انسان کی تعلیم و تربیت کا عمل اس کے پیدا ہوتے ہی شروع ہو جاتا ہے انسان تعلیم اور تربیت کے لیے سکول و مدرسہ کی طرف رجوع کرتا ہے بچے کو دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی دی جاتی ہے کہ اپنے بڑوں سے چھوٹو سے اور بزرگوں سے کیسے بات کرنی ہے یہ تربیت سب بچوں کو یکساں دی جاتی ہے کچھ بچے اس پر عمل کرتے ہیں اور کچھ نہیں جو بچے اس پر عمل نہیں کرتے ان کا عمل نہ کرنے کا بہت بڑا کردار اس بچے کے گھر کے مسائل اس کے والدین کا اس سے بات کرنے کے طریقے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ آج انسان اگر 16 پڑھ لے اور اس میں اخلاق نہ ہو تو کسی کام کا نہیں ہے بے شک وہ جتنے بڑے سے بڑے عہدے پر فائز ہے۔ بڑی قسمتی سے ہمارے معاشرے میں بچوں کو تم کرکے بات کی جاتی ہے ان سے توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ آپ کو "آپ” کہہ کر پکارے۔ جو ہم اپنے بچوں کو بچپن میں سکھاتے ہیں اور ان کے ساتھ رویہ اختیار کرتے ہیں بچہ ہمیشہ وہی سیکھتا ہے اور بڑے ہو کر اسی تربیت پر چلتا ہے۔
ہمارے معاشرے کی ایک اور بہت بڑی بدقسمتی ہے بڑے اگر غلط بھی ہو اور چھوٹا ان کی اصلاح کرنے کی کوشش کرے تو اس کو بدتمیز کہا جاتا ہے۔ اور اگر بڑے بات کر رہے ہوں اور چھوٹا چپ کر کے بیٹھا رہے تو اس کو کہا جاتا ہے کہ تمہارے منہ میں زباں نہیں ہے جیسے، آج کے دور میں لوگ تربیت پتہ نہیں کس کو کہتے ہیں۔ اگر وہی کام وہ خود کرے تو وہ ٹھیک ہے اگر وہ چھوٹا کرے تو وہ غلط ہے،
بچے اپنے والدین کا عکس ہوتے ہیں اور اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے آپ سے عزت سے پیش ہیں آپ کا احترام کریں۔ تو آپ پر بھی لازم ہے کہ اپنے بچوں کا احترام کرے ان کی عزت کرے اور ان کے ساتھ ایسے پیش آئیں جیسے آپ اپنے ہم عمر کے لوگوں کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ آج کے دور میں لوگ توقع کرتے ہیں کہ ہم چھوٹوں کو جو مرضی کہیں لیکن وہ ہماری عزت کریں۔ وہ آپ کے منہ پر آپ کی عزت تو ضرور کریں گے لیکن دل میں کبھی نہیں کریں گے۔ ایسی عزت کا کیا فائدہ جو دل سے ہی نہ کی گئی ہو والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ ایسے پیش آئے جیسے میں اپنے بڑوں کے ساتھ آتے ہیں۔ آپ کا بچہ آپ کا بینک ہے جس میں آپ اپنا اخلاق اپنی تربیت جمع کرواتے ہیں جو آج آپ جمع کروائیں گے کل کو وہی آپ کے سامنے آئے گا۔ بہت سے بچے اسی وجہ سے کامیاب نہیں ہو پاتے کیونکہ ان کی تربیت ہی نہیں ہوئی ہوتی بچے سمجھتے ہیں کہ جیسے ہم گھر میں بات کرتے ہیں ویسے ہی باہر کی دنیا بھی چلتی ہے میری والدین سے اپیل ہے اپنے بچوں کی اچھی تربیت کریں ان کو اچھا ماحول مہیا کرے تاکہ بچے قابل انسان بن سکے اور چار آدمی میں بیٹھ کر اپنے خاندان کا نام روشن کر سکے۔ آج غلطی ہماری اپنی ہوتی ہے اور ہم بچوں کو کہتے ہیں کہ آپ نے ہمارا نام خراب کر دیا حالانکہ کہیں نہ کہیں ہماری تربیت میں کھوتی ہوتی ہے۔ اور میں اپنی ہونہار نسل کو بھی کہوں گا تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت حاصل کریں اگر ہر بار غلطی آپ کی نہیں ہوتی تو ہر بار غلطی آپ کے والدین کی بھی نہیں ہوتی آپ کے والدین آپ کو پڑھاتے ہیں بڑا کرتے ہیں اور قابل انسان بناتے ہیں اور اگر آپ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت حاصل نہیں کرتے تو جاھل میں اور آپ نے کوئی فرق نہیں ہے
Author: Baaghi TV
-

تربیت اور تعلیم میں فرق تحریر : اسامہ خان
-
جاہلیت کے نعرے تحریر::واحید خان
آج کل جاہلیت کا ایک نعرہ تو یہ ہے کہ ایک کہتا ہے کہ میں پٹھان ہوں، پشتون ہوں دوسرا کہتا ہے کہ میں پنجابی ہوں تیسرا کہتا ہے کہ میں سرائیکی ہوں چوتھا کہتا ہے کہ میں سندھی ہوں پانچواں کہتا ہے کہ میں بلوچی ہوں اپنے آپ کو پٹھان ، سندھی ، بلوچی وغیرہ کہنا کوئی بری بات نہیں لیکن اس کا یہ مطلب لینا کہ ہم سب گویا دوسروں سے جدا مخلوق ہیں ہماری شخصیت ہماری قوم علیحدہ ہونی چاہیے یہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے اور یہ یہود ہندو اور امریکہ کا پروپیگنڈا بے
ہر ملک کے اندر قومیں ہوتی ہے امریکہ کتنی اقوام پر مشتمل ہے؟؟ کیا وہ ساری ایک ہی نسب والی ہیں امریکہ میں سارے وہ لوگ جمع ہوگئے ہیں۔جو ڈاکو ہوتے تھے یا قتل کرتے تھے۔وہاں گورے بھی ہیں کالے بھی ہے ہندوستان میں کتنی اقوام رہتی ہیں؟؟ لیکن دشمن بڑا چالاک ہے۔ یہود بڑے چالاک ہیں۔
خلافت عثمانیہ کو بھی قومیت کے نعرے پر توڑا گیا۔اور مسلمانوں پر کبھی اسلام کا لیبل لگا کر ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے منصوبے بنائے ہیں۔
آج کل اغیار حاص طور پر پاکستان کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ تاکہ پنجابی علیحدہ ہو جائے پشتون علیحدہ ہو جائے بلوچ علیحدہ ہو جائے اور سندھی علیحدہ ہو جائے اور پاکستان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے۔ تاکہ پورے کے پورے پاکستان کے مسلمانوں کو ترنوالہ بنا کر ختم کیا جائے اس لیے انہوں نے دیکھ لیا کہ پاکستان کا مقابلہ کرنا مشکل اور ناممکن ہے۔ الحمدللہ پاکستان ایک مضبوط اور قوی ملک ہے انشاء اللہ اغیار اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا .آیت شریف کا مفہوم یہ ہے مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں (سورۃ الحجرات آیت نمبر 10 پارہ 26) اور حدیث شریف میں بھی آتا ہے کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے قرآن اور حدیث کی روشنی میں ہمیں معلوم ہوا ہے کہ دنیا کے جس کونے میں بھی مسلمان رہتا ہے وہ ہمارے کلمے کا بھائی ہے
حجتہ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر اور کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فوقیت حاصل نہیں۔ فوقیت صرف اور صرف تقوی کے بنیاد پر حاصل ہے
لہذا آج کل جو قومیت کے نعرے لگایا جاتے ہے اصل میں یہ جاہلیت کے نعرے اور اغیار کا سازش ہیں ہمیں ان نعروں سے اجتناب کرنا چاہیے۔
Twitter Handle:: @waheed859 -

اسلامی قوانین ضروری ہیں تحریر: یاسر خان بلوچ
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حالات جیسے ہیں ان سے آج کل بچہ بچہ واقف ہے بلکہ خوفزدہ ہے۔۔یہ ملک جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا جس کی بنیاد ہی لا الہ الا اللہ ہے آجکل اس میں ہر چیز نظر آتی ہے سوائے اسلامی اصول اور قوانین کے۔آج کل ملک میں جو انتشار اور قتل و غارت گری پھیلی ہوئی ہے اس کا بنیادی سبب یہی ہے۔۔بہت سے آزاد خیال لوگوں کو اس بات سے انکار ہو گا۔۔بہت سوں کو یہ بات قدامت پسندی نظر آئے گی مگر سچ یہی ہے کہ جب تک ہم اسلام اور اس کی تعلیمات سے روگردانی کرتے رہیں گے معاشرہ گراوٹ کا شکار رہے گا۔معاشرے کے اندر پھیلا یہ بگاڑ اور بدنظمی کبھی بھی سمیٹی نہیں جا سکتی جب تک اسلامی قوانین کو لاگو نہ کر دیا جائے۔بچے جنہیں اس باغِ جہاں کا پھول کہا جاتا ہے انہیں اسی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بری طرح روندا اور مسلا جا رہا ہے۔۔خواتین اب گھروں میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔۔کہیں شوہر کے ہاتھوں بیوی کا قتل ہو رہا ہے،کہیں بیوی کے ہاتھوں شوہر کا،کہیں اولاد ماں باپ کو قتل کر رہی ہے اور کہیں ماں باپ اولاد کی جان کے دشمن ہوئے کھڑے ہیں۔یہ اس ملک کے حالات تو نہیں ہونے چاہئیے تھے جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا اور جس کی تعمیر کیلیے کئی خاندانوں نے اپنے خون سے آبیاری کی۔ایسے لگتا ہے جیسے قیامت وقوع پذیر ہونے کو ہے۔۔ہر طرف افراتفری کا عالم ہے۔۔ایسے لگتا ہے جیسے ہر انسان دوسرے انسان کے خون کا پیاسا ہے۔۔ایسے لگتا ہے جیسے ہر احساس ختم ہو کر رہ گیا ہے۔۔اب لوگ کسی مظلوم کی داد رسی نہیں کرتے بلکہ اس کی ذات کی کھوج میں لگ جاتے ہیں کہ وہ کیسا انسان ہے اور پھر رائے دی جاتی ہے کہ اگر اس کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے تو یہ اسی لائق تھا۔اب کسی کے مدد مانگنے پر اس کی مدد نہیں کی جاتی بلکہ ہاتھ میں نصیحتیں تھما دی جاتی ہیں۔ایک انسان دوسرے انسان کے اوپر چڑھائی کرنے کو اور اس کا حق مارنے کو ترقی کی ایک کوشش سمجھتا ہے۔یہ سب اس لیے ہے کہ ہم نے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی تعلیمات کو چھوڑ کر مغرب کو اپنا رول ماڈل بنا لیا ہے۔۔ہم نے اسلامی تعلیمات اور قوانین کو سخت اور انسان دشمن سمجھ کیا ہے حالانکہ انسانیت کی بقا ان ہی میں ہے۔۔ہمیں اسلامی قوانین کے لاگو ہونے سے کیوں ڈر لگتا ہے کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی طرح ہمارے دامن بھی سیاہیوں میں ڈوبے ہوئے ہیں اس لیے ہم بھی کہیں ان کی لپیٹ میں نہ آ جائیں۔اس لیے ہر شخص دوسرے پر ظلم ہوتا دیکھ کر خاموش ہے کیونکہ اپنا دامن تو بچا ہوا ہے۔اسی لیے تو عمران اور ظاہر جعفر جیسے ہزاروں درندے کھلے عام دندناتے پھرتے ہیں۔۔اگر کسی ایک کو بھی چوک میں لٹکا دیا جاتا تو حالات شاید کچھ بہتر ہوتے۔زینب کے بعد کوئی ماہم نہ ہوتی۔
-

تین ضرب چار انچ کی “بوٹی” یا پاکٹ گائیڈز تحریر : آصف شہزاد
تین ضرب چار انچ کی چھوٹی سی کتاب نقل کیلئے خفیہ طور پر استعمال ہونے والے پاکٹ گائیڈز یا بوٹی کے نام سے مقبول ہے ان گائیڈز پر دفعہ ۱۴۴ کے تحت پابندی کے باوجود امتحانات کے دوران یہ پاکستان کے بیشتر شہروں میں بغیر کسی رکاوٹ کے فروخت کئے جاتے ہیں۔جن کے استعمال سے بجا طور پر ہونہار طلباء کی حق تلفی ہوتی ہے تاہم اس کے باوجود بیشتر طالب علم پاکٹ گائیڈز یا بوٹی کو امتحانات میں کامیابی کیلئے کارآمد ذریعہ سمجھتے ہیں اور اب بات یہاں تک بڑھ چکی ہے کہ جن طلباء کو پڑھنے میں دلچسپی تھی اور نقل کے ذرائع کو معیوب سمجھتے تھے اب وہ بھی ان مواد کے استعمال سے نہیں شرماتے کیونکہ امتحانی حال میں نقل کا استعمال عام ہے اور ان طلباء کے پاس دوسرا راستہ نہیں بچتا تو اپنی حق تلفی کے رد عمل کے طور پر ان میں پڑھنے اور محنت کرنے کی دلچسپی کم ہوتی جارہی ہے اور ہونہار طلباء بھی اب نقل سے کام چلانے میں نہیں شرماتے۔

یہ بوٹی یا پاکٹ گائیڈز اتنے مقبول ہیں کہ کسی بھی شہر کے تقریباً ہر کتب فروش کے پاس دستیاب ہوتے ہیں۔امتحانات کے دوران پاکٹ گائیڈز کی طلب میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے جس کیلئے بوٹی مافیا سے جڑے پبلشرز اور پرنٹرز دن رات کام کرتے ہیں اور کتب فروشوں کو بوریاں بھر بھر کے سپلائی کرتے ہیں ان کتب فروشوں میں ایک تاجر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جب ان گائیڈز پر پابندی کی خبریں آتی ہیں تو دکاندار ان بوٹیوں کو خفیہ طریقے سے فروخت کرتے ہیں تاہم اگر حکومتی اہلکاروں کی جانب سے کوئی مسلہ پیش آتا بھی ہے تو کچھ پیسے دیکر معامعلہ رفع دفع کرنا مشکل نہیں ہے

چند دن قبل سوات میں بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکینڈری ایجوکیشن کی جانب سے انٹر اور میٹرک کے امتحانات کا انعقاد کیا گیا جن میں طلباء کی جانب سے پیپرز کے بعد انوکھے انداز سے نقل کی کاپیاں ہوا میں اچھال کر برسائے کئے اور سڑکوں پر پاکٹ گائیڈز اور دیگر مواد کی ہزاروں پرچیاں پھینک کر چھوڑ گئے اس عمل کے تصاویر اور ویڈیوز سواشل میڈیا پر وائرل ہوئے تو مختلف مکتبہ فکر کے افراد نے اس عمل سے متعلق اپنی رائے کا اظہار کیا۔
میٹرک کے امتحان میں مصروف ایک طالب علم کا کہنا ہے کہ پیپر میں آئے ہوئے تقریباً ہر سوال کا جواب پاکٹ گائیڈ میں موجود ہوتا ہے جسے آسانی سے الگ کرکے لکھا جاسکتا ہے اگر حال میں سختی زیادہ ہو تو لکھنے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے جس سے کافی وقت ضائع ہوجاتا ہے تاہم پھر بھی بہت سے طریقے موجود ہیں جن کا استعمال کرکے ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کو چکما دیا جاسکتا ہے۔پاکٹ گائیڈ المعروف “بوٹی” کا سائز اتنا چھوٹا ہے کہ طلباء اپنے ساتھ دو دو یا تین تین کاپیاں رکھتے ہیں،لہٰذا اگر حال میں سختی ہو تو طلباء کو کوئی خاص پریشانی نہیں ہوتی کیونکہ ایک پرزہ چھوٹ جانے سے لکھنے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی کیونکہ طالب علم متعلقہ موضع کا دوسرا پُرزہ نکال لیتے ہیں اور یہ ایک عام عمل ہے جسے ہر کوئی کرتا ہے بس میں نے بتادیا اور زیادہ لوگ بتانے سے شرماتے ہیں لیکن میں ایک مرتبہ پھر دہراتا ہوں کہ یہ ایک عام عمل ہے جسے تقریباً ہر طالب علم کرتا ہے
ایک کتاب فروش کا کہنا تھا کہ پاکٹ گائیڈ کی فروخت چونکہ منافع بخش کاروبار ہے اسلئے دکانداروں کو امتحانات کا بے صبری سے انتظار رہتا ہے اس کا کہنا تھا کہ عام دکانداروں کے علاوہ چند ایسے دکاندار بھی ہیں جن کے پاس فوٹو کاپی کی مشینیں لگی ہوتیں ہیں اور وہ پاکٹ گائیڈ سے بھی بہتر مواد فروخت کرتے ہیں جوکہ مشین کے ذریعے اچھے کاغذ اور صاف لکھائی کیساتھ چھاپے جاتے ہیں یہاں تک کہ جاری پرچہ کے دوران بھی طالب علم رفع حاجت یا پانی پینے کا بہانہ بناکر ان دکانداروں کے پاس پہنچ جاتے ہیں اور مطلوبہ سوالات کے جوابات پرنٹ کرواکر امتحانی حال لے جاتے ہیں۔

ایک اسٹیشنری دکان کے مالک نے کہا کہ اگر حکومت پاکٹ گائیڈز کی فروخت بند کرنے میں واقعی سنجیدہ ہے تو کتب فروشوں اور اسٹشنری دکانوں کے بجائے شائع کرنے والے پبلشرز اور پرنٹرز پر چھاپے مارکر کاروائی کریں کیونکہ جب تک یہ پاکٹ گائیڈز دستیاب ہونگے تو طالب علموں کیلئے ان کا حصول مشکل نہیں اور یہاں تک کہ آجکل آن لائن کاروبار کا رجحان ہے اور ان چیزوں کو آن لائن بھی کسی کوڈ ورڈ کا استعمال کرکے خریدا یا فروخت کیا جاسکتا ہے غرض جب تک یہ گائیڈز چھپتے رہینگے جدید دور کے طالب علم انہیں حاصل کرتے رہینگے کیونکہ نئی نسل کے پاس ان مواد کو حاصل کرنے کیلئے سینکڑوں طریقے موجود ہیں۔ -

یوم جمعہ کی فضیلت، اہمیت اور آداب. تحریر: احسان الحق
یوم جمعہ افضل الایام اور سید الایام ہے. جمعہ کا دن تمام ایام کا سردار اور تمام ایام سے افضل دن ہے. جمعہ کی نماز ہم پر فرض ہے. اللہ تعالیٰ نے سورہ جمعہ کی آیت نمبر 62 میں فرمایا "اے لوگو جو ایمان لائے ہو جب جمعہ کی اذان ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف دوڑو اور اپنی تجارت بند کر دو”. اذان سننے کے بعد کاروبار جاری رکھنا حرام ہے. نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ جمعہ ترک کرنے سے بعض آ جائیں ورنہ بغیر عذر کے جمعہ ترک کرنے والوں کے دلوں پر اللہ تعالیٰ مہر لگا دیں گے اور پھر وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے.
یوم جمعہ کی بہت بڑی فضیلت ہے. یوم جمعہ کو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا. جمعہ کے دن حضرت آدم علیہ السلام کو جنت میں داخل فرمایا. اسی دن یعنی جمعہ کے دن ہی آپ آدم علیہ السلام کو دنیا میں بھیجا گیا. جمعہ کے دن ہی قیامت قائم ہوگی.
جمعہ کے آداب اور سنتوں کے متعلق احادیث میں تفصیل موجود ہے. جمعہ کے دن ہر مسلمان پر غسل کرنا واجب ہے. جمعہ کے دن تمام مسلمانوں کو غسل کا خاص اہتمام کرنا چاہئے. ناخن تراشنے چاہیئں. دستیاب کپڑوں میں سے سب سے عمدہ لباس کا انتخاب کرنا چاہئے. تیل اور خوشبو اگر دستیاب ہو تو ان کا استعمال کرنا چاہئے. جو شخص جمعہ کے دن غسل جنابت کرتا ہے اور چل کر پہلی فرصت میں مسجد میں پہنچتا ایسے شخص کے لئے اونٹ کی قربانی کا اجر ہے. دوسرے وقت میں جانے والے کے لئے ایک گائے، تیسری گھڑی میں جانے والے کے لئے سینگ والے مینڈھے کی قربانی کا اجر ملے گا. چوتھے نمبر پر جانے والے کے لئے ایک مرغی کی قربانی کا ثواب ہے اور سب سے آخر میں جانے والے کے لئے ایک مرغی کے انڈے برابر ثواب ہے. خطبہ جمعہ شروع ہوتے ہی فرشتے رجسٹر بند کر کے خطبہ سننا شروع کر دیتے ہیں.
مسجد میں داخل ہونے کے بعد جتنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے توفیق ہو اتنی نوافل پڑھ لیں. خطبہ شروع ہونے کے بعد 2 رکعات نفل لازمی ادا کرنی چاہیئں. لوگوں کی گردنوں کو نہیں پھلانگنا چاہئے ہاں اگر آگے جگہ خالی ہو تو پھر پہلے اگلی صفوں میں بیٹھنا مناسب ہے. نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو بندہ خلوص نیت، خاموشی اور توجہ سے خطبہ جمعہ سنتا ہے تو اس جمعہ سے آئندہ جمعہ تک کے درمیان ہفتے بھر کے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں بشرطیکہ کوئی کبیرہ گناہ نہ ہو. ارشاد نبویؐ ہے کہ خطبہ شروع ہونے کے بعد اگر کسی نے کسی دوسرے بندے کو گفتگو کرنے سے منع کرنے کے لئے صرف اتنا کہا کہ خاموش ہو جاؤ تو یہ بھی لغو بات ہے اور لغو بات کرنے والے کا جمعہ نہیں.
جمعہ کے روز کرنے والے کاموں میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے والا انتہائی اہم اور افضل کام ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو. آپ لوگوں کے درود مجھ تک پہنچائے جاتے ہیں اور قیامت کے دن میں ان لوگوں کی شفاعت کروں گا جو کثرت سے درود بھیجتے ہیں. جمعہ کے دن سورہ کہف کی تلاوت کرنے کا بھی اہتمام کرنا چاہئے. جو بندہ سورہ کہف کی تلاوت کرتا ہے تو ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک اس کے لئے ایک نور چمکتا رہتا ہے. اللہ سبحانہ وتعالیٰ جمعہ کے لئے آنے والے شخص کے ہر ایک قدم کے بدلے ایک سال کی تہجد اور ایک سال کے روزوں کے برابر ثواب عطا فرماتے ہیں.
@mian_ihsaan
-

قرآن مجید تحریر : راجہ ارشد
قارئین آج کا موضوع خاص بچوں کے لیے ہے قرآن مجید
تو بچوں اللہ تعالٰی نے چار رسول بھیجے جو اللہ تعالٰی کی کتابیں لائے۔ جس میں تورات حضرت موسی علیہ السلام ، زبور حضرت داؤد علیہ السلام اور انجیل حضرت عیسی علیہ السلام پر نازل ہوئی۔ہمارا ایمان ہے کہ یہ سب اللہ تعالٰی کی کتابیں ہیں۔ چوتھی اور آخری کتاب قران مجید جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل کی گئی اس کے احکامات پر قیامت تک عمل ہو گا۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعلی اخلاق کا کامل نمونہ ہیں۔ اخلاق کے معنی ہیں عادات۔ یہ آچھی بھی ہوتی ہیں اور بری بھی ، جسے کہ سچ بولنا آچھے اور جھوٹ بولنا برے اخلاق میں شامل ہے۔ جب بھی کسی کا ذکر کیا جاتا ہے تو وہ دراصل اس کے اخلاق کا ذکر ہوتا ہے۔ بہت سے آچھے لوگوں سے مل کر معاشرہ اور قوم مضبوط ہوتے ہیں۔ اسی طرح خراب اخلاق والے لوگوں سے معاشرہ اور قومیں فنا ہوتی ہیں۔
پیارے بچو۔ پچھلی کتابیں ایک تو خاص زمانے کے لوگوں کے لیے تھیں ، دوسرے ان کے ماننے والوں نے جو احکامات اپنی مرضی کے خلاف سمجھے ان کو بدل ڈالا ، جس کی وجہ سے اب یہ کتابیں اپنی اصلی حالت میں موجود نہیں ہیں۔
قرآن مجید کو مکمل ضابطہ حیات کہا جاتا ہے۔ ضابطہ حیات کا مطلب ہے زندگی کے بارے میں ایسے احکامات جو سادہ ، آسان ، سچے اور مکمل ہوں۔ زندگی کا کوئی معاملہ ایسا نہیں جس کے بارے میں حکم قرآن مجید میں موجود نہ ہو۔ یہ عربی زبان میں 27 رمضان کی شب قدر میں نازل ہونا شروع ہوا اور تقریبا 23 سال کی مدت میں مکمل ہوا۔ اس کی فضیلت کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اس میں آج تک کسی قسم کی بھی تبدیلی نہیں ہو سکی اور نہ ہو سکے گی۔ یہ قیامت تک اپنی اصلی حالت میں قائم رہے گا کیونکہ اللہ تعالٰی فرمایا ہے
بے شک یہ ذکر ہم نے نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
سورہ الحجر۔آیت نمبر 9قرآن مجید کا ادب و احترام ہم سب پر لازم ہے یعنی اس کو سمجھنا اور اس پر غور کرنا اس کا ادب ہے۔قرآن مجید میں انسان اور کائنات کی تخلیق کے بارئے میں بیان کیا گیا ہے۔ قرآن مجید کا ایک معجزہ یہ بھی ہے کہ ہزاروں لاکھوں لوگوں نے اسے حفظ کر رکھا ہے۔اور آئندہ بھی حفظ قرآن کا یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔ ان شاء اللہ
اللہ پاک پڑھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین۔
@RajaArshad56
-

اخلاقیات اور معاشرہ تحریر: فاروق زمان
اخلاقیات انسان کی عادات واطوار کے معیار کا نام ہے۔ وہ سلوک اور طرز عمل جو معاشرے میں انسان ایک دوسرے کے ساتھ روا رکھتے ہیں۔ اخلاقیات کسی بھی معاشرے کا حسن ہے، ہمارا ملک اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا اور اسلامی معاشرت رکھتا ہے، اسلام میں اخلاقیات کو بہت اہمیت حاصل ہے، اخلاقیات اور تعلیمات، اسلام کے دو بنیادی ستون ہیں۔ قرآن و حدیث میں اخلاقیات پر بہت زور دیا گیا ہے۔ اخلاقیات کا درس قرآن کریم کی بنیادی تعلیمات ہیں۔
نبی کریم ص نے اپنے آپ کو اخلاق کا اعلیٰ ترین نمونہ بنا کر پیش کیا۔ اور اخلاقیات کی تکمیل کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: "میرے نزدیک تم میں سے محبوب شخص وہ ہے، جس کا اخلاق سب سے اچھا ہے۔” (بخآری)ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: "بے شک مومن کے اعمال میں سے سب سے وزنی چیز حسن اخلاق ہے۔”
اپنے اخلاق کو بہتر بنانا ہم سب کا فرض ہے۔ ہم جو بھی علم حاصل کرتے ہیں اس کا بنیادی مقصد اخلاق سیکھنا اور ان کو بہتر بنانا ہے۔ قرآن و سنت اور دنیاوی تعلیم سے اخلاق سیکھ کر معاشرے میں ہم ان کا پرچار کرتے ہیں۔
احسان، ایثار، حسن معاملات، عاجزی و انکساری، کسی کے ساتھ حسن سلوک کرنا، محبت و احترام کے ساتھ پیش آنا، عزت و تکریم دینا، تمیز و تہذیب کے ساتھ گفتگو کرنا، مہربانی کرنا، سچ بولنا، ایمانداری اور دیانتداری کو اپنا وصف بنانا، عملی برداشت کا مظاہرہ کرنا، یہ سب اخلاقیات ہے۔ بے شک حسن اخلاق کے زریعے ہی انسان دلوں کو تسخیر کر سکتا ہے۔ اخلاقیات کی وجہ سے ہی انسان اشرف المخلوقات کہلانے کے لائق ہے۔ اخلاق کے بغیر انسانوں کا معاشرہ محض جانوروں کا گروہ ہے۔ جب تک انسان میں اخلاقیات زندہ رہتی ہے، وہ انسان رہتا ہے، اس میں اچھائی کا مادہ باقی رہتا ہے، جب اس کے اخلاق تباہ ہوتے ہیں تو وہ درندہ بن جاتا ہے، اخلاق کے خاتمے سے برائی اور بے حیائ جنم لیتی ہے۔ معاشرہ بدحالی کا شکار ہو کر انسانوں کے رہنے کے قابل نہیں رہتا اور انسانیت نت نئے مسائل سے دوچار رہتی ہے۔انسان کو چاہیے کہ بہتر اخلاق کو اپنائے اور اخلاقیات کو زندہ رکھے۔ انسان کہلانے کا اصل حقدار وہی ہے جو خود کو، اپنی عقل کو، اپنے تمام معاملات کو حسن اخلاق کے تابع کرے۔ منفی رویوں اور جذبات سے خود کو دور کر لے ان کا مثبت جواب دے، اگر کوئی برا سلوک روا رکھے تو اپنا اخلاق تباہ نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اس کو مثبت توانائی سے جواب دینا چاہیے اور اخلاق سے قاءیل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس کے ساتھ بہتر سلوک کر کے اچھیء مثال قائم کرنی چاہیے۔ اس کی دیکھا دیکھی معاشرے کے دوسرے فرد بھی حسن اخلاق کے قاءیل ہوں گے۔ حدیث کا مفہوم ہے کہ، کوئی تمہیں گالی دے تو تم اسے دعا دو۔ اس کے کے برے عمل کا اچھے عمل سے جواب دو، یہ یقیناً اس پر اثر انگیز ہو گا۔ اور اس کے سدھار کاء سبب بنے گا۔
اخلاقیات معاشرے میں رہنے والے کسی بھی شخص کی انفرادی اور اجتماعی دونوں طرح کی زندگی میں اہمیت کی حامل ہے۔اچھے اخلاق کا حامل شخص زاتی اور پیشہ ورانہ زندگی میںر کامیاب ہوتا ہے، پسند کیا جاتا ہے۔ عزت و تکریم دی جاتی ہے۔ بلا شبہ بہتر اخلاق کا مظاہرہ کرنا ہی انسانیت ہے اور قابلء ستائش ہے۔ انسان کی زندگی کے روزمرہ کے بہت سے معاملات اچھے اخلاق کو اپنانے سے بہتر ہے ہو سکتے ہیں، اور زندگی میں سکون آ سکتا ہے۔آج کے دور میں لوگ بہت شدت پسند مزاج کے کے حامل ہیں۔ لوگوں کے اخلاق تباہ ہو چکے ہیں، اخلاقیات عنقا ہو گئی ہے جھوٹ، لالچ، بد دیانتی، مفاد پرستی، گالم گلوچ، لڑائی جھگڑا، قتل و غارتگری ، کینہ و حسد، بغض، تکبر خود غرضی، رشوت و سفارش، ملاوٹ، کرپشن و بدعنوانی، غرض یہ کہ ہم من حیث القوم اخلاقی زبوں حالی کا شکار ہیں۔ اسے معاشرے میں رہتے ہوئے ہم کیسے مہزب کہلا سکتے ہیں، کیسے اخلاقیات کا درس دے سکتے ہیں۔ ہمیں اس اخلاقی انحطاط سے نکلنا ہو گا۔ ایسے میں عملی اخلاقیات کی بہت ضرورت و اہمیت ہے۔ ہمیں اچھے اخلاق اپنا کر ان کا پرچار کرنا ہو گا، خود کو بہتر اخلاق سے پیراستہ کر کے اخلاق کا درس عام کرنا ہو گا۔ ایک دوسرے کے ساتھ اچھے اخلاق اور حسن سلوک سے ہی بہتر معاشرہ پروان چڑھ سکتا ہے۔
@FarooqZPTI
-

سی پیک گوادر پاکستان کے لئے کتنا فائدہ مند ہے ؟ تحریر :زاہد كبدانی
چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک ) ملک کے لئے ایک اہم سنگ میل کے طور پر دکھائی دے رہی ہے۔ یہ تفویض چین میں گوادر کی بندرگاہ کے راستے بحیرہ عرب میں شامل ہوگی۔ سی پیک اس وقت باسٹھ ارب کی مالیت کا ہے اور پورے ملک میں اس کو تیار کیا جارہا ہے ، جس میں تیز رفتار بس کی پیش کش اور موٹر ویز شامل ہیں۔
سی پیک پاکستان کے لیے ایک گیم چینجر ہے پاکستان کی ملٹی نیشنل کمپنیاں بڑے پیمانے پر اپنا کاروبار شروع کریں گی۔ پاکستان کی معاشی حالت اچھی ہوگی ۔کارخانوں کو فروغ ملے گا جس سے یہ ہوگا کہ لوگوں کو روزگار ملے گا
بجلی کی پیداوار زیادہ ہوگی جس سے ہر پاور پلانٹ لگیں گے اور ڈیمز بنے گے جس سے وہ وہ علاقے جہاں بجلی نہیں ہے ان علاقوں میں بجلی مہیا کی جائے گی ۔
جس ملک میں بجلی کی پیداوار اچھی ہوتی ہے وہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے۔
پاکستان معاشی لحاظ سے طاقتور ہو جائے گا گوادر پورٹ پر نقل و حمل آسانی سے۔ ہوا کرے کی زراعت کو فروغ ملے گا 25 ملین ٹن کے حساب سے پاکستان ایکسپورٹ کر پائے گا
پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ، بلوچستان ماضی میں دہشت گردی کے حملوں سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ لیکن اب ، وہاں کی صورتحال بہتر ہو رہی ہے اور صوبہ سماجی و اقتصادی ترقی کے مراحل میں ہے۔ اس صوبے کے عوام نے ایک ایسی حکومت منتخب کی ہے جو سی پیک کی مدد سے اس علاقے کو بہتر بنانا چاہتی ہے۔ گوادر کی بندرگاہ تجارت کا مرکز بن جائے گی اور جو لوگ کم تعلیم یافتہ ہیں ان کو بھی اپنی صلاحیتوں کے مطابق ملازمت ملے گی۔
گوادر میں ایک میگا آئل سٹی بنایا جارہا ہے جو خلیجی ممالک سے درآمد شدہ تیل ذخیرہ کرنے اور اسے چین منتقل کرنے کے لئے استعمال ہوگا۔ مغربی روٹ کے مقابلے ، جس میں ایک ماہ سے زیادہ وقت لگتا ہے ، اس نئے راستے کو چین کو تیل پہنچانے میں صرف ایک ہفتہ لگے گا۔ اس کے علاوہ خواتین کو بھی ملک کی ترقی میں حصہ لینے کا موقع ملے گا اور ان کے خواب پورے ہوں گے۔ تھر کے عوام کے لئے یہ تبدیلی پہلے ہی نظر آرہی ہے ، جہاں تھر کول پاور پروجیکٹ میں بہت سی خواتین کو ملازمت دی گئی ہے۔اس سے پہلے تھر پاکستان کا سب سے ترقی یافتہ علاقہ تھا اور اگرچہ ابھی ابھی بہت کام کرنا باقی ہے لیکن چین کے تعاون سے اب وہاں لوگوں کی زندگیاں بحال ہو رہی ہیں۔ مالیاتی بحران کے تاریک بادلوں نے ملکی معیشت کو ہر طرف سے گھیر لیا ہے اور پاکستانی روپے کی قدر دن بدن گرتی جارہی ہے۔ ایسی مشکل صورتحال میں چین نے آگے بڑھتے ہوئے پاکستان کا ہاتھ تھام لیا ہے تاکہ ملک اپنے دونوں پاؤں پر کھڑا ہوسکے۔
بلاشبہ ، خوشحالی کے ساتھ ساتھ خطے میں گیم چینجر کی حیثیت سے بھی ثابت ہوگا۔ اس منصوبے کا پہلا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے اور اب ، دوسرا مرحلہ شروع ہوگیا ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری سے سرمایہ کاری کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔ چینی حکومت کے بیلٹ اور روڈ اقدامات کے سبب پاکستان علاقائی معاشی سرگرمیوں کا ایک بڑا کھلاڑی بن گیا ہے۔ اس منصوبے سے نہ صرف ٹریڈنگ کے ذریعے اربوں ڈالر کی آمدنی ہوگی بلکہ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ ، سائنس اینڈ ٹکنالوجی ، بجلی کی پیداوار ، نقل و حمل ، ریلوے ، زراعت ، سیاحت اور بہت سارے دیگر وسائل کے ذریعے ہزاروں مقامی افراد کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔ عہدیداروں کے مطابق ، پاکستان اور چین کے مشترکہ منصوبے کے ذریعے ملک بھر میں خصوصی معاشی زون کی تعمیر ، سی پی ای سی کے ایک بڑے منصوبے میں سے ایک ہے۔ سی پی ای سی کی اہمیت کو سمجھنے کے بعد ، بہت سے دوسرے ممالک نے بھی اس منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے میں اپنی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت خصوصی معاشی زونوں کی تعمیر کا کام زوروں پر ہے ، اس زون کی تکمیل سے پورے ملک میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ سی پی ای سی کی اہمیت کو سمجھنے کے بعد ، بہت سے دوسرے ممالک نے بھی اس منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے میں اپنی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت خصوصی معاشی زونوں کی تعمیر کا کام زوروں پر ہے ، اس زون کی تکمیل سے پورے ملک میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ دریں اثنا ، سی پی ای سی اتھارٹی کے چیئرمین جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ وزیر اعظم کا جنوبی بلوچستان کی ترقی کا خواب حقیقت بنتا جارہا ہے۔ جنوبی بلوچستان میں ، سی پی ای سی کے تحت سڑکوں کی تعمیر پر توجہ دی جارہی ہے۔ عاصم سلیم باجوہ نے بتایا کہ باسیما خضدار ہائی وے پر 60 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے جبکہ ہوشاب آواران روڈ پر بھی کام شروع کردیا گیا ہے۔ شاہراہوں کی تعمیر سے شمال سے گوادر تک رسائی آسان ہوگی۔ سفر کو آسان اور تیز تر بنانے کے لئے ، پشاور سے کراچی تک ایم ایل ون لائن کی توسیع اور تعمیر نو کا آغاز ہو رہا ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ پاکستان کو توانائی کے بحران کا سامنا ہے۔ اس قلت کو دور کرنے کے لئے توانائی میں 22 میں سے 9 منصوبے مکمل ہوچکے ہیں جبکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت دیگر منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے۔ اگلے مرحلے میں صنعت و زراعت ، سماجی اور معاشی شعبوں کی ترقی اور گوادر نیو سٹی پر بھی کام کیا جائے گا۔ سی پی ای سی مہنگائی اور بے روزگاری سے نجات پانا ممکن بنائے گا۔ سی پی ای سی کا ہر پروجیکٹ لوگوں کی بڑی تعداد میں ذرائع آمدنی سے وابستہ ہے۔ سی پی ای سی کی تکمیل کے بعد کاروباری سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ اس میگا پروجیکٹ کے ذریعے پاکستان کو اقتصادی راہداری کا درجہ حاصل ہوگا.@Z_Kubdani
-

حکومت سیاحت کے لئے کیا کر رہی ہے؟ تحریر: خالد عمران خان
سیاحت کے حوالے سے پاکستان دنیا بھر میں بے حد مقبول ہے۔ ثقافت کے رنگ ،روایات،تاریخی مقامات ،دلکش وادیاں اور آنکھوں کو خیرہ کر دینے والے قدرتی مناظر کی بدولت پاکستان سیاحوں کے لیے مرکز نگاہ بنا ہوا ہے۔گزشتہ برس ایک تفریحی میگزین نے پاکستان کو نہ صرف چھٹیاں گزارنے بلکہ مہم جوئی کے لئے بہترین جگہ قرار دیا۔سیاحت جہاں تفریح کا سامان میسر کرتی ہے وہیں کسی بھی ملک کی معیشت اور ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹریول اینڈ ٹورزم کونسل کے 2019کےاعداد و شمار کے مطابق سیاحت کی صنعت نے ملکی معیشت میں5.9فیصدتک کا حصہ ڈالاہے ۔اس کےعلاہ تقریباً39 لاکھ نوکریاں پیداہوئیں ۔ ایک اندازے کے مطابق سیاحت کی صنعت 2025 تک ملکی معیشت میں ایک کھرب روپے کا حصہ ڈالے گی۔یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چند سالوں سے حکومت سیاحت کی بہتری کے لیے کوشاں ہے۔سیاحت کے حوالے سے حکومتی سطح پر کیے جانے والے چند اقدامات قابل غور ہیں ۔
سڑکوں کی بہتری: ملک میں سیاحت کے رجحان کو بہتر بنانے اور سیاحوں کے لئے سہولیات کی فراہمی میں بہترین سڑکوں کی فراہمی ناگزیر ہے۔اعلیٰ حکام نے اس بات کی اہمیت کو جانتے ہوئے متعددمنصوبوں کا آغاز کیا۔مثلاً خیبر پختون خوا کے سیاحتی مقامات تک باآسان رسائی کے لئےسوات ایکسپریس وے کی تعمیر قابل ذکر ہے۔اس منصوبے سے نہ صرف مسافت میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی بلکہ شہریوں میں سیاحت کا رجحان اجاگر ہوا۔آن لائن ویزہ کی فراہمی :ماضی میں قدرتی حسن سے مالا مال سرزمین تک رسائی کے لئےغیر ملکی سیاحوں کو دشواری کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ موجودہ حکومت نے اس مسئلے کو سنجیدہ لیتے ہوئےحال ہی میں آن لائن ویزہ سسٹم متعارف کروایا تاکہ ویزہ کے اجرا کو آسان بنایاجاسکے۔اس سے نہ صرف191 ممالک کے شہریوں کو آن لائن ویزہ کی سہولت میسر ہوگی بلکہ 50 سے زائد ممالک کے شہریوں کےلئے آن ارائیولول ویزہ کی فراہمی کو ممکن بنایا جا رہا ہے۔
این ۔او۔سی کی شرط کا خاتمہ : گزشتہ ادوار میں غیر ملکی سیاحوں کی ملک کے مختلف تفریحی مقامات تک رسائی کے لئے این او سی ایک بڑی رکاوٹ تھا۔سیاح ہزاروں ڈالرز خرچ کرکے آتے تو نہ صرف انہیں مایوس کن حالات کا سامنا کرنا پڑتا بلکہ اعلیٰ حکام کے بارے میں سیاحت کے شعبہ میں دلچسپی نہ لینے سے منفی تاثر جاتا۔موجودہ حکومت نے2019 میں سیاحوں کے لئے این۔او۔سی جیسی رکاوٹ کو ختم کردیاجس سے سیاحت کے رجحان میں بہتری کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کے روزگار میں بہتری کے روشن امکانات ہیں ۔
امن و امان کی یقینی فراہمی :9/11سانحہ کے رونماں ہونے کے بعد دہشت گردی کے خلاف شروع ہونے والی طویل جنگ سے سیاحت کی صنعت بے حد متاثر ہوئی ۔وہ وادیاں جو کبھی سیاحوں کی تفریح کامرکز تھیں دہشت گردوں کی آما جگاہ میں تبدیل ہوگئیں۔گزشتہ دہائیوں سے افواج پاکستان کی جانب سے کئے گئے آپریشنز سے امن و امان بحال ہوسکا۔اس کے علاوہ حکومتِ خیبر پختونخواہ نے شہریوں کے جان و مال کےتحفظ کے لئے متعدد سیاحتی مقامات پر پولیس فورس متعارف کروائی جو کہ ایک قابل تحسین عمل ہے۔تاریخی و مذہبی مقامات کی ازسرنو بحالی: شمالی علاقہ جات کے ساتھ ساتھ پاکستان تاریخی و مذہبی مقامات کی بدولت خاص کر غیر ملکی سیاحوں کے لئے اہمیت کا حامل ہے۔پاکستان میں ایسے کئی مقامات پائے جاتے ہیں جن سے تاریخی و ثقافت کے رنگ جھلکتے ہیں ۔مذہبی مقامات کی بدولت وطن عزیز سکھوں اور بدھ مت کے پیروکاروں کے لئے مرکز نگاہ ہے۔ہر سال بھارت اور دیگر ممالک سے سکھ یاتری ننکانہ صاحب آتے ہیں ۔حکومت وقت نے حال ہی میں جذبہ خیر سگالی کے طور پر مذہبی سیاحت کے رجحان کے لئے کرتار پور راہداری اور وسیع کملیکس کو پائہ تکمیل تک پہچایا۔
والڈ سٹی اتھارٹی کا قیام:لاہورتاریخی عمارتوں کی بدولت بے دنیا کے تاریخی شہروں میں شمار ہوتا ہے۔لاہور کے تاریخی ورثے کو محفوظ کرنے کے لئے2012 میں حکومت پنجاب نے والڈ سٹی اتھارٹی قائم کی۔
ورثہ و سیاحت اتھارٹی :حال ہی میں سیاحت کو فروغ دینے کے لئے ورثہ و سیاحت اتھارٹی کا قیام عمل میں آیاجس کامقصد ورثے کو محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ پنجاب بھر میں نئے سیاحتی مقامات کی دریافت شامل
ہے۔
حکومتی سطح پر آگاہی مہم :پاکستان گزشتہ کئی برس دہشت گردی کی زد میں رہا ہے۔اس وجہ سے ایک عرصہ تک پاکستان کودنیا بھر میں غیر محفوظ سمجھا جاتا رہا۔ اگرچہ یہ منفی تاثر ایک حد تک زائل ہوتا نظر آتا ہے حکومتی سطح پر اسے ختم کرنے کے لئے مزید اقدامات جاری ہیں ۔پاکستان ٹورزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن نےیہ عندیہ دیا ہے کہ ستمبر 2021میں سیاحت کے فروغ کے لیے آگاہی مہم کا آغاز کیا جا رہاہے۔
حکومت کے سیاحت کےلئے کیے جانے والے اقدامات قابل ستائش ہیں ۔جس سے ملک میں سیاحت کی صنعت کا مستقبل روشن دیکھائی دیتاہے۔Twitter ID: @KhalidImranK
-

تحریکِ پاکستان میں علامہ شبیراحمدعثمانی رحمہ اللہ کا کردار تحریر: احسان اللہ خان
شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ کا شمار اُن چند جانباز علماء اور مخلص ترین لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے مسلمانانِ ہند کو انگریزوں اور ہندوؤں کی غلامی سے چھٹکارا دلاکر آزادی کا پرچم اُن کے ہاتھوں میں تھمایا، اور ان کے لئے آزادامذہبی زندگی گزارنے کا پُرخار راستہ ہم وَار کیا۔ آپؒ 1885ء کو ضلع بجنور غیر منقسم ہندوستان میں پیدا ہوئے، جہاں آپؒ کے والد ماجد علامہ فضل الرحمن عثمانیؒ سرکاری مدارس کے ڈپٹی انسپکٹر تھے۔ آپؒ حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ کے تلمیذ رشید اور اُن کے صحیح علمی و سیاسی جانشین تھے۔ آپؒ نے 1908ء میں دورۂ حدیث کا امتحان اعلیٰ نمبروں میں پاس کیا اور مدرسہ بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کرکے دار العلوم دیوبند سے سند فراغت حاصل کی۔
علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ کی زندگی کے دو پہلو ہیں:ایک پہلو آپؒ کی زندگی کا خالص علمی و تحقیقی ہے۔ آپؒ نے اپنے استاذ شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمہ اللہ کی تفسیر کا تکملہ لکھا جواُنہوں نے مالٹا جیل میں سورۃ النساء تک لکھی تھی۔ اِس تفسیر کی تکمیل آپؒ نے اِس خوبی سے کی کہ بڑے بڑے علماء کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔حدیث کے میدان میں آئے تو صحیح مسلم کی شرح فتح الملہم عربی زبان میں تصنیف کرڈالی ۔ تدریس کے میدان میں آئے تو علمی جوہر دکھلائے۔ آپ کا شماردار العلوم دیوبند کہنہ مشق اور اعلیٰ مدرسین میں ہوتا تھا۔ آپؒ نے 1910ء سے 1928ء تک دارالعلوم دیوبند میں متوسط کتب سے لے کر صحیح مسلم تک کی تدریس کی۔ 1928ء میں آپؒ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل ضلع سورت چلے گئے، اور وہاں تفسیر و حدیث پڑھاتے رہے۔ 1935ء میں دارالعلوم دیوبند کے صدر مہتمم قرار دیے گئے اور1943ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔
علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ کی زندگی کا دوسرا پہلوسیاسی ، ملی اور ملکی خدمات کا ہے جس کا باقاعدہ آغاز جنگ بلقان سے ہوا۔ آپؒ نے تحریک خلافت میں زبردست حصہ لیا۔ آپؒجمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کے زبردست رکن تھے۔ 1919ء سے لے کر 1945ء تک آپؒ اسی میں شریک رہے۔بعد ازاں آپؒ نے مسلم لیگ میں شریک ہوکر تحریک پاکستان کو تقویت بخشی۔ اور تحریک پاکستان کے حامی علماء پر مشتمل ایک جماعت ’’جمعیت علمائے اسلام ‘‘ کے نام سے تشکیل دی، جس پہلے صدر آپؒ منتخب ہوئے، اور نائب صدر علامہ ظفر احمد عثمانی رحمہ اللہ کو مقرر کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ کے بعد پاکستان کا وجود اِن دونوں حضرات کا مرہونِ منت ہے۔ اگر یہ حضرات مسلم لیگ میں شرکت کرکے شریعت اسلامیہ کی رُوشنی میں متحدہ ہندوستان کے مسلمانوں کے سوادِ اعظم کی رہبری نہ کرتے تو مسلم لیگ کی طرف ہوا کے رُخ کو موڑنا اور نظریۂ پاکستان کی طرف سیاست کے دھارے کا منہ پھیرنا ناممکن نہیں تو دُشوار ضرورر تھا۔ علامہ عثمانی رحمہ اللہ نے اِس سلسلہ میں جمعیت علمائے اسلام کے صدر کی حیثیت سے ملک بھر کے دورے کیے ، سرحد کے ریفرینڈم میں کامرانی حاصل کی ، آزادیٔ کشمیر کی جد و جہد میں حصہ لیا اور قیام پاکستان کی تحریک کو اپنی علمی، تحقیقی، اور سیاسی تجربات کی بنیاد پر کام یابی سے ہم کنار کرایا۔
اِس میں شک نہیں کہ تمام مکاتب فکر کے جید علماء و مشائخ نے تحریک پاکستان میں حصہ لیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ علامہ عثمانی رحمہ اللہ کا کردار اِس تحریک میں سب سے بڑھ چڑھ کر تھا۔اِس لئے کہ مسلمانانِ ہند کی جس بالغ نظری اور حکمت عملی سے رہنمائی علامہ عثمانی رحمہ اللہ نے کی وہ کوئی دوسرا نہیں کرسکا۔
اِس حقیقت کا اندازہ علامہ عثمانی رحمہ اللہ کی اُس تقریر سے لگایا جاسکتا ہے جو آپؒ نے 26 دسمبر 1945ء کو دیوبند کے ایک جلسے میں کی، جس میں آپؒ نے فرمایا:’’عرصہ دراز کی کاوشوں اور غور و خوض کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اگر حصولِ پاکستان کے لیے میرے خون کی ضرورت ہو تو میں اس راہ میں اپنا خون دینا باعثِ افتخار سمجھوں گا۔ اس ملک میں ملتِ اسلامیہ کی بقا اور مسلمانوں کی باعزت زندگی قیامِ پاکستان سے وابستہ ہے۔ میں اپنی زندگی کی کامیابی سمجھوں گا اگر اس مقصد کے حصول میں کام آجاؤں۔‘‘
تحریک پاکستان کی یہ کوشش اور جد و جہد محض اِس مقصد کے لئے کی گئی تھی کہ اِس خطۂ زمین میں مسلمانانِ پاکستان قرآن و سنت کے قوانین نافذ کریں گے اور اپنی تہذیب و ثقافت، علوم و فنون اور اپنی قومی اُردُو زبان کو فروغ دینے کے لئے کسی کے تابع و محتاج نہیں رہیں گے۔ اسی عظیم مقصد کی خاطر علماء و مشائخ نے قربانیاں دیں ، بالخصوص علامہ عثمانی رحمہ اللہ نے اپنی حیاتِ مستعار کے آخری سال مقصد کے حصول کی خاطر قربان کیے ۔ آپؒ کے دل میں یہ تڑپ تھی کہ وطن عزیز ملک پاکستان میں اسلامی احکام اور دینی قوانین کا اجراء اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں، مگر قدرت نے جس سے جتنا کام لینا مقرر کیا ہوتا ہے اُسی قدر اُس سے کام لیا جاتا ہے۔
قائد اعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ کی زندگی کا مشن مسلمانانِ ہند کے لئے علیحدہ ایک نئے خطے کی صورت میں وطن عزیز ملک پاکستان کا عدم سے وجود میں لانا تھا۔ اور شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ کی زندگی کا مطمح نظر قدرت کے نزدیک قرار دادِ مقاصد کی تجویز کا پاس کراکر اِس مملکت خداداد کا آئین و دستور قرآن و سنت پر رکھنا تھا۔
بالآخر تحریک پاکستان کامیابی سے ہم کنار ہوئی۔علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ پاکستان بننے پر مؤرخہ 14 اگست 1947ء بمطابق 27 رمضان1366ء کی دوپہر کو افتتاحِ پاکستان کی تقریب سعید میں حصہ لینے کے لئے دیوبند سے کراچی تشریف لائے۔ اور 14 اگست کو کراچی میں جشن آزادی میں شرکت فرمائی۔ قائد اعظم محمدعلی جناح رحمہ اللہ نے آپؒ کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں ملک کے دارالحکومت کراچی میں پہلی پرچم کشائی آپؒ ہی کے مبارک ہاتھوں سے کرائی۔ اور مجلس دستور ساز میں رُکنیت بھی آپؒ کودلوائی۔ 11 ستمبر 1948ء کو جب قائد اعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ کی وفات ہوئی تو اُن کی وصیت کے مطابق اُن کا نمازِ جنازہ علامہ شبیراحمد عثمانی رحمہ اللہ نے ہی پڑھایا۔
پھر اِس کے تقریباً ایک سال اور چند ایام بعد علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ کو 8 دسمبر 1949ء کی شب کو بخار ہوا، صبح طبیعت ٹھیک ہوگئی، آٹھ بجے صبح پھر سینہ میں تکلیف ہوئی اور سانس میں رُکاوٹ ہونے لگی۔ بالآخر مؤرخہ 13 دسمبر 1949ء بمطابق 21 صفر 1369ھ کو 11:40.AMمنٹ پر سہ شنبہ (منگل کے روز) 64 سال کی عمر میں علم و عمل اور دین و اسلامی سیاست کا یہ آفتاب و ماہتات ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اِس عالم رنگ و بو سے غروب ہوگیا۔ انان للہ وانا ا لیہ راجعون۔
یہ خبر بجلی کی طرح سارے عالم اسلام میں پھیل گئی۔ اور دُنیا بھر میں ایک کہرام مچ گیا۔ سرکاری دفاتر اور کاروباری ادارے بند ہوگئے۔ گورنر جزل خواجہ نظام الدین اور وزیر اعظم لیاقت علی خان نے اپنے اپنے دورے منسوخ کردیئے۔ عوام و خواص اور ممالک اسلامیہ میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا۔ میت بغداد الجدید بہاول پور سے کراچی پہنچائی گئی۔ آپؒ کے شاگردِ رشید علامہ بدرِ عالم میرٹھی رحمہ اللہ نے آپؒ کو غسل دیا اور مفتیٔ اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ نے آپؒ کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ تقریباً دو لاکھ سے زائد مسلمانوں نے آپؒ کے جنازہ میں شرکت کی سعادت حاصل کی۔ اور آپؒ کا جسد خاکی اسلامیہ کالج جمشید روڈ کراچی میں سپردِ خاک کردیا ؎
مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم!
تو نے وہ’’ گنج ہائے گراں مایہ ‘‘ کیا کیے؟
Twitter | @IhsanMarwat_786