا بلکہ دیگر مسلم کمیونٹی کی جانب سے بھی پاکستانی صحافیوں اور میڈیاہاوسز کی کاوشوں کو سراہا گیا عرب کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی کاروباری شخصیت نے پاکستانی پرچم کا کیک پاکستان فیڈریل یونین آف جرنلسٹس سکینڈنیویا کے سیکرٹری سنیئر صحافی زبیر حسین کو پیش کیا عرب کمیونٹی کا کہنا ہے تمام مسلم ممالک کے صحافیوں نے سویڈن میں مقیم مسلمانوں میں سیاسی شعور بیدار کیا جس میں بالخصوص پاکستانی صحافیوں کا کردار نمایاں ہے.

    پی ایف یو جے سکینڈنیویا کے مرکزی دفتر میں صحافیوں سمیت سماجی اور سیاسی شخصیات نے اس حوالے سے خصوصی ملاقات کی جہاں انہوں نے میڈیا نمائندگان سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یقینی طور پر پہلی بار پاکستانی میڈیا نے سویڈن میں مقیم پاکستانیوں تک تمام سیاسی جماعتوں کے منشور کے حوالے سے آگاہی پہنچائی اور الیکشن میں بطور امیدوار حصہ لینے والے پاکستانیوں کے بارے میں کمیونٹی کو معلومات مہیا کی،صحافیوں کے علاوہ سویڈن کے دیگر شہروں سے بھی کمیونٹی ممبران نے اپنے پیغام میں پی ایف یو جے کے صحافیوں کی خدمات پر انہیں خراجِ تحسین پیش کیا.

  • ایشوریا نے مجھے وہ اعتماد دیا جو شادی سے پہلے مجھ میں نہیں تھا ابھیشیک بچن

    ایشوریا نے مجھے وہ اعتماد دیا جو شادی سے پہلے مجھ میں نہیں تھا ابھیشیک بچن

    بالی وڈ اداکار ابھیشیک بچن سے ایک انٹرویو میں پوچھا گیا کہ انہوں نے اپنی اہلیہ ایشوریا رائے سے ابھی تک کیا سیکھا ہے؟ ، اس کا جواب دیتے ہوئے جونیئر بچن نے انکشاف کیا کہ ایش نے وہ اعتماد دیا ہے جو انہیں شادی سے پہلے کبھی نہیں تھا۔ انہوں نے کہا ایشوریا رائے نے مجھے ایک ایسا اعتماد دیا ہے جو مجھ میں پہلے کبھی نہیں تھا۔ مجھے گھر میں کئی برسوں تک بچے کی طرح ٹریٹ کیا جاتا رہا میری بہن کی کافی برس پہلے شادی ہو گئی تھی وہ میری بہت کئیر کرتی تھی، مجھ پر کسی قسم کی ذمہ داری نہیں تھی مجھے پتہ بھی نہیں تھا کہ ذمہ داری کیا ہوتی ہے.لیکن شادی کے بعد میں نے اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کیا مجھے لگا کہ مجھے اپنی بیوی کی ذمہ داری اٹھانی چاہیے ان کی حفاظت اور کئیر کرنی چاہیے. ابھیشیک بچن نے مزید کہا کہ ایشوریا رائے مجھے سکھایا کہ چیزوں کو نارمل اور حقیقی کیسے رکھنا ہے. یقینا میرے والدین نے

    بھی مجھے یہ چیزیں سکھائیں لیکن ایشوریا رائے کو بھی اسکا کریڈٹ جاتاہے.ابھیشیک بچن نے مزید کہا کہ میں نے ایشوریا رائے کے ساتھ کچھ فلموں میں کام کیا ہے اور مزید میں کام کرنے کی خواہش رکھتا ہوں، لیکن اسکے لئے صحیح وقت اور صحیح سکرپٹ کا ہونا بہت ضروری ہے جب تک ایسا نہیں ہو گا ہم ایکساتھ کام نہیں کر سکیں گے. یاد رہے کہ ایشوریا رائے منی رتنم کی Ponniyin Selvan: I کے ساتھ سلور اسکرین پر واپس آنے والی ہیں فلم 30 ستمبر کو سینما گھروں میں ریلیز ہونے والی ہے۔ یہ کالکی کرشنامورتی کی 1955 میں بننے والی دو سنیماٹک حصوں میں سے پہلی ہے۔