کراچی کی عدالت نے مصطفیٰ عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان عرف ارمی کو رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے غیر قانونی کال سینٹر چلانے سے متعلق پیکا ایکٹ کے مقدمے میں ملزم کی ضمانت منظور کر لی۔
تفصیلات کے مطابق مصطفیٰ عامر قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت نے ارمغان عرف ارمی کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی، جو غیر قانونی کال سینٹر کے الزام میں پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں دائر کی گئی تھی۔
عدالت میں سماعت کے دوران وکیل صفائی خرم عباس اعوان ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم کے خلاف تاحال چالان پیش نہیں کیا گیا، نہ ہی تفتیشی افسر عدالت میں پیش ہو رہا ہے اور نہ کوئی گواہ سامنے آیا ہے۔ وکیل کے مطابق ملزم کے خلاف کوئی تحریری شکایت بھی موجود نہیں۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد ارمغان عرف ارمی کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ایک لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا۔ واضح رہے کہ ملزم کے خلاف این سی سی آئی میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
Author: Aqsa Younas Rana

مصطفیٰ عامر قتل کیس: مرکزی ملزم ارمغان کی ضمانت منظور، رہائی کا حکم

غزہ میں بارش کے بعد خستہ حال عمارت گرنے سے دو فلسطینی جاں بحق
غزہ میں تباہ شدہ عمارتیں شہریوں کے لیے جان لیوا خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔ بارش کے بعد ایک کمزور اور لرزتی عمارت گر گئی، جس کے نتیجے میں دو فلسطینی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ علاقے میں پہلے ہی درجنوں عمارتیں شدید بمباری کے باعث غیر محفوظ ہو چکی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق سردی میں اضافے نے خیموں میں رہنے والے خاندانوں کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔ بارش اور کم درجۂ حرارت کے باعث بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کے لیے حالات نہایت سخت ہو گئے ہیں۔
ادھر مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز نے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے، جن کے دوران خاتون صحافی سمیت درجنوں فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا گیا۔ اس دوران اتوار کو اسرائیلی فائرنگ سے شہید ہونے والے نوجوان کی تدفین میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، جہاں فضا سوگ اور غصے سے بھری رہی۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومت نے غیرقانونی یہودی آباد کاروں کو بھاری ہتھیار فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے علاقے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
پاکستان اور چین کا افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کے خلاف واضح اور قابلِ تصدیق کارروائیوں کا مطالبہ
پاکستان اور چین نے افغانستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے خلاف واضح اور قابلِ تصدیق اقدامات کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
یہ بات دونوں ممالک کے مشترکہ اعلامیے میں کہی گئی ہے، جو پیر کے روز پاکستان اور چین کے وزرائے خارجہ کے اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے ساتویں مرحلے کے اختتام پر جاری کیا گیا۔ اس وقت پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار دو روزہ دورے پر بیجنگ میں موجود ہیں۔
اعلامیے کے مطابق بات چیت کے دوران دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون پر تفصیل سے غور کیا۔ ان شعبوں میں اسٹریٹجک اور سیاسی روابط، دفاع اور سلامتی، معیشت، تجارت، سرمایہ کاری اور ثقافتی روابط شامل تھے۔
پاکستان اور چین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اسٹریٹجک رابطوں کو مزید مضبوط کیا جائے، باہمی اعتماد بڑھایا جائے اور مشترکہ مفادات کا تحفظ کیا جائے۔ دونوں ممالک نے خطے اور خطے سے باہر امن، ترقی اور خوشحالی کے فروغ کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں موجود تمام دہشت گرد تنظیموں کے خاتمے کے لیے مزید واضح اور قابلِ تصدیق اقدامات ضروری ہیں، کیونکہ یہ گروہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سلامتی کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بنے ہوئے ہیں۔


