Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • ہماری زندگی تحریر: کائنات عزیز راجہ

    ہماری زندگی تحریر: کائنات عزیز راجہ

    ہماری زندگی میں بعض لوگوں سے تعلقات اس حد تک بڑھ جاتے ہیں جنہیں کسی رشتے کا نام تو نہیں دیا جاتا لیکن انہیں نبھانا ضرور جاتاہے، ان میں ایک اہم تعلق دوستی کا بھی ہے۔ دوستی کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ ہمارے معاشرے میں تقریباً سبھی لوگ کسی نہ کسی سے دوستی نبھا رہے ہیں
    دوست کون ہوتا ہے، جس کے دل میں آپ کے لیے خلوص کا دریا موجیں مار رہا ہوتا ہے اور آپ کے پسینے پہ اپنا خون بہانے کو یہ ہر وقت تیار رہتا ہے۔ آپ کی خاطر جوئے خوں عبور کرنے کو بھی تڑپتا ہے، آسمان سے تارے توڑ کے لانے کو بھی پھڑکتا ہے
    دوست ۔۔۔۔ کون ہوتا ہے؟
    اس کی تعریف کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں ۔۔ میں اپنے احساسات جو میں نے محسوس کیا میں اپنے جذبات جو میں نے دیکھے اپنی ایک بہت ہی پیاری دوست بہنوں جیسی بلکہ ان سے بھی بڑھ کر ہے اس کے بارے میں لکھوں گی ،، آپ سب مجھے آخر میں رائے دینا کیا میرا نظریہ صحیح ہے؟؟؟
    دوست دو طرح کے ہوتے ہیں
    اچھے دوست اچھی صحبت برے دوست بری صحبت
    اچھے اور بُرے دوست کی مثال اس حدیث پاک سے سمجھئے چنانچہ فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: اچھے برے ساتھی کی مثال مُشک کے اٹھانے اور بھٹی دھونکنے(آگ بھڑکانے) والے کی طرح ہے، مُشک اٹھانے والا یا تجھے ویسے ہی دے گا یا تُو اس سے کچھ خرید لے گا یا اس سے اچھی خوشبو پائے گا اور بھٹی دھونکنے والا یا تیرے کپڑے جلادے گا یا تُو اس سے بدبو پائے گا۔(مسلم، ص1084،حدیث 6692
    اب اچا دوست کیسا ہوتا ہے (1)اچھا ہم نشیں وہ ہے کہ اس کے دیکھنے سے تمہیں اللہ یاد آئے اور اس کی گفتگو سے تمہارے علم میں اضافہ ہو اور اس کا عمل تمہیں آخرت کی یاد دلائے۔ (جامع صغیر، ص247،حدیث:4063
    (2)اچھا ساتھی وہ ہے کہ جب تو اللہ کو یاد کرے وہ تیری مدد کرے اور جب تو بُھولے تو یاد دلا دے۔ (جامع صغیر، ص244،حدیث:3999
    اچھا دوست بھی اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے
    کہ اگر کبھی دوست سے کوئی غلطی ہوجائے یا وہ بُری صحبت میں پڑ جائے تو فوراََ اس سے دوری اختیار کرنے کے بجائے اسے سمجھانا چاہئے کیونکہ اچھے دوست کے اوصاف میں سے اہم ترین وصف یہ بھی ہے کہ وہ اپنے دوست کو بری صحبت میں نہیں چھوڑتا، بلکہ اسے برائی سے نکالنے کی کوشش کرتا اور اس کے لئے بارگاہِ الٰہی میں دعا کرتا ہے،
    دوست کون ہوتا ہے؟؟؟
    جو آپ کو درد میں دیکھ کر تڑپ جائے
    جس کی باتوں سے آپ کو تسکین ملے
    وہ اگر خاموش ہو تو آپ سے رہا نہ جائے
    جو آپ کا غم بانٹے
    آپ کو خوش دیکھ کر خوش ہو
    آپ کو پریشان دیکھ کر بےچین ہو جائے
    ہر مشکل میں آپ کے ساتھ ہو
    جو دھوپ میں سائے جیسا ہو
    جو بارش میں چھتری ہو
    جس کے بارے میں آپ سوچیں تو عجیب سی خوشی محسوس ہو
    جو سوچے بنا ذہن میں ہو
    جو صرف ذہن میں نہیں بلکہ دل پہ بھی حکومت کرتا ہو
    جس سے مل کر آپ کو خوشی ملتی ہو
    اور وہ خوشی بھی تمام غموں پہ حاوی ہو
    جب وہ پاس ہو تو سب دکھ پریشانی آپ بھول جائیں
    اور جب وہ دور ہو تو پھر اسی کے خیال میں رہیں
    جو آپ کو بہت عزیز ہو اور سب سے خاص ہو
    پھر جب وہ دوستی اس ذات کے لیے ہو جو مومنوں کا دوست ہے تو پھر اس دوستی کی شان تو اور بڑھ جاتی ہے
    پھر دوست وہ ہوتا ہے ۔۔۔
    جو آپ کو برے کاموں سے روکے
    جو نیک کاموں کی رغبت دلائے
    جو آپ کے ساتھ برا ہونے سے روکے
    ان سب باتوں کے پیشِ نظر آپ کا دوست آپ کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔
    یہ ایک ایسا رشتہ ہے جو خون سے نہیں بلکہ دل سے بنتا ہے ، احساس سے بنتا ہے
    جو آپ کے پاس تو نہ ہو مگر آپ کو اکیلا نہ رہنے دے
    جو اپنی یادوں کا دائرہ آپ کے گرد لگا دے
    جو کانٹوں میں گلاب ہو
    جو آپ کی کل کائنات ہو

    دوست دوست۔۔۔۔ جس کے لیے میرے پاس آج الفاظ ختم ہو گئے وہ ہوتا ہے دوست
    "میری جان میرا مان ہو تم
    ہاں میری جان ہو تم”
    ٹویٹر ہینڈل
    @K_A_R123

  • ٹویٹر کی دنیا   تحریر : سید لعل حسین بُخاری

    ٹویٹر کی دنیا تحریر : سید لعل حسین بُخاری

    ٹویٹر میں ایکٹو ہونے کے بعد بہت سے لوگوں سے ٹویٹر ہی کے زریعےملاقات ہوئ۔کئی ریٹویٹ اور ٹرینڈز گروپوں میں بھی رہا۔خود بھی ریٹویٹ گروپ تشکیل دئیے۔جن میں سے ایک ابھی بھی پاکستان فرسٹ کے نام سے ایکٹو ہے۔
    لوگ کہتےہیں کہ ٹویٹر فیس بُک سے کوالٹی کے لحاظ سے بہتر پلیٹ فارم ہے۔مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ فیس بک پہ چلنے والی بدتمیزی،گالی گلوچ اور کاپی پیسٹ ٹویٹر پر بھی موجود ہے،یہاں بھی تقریبا”ہر دوسرا یا تیسرااکاؤنٹ فیک ہے۔زیادہ تر انہیں فیک اکاؤنٹس سے گالی گلوچ اور نامناسب اور قابل شرم کمنٹس کا دھندا کیا جاتا ہے۔
    افسوس ناک امر ہے کہ اس گالم گلوچ بریگیڈ کی سرپرستی بعض سیاسی شخصیات کرتی ہیں۔
    جن میں سر فہرست نام مریم صفدر کا ہے،مریم بی بی نہ صرف مخالفین کو گالیاں دینے والے ان اکاؤنٹس کو فالو کرتی ہیں بلکہ کئی ایسے اکاونٹس بھی محترمہ نے فالو کر رکھے ہیں،جو ملک دشمنی میں بھی پیش پیش ہوتے ہیں۔یہ امر انتہائ افسوسناک ہے کہ ہم اس پلیٹ فارم کو ان مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
    سیاسی مخالفت اور تعمیری تنقید ضرور ہونی چاہیے،مگر ریاست اداروں کے خلاف بات نہیں ہونی چاہیے۔ایسا کرنا ہمارے اندر اورباہر کے دشمنوں کے ہاتھ مضبوط کرناہے۔
    اگر ہم ٹویٹر پر ایکٹو ہیں اور لوگ ہمیں فالو بھی کرتے ہیں تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم نے ایک دن میں اپنے ملک کا مثبت چہرہ دنیا کو دکھانے کے لئے کیا کام کیا ہے؟
    کونسا ایسا ٹویٹ ہم نے شیئر کیا ہے کہ جس نے دنیا کو پاکستان کے بارے میں اچھا پیغام دیا ہے؟
    اگر ہم میں سے ہر کوئ یہ سوچ لے کہ اس نے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کا مونہہ توڑ جواب دینا ہے،تو دشمنوں کا بھونکنا ٹونکنا بند ہو سکتا ہے۔
    مگر باعث شرم بات یہ ہے کہ باہر سے یا اندر سے جب بھی کوئ آواز ریاستی اداروں کے خلاف اٹھتی ہے تو بہت سے لوگ اندر سے ہی ان کا ساتھ دیکر ملک سے غداری کا مرتکب ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
    ٹویٹر ایک باثر پلیٹ فارم ہے۔اس پر ٹرینڈز کی صورت اٹھنے والی آواز بین الاقوامی طور پر سنی جاتی ہے۔
    ہم اگر کسی ایک گروپ سے وابستہ نہ بھی ہوں تو ہمیں ان آوازوں کے ساتھ اپنی آواز ملانی چاہیے۔تاکہ ملک اور قوم کا کوئ فائدہ ہو سکے۔
    ہر اچھی چیز کو ریٹویٹ کرنے کی کوشش کریں۔خواہ آپ کسی کو جانتے ہیں یا نہیں ۔
    مگر اچھا پیغام پھیلانے میں مدد ضرور کریں۔
    ویسے مزے کی بات یہ ہے کہ جس طرح ٹی وی چینلز میں ریٹننگ کی دوڑ لگی ہوتی ہے۔بلکل اسی طرح ٹویٹر پر بھی دوست احباب ریٹویٹ کے معاملے پر جھگڑ رہے ہوتے ہیں۔
    اور یہ خواہش ایک قدرتی امرہے کہ ہماری لکھی ہوئ چیز کو زیادہ لوگ ریٹویٹ کریں۔
    اسے زیادہ لوگ پسند کریں۔
    مگر اس کے حصول کے لئے بلاوجہ کی سنسنی۔بد تہذیبی اور کاپی پیسٹ سے گریز کرنا چاہیے۔
    کسی دوسرے کا کریڈٹ نقل کر کے لینے سے بہتر ہے کہ بندہ سیکھے اور اپنے آپ کو اس قابل بناۓ کہ لوگ اسے فالو کرنے پر مجبور نہ بھی ہوں تو اسکی خواہش ضرور کریں۔
    فیک اکاونٹس کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔اچھا لکھنے والوں کی حوصلہ افزائ کرنی چاہیے اور نئے آنے والوں کو ٹویٹر رولز سے آگاہی میں مدد دینی چاہیے۔
    اگر کبھی کچھ غلط لکھا جاۓ تو اسے ڈیلیٹ کرنے میں تامل نہ کیا جاۓ۔کیونکہ ہم بحر حال انسان ہیں۔انسان خطاؤں کا پُتلا ہے۔اپنی غلطی مان لینے ہی میں عظمت اور بڑائ ہے نا کہ غلط بات پر ڈٹ جانے میں۔
    اگر آپ سمجھیں کہ آپ نے کچھ ایسا لکھ دیا،جس سے کسی کی دل آزاری ہوئ ہے اور اسکا جرم یا قصور بھی نہیں تھا،تو پھر معافی مانگنے میں دیر مت لگائیں۔
    مگر یہ فارمولہ کرپٹ عناصر بشمول سیاستدانوں پر اپلائ نہیں ہوتا۔
    ایسے بد عنوان افراد کے خلاف لکھنا ایک جہاد ہے۔جو بھی کسی بھی قسم کی بدعنوانی میں ملوث نظر آۓ اسکے خلاف ضرور لکھیں۔
    مگر یہ سب کچھ لکھتے وقت ایک چیز زہن میں رکھیں کہ آپکا لکھا ہوا آپ کو ثابت بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔اسلئے تمام تر شواہد اور ثبوتوں کا جائزہ لیکر لکھیں تاکہ آپ کو کسی بھی قسم کی قانونی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
    مجھ پر کئی دفعہ اخبارات میں لکھنے کی وجہ سے کروڑوں روپے ہر جانے کے عدالتی دعوے کئے گئے مگر الحمدللہ ان میں سے کوئ بھی میرے خلاف سچ ثابت نہ ہو سکا،کیونکہ میں ہمیشہ دستاویزی ثبوتوں کی بنیاد پر خبر لگاتا تھا اور خبر لگانے سے پہلے اپنا ہوم ورک ضرور مکمل کرتا تھا۔
    خبر لگاتے وقت ہمیشہ اس شخص یا پارٹی کا موقف بھی ساتھ ہی شائع کریں ،جس کے خلاف آپ خبر لگا رہے ہیں۔
    ایسا کرنے سے آپ آدھی قانونی جنگ تو ویسے ہی جیت جاتے ہیں۔
    ٹویٹر بھی ایک اخبار کی طرح ہی ہوتا ہے۔جس میں لکھے ٹویٹس ان خبروں کی طرح ہوتے ہیں،جو ہم اخبارات میں بطور نامہ نگار شائع کرواتے ہیں۔
    اچھا نامہ نگاروہی ہوتا ہے جو اپنی لگائ گئی خبر کا پہرہ دے سکے۔
    اچھا ٹویٹ بھی وہی ہوتا ہے،جس کی سچائ بوقت ضرورت آپ ثابت کر سکیں-
    اللہ تعالی ہم سب کو زور قلم دے اور زیادہ
    اور اللہ تعالی ہمیں اپنے قلم کی اس طاقت کو اپنے ملک کی بہتری اور عوامی فلاح وبہبود کے لئے استعمال کی توفیق دے۔آمین #

    @lalbukhari

  • جیکب آباد کی جمس ہسپتال بد انتظامی کا شکار تحریر:عبدالرحمن آفریدی

    جیکب آباد کی جمس ہسپتال بد انتظامی کا شکار تحریر:عبدالرحمن آفریدی

    کہتے ہیں جان ہے تو جہاں ہے اگر جان ہو گی تو انسان کچھ کرنے کے قابل ہوگا،حکومت کی جانب سے صحت اور تعلیم کے شعبے میں بھاری بھرکم ہر سال بجٹ میں رکھی جاتی ہے اسکے باوجود سندھ میں صحت اور تعلیم کے شعبے پسماندگی کا شکار ہیں جیکب آباد میں صحت کا شعبہ انتظامی لاپرواہی کی وجہ سے بدحال ہو گیا ہے یو ایس ایڈ کی جانب سے جیکب آباد کی عوام کو علاج کی معاری سہولیات کے فراہمی کے لئے جدید اور اعلی طرز کی جمس ہسپتال تعمیر کرکے دی گئی لیکن افسوس کہ اتنا بہترین ادارہ پانچ سال سے مکمل فعال نہیں ہو سکا ہے جمس ہسپتا ل سیاسی مداخلت کی وجہ سے بدانتظامی کا شکار ہو گئی ہے 15جنوری 2016میں شروع کی گئی جمس ہسپتال میں اب تک ایمرجنسی کا شعبہ بند پڑا ہے جبکہ متعدد شعبے بھی غیر فعال ہیں جیکب آباد انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسزز(جمس)کی سالانہ بجٹ 66کروڑ سے زائد ہے اتنی بجٹ رکھنے کے باوجود ادارے علاقے کے لوگوں کو علاج کی معیاری سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہے سیاسی سفارش پرجمس ایکٹ کے قواعد کے خلاف ایسے شخص کوجمس کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا ہے جسے کے پاس جمس جیسے ادارے کو چلانے کا کوئی تجربہ ہے نہ اہلیت،تین سال سے مقرر ڈائریکٹر جمس میں کوئی بہتری نہیں لاسکے ہیں اور نہ ہی ایمرجنسی سمیت متعددبند شعبوں کو فعال کر سکے ہیں سول ہسپتال کے ادھار پر لئے گئے ڈاکٹرس کی بدولت جمس کو چلایا جا رہا ہے سول ہسپتال سے ڈاکٹر منگوانے کی وجہ سے سول ہسپتال کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے جمس میں سیاسی مداخلت اور بدانتظامی کی وجہ سے 20سے زائد ماہر ڈاکٹر اور پیرا میڈکس عملہ نوکری سے استیعفی دیکر جا چکا ہے،ہسپتا ل کی مینٹیننس،ہاؤس کیپنگ،کینٹین اور سیکیورٹی کے ٹھیکے بھاری رشوت کے عیوض سفارش پر دینے کی وجہ سے ادارے میں دن بہ دن بگاڑ آتا جا رہا ہے،فرضی بلوں کے ذریعے فنڈس نکلوائے جا رہے ہیں لیکن ادارے میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آرہی،جمس ہسپتال میں سہولیات کے فقدان،کرپشن اور ڈائریکٹر کے خلاف شہریوں اور سیاسی سماجی تنظیموں کی جانب سے شدید احتجاج کے بعد محکمہ صحت کی جانب سے ڈائریکٹر جمس عبدالواحد ٹگڑ کو ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا اس حوالے سے نئے ڈائریکٹر کی تعیناتی کے لئے اشتہار بھی جاری کیا گیا جس پر دس سے زائد امیدواروں نے درخواستیں بھی جمع کرائی جو چار ماہ سے التوا کا شکار ہے اطلاع ہیں کہ موجودہ ڈائریکٹر کو ہٹانے کا فیصلہ موخر کردیا گیا ہے مزید یہ کہ سندھ حکومت کی جانب سے جمس ہسپتال کی توسیع کے لئے20 کروڑ روپے منظو ر کئے گئے ہیں رواں مالی سال کے لئے ہاؤس کیپنک اور مینٹیننس کے ٹھیکے نیلام کے بجائے موجودہ ٹھیکیدار کو توسیع کرکے دینے کی اطلاعات ہیں جبکہ سیکیورٹی کا ٹھیکہ سفارش پر دینے کا انکشاف ہوا ہے جمس کی پریکیورمنٹ کمیٹی کے چئیر مین اور ڈائریکٹر جمس عبدالواحد ٹگڑ،ڈی سی کے نمائندے کے طور پر شامل اسسٹنٹ کمشنر شہزاد احمد اور ڈاکٹر عصمت علی لہر نے گریفن سیکیورٹی سروسز کو ٹھیکہ دینے کی منظوری دے دی ہے اس فیصلے کے خلاف فرنٹ لائن سیکیورٹی سروسز کے افضل ملک نے ڈائریکٹر ایس ایس پی آر اے کراچی کو درخواست دیتے ہوئے جمس ہسپتال کی سیکیورٹی کا ٹھیکہ خلاف ضابطہ دینے کا الزام لگایا گیا افضل ملک نے اپنی درخواست میں کہاہے کہ 30جون کو جمس میں ہونے والی بولی میں تین کمپنیوں کو شارٹ لسٹ کیا گیا اور کہا گیا کمپنی کے اصل کاغذات جمع کرائے جائیں اور 25جولائی کو گریفن سیکیورٹی سروسز کو ٹھیکہ دے دیا گیا جس پر تحفظات ہیں گریفن سیکیورٹی نے غلط معلومات اور جعلی کاغذات جمع کرائے مذکورہ کمپنی ڈیڑھ سال سے معطل ہے،جس کمپنی کو جمس کی سیکیورٹی کا ٹھیکہ دیا گیا ہے وہ پی ٹی اے میں رجسٹر نہیں بینک اسٹیٹمنٹ بھی کم ہے سندھ روینیو بورڈ میں بھی شارٹ ہے،سیسی اور ای او بی آئی میں بھی شراکت نہیں جبکہ موکل کی تفصیل بھی درست نہیں ہے اور یہ سپر ا رولز کی خلاف ورزی ہے انصاف کی بہتری کے لئے فیصلہ کیا جائے،جمس کی پروکیورمنٹ کمیٹی کے رکن ڈاکٹر عصمت لوہر نے رابطے پر کہا کہ سیکیورٹی کا ٹھیکہ کس بنیاد پر گریفن کمپنی کو دیا گیا یہ تو ڈائریکٹر ہی بتا سکتے ہیں سار ے معاملات وہ دیکھتے ہیں میں رکن ضرور ہوں مجھ سے صرف درستخط لی جاتی ہے میں اس موقع پر تو کچھ ترمیم نہیں کر سکتا مستقل ملازم بھی نہیں ہوں کانٹریکٹ پر ہوں،جمس ہسپتال میں میرٹ کو نظر انداز کرکے سفارشی کلچر کو فروغ دیا گیا ہے جس کے باعث علاج گھر عذاب گھر بنتا جا رہا ہے جمس کو تباہی سے بچانے کے لئے سیاسی مداخلت،سفارشی کلچر کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے جمس کے بورڈ آف گورننس کے ممبران کی بھی تبدیلی کی ضرورت ہے کیونکہ وہ ادارے کو فعال کرنے سمیت بہتر بنانے میں کچھ نہیں کر سکے ہیں بی او جی میں ایسے افراد کو شامل کیا جائے جو عوام کے حقیقی نمائندگی کرتے ہوں جمس کو مکمل فعال بنانے کے لئے اہل اور تجربہ کار ٖڈائریکٹر کی بھی ضرورت ہے تاکہ جمس جسیے بہترین ادارے سے نہ صرف جیکب آباد بلکہ سندھ اور بلوچستان کے افراد بھی علاج کی بہتر اور معیاری سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔

    @journalistjcd

  • ایک اور مندر توڑ کر ہم سرخرو ہو گئے تحریر:سمیع اللہ خان

    ایک اور مندر توڑ کر ہم سرخرو ہو گئے تحریر:سمیع اللہ خان

    سکول کی کتابوں میں ہمیں پڑھایا گیا ہے کہ سلطان محمود غزنوی بطور مسلمان ہمارے ہیرو ہیں۔ ان کتابوں میں سلطان محمود غزنوی کو ہیرو کے طور پر پیش کرنے کی سب سے بڑی وجہ سومنات کے بت کو توڑنا ہے۔ یہ کیوں کر ہوتا ہے کہ ہماری ہیروز کو ہیرو پیش کرنے کیلئے جنگی فتوحات، توڑ پوڑ وغیرہ جیسے افعال کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ ذہن میں کبھی کبھی یہ سوال ابھرتا ہے کہ ہمارے ہیروز کی فراست، دریا دلی، علم، محبت، بھائی چارہ اور قربانیوں کو نصاب کا حصہ کیوں نہیں بنایا جاتا، کیونکہ کچے ذہنوں پہ یہ کہانیاں گہرے نقوش چھوڑ جاتی ہیں اور یہی کچے ذہن پھر بعد میں معاشرے کے اہم ارکان کے طور پر سامنے آتے ہیں۔
    آج صوبہ پنجاب کے شہر رحیم یار خان میں ایک ہندو مندر کے اندر توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ کا ایک واقعہ سامنے آیا ہے۔ اس واقعے کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے کہ کچھ روز قبل ایک آٹھ سالہ بچے نے رحیم یار خان کے ایک مقامی مدرسہ کے قالین پر ’پیشاب‘ چھوڑا۔ جس کے بعد وہاں کے مقامی افراد نے اس 8 سالہ غیر مسلم بچے پر توہین مذہب یا مدرسے کی توہین کا الزام لگایا اور اس پر ایف آئی آر درج کروائی۔ بچہ جب کہ نابالغ تھا اور کم عمر بھی تھا اس وجہ سے بچے کی ضمانت ہوگئی۔
    بچے کی ضمانت کے بعد جہاں اس غیر مسلم 8 سالہ بچے پر پرچہ کٹانے والوں کو کوئی اور چیز نہیں سوجھی تو انہوں نے علاقے کے دیگر افراد کو اشتعال دیلاکر رحیم یارخان کے علاقے بھونگ شریف میں واقع ہے ایک ہندو مندر جس کا نام ’گنیش مندر‘ ہے کہ اندر گھس کر توڑ پھوڑ شروع کی۔ اس دوران پولیس کی کم نفری کی وجہ سے وہ ان مشتعل افراد کو قابو نہ کر سکے اور انہیں رینجرز کی خدمات حاصل کرنا پڑی۔ رینجرز نے وقوعہ پر پہنچ کر مندر سے مشتعل افراد کو نکالا اور کچھ کو گرفتار کیا۔ کچھ اسی نوعیت کا ایک واقعہ کچھ عرصہ قبل خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع کرک میں بھی پیش آیا تھا۔
    ایسے مواقع پر اور دیگر افراد کو اشتعال دیلانے والے اشخاص کے علم میں یہ بات خوب ہوتی ہے کہ وہ یہ غلط کر رہے ہیں مگر کیونکہ وہ خود اکیلے ایسا کوئی عمل نہیں کر سکتے اس لیے دیگر افراد کو اشتعال دیلاتے ہیں، پھر انہیں مشتعل ہجوم کا سہارا لے کر یا ان کو ڈھال بنا کر اپنی مذموم مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان افراد کا مشتعل ہجوم کا ڈھال بنا کر ایسے مقاصد حاصل کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کو پتہ ہے کے پردے واحد اگر کوئی ایسا کام کرتا ہے تو وہ پکڑا بھی جاتا ہے اور انہیں سزا بھی ملتی ہے مگر ایک ہجوم کو پکڑنا، کنٹرول کرنا، سزاء دینا انتہائی مشکل کام ہے۔ کچھ اسی طرح کے نتائج ضلع کرک میں ہونے والے ایک مندر پر حملے کے سامنے آئے ہیں، کرک میں مندر پر ہونے والے حملے کہ ملزمان کو یا تو عدالت نے رہا کیا یا پھر ہندو برادری پر دباؤ ڈال کر ان سے کیس واپس کروایا گیا۔ یہ بھی ذہن نشین کر لیں کہ کرک مندر واقعے میں سرکاری افسران جو معطل ہوئے تھے وہ بھی تقریبا سارے بحال ہو چکے ہیں۔
    کرک یا رحیم یار خان جیسے واقعات کے بارے میں سنتا ہوں تو خیال آتا ہے کی وہ مولوی جو مدرسوں، مساجد وغیرہ میں بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں اور پھر ان سے ’کتاب اللّٰہ‘ تربیت لیتے ہیں کہ باہر جاکر میرا یہ کارنامہ کسی کو نہیں بتاؤ گے، ان افراد کے خلاف کبھی یہ دین کے ٹھیکیدار اور یہ خود کو سچے مسلمان ثابت کرنے والے افراد کیوں نہیں نکلتے؟
    یہ جو رحیم یار خان میں ’گنیش مندر‘ کو توڑ کر جو سچے اور ایماندار مسلمان سرخرو ہو چکے ہیں، ان کا اصل مسئلہ ذہن سازی ہے۔ ان کو یہ تو بتایا جاتا ہے کہ کعبہ میں بتوں کو توڑا گیا تھا، سومنات مندر میں محمود غزنوی نے بتوں کو توڑا تھا مگر ان کو یہ نہیں بتایا جاتا کہ سومنات مندر ہو یا کعبہ ہو وہاں بتوں کو توڑنے کی کیا وجوہات تھیں۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے تاریخ کو دو قدم آگے جا کر اور ہمارے جنگجو ہیروز کو اپنی اوقات سے بڑھ کر ’تیس مار خان‘ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ یاد رکھا جائے کہ اچھے الفاظ میں صرف جوڑنے والوں کو لکھا اور یاد کیا جاتا ہے جبکہ توڑنے والوں کو منفی نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔

  • ریپسٹ کو آزاد کرو  تحریر:فجر علی

    ریپسٹ کو آزاد کرو تحریر:فجر علی

    ہم اور معاشرہ یہ ایک ایسا تعلق ہے جو کبھی ٹورنے سے بھی نہیں ٹوٹتا ۔معاشرہ ہم سے بنتا یہ بات ہم کیوں بھول جاتے ؟ جو ہم کرتے وہی سب دوسرے لوگ بھی کرتے اسے معاشرتی علوم کہتے کہ معاشرے کا علم ہونا ۔
    اب یہاں ایک بات زیر غور رہے کہ جب ایک مرد ایک انسان کسی عورت کی عزت پامال کرتا ہے تو سبھی اس ایک شخص کے نقشے قدم پر کیوں چل پڑے؟
    کیا ہمارے معاشرے میں عورت کی عزت کو اتنی آسانی سے نوچ دیا جاتا؟ اتنا آسان ہوتا کسی کی زندگی ایک پل میں برباد کرجانا؟
    ہمیں دیکھایا جاتا تھا بچپن میں کہ مدرسے کا قاری جو قرآن سکھاتا ہے وہ باپ سے بھی اونچا رتبہ رکھتا لیکن ہمارے معاشرے میں ہم کیا دیکھ رہے ؟
    مسجدوں میں مدارس میں گرجا گھروں میں اس عبادت گاہوں میں سب جگہ عورت ، خواہ وہ 1 سال کی بچی ہو یا 30 سال کی جوان لڑکی، شادی شدہ ہو یا 3 بچوں کی ماں ، مرد کا لباس اوڑھے بھیڑیے آپکو چاروں طرف نوچنے کیلئے ڈھونڈ رہے ہوتے ہر وقت ۔نظر رکھے ہوئے بیٹھے رہتے کہ کب کوئی بچی کوئی لڑکی کوئی خاتون بس ہو عورت گھر سے نکلے تو فورا سے اسے چھپٹنے کو تیار بیٹھے ہوتے ۔یہ ہمارے معاشرے کے وحشی دریندے ہیں ۔جو ہمیں نوچنے کو تیار بیٹھے ۔
    بچوں کے ماں باپ سے یہاں شکوہ ہے مجھے وہ کیسے اپنے بچوں پر نظر نہیں رکھتے بچے جہاں بڑھتے ہیں انکے اساتذہ سے ملتے کیوں نہیں ۔
    معاشرہ خراب ہے تو یہاں ریاست کی بھی نااہلی چیخ چیخ کر اس بات کا ثبوت دیتی ہے کہ ہم نے کسی بھی ریپسٹ کو سزا نہیں دی ۔
    ریاست سے ایک بیان جاری ہوا کہ انکے عضو خاص کاٹ دیا جائے گا لیکن یہ بھی محض ہر بیانات کی ایک بیان ہی رہا ۔حوا کی بیٹی ہر روز کہیں نہ کہیں ان درندوں کے ہاتھوں کا شکار ہورہی لیکن ریاست صرف انصاف اگر دیتی ہے تو وہ ہے امراہ کو یا پھر ان لوگوں کو جو پاکستان سے باہر لوگ شور مچاتے ورنہ بیچارے ماں باپ یہاں اپنی بیٹیوں کو لیکر یا توں شہر چھوڑ کر چلے جاتے یا پھر رپورٹ درج نہیں کرواتے ۔
    ریاست ہر معاملے کی طرح یہاں بھی سو رہی سب وحشی کھل کر سامنے آئیں کیونکہ ہمارے معاشرے کا یہ المیہ ہے ایک کام جب کوئی کرتا تو دوسرا بڑھ چڑھ کر اس میں اپنا حصہ ڈالتا ہے ۔افسوس ہم ایسے ہی معاشرے کا حصہ ہیں ۔جہاں کبھی کسی کو انصاف ملتے نہیں دیکھا ہا ن گناہ کرکے چھپ جاو یا بیچ میں ہی گھوموں پھرو کیونکہ یہاں انصاف ملنا ایسے ہے جیسے اونٹ کے منہ میں زیرہ۔

    @FA_aLLi_

  • سی پیک ایک گیم چینجر   تحریر: ناہید تبسّم

    سی پیک ایک گیم چینجر تحریر: ناہید تبسّم

    سی پیک چین، پاکستان اقتصادی راہداری علاقائی رابطوں کا ایک فریم ورک ہے_سی پیک سے پاکستان اور چین کے علاوہ ایران، افغانستان، ہندوستان، وسطی ایشیائی خطے پر اسکے مثبت اثرات مرتب ہونگے _
    سی پیک پراجیکٹ بحیرہ عرب پر واقع پاکستان کے جنوبی گوادر بندرگاہ کو چین کے مغربی سنکیانگ بندرگاہ سے شاہراہوں، ریلوےاور پائیپ لائنوں کے جال سےجوڑ دے گا_جو بیجنگ اورمشرقی وسطیٰ کے درمیان رابطے کو جوڑ دے گا_
    پاکستان اور چین اس اقتصادی راہداری کی تعمیر کے زریعے دو طرفہ سرمایہ کاری، معاشی اور تجارت، رسد اور لوگوں کے لیے علاقائی رابطوں کو فروغ ملے گا-
    چین، پاکستان اکنامک کوریڈور عالمی سطح پر دنیا میں معاشی ترقی کی طرف سفر ہے _ جو دنیا کے لیے امن، معیشت کی ترقی کے ساتھ مستقبل کے بہتری کا ضامن ہے _
    سی پیک سے جنوبی ایشیاء کو بازاروں اور منڈیوں تک رسائی اور بڑی مالی اعانت کا موقع فراہم کر ے گا جس کی وجہ سے پاکستان اور چین میں صنعتی ترقی اور کم ترقی یافتہ علاقوں کی ترقی قابل ذکر ہےاس سے لوگوں کو ملازمتوں کی فرا ہمی کے لئیے روز گار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے _
    سی پیک کامیابی کے منازل طے کرتا اگے کی جانب رواں دواں ہے اور اسکا پہلا مرحلہ پایہ تکمیل تک پہچ چکا ہے جس میں توانائی اور بنیادی ڈھانچے کواہم معاشی رکاوٹوں کو دور کرنا تھا-
    سی پیک کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہو چکا ہے جس میں صنعتی عمل کا آغاز ہو چکا ہے اور عنقریب اس سےہماری برآمدات میں اضافہ ہو گا اورساتھ ہی معاشرتی ترقی، زرعی تعاون، صحت کے شعبے، پانی کی فراہمی اور سماجی شعبے پر بھی توجہ دی جارہی ہے جس سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے-
    تیسرے مر حلے میں باضابطہ تعلیم اور تکنیکی تربیت کے زریعے انسانی سرمائے کی ترقی کو ہموار کیا جانا ہے خاص کر محروم اضلاع میں چین پاکستان اقتصادی راہداری امن، معیشت کی بہتری اور ترقی کے ساتھ روشن پاکستان کی جانب سفر ہے جس سے خطے کے حالات میں بہتری آیے گی-
    سی پیک کے سابقہ چئیرمین عاصم باجوہ جن کی انتھک محنت اورکاوشوں کی وجہ سے سی پیک تکمیل کے مراحل تیزی سے طے کررہا ہے اور اب خالد منصور نے اس کا بیڑہ اٹھایا ہے جو سی پیک کے موجودہ چیئرمین مقرر ہوئے ہیں ان کی کاوشیں بھی رنگ لائیں گی اور تکمیل کے مراحل طے کرتے ہوئے انشاء اللہ پاکستان کی خوشحالی، استحکام ترقی کے لئے سی پیک نیا باب رقم کرے گا –

    @NahdT5

  • اسلام، وراثت اور عورت تحریر :سید اویس بن ضیاء

    اسلام، وراثت اور عورت تحریر :سید اویس بن ضیاء

    حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرد اہل خیر کے اعمال ستر سال تک کرتا رہتا ہے پھر جب وصیت کرتا ہے تو اس میں ظلم اور نا انصافی کرتا ہے تو اس کے برے عمل پر اس کا خاتمہ ہوتا ہے اور وہ دوزخ میں چلا جاتا ہے اور ایک مرد ستر سال تک اہل شر کے اعمال کرتا ہے پھر وصیت میں عدل و انصاف سے کام لیتا ہے تو اس اچھے عمل پر اس کا خاتمہ ہوتا ہے اور وہ جنت میں چلا جاتا ہے،( ابن ماجہ، جلد دوم، حدیث:863)”۔

    اسلام واحد دین ہے جو امن محبت اور انصاف کا درس دیتا ہے اسلام میں زندگی کے ہر پہلو پر نہایت ہی باریک بینی سے روشنی ڈالی گئ ہے زندگی کے تمام تر معاملات میں عورت کو وراثت دینے کا ایک اہم مسئلہ ہے جس پر قران مجید میں کئ بار ذکر آیا ہے۔
    اسلام میں بیٹیوں کا وراثت میں حصہ بیٹوں کے مقابلے نصف مقرر کیا گیا ہے اور بیوی کا آٹھواں حصہ مقرر کیا گیا ہے۔ ہمیں اسلام کے قوائد و ضوابط پر عمل کرتے ہوئے عورتوں کو وراثت میں مکمل حصہ دینا چاہیے۔ وراثت تقسیم ہونے کا مسئلہ ہمیشہ انسان کی موت کے بعد درپیش آتا ہے جو کہ بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔
    عام طور پر ہمارے معاشرے کے دو قسم کے کمزور طبقے یعنی یتیم بچے اور عورتیں تقسیمِ وراثت کے وقت ظلم کا نشانہ بنتے ہیں۔ جس سے لوگوں کے درمیان نا اتفاقی اور لڑائ جھگڑے جیسے بڑے مسائل جنم لیتے ہیں جو کہ بعد میں خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ جس طرح اسلام میں چوری، ڈکیتی، زنا، شراب پینا حرام ہے اسی طرح وراثت میں حصہ داروں کو انکا حق نا دینا بھی حرام ہے۔
    ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ یہ کہہ کر حیلے بہانے بناتے ہیں کہ ہم نے جہیز دیا ہے تو اب جائیداد میں سے حصہ کیوں دیں جائیداد سے حصہ عورتوں کا اسلام و آئنی حق ہے۔ سوشل میڈیا اور اخبارات آئے دن ایسی خبروں کی زینت ہوتے ہیں کہ مختلف مقامات پر جائیداد (جو کہ اسلامی حق ہے)مانگنے پر عورتوں نا صرف کو ڈریا دھمکایا جاتا ہے بلکہ ان پر ظلم و ستم کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ انکو قتل بھی کر دیا جاتا ہے۔
    آج کے جدید دور میں عورتیں تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے حقوق کا بھی علم رکھتی ہیں اگر انہیں انکا حق نہیں ملتا یا انکی حق تلفی کی جا رہی ہو تو وہ عدالت سے رجوع کر لیتی ہیں اور قانون کے ذریعے اپنا حق حاصل کرتی ہیں اگر چہ ہمارا نظام عدل سست روی کا شکار ہے لیکن انصاف ہمیشہ حق دار کو ہی ملتا ہے ہماری حکومت وقت سے التجا ہے کہ عورتوں کے وراثتی حقوق کی حفاظت کےلئے سخت سے سخت قانون سازی کی جائے
    اگر چہ ہمارے معاشرے میں ظلم کرنے والے ہیں مگر مظلوم کا ساتھ دینے والے انصاف پسند لوگ بھی ہیں جو کہ اسلامی احکامات پر عمل پیرا ہیں جو اپنی ماؤں، بہنوں ، بیٹیوں ، بیویوں کو مکمل حقوق فراہم کرتے ہیں اور ساتھ اللہ کی پاک ذات کا ڈر دل میں رکھتے ہیں

    قران پاک مین واضع طور پر فرمایا گیا ہے کہ:”سنو جو لوگ حکم رسول کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آپڑے یا انہیں دردناک عذاب نہ پہنچے،(النور: 63)”۔
    ہمیں اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دئے احکامات پر عمل کرنے چاہیے اور عورتوں کو وراثت میں حصہ کے ساتھ ساتھ انکے تمام حقوق کا خیال رکھنا چاہیے جوکہ ہم پر لازم ہے اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو راہ حق پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے

    @SyedAwais_

  • معاشرہ اور اس میں بڑھتی بےحیائی  تحریر مدثر حسن

    معاشرہ اور اس میں بڑھتی بےحیائی تحریر مدثر حسن


    بحثیت مسلمان ہمارے مذہب نے عورتوں کو پردے اور مردوں کو نظر نیچی رکھنے کا حکم دیا ہے لیکن ہمارے پیارے ملک ِپاکستان میں، جو کے بنا ہی اسلام کے نام پر ہے اس میں مرد اپنی نظر نیچی رکھنا اور عورت پردہ کرنا گناہ سمجھتی ہے جس کی وجہ سے ہمارا معاشرہ دن با دن تنزلی کا شکار ہو رہا ہے اور ہم صرف ایک تماشائی کا کردار ادا کرتے نظر آ رہے ہیں۔

    ہمارے معاشرے میں پھیلی اس بےحیائی کی بہت سی وجوہات ہے، جیسے کے ہمارے مارننگ شوز، گیم شوز، سوشل میڈیا کا غلط استعمال،اور خاص کر ہمارے ڈرامے جس میں ہمارے کلچر اور مذہب سے ہٹ کر بہت سی چیزیں دکھائی جاتی ہیں،اسکی ایک عام مثال ہم یہ لے لیتے ہیں کے اکثر ڈراموں میں دکھایا جاتا ہے کے اگر مرد عورت کو طلاق دے اور وہ پرگنینٹ ہو تو طلاق نہیں ہوتی لیکن اگر اپ اس کے بارے میں تحقیق کریں تو اسلام کے مطابق طلاق واقع ہو جاتی ہے،اب اپ خود سوچیں کےجو لوگ اس بارے میں سہی معلومات نہیں رکھتے وہ اپنی دنیا اور آخرت خراب کر بیٹھتے ہیں۔

    کچھ دن پہلے ایک پرائیویٹ چینل کا ایوارڈ شو دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں ہمارے ملک کی مہشور و معروف اداکاراؤں نے ادھ ننگے کپڑے پہن کر خود کو لبرل ثابت کرنے کی ایک بھونڈی کوشش کی جو کہ ایک اسلامی مملکت کے شہری ہونے کے ناطے ہمارے لیے بلکل بھی قابلِ قبول نہیں ہونی چاہے، ہم اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کے ان ادکاروں کی فین فولّوینگ نہیں ہوگی تو اب اگر ان کے اس بیہودہ فیشن کو دیکھ کر کوئی انکو فالو کرے تو ہمارا معاشرہ کس قدر تباہی کا شکار ہوگا ہم اسکا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے ہیں۔

    ہمارے ملک کے وزیر اعظم نے بھی کچھ دن پہلے ایک غیر ملکی انٹرویومیں اسی طرف اشارہ کیا کے دنیا میں بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعیات کی ایک بڑی وجہ عورتوں کا نا مناسب لباس بھی ہے، جو کے کافی حد تک درست بھی ہے۔ بہت سے لوگ اس سے اختلاف بھی کرتے ہے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کے ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں عورت کو ہی ہمیشہ ان چیزوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے، جبکے ہمارے معاشرے میں مرد کو کھلی آزادی ہے کے وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔
    اس کے علاوہ سوشل میڈیا کا بےجا استمعال بھی ہمارے معاشرے کے بگاڑ کا سبب ہے، جیسے کے ٹویٹر ،فیس بک ، انسٹا گرام اور خاص کر ٹک ٹاک جہاں سے برائی جنم لے رہی ہے، جہاں آپ کو انٹرٹینمنٹ کے نام پر بے انتہا بیہودگی ملے گی۔ اور اسکو روکنے والا بھی کوئی نہیں اگر کوئی ایسی کوشش کرے محض دو دن کے لیے ٹک ٹاک بین کر دی جاتی ہے اور اس کے بعد پھر وہ بیہودگی ہمارے سروں پر ناچتی ہے۔
    ایک اور بڑی وجہ جو کی آزادی مارچ جیسی تحریک ہے جو کے ہمارے معاشرے کے بگاڑ کی بدترین وجہ ہے جس میں عورت کی آزادی کے نام پر اسکو بےحیائی کی شہ دی جا رہی ہے۔

    بحثیت مسلمان ہمیں چاہیے کے ہم اسلامی تعلیمات پر عمل کریں اور بےحیائی جیسے فتنے سے دور رہیں اور اس کی خلاف آواز اٹھاتے رہیں کیوں کے ایک محفوظ معاشرہ ہی ہمارے اور ہماری آنے والی نسلوں کی ضرورت ہے

    @MudasirWrittes

  • یوٹیلٹی سٹور مافیا

    یوٹیلٹی سٹور مافیا


    ویسے تو پورے پاکستان میں یوٹیلٹی سٹور مافیا نے یوٹیلٹی سٹورز پر قبضہ کیا ھوا ھے اور پنجاب میں بھی یہ قبضہ مافیا پیچھے نہیں ھے جس شہر یا یونین کونسل میں چلے جاو آپ کو چینی گھی اور آٹا نہیں ملے گا اگر غلطی سے کسی سٹور پر یہ چیزیں موجود ھوں بھی تو سٹور والے کہتے ہیں پہلے دوسرے ایٹمز لے لیں ایک ہزار کی خریداری کریں اس کے بعد آپ کو ھم یہ چینی وغیرہ بھی دے دیں گے اگر کسی کو صرف آٹا کی ضرورت ھے یا اگر اس مزدور کے پاس صرف ایک آٹا کے پیسے ہیں تو وہ بھلا دوسری چیزیں کیسے خریدے گا جب اسے یوٹیلٹی سٹور سے یہ چیزیں نہیں ملیں گیں تو پھر یقینا وہ کسی پرییویٹ دکاندار سے آٹا خریدے گا جو یوٹیلٹی سٹور سے کافی مہنگا ھوتا ھے.
    میری آنکھوں دیکھا حال ضلع بھکر کی یونین کونسل بہل میں اگر آپ کسی بھی سٹور پر چلیں جاییں بیشک ایک ہفتہ لگاتار جاتے رہیں اور چینی گھی کا پوچھیں
    تو سٹور والے کہیں گے ایک ماہ سے گھی چینی پیچھے سے آ بھی نہیں رھی اگر آپ اس وقت پہنچ جاییں جب اس یوٹیلٹی سٹور کی گاڑی آیی ھو تو کہتے ہیں ابھی ھم لوگوں نے گنتی کرنی ھے صبح آجاییں کیونکہ ان کی گاڑی ہمیشہ عصر کے وقت یوٹیلٹی سٹور کا سامان لاتی ھے جب آپ صبح جاوگے تو کہیں گے وہ گھی چینی تو ختم ھوگیی ہے کچھ اور چاھیے تو لے جاییں کیونکہ گھی اور چینی یہ راتوں رات بلیک میں بیچ دیتے ہیں
    یونین کونسل بہل کے کچھ نیے نویلے سیاسی لوگ اور کچھ بلیک میلر مل کر یہ دھندہ کر رھے ہیں میرے پاس ثبوت بھی ہیں اور گواہ بھی…
    لعنت ایسے لوگوں پر جو یوٹیلٹی سٹور کا راشن بھی نہیں چھوڑتے جو غریب طبقے کیلیے آتا ھے یہ لوگ بلیک میں بیچوا دیتے ہیں.
    یہ وہ گدھ ہیں جو ہمیشہ مردار کھاتی ہیں یہ لوگ بھی گدھ ھی ہیں کیونکہ سبسڈی سے آیی چیزیں جو سب کا حق ھے اور خاص طور پر مزدور اور غریب طبقے کا زیادہ حق ھے جنہیں یہ گھی چینی اور آٹا ملنا چاھیے وہ بیچارے مزدور لوگ ان حرام خور مافیا کی وجہ سے کچھ نہیں خرید سکتے بھکر میں بھٹہ مزدور بہت زیادہ ہیں کیونکہ یہاں بھٹہ کا کام بہت زیادہ ھے جب میں بھٹہ پر کام کرنے والے مزدوروں کو لاین میں تین تین گھنٹے کھڑا دیکھتا ھوں تو بہت تکلیف ھوتی ھے پھر اتنی دیر لاین میں لگ کر بھی انہیں ایک کلو چینی یا آٹا کے بیس کلو کا تھیلا ملتا ھے تو سوچتا ھوں کہ کب ان حرام خوروں پر اللہ کا عذاب آے گا جو غریب کے حق پر ڈاکا مارے ھوے ہیں .
    جو بھٹے کا مزدور دو یا تین گھنٹے لاین میں کھڑے ھوکر آٹا چینی یا گھی لے گا تو اس بیچارہ کا کتنا وقت برباد ھوگا اور اس بیچارے کا کتنا نقصان ہوگا لیکن ان حرام خوروں کو نہ شرم و حیا ھے
    اور
    نہ ھی خوف خدا…
    ھماری حکومت سے درخواست ھے کہ تمام یوٹیلٹی سٹورز میں کیمرے لگاییں تاکہ اس مافیا سے جان چھڑایی جاسکے اور جو حکومت کی طرف سے کم نرخوں پر چیزیں دستیاب ہیں وہ غریب تک بھی پہنچ سکیں.

    ان یوٹیلٹی سٹورز پر کام کرنےوالے دوستوں کوبھی سوچنا چاھیے کہ جب تم لوگوں کی دس سال سے تنخواہیں بند تھیں یوٹیلٹی سٹورز خسارے میں تھے تو اس حکومت نے تمہیں تنخواہیں دیں تمھارے سٹوروں پر ایٹم پورے کیے اور اب تم لوگوں نے حرام کھانا شروع کردیا ھے جب کویی مزدور یا گاہک آپ سے خریداری کرنے آتا ھے اور اس کو اس کی مرضی کی چیزیں نہیں ملیں گیں تو تمھارے سٹور بھی ایک دن بند ھوجاییں گے
    کیونکہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ھے
    خدارا ابھی بھی وقت ھے ان بلیک میلروں سے بچو خود بھی حلال کھاو اور اپنی اولاد کو بھی حلال کھلاو

    @KHANKASPAHI1

  • آزادی کی قدر کریں  تحریر: تماضر خنساء

    آزادی کی قدر کریں تحریر: تماضر خنساء

    یہ وطن ____یہ پاک سر زمین ! جہاں آج ہم آزاد
    فضاؤں میں سانس لیتے ہیں، جہاں مسلمان ہو یا کوئ عیسائ اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارتا ہے، کوئ زبردستی نہیں ہے، کوئ خوف نہیں ہے، یہ وطن کس قدر قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا، کس قدر جانوں کا تاوان وصول کیا اس مٹی نے ہم سوچ بھی نہیں سکتے!
    جی ہاں آج ہم ان آزاد فضاؤں میں سانس تو لیتے ہیں مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ مسلمانوں نے اس وطن کو حاصل کرنے کیلیے اپنا سب کچھ قربان کردیا، اپنی جانوں کو جوکھم میں ڈالا، اپنے خاندان قربان کردیے، اپنا چین و سکون چھوڑدیا بس اس آزاد مٹی کی خاطر! جہاں اُنکی آنے والی نسلیں آزاد ہوں، جہاں اسلام کا نام لینے والے کلمہ پڑھنے والے آزادی سے اپنے رب کے حکم بجالاسکیں، جہاں امن و آشتی کا دور دورہ ہو، جہاں انصاف کا ترازو سب کو برابر تولتا ہو، جہاں حاکم عادل ہو_______
    مگر ان عظیم لوگوں کی آنے والی نسلیں یعنی کہ ہم! ہم تو اس سرزمین کی اہمیت ہی نہیں سمجھتے اور یوں آزادی کی اس دولت کو گنواتے جارہے ہیں کہ ہمیں احساس تک نہیں ہے _____ہم بھول گئے کہ یہ وطن یونہی نہیں حاصل ہوا، بلکہ اسکو حاصل کرنے کیلیے خون کے نذرانے پیش کیے گئے تب کہیں جاکر آج ہمیں یہ آزاد وطن ملا، ہم بھول گئے قائد کے نصب العین کو، ہم بھول گئےاِن قربانیوں کو، ہم نے سب کچھ فراموش کردیا______آج اس وطن میں برائ کی جڑیں بنانے والے ہم خود ہوگئے، آج ہم نے اپنے وطن کی جڑیں خود ہی کھوکھلی کرنا شروع کردیں، جس وطن نے ہمیں نام دیا، مقام دیا، ہمیں عزت دی، آج اسی وطن کو ہم نے غیروں کے ہاتھوں میں سونپ دیا ہے ______
    یہ وطن جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا، جس سے کفار پہ لرزہ طاری ہوگیا کہ آج اس زمین پہ ایسی مملکت وجود میں آچکی ہے جسکی بنیاد ہی” لاالہ الا اللہ محمد الرسول اللہ ” ہے،ہم نے اسکی بنیاد کو ہی پروان نہیں چڑھنے دیا ____ اپنے وطن کے ساتھ دشمن سے بھی بڑھ کر برا سلوک کیا، پہلے اسکا ایک بازو الگ کردیا گیا تب بھی ہمیں ہوش نہ آیا اب بھی ہم مدہوش ہیں_______
    ذرا سوچیے یہ آزاد سرزمین نہ ہوتی تو آج کشمیر کی طرح کا حال ہوتا ہمارا، ہماری جانیں محفوظ نہ ہوتیں، ہماری ماؤں بہنوں کی عصمتیں دن کے اجالے میں بھی تار تار ہوتیں ، جہاں سانس لینا ایک کلمہ گو کیلیے حرام کردیا جاتا، ہر وقت کا کرفیو ہر وقت کا خوف ہمارے سروں پر مسلط رہتا ___ایک آزاد ملک میں رہنے کے باوجود ہم کہتے ہیں کہ ہم اب آزاد نہیں رہے تو اٹھیے اور فلسطین جائیے اور جاکر دیکھیے کہ غلامی کیا ہوتی ہے آزادی کیا ہوتی!
    ہم بھول گئے کہ ہم آزاد ہیں، بے بسی کی خود ساختہ بیڑیاں پہن کر اپنے ذہنوں کے غلام بنادیے گئے ہیں کہ آزاد ہو کر بھی ہم مجبور ہیں ____
    ہم نے اپنی ہی فوج کے خلاف سوشل میڈیا پہ محاذ کھول لیے بجائے اس کے کہ ہم انکے پیچھے کھڑے ہوتے ہم نے انہی پہ نقب لگانا شروع کردی_____ اس وطن کی زمام کار ایسے ہاتھوں میں ہم نے بار بار سونپی جن ہاتھوں نے اسے بڑھ چڑھ کر لوٹا، اس کی جڑیں کھوکھلی کرنا شروع کردیں کیونکہ ہم خود بھی تو اسی رستے پر گامزن ہیں _____ہمیں تو یہ بنا بنایا وطن جو مل گیا مفت میں بیٹھے بٹھائے، قربانیاں تو اُن لوگوں نے دیں جو گزر گئے______
    وہ کہتے ہیں نا کہ جو چیز آسانی سے مل جائے یا مفت میں ملے تو اسکی قدر کہاں رہتی ہے؟
    یہی ہماری بھی کہانی ہے ہمیں بھی آزادی کی قدر نہیں ہے، اس پاک سرزمین کی قدر نہیں ہے،اور جس چیز کی بے قدری کی جاتی ہے تو پھر وہ چھین لی جاتی ہے! ______
    ہوش میں آئیں اس سے پہلے کہ ہم آزاد نہ رہیں، قدر کریں اس، وطن کی، اُن قربانیوں کی جن کی وجہ سے آج یہ آزادی جیسی نعمت ہمیں ملی ہے وگرنہ کل کو یہ آزادی، یہ آزاد سرزمین نہ رہی تو سوچ لیجیے کہ ہمارا حال کیا ہوگا ____ہمارا حال تو فلسطینیوں سے بھی برا ہوگا ،ہمارا حال کشمیر سے کچھ زیادہ مختلف نہ ہوگا اس لیے قدر کیجیے اس مٹی کی اور کوشش کیجیے کہ جہاں تک ہوسکے اس وطن کو اور اسکی ساکھ کو فائدہ پہنچے ______ آزادی کا یہ دن ہر سال ہمیں یہی تو یاددلاتا ہے کہ ہمارا مقصد زندگی کیا ہے صرف” لا الہ الا اللہ "ہے اور یہی ہماری اور اس وطن کی کامیابی کی ضمانت ہے _________
    پاکستان کا مطلب کیا
    "لاالہ الا اللہ ”

    @timazer_K