Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • پسماندہ سے ترقی پذیر تک: بنگلہ دیش: عمران افضل راجہ

    پسماندہ سے ترقی پذیر تک: بنگلہ دیش: عمران افضل راجہ

    حصہ دوم:
    بنگلہ دیش کی اس حیران کن ترقی کی دو اہم وجوہات نظر آتی ہیں، تعلیم اور
    خواتین۔ 1980ء کی دہائی میں تعلیم کی شرح بہت کم تھی۔خاص طور پر  خواتین میں
    تعلیم کی شرح نہ ہونے کے برابر تھی اور نہ ہی ملکی ترقی میں ان کا کوئی کردار
    تھا۔ لیکن حکومت اور سماجیتنظیموں نے تعلیم کے فروغ کے لیے کام شروع کیا ۔ سب
    سے زیادہ زور خواتین کی تعلیم پر دیا گیا۔

    بنگلہ دیش نے تعلیم نسواں کوعام کیا اور انہیں بااختیار بنایا تو یہی خواتین
    بنگلہ دیشی معیشت کا ستون بن گئیں۔ اگر پاکستان بھی اپنیخواتین کو بااختیار
    بنانا چاہتا ہے تو اسے بنگلہ دیش کے نقشِ قدم پر چلنا ہوگا بنگلہ دیش کی مثال
    کو سامنے رکھتے ہوئے تعلیم (بالخصوصلڑکیوں کی تعلیم) کو فروغ دینے کے لیے
    اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ کیونکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ تعلیم اور
    ملکیترقی میں خواتین کی شمولیت مہمیز کا کام کرتی ہے۔

    فی کس آمدنی اور سالانہ شرح ترقی میں وہ ہمیں پہلے ہی بہت پیچھے چھوڑ چکا ہے۔
    بنگلہ دیش کی سالانہ برآمدات41 ارب ڈالر جبکہپاکستان کی 25 ارب ڈالر سے کم ہیں،
     اور بنگلہ دیش کی درامدات 43 ارب ڈالر جبکہ پاکستان کی درامدات 56 ارب ڈالر ہو
     چکی ہیں۔بنگلہ دیش پر کل غیر ملکی قرضہ اس وقت 35 ارب ڈالر کے قریب جبکہ
    پاکستان میں 87 ارب ڈالر ہے۔ بنگلہ دیش میں بے روزگاریکی شرح %4 جبکہ پاکستان
    میں بے روزگاری %6 کے قریب ہے۔ بنگلہ دیش کی %33 آبادی صنعتوں سے منسلک ہو چکی
    ہے اور  پاکستان کی صرف %20 صنعتوں سے وابستہ ہے۔ اسی طرح تعلیمی اعتبار سے بھی
     ہم بنگلہ دیش سے بہت پیچھے کھڑے ہیں۔ عالمیبینک کے مطابق ان کی شرح خواندگی
     74 فیصد جبکہ ہماری 59 فیصد ہے۔

    معاشی ترقی حاصل کرنے کے لیے بنگلہ دیش کی حکمت عملیوں میں سے ایک اس کے تعلیمی
     نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا تھا۔ان کے نزدیک تعلیم صرف ڈگری کے حصول کا
    ذریعہ نہیں بلکہ اس کا مقصد ایک ایسا نظام بنانا تھا جس کو صنعتی نظام کے ساتھ
    منسلک کیا جا سکے اور ہنر مند افراد کی تعداد میں اضافہ ہو۔

    بنگلہ دیش کی حکومت انگریزی زبان کی تعلیم، اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ
    دینے اور آسٹریلیا ، فرانس ، امریکہ ، جاپان اور جرمنیجیسے ممالک کے ساتھ
    تبادلے کے لیے کوشاں ہے۔ حکومت بیک وقت بنگلہ دیش میں غیر ملکی طلباء اور
    محققین کی تعداد بڑھانے کیکوشش میں مصروف عمل ہے۔

    مرکزی حکومت نے معاشی ترقی کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک منصوبہ وضع کیا ، جس کا
    بنیادی مقصد جدید صنعت اور سرمایہ کاری کیصلاحیت کو مضبوط بنانا ہے جس نے
    صنعتوں کو پیداوار کے حجم کو بڑھانے کی ترغیب دی۔ ریاست نے سبسڈی کے ذریعے کسی
    بھی نقصان کو پورا کیا۔ انڈسٹری نرم بجٹ کی پابندی کے تحت چلائی گئیں ۔ ریاست
    نے اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول کیا۔ کمپنیوں کوپیداوار کی حوصلہ افزائی کے لیے
    مختلف قسم کی مفت گرانٹ دی گئی ، جنہیں کیپٹل اسٹاک میں اضافے کے طور پر محسوس
    کیا گیا۔

    کپاس درآمد کرنے کے باوجود بنگلہ دیش چین کے بعد جنوبی ایشیا کا دوسرا سب سے
    بڑا گارمنٹس کا برآمد کار بن چکا ہے، جبکہ کپاسکے معاملے میں خود کفیل ہونے کے
     باوجود ہماری برآمدات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

    بنگلہ دیش میں  گارمنٹس کی تقریباً 5 ہزار صنعتیں ہیں۔ یہ شعبہ لاکھوں کی تعداد
     میں عوام کو روزگار مہیا کرتا ہے، جن میں سے 80 فیصدخواتین ہوتی ہیں۔

    بنگلہ دیش کی صنعتی ترقی نے اس کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں بہت مدد کی۔
    لیکن ہمارے ہاں نئی صنعتیں قائم ہونے کی بجائےپرانی قائم کی گئی صنعتیں بھی ختم
     ہو رہی ہیں۔

    بنگلہ دیش کی کامیابی تمام دنیا کے لیے مثال ہے۔ جہاں ڈھائی کروڑ سے زائد افراد
     کو خط غربت سے نکالنے میں صرف پندرہ ساللگے۔ دنیا اس کامیابی پر حیران ہے۔
    مختصر یہ کہ بنگلہ دیش نے اپنے سب سے کم استعمال شدہ اثاثوں یعنی اپنے غریب
    طبقے میںسرمایہ کاری کی ہے۔ ان میں تعلیم عام کی، صنعتوں کی طرف راغب کیا۔ اس
    دوران حکومت کی توجہ کا تمام تر مرکز پسماندہ اورسب سے کم پیداواری شعبوں پر
    رہا کیونکہ وہیں سے سب سے اچھے نتائج برآمد ہو سکتے تھے۔ وہ لوگ محنتی اور
    سختیاں برداشتکرنے کے عادی ہوتے ہیں۔ اس لیے آگے بڑھنے کی خواہش میں مشکل سے
    مشکل کام کر گزرتے ہیں۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ یہیلوگ ملک کا اصل سرمایہ ہوتے
    ہیں۔

    Imran Afzal Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He
    has been writing for different forums. His major areas of interest are
    Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • سخن اور پوچھ کا تماشا تحریر: محمد عتیق گورائیہ

     

    ؎میں بھلا کب تھا سخن گوئی پہ مائل غالبؔ

    شعر نے کی یہ تمنا کے بنے فن میرا

    حضرت غالب کا تو کیا ہی کہنا۔ مذکورہ شعر میں لفظ سخن پر کچھ دیکھا، سنا اور پڑھا ہے جسے آج قارئین کے سامنے رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔فارسی زبان سے اردو زبان میں یہ لفظ آیا ہے اور اس سے مراد نطق، گفتار، قول،معاملہ اور اعتراض و شک ہے۔اگر اس کے مترادفات کی بات کروں تو سنسکرت سے بات، فارسی سے گرفت اور عربی سے کلام کو دیکھا جاسکتا ہے۔سخن کو اگر انگریزی میں دیکھیں تو اس کا مترادف Sayبنتا ہے۔اب اگر اسی Sayکو لے کر چلوں تو یہ لفظ قدیمی جرمن کے لفظ "ساخن” سے نکلا ہے۔ آج کل کہنا کو جرمنی زبان کے لفظ ساگن میں دیکھا جاسکتا ہے۔مجھے انگریزی زبان کا لفظ Saga(لمبی کہانی) اسی ساگن سے ماخوذ لگتاہے۔ قدیمی انگریزی زبان کے لفظ secganکو جرمنی زبان سے لیا گیا ہے جسے saggjanکہتے ہیں اور اس کا مطلب”کہنا”ہی ہے۔یہی بعدمیں seyenہوا اور پھر شکل بدل کر Sayہوگیا۔مفروضے کے مطابق ہندیورپی زبانوں سے قبل کے ایک لفظ Sekwسے اسے لیا گیا ہے جس کے تعلقات جرمنی کے مغربی زبانوں سے دیکھے جاسکتے ہیں۔ اب اگر فارسی و اردو کے سخن کو سامنے رکھ کر قدیمی جرمن زبان کے ساخن پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ کچھ نہ کچھ انسانوں کی طرح ان زبانوں میں بھی مشترکہ رہا ہے جو اپنی شکلیں تبدیل کرتے کرتے ترقی یافتہ تو ہوچکی ہیں لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ اصل لیے بیٹھی ہیں۔ ضمناََ عرض کردوں کہ لفظ بات کی اصل "واتترا” ہے جس سے بات نکلا اور پھر اس قدر استعمال ہوا کہ اردو زبان کا ہی لفظ بن گیا اس پر بات کسی اور دن کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔سخن کے مرکبات دیکھیں تو سخن سرائی،سخن سنج،سخن سناشی،سخن آرائی،سخن آفرین، سخن پروراور سخن طراز وغیرہ کی ایک لمبی فہرست ہے۔اظہر فراغ کا شعر ہے

    ؎اس سے ہم پوچھ تھوڑی سکتے ہیں

    اس کی مرضی جہاں رکھے جس کو

    اس شعر میں لفظ پوچھ کا استعمال تو ہمارے ہاں عام سی بات ہے۔اس پر کبھی غور کرنا گوارا ہی نہیں کیا کہ کون پوچھتا پھرے جہاں بھر سے۔یہ لفظ سنسکرت کے لفظ پرچھاسے بنا ہے۔ رگ وید میں یہ لفظ پرچھتی (وہ پوچھتا ہے)کی شکل میں استعمال ہوا ہے جہاں اس کا ایک اور روپ پرشتابھی ہے۔ ماہرین لغت کہتے ہیں کہ ان لفظوں میں بنیادی لفظ پرچ (Prach) ہے۔ سنسکرت کا یہ لفظ فارسی، پشتو اور روسی زبانوں کے قریب ہے۔ روسی زبان میں پوچھنا Pros ہے جو کہ روسی لفظ Prositبمعنی پوچھنا میں ظاہر ہوتا ہے۔پشتو میں یہی لفظ Pos(پوس)ہے جہاں پر”ر” گرا کر کام چلایا گیا ہے اور پھر اسی سے لفظ تاپوس بن جاتا ہے۔فارسی میں پرسیدن میں یہ شکل مجھے نظرآتی ہے۔ جب ہم روسی Vopros، پشتو تاپوس اور ہندی پرشن کو دیکھتے ہیں تو اردو والا پوچھنا ان کا خونی رشتے دار لگتا ہے۔ میری مونئرولمیزکی لغت کے مطابق پوچھنے اور دریافت کرنے جیسے لفظوں میں مادہPrachضرور آتا ہے۔جرمنی زبان کے Fragen(فراگے) کے متعلق معلوم ہوا ہے کہ یہ لفظ پہلے Vrage (وراگے)تھا جو Frahen (فراہن) سے بنا تھا۔ اس کا مادہ Prk(پرک) بتایا جاتا ہے جو پرچ کے مشابہہ لگتا ہے۔آگے ایک لمبی فہرست ہے جو کہ انگریزی زبان میں اسی مادے سے الفاظ کو مختلف شکلوں اور معنوں میں ڈھال لیتی ہے۔پشتو زبان کی طرح لاطینی زبان میں بھی "پوس” ملتا ہے جو کہ انگریزی زبان کے لفظ Postulateمیں نظر آتا ہے جوکہ لاطینی Procereسے بنا ہے۔یہ لفظوں کا سمندر تو مزید گہرا ہوتا جارہا ہے اور ہم ابھی اتنے ماہر نہیں ہوے ہیں کہ لمبی تیراکی کرسکیں۔راغب دہلوی کہتے ہیں کہ

    ؎قطروں سے سمندرکا بنانا نہیں مشکل

    قطرے میں سمندرکوسمونے کی ادا سیکھ

  • تبدیلی عوام اور مہنگائی تحریر:سعد اکرم

    ‏پٹرول، ڈیزل، گیس، گھی، دالیں، آٹا، چینی اور بجلی کے نرخوں میں اضافہ صرف مہنگائی بڑھنے کا ہی نہیں بلکہ گداگری اور غربت میں اضافے کا بھی دوسرا نام ہے۔ لوگ مہنگائی کے سبب پیٹ کاٹ کاٹ کر جینے پر مجبور ہیں۔ بیشتر گھرانے ایسے ہیں، جہاں مہینے کا اکھٹا سامان لانے کا رواج دن بہ دن ختم ہوتا جا رہا ہے۔ 

    ملک میں جاری دو تین سرویز کے مطابق گزشتہ 3 سالوں میں گھریلو جھگڑوں اور سٹریٹ کرائم سمیت چوری کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

    ان مسائل کو کون حل کرے گا عمران خان صاحب نے اپنی 22 سالہ جدوجہد پہ پانی پھیرتے ہوئے عوام کو الٹی چھری سے ذبح کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے وزرا و ترجمان کہتے ہیں مہنگائی پوری دنیا میں ہوئ جناب بیرون ملک لوگوں کی آمدنی بھی تو زیادہ ہے پاکستان میں آمدنی آٹھانی خرچہ روپیہ والی صورتحال ہے  پاکستانی قوم کو روز لولی پاپ دیے جاتے ہیں  سونے پہ سہاگہ ان کے اپنے اتحادی روز انہیں بلیک میل کرتے ہیں وزارتیں لیتے پیسے بناتے مزے کر رہے ہیں یعنی اس حکومت کے ابھی اپنے مسائل ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں جو کام روٹین کا ہوتا ہے اسے بحرانی کیفیت تک لے جاتے ہیں دنیا بھر میں جگ ہنسائی ہوی آ رہی ہے جناب وزیراعظم صاحب آپ خود فرماتے تھے کے تین سال مشکل تھے سیکھ رہے ہیں بھائ آپکو انٹرنشپ کے لیئے نہیں لایا گیا تھا ٹریننگ آپ کے پی کے میں کر چکے تھے آپ مہنگائی کی ذمہ داری لیں یہ نہ لیں بھیانک اثرات تو عوام تک پہنچ چکے ہیں  وزیراعظم عمران خان نے بھی دیگر سیاسوں کی طرح الیکشن مہم میں کچھ نعرے لگائے اور اب کچھ اور کر رہے ہیں  کسی نے روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لگا کر قوم کو بے وقوف بنایا کسی نے سستی روٹی ایشین ٹائیگر بنانے کے نام پر بے وقوف بنایا اور عمران خان نے اپنی بائیس سالہ جدوجہد تبدیلی و نیا پاکستان کا نعرہ لگا کر عوام سے مکر گئے اور عوام کو ریلیف دینے کے بجائے الٹا عوام پر ظلم و ستم ڈھائے جا رہے ہیں اور مہنگائی کر کے معیشت کو بہتر بنانے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے پٹرول بجلی گیس آٹا چینی ڈالڈا اور دیگر اشیا ضروریہ کے نرخ میں نہ صرف تین سالوں میں 400 فیصد تک اضافہ ہوا بلکہ مہنگائی کا سلسلہ بدستور جاری ہے جس نے گزشتہ ستر سال ریکارڈ توڑ ڈالا مڈل کلاس و سفید پوش طبقہ پس کر رہ گیا تبدیلی و نیا پاکستان بنانے والوں نے پرانے پاکستان و عوام کا ستیا ناس کر کے رکھ دیا احساس پروگرام سے صرف دو فیصد لوگ مستفید ہو رہے ہیں جبکہ عوام کی اکثریت جو کروڑوں میں ہے احساس پروگرام سے مستفید ہونا یہ اس پروگرام میں شامل ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتے کیونکہ عزت نفس مجروح ہوتی ہے یہ لوگ بھوک و افلاس سے مر تو سکتے ہیں لیکن خیرات زکوۃ و احساس پروگرام سے مستفید ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتے اگر حکومت واقعی غریب عوام سے ہمدردی رکھتی ہے تو آج ہی اعلان کرے 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کو بجلی مفت  دی جائے گی تا کے اس مہنگائی میں انھیں ریلیف مل سکے  احساس پروگرام لنگر خانے پناہ گاھیں اور دیگر اس قسم کے عزت نفس مجروح کرنے والے پروگرام فی الفور ختم کیے جائیں اربوں روپے احساس پروگرام بیت المال لنگر خانے پناہ گاہوں سے سفید پوش مڈل کلاس کو کیا فائدہ  بلکہ عوام کو روز مرہ استعمال کی اشیاء ضروریہ پر خصوصی سبسڈی دی جائے اصل خبر یہ ہے وزیر خزانہ شوکت ترین کی بطور وزیر خزانہ مدت پوری ہو رہی ہے اور اب انہیں مشیر خزانہ بنایا جا رہا ہے اور پھر خیبر بختون خوا سے سینٹ کا الیکشن لڑوا کر دوبارہ وزیر بنایا جائے گا اس مشق فضول سے عوام کا لینا دینا ہے عوام کے دن پھرنے کے تو دور دور تک آثار نظر نہیں آتے ابھی تک عمران خان کی معاشی ٹیم اپنی مہارت کا کوئ کرشمہ نہیں دکھا سکی باہر سے درآمد کی گئ ٹیم بھی عام آدمی کی زندگی میں بہتری کا کوئ کمال نہیں دکھا سکی حقیقت یہ ہے کے ملک کے معاشی معاملات عملی طور پر آی ایم ایف نے اپنے کنٹرول میں رکھے ہوئے ہیں حکومت کے دعوے اور باتیں اب عمل میں ڈھلنے کا تقاضا کر رہی ہیں ملکی معیشت کو مضبوط اور پائیدار  بنیادوں پر استوار کرنے کے بجائے دن گزارنے کی اس پالیسی نے پاکستان کی معیشت کو لاغر کر دیا ہے اب کوئ دست مسیحا ہی زبوں حالی کی ان پستیوں سے ملکی معیشت کو دوبارہ بہتری  کی بلندیوں تک لے جا سکتا ہے یہ روایتی طور طریقوں کا معاملہ نہیں رہا ایک بھرپور آپریشن کا متقاضی ہے ملک کی بڑی جماعتیں ابھی اس حوالے سے کوئ ٹھوس بات نہیں کر سکیں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ تو ایڈہاک ازم کے طور پر ملکی معیشت کو چلانے کی زمہ دار رہی ہیں اور ان سے اب توقع ہی عبث ہے مگر تحریک انصاف بھی ملکی معیشت کو سہارا دینے کے حوالے سے مخمصے کا شکار نظر آتی ہے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا  اضافے کو ملک کے معاشی حالات کی وجہ قرار دیا جا رہا ہے یہ عذر کچھ عرصہ تو چل سکتا ہے مگر تا ریر ماضی کے حکمرانوں کو دوش دے کر عوام کو مطمئن نہیں کیا جا سکتا

  • کیاہم مسلمان ہیں ??   تحریر.. واحید خان

    کیاہم مسلمان ہیں ?? تحریر.. واحید خان

    دنیاں میں رہنے والے تمام انسان کسی نہ کسی مذھبی عقیدے کا حصہ ہیں ہم مسلمان جتنا بھی شکر اداکرے کم ہے کہ بغیر کسی مخصوص درخواست کے اللہ تعالی نے ہمیں مسلمان پیدا کیا ہے اور دین فطرت کا حصہ بنا دیا ہے.ہمارا عقیدہ ہے کہ نبی کریم ہمارا رھبر ورہنماء ہے اور اخری نبی ہے اس طرح ہم قران و سنت کو زندگی کیلئے رہنماء اصولوں کا منبہ سمجھتے ہیں.

    اب سوال یہ ہےکہ اس فتنہ وفساد کے دور میں جب ہر طرف اسلام اور مسلمان دجالی سازشوں کے حصار میں ہیں اپنے مسلمان بھائیوں کا ارادی اور غیر ارادی طور پر اسلام کے خلاف پراپیگنڈے کا حصہ بننا انتہائی قابل افسوس ہےصلیبی جنگوں کے دوران قلعہ اجنادین کے فتح کے موقع پر جب عیسائیوں کے اینٹلی جنس افسر ہرمن گرفتاری کے بعد سلطان صلاح الدین ایوبی کے سامنے پیش کردئیے گئے تو اسکی کہی ہوئی بات اج سو فیصد درست معلوم ہورہی ہےکہ ایک دور ائے گا جب مسلمان قوم کا نوجوان نسل اپنے جہادی عقیدے کو فرسودہ اور دقیانوسی نظریہ تصور کرے گا اور ہم بغیر کوئی جنگ لڑے مسلمانوں کے اوپر غلبہ پالینگے.

    ایک زمانے میں اسرائیلیوں کا دنیاں بھر میں کوئی ریاست ہی نہیں تھا لیکن بالاخر جب فلسطینیوں میں سے ہی لوگوں نے اسرائلیوں سے رشتے ناتھے جوڑے, کاروبار شروع کیا, ان سے قرضے لئے, ان پر زمینیں فروخت کئے تو اج فلسطین سے مسلمانوں کا ریاست ہی سکُڑ گیا ہے اور اسرائیل ایک ملک بن گیا ہے.

    اج دنیاں دیکھ رہی ہے کہ فلسطینی بچے جوان بوڑھےخواتین رو رو کر عالم اسلام سے فریاد کررہے ہیں کہ انکے اوپر اگ اور بارود برسایا جارہاہے لیکن مسلمان ذھنی طورپر مغلوب اور محکوم بن گئے ہیں اور اپنی بزدلی کو چھپانے کیلئے غیر ضروری امن پسندی کے ترانے گاہ رہے ہیں ..دوسری طرف فلسطین کے گلی کوچوں کو معصوم اور پاک بچوں کے اعضاہ سے رنگین کیا جارہاہے .ان پر تاریخی وحشت ودہشت کے پہاڑ گرائے جارہے ہیں لیکن دنیاں خاموش ہے..

    اے ایوبی کے جانشینوں !

    اے محمد بن قاسم کے کلمہ گو بھائیو!

    اے عمر رضی اللہ عنہ کے چاہنے والو!

    ارے او محمد کے امتیوں !!!

    کیا اپ مسجد اقصی کے میناروں کے عظمت کو بھول گئے ہو جنکی بلندیاں خالق کائنات اپنے محبوب سے محوگفتگو کیلئے استعمال کرتا ہے..

    کیا اپ بیت المقدس کے تقدس کو فراموش کرچکے ہو جو اسرائیلی فوجی کتوں کے بوٹو تلے روندہ جارہاہے ..

    کیا اپ اس ظالم جابر حجاج بن یوسف سے بھی گئے گزرے ہو جس نے ایک نوجوان نہتی لڑکی کے فریاد پر بغداد سے اپنے سترہ سالہ نوجوان بھتیجے محمد بن قاسم کو کراچی کے ساحلوں تک انصاف فراھم کرنے اور کفار کو سبق سکھانے کیلئے بھیجا تھا 

    ارے میرے بدبخت مسلمان بھائیوں !!!

    جب روز محشر سورج کی گرمی ستر ہزار مرتبہ بڑھادی جائےگی,,

    جب سورج کو کھینچ کر مقام حشر کے اوپر کھڑا کردیاجائے گا اور جب ہم سب بغیر کپڑے پہنے ننگے دڑنگے اپنے اپنے اعمال کی گٹھلیاں سنبھالے حساب کتاب کیلئے ہزاروں سال میدان حشر میں کھڑے رہینگے کوئی نبی کوئی رسول اللہ تبارک وتعالی سے حساب شروع کروانے کا مطالبہ خوف کے مارے نہیں کر سکے گا بالاخر جب سارے نبی مل کر رسول اللہ سے سفارش کرے کہ اپ ہی اللہ سے درخواست کرے کہ حساب شروع کرے تو اس وقت ہم اپنے پیارے محبوب کے سامنے کس منہ سے جائے نگے جب ہم نے نہتے فلسطینی معصوم بچوں کے انتقام سے غداری کی ہو اور امن امن کے نام پر جہاد کو دوتکارہ ہو..جب ہم نے امریکی خوف کی وجہ سے جہاد کو فساد کہاہو جب ہم نے شامی بچوں کو اللہ سے فریاد اور شکوے کرتے دیکھاہولیکن ہم نے اسے صرف عربوں کا مسلہ کہاہو جب ہم نے بغداد کے گلیوں میں انسانی اغضاء کو کتوں کو کھلاتے ہوئے دیکھا ہو اور ہم نے اسے شیعہ سنی کا مسلہ کہاہو جب ہم نے برما کے مسلمانوں کو زندہ جلتے دیکھا ہو اور ہم نے ایک انسو تک نہ بہایا ہو جب ہم نے افغانستان کے اندر جنازوں اور مسجدو پر بم گرتے دیکھا ہو اور ہم نے جہاد کو صرف مولیوں کا شوق اور کام.کہا ہو تو ہم اپنے اپنے پیارے حبیب کو کیسے راضی کرینگے کہ یا رسول اللہ ہم بھی اپکے اپکے امت میں سے ہیں …کیسے ہم ان سے توقع کرینگے کہ وہ ہمیں اپنی پیاس بجھانے کیلئے حوض کوثر کا پانی پلایئگا مگر قربان.جاو اپنے پیارے حبیب کے.. دیکھ لیں میرے پیارے حبیب سردار دوجہاں کو کہ وہ تب تک سجدے میں گرے رہینگے جب تک ایک بھی امتی باقی ہو اور وہ جنت میں نہ گیا ہو…

    فلسطین کے مقتول و شہید بچوں !

    فلسطین کے بوڑھے اور ضغیف شہیدو !

    شام ولبنان اور افغانستان و برما اور پوری دنیاں کے مظلوم شہیدو !

    مظلوم حسین کے بھائیو!

    ہم اپکے خون سے شرمندہ ہیں

    ہم اپکے مجرم ہیں 

    کیونکہ

    ہم جہادیوں کے بجائےامن پسند ہیں کیونکہ ہم امریکہ جیسے ملک کے ائیڈیل نظام کے چاہنے والے جعلی مسلمان ہیں کیونکہ چار لکیریں پڑھکر عظیم جہاد کے فاتح خالد بن ولید عمر بن خطاب ابو عبیدہ بن جراح شرجیل بن حسنہ عبداللہ بن زبیر علی کرم اللہ وجہہ سے زیادہ بڑے عالم وفاضل جو بن گئے ہیں …

    ‏‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎

     Twitter Handle::  @PTI58

  • ٹریفک کے مسائل اور ان کا حل !  تحریر: احسن ننکانوی 

    ٹریفک کے مسائل اور ان کا حل !  تحریر: احسن ننکانوی 

    یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر لاکھوں لوگ روزانہ بحث کرتے ہیں یہ ہمارے معاشرے کا ایک اہم مسئلہ ہے کیونکہ لاکھوں کے حساب سے لوگ ایک ہی شہر میں گھروں سے باہر نوکریوں سکولوں کالجوں اور بزنس وغیرہ کے لئے نکلتے ہیں۔

    ان میں زیادہ تر درمیانے طبقے کے لوگ ہوتے ہیں جنہیں سواری نہ ہونے کی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ پر آنا جانا پڑتا ہے روزانہ ہی مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ جس طرح ہمارے ملک میں باقی شعبوں کو نظرانداز کیا جاتا ہے اسی طرح ٹریفک کے مسئلہ کو بھی نظر انداز ہی کیا جاتا رہا ہے حالانکہ اس کے لیے مکمل لاحہ عمل تیار کرکے اسے رائج کیا جائے۔

    حالانکہ اس کے لئے ایک مکمل لائحہ عمل تیار کرکے اسے رائج کیا جائے ٹریفک کا انتظام عملی طور پر کرنا چاہیے نہ کے کاغذات کی حد تک کہ دنیا میں کوئی مسئلہ ایسا نہیں ہے جو حل نہ کیا جا سکے ۔

    بس ضرورت ایک اچھے انسان کی ہوتی ہے۔

    ملک میں روزانہ بے شمار لوگ سٹاپ پر کھڑے بسوں اور ویگنوں کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ ان میں مرد عورتیں بچے سے بھی شامل ہوتے ہیں جنہیں صبح دفتر و کالج سکولوں کو جانا ہوتا ہے صبح اور شام دونوں دفعہ بسوں ویگنوں کے انتظار میں لائنیں لگ جاتی ہیں جب یہ دنیا بس اسٹاپ پر آتی ہیں لوگوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح سوار کروایا جاتا ہے ۔

    رش کے وقت ویگنوں اور بسوں کو کم کر دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ویگنوں والے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ایک ہی ویگن یا بس پر سوار کر کے زیادہ سے زیادہ پیسے کماتے ہیں۔

    مرد لوگ تو بھاگ کر بس یا ویگن میں اپنی جگہ بنا لیتے ہیں لیکن عورتوں اور چھوٹے بچوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے عورتوں کے لئے ویگنوں اور بسوں میں بہت کم جگہ رکھی جاتی ہے جس کی وجہ سے کھڑے ہونے کی مناسب جگہ بھی نہیں ملتی ان کے ساتھ چھوٹے چھوٹے بچے بھی ہوتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں زیادہ پریشانی سے دوچار ہونا پڑتا ہے بسوں اور ویگنوں والے اسکول کے چھوٹے بچوں کو سوار کرنے سے کتراتے ہیں۔ کیونکہ اکثر بچے خود ہی جاتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو کرایہ دینے کے باوجود بھی مناسب جگہ نہیں ملتی ان کے مسائل کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

    ہمارے ڈرائیور بھی اکثر ماہر نہیں ہوتے وہ تیزرفتاری سے کام لیتے ہیں اور اپنے پیسے بنانے کے چکر میں اکثر لوگوں کو کچل دیتے ہیں۔ ہمارے یہاں ٹریفک حادثات میں روزانہ کتنے ہی لوگ مرتے اور زخمی ہوتے ہیں۔ کیونکہ ٹریفک کے بہت کم ہیں اصول ہیں جن پر عمل کیا جاتا ہے۔ اکثر لوگ ابھی اتر رہے ہوتے ہیں کہ نیچے سے لوگ چڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔ قطار بنانے کا ہمارے یہاں کوئی رواج نہیں ۔

    ہر کوئی ایک دوسرے کو دھکا دے کر یا پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھنا چاہتا ہے اگر کام اصول اور طریقے سے کیا جائے تو بہت سے مسائل ختم نہیں تو کم ضرور کیے جا سکتے ہیں۔

    کوئی کام بہتری اچھا کرنے کے لئے سب لوگوں کا ساتھ ہونا چاہیے اگر حکومت کوئی لائحہ عمل بناتی ہے تو اس پر اچھے طریقے سے لوگوں سے عمل کروائے کیونکہ ہمارے ہاں صرف جنگل کا قانون یا جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے اصول اپنائے جاتے ہیں حکومت کو ٹریفک کے مسائل حل کرنے کے لیے سارا نظام بدلنا چاہیے ڈرائیوراور کنڈیکٹرز ماہر ہو بلکہ باقاعدہ ان کے لئے کورسز ہوں جنہیں پاس کرکے لائسنس دیا جائے یا تیز رفتاری پر سب کو ایک جیسی سزا دی جائے تاکہ قانون کا احترام کریں۔

    بزرگوں کو چاہیے کہ وہ نئے آنے والے بچوں کو بھی شروع سے ہی اچھا نمونہ دیں۔ تاکہ جب وہ بڑے ہو تو اچھے اصول اپنائیں کیونکہ جب صبح سکول جاتے ہیں اپنے ساتھ ڈرائیور اور کنڈکٹروں کا سلوک دیکھتے ہیں تو باغی ہونا شروع کر دیتے ہیں۔

    بوڑھے افراد یا عورتیں ابھی بس یا ویگن پر سوار بھی نہیں ہوتی تو بس یا ویگن چلنا شروع کر دیتی ہے۔ اس طرح روزانہ کئی حادثے دیکھنے یا سننے میں آتے ہیں۔

    اگر مؤثر طریقے بنائے اور ان پر عمل کروایا جائے تو بہت سے مسائل کم ہو جاتے ہیں ہمارے ہاں کرایا مناسب ہونا چاہیے۔ جو کہ ہر فرد آسانی سے ادا کرسکیں کیونکہ لوگوں کی فی کس آمدنی بہت کم ہے۔ اس کے لئے کوئی انتظام کرنے سے پہلے حکومت کو ہر پہلو مدنظر رکھنا چاہئے۔ نہ کہ صرف اپنا فائدہ دیکھیں ٹریفک کروڑ لوگوں کا مسئلہ ہے۔ اور یہ مسئلہ اس وجہ سے بھی مزید بڑھ گیا ہے۔ کہ گزشتہ چند سالوں سے بنکوں نے گاڑیاں آسان قسطوں پر دینا شروع کی ہیں۔ جس کے باعث سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد کئی گنا زیادہ ہوگئی ہے۔ جبکہ دوسری طرف زیادہ ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لیے کسی قسم کی مناسب منصوبہ بندی نہیں کی گئی ہم سب مل کر حکومت کو تجاویز دیں کہ اس مسئلے کا حل نکال سکتے ہیں

    @Ahsannankanvi

  • فیصلہ  پارٹ نمبر 1 تحریر سکندر علی 

    فیصلہ پارٹ نمبر 1 تحریر سکندر علی 

    Twitter @CikandarAli

    یہ بہار کے انتہائی خوب صورت موسم میں ایک اتوار کی صبح تھی ۔ ایک نوجوان تا جر جارج بینڈ مان دریا کے کنارے

    کنارے بنے چھوٹے اور خستہ حال گھروں، جو اپنی بلندی اور رنگ سے ایک دوسرے سے مختلف معلوم نہیں ہوتے ہیں، کی

    طویل قطار میں سے ایک گھر کی پہلی منزل میں اپنے ذاتی کمرے میں بیٹا ہوا تھا۔ وہ ابھی اپنے ایک دیرینہ دوست کو، جو

    اب دیار غیر میں رہتا تھا، خط لکھ کر فارغ ہوا تھا اور پھر اس نے خط کو سختی کے ساتھ سوچوں میں کھوئے ہوئے انداز میں

    الناس میں ڈالا اور اب لکھنے کی میز پر کہنیاں ٹکائے کھڑکی سے با مردم با پل اور پر لے گٹار سے پر آنکھوں کو بھی معلوم

    ہونے والی ہریالی والی پہاڑیوں کو دیکھ رہا تھا۔

    وہ اپنے دوست کے بارے میں سوچ رہاتھا جوحقیقت میں چند سال پہلے روس بھاگ گیا تھا۔ یہاں دو اپنے حالات

    سے غیرمطمئن رہتا تھا۔ اب وہ سینٹ پیٹرز برگ میں اپنا کاروبار چلارہا تھا جو شروع میں تو خوب پکا لیکن اب طویل ع سے

    سے پہلی حالت میں تھا اور جس کی شکایت وہ سلسل بے قاعدگی کا شکار ہو جانے والے اپنے یہاں کے دوروں کے دوران

    کیا کرتا تھا۔ وہ دیار غیر میں بے کارهای خود کو تک رہا تھا۔ اس کی بڑی داڑھی اس چہرے کو پوری طرح نہیں جب پانی کی ہے

    جارج چین سے جانا تھا اور اس کی جلد کی رنگت اتنی زرد ہو چکی تھی کہ اس کے جسم میں پلنے والی کی باری کا پت دی۔

    جیسا کہ اس نے خود بتایا اس کا وہاں مقیم اپنے ہم وطنوں سے کوئی باقاعدہ رابط نہیں تھا، نہ ہی مقائی روی کنبوں سے اس

    کے تعلقات بہتر تھے اور یوں اس نے مستقل کنوار پن پر قناعت کر رکھی تھی۔

    اپنے ان کو آخر کیا لکھا جاسکتا ہے جوخو بدحالی کا کار ہوں۔ جس کی حالت پرافسوس تو کیا جا سکتا تھا لیکن اس کی دو کرتا

    ممکن نہیں تھا۔ کیا اسے نصیحت کی جانی چاہیے کہ وہ واپس آجائے ، یہاں اپنی زندگی کی شروعات کرے، تمام پرانے

    دوستانہ تعلقات کی تجدید کرے، یہاں اس کے لیے رکاوٹ بھی کوئی نہیں ہوگی اور پھر موی طور پر اپنے دوستوں کی اعانت پر

    بھروسہ رکھے لیکن بیتو اس سے یہ کہنے کے مترادف ہوگا اور یہ کہ یہ بات بھی نرمی سے کہی جائے اتنی ہی تکلیف دہ ہوتی

    تھی کہ اس کی بھی کوششیں لے کر گئی تھیں ، یہ کہ اسے اب یہ سب کچھ چھوڑ و یا اپنے ملک لوٹ آنا اور لوگوں کی نظروں کا

    سامنا کرنا چاہے جواسے سب کچھ نا کر آنے والے کے طور پر دیکھیں گی اور یہ کہ اصل مجھ بوجھ تو اس کے دوستوں کی کو

    حامل ہے جب کہ وہ خود ایک بڑا بچہ ہی ہے جسے وہی کچھ کرنا چاہیے جو اس کے کامیاب اور گھر بار والے دوست اس کے

    لیے تجویز کریں۔

    پھر بھی کیا یقینی تھا کہ جس مقصد کے لیے اسے یہ اذیت پہنچائی جائے گی، وہ پورا ہو سکے گا۔ شاید ممکن نہیں تھا کہ

    اسے واپس وطن لایا جائے۔ اس نے خود سے کہا کہ اپنے ملک کے تجارتی معاملات سے اب اس کا کوئی لینا دینا نہیں تھا۔

    یوں وہ اس اجنبی سرزمین پر دوستوں کے صلاح مشورے سے عاجز اور ان سے علیحدہ رہ کر ایک اجنبی کی زندگی گزارے

    گا لیکن اگر ایسا ہو کہ وہ دوستوں کا مشورہ بھی قبول کرے اور پھر یہاں جم کر کوئی کام بھی نہ کر پائے کسی کی دشمنی کی وجہ سے

    نہیں بلکہ حالات ہی اسے اس نے پر لے آئیں تو دوستوں کے ساتھ بیان کے بغیر وہ نہیں چل پائے گا، بکی محسوس کرے گا

    اور یہ کہنے جوگا بھی نہیں رہے گا کہ اس کے کچھ دوست ہیں اور اس کا اپنا بھی کوئی وطن ہے ۔ تو کیا ہی بہتر نہیں ہے کہ جیسے بھی

    حالات میں وہ غیر ملک میں رہ رہا ہے، ویسے ہی رہے۔ ان سب باتوں کے پیش نظر کوئی بھی یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا تھا

    کہ یہاں آنے کے بعد وہ ایک کامیاب زندگی گزارنے لگے گا۔

    ان وجوہات کے تحت اگر کوئی اس سے خط و کتابت جاری رکھے تو وہ اسے ایسی خبریں نہیں بتائے گا جو دور دراز رہنے

    والے دوستوں کو بے تکلفان سمجھی جاتی ہیں۔ پچھلی بار وہ تین سال پہلے یہاں آیا تھا۔ اس نے بیعذر پیش کیا تھا کہ روس کے

    سیاسی حالات دگرگوں تھے جس کی وجہ سے اس جیسے معمولی تا جر کو بھی تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی ملک سے باہر جانے کی

    مہلت حاصل نہیں تھی، جب کہ حقیقت اس دوران میں لاکھوں روی سہولت کے ساتھ دوسرے ملکوں میں گھوم پھر رہے تھے۔

    ان تین برسوں میں جارج کی اپنی زندگی بہت کی تبدیلیوں کی زد میں آئی تھی۔ دو سال پہلے اس کی ماں فوت ہوگئی۔

    اس کے بعد سے وہ اپنے باپ کے ساتھ کر گھر داری کی ذمہ داریاں پوری کر رہا تھا۔ اس کے دوست کو بھی بلاشبہان

    سانحے کے اطلاع دی گئی تھی لیکن اس نے جواب میں ایسے روکھے انداز میں اظہار ہمدردی کیا تھا جس سے پینتیجہ نکالا جاسکتا

    تھا کہ اس سانحے سے پیدا ہونے والا دکھ دور دراز کسی ملک میں محسوس نہیں کیا جاسکتا۔ اسی سانحے کے بعد سے جاری زیاده

    پختہ ارادے کے ساتھ اپنے کاروباری معاملات اور دیگر امور میں پہلے سے زیادہ مصروف ہو گیا تھا۔

    ماں زند تھی تو کاروباری معاملات میں وہ شاید اس لیے بھی زیادہ ذوق و شوق سے کام نہیں کر سکا کہ اس کا باپ اپنی

    من مانی کرنے کا شائق تھا۔ شاید اپنی بیوی کی وفات کے بعد اس کے باپ کا مزاج گم جارحانہ ہو گیا تھا۔ حالاں کہ وہ

    کاروباری معاملات میں اب بھی دخیل تھا۔

    جاری ہے 

  • جے ٹی آئی کا مشن      ۔۔۔ نسل نو کی تربیت تحریر احسان اللہ خان

    19 اکتوبر 1969ء سے 19 اکتوبر 2021ء تک حریتِ فکر کے متوالوں کا یہ عظیم قافلہ سو بمنزل ہے، اس انقلابی تنظیم کی آبیاری اکابرین نے اپنے پسینے اور خون سے کی ہے۔ کراچی سے خیبر تک صالح نوجوانوں کا یہ پرعزم قافلہ قربانیوں اور جدوجہد کی لازوال داستان رکھتی ہے، آج بھی اپنے اکابرین کے دیئے ہوئے سبق کو ہم بھولے نہیں۔

    نوجوان کسی بھی معاشرے کا وہ حصہ ہوتا ہے کہ جو سماج پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت سے بھر پور ہوتا ہے دنیا میں جتنے انقلابات آئے ہیں اس میں نوجوان کا رول سب سےزیادہ ہے ۔ چونکہ نوجوانان مستقبل کے معمار ہوتے ہیں اور انہی نے تمام ذمہ داریوں سے عہدہ براں ہونا ہوتا ہیں اس لیے ان کی تعلیم وتربیت اہم ترین فریضہ ہے ۔ یہ تعلیم وتربیت تین مراحل میں ہوتی ہے،

     اول گھر، 

    دوم سماج، 

    سوم جامعات۔ 

    بچہ سب سے پہلے والدین اور گھر کے افراد سے شعوری ولا شعوری تعلیم وتربیت پاتا ہے، 

    دوسرے درجہ میں وہ گھر سے باہر گلی ومحلے میں جب قدم رکھتا ہے تو دوست واحباب اور معاشرے کے رویے اس کی شخصیت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ 

    تیسرے درجہ میں وہ جب کسی مکتب واسکول اور جامعہ میں پہنچتا ہے تو معلم اس کو اپنے قول وفعل سے تعلیم دیتا ہے۔ تب جاکر وہ میدان عمل میں وہ داخل ہوتا ہے اور ذمہ داریوں کو نبھاتا ہے۔ ہم چونکہ دور زوال سے گزر رہے ہیں اگر ہم اپنے ماحول پر نگاہ ڈالیں تو صورتحال سامنے آتی ہے کہ اول تو شرح خواندگی کم ہے جس کی وجہ سے اکثر والدین ناخواندہ ہیں یا اگر خواندہ ہیں تو معاشی مجبوریوں یا اعلی معیار زندگی کی دوڑ نے ان کو اتنا مصروف رکھا ہے کہ وہ بچوں کی تربیت پر توجہ نہیں دے پا رہے ہیں ۔ پھر اس مادہ پرستانہ ماحول سے جو سماج بنتا ہے وہ اس بچہ ونوجوان کو مسلسل یہی پیغام دے رہا ہوتا ہے کہ اصل کامیابی مادہ کا حصول ہے اور اس کے لیے جس قسم کی چالاکی دھوکہ دہی کی جاسکتی ہے وہ جائز ہے اور اس مادہ پرستانہ ماحول سے جو اخلاقی تنزلی پیدا ہوتی ہے وہ ہمارے پورے معاشرے سمیت ان نونہالان پر اثر انداز ہوتی ہے۔

    تیسرے نمبر پر جو معاصر جامعات ہیں وہاں پر گو عصری فنون کا تعارف تو پڑھایا جاتا ہے لیکن فکری ونظریاتی تربیت وہاں ناپید ہے، اسی طرح جو دینی مدارس ہیں وہاں علوم عربیہ تو پڑھائے جاتے ہیں لیکن نظریاتی تربیت وہاں بھی نہیں ہے۔ یہی وجوہات ہیں کہ مدارس کا نوجوان شدت پسندی اور جذباتیت کا شکار ہور ہا ہے اور کالج کا نوجوان اخلاقی بے راہ روی کا شکار بنتاہے اور فکری لحاظ سے مغرب کے سامنے مایع بنتا جارہا ہے۔ اسی حالات کو مد نظر رکھ کر جمعیت علمائے اسلام نے نوجوانوں کی فکری وسیاسی تربیت کے لیے جمعیت طلبائے اسلام قائم کی ہے ، تاکہ مسٹر وملا کے فرنگی گمراہ کن تقسیم کو ختم کیا جاسکے اور مدرسہ اور اسکول کے طلباء کو ایک پیج پر جمع کیا جاسکے اور انکی باہم منافرت کو، باہمی اخوت میں بدلا جاسکے، اسلامی خطوط پر ان کی فکر ی ونظریاتی تربیت ہوسکے۔

    ماضی کی تاریخ اگر ہم مطالعہ کریں تو بعض جہات میں اس تنظیم نے بہترین خدمات پیش کیے ہے اس تنظیم نے سینکڑوں نوجوانوں کی فکری وسیاسی تربیت کی ہے چنانچہ مولانا فضل الرحمن اسی شجر کا میوہ ہے اور الحمد اللہ موصوف جمعیت علماء کی بہترین اندازمیں قیادت فرما رہے ہیں۔ اب چونکہ ایک طرف جذباتیت اور دوسری طرف مغرب سے مرعوبیت کا چیلنج در پیش ہے بلکہ اس دور میں تو نوجوانوں کو سیکولر ازم اور لبرل ازم سے ہوتے ہوئے فکری الحاد کا بھی سامنا ہے اس لیے اس دور میں جمعیت طلباء کی از حد اہمیت بڑھ جاتی ہے ۔

    جمعیت طلباء کے حوالے سے ہنگامی طور پر ان کاموں کی طرف توجہ کرنی چاہیے کہ وہ ہر صوبہ ہر ضلع ہر تحصیل اور ہر یونٹ کی سطح پر معلمین کا انتخاب کرے اور ہفتہ وار درس اور مجلس مذاکرہ کا انتظام کرے، اور اپنا سابقہ لٹریچر ہر یونٹ کی سطح تک پہنچائے، مطالعہ اور دروس کا سلسلہ تیز کرے ماہانہ بنیاد پر تربیتی ورکشاپس رکھوائے ، نوجوانوں میں تقریر وتحریر کے مہارات پیدا کرے، ان کی اخلاقی تربیت کے ساتھ ساتھ ان کو سوشل میڈیا کے درست استعمال سے واقف کرائے، قصبہ قصبہ ، دیہات اور شہروں میں داعیوں کی ٹیمیں تشکیل دے اور امت کے نسل نو تک اسلام کا معتدل اور متناسب پیغام پہنچائے۔باقی عہد جدید کے تقاضوں کے مطابق نصاب میں تبدیلی اور اضافات کی ضرورت ہے جس پر مرکزی جماعت اور ذیلی جماعت کے ذمہ داران کو باہم بیٹھنا چاہیے تاکہ فوری طور پر اس پر عمل در آمد ممکن ہوسکے۔ چونکہ جمعیت علماء اسلام کا میدان فقط انتخابی سیاست نہیں بلکہ ہمہ جہت انقلاب ہے، اس کے لیے مکاتب ، رسائل ، شعبہ دعاۃ وغیرہ کا انتظام بھی ہے اس حوالے سے بھی باہمی غور فکر کی ضرورت ہے۔

    جمعیت طلباءاسلام پاکستان   یومِ تاسیس کے موقع پر اپنے اکابرین سے تجدیدِ عہدِ وفا کرتے ہیں کہ ہم نئے جذبے، ولولے سے سامراجی قوتوں کے خلاف میدانِ کارزار میں جدوجہد کرتے رہیں گے۔ ان شاء اللہ وطن عزیز میں اسلام کا بول بالا کرینگے یا جان دے دیں گے۔ درمیان میں کوئی تیسرا راستہ قبول نہیں۔

    خونِ دل دے کر نکھاریں گے رخِ برگِ گلاب

          ہم گلشن کی تحفظ کی قسم کھائی ہے

    Twitter /  @IhsanMarwat_786

  • احساس کو ہے سب کا احساس    تحریر: ذیشان اخوند خٹک

    احساس کو ہے سب کا احساس  تحریر: ذیشان اخوند خٹک

    احساس کو ہے سب کا احساس

    احساس کا نام سنتے ہی انسان کے ذہن میں محبت، خدمت کا نظریہ سامنے آجاتا ہے. احساس بہت ضروری چیز ہے اگر یہ احساس انسانوں کی زندگی سے نکل جائے تو وہ دنیا کے آخری دن ہونگے.
    دنیا جو اب تک چل رہی ہے وہ یہی احساس کے مرہون منت ہے کہ لوگوں کو ایک دوسرے کا احساس ہے.

    جب دنیا کے حکمرانوں بے حس ہوچکے تھے اور اسے اپنے رعایا کا احساس نہیں تھا تو قومیں زوال کا شکار ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے ان سے حکومت چھین لی.
    مسلمانوں نے جب حکومت سنبھالی تو اس نے فلاحی ریاست بنائی جس کا مقصد ایک دوسرے کا احساس تھا. فلاحی ریاست میں امیر المومنین کو اپنے رعایا کا اتنا احساس ہوتا تھا کہ راتوں کو بھیس بدل کر گلیوں میں گھومتے اور لوگوں کا حال احوال لیتے. اس احساس کی وجہ سے اس کی حکومت پھیلتی گئی.

    پاکستان کا بھی یہی حال ہے کہ پہلے پہل حکمرانوں کو رعایا کا احساس نہیں تھا. وہ ہیلی کاپٹر میں کھانے کے سامان اپنے ساتھ لے جاتے تھے مگر عوام بھوک سے مر رہے تھے.
    بینظیر بھٹو شہید ہوگئی تب حکمرانوں کو کچھ احساس ہوا مگر وہ بھی اپنے سیاسی کیریئر کیلئے استعمال ہوا کیونکہ اس پروگرام کا نام بینظیر پروگرام رکھ دیا اور پیپلز پارٹی نے اپنے حاص لوگوں اور حمایتی جماعت جمیعت علماء اسلام کے حاص لوگوں کے سفارش پر پروگرام سے لوگ مستفید ہوتے رہے اور اصلی غریب لوگ اس پروگرام سے رہ گئے.

    جب 2018 میں عمران خان وزیراعظم بنے تب انہوں نے اپنے انتخابی وعدے کے مطابق مدینہ جیسے فلاحی ریاست کا اعلان کیا.
    یہ صرف اعلان نہیں تھا بلکہ ان پر عمل بھی شروع کردیا. مارچ 2019 میں احساس کے نام سے ایک ایسا پروگرام شروع کیا جس نے بلاتفریق عوام کی خدمت کی. اس پروگرام کے چیئرپرسن کیلئے ثانیہ نشتر کا انتخاب کیا جس نے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ کام کیا تھا. کرونا وائرس کے آتے ہی سارے دنیا میں غریبوں پر سائے منڈلانے لگے تب احساس پروگرام کے چیئرپرسن ثانیہ نشتر نے ایک ایسا پلان بنایا کہ احساس پروگرام سے بلاتفریق غریب عوام مستفید ہوئے اور اس زبردست پلان کے دنیا نے بھی تعریف کرڈالی.

    احساس نے پرانے مستحقین کی چھان بین کی اور ان سے اٹھارہ گریڈ جیسے افسران کو نکال دیا جو سفارش کے تحت مستحق لوگوں کے فہرست میں شامل ہوئے تھے.
    حال ہی میں احساس نے ایک نیا سروے شروع کیا جس سے نئے مستحق لوگوں کو فہرست میں شامل کردیا. اس سروے پر نا تو کوئی ایم این اے اثرانداز ہوا اور نا کوئی ایم پی اے بلکہ ایک شفاف ڈیجیٹل سروے ہوا.

    احساس نے صرف عوام کا اتنا احساس نہیں کیا بلکہ مزدوروں کیلئے لنگرخانے، کاروبار کیلئے بلاسود قرضہ، مسافروں کیلئے پناہ گاہ، چھوٹے بچوں کے تعلیم کیلئے وظیفے، غریب عورتوں کیلئے وظیفے، غریب یونیورسٹی کے طلباء و طالبات کیلئے احساس شکالرشپ اور کمزور بچوں کیلئے بہتر نشوونما کیلئے مراکز بھی قائم کئے اور ان کے اور بھی سہولتی پروگرام شروع کئے ہیں جن کی تفصیل ان کی ویب سائٹ پر موجود ہے.

    عمران خان کی حکومت میں واقعی مہنگائی تھوڑا زیادہ ہوگئی مگر یہ پہلے حکمران ہے کہ انہوں نے فلاحی ریاست کا نعرہ لگایا اور رعایا کا احساس کرکے احساس پروگرام شروع کیا.
    احساس پروگرام نے احساس ایمرجنسی سکیم کے تحت جس طرح کرونا کے وقت جس طرح غریبوں کی مدد کی وہ لحاظ سے قابل ستائش تھی.
    سسٹم پرانا ہونے کے تحت اس میں کچھ مسئلے تھے مگر احساس کے انتطامیہ نے غریبوں کو مستفید کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش کی.

     ٹویٹر ہینڈل

    @ZeeAkhwand10 

  • ضروری نیند پر سمجھوتہ ہر گز نہیں تحریر:محمد عدنان رضا

    ضروری نیند پر سمجھوتہ ہر گز نہیں تحریر:محمد عدنان رضا

    مناسب دورانیے تک سونا آپ کے دل،وزن اور ذہن سمیت ہر چیز کی صحت کے لیے بہترین ثابت ہو تا ہے، مصروف ترین زندگی نے نیند کا اوسط دورانیہ 6 گھنٹوں تک پہنچا دیا ہے جبکہ طبی ماہرین 7 سے 8 گھنٹے تک سونے کا مشورہ دیتے ہیں
    انسان کے جسم کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ جہاں یہ سرگرم رہنے سے ٹھیک رہتا ہے وہاں اس آرام کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور خاص کر نیند کی صورت میں اس کی توانائی بحال ہوتی ہے_  مناسب دورانیے تک سونا آپ کے دل،وزن، اور ذہن سمیت ہر چیز کی صحت کیلئے بہترین ثابت ہو تا ہے_ مگر آج کے دور کی مصروفیات نے نیند کا اوسط دورانیہ 6 گھنٹوں تک پہنچا دیا ہے جبکہ طبی ماہرین 7 سے 8 گھنٹے تک سونے کا مشورہ دیتے ہیں_ لگ بھگ ہر ایک کو اچھی نیند کی اہمیت کے بارے میں علم ہے مگر یہاں ایسے کچھ نقصانات بتائیے جارہے ہیں جو کم نیند لینے والے افراد پر اثر انداز ہو تے ہیں_ ان میں سے اہم چڑچڑا پن ہے_ بے خواب راتوں کے نتیجے میں چڑچڑے پن اور جذباتی پن کی شکایت عام ہوجاتی ہے_ یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی جس میں بتایا گیا کہ منفی جذبات نیند متاثر ہونے کا نتیجہ ہوتے ہیں اور آس سے دفتری کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے_ سر درد بھی ان نتائج میں سے ہے_ جن کا بے خوابی کی صورت میں سامنا ہوسکتا ہے_ سائنسدان اس حوالے سے پر یقین نہیں کہ نیند کی کمی سر درد کا باعث کیوں بنتی ہے مگر ایسا ہوتا ضروری ہے_ بے خواب راتوں کے نتیجے میں آدھے سر کا درد ہونے لگتا ہے جبکہ خراٹے لینے والے 36 سے 58 فیصد افراد صبح سر درد کا شکار ہو تے ہیں_ اسطرح کم نیند کے نتیجے میں لوگوں کا جسمانی ہارمون توازن بگڑ جاتا ہے جس کے نتیجے میں کھانے کی اشتہا خاص طور پر بہت زیادہ کیلوریز والی غذاؤں کی خواہش پیدا ہوتی ہے_ اپنی خواہشات پر کنٹرول کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے اور یہ دونوں بہت خطرناک امتزاج ہیں کیونکہ اس کا نتیجہ موٹاپے کی شکل میں نکلتا ہے جبکہ تھکاوٹ کا احساس الگ ہر وقت طاری رہتا ہے_ نیند کی کمی بینائی کی کمزوری، دھند لاپن اور ایک کی جگہ دونظر آنے کی شکل میں بھی سامنے آسکتا ہے_ جتنا زیادہ وقت آپ جاگ کر گزارتے ہیں اتنی ہی بینائی میں خرابی کا امکان بڑھتا ہے جبکہ واہموں کے تجربے کا امکان بڑھ جاتا ہے_ ایک تحقیق کے دوران لوگوں کو 88 گھنٹے تک سونے نہیں دیا گیا جس کے نتیجے میں بلڈ پریشر اوپر گیا جو کہ کوئی زیادہ حیران کن آمر نہیں تھا مگر جب ان افراد کو ہررات صرف 4 گھنٹے تک سونے کی اجازت دی گئی تو دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھ گئی جبکہ ایسے پروٹین کا ذخیرہ جسم میں ہونے لگا جو امراض قلب کا خطرہ بڑھتا ہے_ نیند پوری نہ کرنے والے افراد کو سست ردعمل کا بھی سامنا ہوتا ہے یعنی جب نیند پوری نہ ہو تو کسی بھی واقعے پر ردعمل کا اظہار سست ہو جاتا ہے_ ایک تحقیق کے دوران لوگوں کو فوری فیصلے کرنے کے ٹاسک دئے گئے، جن میں سے کچھ کو کو ٹیسٹ کے دوران سونے کا موقع ملا انہوں نے ٹیسٹ میں بہتر کارکردگی دکھائی جبکہ دیگر افراد کی کارکردگی بدتر اور ردعمل بہت سست رہا_ اس کے ساتھ ساتھ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ جسمانی دفاعی نظام کو طاقتور کیسے بنایا جاسکتا ہے خاص طور پر کسی کھلے زخم ہر پر جلد انفکشن نہیں ہوتا؟ وہ نیند ہے_ آگر آپ نیند کی کمی کے شکار ہو یہاں تک کہ ایک رات کی کمی بھی جراثیموں کے خلاف جسم کے قدرتی دفاع پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے_ توجہ کی صلاحیت متاثر ہونا بھی نیند کی کمی کا نتیجہ ہوسکتا ہے_ کیا پڑھتے یا سنتے ہوئے توجہ مرکوز کرنے میں مشکل کا سامنا ہے کسی ایسے کام کو کرنے میں جدوجھد کرنا پڑ رہی ہے جس میں زیادہ توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے توجہ مرکوز کرکے ہونے والے ٹاسک نیند کی کمی سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں_ ایک تحقیق کے مطابق اگر آپ زہنی طور پر چوکنا اور ہوشیار رہنا چاہیے ہیں تو نیند پوری کرنی چاہیے ورنہ ذہن غنودگی کی کیفیت کا شکار ہو جاتا ہے اور کچھ بھی کرنا کافی مشکل ہوجا تا ہے_ نزلہ زوکام کے دائمی کا شکار ہو نے کا خطرہ بھی نیند پوری نہ ہونے کی صورت میں بڑھ جاتا ہے_ آگر آپ ہر وقت نزلہ زوکام کا شکار رہنے پر پریشان رہتے ہیں اور کہیں بھی جانے پر پریشان رہتے ہیں اور کہیں بھی جانے پر فلو حملہ آور ہوجاتاہے تو اس کی ایک ممکنہ وجہ ناکافی نیند بھی ہے_ ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ 7 گھنٹے سے کم نیند لیتے ہیں ان میں بیماری ہونے کا خطرہ تین گنا زیادہ ہوتا ہے_ پیٹ کے مختلف امراض یعنی معدے میں سوجن وغیرہ نیند کی کمی کے نتیجے میں بدتر ہو جاتے ہیںسات سے آٹھ گھنٹے کی نیند پیٹ کے امراض سے کافی حد تک تحفظ دیتی ہے مگر اس میں کمی خطرہ بڑھا دیتی ہے کیونکہ نیند کے دوران ہمارا جسم میٹا بولزم میں آنے والی خرابیوں کو دور کرتا ہے اسلئے زیادہ وقت جاگ کر گزارنے کے نتیجے میں انسولین کی حساسیت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جس کا نتیجہ ذبابیطس ٹائپ ٹو کی شکل میں نکلتا ہےایک تحقیق کے مطابق نیند کے دورانیے میں اضافہ ممکنہ طور پر ذیابیطس کا خطرہ کم کرتا ہے جبکہ ایک اور تحقیق میں کم سونے کو معمول بنانے اور ذیابیطس کے خطرے کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی گئیطبی ماہرین نے نیند اور کینسر کے درمیان تعلق کے حوالے سے تحقیقات کی ہے اور یہ بات سامنے آئی ہے کہ جسمانی گھڑی کے نظام میں مداخلت سے جسمانی دفاعی نظام کمزور ہو تا ہے اور ان میں مخصوص اقسام کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اس طرح درمیانی عمر میں نیند کی کمی سے دماغی ساخت میں تبدیلیاں آتی ہیں جو کہ طویل المیعاد یا دداشت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں جبکہ نوجوانوں میں بھی نیند کی کمی سے یادداشت خراب ہونے کے مسائل دیکھے جاسکتے ہیں ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ زیادہ سونے ان کی یاد داشت بھی اچھی ہوتی ہے

    My Offical Twitter Account 

    @Adnanrazapak

  • ڈاکٹر عبدالقدیر خان صا حب ہم سے بھول ہوئی  تحریر:اختر علی

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان صا حب ہم سے بھول ہوئی تحریر:اختر علی

    جذبات سے موجزن اور احساس سے لبریز حقائق پر مبنی  کہانیاں تو سبھی نے ہی پڑھی اور سنی ہوں گی لیکن کبھی کبھار ان کو پڑھتے ہوئے موجوں کی روانی کی طرح جذبات یوں  امڈتے ہیں کہ ان کے رستے میں آنے والے بند بھی ریت کی دیوار ثابت ھوتے ہیں۔ رفتہ رفتہ چھلکتے ہوئے آنسو دل کو چیر کر جگر کو پارہ  پارہ کرتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔ قارئین محترم! ایسی ہی کچھ  تذبذب کی حالت سے  چند دن پہلے مجھے گزرنا پڑا  جب محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کا ایک انٹرویو  سنا۔ آپ کے اس فقرہ نے تو رلا دیا ”مجھے اس قوم کے لیے کام کر کے پچھتاوا ہوا۔’ ‘  ایسی ہی بہت سی دلخراش  باتیں ڈاکٹر صاحب  کی ز بان سے سنی  تو دل خون کے آنسو رونے لگا۔

       ڈاکٹر صاحب عالم اسلام  کے وہ  نڈر،  بیباک اور محب وطن  فرد ہیں جن کی شبانہ رو ز  محنت کے نتیجہ میں پاکستان عالم اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت بنا۔جنھوں نے دن دیکھا نہ  رات دیکھی,  مال دیکھا نہ صحت دیکھی، صرف اس مشن کی خاطر کام کرتے رہے کہ انڈ یا کے مقابلہ میں پاکستان کا دفاع  نا قابل تسخیر ہو جائے۔ شائد اگر ان کی مخلصانہ  کاوش نہ ہوتی تو آج ہماری حالت عراق، افغانستان، کشمیر، برما،فلسطین اور دیگر اسلامی ممالک جیسی ہوتی۔ یہ بات ضرور ہے ک امریکہ کو  اس کا قرض چکانہ ہو گا، مسلم امہ ایک دن ضرور بیدار ہو گی،کوئی صلاح الدین ایوبی بھی آئے گا۔(انشااللہ)  لیکن بات ڈاکٹر صاحب کی چل رہی ہے کہ انھوں نے گھمبیر صورتحال میں پاکستان کا مستقبل محفوظ کیا، آج ہم عالیشان محلات میں رہ رہے ہیں، اعلی پائے کی گاڑیوں میں امریکی اور روسی ڈرون طیاروں کے خوف کے بغیر سفر کرتے ہیں تو ان تمام کا سہرا ڈاکٹر صاحب کے سر سجتا  ہے۔

    لیکن! لیکن جب میں آج ڈاکٹر صاحب کی حالت زار دیکھتا  ہوں تو کلیجہ پھٹ جاتا ہے، اعضاء شل ہو جاتے ہیں۔ وہ عظیم لیڈر جس پر  گل  نچھاور کرتے کرتے پھولوں کا فقدان ہو جانا چاہیے  تھا  لیکن بدقسمتی سے اس کے لئے فٹ پاتھ اور قیدو بند کی صعوبتیں  ہی بچی ہیں۔ کیا محض ” محسن پاکستان” کا لقب دے دینا ہی کافی تھا،  چلیں غیروں کی بات تو ہم نہیں کرتے انھوں نے نہ ہی آپ کو نوبل پرائز دینا تھا نہ دیا، جو اپنے ہیں انھوں نے کیا دیا؟؟؟ کیا ہم نے شہدائے پاکستان کے خون سے  یہ وفا کی ہے کہ جتنا کوئی  بڑا چور، ڈاکو،  لٹیرا اور رہزن ہواسے اتنی ہی زیادہ عزت دی جائے اور مخلص محبان وطن کو پابند

     سلاسل کر دیا۔ ارے! جس شخص نے اکیس کروڑ افراد کی حفاظت کی تو ہم سب اس ایک فرد کی حفاظت نہ کر سکے اور انہیں نظر بند کر دیا،چلیں یہ بھی بات مان لی کہ حکومتی  صفوں میں چھپے بھیڑیوں  نے یہ سب کروایا لیکن بحثیت قوم ہم نے آپ کے لیے کیا کیا؟ ان کی سیاسی جماعت کی بھی سپورٹ نہ کر سکے۔جس شخص کے لیے اگر جان کا  نذرانہ بھی پیش کرنا پڑتا تو گھاٹے کا سودا نہ تھا، اس کے لیے ہم ووٹ کی پرچی بھی نہ دے سکے۔ شائد میرا لہجہ تلخ ہو رہا ہے لیکن ہم نے جو کھرے اور کھوٹے کا معیار سٹ کیا ہے وہ ٹھیک نہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہم پستیوں کی طرف دھکیلے چلے جا رہے ہیں اور دنیا پر ہمارا دبدبہ ختم ہو رہا ہے۔ ایٹمی طاقت ہونے کہ باوجود بھی ہم دبک رہے ہیں۔ آج ایٹمی طاقت کا حصول بھی کسی اور جماعت کے  لیڈر سے منسوب کیا جا رہا ہے حالانکہ  ڈاکٹر صاحب کی ٹیم نے 1984 میں ہی پروگرام کو حتمی شکل دے دی تھی۔ اس سے کہیں بعد1998  میں باقاعدہ ایٹمی دھماکے کئے اور پوری د نیا کے  مسلمانوں نے مٹھائیاں تقسیم کیں۔آج اسی پروگرام کے روح رواں  کے ساتھ اتنی زیادتی  آخر کیوں؟

    میں جب محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب کی باتیں سنتا یوں دل خون کے آنسو روتا ہے، آخر کیا محرکات تھے  جنھوں نے ڈاکٹر صاحب کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا؟  ان محرکات کو  ‘on air’  کرنا مڈیا کی  ذمہ داری ہے۔  میاں محمد بخش نے اسی تناظر کو الفاظ کا روپ دیا تھا

                                                                اصلاں نال جے نیکی کرئیے  نسلاں بعد  نہیں  بھلدے

      بے اصلاں نال  جے نیکی کرئیے پٹھیاں چالاں چلدے

    اللہ رب العزت ڈاکٹر صاحب کو  عمر خضر عطا فرمائے، لیکن ایک دن خالق حقیقی سے بھی  تو ملنا ہے، میں دعوے سے کہتا ہوں آپ کا جناز ہ  ‘تاریخی جنازہ’  ہو گا، آپ پر ستم کر نے والے  بھی  پہلی صف میں نظر آئیں گے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ جو افراد  ہماری زندگیوں کے ضامن ہیں کیا  ہم نے  ان سے  وفا بھی ان کے جنازہ  پہ جا کر ہی کرنی ہے؟  کیا ہمارا جنازہ پڑھنا ان کے ساتھ کی جانے وا لی  زیادتیوں کا ازالہ کر دے گا؟  اگر جواب نفی میں ہے تو ہمیں آج عملی محاذ پر آپ کے حق میں آواز بلند کرنا ہو گی۔ تمام سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کریں کہ اگر وہ نگران وزیر اعظم کے لیے ڈاکٹر صاحب کا نام پیش کرتے ہیں تو ہم ان کی سپورٹ کریں گے  ورنہ ہمارے صبر کا پیما نہ  لبریز ہو چکا  اب ہمارے رستے  جدا ہیں۔ اگر ہم نے ڈاکٹر صاحب سے وفا کی ہوتی تو آج ہمیں بجلی کے بحران سے پالا نہ پڑتا۔ اگر آپ کو مناسب منصب پر فائز کیا جاتا تو آج لوگ اپنی اولادوں کو گلوکار بنا نے کی بجائے  ٹیکنا لوجی کے رستے میں ڈال کر سائنسدان بناتے۔ ہمیں  ٹیکنا لوجی کا انحصار دوسرے ممالک سے نہ کرنا پڑتا۔ ڈاکٹر صاحب  ہم نے آپ کو حقیقی معنوں میں لیڈر نہ مان کر سنگھین غلطی کی۔  ڈاکٹر صا حب ہم سے بھول ہوئی!  ڈاکٹر صا حب ہم سے بھول ہوئی!