اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایران کی تقریباً 70 فیصد اسٹیل پیداواری صلاحیت تباہ ہو چکی ہے، جس سے ایران کی عسکری اور صنعتی طاقت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
نیتن یاہو نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ اسرائیل اپنے امریکی اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران کی صلاحیتوں کو کمزور کر رہا ہے اور مختلف اہم اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی افواج نے کمانڈرز کے ساتھ ساتھ پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایران کی دفاعی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم کے مطابق اسٹیل ایک انتہائی اہم دھات ہے جو میزائل، ڈرون اور بحری جہازوں سمیت مختلف عسکری سازوسامان کی تیاری میں استعمال ہوتی ہے، اور اس کی پیداوار میں کمی ایران کی ہتھیار سازی کی صلاحیت کو محدود کر دے گی۔
انہوں نے اس پیش رفت کو ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پاسدارانِ انقلاب کے مالی وسائل اور عسکری پیداوار دونوں متاثر ہوئے ہیں۔
تاہم ایران کی جانب سے ان دعوؤں پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ماہرین اس صورتحال کے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

ایران کی 70 فیصد اسٹیل پیداوار تباہ : اسرائیل
-

ایران کے پاس بڑی تعداد میں میزائل اور ڈرونز موجود: امریکی رپورٹ
امریکی نشریاتی ادارے کی جانب سے انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے جاری ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی بڑی تعداد میں میزائل لانچرز اور حملہ آور ڈرونز موجود ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے پاس ہزاروں کی تعداد میں ڈرونز اور میزائل لانچرز موجود ہیں جبکہ ساحلی دفاع کے لیے کروز میزائلوں کا بھی ایک بڑا ذخیرہ برقرار ہے۔
اس رپورٹ میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ حالیہ حملوں کے باوجود ایران کی عسکری صلاحیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی اور وہ اب بھی دفاع اور جوابی کارروائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تاہم وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے اس رپورٹ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نامعلوم ذرائع امریکی فوج کی کامیابیوں کو کم تر ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ترجمان کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں میں 90 فیصد تک کمی آ چکی ہے، جو امریکی کارروائیوں کی کامیابی کو ظاہر کرتی ہے۔
دوسری جانب پینٹاگون کے ترجمان نے بھی اس رپورٹ کو مکمل طور پر غلط قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ ایران کی صلاحیتوں کے حوالے سے پیش کیے گئے اعداد و شمار درست نہیں ہیں۔ -

اسرائیلی وزیر دفاع کی حزب اللہ کو سخت دھمکی
اسرائیلی وزیر دفاع نے حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم کو خبردار کیا ہے کہ یہودی تہواروں کے دوران حملوں میں اضافے پر انہیں بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ نعیم قاسم کے لیے واضح پیغام ہے کہ ان کے اقدامات کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔
انہوں نے دھمکی آمیز انداز میں کہا کہ حزب اللہ قیادت کو بھی دیگر رہنماؤں کی طرح انجام کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے شمالی اسرائیل پر متعدد راکٹ حملے کیے، جو یہودی تہوار پاس اوور کے آغاز کے موقع پر کیے گئے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گا اور دریائے لیتانی کے علاقے میں سیکیورٹی کنٹرول برقرار رکھا جائے گا۔
اسرائیلی حکام کے مطابق ان کا ہدف لبنان میں حزب اللہ کی عسکری صلاحیتوں کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے، جبکہ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث صورتحال مزید نازک ہوتی جا رہی ہے۔ -

مزید وقت ملے تو آبنائے ہرمز کا راستہ کھول سکتے ہیں: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر امریکہ کو مزید وقت ملے تو وہ آبنائے ہرمز کو کھول سکتا ہے اور وہاں سے تیل حاصل کیا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ تھوڑا زیادہ وقت لے کر امریکہ اس اہم آبی گزرگاہ کو آسانی سے کھول سکتا ہے، تیل حاصل کر سکتا ہے اور اس سے بڑی دولت پیدا کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ اقدام دنیا کے لیے ایک بڑا معاشی فائدہ ثابت ہو سکتا ہے، تاہم انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ امریکہ کس طرح آبنائے ہرمز پر موجود کنٹرول کو ختم کرے گا۔
ٹرمپ کے بیان میں یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ وہ کس مخصوص تیل کے ذخائر یا وسائل کا حوالہ دے رہے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کے لیے ایک انتہائی اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی مداخلت عالمی منڈیوں اور تیل کی فراہمی پر بڑے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ -

اسلام آباد، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں 6.2شدت کا زلزلہ
پاکستان سمیت خطے میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے جن کی شدت 6.2 ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ اس کا مرکز افغانستان کے ہندوکش کا علاقہ تھا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلہ 3 اپریل 2026 کو رات 9 بج کر 13 منٹ پر آیا، جس کی گہرائی 190 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کے محل وقوع کے مطابق اس کا مرکز 36.48 شمالی عرض بلد اور 70.84 مشرقی طول بلد پر واقع تھا۔
زلزلے کے جھٹکے اسلام آباد، پشاور، چترال، سوات، شانگلہ اور دیگر علاقوں میں محسوس کیے گئے، جس کے باعث شہری خوفزدہ ہو کر گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل آئے۔
عینی شاہدین کے مطابق زلزلہ چند سیکنڈ تک جاری رہا تاہم اس کی شدت کافی محسوس کی گئی جس نے لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کر دیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم حکام صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق زلزلے کی گہرائی زیادہ ہونے کے باعث اس کے جھٹکے وسیع علاقے میں محسوس کیے گئے۔ -

میشا شفیع کے علی ظفر پر الزامات کیس، تفصیلی فیصلہ جاری
علی ظفر اور میشا شفیع کے درمیان طویل عرصے سے جاری قانونی تنازع میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں عدالت نے میشا شفیع پر 50 لاکھ روپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے کیس کو ختم کر دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق دونوں فریقین کے بیانات اور مؤقف کو باقاعدہ ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا، جس کے بعد کیس اپنے منطقی انجام تک پہنچا۔
دستاویزات کے مطابق میشا شفیع نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے ذاتی تجربے کی بنیاد پر آواز اٹھائی تاکہ معاشرے میں خاموشی کو توڑا جا سکے اور دیگر خواتین کو بھی بولنے کا حوصلہ ملے۔ انہوں نے اس اقدام کو مشکل مگر ضروری قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ خود کو اس معاملے میں تنہا نہیں سمجھتیں اور ان کا مقصد خواتین کے لیے محفوظ ماحول کو فروغ دینا تھا۔
دوسری جانب علی ظفر نے عدالت میں تمام الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا تھا اور کہا کہ وہ قانونی طریقے سے اپنا مؤقف پیش کر رہے ہیں تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق علی ظفر نے کہا کہ وہ اپنے خاندان، ساتھیوں اور مداحوں کے سامنے جوابدہ ہیں اور اسی لیے اس معاملے کو عدالت کے ذریعے حل کرنا چاہتے تھے۔
اس کیس کے دوران میڈیا کوریج اور عوامی بحث نے دونوں فریقین کی پیشہ ورانہ زندگی پر بھی اثر ڈالا، جبکہ یہ معاملہ پاکستان میں #MeToo تحریک کے تناظر میں ایک اہم قانونی مثال کے طور پر دیکھا جاتا رہا۔ -

آئی ایم ایف کا سخت مانیٹری پالیسی کا مطالبہ، شرح سود بڑھنے کا خدشہ
عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے پاکستان سے سخت ترین مانیٹری پالیسی اپنانے کا مطالبہ کیا ہے، جس کے باعث آئندہ دنوں میں شرح سود میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو سخت مالیاتی پالیسی برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری تنازعات کے باعث افراطِ زر میں اضافے کا شدید خدشہ ہے، جس کے اثرات پاکستان سمیت دیگر معیشتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
عالمی ادارے نے واضح کیا ہے کہ اگر مہنگائی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے مطابق شرح سود میں بھی اضافہ کرنا ہوگا تاکہ معیشت کو مستحکم رکھا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف اسٹیٹ بینک کے فیصلوں کی مسلسل نگرانی کرے گا تاکہ طے شدہ اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں ترسیلات زر بڑھانے کے لیے ایک خصوصی ایکشن پلان تیار کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد ملک میں ڈالر کی آمد کو مستحکم کرنا ہے۔
توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ پلان مئی 2026 تک مکمل کر لیا جائے گا، جس سے معیشت کو سہارا ملنے اور مالیاتی نظام کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ -

کراچی میں 41 سالہ بارش کا ریکارڈ ٹوٹ گیا
کراچی میں ہونے والی حالیہ طوفانی بارش نے 41 سالہ ریکارڈ توڑ دیا، جس کے باعث شہر میں نظام زندگی شدید متاثر ہوا اور مختلف حادثات میں متعدد افراد جاں بحق ہو گئے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 38.7 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو کہ 2 اپریل 1985 کے 37 ملی میٹر کے سابقہ ریکارڈ سے زیادہ ہے۔
اس غیر معمولی بارش کے باعث شہر کے درجہ حرارت میں نمایاں کمی آئی اور موسم سرد ہو گیا، گزشتہ رات کم سے کم درجہ حرارت 16 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو اپریل کے معمول کے درجہ حرارت سے تقریباً 5.8 ڈگری کم ہے۔
بارش کے دوران مختلف حادثات میں جاں بحق افراد کی تعداد 7 تک پہنچ گئی ہے۔ گلستانِ جوہر بلاک 7 میں ایک شخص کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوا، جبکہ سرجانی ٹاؤن، پی آئی بی کالونی اور ایم اے جناح روڈ کے قریب کرنٹ لگنے کے واقعات میں مزید 5 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
اولڈ گولیمار میں دیوار گرنے سے ایک رکشہ ڈرائیور موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا، جبکہ اورنگی ٹاؤن میں دیوار گرنے سے 3 بچے زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی ہواؤں کا سلسلہ جنوب مشرق کی جانب بڑھ رہا ہے اور اس کے اثرات ملک کے دیگر علاقوں میں 4 اپریل تک برقرار رہ سکتے ہیں۔
شہر میں آج مطلع جزوی ابر آلود رہنے کا امکان ہے جبکہ ہلکی بارش یا بوندا باندی ہو سکتی ہے، تاہم مزید کسی بڑی بارش کی توقع نہیں ہے۔ -

پیٹرول مہنگا، کوٹری میں احتجاج، وزیراعظم کا علامتی جنازہ
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے خلاف سندھ کے علاقے کوٹری میں شہریوں اور مزدور طبقے نے شدید احتجاج کیا اور وزیراعظم کا علامتی جنازہ نکال کر اپنا غم و غصہ ظاہر کیا۔
تفصیلات کے مطابق مظاہرین نے مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیوں کے خلاف نعرے بازی کی اور احتجاجی ریلی نکالی، جو مختلف علاقوں سے ہوتی ہوئی ‘ببرا اسٹاپ’ تک پہنچی جہاں اسے جلسے کی شکل دے دی گئی۔
مظاہرین نے احتجاج کے دوران وزیراعظم کا علامتی جنازہ بھی نکالا اور علامتی نماز جنازہ ادا کی، جس کا مقصد حکومت کی پالیسیوں کے خلاف شدید ردعمل ظاہر کرنا تھا۔
شرکا کا کہنا تھا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ عوام پر ناقابل برداشت بوجھ بن چکا ہے، خاص طور پر غریب اور مزدور طبقہ شدید متاثر ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی موجودہ صورتحال نے عام آدمی کی زندگی کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے اور لوگ بنیادی ضروریات پوری کرنے سے بھی قاصر ہوتے جا رہے ہیں۔
مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی جائے اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔
شرکا نے مزید کہا کہ حکومت کو اپنی معاشی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی چاہیے تاکہ عوام کو درپیش مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔ -

موٹرسائیکل سواروں کیلئے ماہانہ 2 ہزار سبسڈی کا اعلان
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر موٹرسائیکل سواروں کے لیے خصوصی سبسڈی دینے کا اعلان کر دیا ہے۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں موجودہ علاقائی صورتحال اور مہنگائی کے اثرات پر غور کیا گیا، جس کے بعد ٹارگٹڈ سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
مراد علی شاہ کے مطابق سندھ میں رجسٹرڈ موٹرسائیکلوں کی تعداد تقریباً 66 لاکھ ہے اور اپریل سے ہر موٹرسائیکل سوار کو ماہانہ 2 ہزار روپے فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ سبسڈی 20 لیٹر پیٹرول کے حساب سے دی جائے گی، یعنی فی لیٹر 100 روپے رعایت فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے ایک خصوصی ایپ متعارف کرائی جائے گی جس میں موٹرسائیکل مالک کا شناختی کارڈ نمبر درج کرنے پر اس کی گاڑی کی تفصیلات سامنے آ جائیں گی، اور تصدیق کے بعد رقم براہ راست اس کے اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے عوام کو ہدایت دی کہ اگر موٹرسائیکل ان کے نام پر رجسٹرڈ نہیں ہے تو آئندہ 15 دن کے اندر اسے اپنے نام منتقل کروائیں، اس کے لیے حکومت نے ٹرانسفر فیس بھی معاف کر دی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صرف رجسٹرڈ موٹرسائیکلوں، گاڑیوں اور ٹرکوں کو ہی سبسڈی دی جائے گی، جبکہ ٹرانسپورٹ مالکان کو کرایوں میں اضافہ نہ کرنے کا پابند بنایا جائے گا۔
مراد علی شاہ کے مطابق لوئر کلاس کے ریلوے کرایوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا اور مسافر بسوں کو وفاقی حکومت کی جانب سے بھی مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔