روس نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے حل میں مدد فراہم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس اس تنازع کو کم کرنے اور حالات کو پُرامن راستے پر لانے کے لیے تیار ہے۔
ترجمان کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اس وقت خطے کے مختلف رہنماؤں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر پیوٹن کی جانب سے سفارتی روابط کا سلسلہ جاری ہے تاکہ کشیدگی میں کمی لانے کے امکانات کو تقویت دی جا سکے۔
دمتری پیسکوف کا کہنا تھا کہ اگر روس کی خدمات درکار ہوئیں تو ماسکو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرے گا کہ موجودہ جنگی صورتحال جلد ختم ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ روس خطے میں استحکام کا خواہاں ہے اور اس مقصد کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ سفارتی سطح پر بات چیت جاری ہے۔
دوسری جانب کریملن نے تصدیق کی ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن آج مصر کے وزیر خارجہ کی میزبانی کریں گے۔ اس ملاقات میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی سمیت مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
کریملن کے مطابق اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات پر بھی گفتگو ہوگی جبکہ خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے مختلف امور زیر غور آئیں گے۔
روس کی جانب سے یہ پیشکش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور عالمی سطح پر سفارتی کوششیں تیز ہو رہی ہیں۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

روس کا ایران امریکا تنازع میں کردار ادا کرنے کا اعلان
-

کراچی میں موسلا دھار بارش، کئی علاقوں میں اربن فلڈنگ
کراچی میں موسلا دھار بارش نے شہر کا نظام درہم برہم کر دیا، مختلف علاقوں میں پانی جمع ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق تیز بارش کے باعث شہر کی اہم شاہراہیں زیر آب آ گئیں اور کئی مقامات پر اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ شارع فیصل کے علاقوں نرسری، فائن ہاؤس اور کارساز پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔
شہر کے دیگر علاقوں ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد، کیماڑی اور میٹروپول میں بھی تیز بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی کھڑا ہو گیا اور آمد و رفت میں مشکلات پیش آئیں۔
گارڈن روڈ سمیت مختلف علاقوں میں بھی سڑکوں پر پانی جمع ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ شہریوں کو ٹریفک جام اور تاخیر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
بارش کے باعث کئی علاقوں میں نکاسی آب کا نظام متاثر نظر آیا اور پانی کے فوری اخراج کے لیے متعلقہ اداروں کی کارروائیاں جاری ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ہر بار بارش کے بعد یہی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے اور نکاسی آب کے نظام میں بہتری کی ضرورت ہے۔
انتظامیہ کے مطابق مختلف علاقوں میں عملہ تعینات کر دیا گیا ہے تاکہ پانی کی نکاسی کو جلد از جلد یقینی بنایا جا سکے اور معمولات زندگی بحال کیے جا سکیں۔ -

ٹرمپ کے خطاب پر ڈیموکریٹس کی شدید تنقید
امریکا میں ڈیموکریٹک رہنماؤں نے ایران کے ساتھ جاری تنازع کے حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پرائم ٹائم خطاب کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے غیر مربوط قرار دیا ہے۔
ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ اس خطاب میں بنیادی سوالات کے واضح جوابات دینے کی کوشش نہیں کی گئی، جس کے باعث عوام میں مزید ابہام پیدا ہوا ہے۔
سینیٹر مارک وارنر نے اپنے بیان میں کہا کہ ٹرمپ کو چاہیے تھا کہ وہ امریکی عوام کو اس تنازع کے حوالے سے مکمل وضاحت دیتے، خاص طور پر اس کے معاشی اثرات کے بارے میں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے باعث پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ڈیزل، کھاد، ایلومینیم اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات طویل عرصے تک معیشت پر پڑیں گے اور عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب سینیٹر کرس مرفی نے بھی ٹرمپ کے خطاب پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ تقریر ایک ایسی حقیقت پر مبنی تھی جو صرف صدر کے ذہن میں موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطاب سننے کے بعد بھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ امریکا کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے یا اسے مزید بڑھا رہا ہے۔
ڈیموکریٹ رہنماؤں کے مطابق حکومت کو اس حساس معاملے پر واضح پالیسی اور حکمت عملی پیش کرنی چاہیے تاکہ عوام کو درست صورتحال سے آگاہ کیا جا سکے۔ -

یہ کوئی تماشہ نہیں ہے: بیوی سے متعلق تبصرے پر میکخواں کا ٹرمپ کو جواب
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فرانس پر تنقید کے ساتھ فرانسیسی صدر ایمانویل میکروں کی اہلیہ سے متعلق دیے گئے متنازع بیان نے سفارتی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ایران جنگ میں تعاون نہ کرنے پر فرانس کو ہدف تنقید بنایا اور اس دوران ایک غیر معمولی بیان دیتے ہوئے فرانسیسی صدر کی اہلیہ بریجیٹ میکروں کے بارے میں ذاتی نوعیت کا تبصرہ کیا۔
ٹرمپ کے اس بیان کو غیر سفارتی اور غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ عالمی سطح پر رہنماؤں کے اہل خانہ کو عموماً سیاسی تنقید سے الگ رکھا جاتا ہے۔
اس پر ردعمل دیتے ہوئے فرانسیسی صدر ایمانویل میکروں نے ٹرمپ کے بیان کو غیر شائستہ اور نامناسب قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اس طرح کے تبصرے کسی ردعمل کے بھی قابل نہیں۔
میکروں نے کہا کہ ایسے بیانات نہ صرف سفارتی روایات کے خلاف ہیں بلکہ اس سے عالمی سطح پر سنجیدہ معاملات سے توجہ بھی ہٹتی ہے۔
انہوں نے اس موقع پر زور دیا کہ موجودہ عالمی حالات میں ذمہ دارانہ رویہ اپنانا ضروری ہے اور ذاتی نوعیت کی باتوں کے بجائے اصل مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔
فرانسیسی صدر نے مزید کہا کہ دنیا اس وقت ایک حساس مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں استحکام اور امن کی ضرورت ہے، اور ایسے بیانات صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ -

پاکستان کی جنگ بندی کی کوششیں جاری، وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور جنگ بندی کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔
موجودہ علاقائی صورتحال پر ہونے والے ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ایران جنگ کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں اور ملک کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کر رہے ہیں اور پاکستان نے ہر سطح پر امن کے قیام کے لیے کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے جنگ کے شعلے ٹھنڈے کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے ہیں اور اس وقت تک جنگ بندی کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں موجود پاکستان کے دو جہازوں کو بھی کامیابی سے نکالا گیا ہے، جو اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ جنگی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے صوبوں نے بھی تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے اور تمام وزرائے اعلیٰ اس حوالے سے وفاق کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ تین ہفتوں کے دوران وفاقی حکومت نے پی ایس ڈی پی میں 100 ارب روپے کی کٹوتی کی ہے جبکہ پارلیمنٹرینز نے بھی تیل کی بچت کو یقینی بنانے کے اقدامات کیے ہیں۔ -

پیٹرولیم قیمتوں میں 100 روپے سے زائد اضافے کا امکان
حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے کو یقین دہانی کرائی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی منڈی کے مطابق ایڈجسٹ کی جائیں گی، جس کے بعد آئندہ ہفتے سے فی لیٹر 100 روپے سے زائد اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے گزشتہ ہفتے قیمتوں میں اضافہ روکنے کے لیے آئل کمپنیوں کو ترقیاتی بجٹ سے سبسڈی فراہم کی تھی، حالانکہ اس سے قبل پیٹرول کی قیمت میں 95 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 203 روپے فی لیٹر اضافے کی تجاویز زیر غور تھیں۔
رپورٹس کے مطابق وزیراعظم نے ان تجاویز کو منظور نہیں کیا تھا جس کے بعد وقتی طور پر قیمتیں برقرار رکھی گئیں، تاہم اب عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ معاہدوں کے تحت قیمتوں میں ردوبدل ناگزیر ہو گیا ہے۔
حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ قیمتوں کا تعین صوبوں سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا تاکہ اس کے اثرات کو کسی حد تک کم کیا جا سکے۔
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگر ترقیاتی پروگرام کے فنڈز دوبارہ استعمال کیے گئے تو ممکنہ اضافے کو جزوی طور پر کم کیا جا سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے۔
دوسری جانب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں اس وقت 106 سے 108 ڈالر فی بیرل کے درمیان ہیں، جس کے باعث مقامی سطح پر قیمتوں میں اضافے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔
حکام کے مطابق آئندہ دنوں میں پیٹرولیم قیمتوں میں ردوبدل سے متعلق حتمی اعلان متوقع ہے۔ -

یو اے ای میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
متحدہ عرب امارات میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد شہریوں اور کاروباری حلقوں پر اضافی مالی بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے۔
جاری کردہ نئے نرخوں کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 30 فیصد سے زائد جبکہ ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 70 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو حالیہ عرصے میں ایک بڑا اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سپر پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 2.59 درہم سے بڑھ کر 3.39 درہم ہو گئی ہے، جبکہ اسپیشل 95 پیٹرول 2.48 درہم سے بڑھ کر 3.28 درہم فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔ اسی طرح ای پلس 91 پیٹرول کی قیمت 2.40 درہم سے بڑھ کر 3.20 درہم فی لیٹر ہو گئی ہے۔
دوسری جانب ڈیزل کی قیمت میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا، جہاں فی لیٹر قیمت 2.72 درہم سے بڑھ کر 4.69 درہم تک پہنچ گئی ہے، جس کا براہ راست اثر ٹرانسپورٹ اور صنعتی شعبے پر پڑنے کا امکان ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور خطے میں جاری کشیدگی اس اضافے کی بڑی وجوہات ہو سکتی ہیں، جبکہ اس کے اثرات دیگر ممالک پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ -

آسٹریلوی وزیراعظم کا ٹرمپ سے ایران جنگ پر وضاحت کا مطالبہ
آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز نے ایران سے متعلق جاری جنگ کے مقاصد پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وضاحت طلب کر لی ہے، جس سے عالمی سطح پر اس تنازع کے حوالے سے سوالات مزید بڑھ گئے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق انتھونی البانیز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکا کی حکمت عملی اور جنگ کے مقاصد کے بارے میں مزید وضاحت چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جاننا ضروری ہے کہ اس جنگ کا اصل مقصد کیا ہے اور کشیدگی میں کمی کیسے لائی جائے گی۔
انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری کو صورتحال کی شفاف تصویر درکار ہے تاکہ کسی بڑے بحران سے بچا جا سکے اور خطے میں امن کی راہ ہموار ہو۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری کارروائی میں اسرائیل اپنے آدھے سے زیادہ اہداف حاصل کر چکا ہے، تاہم مشن کی تکمیل میں ابھی وقت درکار ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور امریکا ایران کے جوہری پروگرام اور اسلحہ سازی کی صلاحیت کو ختم کرنے کے قریب پہنچ چکے ہیں، جبکہ ایران کی فوجی اور میزائل طاقت کو بھی کمزور کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی رہنماؤں کے بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ ایران سے متعلق تنازع نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے، اور اس کے حل کے لیے واضح حکمت عملی کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے۔ -

فائر سیفٹی نہ ہونے پر ہاشو سینٹر کی 200 دکانیں سیل
کراچی کے مصروف ترین تجارتی مرکز ہاشو سینٹر میں فائر سیفٹی انتظامات نہ ہونے پر ضلعی انتظامیہ نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے 200 دکانوں کو سیل کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر اور مختار کار نے پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ ہاشو سینٹر پر چھاپہ مارا اور مارکیٹ میں حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا۔
حکام کے مطابق مارکیٹ کے اندر آگ سے بچاؤ کے لیے کوئی مناسب انتظام موجود نہیں تھا، جبکہ دکانوں اور فلور پر گیس سلنڈرز، تھنر اور دیگر آتش گیر مواد بھی رکھا گیا تھا جو کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتا تھا۔
یہ بھی بتایا گیا کہ اس مارکیٹ کو اس سے قبل 3 فروری کو بھی سیل کیا گیا تھا، تاہم انتظامیہ کو نوٹس جاری کرنے کے بعد سات دن کی مہلت دی گئی تھی تاکہ فائر سیفٹی کے اقدامات مکمل کیے جا سکیں۔
باوجود اس کے کہ دوبارہ نوٹس جاری کیے گئے، دکانداروں اور مارکیٹ انتظامیہ نے مطلوبہ حفاظتی اقدامات نہیں کیے، جس کے بعد کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ضلعی انتظامیہ اور پولیس کا کہنا ہے کہ انسانی جانوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور جب تک تمام فائر سیفٹی تقاضے پورے نہیں کیے جاتے، مارکیٹ کو ڈی سیل نہیں کیا جائے گا۔ -

اٹلی اور اسپین کا امریکی طیاروں کو سہولت دینے سے انکار
اٹلی نے امریکی جنگی طیاروں کو اپنے ایئربیس استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے، جس سے جاری علاقائی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران پر بمباری کے بعد امریکی طیارے سسلی کے ایئربیس پر لینڈنگ کے خواہاں تھے، تاہم اٹلی نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ سے متعلق آپریشنز کے لیے بھی امریکی طیاروں کو اس بیس کے استعمال سے روک دیا گیا۔
دوسری جانب اسپین نے بھی واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے ایران کے خلاف کارروائیوں میں امریکی جنگی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود اور اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اسپین کے وزیر دفاع نے کہا کہ ملک کسی بھی صورت میں اس تنازع کا حصہ نہیں بنے گا۔
اسی تناظر میں اردن کے بادشاہ شاہ عبداللہ دوم نے بھی کہا ہے کہ ان کا ملک اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرے گا اور نہ ہی خود کو کسی جنگ کا میدان بننے دے گا۔ انہوں نے ایران کے معاملے پر سیاسی اور سفارتی حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ماہرین کے مطابق یورپی اور علاقائی ممالک کے یہ فیصلے ظاہر کرتے ہیں کہ کئی ریاستیں براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کر رہی ہیں اور جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش کر رہی ہیں۔