Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • غصہ حرام مگر ۔۔۔۔ تحریر:سعد اکرم

    غصہ حرام مگر ۔۔۔۔ تحریر:سعد اکرم

    اللہ تعالی ٰ نے انسان کو احساسات اور جذبات دے کر پیدا کیا ہے ۔یہ جذبات ہی ہیں جن کا اظہار ہمارے رویوں سے ہوتا ہے کہ جہاں انسان اپنی خوشی پر خوش ہوتا ہے وہیں اگر ناپسندیدہ اور اپنی توقعات سے مختلف امور دیکھ لے تو اسکے اندر غصہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ کیونکہ غصہ ایک منفی جذبہ ہے جس پر بروقت قابو نہ پایا جائے تو ہم اکثر دوسروں کے ساتھ ساتھ اپنا بھی نقصان کر بیٹھتے ہیں اس لیے اسلام نے غصہ ضبط کرنے اور جوشِ غضب کے وقت انتقام لینے کی بجاے صبرو سکون سے رہنے کی تلقین کی ہے تا کہ معاشرہ انتشار کا شکار نہ ہو اور امن کا گہوارہ بن سکے۔

    جامع ترمذی کی ایک حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا  جن لوگوں کو غصہ نہیں آتا اور جو اپنے غصے پر قابو پا لیتے ہیں میرے نزدیک اس نے اپنی زندگی جیت لی وہ جیسے چاہئے اپنی زندگی کو اپنے طور پر گزار سکتا ہے دنیا میں دو لوگ کامیاب زندگی گزارتے ہیں ایک جو صبر کرتے ہیں اور دوسرا جن کے دل میں رحم ہوتا ہے جن میں یہ دونوں صفات نہ پائ جائیں وہ غصے میں نہ تو صبر کر پاتے ہیں اور نہ ہی کسی پہ رحم  اور نتیجتاً جذباتی اور غلط فیصلے کر بیٹھتے ہیں کیا آپ نے کبھی اپنے غصے پر قابو پانے کی کوشش کی کیونکہ غصے میں انسان کو ہوش ہی نہیں ہوتا اپنے نفس پر قابو پانا سیکھئے خدا سے ڈریئے  اور اگر آپ کے کہئے ہوئے الفاظ سامنے والے کو برے لگے تو اور اس نے صبر کر لیا تو معاملہ پھر آپ کے اور خدا کے درمیان آ جائے گا کیونکہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے مجھے جب خود غصہ آتا ہے تو میں قابو نہیں رکھ سکتا لڑائ قطع تعلقی کے ساتھ ساتھ گالم گلوچ پر بھی اتر آتا ہوں میں نے گزشتہ 22 رمضان کو ایک خبر پڑھی اخبار میں پشاور میں ایک شخص نے رمضان میں اپنی 6 سالہ بھتیجی کو صرف اس بات پہ فائرنگ کر کے قتل کر دیا کے وہ سو رہا تھا اور بچی شور کر رہی تھی اس کے آرام میں خلل پڑ رہا ہو گا جس کا اتنا غصہ آیا اس کو کے اس نے پھول جسیی ننھی معصوم کلی کو چار گولیاں تک مار دیں اور اپنے لیے رحمتوں اور مغفرتوں کے مہینے میں ایک فرض کی تکمیل کرتے ہوئے جہنم خرید لی آپ نے اکثر لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہو گا یار مجھے غصہ بہت آتا ہے اپنے غصے پر قابو پانا بہت مشکل ہے میرے لئے۔ غصہ آگ ہے یہ دماغ سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت تھوڑی دیر کیلئے چھین لیتا ہے غصے کا آغاز حماقت اور انجام پچھتاوا ہے غصے میں انصاف ہر گز نہیں ہو سکتا اور غصے میں کئے گئے فیصلے کبھی درست ثابت نہیں ہوتے یہ ہنستے بستے گھر اجاڑ کے رکھ دیتا ہے گھر میں کوی بے قاعدگی ہو جائے تو آپکو شدید غصہ آتا ہے اچھا خاصہ گھر پانی پت کا میدان بن جاتا ہے لیکن آپ اگر دفتر میں کوے غلطی کریں تو آپ کو جھاڑ پلائ جائے تو آپ برداشت کر لیتے ہیں اس انتہائ ناپسندیدہ صورتحال میں بھی آپ اپنے غصے پر قابو پانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ اس کا سیدھا اور صاف جواب یہی ہے کے غصہ آتا نہیں بلکہ کیا جاتا ہے غصہ آئے یہ کیا جائے دونوں صورتحال میں غصہ اچھی چیز نہیں ہے بزرگوں نے اس سے بچنے کی تلقین کی آدمی کس کس بات کا رونا روئے غصہ تو بہت ساری باتوں پر آتا ہے آج وطن عزیز میں بہت سے مباحث چل رہے ہیں بہت سے سقراط بقراط اور ارسطو اپنے نام نہاد زریں خیالات سے قوم کو نواز رہے ہیں لیکچر پہ لیکچر دئے جا رہے ہیں الکٹرانک میڈیا پہ لمبی لمبی تقریریں کی جاتی ہیں دانشوریاں بکھیری جاتی ہیں پاکستان کی زبوں حالی پر مگر مچھ کے آنسو بہائے جاتے ہیں اس کی ترقی کے حوالے سے اپنے سستے جذبات کی تشہیر کی جاتی ہے ان لوگوں کی باتیں سن کر یہ محسوس ہوتا ہے کے پاکستان اور اس کی مظلوم عوام کے غم میں یہ بے چارے گھلے جا رہے ہیں اور ان کے شب وروز اسی سوچ میں گزرتے ہیں کبھی غور کیجئے کتنے لوگ جن کے پاس وسائل بھی ہیں اقتدار بھی ہے اگر وہ پسماندہ  عوام کی بہتری کیلئے کچھ کرنا چاہیں تو بہت کچھ کر سکتے ہیں چند ماہ پہلے ایک عالمی سروے  سے معلوم ہوا ہر تیسرا شخص ذہنی دباؤ کا شکار ہے  عالمی جذبات کی عکاسی کرنے والی گیلپ گلوگل ایموشنز  رپورٹ میں کہا گیا ہے پاکستان زیادہ غصہ کرنے والے ممالک کی فہرست میں دسویں نمبر پر آیا ہے یوں کہئے پوری قوم اس وبا میں مبتلا ہو چکی ہے نائ حلوائی قصائ نانبائی غرضیکہ ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والا نشے میں اپنے ہوش و حواس کھو چکا ہے کچھ لوگوں نے غصہ آنے کی ایک بڑی وجہ  ظلم اور ناانصافی کو قرار دیا ہے  یقینا  ہمارے  معاشرے میں جھوٹ کا چلن بہت عام ہو چکا ہے یہ ہمارے معاشرے میں ایک بہت بڑے بگاڑ اور بے برکتی کا سبب ہے ظالمانہ مناظر تو ہر جگہ دیکھے جا سکتے ہیں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا سکہ تو یہاں خوب چلتا ہے ایک مشہور چینی کہاوت ہے ہم چھوٹے چوروں کو سزا دیتے ہیں اور بڑے چوروں کو سلام کرتے ہیں ہمارے ہاں بھی یہی دستور ہے قانون کی پکڑ صرف غریب کیلئے ہے بڑے چوروں کو ہماری جیلوں میں وہ سہولتیں میسر ہیں جس کا غریب آدمی اپنے گھر میں بھی نہیں سوچ سکتا کچھ لوگوں کو دوسروں کی بدتمیزی اور غیر ذمہ داری پر بھی غصہ آتا ہے لوگ گلیوں میں گندگی پھینک دیتے ہیں جس طرف نظر اٹھتی ہے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر نظر آتے ہیں اگر کوئ روکنے یہ سمجھانے کی کوشش کریے تو تو آگے سے کہا جاتا ہے یار یہ پاکستان ہے یہاں سب چلتا ہے یہ جملہ یقینا بہت زیادہ غصہ دلانے والا ہے ہم اپنے مادر وطن کی تحقیر ہر ہر وقت آمادہ نظر آتے ہیں اپنے پیارے وطن کی ہماری نظروں میں کوی وقعت ہوتی تو ہم ایسی بات کبھی بھی نہ کہتے معاشرتی اخلاقیات کا فقدان ہے بڑی بڑی شاہراوں پر ٹریفک پولیس کی موجودگی میں قانون توڑے جاتے ہیں مک مکا کی وجہ سے قانون کو کھیل سمجھا جاتا ہے قانوں کے رکھوالوں کی مٹھی گرم کرنے کا عام رواج ہے یہ سب وہ مذموم حرکتیں ہیں جنہیں دیکھ کر ہر شریف شہری کا خوں کھول اٹھتا ہے اس سب کچھ کے باوجود یہ بات بڑی خوش آئند ہے جنوبی ایشیا میں بسنے والے ایک ارب اسی کروڑ لوگوں میں سے ہم بائیس کروڑ پاکستانی سب سے ذیادہ خوش اور مطمئن ہیں اس خوشی اور اطمینان کی وجوہاٹ میں سے ایک بہت بڑی وجہ اللہ کی ذات پہ مکمل یقین اور بھروسہ ہے

    @saadakram_   twiter handle 

  • چھاتی کے سرطان سے آگاہی؛ چھاتی کا سرطان کیسے ہوتا ہے؟ علامات اور علاج کیا ہیں ؟  تحریر: سید اعتزاز گیلانی

    چھاتی کا سرطان یہ ہے کہ خواتین میں سب سے عام حملہ آور کینسر اور اس لئے کارسینوما کے بعد خواتین میں کینسر کی موت کی دوسری اہم وضاحت ہے۔چھاتی کا سرطان ایک بیماری ہے جس کے دوران چھاتی کے اندر خلیات قابو سے باہر ہو جاتے ہیں۔چھاتی کے سرطان کی مختلف اقسام ہیں۔ کارسینوما کی قسم کا انحصار اس بات پر ہے کہ چھاتی کے اندر کون سے خلیات کینسر بن جاتے ہیں۔چھاتی کا سرطان چھاتی کے مختلف حصوں میں شروع ہوسکتا ہے۔ایک چھاتی تین اہم حصوں سے بنتی ہے: لوبلز، نالیاں اور جانوروں کے ٹشو۔لوبلوہ وہ غدود ہیں جو دودھ پیدا کرتے ہیں۔ نالیاں ٹیوبیں ہیں جو دودھ کو نپل تک لے جاتی ہیں۔جانوروں کے ٹشو (جو ریشے دار اور چربی دار ٹشو پر مشتمل ہوتا ہے) ہر چیز کو ایک ساتھ رکھتا ہے اور گھیر لیتا ہے۔زیادہ تر چھاتی کے سرطان نالیوں یا لوبلز میں شروع ہوتے ہیں۔ چھاتی کا سرطان خون کی شریانوں اور لمف شریانوں کے ذریعے چھاتی کے باہر پھیل سکتا ہے۔جب کارسینوما جسم کے دیگر حصوں میں پھیلتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ اس میں میٹاسٹائزڈ ہوتا ہے۔

    چھاتی کے سرطان کی اقسام: چھاتی کے سرطان کی کئی مختلف اقسام ہیں، بشمول: ڈکٹل کارسینوما: یہ دودھ کی نالیوں کے اندر شروع ہوتا ہے اور یہ عام قسم ہے۔لوبلر کارسینوما: یہ لوبلز میں شروع ہوتا ہے۔ حملہ آور کارسینوما اس وقت ہوتا ہے جب کینسر کے خلیات لوبلز یا نالیوں کے اندر سے فرار ہو جاتے ہیں اور قریبی ٹشو پر حملہ کرتے ہیں۔اس سے کینسر کے جسم کے دیگر حصوں میں پھیلنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔یہ کیسے ہوتا ہے؟ بلوغت کے بعد عورت کی چھاتی چربی، جانوروں کے ٹشو اور ہزاروں لوبلز پر مشتمل ہوتی ہے۔یہ چھوٹے غدود ہیں جو دودھ پلانے کے لئے دودھ پیدا کرتے ہیں۔ چھوٹی ٹیوبیں، یا نالیاں، دودھ کو نپل کی طرف لے جاتی ہیں۔سرطان خلیوں کو بے قابو ہونے کا سبب بنتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کے چکر میں معیاری مقام پر نہیں مرتے ہیں۔خلیات کی یہ ضرورت سے زیادہ نشوونما کینسر کا سبب بنتی ہے کیونکہ ٹیومر غذائی اجزاء اور توانائی کا استعمال کرتا ہے اور اس کے ارد گرد کے خلیوں کو محروم کرتا ہے۔چھاتی کا سرطان عام طور پر دودھ کی نالیوں یا دودھ کی فراہمی کرنے والی لوبلز کی اندرونی لائننگ میں شروع ہوتا ہے۔وہاں سے یہ جسم کے دیگر حصوں میں پھیل سکتا ہے۔

    چھاتی کے سرطان کی علامات: کارسینوما کی پہلی علامات عام طور پر چھاتی کے اندر گاڑھے ٹشو کے پڑوس یا چھاتی یا بغل کے اندر ایک گٹھلی کے طور پر ظاہر ہوتی ہیں۔دیگر علامات میں شامل ہیں: بغلوں یا چھاتی کے اندر درد جو چھاتی کی جلد کے ماہانہ چکر پٹنگ یا لالی کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتا، تقریبا ایک نارنگی کی سطح کی طرح ایک نپل سے خارج ہونے والی چونچوں میں سے ایک کے ارد گرد یا ایک پر دانے، ممکنہ طور پر خون میں ایک ڈوبا ہوا یا الٹا نپل چھاتی کے چھلکے کے سائز یا شکل کے اندر ایک تبدیلی، چھاتی یا نپل پر جلد کی چھلکا لگانا، یا اسکیلنگ کرنا زیادہ تر چھاتی کی گٹھلیاں کینسر زدہ نہیں ہوتی ہیں۔تاہم، خواتین کو معائنہ کے لئے ڈاکٹر سے ملنے جانا چاہئے اگر انہیں چھاتی پر گٹھلی نظر آئے۔اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جاسکتا ہے؟ چھاتی کے سرطان کا علاج کئی طریقوں سے کیا جاتا ہے۔یہ چھاتی کے سرطان کی قسم اور اس کے پھیلنے کی حد تک پر منحصر ہے۔کارسینوما کے شکار افراد اکثر کافی خاموش علاج حاصل کرتے ہیں۔ سرجری: ایک آپریشن جہاں ڈاکٹروں نے کینسر کے ٹشو کو کاٹ دیا۔کیموتھراپی: کینسر کے خلیوں کو سکڑنے یا مارنے کے لئے خصوصی ادویات کا استعمال۔دوائیں اکثر گولیاں ہیں جو آپ لے رہے ہیں یا آپ کی رگوں میں دی جانے والی دوائیں ہیں، یا کبھی کبھی دونوں۔ہارمونل تھراپی: کینسر کے خلیات کو ان ہارمونز کو حاصل کرنے سے روکتا ہے جو انہیں بڑھنا ہوتا ہے۔حیاتیاتی تھراپی.: کینسر کے خلیوں سے لڑنے یا کینسر کے دیگر علاج سے ضمنی اثرات کو منظم کرنے میں مدد کرنے کے لئے اپنے جسم کے نظام کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔تابکاری تھراپی. کینسر کے خلیوں کو مارنے کے لئے اعلی توانائی کی شعاعوں (ایکسرے کی طرح) کا استعمال کرنا۔علاج کا انحصار کئی عوامل پر ہوگا، بشمول: کینسر کی قسم اور مرحلہ عمر، مجموعی صحت اور فرد کی ترجیحات ہارمونز کے بارے میں شخص کی حساسیت۔کسی فرد کے علاج کی قسم کو متاثر کرنے والے عوامل میں کینسر کا مرحلہ، دیگر طبی حالات اور انفرادی ترجیح شامل ہوں گے۔

    TA: @AhtzazGillani

  • لاکھ آبادی پر محیط مسائل میں جگڑا چولستان حکومت کی توجہ کا منتظر   تحریر: تنویر وگن

    لاکھ آبادی پر محیط مسائل میں جگڑا چولستان حکومت کی توجہ کا منتظر تحریر: تنویر وگن

    موجودہ حکومت نے چولستان میں کوئی بھی خاطر خواہ کام نہیں کیا تعمیر شدہ 450 سڑکیں بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار، پینے کا صاف پانی میسر نہیں

    700 کلومیٹر کی پٹی پر محیط چولستان اونٹ ، بھیڑ، بکری، گائے کے گوشت اور دودھ کی پیداوار کے حوالے سے پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے سینکڑوں چکوک میں موجود سکولوں کی بھی بہت بڑی تعداد حکومتی سرپرستی نہ ہونے سے زبوں حالی کا شکار، وفاقی وزیرخزانہ ہاشم جواں بخت سے توجہ کا مطالبہ

    پاکستان کا سب سے بڑا صحرائی علاقہ چولستان جو 700 کلومیٹر کی پٹی اور 3 اضلاع ضلع رحیم یارخان، بہاول پور، بہاول نگر کے علاوہ سندھ کے کچھ علاقوں تک پھیلا ہوا ہے60 لاکھ ایکڑ پر محیط اس علاقے کی انسانی آبادی 3 لاکھ نفوس سے زائد پر مشتمل ہے جبکہ70 لاکھ سے زائد مویشی پاۓ جاتے ہیں سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں چولستان میں 450 کلومیٹر سے زائد سڑکیں واٹر سپلائی کے لیے 1100 ٹوبوں کے علاوہ مختلف چکوک میں بجلی اور دیگر سہولیات مہیا کی گئیں مگر موجودہ حکومت نے چولستان میں کوئی بھی خاطر خواہ کام نہیں کیا تعمیر شدہ 450 کلومیٹر سڑکیں بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں 734 دیہاتوں پر مشتمل چولستان ( روہی ) وزیراعظم عمران خان اور پنجاب حکومت کی توجہ کا منتظر ہے چولستان کو ترقی دینے کے لیے 1976ء میں چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی CDA کا قیام عمل میں لایا گیا۔

    اس سے قبل 1959-60 میں لوگوں کو آباد کرنے کے لیے درخواستیں لے کر انہیں رقبے الاٹ کیے گئے سب سے پہلے گرومروفوڈ سکیم کے تحت 2 مربع اراضی ہر شخص کو الاٹ کی گئی 1960ء میں پھر ایک نوٹیفیکیشن کے تحت اس رقبہ کو ساڑھے 112 پکڑ کر دیا گیا چولستان جو 700 کلومیٹر کی پٹی پر محیط ہے یہ سندھ پنجاب بارڈر سے فورٹ عباس بہاول نگر تک پھیلا ہوا ہے اور بیشتر جگہوں سے اس سے انڈیا کی سرحد بھی ملتی ہیں، اونٹ، بھیڑ، بکری، گاۓ کے گوشت اور دودھ کی پیداوار کے حوالے سے چولستان پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے پہلے پہل ہر سال یہاں موجود ٹوبوں کے لیے باقاعدہ ترقیاتی فنڈز مہیا ہوتے تھے اور کچھ ٹوبوں کو کمپیوٹرائز کر کے ان کی بھل صفائی تک کا کام بھی ہوتا تھا

    مگر اب بھی ایسے سینکڑوں ترقیاتی منصوبے کھٹائی کا شکار ہیں جہاں پینے کے صاف پانی کی سپلائی کے لیے بلڈنگز بناکر پائپ لائنیں تک بچھادی گئیں لیکن یہاں اس دور حکومت میں ان کو چالو نہ کیا گیا چونکہ روہی ( چولستان ) کا زیر زمین پانی کڑوا ہے اس لیے یہاں قدرتی ٹوبوں جو کہ بارش کے پانی کی وجہ سے آبادی اور جانوروں کو پینے کا پانی فراہم ہوتا ہے اس میں صفائی اور دیگر کئی معاملات کی وجہ سے ان علاقوں میں یرقان، گردوں کی بیماریوں سمیت دیگر کئی پیچیدہ امراض سر اٹھاتے ہیں اکثر اوقات ان علاقوں میں قحط سالی کا بھی ساں رہتا ہے۔

    ایک دہائی قبل چولستان میں مویشیوں کی افزائش اور انسانوں کی ترقی کے لیے خوراک تک حکومت اور دیگر اداروں کی طرف سے مفت تقسیم کی جاتی تھی مگر اب ایسا سلسلہ نہیں ہے 2014 میں ہونے والی خشک سالی کے باعث کئی انسان اور جانور لقمہ اجل بن گئے تب اس وقت کی حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر چولستانی ترقیاتی ادارہ کو بہت بڑی تعداد میں فنڈز مہیا کیے اور علاقوں میں مویشیوں کے ہسپتالوں کے علاوہ موبائل ہسپتالوں کے لیے گاڑیاں تک فراہم کیں ان علاقوں میں سکولوں کی بھی بہت بڑی تعداد تھی جو حکومتی موثر سر پرستی نہ ہونے کے باعث آہستہ آہستہ زبوں حالی کا شکار ہوتی چلی جارہی ہے افسوس کی بات تو یہ ہے کہ بعض علاقوں میں پٹہ ملکیت فی یونٹ فیس 700 روپے تھی اب یہ فیس 60 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے اور 1400 روپے کے عوض ملنے والی زمین اب 16 لاکھ روپے سے تجاوز کر گئی ہے اس پر ستم ظریفی یہ بھی کہ ابھی تک چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور ان کے ملازمین کو مستقل نہیں کیا جاسکا

    چولستان کے لیے علیحدہ کمپیوٹرائز ریکارڈ سینٹر اور نادرا سینٹر بھی قائم نہیں کیے گئے اور نہ ہی فلڈ سپلائی کے تحت چولستان کے پانی کو علیحدہ کر کے اس کا سیم نالہ علیحدہ کیا گیا ہے قبل از میں مسلم لیگ ن کے دور میں سابق وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف ہمیشہ چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئر مین ہوتے تھے اور وہ خود اپنی نگرانی میں چولستان کی ترقی اور خوشحالی کے علاوہ یہاں نامناسب اور ناموجود سہولیات کو دیکھ کر وقت کے مطابق انہیں فنڈز بھی مہیا کرتے تھے۔ لیکن صحیح بات تو یہ ہے کہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت کے بعد چولستان میں اس طرح سے ترقیاتی کام اور انسانی و جانوروں کی زندگیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات نہیں کیے گئے اب صوبائی وزیر خزانہ پنجاب مخدوم باشم جواں بخت کا تعلق نہ صرف سرائیکی وسیب کے ضلع رحیم یار خان سے ہے بلکہ وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار سمیت ان کا تعلق اس سیاسی گروپ سے بھی ہے

     جنہوں نے جنوبی پنجاب سرائیکی وسیب کے استحصال شدہ علاقوں کی ترقی کا وعدہ کیا تھا پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو چاہیے کہ وہ چولستان کو محض ایک صحرا کے طور پر جانتے ہوۓ اس کو نظر انداز نہ کریں بلکہ چیئرمین چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی مخدوم ہاشم جواں بخت تینوں اضلاع میں اس ریگستانی پٹی کے ان سینکڑوں چکوک کا خصوصی دورہ کریں۔ جہاں پر بہت بڑی آبادی قائم ہے اور وہ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور جو سڑکیں بن کر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، پینے کے صاف پانی کے علاوہ سکولوں اور ہسپتالوں میں ناموجود سہولیات کی فراہمی کو بھی پورا کرلیں۔

    Twitter account @WaganMir

  • عالمی ترقی،برصغیرکا ذہنی اخلاقی زوال کا باعث تحریر : عظیم بٹ

    تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ کراہ ارض پر جیسے جیسے ترقی ہوتی گئی جدت نے انسانوں کو قریب لانے کا بیڑا اٹھایا تو قریبا پچھلے دو ہزار سالوں میں انسانی رویوں میں بے تحاشہ تبدیلیاں واقع ہوئیں۔یہ تبدیلیاں اکثریت میں مثبت تھیں جن میں انسان کو دوسرے انسان کے لئے سہولیات پیدا کرنے کا اداراک ہوا۔انسان کے احساس اور حقوق نامی جذبات کی بنیاد پڑی۔ہم نے دیکھا کہ جیسے کوئی معاشرہ ترقی کرتا گیاوہاں لوگوں کے مابین اخلاقیات کی سطح میں اضافہ ہوا۔

    اگر ہم دنیا پر پچھلے کئی ہزار سالوں سے اپنا اثر رکھنے والی طاقتوں کا بغور مشاہدہ کریں تو اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ امریکہ اور یورپ دنیا میں انسانی حقوق کے علمبردار قرار دئیے گئے ہیں۔اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے انسانی حقوق کو اپنی بنیادی ضروریات کی طرح اپنے رسم و رواج میں شامل کیا حالانکہ اس کے برعکس وہاں ٹیکنالوجی نے بھی دنیا میں ایک انڈسٹریل انقلاب کی بنیاد رکھی جس سے ان کے رہن سہن میں تبدیلی اور دنیا پر اثر انداز ہونے کے معاملات آگے بڑھے مگر ان کی انسانی حقوق کی روش نے ان کے اس طاقت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا اور دنیا ان کے ساتھ جڑنے لگی۔

    جہاں دنیا نئے رسم و رواج کو اپنا کر اپنے وحشی پن اور جنگ و جدل کے معاملات کو مدفون کرنے میں مصروف رہی وہاں برصغیر میں احساس کمتری کے بڑھتے رجحان نے ان کو اخلاقی پستی کی طرف ایسا دھکیلا کہ اب تک اس کے بدبو دار سحر سے یہ خطہ نہیں نکل پا رہا۔برصغیر میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے آنے سے قبل قریبا 3سو سال پہلے ہندو ، مسلم،عیسائی،پارسی سمیت کئی مذاہب کا مجموعہ اس خطے میں ایک خوبصورت باغیچے کی سی صورت پیش کرتا تھا اور اس وقت یہ تمام قومیں اور افراد مل کر خود پر مسلاط مختلف ظالموں سے جان چھڑوانے کے لئے اتفاق میں برکت کو ترجیح دیتے تھے ۔برصغیر میں ظلم کا معیار کسی مذہب سے جڑا نا تھا بلکہ سادہ سا کلیا یہ تھا کہ جو ظالم ہے وہ ظالم ہے ۔مذاہب انسان کے اعتقاد کا معاملہ ہے جو کہ نجی ہےاس پر مشتمل معاشرہ اور یکجا قوم برصغیر میں قیام پذیر تھی۔

    ایسٹ انڈیا کمپنی کے بر صغیر میں آنے کے بعد سے برطانوی راج کے عروج پر ہونے تک برصغیر کی روایت یہی تھی کہ ظالم انگریز ہے نا کہ عیسائی اور برصغیر کے عیسائی افراد ہندو،مسلم،پارسی،جین،بنگال افراد مل کر اس کو یہاں سے نکالنے اور آزادی کی بات کرتے رہے۔جب وقت کا پہیہ گھوما اور مشترکہ محنت سے عوام میں ایک آگ پیدا ہوئی اور انگریز کو اپنا اقتدار خطرے میں نظر آیا تو اس نے اپنی دوسری شاطرانہ چال کو برصغیر پر یوں پھینکا کہ باغیچہ بکھر کر کلیاں اور کلیاں بکھر کر کانٹوں کا منظر پیش کرنا شروع ہوئیں جو آج تک قائم ہے۔

    انگریز نے اپنی ٹیکنالوجی جس کو اس نے اپنے قابل دماغ سے دنیا میں متعرف کروایا تھا اسی دماغ سے اس نے برصغیر میں اپنا پرانا طریقہ واردات "ڈیوائڈ اینڈ رول” کا استعمال کیا اور نفرت کا بیج جو کہ کئی سالوں سے یہاں نا بویا جا سکا تھا وہ کاشت کیا اس کی بنیادی مثال یہ بھی ہے کہ تاریخ میں کہیں بھی یہ نہیں ملتا کہ سنہ 1800 سے قبل یعنی تقریبا ایسٹ انڈیا کمپنی کے آنے سے قبل برصغیر میں کوئی ہندو ، مسلم ، عیسائی تنازعہ اس سطح کا ہو کہ سب کا ساتھ رہنا کسی دوسرے کے لئے مشکلات کا سبب بنے۔

    انگریز یہاں سے جانا تو پڑ رہا تھا مگر وہ برصغیر کو ایک ایسی کشمکس میں دھکیل کر جانا چاہتا تھا جس سے انگریز کے بھاگنے کا داغ بھی دھل جائے اور برصغیر کی عوام اگلے کئی سو سالوں تک اسی کشکش میں مبتلا رہے کہ آیا اصل دشمن انگریز تھا یا ہندواور مسلمانوں کے مابین اعتقاد کا اختلاف۔ابھی حال ہی میں افغانستان سے انخلاء کے وقت امریکہ نے بھی برطانیہ جیسی چال کھیلنے کی کوشش تو کی مگر آج کے جدت بھرے دور میں جہاں میڈیا موجود ہو اور معلومات کی منتقلی کا عمل چند سیکنڈ پر کھڑا ہو یہ ممکن نا ہو سکا کہ پنجشیر میں احمد شاہ مسعود اور طالبان کے مابین لڑائی کروا کہ افغانستان کو خانہ جنگی کا شکار کیا جائے۔

    برصغیر کی عوام انگریز کے گولی بارود والی ہتھیار سے تو کامیاب ہو گئی مگر اس طریقہ واردات کے نرگے میں جو آئی تو آج تک نکل نا سکی۔اس وقت پھر مذاہب کا پہیہ گھوما اور سیاست اور حکومت کا معیار اب برصغیر میں مذاہب کے نام پر چلنے لگا۔اس وقت برصغیر میں ہندو مسلمان کے مابین دو قومی نظریہ ایک حالات کی ضرورت بن چکا تھا جس میں مسلمانوں کا اپنے لئے علیحدہ ملک کا مطالبہ سامنے آیا اور پھر اس کے لئے قابل قدر خدمات دیکھنے میں آئیں ۔البتہ ہندوستان کے بانی مہاتما گاندگی اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح صاحب انگریز کو برصغیر سے بھانے میں تو کامیاب رہےمگر اپنے درمیان ایسی خلش تھی کہ اپنی تقسیم کا فیصلہ اس دشمن سے کروانے کو راضی ہو گئے جس کوکئی سالوں کی جدوجہد کے بعد اپنی سرزمین سے بھگا رہے تھے۔

    حالات کا پہیہ جس طرف کو گھوما برصغیرکے افراد نے دونوں جانب ہندوستان اور پاکستان نے اس سے مزاحمت کا کبھی سوچا ہی نہیں اور یہ نفرت کا بیج 70 سال میں اب اتنا مضبوط ہو گیا ہے کہ غالبا گمان ہوتا ہے کہ اس نفرت سے باہر نا نکلنا ہی ہماری بقاء ہے۔ہندوستان نے تو اس پہیہ کو اس رفتار سے گھمایا ہے کہ وہاں انہوں نے مسلمانوں سے نفرت تو ایک طرف اپنے ہی اعتقاد والے چھوٹی ذات کے لوگوں جن کو وہ دلت کہہ کر دھتکارتے ہیں ان کو بھی نا بخشا،ہمالیہ،تامل ناڈو،آسام،اور پھر سکھ حضرات تک کو نا پخشا بلکہ ہندوتوا کا نظریہ کی چکی کو ایسا گھمایاکے لاشیں اورخون بھی ان کی انسانیت کی روح کو دوبارہ زندہ نا کر سکا۔

    وہیں پاکستان 70 سالوں اس سوچ سے باہر نہیں نکل پا رہا کہ ہمارا پڑوسی ایک دشمن ہے ظالم ہے اور ہمارے بقاء کا مخالف ہے حالانکہ یہ بات کسی حد تک بھارت نے بارڈر پر کھڑے جوانوں سمیت پاکستان کی سلامتی پر کئی بار حملے کر کے ثابت بھی کیا ہے کہ بھارت میں خاص کر اب گزشتہ 10 سالوں میں جس رجحان کا اضافہ ہوا ہے وہ خالصتا ان کے مذہبی عقائد کی بنا پر ہندوتوا کے نظریے کا پرچار ہے چاہے اس کے لئے پورا خطہ جنگ اور خون میں کیوں نا بہہ جائے اگر یوں کہا جائے تو غلط نہیں کہ بھارت اب مہاتما گاندھی کے نظریہ امن بھائی چارہ عدم تشدد کا ملک نہیں بلکہ آر ایس آیس، شیو سینا، ناتھو رام گوڈسے کے نظریے کا ملک ہے تو غلط نہیں ہو گا۔ وہیں پاکستان سے متعلق بھی اس بات میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ 70 کی دہائی سے قبل کا پاکستان اور اب کا پاکستان مکمل طور پر ایک دوسرے کے متضاد ہیں نا صرف مذہبی جنونیت بلکہ ہر طرح کے شعبے اور سوچ کا یہاں متشدد پن پایا جاتا ہے اس میں وہ روشن خیال افراد بھی شامل ہیں جو خود کو عدم تشدد کا نام لے کر منظر عام پر آتے ہیں مگر ذہنی اور اخلاقی پستی کا شکار ہیں کسی کے مخالف نظریات و عقائد کا پاس نہیں رکھتے۔

    اس حوالے سے شاعر کا شعر اس تناظر میں مکمل درست عکس بندی کرتا ہے کہ

    دیکھتا کیا ہے میر منہ کی طرف

    قائد اعظم کا پاکستان دیکھ

    سنہ 71 کے بعد پاکستان کےحالات اور سوچ میں تبدیلی کی ایک بڑی وجہ بنگلہ دیش کا علیحدہ ہونا بھی تھا جس نے پاکستان میں اپنی بقاء کے لئے اس حادثے کے مقابلے مزید مضبوط ہونے کے نام پر اوپر بیان کئے پہیہ کو تیزی سے گھمایا اور اب تک گھما رہے ہیں۔ابھی حال ہی میں پاکستان کے ایک سائنٹسٹ ڈاکٹر ہودبائی نے صحافی نجم الحسن باجوہ کو انٹرویو دیتے ہوئے دو قومی نظریے کے سوال پر ایک عقلی دلیل داگی تھی کہ دو قومی نظریہ تو سنہ 71 میں خراب تب ہو گیا جب تیسری قوم بنگلہ نے ہم سے علیحدگی کا اعلان کیا۔ان کی یہ دلیل کتنی درست ہے کون مانتا ہے کون نہیں یہ پڑھنے والوں کی اپنی سوچ پر مبنی ہے مگر تاریخ نے یہ ثابت کیا کہ جہاں دنیا نے ترقی کی منازل طےکئیں اور دنیا اور نئے رسم و رواج اور اصولوں پر چلی برصغیر مکمل طور پر عدم برداشت اور اخلاقی پستی کا شکار ہوا ہے اب اس کی وجہ برصغیر کے لوگوں کی کم عقلی کہیں یا بیرون ممالک کی سازش یہ سوچ آپ کے اطمئان قلب پر منحصر ہے۔ بلکل ایسے ہی جیسے غالب کہتے ہیں کہ ‘دل پہلانے کو یہ خیال اچھا ہے غالب’

    Find out more Opinion on Twitter 

    @_azeembutt 

  • ایک نہ تھمنے والا مہنگائی کا طوفان   تحریر: انیحہ انعم چوہدری

    ایک نہ تھمنے والا مہنگائی کا طوفان تحریر: انیحہ انعم چوہدری

    جہاں پاکستانی عوام کو دوسرے مسائل درپیش ہیں وہی پر ایک بہت بڑا مسئلہ مہنگائی ہے جو کسی بھی عام شہری اور مزدوری کرنے والے شخص کے نزدیک کسی ہارٹ اٹیک سے کم نہیں ہے۔ موجودہ حکومت سے جب مہنگائی کی بڑھتی ہوئی لہر کے بارے میں سوالات کیے جاتے ہیں تو بظاہر ہمیں ان سے صرف ایک ہی جواب سننے کو ملتا ہے کہ کورونا وائرس کی خوفناک لہر کی وجہ سے پوری دنیا میں مہنگائی نے اپنے ڈیرے لگائے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان بری طرح متاثر ہوا ہے اور لوگوں کے کاروبار ٹھپ ہوگئے ہیں لیکن حکومت ان تمام معاملات کے ساتھ ان ممالک کا تذکرہ بالکل نہیں کرنا چاہتی جنہوں نے اس مشکل دور میں بھی اپنی معیشت کو مستحکم کیا ہوا ہے۔ بنگلہ دیش کی کرنسی پاکستان سے ڈبل ہوگئی ہے اور انہوں نے کورونا وائرس کی خوفناک لہر میں اپنی معیشت کو غیر مستحکم نہیں ہونے دیا لیکن جب ہم موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں پر سوالات اٹھاتے ہیں تو ہمیں یہ جواب سننے کو ملتا ہے کہ چونکہ بنگلہ دیش نے آج تک کوئی جنگ نہیں لڑی جس کی وجہ سے اسکی معیشت پاکستان سے بہتر ہے لیکن کیا وہ اس موقع پر افغانستان کے حالات پر کچھ کہنا پسند کریں گے کہ انہوں نے ضروریات اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں چالیس فیصد تک کمی کرنے کے احکامات کیوں جاری کیے ہیں؟ کیا افغانستان نے بھی کبھی جنگ نہیں لڑی؟ کیا افغانستان روز اوّل سے جنگی محاذ کا شکار رہا ہے یا نہیں؟ یہ عجیب منطق ہمیں حکومتی سوشل میڈیا ٹیم کے کارکنان سے سننے کو ملتی ہے۔ بظاہر موجودہ حکمران جماعت اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنی کارکردگی کو عوام کے سامنے بہتر بناتی انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین کو اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا۔ اپنی ناکام پالیسیوں کا ملبہ اپوزیشن کی کرپشن کی نظر کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن بظاہر ہمیں وہ اس میں بھی کامیاب ہوتے نظر نہیں آئے۔

    یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ حکمران جماعت اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے کے بعد رعایا کے سامنے اپنی بہترین پالیسیوں کو رکھ کر انکے دلوں میں اپنا مقام پیدا کر سکتی ہے یا اپنے سیاسی مخالفین کو کرپشن، غداری جیسے جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر اپنے دل میں لگی انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کر سکتی ہے۔ اس حکومت نے عوام کو سہولیات فراہم کرنے کی بجائے اپنے سیاسی مخالفین کو اپنے انتقام کا نشانہ بنانے کو بہتر سمجھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج قوم مہنگائی کی چکی میں پستی چلی جا رہی ہے۔ حکومت کی ناکام پالیسیوں کے عوض لوگ خودکشیاں کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں، لوگ دو وقت کی روٹی کھانے کو ترس رہے ہیں، مہنگائی نے برا حال کیا ہوا ہے، لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کی بجائے بیروزگار کیا جا رہا ہے، لوگوں کو پچاس لاکھ گھر دینے کی بجائے پہلے سے تعمیر شدہ گھروں کو غیر قانونی تعمیرات کے نام پر مسمار کیا جا رہا ہے۔ 

    بظاہر یہ حکومت عوام کے چہروں پر مسکراہٹیں نہیں بلکہ پریشانیوں کو جنم دینے کے لیے لائی گئی ہے۔ گزشتہ چند روز قبل ایک سنئیر جج نے ریٹائرڈ ہونا تھا انہوں نے اپنے آخری فیصلے میں سوئی سدرن گیس کے تیس ہزار ملازمین کو ایک جھٹکے میں نکال باہر کیا، ان ملازمین میں کوئی ریٹائرمنٹ کے عین قریب تھا اور کسی نے ساری زندگی اپنے اس محکمے کے نام کرنی تھی لیکن ذرا سی ناانصافی کی وجہ سے تیس ہزار ملازمین اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے جس کی وجہ سے بہت سے ملازمین خودکشیاں کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

    اس حکومت کو آٹا، چینی، گھی، ادویات کی قیمتوں میں کمی لازمی لانا ہوگی ورنہ اس حکومت کا خاتمہ پیپلزپارٹی کی نسبت قدرے زیادہ برا ہوگا اور شاید آپ کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے تحریک انصاف ایک یونین کونسل کی جماعت نہ بن پائے۔ عوام نے آپ کو تبدیلی اور سہولیات فراہم کرنے کی وجہ سے ووٹ دیا تھا لیکن آپ نے سہولیات فراہم کرنے کی بجائے پہلے سے سہولیات جو میسر تھی انکو بھی ختم کر دیا۔ اس حکومت کو اپنے کیے گئے فیصلوں پر سنجیدگی اختیار کرنے کی ضرورت ہے ورنہ رعایا جب اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکل آئے تو دنیا کی کوئی طاقت رعایا کی آواز کو دبا نہیں سکتی۔

  • حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان مذاکرات ! تحریر: علی مجاہد

    حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان مذاکرات ! تحریر: علی مجاہد

    ہوا یہ کہ 12 ربیع الاول کا جو جلوس تھا وہ جیسے ہی اختتام پذیر ہوا تو لاہور میں ملتان روڈ جہاں پہ خادم حسین رضوی کی مزار بھی ہے اور وہاں پہ مسجد بھی ہے تو وہاں پر تحریک لبیک کے جو کارکنان ہیں انہوں نے اس جلوس ایک دھرنے میں تبدیل کر دیا اور یہ کہا گیا کہ تین دن آپ کے پاس ہیں اور ان تین دنوں میں حکومت کے سامنے دو مطالبات رکھے گئے کہ ان دونوں مطالبات پر کام کرنا پڑے گا اگر آپ یہ مطالبات مان لیتے ہیں تو بالکل ٹھیک ہے ورنہ ہم آپ کے خلاف احتجاج کریں گے معاملہ خراب اس وقت ہوا تھا جب نومبر 2020 میں ناموس رسالت کے اوپر بہت زیادہ احتجاج ہوئے اور بہت کچھ ہوا اور بعد میں ایک معاہدہ ہوا اس معاہدے میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری ہیں انہوں نے بھی دستخط کیے اور شیخ رشید نے بھی دستخط کیے اس میں بڑی سیدھی سادی بات تھی کہ ہم جناب جو فرانس کا سفیر ہے پاکستان سے اسکو نکال دیں گے اور اسکو لیکر قومی اسمبلی میں قرارداد بھی آئی لیکن سفیر کو نکالنے کی بات وہاں پر نہیں ہوئی لیکن حکومت نے اس وقت کمٹمنٹ ضرور کر دی کہ ہم نکال دیں گہ لیکن پھر صورتحال خراب اس وقت ہوئی جب اپریل میں سعد رضوی جب وہ کہیں سے واپس آرہے تھے تو انکو گرفتار کر لیا اور پھر کافی عرصے سے انکو جیل میں رکھا ہوا ہے اور پھر لاہور ہائیکورٹ کی ججمنٹ آتی ہے لاہور ہائیکورٹ کی ججمنٹ کے بعد بھی انکو رہائی نہیں ہو رہی، دو بنیادی مطالبات ہیں جو سامنے رکھے گئے اس میں پہلا کہ سعد رضوی کی رہائی ہر صورت میں تحریک لبیک کے کارکنان چاھتے ھیں اور دوسرا فرانسی سفیر کو اس وقت ملک سے نکالا جائے، 

    اب آتے ہیں اگلے مرحلے کی طرف کہ اس معاملے اپڈیٹ کیا ہے مذاکرات ہوئے ہیں نہیں ہوئے ہیں حکومت نے تحریک لبیک کے ساتھ بات چیت کی ہے انسے رابطہ کیا ہا نہیں کیا؟

    تو میں آپکو بتا دیتا ہو جب سے یہ اعلان ہوا ایسا نہیں ہے کہ تحریک لبیک کے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں ملتان روڈ پر اور نارے لگا رہے ہیں اور انکی کوئی بات نہیں سن رہا اطلاعات یہ ہیں کہ حکومت کی جانب سے باقاعدہ اب زاعری بات ہے اس میں حکومتی سفیر یا حکومتی وزیر تو نہیں تھے اس میں سیکیورٹی ایجنسیز کہ لوگ تھے انہوں نے تحریک لبیک کے لوگوں کے ساتھ بات کی لیکن اس وقت تک جو نئی خبر ہے ان دونوں کے درمیان کوئی اتفاق رائے نہیں ہوا جس کے بعد اب تحریک لبیک نے یہ فیصلہ کر لیا کہ جو انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ جا رہے ہیں اسلام آباد کی جانب تو انہوں نے ان مذاکرات کی ناکامی کی تصدیق کردی ہے اور یہ مذاکرات ہونے کی پہلے تحریک لبیک نے تصدیق کی جس کہ بعد ابھی بھی تصدیق کردی ہے کہ انکے جو مذاکرات ہیں حکومت کے ساتھ وہ ناکام ہو گئے اس کے بعد اب تحریک لبیک کے کارکنان لاہور سے اسلام آباد کی جانب روانہ ہو گئے ہیں لیکن لاہور شہر کے اندر اور پورے پنجاب میں تحریک لبیک کے خلاف پولیس جو ہے وہ کریک ڈاؤن کر رہے ہیں سینکڑوں کی تعداد میں انکے لوگ گرفتار کیے جا رہے ہیں داخلی اور خارجی راستے بند کیے جا رہے ہیں دو دن سے ٹریفک کا ماحول انٹرنیٹ سروس درہم برہم ہے لیکن اس دوران سب سے بڑی جو خبر ہے وہ ہے شیخ رشید صاحب کا بیرون ملک جانا شیخ رشید جناب دبئی کے لیے روانہ ہو گئے دو تین دن کا انکا وزٹ ہے اطلاعات کے مطابق وہ انڈیا پاکستان کا میچ دیکھنے گئے ہیں پاکستان کے حالات معمول پر نہیں اور پاکستان کا انٹیریئر منسٹر جو ہے وہ اس بات پر کہ میچ ضروری ہے یا اس وقت آج لاہور شہر میں اپوزیشن جماعتوں کی ریلیز الگ سے ہیں اور مزعبی جماعت کا احتجاج اپنی طرف ہے اور پاکستان کا انٹیریئر منسٹر جو ہے وہ میچ دیکھنے جا رہا ہے۔ 

    Twitter Handle ( @Ali_Mujahid1 )

  • فوری انصاف کی عدالتیں بنی نوع انسان کی استعماری قوتوں سے اصلی آزادی کی علمبردارہیں تحریر انوار الحق۔

    فوری انصاف کی عدالتیں بنی نوع انسان کی استعماری قوتوں سے اصلی آزادی کی علمبردارہیں تحریر انوار الحق۔

    1945کے بعد بیشتراقوام عالم پرسے برطانوی سامراج کے بتدریج خاتمے اور انخلاء کے بعد جن چیزوں کا غلام اقوام میں تسلسل ازحد یقینی بنایا گیا ان میں سرفہرست سامراجی نظام انصاف ہے۔ یعنی جو نظام فاتح اقوام نے مفتوحہ اقوام پر اپنا جبرواستبداد برقراررکھنے کے لئے پوری قوت سے نافذالعمل کیا تھاوہی نظام آج تک غلام اقوام جو کہ بظاہر اب آزاد ہو چکی ہیں پر اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ نافذالعمل ہے۔اس پورے عرض گذاری سے شروع ہونیوالے اور متوفی پر ختم ہونیوالے نظام پر سرسری نظر دوڑانے پر ہی معلوم ہوجاتاہے کہ یہ نظام حصول انصاف کے لئیے ہے ہی نہیں بلکہ ترویج ظلم کے لیئے ہے۔ قول مشہور ہے کہ پاکستان میں حصول انصاف کے لیے آپ کے پاس قارون کا خزانہ اور عمر خضر ہونی چاہئے ۔ یعنی نہ قارون کا خزانہ ہو ، نہ عمر خضر ہو اور نہ انصاف ہو۔پاکستان میں فوجی حکمران آئے ، سول حکمران آئے بڑے بڑے بیوروکریٹ آئے جن کی کتابیں مشہور ہوئیں ہر طرح کے طاقتور لوگ آئے اور ان سب نے اپنی اپنی بھانت بھانت کی پالیسیاں چلائیں، قانون بنائے اور بے شمار خرافات کیں لیکن ان سب نے 74سالوں میں جو ایک مشترکہ چیز یقینی بنائی رکھی وہ یہ تھی کہ کسی طرح اس ملک کا نظام عدل ٹھیک نہ ہو۔حکمران طبقہ اچھی طرح جانتا ہے کہ جس دن اس ملک میں فوری انصاف ملنا شروع ہوگیا ان کی بدمعاشیوں اور عیاشیوں کو بھی نکیل ڈل جائیگی۔ تو لہذا اب مختلف نظریات کی دعویدار انگنت پارٹیاں اور جھنڈے ، بولیاں ایک سیل بے کراں ہے لیکن کہیں کوئی عملی طور پر فوری انصاف کیلئے کام کرتا نظر نہیں آتا نہ آئیگا۔ اس ملک میں سب طرح کے قانون و آرڈیننس بن کر نافذ ہو سکتے ہیں لیکن 14دن کے اندراندر فیصلہ کرنے کے بنے ہوئے قانون پر عملدرآمد کوئی مائی کا لعل نہیں کروائیگا اور نہ کوئی اس پر بات کریگا ۔اور ایسا نہ کرنیکے صورت میں کوئی اس پر بات نہیں کریگا نہ سروس کٹے گی نہ مراعات۔ سب کو معلوم ہے کہ انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے ذمرے میں آتی ہے لیکن انصاف میں تاخیر جاری ہے۔ اصل ظلم یہ ہے جس کیخلاف کچھ لوگ بولتے ضرور ہیں لیکن ان کی آواز نقارخانے میں طوطی جتنی بھی نہیںاور مزے کی بات یہ ہے کہ انصاف ،انصاف کی دھائی دینے والے بھی دوسروں کیلیے انصاف جبکہ اپنے لیے ہر قسم کی معافی کے طلبگار ہیں۔
    امریکہ یورپ اور اسکے حواری افغانستان میں اپنی بدترین شکست کا بدلہ اب طالبان کے نظام انصاف پر انگلیاں اٹھا اٹھا کر لے رہے ہیں حالانکہ وہی اسلامی قوانین سعودی عرب میں نافذہیں لیکن ادھر تیل اور ڈالر کے اشتراک سے حاصل ہونیوالی دولت کے انبار نظر آتے ہیں اور طالبان بے چارے غریب ہیں اس لیے ان میں نظام میں خرابیاں نظر آتی ہیںجوکہ منافقت ہے۔ امریکہ کو بے گناہوں پر ڈرون حملے کرتے ہوئے کوئی انسانی حقوق یادنہیں آتے اور نہ ہی خواتین کے چادر اور چاردیواری کے حق کی پامالی نظر آتی ہے لیکن طالبان اگرکسی مستند چور کے ہاتھ کاٹ دیں یا بچوں سے بدفعلی کرکے ان کو جان سے مارنے والے درندوں کو چوک چوراہے پر لٹکا دیں تو ان نام نہاد انسانی حقوق والوںکے پیٹ میں مروزاٹھنا شروع ہوجاتے ہیں۔ ادھر پاکستان کو اسلام کے نام پر معرض وجود میں آئے ہوئے 74سال بیت گئے بلکہ بتا دیے گئے لیکن آجتک اس میں اسلامی قوانین کا بعینہ نفاذ نہیں ہونے دیا گیا۔ کہتے ہیں کوئی قانون یہاں اسلامی قوانین سے متصادم نہیں بنا نہ بن سکتا ہے ۔ تو پوچھنایہ کہ اسلامی ماخذ قانون Islamic Jurisprudenceسے لاکھوں کروڑوں مقدمات کے التوا کا جواز بھی نکال کر دکھا دو۔ یہی ایک بات کہ اس ملک میں بندہ مر جاتا ہے نسلیںبرباد ہوجاتی ہیں لیکن انصاف نہیں ملتا اس نظام کو غیراسلامی ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ ہمارے ملک کی اشرافیہ اس نظام ناانصاف سے فائدہ اٹھانے والے لوگ ہیں۔ لوئر کورٹس، سیشن کورٹس، ہائی کورٹس، سپریم کورٹس، اسلامی کورٹس سے ایک اپر کلاس کے ظلم کے نظام کو دوام بخشنے کے ادارے ہیںجو بدمعاشیہ کو تحفظ فراہم کرتے ہیںاور غریب کی نسلیں اجاڑ دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جن لوگوں کو سولیوں پر ہونا چاہئے تھا وہی لوگ کرسیوں پر براجمان ہیں۔

  • زندگی کا مقصد کیا ہے؟ تحریر : محمد عدنان شاہد

    زندگی کا مقصد کیا ہے؟ تحریر : محمد عدنان شاہد

    دنیا کی ہر چیز کسی نہ کسی مقصد کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ اللہ تعالی نے دنیا میں کوئی بھی چیز بے مقصد اور بے معنی پیدا نہیں فرمائی ہر چیز کا کوئی نہ کوئی خاص مقصد ہے اور قدرت ان سے انہیں مقاصد کو پورا کرتی ہے۔ زمین کی نپلوں سے لے کر آسمان کی صورت تک کسی نہ کسی مقصد کے ساتھ منسلک ہیں۔ تخلیق کائنات کے مقصد کا سب سے روشن پہلو یہی ہے کہ اللہ تعالی نے کسی چیز کو بے مقصد نہیں بنایا۔ پھر مختلف مقاصد کو نوع بہ نوع چیزوں کا پابند کردیا کہ اس طرح وہ مقاصد پھیلتے چلے گئے جیسا کہ اللہ تعالی نے مقصد اس کائنات کو خود فرمایا کہ:

    میں ایک پوشیدہ خزانہ تھا جب میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں تو میں نے کائنات کی تخلیق کر دی ” ( الحدیث)

    اس سے یہ بات پتا چل گئی کہ تخلیق کائنات کا سب سے بڑا اہم اور اصل مقصد اللہ تعالی کی ذات و صفات کی معرفت اور اس پر کامل ایمان رکھنا ہے۔ اور جب اللہ تعالی کا عرفان حاصل ہو جائے تو یہ مقصد پورا ہو گیا کہ آپ کائنات کی وہ شے اپنے وجود میں کامل ہو گی۔ پھر مخلوقات میں جو درجات ہیں ان میں بھی مقصد نمایاں ہے۔ پہلے اس امر پر غور کریں کہ اللہ تعالی نے مخلوق میں زی حس کو تین طرح پر پیدا فرمایا۔

    1)ایک وہ جن کو عقل دیا اور نفس سے محفوظ رکھا۔ جیسے فرشتے
    2) ایک وہ جن کو نفس دیا اور عقل سے بے بہرہ کیا۔ جیسے حیوانات
    3) ایک وہ جن کو عقل بھی دیں اور نفس بھی دیا۔ جیسے جن و انس

    ان میں ہر ایک کا مقصد جداگانہ ہے۔ فرشتوں کو بے نفس بنا کر انہیں صرف اپنی عبادت پر مامور فرما دیا اور دیگر ضروریات سے محفوظ کر دیا۔ اور تمام بشری تقاضے ان سے الگ کر دیئے۔ جانوروں کو پیدا کیا تو انہیں عقل سے خالی کرکے صرف نفس کا خوگر بنایا اب ان پر کوئی شرعی احکام یا امرونہی کا حکم نافذ نہیں۔ مگر ان سوجن کو یہی خصلت بھی دیں اور فرشتوں کا شعور بھی دیا۔ اس لئے اس کے ڈھاٹے ملکوتی خصائل سے ملتے ہیں۔ اور دوسری طرف بہمانا صفات سے۔ اس کو اس منزل پر کھڑا کیا جو انتہائی زیادہ آزمائشی ہے۔ انہیں تکلیف شرعی بھی دی اور لذت نفس بھی عطا کیا۔ اب جن و انس دونوں خصلتوں کے حامل ٹھہرے۔ اگر ملکوتی صفات غالب آجائیں تو اس وقت انسان فرشتوں کا ہم نشیں ہیں اور اگر بہمانہ خصائل غالب آجائیں تو اس وقت وہ جانور ہے۔

    رب کریم نے جن و انس کی مقصدیت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔
    ” ہم نے جن و انس کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا فرمایا” ( زاریات، آیت 54)

    معلوم ہوا کہ مقصد انسان صرف عبادت الہی ہے۔ اسی کو مذکورہ بالا حدیث قدسی میں اپنی ذات کی معرفت سے تعبیر فرمایا۔ اب یہ بات واضح ہوگئی کہ انسان کا مقصد حیات بڑا مبارک عظیم اور اہم ہے۔ اب چونکہ یہ بات واضح ہوگئی کہ انسان کا مقصد بہت اہم اور مبارک ہے تو اس لیے ہر انسان کو چاہیئے کہ وہ دنیاوی کاموں سے برتر سب سے پہلے اللہ کی معرفت اور عبادت کو سب سے پہلے رکھے۔ اس کی زندگی کا سب سے اہم مقصد اور بنیادی مقصد اللہ کی عبادت ہونی چاہیے۔ کیونکہ باقی دنیاوی کام تو سب چلتے رہتے ہیں۔ اگر انسان اللہ کا قرب پا گیا تو سمجھو وہ مقصد حیات پا گیا۔

    اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اس کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

    @RealPahore

  • بین الاقوامی سیاسی منظر نامہ  تحریر:- فروا نذیر

    بین الاقوامی سیاسی منظر نامہ تحریر:- فروا نذیر

    Twitter : @FarwaSpeaks_
    آج کل نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا پر ایک تازہ بحث دیکھنے کو مل رہی ہے۔ مغربی دنیا افغانستان میں امریکی شکست کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش میں ہے۔ امریکہ اپنی تاریخ کی سب سے طویل اور مہنگی ترین جنگ ہار چکا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق امریکہ نے اس جنگ میں 20 ٹریلین ڈالرز سے زیادہ کا سرمایہ خرچ کیا۔ افغانستان میں رہتے ہوئے امریکہ معاشی حوالے سے چین کا مقروض ہوتا رہا۔
    چین ناچاہتے ہوئے بھی امریکہ کو قرض دیتا رہا کیونکہ امریکہ چین کے پڑوس میں بیٹھا تھا اور کسی بھی وقت پراکسی وار چین پر مسلط کر سکتا تھا۔ جنگ سے بچنے کے لئے چین کے پاس اور کوئی آپشن نہیں تھا۔
    افغان جنگ میں پوری مغربی دنیا کی سرمایہ کاری تھی۔ اب سرمائے کے ڈوب جانے کے بعد مغرب بدمست ہاتھی کی طرح ہنکار رہا ہے۔ ان کی نظروں میں اس شکست کا بس ایک جواز ہے اور وہ ہے "One word, PAKISTAN” ۔ پاکستان اس وقت مغربی دنیا کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے۔
    اس وقت حالات واضح طور پر نئے بلاک کی طرف جا رہے ہیں۔ جو کہ چین اور روس کی سرکردگی میں ہو گا۔ سرمایہ دارانہ نظام اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ دنیا کے سرمائے کا کثیر حصہ چند ہاتھوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ہتھیلیوں میں آ چکا ہے۔ اس لئے ہو سکتا ہے کہ دنیا کا سسٹم تبدیلی کی طرف آئے۔ جمود کو موت ہے اور تغیر میں بقا ہے۔ لہٰذا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دنیا اشتراکیت کی طرف آ جائے۔ اگر دنیا کا نظام اشتراکیت کی طرف آیا تو اس میدان میں لیڈ روس اور چین کی طر رہے ہیں۔ امریکی capitalism آخری سانسیں لے رہا ہے۔
    امریکہ کے پاس جنگ کے لئے اور کوئی میدان بھی نہیں بچا۔ سیانے کہہ گئے ہیں کہ عالمی طاقتوں کی جنگ میں میدانِ جنگ غریب ممالک ہی بنتے ہیں۔ ایسے ہی افغانستان بھی ایک میدانِ جنگ تھا۔ پاکستان کی مضبوط دفاعی حکمتِ عملی اور راولپنڈی میں بیٹھے دنیا کے تیز ترین دماغوں کی وجہ سے پاکستان اب تک بچا ہوا ہے ورنہ شاید اب تک ہم بھی افغانستان، عراق یا شام کی طرح شام کے اندھیرے میں ڈوب چکے ہوتے۔
    اگر نیا بلاک بنتا ہے تو اسے لیڈ چین اور روس کریں گے اور ساؤتھ ایشیا میں پاکستان اس کا سرکردہ رکن ہو گا۔ کیونکہ انڈیا اپنی وفاداریاں امریکہ کے ساتھ جوڑ چکا ہے۔ طاقت کا توازن بھی ایشیا میں ہی رہے گا اور مغرب کے پاس سوائے انتظار کے اور کچھ نہیں بچے گا۔
    جہاں تک پاکستان پر پابندیوں کی بات ہے تو یہ مغرب کی سب سے بڑی بے وقوفی ہو گی۔ یہ بل اور قراداد والا سارا ڈراپ سین امریکہ صرف اور صرف اپنی شکست کی خفت مٹانے کے لئے کر رہا ہے۔  دنیا کو خاموش کرانے کے بعد یہ سب باتیں ہوا ہو جائیں گی۔ امریکہ افغانستان میں شکست کھانے کے بعد پہلے ہی ایشیاء میں اپنی پوزیشن کمزور کر چکا ہے۔ کیونکہ ایشیا میں پہلے صرف چین کی امریکہ کے مدِ مقابل تھا لیکن اب چین کے ساتھ ساتھ روس، ایران اور ترکی بھی امریکی چودھراہٹ کو آنکھیں دکھا رہے ہیں اور پاکستان میں بھی پہلی بار گورننس ذاتی حکمتِ عملی کے نتیجے میں عمل میں آ رہی ہے۔ جو کہ امریکہ کے لئے بہت بڑا چیلنج ہے۔
    امریکہ اب پاکستان کو مزید ناراض کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ پاکستان خطے میں اپنا کافی اثر و رسوخ بنا چکا ہے۔
    امریکہ میں بھی اب جنگی جنون باقی نہیں رہا۔ امریکہ کی ترجیحات بھی بدل چکی ہیں۔ امریکہ اب جنگ کی بجائے چین کی طرح معاشی میدان میں قدم جمانے کی پلاننگ میں ہے۔ آنے والا وقت اسی کا ہو گا جس کی جیب بھاری ہو گی۔ اسی حوالے سے امریکہ نے چینی بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے مقابلے میں اپنا نیا پراجیکٹ لانچ کیا ہے۔ امریکہ نے سمندروں پر قبضہ کر رکھا تھا لیکن چین نے زمینی سفر کو ترجیح دے کر پورے خطے میں تجارتی روٹس کا جال بچھا دیا جو کہ امریکہ کے لئے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔ افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد چین کے پاس مشرقِ وسطیٰ تک پہنچنے جا زمینی راستہ بھی آ چکا ہے جس کی حفاظت کے لئے چین افغان طالبان سے پہلے ہی مذاکرات کر چکا ہے۔
    دنیا کی سیاست کا نقشہ تیزی سے بدل رہا ہے۔
    اب ہم نے دیکھنا یہ ہے دنیا کا معاشی نظام کس کروٹ بیٹھتا ہے
    سرمایہ دارانہ یا اشتراکیت؟
    یہ وقت ہی بتائے گا۔

  • لاہور سے اسلام آباد مارچ، حکومت و مذہبی جماعت کے بڑوں کو لیے عام شہری کا مشورہ تحریر: ناصر بٹ۔

    لاہور سے اسلام آباد مارچ، حکومت و مذہبی جماعت کے بڑوں کو لیے عام شہری کا مشورہ تحریر: ناصر بٹ۔

    @mnasirbuttt

    اور ایک بار موبائل فون سروس بند ہونے سے دنیا بھر سے رابطہ منقطع ہوگیا، گھر سے نکلنا دشوار اور سوشل میڈیا پر رائے دینا محال ہوگیا، ایک بار پھر کالعدم تحریک لبیک کی جانب سے شہر اقتدار پر یلغار کا اعلان اور حکومت کی جانب سے سیکورٹی انتظامات کی آڑ میں موبائل فون سروس، شاہراہیں اور تقریبا عام شہری کی آنکھیں بند کرنے کا آغاز کر دیا گیا، شہر لاہور میں پولیس کی جانب سے فلیگ مارچ اور جڑواں شہروں کے سنگم فیض آباد پر وفاقی و پنجاب پولیس کا مشترکہ دھرنے سے پہلے استقبالی دھرنا بھی جاری ہے، جگہ جگہ کنٹینٹرز لگا کر راستے بند کرنے کے باوجود ڈنڈے ہاتھوں میں پکڑے نفری منتظر ہے لاہور سے جمعہ کے بعد اسلام آباد کے لیے نکلنے والے مہمانوں کی، پولیس والے اس لانگ مارچ کے انتظار میں دو دن ڈیوٹی پر رہیں گے یا چار دن معلوم نہیں لیکن ان چند روز میں ملحقہ علاقوں میں رہنے والوں کی زندگی ضرور اجیرن رہے گی، ایک سوال جو ملک بھر کے عوام خصوصا اس صورتحال میں متاثر ہونے والے شہری من میں لیے گھومتے ہیں لیکن پوچھنے کی سکت نہیں کہ آخر حکومت کی جانب گزشتہ دھرنے کو ختم کروانے کے لیے بطور ضمانت قومی اسمبلی میں بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی اب تک معاملات کا حل کیوں نہیں نکال سکی، کیوں تحریک لبیک کی لیڈر شپ کو اعتماد میں لیکر مسائل کو حل کرنے کی کوشش نہ کی گئی، اگر دیگر قومی مسائل کو حل کرنے میں غیر سنجیدگی کی طرح ادھر بھی سستی دکھا ہی دی گئی تو لاہور میں جاری حالیہ دھرنے کا ہی رخ کر لیا جاتا، کاش لاہور میں ہی ان سے مذاکرات کر لیے جائیں تاکہ مذہبی جماعت کے کارکنان و پولیس کو آمنے سامنے آنے کا موقع ہی نہ ملتا، گزشتہ روز شیخ رشید نے سفارتی تعلقات کے اعتبار سے اہم بات کرتے ہوئے کہا کہ فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنا مسئلے کا حل نہیں ایسا کرنے کی صورت میں یورپی یونین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کشیدہ ہونے کا خدشہ رہے گا لیکن ساتھ ہی ساتھ انہوں نے پی ڈی ایم راولپنڈی احتجاج کی آڑ میں مذہبی گروپ کو بھی سنا دیا کہ قانون ہاتھ میں لینے کی صورت میں قانون حرکت میں آئے گا، پہلی بات تو یقینا درست ہے کہ سفارتی دنیا میں اس طرح کسی بھی گروہ کے پریشر میں آکر سفیر جو کہ اپنے ملک کا نمائندہ سمجھا جاتا یے اس کو ملک بدر کرنا بالکل ایسا ہی ہے کہ آپ کی متعلقہ ملک کے ساتھ طلاق ہوگئی اور آپ نے تین بار لب کشائی کرکے کام تقریبا ختم ہی کر دیا جبکہ دوسری اہم بات یہ ہے کہ طلاق بھی کیوں دی جائے جب بیوی فرانس جیسی امیر و ترقی یافتہ بیوی ہو ہاں ایتھوپیا کے ساتھ معاملات اس نہج تک پہنچنے تو شاید ریاست مدینہ کے خلیفہ ایسا کچھ سوچ بھی لیتے، دوسری بات کچھ ایسی ہی ہے کہ "کہنا بیٹی کو سنانا بہو کو” وزیر داخلہ نے پنڈی میں احتجاج کرنے والی ن لیگ کو قانون کی حرکت کے بارے میں سنایا تو ضرور لیکن پیغام لاہور والوں کو بھی سنا دیا کہ فیض آباد آنا آسان نہیں اور اگر پہنچ بھی گئے تو مہمان نوازی کا شرف پنجاب و وفاقی پولیس کی مشترکہ میزبانی کو حاصل ہوگا جس میں آنسو گیس، لاٹھی چارج، گرفتاریوں سمیت دیگر اشیاء بھی بطور مینو پیش کی جاسکیں گی، اس ساری صورتحال میں نقصان قوم کا ہوگا جو اپنے معمولات زندگی سے جو کورونا کے عذاب سے بمشکل باہر نکل کر بحالی کی طرف ابھی چلے ہی تھے سے ایک بار پھر ہاتھ دھو بیٹھیں گے دوسرا کسی بھی قسم کی ممکنہ جھڑپ کی صورت میں زخمی پولیس اہلکار ہو یا تحریک کا کوئی کارکن نقصان ریاست کا ہی ہوگا نقصان پوری قوم کا ہی ہوگا، ریاست مدینہ والوں سے دست بدستہ درخواست تو یہ ہی ہے کہ کالعدم تنظیم کے ایکٹو علماء کو بجائے گرفتار کرنے یا مار دھاڑ کرنے کے ان سے خوشگوار ماحول میں ملاقات کی جائے، ان کو سنا جائے اور ان کو بین الاقوامی و قومی مجبوریوں کے حوالے سے آگاہ کیا جائے، ان کو سفارتی دنیا کی بھی ایک سیر کروائی جائے اور مطالبات کی منظوری کی صورت میں ہونے والے ریاستی نقصان کا تخمینہ بھی بتایا جائے لیکن لیکن لیکن ساتھ ہی ساتھ مستقبل میں ہونے والی اس طرح کی کسی بھی قسم کی گستاخی و توہین کی صورت میں سخت ترین قانون سازی بھی کی جائے اور ڈرافٹنگ کے دوران علماء کے ایک وفد کو بھی اپنی تجاویز کو قانونی نقاط میں شامل کرنے کی دعوت دی جائے تاکہ ایمان بھی سلامت رہے اور بروز قیامت نبی الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بھی جواب دہی ہوسکے کہ آپ کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو صرف جماعتی نہیں بلکہ ریاستی سطح پر دبایا گیا اس کی نہ صرف مذمت کی گئی بلکہ اپنے اختیارات سے بڑھ کر اس کے خلاف کاروائی بھی کی گئی کیونکہ آپ سے محبت ہی ایمان کی نشانی ہے اور آپ کی حرمت پر بولنا ہی زندگی کا حقیقی مقصد لیکن آقا دو جہاں کے پیروکاروں کا یوں سڑکوں پر ایک دوسرے کو آمنے سامنے ہوگا لاٹھی چارج مار دھاڑ اور باقی سب پرتشدد کاروائیاں، یہ نہ ہی اسلام سکھاتا ہے نہ ہی اس سب سے دین کی خدمت میں کوئی حصہ ڈالا جاسکتا ہے