Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • کیاہم مسلمان ہیں ??   تحریر.. واحید خان

    کیاہم مسلمان ہیں ?? تحریر.. واحید خان

    دنیاں میں رہنے والے تمام انسان کسی نہ کسی مذھبی عقیدے کا حصہ ہیں ہم مسلمان جتنا بھی شکر اداکرے کم ہے کہ بغیر کسی مخصوص درخواست کے اللہ تعالی نے ہمیں مسلمان پیدا کیا ہے اور دین فطرت کا حصہ بنا دیا ہے.ہمارا عقیدہ ہے کہ نبی کریم ہمارا رھبر ورہنماء ہے اور اخری نبی ہے اس طرح ہم قران و سنت کو زندگی کیلئے رہنماء اصولوں کا منبہ سمجھتے ہیں.

    اب سوال یہ ہےکہ اس فتنہ وفساد کے دور میں جب ہر طرف اسلام اور مسلمان دجالی سازشوں کے حصار میں ہیں اپنے مسلمان بھائیوں کا ارادی اور غیر ارادی طور پر اسلام کے خلاف پراپیگنڈے کا حصہ بننا انتہائی قابل افسوس ہےصلیبی جنگوں کے دوران قلعہ اجنادین کے فتح کے موقع پر جب عیسائیوں کے اینٹلی جنس افسر ہرمن گرفتاری کے بعد سلطان صلاح الدین ایوبی کے سامنے پیش کردئیے گئے تو اسکی کہی ہوئی بات اج سو فیصد درست معلوم ہورہی ہےکہ ایک دور ائے گا جب مسلمان قوم کا نوجوان نسل اپنے جہادی عقیدے کو فرسودہ اور دقیانوسی نظریہ تصور کرے گا اور ہم بغیر کوئی جنگ لڑے مسلمانوں کے اوپر غلبہ پالینگے.

    ایک زمانے میں اسرائیلیوں کا دنیاں بھر میں کوئی ریاست ہی نہیں تھا لیکن بالاخر جب فلسطینیوں میں سے ہی لوگوں نے اسرائلیوں سے رشتے ناتھے جوڑے, کاروبار شروع کیا, ان سے قرضے لئے, ان پر زمینیں فروخت کئے تو اج فلسطین سے مسلمانوں کا ریاست ہی سکُڑ گیا ہے اور اسرائیل ایک ملک بن گیا ہے.

    اج دنیاں دیکھ رہی ہے کہ فلسطینی بچے جوان بوڑھےخواتین رو رو کر عالم اسلام سے فریاد کررہے ہیں کہ انکے اوپر اگ اور بارود برسایا جارہاہے لیکن مسلمان ذھنی طورپر مغلوب اور محکوم بن گئے ہیں اور اپنی بزدلی کو چھپانے کیلئے غیر ضروری امن پسندی کے ترانے گاہ رہے ہیں ..دوسری طرف فلسطین کے گلی کوچوں کو معصوم اور پاک بچوں کے اعضاہ سے رنگین کیا جارہاہے .ان پر تاریخی وحشت ودہشت کے پہاڑ گرائے جارہے ہیں لیکن دنیاں خاموش ہے..

    اے ایوبی کے جانشینوں !

    اے محمد بن قاسم کے کلمہ گو بھائیو!

    اے عمر رضی اللہ عنہ کے چاہنے والو!

    ارے او محمد کے امتیوں !!!

    کیا اپ مسجد اقصی کے میناروں کے عظمت کو بھول گئے ہو جنکی بلندیاں خالق کائنات اپنے محبوب سے محوگفتگو کیلئے استعمال کرتا ہے..

    کیا اپ بیت المقدس کے تقدس کو فراموش کرچکے ہو جو اسرائیلی فوجی کتوں کے بوٹو تلے روندہ جارہاہے ..

    کیا اپ اس ظالم جابر حجاج بن یوسف سے بھی گئے گزرے ہو جس نے ایک نوجوان نہتی لڑکی کے فریاد پر بغداد سے اپنے سترہ سالہ نوجوان بھتیجے محمد بن قاسم کو کراچی کے ساحلوں تک انصاف فراھم کرنے اور کفار کو سبق سکھانے کیلئے بھیجا تھا 

    ارے میرے بدبخت مسلمان بھائیوں !!!

    جب روز محشر سورج کی گرمی ستر ہزار مرتبہ بڑھادی جائےگی,,

    جب سورج کو کھینچ کر مقام حشر کے اوپر کھڑا کردیاجائے گا اور جب ہم سب بغیر کپڑے پہنے ننگے دڑنگے اپنے اپنے اعمال کی گٹھلیاں سنبھالے حساب کتاب کیلئے ہزاروں سال میدان حشر میں کھڑے رہینگے کوئی نبی کوئی رسول اللہ تبارک وتعالی سے حساب شروع کروانے کا مطالبہ خوف کے مارے نہیں کر سکے گا بالاخر جب سارے نبی مل کر رسول اللہ سے سفارش کرے کہ اپ ہی اللہ سے درخواست کرے کہ حساب شروع کرے تو اس وقت ہم اپنے پیارے محبوب کے سامنے کس منہ سے جائے نگے جب ہم نے نہتے فلسطینی معصوم بچوں کے انتقام سے غداری کی ہو اور امن امن کے نام پر جہاد کو دوتکارہ ہو..جب ہم نے امریکی خوف کی وجہ سے جہاد کو فساد کہاہو جب ہم نے شامی بچوں کو اللہ سے فریاد اور شکوے کرتے دیکھاہولیکن ہم نے اسے صرف عربوں کا مسلہ کہاہو جب ہم نے بغداد کے گلیوں میں انسانی اغضاء کو کتوں کو کھلاتے ہوئے دیکھا ہو اور ہم نے اسے شیعہ سنی کا مسلہ کہاہو جب ہم نے برما کے مسلمانوں کو زندہ جلتے دیکھا ہو اور ہم نے ایک انسو تک نہ بہایا ہو جب ہم نے افغانستان کے اندر جنازوں اور مسجدو پر بم گرتے دیکھا ہو اور ہم نے جہاد کو صرف مولیوں کا شوق اور کام.کہا ہو تو ہم اپنے اپنے پیارے حبیب کو کیسے راضی کرینگے کہ یا رسول اللہ ہم بھی اپکے اپکے امت میں سے ہیں …کیسے ہم ان سے توقع کرینگے کہ وہ ہمیں اپنی پیاس بجھانے کیلئے حوض کوثر کا پانی پلایئگا مگر قربان.جاو اپنے پیارے حبیب کے.. دیکھ لیں میرے پیارے حبیب سردار دوجہاں کو کہ وہ تب تک سجدے میں گرے رہینگے جب تک ایک بھی امتی باقی ہو اور وہ جنت میں نہ گیا ہو…

    فلسطین کے مقتول و شہید بچوں !

    فلسطین کے بوڑھے اور ضغیف شہیدو !

    شام ولبنان اور افغانستان و برما اور پوری دنیاں کے مظلوم شہیدو !

    مظلوم حسین کے بھائیو!

    ہم اپکے خون سے شرمندہ ہیں

    ہم اپکے مجرم ہیں 

    کیونکہ

    ہم جہادیوں کے بجائےامن پسند ہیں کیونکہ ہم امریکہ جیسے ملک کے ائیڈیل نظام کے چاہنے والے جعلی مسلمان ہیں کیونکہ چار لکیریں پڑھکر عظیم جہاد کے فاتح خالد بن ولید عمر بن خطاب ابو عبیدہ بن جراح شرجیل بن حسنہ عبداللہ بن زبیر علی کرم اللہ وجہہ سے زیادہ بڑے عالم وفاضل جو بن گئے ہیں …

    ‏‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎

     Twitter Handle::  @PTI58

  • ٹریفک کے مسائل اور ان کا حل !  تحریر: احسن ننکانوی 

    ٹریفک کے مسائل اور ان کا حل !  تحریر: احسن ننکانوی 

    یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر لاکھوں لوگ روزانہ بحث کرتے ہیں یہ ہمارے معاشرے کا ایک اہم مسئلہ ہے کیونکہ لاکھوں کے حساب سے لوگ ایک ہی شہر میں گھروں سے باہر نوکریوں سکولوں کالجوں اور بزنس وغیرہ کے لئے نکلتے ہیں۔

    ان میں زیادہ تر درمیانے طبقے کے لوگ ہوتے ہیں جنہیں سواری نہ ہونے کی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ پر آنا جانا پڑتا ہے روزانہ ہی مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ جس طرح ہمارے ملک میں باقی شعبوں کو نظرانداز کیا جاتا ہے اسی طرح ٹریفک کے مسئلہ کو بھی نظر انداز ہی کیا جاتا رہا ہے حالانکہ اس کے لیے مکمل لاحہ عمل تیار کرکے اسے رائج کیا جائے۔

    حالانکہ اس کے لئے ایک مکمل لائحہ عمل تیار کرکے اسے رائج کیا جائے ٹریفک کا انتظام عملی طور پر کرنا چاہیے نہ کے کاغذات کی حد تک کہ دنیا میں کوئی مسئلہ ایسا نہیں ہے جو حل نہ کیا جا سکے ۔

    بس ضرورت ایک اچھے انسان کی ہوتی ہے۔

    ملک میں روزانہ بے شمار لوگ سٹاپ پر کھڑے بسوں اور ویگنوں کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ ان میں مرد عورتیں بچے سے بھی شامل ہوتے ہیں جنہیں صبح دفتر و کالج سکولوں کو جانا ہوتا ہے صبح اور شام دونوں دفعہ بسوں ویگنوں کے انتظار میں لائنیں لگ جاتی ہیں جب یہ دنیا بس اسٹاپ پر آتی ہیں لوگوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح سوار کروایا جاتا ہے ۔

    رش کے وقت ویگنوں اور بسوں کو کم کر دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ویگنوں والے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ایک ہی ویگن یا بس پر سوار کر کے زیادہ سے زیادہ پیسے کماتے ہیں۔

    مرد لوگ تو بھاگ کر بس یا ویگن میں اپنی جگہ بنا لیتے ہیں لیکن عورتوں اور چھوٹے بچوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے عورتوں کے لئے ویگنوں اور بسوں میں بہت کم جگہ رکھی جاتی ہے جس کی وجہ سے کھڑے ہونے کی مناسب جگہ بھی نہیں ملتی ان کے ساتھ چھوٹے چھوٹے بچے بھی ہوتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں زیادہ پریشانی سے دوچار ہونا پڑتا ہے بسوں اور ویگنوں والے اسکول کے چھوٹے بچوں کو سوار کرنے سے کتراتے ہیں۔ کیونکہ اکثر بچے خود ہی جاتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو کرایہ دینے کے باوجود بھی مناسب جگہ نہیں ملتی ان کے مسائل کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

    ہمارے ڈرائیور بھی اکثر ماہر نہیں ہوتے وہ تیزرفتاری سے کام لیتے ہیں اور اپنے پیسے بنانے کے چکر میں اکثر لوگوں کو کچل دیتے ہیں۔ ہمارے یہاں ٹریفک حادثات میں روزانہ کتنے ہی لوگ مرتے اور زخمی ہوتے ہیں۔ کیونکہ ٹریفک کے بہت کم ہیں اصول ہیں جن پر عمل کیا جاتا ہے۔ اکثر لوگ ابھی اتر رہے ہوتے ہیں کہ نیچے سے لوگ چڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔ قطار بنانے کا ہمارے یہاں کوئی رواج نہیں ۔

    ہر کوئی ایک دوسرے کو دھکا دے کر یا پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھنا چاہتا ہے اگر کام اصول اور طریقے سے کیا جائے تو بہت سے مسائل ختم نہیں تو کم ضرور کیے جا سکتے ہیں۔

    کوئی کام بہتری اچھا کرنے کے لئے سب لوگوں کا ساتھ ہونا چاہیے اگر حکومت کوئی لائحہ عمل بناتی ہے تو اس پر اچھے طریقے سے لوگوں سے عمل کروائے کیونکہ ہمارے ہاں صرف جنگل کا قانون یا جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے اصول اپنائے جاتے ہیں حکومت کو ٹریفک کے مسائل حل کرنے کے لیے سارا نظام بدلنا چاہیے ڈرائیوراور کنڈیکٹرز ماہر ہو بلکہ باقاعدہ ان کے لئے کورسز ہوں جنہیں پاس کرکے لائسنس دیا جائے یا تیز رفتاری پر سب کو ایک جیسی سزا دی جائے تاکہ قانون کا احترام کریں۔

    بزرگوں کو چاہیے کہ وہ نئے آنے والے بچوں کو بھی شروع سے ہی اچھا نمونہ دیں۔ تاکہ جب وہ بڑے ہو تو اچھے اصول اپنائیں کیونکہ جب صبح سکول جاتے ہیں اپنے ساتھ ڈرائیور اور کنڈکٹروں کا سلوک دیکھتے ہیں تو باغی ہونا شروع کر دیتے ہیں۔

    بوڑھے افراد یا عورتیں ابھی بس یا ویگن پر سوار بھی نہیں ہوتی تو بس یا ویگن چلنا شروع کر دیتی ہے۔ اس طرح روزانہ کئی حادثے دیکھنے یا سننے میں آتے ہیں۔

    اگر مؤثر طریقے بنائے اور ان پر عمل کروایا جائے تو بہت سے مسائل کم ہو جاتے ہیں ہمارے ہاں کرایا مناسب ہونا چاہیے۔ جو کہ ہر فرد آسانی سے ادا کرسکیں کیونکہ لوگوں کی فی کس آمدنی بہت کم ہے۔ اس کے لئے کوئی انتظام کرنے سے پہلے حکومت کو ہر پہلو مدنظر رکھنا چاہئے۔ نہ کہ صرف اپنا فائدہ دیکھیں ٹریفک کروڑ لوگوں کا مسئلہ ہے۔ اور یہ مسئلہ اس وجہ سے بھی مزید بڑھ گیا ہے۔ کہ گزشتہ چند سالوں سے بنکوں نے گاڑیاں آسان قسطوں پر دینا شروع کی ہیں۔ جس کے باعث سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد کئی گنا زیادہ ہوگئی ہے۔ جبکہ دوسری طرف زیادہ ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لیے کسی قسم کی مناسب منصوبہ بندی نہیں کی گئی ہم سب مل کر حکومت کو تجاویز دیں کہ اس مسئلے کا حل نکال سکتے ہیں

    @Ahsannankanvi

  • فیصلہ  پارٹ نمبر 1 تحریر سکندر علی 

    فیصلہ پارٹ نمبر 1 تحریر سکندر علی 

    Twitter @CikandarAli

    یہ بہار کے انتہائی خوب صورت موسم میں ایک اتوار کی صبح تھی ۔ ایک نوجوان تا جر جارج بینڈ مان دریا کے کنارے

    کنارے بنے چھوٹے اور خستہ حال گھروں، جو اپنی بلندی اور رنگ سے ایک دوسرے سے مختلف معلوم نہیں ہوتے ہیں، کی

    طویل قطار میں سے ایک گھر کی پہلی منزل میں اپنے ذاتی کمرے میں بیٹا ہوا تھا۔ وہ ابھی اپنے ایک دیرینہ دوست کو، جو

    اب دیار غیر میں رہتا تھا، خط لکھ کر فارغ ہوا تھا اور پھر اس نے خط کو سختی کے ساتھ سوچوں میں کھوئے ہوئے انداز میں

    الناس میں ڈالا اور اب لکھنے کی میز پر کہنیاں ٹکائے کھڑکی سے با مردم با پل اور پر لے گٹار سے پر آنکھوں کو بھی معلوم

    ہونے والی ہریالی والی پہاڑیوں کو دیکھ رہا تھا۔

    وہ اپنے دوست کے بارے میں سوچ رہاتھا جوحقیقت میں چند سال پہلے روس بھاگ گیا تھا۔ یہاں دو اپنے حالات

    سے غیرمطمئن رہتا تھا۔ اب وہ سینٹ پیٹرز برگ میں اپنا کاروبار چلارہا تھا جو شروع میں تو خوب پکا لیکن اب طویل ع سے

    سے پہلی حالت میں تھا اور جس کی شکایت وہ سلسل بے قاعدگی کا شکار ہو جانے والے اپنے یہاں کے دوروں کے دوران

    کیا کرتا تھا۔ وہ دیار غیر میں بے کارهای خود کو تک رہا تھا۔ اس کی بڑی داڑھی اس چہرے کو پوری طرح نہیں جب پانی کی ہے

    جارج چین سے جانا تھا اور اس کی جلد کی رنگت اتنی زرد ہو چکی تھی کہ اس کے جسم میں پلنے والی کی باری کا پت دی۔

    جیسا کہ اس نے خود بتایا اس کا وہاں مقیم اپنے ہم وطنوں سے کوئی باقاعدہ رابط نہیں تھا، نہ ہی مقائی روی کنبوں سے اس

    کے تعلقات بہتر تھے اور یوں اس نے مستقل کنوار پن پر قناعت کر رکھی تھی۔

    اپنے ان کو آخر کیا لکھا جاسکتا ہے جوخو بدحالی کا کار ہوں۔ جس کی حالت پرافسوس تو کیا جا سکتا تھا لیکن اس کی دو کرتا

    ممکن نہیں تھا۔ کیا اسے نصیحت کی جانی چاہیے کہ وہ واپس آجائے ، یہاں اپنی زندگی کی شروعات کرے، تمام پرانے

    دوستانہ تعلقات کی تجدید کرے، یہاں اس کے لیے رکاوٹ بھی کوئی نہیں ہوگی اور پھر موی طور پر اپنے دوستوں کی اعانت پر

    بھروسہ رکھے لیکن بیتو اس سے یہ کہنے کے مترادف ہوگا اور یہ کہ یہ بات بھی نرمی سے کہی جائے اتنی ہی تکلیف دہ ہوتی

    تھی کہ اس کی بھی کوششیں لے کر گئی تھیں ، یہ کہ اسے اب یہ سب کچھ چھوڑ و یا اپنے ملک لوٹ آنا اور لوگوں کی نظروں کا

    سامنا کرنا چاہے جواسے سب کچھ نا کر آنے والے کے طور پر دیکھیں گی اور یہ کہ اصل مجھ بوجھ تو اس کے دوستوں کی کو

    حامل ہے جب کہ وہ خود ایک بڑا بچہ ہی ہے جسے وہی کچھ کرنا چاہیے جو اس کے کامیاب اور گھر بار والے دوست اس کے

    لیے تجویز کریں۔

    پھر بھی کیا یقینی تھا کہ جس مقصد کے لیے اسے یہ اذیت پہنچائی جائے گی، وہ پورا ہو سکے گا۔ شاید ممکن نہیں تھا کہ

    اسے واپس وطن لایا جائے۔ اس نے خود سے کہا کہ اپنے ملک کے تجارتی معاملات سے اب اس کا کوئی لینا دینا نہیں تھا۔

    یوں وہ اس اجنبی سرزمین پر دوستوں کے صلاح مشورے سے عاجز اور ان سے علیحدہ رہ کر ایک اجنبی کی زندگی گزارے

    گا لیکن اگر ایسا ہو کہ وہ دوستوں کا مشورہ بھی قبول کرے اور پھر یہاں جم کر کوئی کام بھی نہ کر پائے کسی کی دشمنی کی وجہ سے

    نہیں بلکہ حالات ہی اسے اس نے پر لے آئیں تو دوستوں کے ساتھ بیان کے بغیر وہ نہیں چل پائے گا، بکی محسوس کرے گا

    اور یہ کہنے جوگا بھی نہیں رہے گا کہ اس کے کچھ دوست ہیں اور اس کا اپنا بھی کوئی وطن ہے ۔ تو کیا ہی بہتر نہیں ہے کہ جیسے بھی

    حالات میں وہ غیر ملک میں رہ رہا ہے، ویسے ہی رہے۔ ان سب باتوں کے پیش نظر کوئی بھی یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا تھا

    کہ یہاں آنے کے بعد وہ ایک کامیاب زندگی گزارنے لگے گا۔

    ان وجوہات کے تحت اگر کوئی اس سے خط و کتابت جاری رکھے تو وہ اسے ایسی خبریں نہیں بتائے گا جو دور دراز رہنے

    والے دوستوں کو بے تکلفان سمجھی جاتی ہیں۔ پچھلی بار وہ تین سال پہلے یہاں آیا تھا۔ اس نے بیعذر پیش کیا تھا کہ روس کے

    سیاسی حالات دگرگوں تھے جس کی وجہ سے اس جیسے معمولی تا جر کو بھی تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی ملک سے باہر جانے کی

    مہلت حاصل نہیں تھی، جب کہ حقیقت اس دوران میں لاکھوں روی سہولت کے ساتھ دوسرے ملکوں میں گھوم پھر رہے تھے۔

    ان تین برسوں میں جارج کی اپنی زندگی بہت کی تبدیلیوں کی زد میں آئی تھی۔ دو سال پہلے اس کی ماں فوت ہوگئی۔

    اس کے بعد سے وہ اپنے باپ کے ساتھ کر گھر داری کی ذمہ داریاں پوری کر رہا تھا۔ اس کے دوست کو بھی بلاشبہان

    سانحے کے اطلاع دی گئی تھی لیکن اس نے جواب میں ایسے روکھے انداز میں اظہار ہمدردی کیا تھا جس سے پینتیجہ نکالا جاسکتا

    تھا کہ اس سانحے سے پیدا ہونے والا دکھ دور دراز کسی ملک میں محسوس نہیں کیا جاسکتا۔ اسی سانحے کے بعد سے جاری زیاده

    پختہ ارادے کے ساتھ اپنے کاروباری معاملات اور دیگر امور میں پہلے سے زیادہ مصروف ہو گیا تھا۔

    ماں زند تھی تو کاروباری معاملات میں وہ شاید اس لیے بھی زیادہ ذوق و شوق سے کام نہیں کر سکا کہ اس کا باپ اپنی

    من مانی کرنے کا شائق تھا۔ شاید اپنی بیوی کی وفات کے بعد اس کے باپ کا مزاج گم جارحانہ ہو گیا تھا۔ حالاں کہ وہ

    کاروباری معاملات میں اب بھی دخیل تھا۔

    جاری ہے 

  • جے ٹی آئی کا مشن      ۔۔۔ نسل نو کی تربیت تحریر احسان اللہ خان

    19 اکتوبر 1969ء سے 19 اکتوبر 2021ء تک حریتِ فکر کے متوالوں کا یہ عظیم قافلہ سو بمنزل ہے، اس انقلابی تنظیم کی آبیاری اکابرین نے اپنے پسینے اور خون سے کی ہے۔ کراچی سے خیبر تک صالح نوجوانوں کا یہ پرعزم قافلہ قربانیوں اور جدوجہد کی لازوال داستان رکھتی ہے، آج بھی اپنے اکابرین کے دیئے ہوئے سبق کو ہم بھولے نہیں۔

    نوجوان کسی بھی معاشرے کا وہ حصہ ہوتا ہے کہ جو سماج پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت سے بھر پور ہوتا ہے دنیا میں جتنے انقلابات آئے ہیں اس میں نوجوان کا رول سب سےزیادہ ہے ۔ چونکہ نوجوانان مستقبل کے معمار ہوتے ہیں اور انہی نے تمام ذمہ داریوں سے عہدہ براں ہونا ہوتا ہیں اس لیے ان کی تعلیم وتربیت اہم ترین فریضہ ہے ۔ یہ تعلیم وتربیت تین مراحل میں ہوتی ہے،

     اول گھر، 

    دوم سماج، 

    سوم جامعات۔ 

    بچہ سب سے پہلے والدین اور گھر کے افراد سے شعوری ولا شعوری تعلیم وتربیت پاتا ہے، 

    دوسرے درجہ میں وہ گھر سے باہر گلی ومحلے میں جب قدم رکھتا ہے تو دوست واحباب اور معاشرے کے رویے اس کی شخصیت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ 

    تیسرے درجہ میں وہ جب کسی مکتب واسکول اور جامعہ میں پہنچتا ہے تو معلم اس کو اپنے قول وفعل سے تعلیم دیتا ہے۔ تب جاکر وہ میدان عمل میں وہ داخل ہوتا ہے اور ذمہ داریوں کو نبھاتا ہے۔ ہم چونکہ دور زوال سے گزر رہے ہیں اگر ہم اپنے ماحول پر نگاہ ڈالیں تو صورتحال سامنے آتی ہے کہ اول تو شرح خواندگی کم ہے جس کی وجہ سے اکثر والدین ناخواندہ ہیں یا اگر خواندہ ہیں تو معاشی مجبوریوں یا اعلی معیار زندگی کی دوڑ نے ان کو اتنا مصروف رکھا ہے کہ وہ بچوں کی تربیت پر توجہ نہیں دے پا رہے ہیں ۔ پھر اس مادہ پرستانہ ماحول سے جو سماج بنتا ہے وہ اس بچہ ونوجوان کو مسلسل یہی پیغام دے رہا ہوتا ہے کہ اصل کامیابی مادہ کا حصول ہے اور اس کے لیے جس قسم کی چالاکی دھوکہ دہی کی جاسکتی ہے وہ جائز ہے اور اس مادہ پرستانہ ماحول سے جو اخلاقی تنزلی پیدا ہوتی ہے وہ ہمارے پورے معاشرے سمیت ان نونہالان پر اثر انداز ہوتی ہے۔

    تیسرے نمبر پر جو معاصر جامعات ہیں وہاں پر گو عصری فنون کا تعارف تو پڑھایا جاتا ہے لیکن فکری ونظریاتی تربیت وہاں ناپید ہے، اسی طرح جو دینی مدارس ہیں وہاں علوم عربیہ تو پڑھائے جاتے ہیں لیکن نظریاتی تربیت وہاں بھی نہیں ہے۔ یہی وجوہات ہیں کہ مدارس کا نوجوان شدت پسندی اور جذباتیت کا شکار ہور ہا ہے اور کالج کا نوجوان اخلاقی بے راہ روی کا شکار بنتاہے اور فکری لحاظ سے مغرب کے سامنے مایع بنتا جارہا ہے۔ اسی حالات کو مد نظر رکھ کر جمعیت علمائے اسلام نے نوجوانوں کی فکری وسیاسی تربیت کے لیے جمعیت طلبائے اسلام قائم کی ہے ، تاکہ مسٹر وملا کے فرنگی گمراہ کن تقسیم کو ختم کیا جاسکے اور مدرسہ اور اسکول کے طلباء کو ایک پیج پر جمع کیا جاسکے اور انکی باہم منافرت کو، باہمی اخوت میں بدلا جاسکے، اسلامی خطوط پر ان کی فکر ی ونظریاتی تربیت ہوسکے۔

    ماضی کی تاریخ اگر ہم مطالعہ کریں تو بعض جہات میں اس تنظیم نے بہترین خدمات پیش کیے ہے اس تنظیم نے سینکڑوں نوجوانوں کی فکری وسیاسی تربیت کی ہے چنانچہ مولانا فضل الرحمن اسی شجر کا میوہ ہے اور الحمد اللہ موصوف جمعیت علماء کی بہترین اندازمیں قیادت فرما رہے ہیں۔ اب چونکہ ایک طرف جذباتیت اور دوسری طرف مغرب سے مرعوبیت کا چیلنج در پیش ہے بلکہ اس دور میں تو نوجوانوں کو سیکولر ازم اور لبرل ازم سے ہوتے ہوئے فکری الحاد کا بھی سامنا ہے اس لیے اس دور میں جمعیت طلباء کی از حد اہمیت بڑھ جاتی ہے ۔

    جمعیت طلباء کے حوالے سے ہنگامی طور پر ان کاموں کی طرف توجہ کرنی چاہیے کہ وہ ہر صوبہ ہر ضلع ہر تحصیل اور ہر یونٹ کی سطح پر معلمین کا انتخاب کرے اور ہفتہ وار درس اور مجلس مذاکرہ کا انتظام کرے، اور اپنا سابقہ لٹریچر ہر یونٹ کی سطح تک پہنچائے، مطالعہ اور دروس کا سلسلہ تیز کرے ماہانہ بنیاد پر تربیتی ورکشاپس رکھوائے ، نوجوانوں میں تقریر وتحریر کے مہارات پیدا کرے، ان کی اخلاقی تربیت کے ساتھ ساتھ ان کو سوشل میڈیا کے درست استعمال سے واقف کرائے، قصبہ قصبہ ، دیہات اور شہروں میں داعیوں کی ٹیمیں تشکیل دے اور امت کے نسل نو تک اسلام کا معتدل اور متناسب پیغام پہنچائے۔باقی عہد جدید کے تقاضوں کے مطابق نصاب میں تبدیلی اور اضافات کی ضرورت ہے جس پر مرکزی جماعت اور ذیلی جماعت کے ذمہ داران کو باہم بیٹھنا چاہیے تاکہ فوری طور پر اس پر عمل در آمد ممکن ہوسکے۔ چونکہ جمعیت علماء اسلام کا میدان فقط انتخابی سیاست نہیں بلکہ ہمہ جہت انقلاب ہے، اس کے لیے مکاتب ، رسائل ، شعبہ دعاۃ وغیرہ کا انتظام بھی ہے اس حوالے سے بھی باہمی غور فکر کی ضرورت ہے۔

    جمعیت طلباءاسلام پاکستان   یومِ تاسیس کے موقع پر اپنے اکابرین سے تجدیدِ عہدِ وفا کرتے ہیں کہ ہم نئے جذبے، ولولے سے سامراجی قوتوں کے خلاف میدانِ کارزار میں جدوجہد کرتے رہیں گے۔ ان شاء اللہ وطن عزیز میں اسلام کا بول بالا کرینگے یا جان دے دیں گے۔ درمیان میں کوئی تیسرا راستہ قبول نہیں۔

    خونِ دل دے کر نکھاریں گے رخِ برگِ گلاب

          ہم گلشن کی تحفظ کی قسم کھائی ہے

    Twitter /  @IhsanMarwat_786

  • احساس کو ہے سب کا احساس    تحریر: ذیشان اخوند خٹک

    احساس کو ہے سب کا احساس  تحریر: ذیشان اخوند خٹک

    احساس کو ہے سب کا احساس

    احساس کا نام سنتے ہی انسان کے ذہن میں محبت، خدمت کا نظریہ سامنے آجاتا ہے. احساس بہت ضروری چیز ہے اگر یہ احساس انسانوں کی زندگی سے نکل جائے تو وہ دنیا کے آخری دن ہونگے.
    دنیا جو اب تک چل رہی ہے وہ یہی احساس کے مرہون منت ہے کہ لوگوں کو ایک دوسرے کا احساس ہے.

    جب دنیا کے حکمرانوں بے حس ہوچکے تھے اور اسے اپنے رعایا کا احساس نہیں تھا تو قومیں زوال کا شکار ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے ان سے حکومت چھین لی.
    مسلمانوں نے جب حکومت سنبھالی تو اس نے فلاحی ریاست بنائی جس کا مقصد ایک دوسرے کا احساس تھا. فلاحی ریاست میں امیر المومنین کو اپنے رعایا کا اتنا احساس ہوتا تھا کہ راتوں کو بھیس بدل کر گلیوں میں گھومتے اور لوگوں کا حال احوال لیتے. اس احساس کی وجہ سے اس کی حکومت پھیلتی گئی.

    پاکستان کا بھی یہی حال ہے کہ پہلے پہل حکمرانوں کو رعایا کا احساس نہیں تھا. وہ ہیلی کاپٹر میں کھانے کے سامان اپنے ساتھ لے جاتے تھے مگر عوام بھوک سے مر رہے تھے.
    بینظیر بھٹو شہید ہوگئی تب حکمرانوں کو کچھ احساس ہوا مگر وہ بھی اپنے سیاسی کیریئر کیلئے استعمال ہوا کیونکہ اس پروگرام کا نام بینظیر پروگرام رکھ دیا اور پیپلز پارٹی نے اپنے حاص لوگوں اور حمایتی جماعت جمیعت علماء اسلام کے حاص لوگوں کے سفارش پر پروگرام سے لوگ مستفید ہوتے رہے اور اصلی غریب لوگ اس پروگرام سے رہ گئے.

    جب 2018 میں عمران خان وزیراعظم بنے تب انہوں نے اپنے انتخابی وعدے کے مطابق مدینہ جیسے فلاحی ریاست کا اعلان کیا.
    یہ صرف اعلان نہیں تھا بلکہ ان پر عمل بھی شروع کردیا. مارچ 2019 میں احساس کے نام سے ایک ایسا پروگرام شروع کیا جس نے بلاتفریق عوام کی خدمت کی. اس پروگرام کے چیئرپرسن کیلئے ثانیہ نشتر کا انتخاب کیا جس نے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ کام کیا تھا. کرونا وائرس کے آتے ہی سارے دنیا میں غریبوں پر سائے منڈلانے لگے تب احساس پروگرام کے چیئرپرسن ثانیہ نشتر نے ایک ایسا پلان بنایا کہ احساس پروگرام سے بلاتفریق غریب عوام مستفید ہوئے اور اس زبردست پلان کے دنیا نے بھی تعریف کرڈالی.

    احساس نے پرانے مستحقین کی چھان بین کی اور ان سے اٹھارہ گریڈ جیسے افسران کو نکال دیا جو سفارش کے تحت مستحق لوگوں کے فہرست میں شامل ہوئے تھے.
    حال ہی میں احساس نے ایک نیا سروے شروع کیا جس سے نئے مستحق لوگوں کو فہرست میں شامل کردیا. اس سروے پر نا تو کوئی ایم این اے اثرانداز ہوا اور نا کوئی ایم پی اے بلکہ ایک شفاف ڈیجیٹل سروے ہوا.

    احساس نے صرف عوام کا اتنا احساس نہیں کیا بلکہ مزدوروں کیلئے لنگرخانے، کاروبار کیلئے بلاسود قرضہ، مسافروں کیلئے پناہ گاہ، چھوٹے بچوں کے تعلیم کیلئے وظیفے، غریب عورتوں کیلئے وظیفے، غریب یونیورسٹی کے طلباء و طالبات کیلئے احساس شکالرشپ اور کمزور بچوں کیلئے بہتر نشوونما کیلئے مراکز بھی قائم کئے اور ان کے اور بھی سہولتی پروگرام شروع کئے ہیں جن کی تفصیل ان کی ویب سائٹ پر موجود ہے.

    عمران خان کی حکومت میں واقعی مہنگائی تھوڑا زیادہ ہوگئی مگر یہ پہلے حکمران ہے کہ انہوں نے فلاحی ریاست کا نعرہ لگایا اور رعایا کا احساس کرکے احساس پروگرام شروع کیا.
    احساس پروگرام نے احساس ایمرجنسی سکیم کے تحت جس طرح کرونا کے وقت جس طرح غریبوں کی مدد کی وہ لحاظ سے قابل ستائش تھی.
    سسٹم پرانا ہونے کے تحت اس میں کچھ مسئلے تھے مگر احساس کے انتطامیہ نے غریبوں کو مستفید کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش کی.

     ٹویٹر ہینڈل

    @ZeeAkhwand10 

  • ضروری نیند پر سمجھوتہ ہر گز نہیں تحریر:محمد عدنان رضا

    ضروری نیند پر سمجھوتہ ہر گز نہیں تحریر:محمد عدنان رضا

    مناسب دورانیے تک سونا آپ کے دل،وزن اور ذہن سمیت ہر چیز کی صحت کے لیے بہترین ثابت ہو تا ہے، مصروف ترین زندگی نے نیند کا اوسط دورانیہ 6 گھنٹوں تک پہنچا دیا ہے جبکہ طبی ماہرین 7 سے 8 گھنٹے تک سونے کا مشورہ دیتے ہیں
    انسان کے جسم کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ جہاں یہ سرگرم رہنے سے ٹھیک رہتا ہے وہاں اس آرام کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور خاص کر نیند کی صورت میں اس کی توانائی بحال ہوتی ہے_  مناسب دورانیے تک سونا آپ کے دل،وزن، اور ذہن سمیت ہر چیز کی صحت کیلئے بہترین ثابت ہو تا ہے_ مگر آج کے دور کی مصروفیات نے نیند کا اوسط دورانیہ 6 گھنٹوں تک پہنچا دیا ہے جبکہ طبی ماہرین 7 سے 8 گھنٹے تک سونے کا مشورہ دیتے ہیں_ لگ بھگ ہر ایک کو اچھی نیند کی اہمیت کے بارے میں علم ہے مگر یہاں ایسے کچھ نقصانات بتائیے جارہے ہیں جو کم نیند لینے والے افراد پر اثر انداز ہو تے ہیں_ ان میں سے اہم چڑچڑا پن ہے_ بے خواب راتوں کے نتیجے میں چڑچڑے پن اور جذباتی پن کی شکایت عام ہوجاتی ہے_ یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی جس میں بتایا گیا کہ منفی جذبات نیند متاثر ہونے کا نتیجہ ہوتے ہیں اور آس سے دفتری کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے_ سر درد بھی ان نتائج میں سے ہے_ جن کا بے خوابی کی صورت میں سامنا ہوسکتا ہے_ سائنسدان اس حوالے سے پر یقین نہیں کہ نیند کی کمی سر درد کا باعث کیوں بنتی ہے مگر ایسا ہوتا ضروری ہے_ بے خواب راتوں کے نتیجے میں آدھے سر کا درد ہونے لگتا ہے جبکہ خراٹے لینے والے 36 سے 58 فیصد افراد صبح سر درد کا شکار ہو تے ہیں_ اسطرح کم نیند کے نتیجے میں لوگوں کا جسمانی ہارمون توازن بگڑ جاتا ہے جس کے نتیجے میں کھانے کی اشتہا خاص طور پر بہت زیادہ کیلوریز والی غذاؤں کی خواہش پیدا ہوتی ہے_ اپنی خواہشات پر کنٹرول کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے اور یہ دونوں بہت خطرناک امتزاج ہیں کیونکہ اس کا نتیجہ موٹاپے کی شکل میں نکلتا ہے جبکہ تھکاوٹ کا احساس الگ ہر وقت طاری رہتا ہے_ نیند کی کمی بینائی کی کمزوری، دھند لاپن اور ایک کی جگہ دونظر آنے کی شکل میں بھی سامنے آسکتا ہے_ جتنا زیادہ وقت آپ جاگ کر گزارتے ہیں اتنی ہی بینائی میں خرابی کا امکان بڑھتا ہے جبکہ واہموں کے تجربے کا امکان بڑھ جاتا ہے_ ایک تحقیق کے دوران لوگوں کو 88 گھنٹے تک سونے نہیں دیا گیا جس کے نتیجے میں بلڈ پریشر اوپر گیا جو کہ کوئی زیادہ حیران کن آمر نہیں تھا مگر جب ان افراد کو ہررات صرف 4 گھنٹے تک سونے کی اجازت دی گئی تو دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھ گئی جبکہ ایسے پروٹین کا ذخیرہ جسم میں ہونے لگا جو امراض قلب کا خطرہ بڑھتا ہے_ نیند پوری نہ کرنے والے افراد کو سست ردعمل کا بھی سامنا ہوتا ہے یعنی جب نیند پوری نہ ہو تو کسی بھی واقعے پر ردعمل کا اظہار سست ہو جاتا ہے_ ایک تحقیق کے دوران لوگوں کو فوری فیصلے کرنے کے ٹاسک دئے گئے، جن میں سے کچھ کو کو ٹیسٹ کے دوران سونے کا موقع ملا انہوں نے ٹیسٹ میں بہتر کارکردگی دکھائی جبکہ دیگر افراد کی کارکردگی بدتر اور ردعمل بہت سست رہا_ اس کے ساتھ ساتھ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ جسمانی دفاعی نظام کو طاقتور کیسے بنایا جاسکتا ہے خاص طور پر کسی کھلے زخم ہر پر جلد انفکشن نہیں ہوتا؟ وہ نیند ہے_ آگر آپ نیند کی کمی کے شکار ہو یہاں تک کہ ایک رات کی کمی بھی جراثیموں کے خلاف جسم کے قدرتی دفاع پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے_ توجہ کی صلاحیت متاثر ہونا بھی نیند کی کمی کا نتیجہ ہوسکتا ہے_ کیا پڑھتے یا سنتے ہوئے توجہ مرکوز کرنے میں مشکل کا سامنا ہے کسی ایسے کام کو کرنے میں جدوجھد کرنا پڑ رہی ہے جس میں زیادہ توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے توجہ مرکوز کرکے ہونے والے ٹاسک نیند کی کمی سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں_ ایک تحقیق کے مطابق اگر آپ زہنی طور پر چوکنا اور ہوشیار رہنا چاہیے ہیں تو نیند پوری کرنی چاہیے ورنہ ذہن غنودگی کی کیفیت کا شکار ہو جاتا ہے اور کچھ بھی کرنا کافی مشکل ہوجا تا ہے_ نزلہ زوکام کے دائمی کا شکار ہو نے کا خطرہ بھی نیند پوری نہ ہونے کی صورت میں بڑھ جاتا ہے_ آگر آپ ہر وقت نزلہ زوکام کا شکار رہنے پر پریشان رہتے ہیں اور کہیں بھی جانے پر پریشان رہتے ہیں اور کہیں بھی جانے پر فلو حملہ آور ہوجاتاہے تو اس کی ایک ممکنہ وجہ ناکافی نیند بھی ہے_ ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ 7 گھنٹے سے کم نیند لیتے ہیں ان میں بیماری ہونے کا خطرہ تین گنا زیادہ ہوتا ہے_ پیٹ کے مختلف امراض یعنی معدے میں سوجن وغیرہ نیند کی کمی کے نتیجے میں بدتر ہو جاتے ہیںسات سے آٹھ گھنٹے کی نیند پیٹ کے امراض سے کافی حد تک تحفظ دیتی ہے مگر اس میں کمی خطرہ بڑھا دیتی ہے کیونکہ نیند کے دوران ہمارا جسم میٹا بولزم میں آنے والی خرابیوں کو دور کرتا ہے اسلئے زیادہ وقت جاگ کر گزارنے کے نتیجے میں انسولین کی حساسیت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جس کا نتیجہ ذبابیطس ٹائپ ٹو کی شکل میں نکلتا ہےایک تحقیق کے مطابق نیند کے دورانیے میں اضافہ ممکنہ طور پر ذیابیطس کا خطرہ کم کرتا ہے جبکہ ایک اور تحقیق میں کم سونے کو معمول بنانے اور ذیابیطس کے خطرے کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی گئیطبی ماہرین نے نیند اور کینسر کے درمیان تعلق کے حوالے سے تحقیقات کی ہے اور یہ بات سامنے آئی ہے کہ جسمانی گھڑی کے نظام میں مداخلت سے جسمانی دفاعی نظام کمزور ہو تا ہے اور ان میں مخصوص اقسام کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اس طرح درمیانی عمر میں نیند کی کمی سے دماغی ساخت میں تبدیلیاں آتی ہیں جو کہ طویل المیعاد یا دداشت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں جبکہ نوجوانوں میں بھی نیند کی کمی سے یادداشت خراب ہونے کے مسائل دیکھے جاسکتے ہیں ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ زیادہ سونے ان کی یاد داشت بھی اچھی ہوتی ہے

    My Offical Twitter Account 

    @Adnanrazapak

  • ڈاکٹر عبدالقدیر خان صا حب ہم سے بھول ہوئی  تحریر:اختر علی

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان صا حب ہم سے بھول ہوئی تحریر:اختر علی

    جذبات سے موجزن اور احساس سے لبریز حقائق پر مبنی  کہانیاں تو سبھی نے ہی پڑھی اور سنی ہوں گی لیکن کبھی کبھار ان کو پڑھتے ہوئے موجوں کی روانی کی طرح جذبات یوں  امڈتے ہیں کہ ان کے رستے میں آنے والے بند بھی ریت کی دیوار ثابت ھوتے ہیں۔ رفتہ رفتہ چھلکتے ہوئے آنسو دل کو چیر کر جگر کو پارہ  پارہ کرتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔ قارئین محترم! ایسی ہی کچھ  تذبذب کی حالت سے  چند دن پہلے مجھے گزرنا پڑا  جب محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کا ایک انٹرویو  سنا۔ آپ کے اس فقرہ نے تو رلا دیا ”مجھے اس قوم کے لیے کام کر کے پچھتاوا ہوا۔’ ‘  ایسی ہی بہت سی دلخراش  باتیں ڈاکٹر صاحب  کی ز بان سے سنی  تو دل خون کے آنسو رونے لگا۔

       ڈاکٹر صاحب عالم اسلام  کے وہ  نڈر،  بیباک اور محب وطن  فرد ہیں جن کی شبانہ رو ز  محنت کے نتیجہ میں پاکستان عالم اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت بنا۔جنھوں نے دن دیکھا نہ  رات دیکھی,  مال دیکھا نہ صحت دیکھی، صرف اس مشن کی خاطر کام کرتے رہے کہ انڈ یا کے مقابلہ میں پاکستان کا دفاع  نا قابل تسخیر ہو جائے۔ شائد اگر ان کی مخلصانہ  کاوش نہ ہوتی تو آج ہماری حالت عراق، افغانستان، کشمیر، برما،فلسطین اور دیگر اسلامی ممالک جیسی ہوتی۔ یہ بات ضرور ہے ک امریکہ کو  اس کا قرض چکانہ ہو گا، مسلم امہ ایک دن ضرور بیدار ہو گی،کوئی صلاح الدین ایوبی بھی آئے گا۔(انشااللہ)  لیکن بات ڈاکٹر صاحب کی چل رہی ہے کہ انھوں نے گھمبیر صورتحال میں پاکستان کا مستقبل محفوظ کیا، آج ہم عالیشان محلات میں رہ رہے ہیں، اعلی پائے کی گاڑیوں میں امریکی اور روسی ڈرون طیاروں کے خوف کے بغیر سفر کرتے ہیں تو ان تمام کا سہرا ڈاکٹر صاحب کے سر سجتا  ہے۔

    لیکن! لیکن جب میں آج ڈاکٹر صاحب کی حالت زار دیکھتا  ہوں تو کلیجہ پھٹ جاتا ہے، اعضاء شل ہو جاتے ہیں۔ وہ عظیم لیڈر جس پر  گل  نچھاور کرتے کرتے پھولوں کا فقدان ہو جانا چاہیے  تھا  لیکن بدقسمتی سے اس کے لئے فٹ پاتھ اور قیدو بند کی صعوبتیں  ہی بچی ہیں۔ کیا محض ” محسن پاکستان” کا لقب دے دینا ہی کافی تھا،  چلیں غیروں کی بات تو ہم نہیں کرتے انھوں نے نہ ہی آپ کو نوبل پرائز دینا تھا نہ دیا، جو اپنے ہیں انھوں نے کیا دیا؟؟؟ کیا ہم نے شہدائے پاکستان کے خون سے  یہ وفا کی ہے کہ جتنا کوئی  بڑا چور، ڈاکو،  لٹیرا اور رہزن ہواسے اتنی ہی زیادہ عزت دی جائے اور مخلص محبان وطن کو پابند

     سلاسل کر دیا۔ ارے! جس شخص نے اکیس کروڑ افراد کی حفاظت کی تو ہم سب اس ایک فرد کی حفاظت نہ کر سکے اور انہیں نظر بند کر دیا،چلیں یہ بھی بات مان لی کہ حکومتی  صفوں میں چھپے بھیڑیوں  نے یہ سب کروایا لیکن بحثیت قوم ہم نے آپ کے لیے کیا کیا؟ ان کی سیاسی جماعت کی بھی سپورٹ نہ کر سکے۔جس شخص کے لیے اگر جان کا  نذرانہ بھی پیش کرنا پڑتا تو گھاٹے کا سودا نہ تھا، اس کے لیے ہم ووٹ کی پرچی بھی نہ دے سکے۔ شائد میرا لہجہ تلخ ہو رہا ہے لیکن ہم نے جو کھرے اور کھوٹے کا معیار سٹ کیا ہے وہ ٹھیک نہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہم پستیوں کی طرف دھکیلے چلے جا رہے ہیں اور دنیا پر ہمارا دبدبہ ختم ہو رہا ہے۔ ایٹمی طاقت ہونے کہ باوجود بھی ہم دبک رہے ہیں۔ آج ایٹمی طاقت کا حصول بھی کسی اور جماعت کے  لیڈر سے منسوب کیا جا رہا ہے حالانکہ  ڈاکٹر صاحب کی ٹیم نے 1984 میں ہی پروگرام کو حتمی شکل دے دی تھی۔ اس سے کہیں بعد1998  میں باقاعدہ ایٹمی دھماکے کئے اور پوری د نیا کے  مسلمانوں نے مٹھائیاں تقسیم کیں۔آج اسی پروگرام کے روح رواں  کے ساتھ اتنی زیادتی  آخر کیوں؟

    میں جب محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب کی باتیں سنتا یوں دل خون کے آنسو روتا ہے، آخر کیا محرکات تھے  جنھوں نے ڈاکٹر صاحب کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا؟  ان محرکات کو  ‘on air’  کرنا مڈیا کی  ذمہ داری ہے۔  میاں محمد بخش نے اسی تناظر کو الفاظ کا روپ دیا تھا

                                                                اصلاں نال جے نیکی کرئیے  نسلاں بعد  نہیں  بھلدے

      بے اصلاں نال  جے نیکی کرئیے پٹھیاں چالاں چلدے

    اللہ رب العزت ڈاکٹر صاحب کو  عمر خضر عطا فرمائے، لیکن ایک دن خالق حقیقی سے بھی  تو ملنا ہے، میں دعوے سے کہتا ہوں آپ کا جناز ہ  ‘تاریخی جنازہ’  ہو گا، آپ پر ستم کر نے والے  بھی  پہلی صف میں نظر آئیں گے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ جو افراد  ہماری زندگیوں کے ضامن ہیں کیا  ہم نے  ان سے  وفا بھی ان کے جنازہ  پہ جا کر ہی کرنی ہے؟  کیا ہمارا جنازہ پڑھنا ان کے ساتھ کی جانے وا لی  زیادتیوں کا ازالہ کر دے گا؟  اگر جواب نفی میں ہے تو ہمیں آج عملی محاذ پر آپ کے حق میں آواز بلند کرنا ہو گی۔ تمام سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کریں کہ اگر وہ نگران وزیر اعظم کے لیے ڈاکٹر صاحب کا نام پیش کرتے ہیں تو ہم ان کی سپورٹ کریں گے  ورنہ ہمارے صبر کا پیما نہ  لبریز ہو چکا  اب ہمارے رستے  جدا ہیں۔ اگر ہم نے ڈاکٹر صاحب سے وفا کی ہوتی تو آج ہمیں بجلی کے بحران سے پالا نہ پڑتا۔ اگر آپ کو مناسب منصب پر فائز کیا جاتا تو آج لوگ اپنی اولادوں کو گلوکار بنا نے کی بجائے  ٹیکنا لوجی کے رستے میں ڈال کر سائنسدان بناتے۔ ہمیں  ٹیکنا لوجی کا انحصار دوسرے ممالک سے نہ کرنا پڑتا۔ ڈاکٹر صاحب  ہم نے آپ کو حقیقی معنوں میں لیڈر نہ مان کر سنگھین غلطی کی۔  ڈاکٹر صا حب ہم سے بھول ہوئی!  ڈاکٹر صا حب ہم سے بھول ہوئی!

  • گلاس،قلم اور کیمرہ  تحریر: ثمرہ اشفاق

    گلاس،قلم اور کیمرہ تحریر: ثمرہ اشفاق

    @S_Mughal_

    اب تعویز  گھول کر  پیئے جائیں یا سرجریاں کروا  کر فوٹو بنائے جائیں،اب گالیاں الزامات لگائیں جائیں یا بستروں پر کیمرے نصب کئے جائیں،اب جج خریدے جائیں یا قلم۔۔۔۔۔

    نواز شریف کی سیاست دفن ہو چکی ہے،اس پر مٹی ڈالی جا چکی ہے فاتحہ پڑھیں جا چکی ہے۔

    روح پرواز کر جائے تو واپسی نہیں ہوتی،ایسے ہی ہوا ہے نواز شریف کی سیاست کے ساتھ،۔

    خصوصاً پنجاب کی بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ ن کا شیرازہ بکھر چکا ہے بظاہر رہنما یہ کہتے پھریں کہ ہم سب ایک پیج پر ہیں ایسا بلکل نہیں ہے،

    اس وقت ن لیگ دو حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے ایک مریم گروہ جبکہ دوسرا شہباز شریف گروپ۔۔

    نواز شریف کی نا اہلی کے بعد جس طرح مریم نواز نے سیاست میں گند اور زہر بھرا وہ تاریخ میں سیاہ الفاظ سے لکھا جائے گا۔

    مسلم لیگ ن نے ہمیشہ خواتین پر کیچڑ اچھال کر سیاسی مخالفین کو بلیک میل کرنے اور ہار ماننے پر مجبور کرنے کی کوشش کی ہے  

    بے نظیر بھٹو کی ننگی تصویریں پھینکنے کا معاملہ ہو یا عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائمہ خان کے خلاف الزامات۔۔۔

    اس آگ میں مزید تیزی آ گئی ہے۔جب سے نواز شریف کی نا اہلی کے بعد مریم نواز نے باقاعدہ سیاست میں قدم رکھا تو سیاست نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔

    مریم نواز نے با قاعدہ پریس کانفرنس میں جج ارشد ملک کی ویڈیو دکھا کر کہا کہ ان کے پاس اور بہت ویڈیوز ہیں اور وہ وقت آنے پر منظر عام پر لائیں گی،جس کا مطلب کھلم کھلا بلیک میلنگ۔

    یعنی اپنی آمدن کے ذرائع بتانے کے بجائے انہوں نے دھمکی دی کہ ہم سے کچھ نہ پوچھو ورنہ معاشرے میں بدنام کر کہ چھوڑیں گی۔

    دوسری طرف شہباز شریف مریم کے بیانیے سے اختلاف رکھتے ہیں اور اداروں کے خلاف بیان بازی سے پرہیز کرتے ہیں۔یعنی پھوٹ واضع پڑ چکی ہے،دراڑ آ چکی ہے،باہمی اعتماد ختم ہو چکا ہے۔

    اگر شہباز شریف نیشنل ڈائیلاگ کی بات کرتے ہیں تو مریم انکاری ہیں اور اگر مریم چیف آف آرمی سٹاف کی ایکٹینشن کو گناہ کہتی ہے تو حمزہ شہباز اگلے ہی دن اس کی تردید کرتا ہے۔

    شہباز شریف راستہ نکالنے کی کوشش میں ہیں جب کہ مریم اپنے والد کی ڈوبتی سیاست کو بچانے میں سرگرم۔

    مسلم لیگ ن کا ورکر اس وقت دو با نیوں میں پھنس چکا ہے ایک بیانیہ مفاہمت ا ور دوسرا مزاحمت۔

    مریم نواز اداروں پر پریشر ڈال کر خود کو اور خاندان کو احتساب سے بچانا چاہتی ہیں جب کہ وہ اس میں مکمل ناکام ہیں،کیوں کہ فوج مخالف بیانیہ پٹ کر رہ چکا ہے جس کی مثال گلگت بلتستان اور کشمیر کےا نتخابات ہیں۔

    مریم نواز اپنا ہر پتہ کھیل چکی ہیں جب کہ فوج اس بار سیاست میں مداخلت سے مکمل انکاری ہے۔

    بیک ڈور رابطوں سے لے کر اداروں کے سربراہان کے نام لیکر لزامات، نواز شریف اور بیٹی ہر حربہ کر کہ دیکھ چکے ہیں۔

    ان سب ناکامیوں کے بعد مریم نواز نے اب وزیراعظم کی اہلیہ پر انتہائی سنگین اور غلط الزامات کا سلسلہ شروع کیا ہے۔جب کہ حقیقت یہ ہے کہ مریم نواز محظ ایک نوٹنکی کے کچھ بھی نہیں۔

    ان کی نہ کوئی قابلیت ہے اور نہ کوئی سیاسی قد کاٹھ۔

    مریم کے الزامات کے بیانیے نے مسلم لیگ ن کو خاطر خواہ نقصان پہنچایاہے۔

    الغرض سیاست میں بہت گند پھیل چکا ہے،خود پر لگے الزامات کا جواب دینے کے بجائے مخالفین کی ذاتی زندگیوں کو لے کر من گھڑت الزامات لگائے جاتے ہیں۔

    مریم نواز کے اس جادو ٹونے کے الزامات کے بعد صحافیوں کا ایک جانبدار ٹولہ بھی میدان میں آیا ہے اور الزام تراشی میں مصروف عمل ہے۔

    کیا صحافیوں کو اپنے پیشے کے حساب سی یہ زیب دیتا ہے؟ اور کیا مریم نواز کو بطور سیاستدان ایسے الفاظ زیب دیتے ہیں؟

    نواز شریف کی سیاست کو اگر کسی نے دفن کیا ہے تو وہ کوئی اور نہیں بلکہ ان کی اپنی صاحبزادی ہیں۔جن کی سیاست الزام سے شروع ہو کر الزام پر ختم،جن کا اپنا کوئی سیاسی کیریئر نہیں یے۔جو اپنے باپ کی ایک موٹر وے گن گن کر عوام کو پھر ورغلا رہی ہیں۔جن کے اکاؤنٹ میں اربوں روپے آ جاتے اور ان کو معلوم تک نہیں ہوتا۔۔

    خدارا اب بس کرو اور اپنی دولت کا حساب دو!

    عدالتیں حساب دینے کے لئے ہیں فوٹو سیشن کے لئے نہیں،

    اگر گلاس تھام کر ، رنگ برنگی تنگ کپڑوں سے ہی عوامی لیڈر بنا جا سکتا تو ملک اس وقت اداکاروں کے ہا تھ میں ہوتا۔ اب قلم خرید کر،نہ کیمرے نصب کر کہ،نہ گلاس پکڑ کر فوٹو شوٹ سے عوام میں مقبولیتنہیں ملے گی۔پاکستانی اب باشعور ہیں۔

  • چھاتی کے سرطان سے آگاہی۔ پنک ربن تحریر شائستہ سرور آرائیں

    بریسٹ کینسر جیسے اردو زبان میں چھاتی کا سرطان کہا جاتا ہے۔پاکستان میں ہر سال تقریباً چالیس ہزار خواتین چھاتی کے سرطان کی وجہ سے جان کی بازی ہار دیتی ہیں وجہ آگاہی نہ ہونا خصوصاً ہماری دیہات کی خواتین تو اس بیماری کے نام سے بھی نا واقف ہیں علاج تو پھر دور کی بات ہے۔ ہمارے معاشرے کی یہ ذہنی پسماندگی کہہ لیں عورت چاہے پڑھی لکھی ہو یا انپڑھ  اپنے جسم کے پوشیدہ گوشوں میں درد کوئی تکلیف محسوس کریں گی تو خود سے دوائیاں کھا لیں گی مگر  بے پردگی جھجک شرم میں ڈاکٹر کے پاس نہیں جائیں گی چاہے موت بھی سامنے ہو ایڑیاں رگڑنے پر مجبور ہو جائیں گی مگر مجال ہے لبوں سے اپنی اذیت بیان کریں اور چھاتی کا سرطان بھی جسم کے حساس حصّے کا کینسر ہے اس پر ہمارے معاشرے میں  بات کرنا بہت ہی مشکل چیلنج ہے۔ ہمارے ملک میں کئ علاقوں میں لیڈی ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سے بھی خواتین مرد ڈاکٹرز کے پاس جانے کی ہمت ہی نہیں کر پاتی ہیں اور ایسے میں وقت ہاتھ سے نکل جاتا۔
    اکثر آپ نے اپنے اردگرد دیکھا ہو گا عورت بیمار ہے جی فلاں نے جادو کر دیا پیر سائیں کے پاس دم کروایا ہے وغیرہ وغیرہ باتیں سننے کو ملتی ہیں اور اس چکر میں بیماری کا بر وقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے عورت ایک زندہ لاش بن جاتی ہے۔ چھاتی کے سرطان جیسی بیماری میں چھاتی میں گلٹی محسوس ہوتی ہے درد اتنا نہیں ہوتا اور ایسے میں ان دم کرنے والوں کی چاندنی ہو جاتی ہے اور مریضہ گھر کے کام کاج با آسانی کر رہی ہوتی ہے تو اسے لگتا ہاں جی میں ٹھیک ہوں ایسے کرتے بیماری کی ایک سٹیج کراس ہو جاتی ہے یعنی کے لا علمی یہی وجہ ہے کہ پہلی سٹیج پر تشخیص چار فیصد سے بھی کم ہے۔
    اس وقت پاکستان میں ہر نو میں سے ایک خاتون کو چھاتی کے سرطان کا خطرہ لاحق ہے یہلے ہم یہ سنتے تھے کہ یہ مرض بڑی عمر کی خواتین میں پایا جاتا ہے لیکن اب کم عمر بچیاں بھی اس بیماری میں مبتلا ہو رہی ہیں۔ اس موذی بیماری سے متعلق  شعور اجاگر کرنے کے لئے عالمی دنیا سمیت پاکستان میں اکتوبر کے مہینے کو بریسٹ کینسر سے بچاؤ کے طور پر منایا جاتا یے۔ مختلف پروگرامز منعقد کئے جاتے ہیں ڈاکٹرز ٹاک شوز کے ذریعے اس بیماری سے متعلق آگاہی دے رہے ہوتے ہیں۔
    اس مہینے آپ کسی کو فون کریں آپ کو چھاتی کے سرطان سے آگاہی کا پیغام  سنائی دے رہا ہو گا جس کا فائدہ یہ ہوا کہ اب لوگ اس بیماری پر بات کرتے ہیں انہیں شعور آیا ہے جس تیزی سے یہ بیماری پھیل رہی ہے اس طرح کے پروگرام  بس اکتوبر کے مہینے تک محدود نہیں رکھنے چائیے بلکہ ہر ماہ  دیہی علاقوں میں خاص کر ایسے پروگرامز منعقد کرانے چائیں تاکہ خواتین باشعور ہونے کے ساتھ خود اعتماد بھی ہو سکیں۔
    اب  بات کر لیتے ہیں چھاتی کے سرطان کی علامات پر سب سے پہلے عورت کو یہ پتا ہونا ضروری ہے کہ چھاتی دکھتی کیسی ہے تاکہ اگر کسی قسم کی تبدیلی ہو تو وہ بر وقت جان سکے اپنا جسمانی معائنے کے ساتھ وہ میمو گرام اور کلینیکل بریسٹ ایگزام کروا سکے یہ ہی وہ ٹیسٹ ہیں جس کی وجہ سے کینسر کی تشخیص ممکن ہوتی ہے۔ علامات پر ہم نظر ڈالیں تو چھاتی میں درد محسوس ہونا جلد کا سرخ کھردرا ہونا چھاتی کے مختلف  حصوں یا پوری چھاتی پر سوجن جلن کا ہونا دھبے پڑ جانا بغل یا چھاتی پر گلٹی کا ہونا نپل میں تبدیلی سرخ ہونا  سخت ہونا سائز اور ان کی ساخت میں تبدیلی کا ہونا چھاتی  سے دودھ کے علاوہ خون یا کسی اور مادے کا اخراج یا پیپ کا نکلنا۔ اس کے علاؤہ جینیاتی وجوہات، خاندانی ہسٹری ماہواری میں بے قاعدگی،بچوں میں وقفے کی دوائیوں کا استعمال الکوحل کا زیادہ استعمال موٹاپا وغیرہ  اگر ان میں سے لگے یہ علامات آپ کو ہیں تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں خود سے ڈاکٹر نہ بنیں یہ بھی ضروری نہیں کہ یہ چھاتی کا سرطان ہی ہو گلٹی کی کئ اور بھی وجوہات ہوتی ہیں اس لیے وقت ضائع کئے بغیر اپنے معالج سے رابطہ کریں۔
    خواتین کو چاہیے کہ تیسں سال کی عمر میں پہنچ کر پانچ سال میں ایک مرتبہ اپنا میمو گرافی لازمی کروائیں اگر چالیس سال میں ہیں تو ہر دو سال کے بعد اپنا معائنہ کروائیں کیوں کہ چھاتی کے سرطان کا خطرہ اوسط چالیس سال کی عمر میں زیادہ ہوتا ہے اور پچاس سال کی عمر میں پہنچ کر ہر سال میمو گرافی کروانی چاہیے۔ چھاتی کے سرطان کی تشخیص کے لئے میمو گرافی کے علاؤہ تھری ڈی میموگرافی بریسٹ الٹراساونڈ ایم آرآئی ٹیسٹ بھی کیے جاتے ہیں انکے فوائد بھی ہوتے ہیں رسک بھی اس لئے خواتین ڈاکٹر کے مشورے سے ہی ٹیسٹ کروائیں۔
    ڈاکٹروں کے مطابق چھاتی کے سرطان کو چار سٹیج میں تقسیم کیا گیا ہے پہلی سٹیج میں سرطان چھاتی تک محدود رہتا دوسری سٹیج میں بغل تک تیسری میں گردن تک اور چوتھی سٹیج میں پھیپھڑوں، جگر،ہڈیوں اور جسم کے دوسرے دور دراز حصوں تک پہنچ جاتا۔ ہمارے یہاں دیکھا گیا ہے کہ چھوٹے شہر کی بات کریں یا کسی بڑے شہر کی پڑھے لکھے لوگ بھی اکثر ڈاکثر کے پاس جانے میں دیر کر دیتے ہیں اگر مریض پہلی یا دوسری سٹیج پر ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے تو اس سٹیج میں مرض قابل علاج ہوتا ہے مریض ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کرے تو وہ مکمل صحت یاب ہو جاتا ہے۔سٹیج تیسری اور چوتھی میں مریض کا مکمل علاج بہت مشکل ہوتا ہے جتنا مرضی اچھا علاج کروا لے پیچیدگیوں کا سامنا درپیش رہتا ہے۔ مریض کو کس قسم کے علاج کی ضرورت ہے اس کا انحصار کینسر کی سٹیج اور اس کی قسم پر منحصر ہوتا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگ اس چیز کو سمجھیں کہ چھاتی کے سرطان کا اگر بروقت علاج کیا جائے تو یہ بیماری قابل علاج ہے۔
    خود کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لئے اپنا طرز زندگی بدلیں گھر کے کاموں سے فارغ ہو کر ورزش کریں روانہ کچھ دیر چہل قدمی کریں متوازن غذا کا استعمال کریں میں نے کوشش کی بہت سادہ الفاظ میں اس بیماری سے متعلق آگاہی فراہم کروں الفاظ کا چناؤ ایسا کروں کہ ہر کوئی میری بات با آسانی سمجھ سکے۔
    اپنا اور اپنے پیاروں کا خیال رکھیں ان سے بات کرتے رہیں انہیں وقت دیں اللّٰہ سب کو اپنی حفظ وامان میں رکھے آمین ثم آمین۔۔!!
    از قلم : شائستہ سرور آرائیں
    @Shasii_Arain

  • ترقی یافتہ دنیا اور جان لیوا وبائی امراض تحریر  ۔ناصر بٹ

    ترقی یافتہ دنیا اور جان لیوا وبائی امراض تحریر ۔ناصر بٹ

    @mnasirbuttt

    دنیا میں ہر صدی میں ایک بڑی بیماری حملہ آور ہوتی ہی رہی، کبھی بلیک ڈیتھ، کبھی ہسپانوی زکام اور کبھی ایڈز، وبا کا آغاز ہوا تو کئی کئی سال لگ گئے اس کا علاج ڈھونڈنے میں، علاج ملا تو مریضوں کو ذہنی طور پر تیار کرنے میں وقت لگ گیا یعنی ہر وبا ہزاروں نہی لاکھوں زندگیوں کو نگل چکی، اب موجودہ حالات کو دیکھ لیں تو ڈینگی جان چھوڑنے کا نام ہی نہیں لے رہا، ذرا سی موسم نے کروٹ جو بدلی تو آگئی مچھروں کی فوج اور ہوگئی حملہ آور، پولیو جو بظاہر دنیا بھر کی طرح پاکستان اور افغانستان سے بھی کم تو ہوتا نظر آتا ہے لیکن اس کے قطرے پلانے میں بھی جتن کرنا اپنے آپ میں ایک جنگ لڑنے جیسا ہی ہے، کورونا وائرس کی بات کریں تو پہلے ایک پھر دو پھر تین اور اب چار یعنی نام تو نہ بدلا لیکن لہروں کے نمبر بدلتے گئے اور ہر نئی ویو پہلی ویو سے زیادہ خطرناک ہی رہی، لیکن ابھی دنیا میں کاروباری، تعلیمی اور دیگر سرگرمیاں مکمل طور پر اپنے معمول پر آئی نہیں تھیں کہ برطانیہ میں عالمی وبا کی وجہ بننے والے کورونا وائرس کی قسم ڈیلٹا کے نئے ویرئنٹ ’ڈیلٹا پلس’ کے کیسز میں پھیلاؤ رپورٹ ہونے لگا، خبر آئی اور حکام کو دوڑیں لگ گئیں، برطانوی وزارت صحت کہتی ہے کہ کورونا وائرس کے ڈیلٹا ویرئنٹ کی نئی تبدیلی پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں جو ملک میں وبا کے بڑھتے کیسز کی وجہ بن رہا ہے، اب معاملات کچھ یوں بن چکے کہ کورونا وائرس کی بہت زیادہ متعدی قسم ڈیلٹا، جسے بی 1617.2 کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، گزشتہ برس برطانیہ میں سامنے آئی تھی تاہم حالیہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں کورونا وائرس کے 6 فیصد کیسز جینیاتی طور پر وائرس کی نئی قسم کے ہیں اے وائے.4.2، جسے کچھ افراد ’ڈیلٹا پلس ’ بھی کہہ رہے ہیں، ایسی میوٹیشنز پر مشتمل ہے جو وائرس کو زندہ رہنے کے مواقع فراہم کرسکتا ہے اب یہ پتا لگانے کے لیے ٹیسٹس کیے جارہے ہیں کہ ڈیلٹا وائرس کی اس نئی قسم سے کتنا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے ماہرین کہتے ہیں کہ اس کے بڑے پیمانے پر پھیلنے یا موجودہ ویکسین سے محفوظ رہنے کا امکان نہیں ہے، اسے ابھی تک تشویش کا باعث بننے والی قسم یا زیر تفتیش ویرئنٹ نہیں سمجھا گیا لیکن اب سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اے وائے.4.2 ہے کیا؟ دنیا بھر میں کورونا وائرس کی ہزاروں مختلف اقسام یا ویرئنٹس موجود ہیں، وائرس ہر وقت بدلتے رہتے ہیں لہذا ان کی نئی اقسام سامنے آنا کوئی حیران کن بات نہیں لیکن ڈیلٹا کی اصل قسم کو مئی 2021 میں برطانیہ میں باعثِ تشویش قرار دیا گیا تھا جب یہ الفا ویرئنٹ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا بھر میں پھیلنے والی کورونا وائرس کی سب سے بڑی قسم بن گئی تھی لیکن جولائی 2021 میں ماہرین نے اے وائے.4.2 کی نشاندہی کی تھی، اب موجودہ صورتحال کچھ یوں ہے کہ ڈیلٹا کی یہ قسم تب سے آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے، اس میں کچھ نئی تبدیلیاں شامل ہیں جو اسپائک پروٹین کو متاثر کرتی ہیں جسے وائرس ہمارے خلیوں میں داخل ہونے کے لیے استعمال کرتا ہے، ابھی تک اس بات کا کوئی عندیہ نہیں ملا کہ ان تبدیلیوں کے نتیجے میں یہ وائرس زیادہ متعدی ہے لیکن یہ ماہرین ابھی اس پر تحقیق کررہے ہیں
    عالمی وبا کے آغاز سے کورونا وائرس کی دیگر اقسام میں وائے 145 ایچ اور اے 222وی میوٹیشنز پائی گئی ہیں ۔ سائنسدان مسلسل نئی جینیاتی تبدیلیوں کی جانچ کر رہے ہیں جن سے کورونا وائرس گزر رہا ہے کچھ اقسام پریشان کن ہیں لیکن بہت سی غیر اہم ہیں تاہم مشکل کام ان لوگوں کو ڈھونڈنا ، پتا لگانا اور ان کا انتظام کرنا ہے جو اہم ہو سکتے ہیں اس مرحلے پر ، ماہرین کو نہیں لگتا کہ اے وائے.4.2 کو پکڑا جاسکے گا لہذا ہوسکتا ہے کہ اسے واچ لسٹ سے نکال دیا جائے، یونیورسٹی کالج لندن کے جینیٹکس انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر فرانکوئس بلوکس نے کہا کہ ’یہ ممکنہ طور پر کچھ زیادہ متعدی قسم ہے انہوں نے کہا کہ ’الفا اور ڈیلٹا اقسام کے ساتھ جو کچھ ہم نے دیکھا اس کے مقابلے میں یہ کچھ بھی نہیں ہے ، جو کہ 50 سے 60 فیصد زیادہ متعدی تھیں، فی الحال اس پر تحقیق جاری ہے، ہوسکتا ہے کہ یہ 10 فیصد زیادہ متعدی ہو پروفیسر فرانکوئس نے کہا کہ اچھا ہے کہ ہم آگاہ ہیں، یہ بہت اچھا ہے کہ ہمارے پاس مشکوک چیزوں کو دیکھنے کے لیےایسی سہولیات اور انفراسٹرکچر موجود ہے انہوں نے کہا کہ ’اس مرحلے پر میں کہوں گا انتظار کریں اور دیکھو ، گھبرائیں نہیں، یہ تھوڑا زیادہ متعدی ہوسکتا ہے لیکن یہ اتنا تباہ کن نہیں ہے جیسا کہ ہم نے پہلے دیکھا تھا۔ اب اس ساری صورتحال میں دیکھنا یہ ہے کہ کہیں ایک بار پھر سے دنیا بھر میں کورونا وائرس کی ہی اس شدید صورتحال کی وجہ سے بحرانی کیفیت پیدا نہ ہوجائے جس کا بہترین حل یہ ہوگا کہ ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے دوڑ لگائی جائے اس بیماری سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر کی، کوشش کی جائے کہ اپنے شہریوں کو پہلے سے ہی آگاہی دے دی جائے تاکہ بیماری کے ممکنہ حملے کی صورت میں احتیاطی تدابیر کو اپنایا جاسکے