Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • سی پیک سے چین کو کیا ملے گا تحریر اصغر علی                                                    

    سی پیک سے چین کو کیا ملے گا تحریر اصغر علی                                                    

    دنیا میں سوئس کینال راہداری کے بعد پاک چین راہداری یا  سی پیک ایک ایسا منصوبہ ہے جس میں پوری دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہے سوئس راہ داری ترکی کے کنٹرول میں ہے جو کہ براعظم ایشیا اور یورپ کو آپس میں ملاتی ہے مگر ادھر سب سے اہم سوال ایک پیدا ہوتا ہے کہ سی پیک منصوبے پر اربوں ڈالر لگانے والے چین کو کیا ملے گا اس کو سی پیک سے کتنا فائدہ ہوگا سی پیک ایسا منصوبہ ہے جو پاکستان کے گوادر بندرگاہ سے شروع ہوتا ہوا چائنا جاتا ہے سی پیک صرف پاکستان کا ہی نہیں بلکہ چائنا کی بقا کا بھی مسئلہ ہے چین اپنی اشیاء کی خرید وفروخت اور تیل کی خرید و فروخت کے لیے جو راستہ سی پیک سے پہلے استعمال کرتا ہے وہ راستہ آبنائے ملاقا کا سے ہو کر گزرتا ہے جنوبی چین کے سمندری راستے جہاں فلپائن ویتنام جاپان اپنی ملکیت کا دعوی کرتے ہیں ان تینوں ملکوں کا یہ کہنا ہے اور ماننا ہے کہ جنوبی چین میں جو سمندر لگتا ہے وہ ہماری ملکیت ہے اس میں کچھ حصہ فلپائن کے قبضے میں ہے کچھ ویت نام کے قبضہ میں اور ایک بڑے حصے پر جاپان اپنی ملکیت کا دعوی کرتا ہے یہ سمندر جس کو آبنائے ملاکا کے نام سے دنیا جانتی ہے اور اسی آبنائے سے چین کی سب سے بڑی تجارتی سپلائی لائن گزرتی ہے اب یہاں پر ایک مسئلہ یہ ہے کہ یہ تینوں ہی ملک یعنی کے جاپان ویتنام اور فلپائن ان تینوں کے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں اور امریکا کے ساتھ اتحادی بھی ہے یہی وجہ ہے کہ چین ان تینوں ملکوں کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے چین کا یہ بھی ماننا ہے کہ کسی بھی چھوٹی سے چھوٹی جنگ کی صورت میں یہ سپلائی لائن بہت آسانی سے بند کی جا سکتی ہے کیونکہ یہ سپلائی لائن ان تین ملکوں کے ساحل سے ہوکر گزرتی ہے اس کے برعکس اگر ہم دوسری طرف دیکھیں تو سی پیک سے پہلے پاکستان کے پاس بھی اسی طرح کی تجارتی سپلائی کے لیے ایک ہی راستہ موجود تھا جو کہ کراچی میں ہے انہی مشترکہ اہداف کی وجہ سے چین اور پاکستان نے چین-پاکستان راہداری منصوبے  پر کام کرنا شروع کیا جس کا نام  سی پیک رکھا کیا اور اس منصوبے کے ساتھ ہی چین کا سب سے بڑا مسئلہ گرم پانی کا وہ بھی حل ہوگیا یا اب چین بلا خوف و خطرگرم پانی اپنے ملک لے جا سکتا ہے اور استعمال کر سکتا ہے سی پیک میں اتنا زیادہ دلچسپی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ چین اپنے علاقوں کو ایک ساتھ ترقی دینا چاہتا تھا کیونکہ مشرقی چین دنیا بھر کی ہر سہولت سے آراستہ ہے وہی مغربی چین کی بہت ساری ریاستوں میں غربت نے اب بھی ہندوستان کی طرح ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں اپنی ریاستوں کو ترقی دینے کے لیے چین سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ جیسے منصوبوں پر کام کر رہا ہے کیونکہ یہی وہ منصوبے ہیں جن پر کام کر کے  چین ان علاقوں سے غربت کو ختم کر سکتا ہے کیونکہ جیسے ہی مغربی چین ترقی کی راہ پر گامزن ہوگیا تو چین ترقی یافتہ ملکوں کی دوڑ میں پہلے نمبر پر آ جائے گا یو اس کا دنیا پر حکمرانی کرنے کا خواب اور سپرپاور سٹیٹس حاصل کرنے کا خواب بھی پورا ہو سکتا ہے یہاں پر وہ کہاوت تو آپ نے سنی ہی ہوگی کہ دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے کیوں کہ ہندوستان اس خطے میں پہلے ہی بہت بدامنی پھیلا چکا ہے اور ایک سائیڈ پر وہ چائنا اور دوسری طرف وہ پاکستان کے خلاف زہریلے بیان جاری کرتا رہتا ہے اور اکثر رات کی تاریخی میں چھپ کر وار بھی کرتا رہتا ہے جس کی وجہ سے پاکستان اور چین کا یہ منصوبہ سی پیک اور  ون بیلٹ ون روڈ اس کا سب سے بڑا مخالف بھی ہندوستان اور امریکہ ہیں جبکہ چین یہ سب چیزوں کو اچھی طرح سمجھتا ہے اور اس نے مخالفین کے منہ بند کرنے کے لئے اپنے ساتھ روس اور ترکی جیسے ملکوں کو بھی شامل کرلیا ہے کیوں کہ سی پیک  چین سے شروع ہو کے پاکستان سے ہوتا ہوا گوادر بندرگاہ تک جاتا ہے اور ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ جو کہ چین کی مغربی ریاستوں سے شروع ہوکر پاکستان ایران اور ترکی سے ہوتا ہوا یورپ تک جاتا ہے ون بیلٹ ون روڈ سے پاکستان اور چائنا باآسانی اپنی مصنوعات کو یورپ کے بازاروں میں فروخت کر سکتے ہیں جہاں پاکستان کو سی پیک سے بہت زیادہ فائدہ ہوگا وہاں پے اس کے کچھ منفی اثرات بھی  ہے جس میں چائنا کا بلا ججھک پاکستان کے اندر انٹر  ہونا ایران اور ترکی تک پاکستان سے روڈ کا جانا کیونکہ کہ ایران سے کافی زیادہ دہشتگرد پاکستان میں آ سکتے ہیں اب آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ یہ دونوں منصوبے پاکستان کو کس طرح اور کتنا فائدہ دیتے ہیں

    Asghar Ali is digital media journalist, Columnist and Writer who writes for baaghitv.com.
    for more info visit his  

     Twitter account @Ali_AJKPTI 

  • بابل کے آنگن میں مہکتی چڑیاں تحریر ۔فرزانہ شریف

    بابل کے آنگن میں مہکتی چڑیاں تحریر ۔فرزانہ شریف

    کہتے ہیں جب دو انسانوں کا نکاح ہوتا ہے تو اللہ تعالی ان دونوں کے دل میں ایک دوسرے کے لیے اٹوٹ محبت ڈال دیتا ہے جس میں وقت کے ساتھ اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے ۔نکاح کے بولوں میں برکت ہی ایسی ہوتی ہے ۔۔
    نئی شادی شدہ لڑکی کو جوائنٹ فیملی سسٹم میں ایڈجسٹ ہونے میں کچھ وقت لگتا ہے ظاہر ہے اس کے لیے سسرال کا ماحول ٹوٹل مختلف ہوتا ہے اس کے میکے سے
    اگر تو لڑکی اکلوتے بیٹے کی بیوی بنتی ہے پھر تو اس کو اتنی محنت نہیں کرنی پڑتی ایڈجسٹ ہونے میں کیونکہ گھر میں صرف ساس سسر اور شوہر کے کام خوشی خوشی انجام دے کر ان کی آنکھوں کا تارا بننا بہت آسان کام ہے لیکن۔بعض لڑکیوں کو بھرا سسرال ملتا ہے جہاں شوہر کے بہین بھائی ماں باپ سب مل کے رہ رہے ہوتے ہیں تو لڑکی کو سب کے مزاج سمجھنے میں کچھ وقت لگتا ہے ۔ایسے وقت میں دونوں کی برداشت کا امتحان ہوتا ہے کہ خوش اسلوبی سے ایک دوسرے کے نظریات عادات کو سمجھنا ۔عزت دینا ۔عزت لینا دونوں طرف سے اس کا عملی مظاہرہ ہوتب ہی بات بنتی ہے ورنہ شروع دن سے اگر نئی آنے والی دلہن کو پریشر میں رکھ لیا جائے تو پھر نہ صرف وہ ذہنی طور پر کبھی آپ کے قریب نہیں آسکتی بلکہ اسے جب بھی موقع ملتا ہے جب وہ کچھ خودمختار ہوتی ہے اس کے دل میں آپکے ساتھ گزارا ہوا وقت ذہین کے ایک کونے میں کسی فلم کی طرح محفوظ ہوجاتا ہے جو وہ خود بھی کوشش کے باوجود نہیں نکال پاتی تو لڑکی کے دل میں ایک ایسی گانٹھ سی لگ جاتی ہے کہ پھر آپکا خلوص محبت بھی اس کو دکھاوا نظر آتا ہے۔۔تو کوشش یہ کرنی چاہئیے شروع دن سے لڑکی کو یہ احساس دینا چاہئیے کہ آپ اس گھر کی بہو ہو ہم بہت خوشی چاو سے آپکو اپنے بیٹے سے بیاہ کر لائے ہیں یہ آپکا گھر بھی اتنا ہی ہے جتنا یہاں رہنے والے باقی لوگوں کا ہے تو یقین کیجئے یہ چند الفاظ اس لڑکی کے لیے جینے کی وجہ بن جائیں گے پھر پوری ذندگی اس کے دل سے آپکی محبت عزت قدر کم نہیں ہوگی ۔
    اسے بیٹی جیسا پیار دیں کہ اپنی بیٹیاں تو دوسرے گھر چلی جاتی ہیں بہو ہی اصلی بیٹی ہے اگر تو وہ نسلی ہوئی آپکی دی گی عزت محبت خلوص آپکو دگنا کرکے لوٹائے گی
    بقول شاعر کے
    "میں نے ہر حال میں مخلوق کا دل رکھا ہے
    کوئی پاگل بھی بنائے تو میں بن جاتی ہوں…”
    اور اگر خدانخواستہ کم ظرف ہوئی تو ایک سبق کی طرح آپکو کبھی نہیں بھولے گی ۔۔
    لڑکی کو بھی چاہئیے جب اس کی شادی ہوجاتی ہے اگلے گھر کو اپنا گھر سمجھے شوہر کے والدین بھائی بہین سے اتنی ہی عزت پیار سے پیش آئے جیسے اپنے والدین اور بہین بھائیوں کے ساتھ پیش آتی ہے پھر ان شاءاللہ کوئی کم ظرف ہی ہوگا جو اس لڑکی کی قدر عزت نہیں کرے گا۔۔
    شوہر کو چاہئیے لڑکی کے والدین بہین بھائیوں سے اتنی محبت پیار سے پیش آئے جتنی وہ چاہتا ہے اس کی بیوی اس کے ماں باپ بہین بھائیوں کے ساتھ پیش آئے ۔تو کوئی وجہ نہیں دشمن بھی اختلافات ڈالنے آپکے درمیان آنے کی جرآت نہیں کرسکے گا ۔۔ویسے بھی کہتے ہیں میاں بیوی کے درمیان اختلاف غلط فہمی ڈالنے والا شیطان ہوتا ہے اللہ ایسے شیطانوں سے ہر مسلمان کو پناہ دے۔۔
    یورپ کی بات نہیں کرتی یہاں عورت کو اتنی آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنی ذندگی آسان بنانے کے لیے سب کچھ کرسکتی ہے مرد دو بیویاں نہیں رکھ سکتا اگر رکھے تو اس پر کیس بن جاتا ہے اور جیل کی ہوا کھانی پڑجاتی ہے اس وجہ سے اس معاملے میں عورت کو کوئی ٹینشن نہیں ہوتی کسی بھی قسم کی ۔۔ یہاں کا قانون بہت سخت ہے عورت کی ذندگی بنسبت پاکستان کے بہت آسان ہے ۔۔پاکستان میں لڑکی ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرتی ہے مشکل سے مشکل وقت بھی اپنے سسرال میں گزارنے پر مجبور ہوجاتی ہے بعض اوقات اور مشکل حالات میں بھی شوہر سے علیحدگی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی ۔ اگر قسمت میں اچھا سسرال لکھا ہو تو وہ الگ بات ہے ورنہ سب تو نہیں کچھ لڑکیاں اپنی ساری ذندگی درد تکلیف برداشت کرتے گزار دیتی ہے اپنی ضروری خواہشات کے اصول کے لیے اس کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں ہوتے کہ وہ انھیں پورا کرسکے اور شوہر کا دوسری شادی کا ڈر اسے آدھ موا کرکے رکھ دیتا ہےاس سب کے باوجود اپنے والدین بہین بھائیوں کے سامنے اف بھی نہیں کرتی کہ مذید مسائل نہ پیدا ہوجائیں اس کی ذندگی میں ۔۔ایسی لڑکیوں کے لیے میرا مشورہ ہے اپنے ساس سسر کو سب سے پہلے اپنا گرویدہ بنائے اپنے لیے ایک مضبوط ترین قلعہ بنائے آزمودہ بات ہے آپ جب ساس سسر کا دل جیت لیں گی آپکو کوئی بندہ پھر تنگ کرنے کی جرآت نہیں کرسکے گا گھر میں دو مضبوط ووٹ آپکے حامی ہوں گے تو شوہر جتنا مرضی رشتہ داروں کے پریشر کی وجہ سے آپ سے دور ہوا گا پلٹ کر آپکی طرف آجائے گا پھر باقی لوگ بھی آپکی خوبیوں کی تعریفیں کرتے نظر آئیں گے جو چراغ سے بھی آپکو خود میں نظر نہیں آئیں گی ۔۔
    اگر آپکا شوہر مالی طور پر کمزور ہے آپ اس کا ہاتھ بٹانے کے لیے کوئی جاب کرلیں یا پھر گھر میں ایسے کام لینے شروع کردیں جن سے آمدن ہونی شروع ہوجائے اگر آپ پڑھی لکھی ہیں لیکن شوہر نہیں چاہتا آپ باہر جاکر کام کریں تو گھر میں اپنی تعلیم کے حساب سے لوگوں کوٹیوشن دینی شروع کردیں۔اگر آپ تعلیم یافتہ نہیں کوئی ہنر ہے آپکے ہاتھ میں تو اپنے ہاتھ کے ہنر سے اپنے شوہر کا ہاتھ بٹائیں یاد رکھیں مشکل وقت ٹھہرتا نہیں لیکن اپ کا مشکل وقت میں اپنے شوہر کا ساتھ دیا ہوا وہ کبھی نہیں بھولے گا اپ کا ہوکر رہ جائے گا کبھی آپ سے بےوفائی نہیں کرے گا ۔بس اپنی نیک نیتی سے اپنا مشن جاری رکھیں کامیابی اللہ سبحان تعالی دیں گے ان شاءاللہ پانچ وقت کا خود کو عادی بنالیں کوشش کریں با وضو ہوکر بسمہ اللہ پڑھ کر اپنے صاف ستھرے ہاتھوں سے اپنی فیملی کے لیے کھانا بنائیں وہ کھانا نہ صرف مزیداراور برکت والا ہوگا بلکہ وہ کھانا جب آپکی فیملی کے پیٹ میں جائے گا تو ان کے دلوں میں آپکے لیے محبت پیار پیدا ہوگا اور ایک خاتون خانہ کے لیے یہ پیار محبت کسی اعزاز سے کم نہیں ہوگا ۔۔
    میرے لکھے ہوئے پچھلے آرٹیکل کے حوالے سے دل میں کچھ خلش سی ہے اس کی تصحیح کرنا چاہتی ہوں کہ شادی کے حوالے سے جو میں نے الفاظ لکھے تھے

    "لوگ کیا کہیں گے "کے خوف نے معاشرے میں جہاں اور بہت سی مشکلیں پیدا کی ہوئیں ہیں وہاں دوسری شادی کرنے کو کچھ لوگ جرم سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے یہ جرم کردیا تو لوگ باتیں کریں گے ۔میں کہتی ہوں کرنے دیں باتیں جو آپ کے پیارے ہوں گے آپ کے مخلص ہوں گے وہ آپکو دوسری شادی سے کبھی منع نہیں کریں گے بلکہ اس نیک کام میں آپکی مدد کریں گے ایک شرعی رشتہ اپنانے میں آپکی مدد کریں گے۔۔یہ ان لوگوں کے لیے الفاظ لکھے تھے جن کی ایک شادی ٹوٹ گی ہے یا پھر ان کی بیوی فوت ہوگی ہے یا شوہر فوت ہوگیا ہے تو لوگوں کی باتوں کے ڈر سے وہ دوسری شادی کرنے سے ڈرتے ہیں ۔۔جبکہ نکاح کرنا سنت ہے ذندگی ایک انسان پر ختم نہیں ہوجاتی کہ جان کا روگ بناکر اپنی ذندگی ہی تیاگ دی جائے۔اگر اپ کی کسی وجہ سے شادی کامیاب نہیں ہوتی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ذندگی کی خوشیوں کے دروازے خود پر بند کرلو یہ اللہ کی ناراضگی مول لینے کے مترادف ہے ذندگی بہت خوبصورت ہے اس کا ایک ایک پل انجوائے کرنے کا ہر انسان کا حق ہے اور انجوائے کرنی بھی چاہئیے کون سا ہم نے روز روز دنیا میں آنا ہے اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ذندگی بھرپور انجوائے بھی کرنی۔ چاہئیے۔۔!!!

  • تعلیمی انقلاب یا تعلیمی بحران؟ خودکشی کرنے والے پنجاب بورڈز کے دو سٹوڈنٹس کا معصومانہ سوال تحریر ناصر بٹ

    @mnasirbuttt

    پنجاب میں تعلیمی انقلاب نہیں تعلیمی بحران آنے کو تیار ہے، دو سٹوڈنٹس پنجاب بورڈز کی نااہلی کی وجہ سے ایک بہتر مستقبل کا خواب آنکھوں میں سجائے آنکھیں بند کر گئے، ہزاروں اس سوچ میں ہیں کہ اگر بورڈ نے ہاتھ نہ پکڑا تو شائد وہ زندگی سے ہاتھ دھونے پر مجبور ہوجائیں، اس ساری صورتحال میں بورڈ حکام خاموشی کی نیند سے بیدار ہونے کو تیار نہیں، اگر ہزار کوشش کے بعد بات کا موقع مل بھی جائے تو یہ کہ کر معاملہ ختم کیا جارہا ہے بورڈز کی جانب سے بہترین نتائج دینے کی کوشش کی گئی ہے لیکن چیکر کی جانب سے دئیے گئے مارکس کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا، اب کون نہیں جانتا کہ ان بورڈز میں چیکر کس طرح 18 روپے فی پیپر کی گیم میں زیادہ سے زیادہ پیسے بنانے کی ریس میں کس طرح اپنے ہاتھوں سے بچوں کے مستقل کو کچلتے ہوئے پیسہ بناتے ہیں اور اس بار تو 5 فیصد اضافی نمبرز کا فارمولہ، صرف تین سائنسی سبجیکٹس اور باقی فارمولہ کی بنیاد پر مارکس کی بے دریغ تقسیم یعنی بہتی گنگا میں بڑے بڑے تعلیمی اداروں کی خوب ڈبکیاں لگوائی گئیں، جس کو دیا گیا چھپڑ پھاڑ کر کہ ایک ہی سکول ایک ہی کلاس کے 30 بچوں کے 1100 میں سے 1100 آگئے لیکن دوسری جانب میٹرک میں 90 فیصد سے زائد نمبرز لینے والوں کو جیسے کہیں کا نہ چھوڑا گیا کوئی 40 فیصد کوئی 42 فیصد پر آگرا، اب معاملہ کچھ یوں ہے کہ سال تو ضائع ہو ہی گیا لیکن جوا شروع کر دیا گیا یعنی آفر کچھ یوں دی گئی کہ اگر آپ کو بورڈ کی جانب سے دئیے گئے نمبرز پسند نہیں تو آپ ایک حلف نامہ جمع کروائیں اور بورڈ حکام کے نام درخواست دیں جس میں آپ یہ تحریر کریں کہ موجودہ نتائج غیر تسلی بخش ہونے کی وجہ سے میں یہ نتیجہ قبول نہیں کرنا چاہتا اس لیے اسے کینسل کرتے ہوئے مجھے دوبارہ نومبر میں ہونے والی حکومت کی خصوصی مہربانی کی بدولت سپیشل امتحانات میں بیٹھنے کا موقع دیا جائے یہاں تک سب بظاہر ٹھیک ہوتا ہے لیکن معاملہ کچھ یوں ہے کہ اگر آپ نومبر میں بھی بورڈ چیکرز کی نااہلی کا نشانہ بن گئے تو واپسی کا راستہ نہیں ہوگا، ہاں یہ ضرور ہے کہ آپ کو آئندہ سال امپروومنٹ کا چانس ملے گا لیکن ممکنہ طور پر کتابیں بھی 12 ہونگی اور سلیبس بھی پورا۔۔۔ اب معاملہ یہ ہے کہ میٹرک میں 94 فیصد والوں کو جب 39 فیصد کی خبر ملی تو ان کی جانب سے جینے کی امید چھوڑ دی گئی باقی دوسری جانب ایسے خوش نصیبوں کی تعداد بھی تھوڑی نہیں جن کو میٹرک کے تھوڑے نمبرز کے باوجود انٹر میں ٹاپ پوزیشنز سے نواز دیا گیا، اب صورتحال کچھ یوں بن چکی کہ بظاہر خوش نظر آنے والے ٹاپرز بھی اندر سے پریشان ہیں ان کو لگتا ہے کہ اگر بورڈ کی جانب سے کوئی انکوائری ہو گئی تو خوشیاں واپس جانے کے امکانات ہیں، بورڈ حکام سے امید تھی کہ انٹر کے بعد میٹرک میں وہی کارنامے سرانجام دینے کا عمل دہرایا نہیں جائے گا لیکن میٹرک میں تو ریکارڈز ہی توڑ ڈالے گئے مارکس کی بندر بانٹ بالکل اسی طرز پر ہوئی یعنی ایک مخصوص سوچ کو نواز دیا گیا اور باقیوں کو کوڑیوں سے داموں بیچ دیا گیا، موجودہ صورتحال میں تبدیلی سرکار کے بلندوبانگ دعوے پھیکے پڑتے نظر آتے ہیں تعلیم کے میدان میں انقلاب برپا کرنے کی دعویدار بزدار سرکار اس ساری صورتحال میں بھنگ کے نشے میں چور دکھائی دیتی ہے مریم نواز کے فیصل آباد جلسے پر تبصرے کرنے کے لیے تمام حکومتی وزرا کی فوج تیاری کے ساتھ پریس کانفرنس، ٹاک شوز میں تقاریر جھاڑتی نظر آتی ہے سوشل میڈیا پر ہر دو منٹ بعد ایک نیا فلسفہ متعارف کرواتے ہوئے نیا بیان بھی داغ دیا جاتا ہے لیکن قوم کے مستقبل پر بات کرنے کو بظاہر کوئی تیار نظر نہیں آتا، حکومت کی مجرمانہ خاموشی کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ لاکھوں سٹوڈنٹس ایک بار پھر سڑکوں پر ہونگے لاکھوں سٹوڈنٹس ایک بار پھر سوشل میڈیا پر وزیراعظم کو مدد کی اپیل کرتے نظر آئیں گے لاکھوں سٹوڈنٹس ایک بار پھر احتجاج، دھرنے اور پولیس کی لاٹھیوں کا نشانہ بنتے نظر آئیں گے اس کے بعد کہیں جاکر پنجاب حکومت شائد کوئی کمیشن کوئی انکوائری کمیٹی بنا دے اور ایک نیا لولی پاپ بچوں کو تھما دیا جائے، کیا ہی اچھا ہو کہ وزیراعظم عمران پنجاب میں اپنے وسیم اکرم یعنی بزدار صاحب کو معاملے کی انکوائری کی ہدایات کریں اور دونوں لاڈلے وزرائے تعلیم مراد راس اور ہمایوں سرفراز کی سربراہی میں ایک ٹیم بنا دی جائے جس میں ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے افسران خصوصا ڈپٹی سیکرٹری بورڈز اور پی بی سی سی کے دیگر عہدیداروں کو حصہ بنا کر ایک انکوائری کر لی جائے جس میں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا یہ نہ ہوا تو بورڈز کے ان نتائج کے اثرات دورس ہونگے اور اثرات صرف کم مارکس والے بچوں کی نہیں فل مارکس والے بچوں کی زندگیوں پر بھی اثر انداز ہونگے اور سب سے بڑھ کر پنجاب بورڈز کی ساکھ بھی شدید متاثر ہوگی اب فیصلہ حکومت کے ہاتھوں میں ہے

  • پاکستان اور اس کی سیاست تحریر : ڈاکٹر وسیم ریاض ملک

    پاکستان علامہ اقبال کا خواب تھا اور اس کو قائد اعظم محمد علی جناح نے پورا کیا پاکستان کی سیاست تو بہت پہلے سے چل رہی تھی ہندوستان میں لیکن سب سے مقبول لیڈر قائد اعظم محمد علی جناح ہی پیدا ہوئے انہوں نے دو قومی نظریہ پیش کیا اور مسلمانوں کو آگاہ کیا کہ ہندو اور مسلمان کبھی بھی ایک ساتھ نہیں رہ سکتے کیونکہ قائد اعظم محمد علی جناح یہ بھانپ چکے تھے کہ ہندو ہمیشہ مسلمانوں کو دبانے کی کوشش کریں گے اس لیے قائد اعظم محمد علی جناح نے دو قومی نظریہ پیش کیا اور اسی پر ڈٹ گئے اور اس کا یہ فائدہ ہوا 14 اگست 1947 کو پاکستان قیام میں آگیا لیکن لیکن اندر ان کا اعظم محمد علی جناح کی طبیعت بہت خراب ہوتی تھی لیکن قائد اعظم نے اس کا بھی اندازہ کسی کو نہیں ہونے دیا تاکہ ہندو اور انگریز کسی چیز کا بہانہ بنا کر اس کو دیر نہ کریں اور نہ ہی پاکستان کو بننے میں دیر ہو اور نہ ہی  میرے دشمنوں کو پتہ چلا کہ میں کمزور ہوں۔ انیس سو سینتالیس سے لیکر آج تک بہت سے سیاستدان آئے سب نے یہی دعوی کیا کہ ہم قائد اعظم محمد علی جناح کے راستے پر چلیں گے لیکن ان میں سے کچھ لوگ ہی چل پائے اور باقی سب اپنی عیش و عشرت اور کرپشن میں لگ گئے جیسے ذوالفقار علی بھٹو کو عظیم الفاظ میں یاد کیا جاتا ہے کہ ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے قادیانیوں کو کافر قرار دے دیا ان کے بعد بے نظیر بھٹو آئی ان کا بھی شمار ایک بہت اچھے لیڈر میں کیا جاتا ہے اور ان کے بعد آج ہمارے پاس عمران خان ہے جو دنیا میں مقبول ترین لیڈر ہیں لیکن اس سے پہلے اب میں ایک نظر ان پر بھی ڈالنا چاہوں گا جن کو لوگ کرپشن میں یاد رکھتے ہیں جن کو لوگ چوروں کے نامہ یاد رکھتے ہیں ان میں سب سے پہلا نام نواز شریف اور شریف فیملی کا ہے یہ وہ لوگ ہیں جو منہ پر جھوٹ بولتے ہیں اور جب سچ سامنے آتا ہے تو اپنے الفاظ ایسے چینج کرتے ہیں کہ جیسے ان جس سے انسان ہی کوئی نہیں مجھے تو ان کی سوچ پر شرم آتی ہے اس شریف خاندان کو سپورٹ کرتا ہے جب نواز شریف کو نااہل کیا گیا اور آج نواز شریف لندن میں بیٹھ کر دوسرا الطاف حسین بن گیا ہے پہلے الطاف حسین لندن میں بیٹھ کر کراچی میں تقریریں کرتا تھا اب نواز شریف لندن میں بیٹھ کر اپنی پارٹی سے تقریریں کرتا ہے اور افسوس صد افسوس کہ یہی وہ لوگ ہیں جو چوروں کو سپورٹ کرتے ہیں اس کے بعد الطاف حسین اور ایسے دیگر سیاستدان جو آج بھی موجود ہیں ان کو چوروں کے نام سے اور دوغلے پن کی وجہ سے لوگ جانتے ہیں نام تو سب جانتے ہیں کہ ہم قائد اعظم محمد علی جناح کے راستے پر چلتے ہیں لیکن وہ سب صرف اپنے آپ کو تسلی دے رہے ہوتے اور عوام کو دلاسہ حالانکہ وہ صرف اپنے آپ کے لیے اور اپنے خاندان کے لیے پیسے جمع کر رہے ہوتے ہیں تاکہ مجھے اس دنیا سے جائیں تو ان کے ساتھ پتے بیٹھ کر کھائے آج امیر کے لیے اور قانون ہے غریب کے لیے اور قانون ہے سیاستدان قانون اپنے ریسورسز استعمال کرتے ہوئے قانون سے بچ جاتے ہیں اور غریب بچارے کو انصاف نہیں ملتا یہ تو قائداعظم کا خواب نہیں تھا قائد اعظم کا خواب تھا کے غریب کو امیر کو یکساں کا نور میسر ہوں آج پاکستان کے اندر تہمت لگانا تو ایک عام سی چیز ہو گئی ہے طوطے سب میڈیا والے بااثر شخصیت و پر لگاتے ہیں لیکن قانون نہ ہونے کی وجہ سے ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جا سکتا اور اگر غلطی سے کوئی قانون بنانے لگتا ہے اس کا تو یہ سارا مافیا ان کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے آج ہم سب اپنے آپ میں ہی غرق ہے دل کو تسلی دینے کے لیے کہتے ہیں کہ ہم قائد اعظم کے قدموں پر چل رہے ہیں اب پاکستان میں سیاست صرف اور صرف طاقت اور ہوس کے لئے رہ گئی ہے

    Twitter Handle : WaseemjuttMalik

  • ایک بوند زندگی  تحریر : سید وسیم

    twitter / @S_paswal 
     

    وہ شخص سنسان صحرا میں پیاس کی شدت سے نڈھال بیٹھا کسی معجزے کا انتظار کر رہا تھا ۔ گرمیوں کی تیز دھوپ میں صحرا کے میدان میں پانی کی تلاش ۔ یہ تو ایسا ہی تھا کہ کسی مردے کو جگانا ۔ 

    ‏پانی قدرت کی ایک بہترین نعمت ہے جو فقط انسانوں کے لئے نہیں بلکہ جانوروں کے لئے بھی اتنی ہی اہمیت کی حامل ہے ۔ پانی کے بغیر زندگی کا تصور بھی ممکن نہیں ۔ کائنات کی تکمیل سے لے کر انسان کی تشکیل تک پانی ایک ایسا عنصر ہے جسکی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ لیکن جب بھی انسان کسی شے کا بے دریغ استعمال کرتا ہے تو قدرت کو یہ چیز پسند نہیں آتی ۔ اب غلط استعمال کی وجہ سے پانی کی قلت کے خطرات منڈلا رہے ہیں ۔ 

    ‏لفظ پانی دراصل سنسکرت سے ماخوذ ہے۔ انگریزی میں’ واٹر’، فارسی میں’ آب’ اور عربی میں’ ماء’ کہاجاتا ہے۔ ایک تحقیق کےمطابق زمین کا 70.9 حصہ پانی سے گھرا ہوا ہے۔ ارسطونے اس کائنات کو آگ ، مٹی ہوا اور پانی کا مجموعہ قراردیا ہے ۔کائنات کی تشکیل میں پانی کا اہم حصہ ہے ۔

    ‏پانی کا مسئلہ نیا نہیں یہ مسئلہ تو شروع سے چلا آ رہا ہے کبھی اسی پانی کے چشمے پھوٹے تو کبھی اس کے کنوؤیں غریبوں میں بانٹ دئیے گئے ۔ اسی طرح یہ مسئلہ پاک و ہند کا بھئ ہے ۔ فقط یہی نہیں یہ مسئلہ تو پوری دنیا کا ہے شاید ۔ کیونکہ دریائے نیل  ترکی مصر اور دیگر ممالک میں مسائل کا سبب ہے ۔ یہ بات بھی ممکن ہے کہ تیسری جنگ عظیم کی وجہ پانی ہو۔ اس کے علاوہ زیر زمین پانی میں کمی زندگی کیلئے ایک خطرہ ہے ۔ پانی کی قلت اوراس سے متعلق اگاہی کیلئے ہر سال 22 مارچ کو منایا جاتا ہے اور اس مہم کا آغاز 1993 میں ہوا۔  22 مارچ یوم آب کہلاتا ہے ۔ اور اس دن پانی کو بچانے اور اس کے تحفظ پہ آگاہی دی جاتی ہے تدریسی اداروں میں سیمینار اور ورک شاپس منعقد کی جاتی ہیں ۔ 

    ‏اسلامی نقطہ نظر سے انسان کی پیدائش کو پانی سے جوڑا گیا ۔ انسان کی تکمیل پانی اور مٹی سے ہوئی ۔ اللہ تعالی نے بیشتر مقامات پہ انسان کی پیدائش کو پانی کے ننھے قطرے سے جوڑا ۔ لیکن یہ پانی وہ نہیں جو ہمارے ادر گرد موجود ہے یہ وہ خاص قطرہ ہے جسے مادہ منویہ کہا جاتا ہے ۔ پھر انسان یہی غور کر لے کہ اس کی پیدائش کس چیز سے ہوئی۔ ایک اُچھلنے والے پانی سے اس کی پیدائش ہوئی جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتاہے۔ ( الطارق 7,8) 

    ‏”پھر اس کی نسل ایک حقیر پانی سے چلائی” 

    ‏(السجدہ آیت نمبر 8) 

    ‏صرف یہی نہیں قران کریم کی گیا رہ آیات ایسی ہیں جن میں لفظ ماء کو انسان کی پیدائش سے جوڑا گیا ۔ اسکے علاوہ دین میں وضو ایک ایسا عمل ہے جس کے لئے پانی بہت ضروری ہے مگر کیونکہ ہمارا دین ہمیں ہر معاملے میں میانہ روی کا درس دیتے ہوئے اسراف اور بخل سے بچنے کا حکم دیتا ہے اس لئے وضو کرتے ہوئے بھی پانی کو ضائع کرنے سے منع فرماتے ہوئے میانہ روی کا درس دیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جہاں زندگی کے تمام پہلو پہ روشنی ڈالی وہی ہر معاملے میں درمیانی راستہ اختیار کرنے کا درس دیا ۔ اسلامی نقطہ نظر میں پانی کو طاہر یا امطہر کہا گیا اور اسے طہارت اور پاکیزگی سے جوڑا گیا ۔ پانی ایک ایسا عنصر ہے جس سے ہم پاکی حاصل کرتے ہیں ۔ یعنی ایسا پانی جو بے رنگ اور بدبو سے پاک ہو اسے پاک پانی کہا گیا اور اس سے طہارت کو جوڑا گیا ۔ 

    ‏آج ہمارے لئے ایک غوروفکر اور تشویش ناک کام یہ ہے کہ ہم ہر جگہ ہی اسراف کی زندہ مثال بنے بیٹھے ہیں ۔ آج گھر سے لے کر عبادت گاہ تک فیکٹری سے لے کر کارخانے تک ہر جگہ پانی کا ضیاء ہو رہا ہے ۔ پانی کا بے دریغ استعمال ہمیں اور ہماری زندگی کو ایک اور مقام پہ لے جائے گا ۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس پہ بہت غوروفکر کی کی ضرورت ہے ۔ پانی کی اہمیت اجاگر کرنے کیلئے بہت سی کتابیں لکھی جا چکی جن میں پانی، ایک خنجر پانی میں، بہاؤ، اور پانی پر نشان وغیرہ شامل ہیں ۔ عالمی سطح پہ ماحولیات سے متعلق بہت کام ہورہا ہے جس میں گرین انیشیٹو اور گرین ڈپلومیسی بھی سر فہرست ہیں ۔ جس میں پانی کی آلودگی سے لے کر پانی کے ضیاء پہ آگاہی فراہم کی جاتی ہے ۔ عالمی سطح پہ ابھی مزید کام ہونے کی ضرورت ہے ابھی اس معاملے میں عالمی اداروں کو ساتھ ملُکر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ تدریس گاہوں میں اس پہ بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ اداروں کو چاہیے کہ وہ طلبہ میں آگاہی پھیلائیں اس سلسلے میں تقاریب مرتب کی جائیں ۔ اور آگاہی مہم کی سب سے زیادہ ضرورت دیہی علاقوں میں ہے کیونکہ وہاں لوگ تعلیم یافتہ نہ ہونے کی وجہ سے ان چیزوں سے بے خبر ہیں ۔ پانی کا مسئلہ زندگی سے جڑا ہواہے۔ قرآن سے منسلک ہے ۔ حدیثوں میں اس کے متعلق احکامات ہیں ۔ کیوں کہ پانی وہ دھوری ہے جس کے ارد گرد ہماری زندگی کی چکی گھوم رہی ہے۔ تو آئیں ایک بوندہ زندگی کی اگلی نسل کیلئے بھی بچا کر رکھیں اور پانی جیسی نعمت کی قدر کریں ۔

  • چین کیسے معاشی اور فوجی سپر پاور بن گیا؟   تحریر: حماد خان

    چین کیسے معاشی اور فوجی سپر پاور بن گیا؟ تحریر: حماد خان

    جب چین کو آزادی ملی تو یہ ایشیا کے غریب ترین ملکوں میں سے ایک تھا۔بہت سے یورپی اور مغربی ممالک اس وقت چین کو ایک ملک بھی نہیں سمجھتے تھے. لیکن اب پچھلے ستر سالوں میں چین دولت اور فوج دونوں کے لحاظ سے ایک عالمی سپر پاور بن کر ابھرا ہے. چین اس مختصر وقت میں یہ کیسے کر پایا۔ آئیے اس مضمون میں دیکھیں.

    1987 میں چین کی فی کس جی ڈی پی 155 ڈالر تھی جو 2014 میں بڑھ کر 7590 ڈالر ہو گئی۔

    چینی معیشت پر ایک نظر, 

    چین دنیا کے 80 فیصد ایئر کنڈیشنر ، 70 فیصد موبائل فون ، 60 فیصد جوتے ، 74 فیصد سولر سیل ، 60 فیصد سیمنٹ ، 45 فیصد جہاز اور 50 فیصد سٹیل تیار کرتا ہے۔

    23.25 ٹریلین ڈالر کی جی ڈی پی کے ساتھ ، چینی معیشت دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن کر ابھری ہے۔ 2.2 ٹریلین ڈالر کی برآمدات کے ساتھ ، چینی معیشت امریکہ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کا نمبر ایک برآمد کنندہ بن گئی. 

    چین اپنی زمین پر 60 فیصد برانڈڈ لگژری سامان تیار کرتا ہے ، اس طرح اس تصور کو مسترد کرتا ہے کہ وہ صرف سستا سامان تیار کرتا ہے۔

    بڑے پیمانے پر پیداوار اور ڈمپنگ۔

    چینی معاشی اصلاحات نے ان کی پیداوار کو اتنے بڑے پیمانے پر بڑھانے میں مدد کی ہے کہ اس کی پیداواری لاگت بہت کم ہو گئی ہے۔ یہ بڑے پیمانے پر پیداوار کا گھر بن گیا ہے۔چینی صنعت کار اپنے وسائل اور توانائی کو جدت میں ضائع نہیں کرتے۔

    اس کے بجائے ، وہ ترقی یافتہ ممالک سے ٹیکنالوجی کاپی کرتے ہیں اور اپنی مصنوعات خود بنانا شروع کردیتے ہیں۔

    یہ ان کے اخراجات اور وسائل کو جدت ، R&D ، اور IPR پر بچاتا ہے۔چینی لیبر انتہائی پیداواری ہے. چینی حکومت نے صنعتوں کے ساتھ مل کر لیبر فورس کی مہارت کی ترقی پر کام کیا۔

    اس کے نتیجے میں چینی مزدوروں کی پیداوار ہندوستان کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔

    اس کے برعکس ، ہندوستان میں ، ہنر کی ترقی اتنی مؤثر طریقے سے نافذ نہیں کی گئی ہے۔ نتیجے کے طور پر ، زیادہ سے زیادہ لیبر فورس یا تو غیر پیداواری یا کم پیداواری ہے۔

    ہندوستانی مزدور ایک گھنٹے میں 10 موبائل بناتا ہے ، جبکہ چینی مزدور ایک گھنٹے میں 50 موبائل بناتا ہے. گزشتہ چند دہائیوں کے دوران ، چین دنیا بھر کی کمپنیوں کے لیے مینوفیکچرنگ یونٹ کے قیام کے لیے پہلی پسند بن گیا ہے۔

    اس کے برعکس ، بھارت نے ابھی مینوفیکچرنگ کلسٹر قائم کرنا شروع کیا ہے جس میں تجربہ کار ہنر مند مزدور پیدا کرنے میں وقت لگے گا ، جبکہ یہ چین کے ہر گھر تک پہنچ چکا ہے۔

    سیاسی استحکام مینوفیکچرنگ کی ایک مقبول منزل کے طور پر چین کے ابھرنے کی بنیادی وجہ ہے۔

    چین اپنے سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے بھارت کے مقابلے میں عالمی شراکت دار کے لیے زیادہ مستحکم سمجھا جاتا ہے۔ہندوستان میں ، بیوروکریٹک ریڈ ٹیپزم کی وجہ سے ، کاروبار شروع کرنے کے لیے کلیئرنس حاصل کرنے میں زیادہ وقت اور توانائی درکار ہوتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی سرمایہ کار بھارت آنے سے گریزاں ہیں. چین معاشی سپر پاور بننے کے پیچھے سب سے اہم عنصر اس کے تعلیمی نظام کے سوا کچھ نہیں ہے۔

    چین نے تعلیم کو مزید عالمی اور عملی بنا کر بڑی اصلاحات لائی ہیں۔

    دوسری طرف ، ہندوستانی تعلیمی نظام اب بھی اس کے گرد گھوم رہا ہے جسے برطانوی میراث کہا جاتا ہے۔

    اس کے نتیجے میں ، چین میں ہندوستان کے مقابلے میں شرح خواندگی زیادہ ہے اور وہ ہندوستان کے مقابلے میں ہر سال گریجویٹس کی زیادہ تعداد پیدا کرتا ہے۔

    . صنعتی نیٹ ورک کلسٹرنگ۔

    چین نے مختلف مصنوعات کی تیاری کے لیے صنعتی کلسٹروں کا وسیع نیٹ ورک قائم کیا ہے۔

    انہوں نے سپلائی چین شہروں اور کلسٹروں کو ایک ہی جگہ پر پروڈکٹ تیار کرنے کے لیے تیار کیا ہے۔

    مثال کے طور پر

    – موبائل فون بنانے کے لیے ، انہوں نے کلسٹر تیار کیے ہیں جہاں موبائل فون کے ہر حصے کو ایک ہی جگہ پر تیار کیا جاتا ہے۔

    بجلی کی لاگت

    چین میں ، بجلی بہت کم قیمت پر چوبیس گھنٹے دستیاب ہے ، جبکہ انڈیا میں صنعتی علاقوں میں گھنٹوں بجلی کی کٹوتی ہوتی ہے جس سے ان کی پیداواری صلاحیت متاثر ہوتی ہے.

    ایک نتیجے کے طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ چینی حکومت کے بہتر انتظام کی وجہ سے ، چینی رہنماؤں کی بہتر منصوبہ بندی کی وجہ سے چین خطے میں معاشی اور فوجی سپر پاور بن گیا۔ پاکستانی رہنماؤں کو اپنے چینی ہم منصبوں سے کچھ سبق لینا چاہیے تاکہ ہمارے پیارے ملک پاکستان میں اسی طرح کی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے. 

  • کینسر جسم میں کیسے سرایت کرتا ہے تحریر محمّد اسحاق بیگ

    کینسر جسم اور جسم کے خلیوں پر بنیادی ذہنی  دباؤ کی صرف ایک جسمانی علامت ہے۔  لیکن ذہنی  دباؤ جسم میں کینسر کا سبب کیسے بنتا ہے؟  اور ذہنی  دباؤ صرف کچھ لوگوں میں کینسر کا سبب کیوں بنتا ہے ، جبکہ دوسروں میں نہیں؟

     لوگوں کی اکثریت  ، تناؤ اور انتہائی دباؤ یا تکلیف دہ واقعات یا تنازعات کا مقابلہ نسبتا آسانی کے ساتھ کیا جاتا ہے۔  اگرچہ اس بڑی بیماری  کے لوگ تناؤ ، دباؤ والے واقعات ، صدمے اور تنازعات کے تباہ کن اثرات کو محسوس کرتے ہیں ، بشمول غم اور نقصان – دباؤ والے واقعات کو زندگی کے چیلنجوں ، زندگی کے اتار چڑھاؤ کے حصے کے طور پر دیکھا جاتا ہے ، اور وہ زیادہ تر متوقع اور  مکمل طور پر غیر متوقع نہیں.  یہ لوگ اپنی زندگی کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔

     جو لوگ کینسر کے لیے حساس ہوتے ہیں ، وہ زندگی کے دباؤ اور صدمے کے لیے انتہائی کمزور ہوتے ہیں ، اور جب آپ کی  زندگی اس راستے پر ڈال دیتی ہے تو اس کا مقابلہ کرنے سے قاصر محسوس کرتی ہے۔  یہ لوگ پرفیکشنسٹ ہوتے ہیں اور تنازعات ، دباؤ ، صدمے اور نقصان کے خوف میں رہتے ہیں اور ان کے ساتھ ہونے والے منفی واقعات سے شدید خوفزدہ رہتے ہیں ۔  اور جب کسی انتہائی دباؤ یا تکلیف دہ واقعے کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس کی توقع نہیں کی جاتی ، جو ان کی زندگی کے دوران لامحالہ ہوتا ہے ، منفی رد عمل کا اظہار کرتے ہیں اور اس سے نمٹنے کے قابل نہیں ہوتے ہیں۔

     وہ ناقابل تسخیر صدمے کا تجربہ کرتے ہیں اور تجربے سے شدید متاثر رہتے ہیں۔  انہیں اپنے اندرونی غم ، ان کے اندرونی درد ، ان کے اندرونی غصے یا ناراضگی کا اظہار کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، اور حقیقی طور پر محسوس کرتے ہیں کہ ان کے اندر جو درد ہے اس سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہوتا ۔  اور چونکہ ان کا ذہن یہ نہیں سمجھ سکتا کہ کیا ہوا ہے ، اور پریشانی  کی حالت میں رہتا ہے ، یہ اندرونی تکلیف دہ احساسات مستقل طور پر برقرار رہتے ہیں ، تناؤ کے ہارمون کی سطح کو بڑھاتے ہیں ، میلاتون اور ایڈرینالین کی سطح کو کم کرتے ہیں ، جس کی وجہ سے جذباتی اضطراری مرکز کی آہستہ آہستہ خرابی ہوتی ہے۔

       

     دماغ ، اور جسم میں کینسر کا آغاز۔

     

     جب کسی بڑے صدمے کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ، کینسر کی تشخیص محسوس کرتا  ہے اور تکلیف دہ تجربے کی یادداشت اور تجربے کے تکلیف دہ احساسات سے فرار ہونے سے قاصر ہوتا ہے ۔  سٹریس ہارمون کورٹیسول کی سطح بلند ہو جاتی ہے اور اوپری  سطح پر رہتی ہے ، جو کہ مدافعتی نظام کو براہ راست دباتی ہے ، جس کا کام کینسر کے خلیوں کو تباہ کرنا ہے جو ہر انسان میں موجود ہیں۔  اعلی تناؤ کی سطح کا عام طور پر مطلب ہے کہ کوئی شخص اچھی طرح سو نہیں سکتا ، اور گہری نیند کے دوران کافی میلاتونن پیدا نہیں کر سکتا۔  میلاتون کینسر کے خلیوں کی نشوونما کو روکنے کا ذمہ دار ہے۔  اس کا مطلب ہے کہ کینسر کے خلیے اب آپ کے جسم  کے لیے آزاد ہیں۔  ایڈرینالین کی سطح بھی شروع میں آسمان کو چھوتی ہے ، لیکن پھر وقت کے ساتھ ساتھ خشک اور ختم ہو جاتی ہے۔  یہ خاص طور پر کینسر کی شخصیت کے لیے بری خبر ہے۔

     ایڈرینالائن شوگر کو خلیوں سے دور لے جانے کا ذمہ دارہوتی ہے ۔  اور جب جسم کے خلیوں میں بہت زیادہ چینی ہوتی ہے تو جسم تیزابیت کا شکار ہو جاتا ہے۔  اس کا مطلب ہے کہ جسم کے عام خلیے کم آکسیجن کی وجہ سے صحیح سانس نہیں لے سکتے۔  کینسر کے خلیے کم آکسیجن کی حالت میں پروان چڑھتے ہیں ، جیسا کہ نوبل انعام یافتہ اوٹو واربرگ نے دکھایا۔  کینسر کے خلیے چینی کو زندہ رکھنے کے لیے بھی پروان چڑھتے ہیں۔  سیدھے الفاظ میں ، بہت زیادہ اندرونی دباؤ ایڈرینالین کی کمی کا سبب بنتا ہے ، جسم میں بہت زیادہ شوگر کا باعث بنتا ہے ، جس کے نتیجے میں کینسر کے خلیوں کے جسم میں پروان چڑھنے کے لئے بہترین ماحول ہوتا ہے۔

     کینسر کی شخصیت کے لیے ، کینسر کی تشخیص ہونے کی خبر اور موت کا خوف اور غیر یقینی صورتحال ایک اور ناگزیر جھٹکے کی نمائندگی کرتی ہے ، جس سے تناؤ کے ہارمون کورٹیسول کی سطح میں ایک اور اضافہ ہوتا ہے ، اور میلاتون اور ایڈرینالین کی سطح میں مزید کمی آتی ہے۔  دماغ میں جذباتی اضطراری مرکز کی مزید خرابی بھی ہے جس کی وجہ سے متعلقہ عضو کے خلیات آہستہ آہستہ ٹوٹ جاتے ہیں اور کینسر کا شکار ہو جاتے ہیں۔

     سیکھی ہوئی بے بسی کینسر کی شخصیت کا ایک کلیدی پہلو ہے جب ایک سمجھے جانے والے ناگزیر صدمے کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، اور یہ کینسر کا ایک مضبوط عنصر ہے۔  محقق میڈیلون ویزنٹینر نے چوہوں کے تین گروہوں کو لیا ، ایک کو ہلکا سا فرار ہونے والا جھٹکا ، دوسرا گروپ کو ہلکا پھلکا جھٹکا ، اور تیسرا کوئی جھٹکا نہیں۔  اس کے بعد اس نے ہر چوہے کو کینسر کے خلیوں سے لگایا جس کے نتیجے میں عام طور پر 50 فیصد چوہے ٹیومر پیدا کرتے ہیں۔  اس کے نتائج حیران کن تھے۔

     ایک مہینے کے اندر ، 50 the چوہوں نے بالکل حیران نہیں کیا تھا۔  یہ عام تناسب تھا  جہاں تک چوہوں نے اسے بند کرنے کے لیے ایک بار دباکر جھٹکا حاصل کیا ، 70 فیصد نے ٹیومر کو مسترد کردیا۔  لیکن بے سہارا چوہوں میں سے صرف 27 فیصد ، چوہے جنہوں نے فرار ہونے والے صدمے کا سامنا کیا تھا ، نے ٹیومر کو مسترد کردیا۔  یہ مطالعہ ان لوگوں کو ظاہر کرتا ہے جو محسوس کرتے ہیں کہ ان کے صدمے / نقصان سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے ان کے جسم کے اندر بننے والے ٹیومر کو مسترد کرنے کے امکانات کم ہیں ، اس وجہ سے کہ دباؤ کی اعلی سطح مدافعتی نظام کو کمزور کرتی ہے۔  [سلیگمین ، 1998 ، صفحہ 170]

     کینسر سیلولر لیول پر ہوتا ہے۔  اور کئی عوامل ایسے ہیں جو جسم کے خلیوں پر دباؤ پیدا کرتے ہیں ، جس کی وجہ سے وہ (1) ایڈرینالین کی کمی ، (2) شوگر کی زیادہ اور (3) کم آکسیجن کی ، جہاں وہ زیادہ تغیر پذیر ہوتے ہیں اور کینسر بن جاتے ہیں  .  ایڈرینالین کی کمی کی وجہ سے سیل میں شوگر کا مواد جتنا زیادہ ہوتا ہے ، اور آکسیجن کا مواد کم ہوتا ہے ، عام خلیوں کے تبدیل ہونے اور کینسر ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

     بہت سارے عوامل ہیں جو ایک عام سیل کو ایڈرینالین کی کمی ، چینی میں زیادہ اور آکسیجن کی کمی میں حصہ ڈالتے ہیں۔  جسمانی دباؤ میں شامل ہیں (اور ان تک محدود نہیں)  دبے ہوئے احساسات ، افسردگی ، تنہائی ، ناقص نیند ، جذباتی صدمہ ، بیرونی تنازعہ وغیرہ۔

     کینسر میں مبتلا افراد کی اکثریت میں ، نفسیاتی اور جسمانی دباؤ دونوں کا ایک مجموعہ موجود ہے جس نے جسم کے خلیوں کو ایڈرینالین کی کمی ، چینی میں زیادہ اور آکسیجن کی کمی کا باعث بنا ہے ، جس کی وجہ سے وہ تبدیل ہو جاتے ہیں اور کینسر بن جاتے ہیں۔

    @Ishaqbaig___ 

  • بچوں کی پرورش تحریر: صداقت حسین علوی

    بچوں کی پرورش تحریر: صداقت حسین علوی

    آج ایک انتہائی اہم عنوان پر قلم کو جنبش دینے کی کوشش کی ہے جس کی وجہ سے معاشرہ میں بہت زیادہ مسائل درپیش ہیں وہ ہے بچوں کی تعلیم و تربیت۔

     دین اسلام کے مطابق بچوں کی بہترین تعلیم و تربیت والدین پر فرض کی گئی ہے آج ہم معاشرے میں دیکھتے ہیں کہ بچے والدین کا احترام نہیں کرتے اور آئے دن ویڈیو سوشل میڈیا کی زینت بن رہی ہیں جن میں بچے والدین کو مار پیٹ رہے ہوتے ہے اور بعض تو گھر سے نکال دیتے ہیں 

    آج اسکول کیا کالج کیا یونیورسٹیوں میں بھی لوگ غلط کاریوں میں مصروف ہیں لڑکیوں کی خریدوفروخت کا دھندا بھی عروج پر ہے سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ٹیچرز کا احترام نہیں کیا جاتا یہ سب کچھ اس وجہ سے ہو رہا ہے ہے کہ والدین اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت میں کوتاہی کرتے ہیں آج نہ صرف لڑکے بلکہ لڑکیاں بھی چرس شراب اور دیگر نشہ آور اشیاء کا استعمال کرتی نظر آ رہی ہیں بچے زناء کا ارتکاب کرتے نظر آ رہے ہیں موبائل جیسی لعنت نے اتنا بگاڑ پیدا کر دیا ہے کہ لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے کو غیر اخلاقی تصاویر شیئر کر رہے ہیں جو اکثر اوقات لیک ہو جاتی ہیں جو نہ صرف انکی بلکہ انکے والدین کی بدنامی کا باعث بن رہی ہیں آج شادیوں میں مجرا پارٹیاں کروائی جا رہی ہیں جن میں بچوں کی پرورش پر بہت برا اثر پڑ رہا ہے 

    یقیناً سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے دنیا نے ترقی بھی حاصل کی ہے لیکن اسی کے ساتھ ساتھ اس نے معاشرے میں بہت زیادہ نقصانات بھی پہنچایا ہے آج اگر پوری دنیا میں سروے کیا جائے تو سب سے زیادہ پاکستانی عوام غیر اخلاقی مواد انٹرنیٹ پر دیکھتے ہیں بچے اکثر اوقات موبائل میں غیر اخلاقی مواد رکھتے ہیں جس سے انکی ذہنی نشوونما خراب ہو رہی ہے اور انکو طرح طرح کی جسمانی بیماریوں کا مسئلہ درپیش آتا ہے  

    اس لئے اپنے بچوں کو برائیوں سے دور رکھنے کے لئے ان کی بہترین تعلیم و تربیت پر توجہ دینی چاہیے اور ان کی روزمرہ کی نقل و حرکت پر کڑی نگاہ رکھنی چاہیے 

    اسلام نے بچوں کی پرورش یعنی تعلیم و تربیت کے لیے کئی رہنما اصول وضع کیے ہیں جن پر عمل کرکے ہم معاشرے کو بہتر سے بہتر افراد مہیا کر سکتے ہیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انکی اہلبیت علیہ السّلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنے بچوں کو بہترین تعلیم و تربیت دی ہمیں انکی سنت پر عمل کرتے ہوئے اپنے بچوں کی پرورش کرنی چاہیے

    جب آپ اپنے بچوں کو دینی اور دنیاوی تعلیم دلوائیں گے تو یقیناً وہ نہ صرف والدین کا احترام کریں گے بلکہ خود بھی معاشرہ میں عزت دار تصور ہوں گے معاشرہ بھی انکی تعریف کرتا نظر آئے گا جب معاشرے میں آپ کے بچوں کی تعریف ہوگی تو یقیناً والدین کا بھی دل باغ باغ ہو گا 

    موجودہ حکومت نے اسی چیز کے پیش نظر نصاب کو اسلام کے مطابق بنایا ہے اور کوشش کی ہے کہ قرآن و حدیث کو بھی نصاب میں شامل کیا جائے پرائیویٹ اسکولز کو بھی حکومت نے پابند بنایا ہے کہ وہ قرآن و حدیث کو اپنے نصاب میں شامل کریں یقینا اس حکومت نے یہ کارنامہ انجام دیا ہے کہ پورے پاکستان میں ایک نصاب ہوگا الحمدللہ

    اس لیے اسلام کے مطابق بچوں کی تعلیم و تربیت کو یقینی بنائیں تاکہ بہترین معاشرہ معرض وجود میں آئے جب بہترین معاشرہ پرورش پائے گا تو نا صرف خاندانی ترقی ہو گی بلکہ ملکی ترقی میں بھی نمایاں اضافہ ہو گا۔ 

    اللہ تعالیٰ ہم سب کو بچوں کی بہترین پرورش کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثمہ آمین

    Twitter I’d: @AlviViews

  • باحجاب خواتین تحریر:رضوان۔

    بعض نام نہاد پروفیسر سرکولر طبقہ جس نے ستمبر میں ایک پروفیسر ہود نامی شخص کے بیان کے تناظر میں خواتین کے حجاب کو لیکر باحجاب خواتین کو یہ کہہ رہے تھے کہ وہ نارمل نہیں ہوتی کیوں نارمل نہیں ہوتی کیا حجاب پہننے سے دماغ کمزور ہوتا ہے؟ کیا حجاب کے وزن سے انرجی ضائع ہو جاتی ہے؟ ہرگز نہیں حجاب والی خواتین ناصرف نارمل ہوتی ہے بلکہ سب سے اوپر درجہ کی عزت رکھتی ہے ہر کوئی ان کو گردن نیچ کر کے آداب و سلام کرتا ہے معاشرے میں ان کے آنے سے لفنگر بھی راستے چھوڑ دیتے ہیں بلکہ باحجاب خواتین صحافی اس وقت بھی پاکستانی میڈیا میں کام کر رہی ہے  مردان میں باحجاب لڑکی نے انٹرمیڈیٹ بورڈ میں ٹاپ کیا ہے 

     قرآن پاک حجاب کی بات کرتا ہے۔  قرآن مجید کی سورہ 24 کی آیات 30-31 جو کہ معنی دیتی ہیں:

     *{مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور حیا کریں۔  یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔  لو!  اللہ ان کے کاموں سے باخبر ہے۔  اور مومن عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور نرمی اختیار کریں اور اپنی زینت کو صرف ظاہر کریں اور اپنے سینوں پر پردہ ڈالیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اپنے شوہروں اور باپوں یا شوہروں کے۔  باپ ، یا ان کے بیٹے یا ان کے شوہروں کے بیٹے ، یا ان کے بھائی یا ان کے بھائیوں کے بیٹے یا بہنوں کے بیٹے ، یا ان کی عورتیں ، یا ان کے غلام ، یا جوان جوان جوش و خروش سے محروم ہیں ، یا وہ بچے جو عورتوں کی برہنگی کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔  اور وہ اپنے پاؤں پر مہر نہ لگائیں تاکہ وہ اپنی زینت کو چھپائیں۔  اور اللہ کی طرف رجوع کرو اے ایمان والو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ}}*

     نیز سورہ کی آیت 59 ، جس کے معنی یہ ہیں:

     *{اے نبی!  اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مومنین کی عورتوں سے کہو کہ جب وہ بیرون ملک جاتے ہیں تو اپنے چادر ان کے قریب رکھیں۔  یہ بہتر ہوگا ، تاکہ وہ پہچانے جائیں اور ناراض نہ ہوں۔  اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔}*

     مندرجہ بالا آیات بہت واضح طور پر ظاہر کرتی ہیں کہ یہ خود اللہ تعالی ہے ، جو عورتوں کو حجاب پہننے کا حکم دیتا ہے ، حالانکہ مذکورہ آیات میں یہ لفظ استعمال نہیں ہوا ہے۔  درحقیقت ، اصطلاح حجاب کا مطلب جسم کو ڈھانپنے سے کہیں زیادہ ہے۔  اس سے مراد ضابطہ اخلاق ہے جو اوپر بیان کردہ آیات میں بیان کیا گیا ہے۔

     استعمال شدہ تاثرات: "ان کی نگاہیں نیچی رکھیں” ، "معمولی رہیں” ، "اپنی زینت نہ دکھائیں” ، "ان کے سینوں پر پردہ ڈالیں” "ان کے پاؤں پر مہر نہ لگائیں” وغیرہ۔

     یہ کسی بھی سوچنے والے شخص کے لیے واضح ہونا چاہیے کہ قرآن کریم میں مذکورہ بالا تمام بیانات سے کیا مراد ہے۔  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عورتیں ایک قسم کا لباس پہنتی تھیں جو سر کو ڈھانپتا تھا ، لیکن سینے کو صحیح طریقے سے نہیں۔  چنانچہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی چھاتیوں پر اپنے پردے کھینچیں تاکہ ان کی خوبصورتی ظاہر نہ ہو ، تو یہ بات واضح ہے کہ لباس کو سر کے ساتھ ساتھ جسم کو بھی ڈھانپنا چاہیے۔  اور بالوں کو دنیا کی بیشتر ثقافتوں میں لوگ سمجھتے ہیں – نہ صرف عرب ثقافت میں – عورت کی خوبصورتی کا ایک پرکشش حصہ۔

     انیسویں صدی کے اختتام تک ، مغرب میں خواتین کسی قسم کا ہیڈ گیئر پہنتی تھیں ، اگر پورے بالوں کا احاطہ نہیں۔  یہ خواتین کے لیے اپنے سر ڈھانپنے کے بائبل کے حکم کے مطابق ہے۔  یہاں تک کہ ان تنزلی کے اوقات میں ، لوگ معمولی لباس زیب تن کرنے والی خواتین کو زیادہ احترام کرتے ہیں ، کم لباس پہننے والوں کے مقابلے میں۔  ایک بین الاقوامی کانفرنس میں ایک خاتون وزیراعظم یا ملکہ نے کم کٹ بلاؤز یا منی سکرٹ پہنے تصور کریں!  کیا وہ وہاں اتنی عزت دے سکتی ہے جتنی اسے ملتی اگر وہ زیادہ معمولی لباس میں ہوتی؟

     مذکورہ بالا وجوہات کی بناء پر ، اسلام کے علماء اس بات پر متفق ہیں کہ اوپر بیان کردہ قرآنی آیات کا واضح مطلب ہے کہ عورتوں کو سر اور پورے جسم کو ڈھانپنا چاہیے سوائے چہرے اور ہاتھ کے۔

     کیا حجاب عورت کو اپنے روز مرہ کے فرائض انجام دینے سے روکتا ہے؟

     ایک عورت عام طور پر اپنے گھر میں حجاب نہیں پہنتی ، اس لیے جب وہ گھر کا کام کر رہی ہو تو اس کے راستے میں نہیں آنا چاہیے۔  اگر وہ مشینری کے قریب یا کسی لیبارٹری میں کسی فیکٹری میں کام کر رہی ہے ، مثال کے طور پر – وہ ایک مختلف انداز کا حجاب پہن سکتی ہے جس میں ڈریگنگ اینڈز نہیں ہیں۔  دراصل ڈھیلا پتلون اور لمبی قمیض مثال کے طور پر اسے قدموں یا سیڑھیوں کو موڑنے ، اٹھانے یا چڑھنے کی اجازت دیتی ہے ، اگر اس کا کام اس کی اجازت دیتا ہے۔  اس طرح کا لباس یقینی طور پر اسے نقل و حرکت کی زیادہ آزادی دے گا جبکہ ایک ہی وقت میں اس کی شائستگی کی حفاظت کرے گا۔

     تاہم یہ نوٹ کرنا دلچسپ ہے کہ وہی لوگ جو خواتین کے اسلامی ڈریس کوڈ میں عیب تلاش کرتے ہیں وہ راہبہ کے لباس میں کسی بھی چیز کو نامناسب نہیں سمجھتے۔  یہ واضح ہے کہ مدر ٹریسا کے "حجاب” نے اسے سماجی کام سے نہیں روکا!  اور مغربی دنیا نے اسے نوبل انعام سے !  لیکن وہی لوگ بحث کریں گے کہ حجاب ایک مسلمان لڑکی کے لیے سکول میں یا ایک مسلمان خاتون کے لیے سپر مارکیٹ میں کیشیئر کے طور پر کام کرنے میں رکاوٹ ہے۔  یہ ایک قسم کی منافقت یا دوہرا معیار ہے جو کہ متضاد طور پر کچھ "نفیس” لوگوں کو فیشن لگتا ہے!

     کیا حجاب ظلم ہے؟  یہ یقینی طور پر ایسا ہوسکتا ہے ، اگر کوئی عورت کو پہننے پر مجبور کرے۔  لیکن اس معاملے کے لیے ، نیم عریانی بھی ایک ظلم ہوسکتی ہے ، اگر کوئی عورت کو اس طرز کو اپنانے پر مجبور کرے۔  اگر مغرب میں یا مشرق میں عورتوں کو اپنی مرضی کے مطابق لباس پہننے کی آزادی ہے تو مسلم خواتین کو زیادہ معمولی لباس کو ترجیح دینے کی اجازت کیوں نہیں

    Twitter @RizwanANA97

  • پاکستان کے مسائل  تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    پاکستان کے مسائل تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    @lalbukhari

    یوں تو جب سے پاکستان معرض وجود میں آیا ہے،ہر وقت کسی نہ کسی طرح کے مسائل سے دوچار رہا ہے۔

    پاکستان بننے کے بعد یہ مسائل کم تھے۔

    مگر آہستہ آہستہ ان میں آنے والے کرپٹ حکمرانوں کی بدولت اضافہ ہوتا گیا۔

    جو حکمران بھی آیا،

    اُس نے لوٹ مار پر زیادہ فوکس کیا اور یہ مسائل انبار کی شکل اختیار کرتے گئے۔

    کسی نے بھی ان مسائل پر توجہ نہیں دی۔

    جو بھی آیا اُس نے اپنی تجوریاں تو خوب بھریں مگر ملکی خزانہ خالی ہوتا گیا۔

    پی ٹی آئ کی موجودہ حکومت اسی وجہ سے گوناگوں مسائل کا شکار ہے کہ اسے ملنے والی حکومت ماضی کے حکمرانوں کی بد اعتدالیوں کی وجہ سے دیوالیہ ہونے کے قریب تھی۔حکومت ملتے ہی وزیر اعظم 

    عمران خان کو قرضوں کی ادائیگی کی ایمرجنسی ضروریات پوری کرنے کے لئے دوست ممالک کے ہنگامی دورے کرنے پڑے۔

    عمران خان کی تگ و دو سے ملک فوری طور پر دیوالیہ ہونے سے تو بچ گیا مگر ان مسائل سے نبٹنا اب بھی اس حکومت کے لئے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔

    موجودہ حکومت جن مسائل کا اس وقت سامنا کر رہی ہے،

    اُن میں مہنگائ سرفہرست ہے

    مہنگائ کی موجودہ ہوش رُبا لہر حکومت کے گلے پڑے ہوئ ہے۔

    اس مہنگائ میں موجودہ حکومت کا کردار کتنا ہے؟

    یہ غور طلب بات ہے

    مہنگائ کے ضمن میں سب سے پہلی وجہ تو کرونا کے بعد پوری دنیا میں چیزوں کا مہنگا ہو جانا شامل ہے۔

    برطانیہ،کینیڈا جیسے ترقی یافتہ ممالک بھی اپنے آپ کو اس صورتحال سے محفوظ نہیں رکھ سکے۔

    تیل کی بڑھتی قیمتوں نے خاص طور پر دنیا کو ہلا کے رکھ دیا ہے۔

    تیل کی قیمت بڑھنے سے ہرچیز پر اثر پڑتا ہے۔برطانیہ جیسے ملک میں اس بحران کی وجہ سے انہیں فوج طلب کرنا پڑی تاکہ پٹرول پمپس پر تیل کے حصول میں لگی لمبی لائنوں کو کنٹرول کیا جا سکے۔

    اس وقت کئی یورپی ممالک میں مہنگائ اور بے روزگاری کے خلاف احتجاج کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

    اگر ترقی یافتہ ممالک کا یہ حال ہے تو بھلا پاکستان اس سے کیسے محفوظ رہ سکتا ہے؟

    جہاں لوٹ مار سے خزانہ پہلے ہی خالی ہے اوپر سے ماضی کے حکمرانوں کی طرف سے لئے گئے قرضوں کی واپسی کے لئے مزید قرضوں کا حصول 

    یک نہ شُد،دو شُد والی بات ہے۔

    مہنگائ کی بین الاقوامی وجوہات اپنی جگہ،

    ماضی کے حکمرانوں کی عیاشیوں کی بدولت ملکی معیشت کی تباہ حالی اپنی جگہ

    مگر موجودہ حکومت نے مہنگائ کو کنٹرول کرنے کے لئے اپنی طرف سے بھی کچھ خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھاۓ۔

    اکثر وزرا مُشرا رام لیلی کی کہانی ٹیلی وژن پر آکر سناتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ سرخرو ہو گئے۔

    ایسا قطعا” نہیں،

    عوام کو مطمئن کرنے کے لئے کم ازکم مصنوعی مہنگائ کا توڑ تو کیا جاۓ؟

    کم ازکم اُن مافیاز کو تولگام ڈالی جاۓ،

    جو جان بوجھ کر چیزوں کی قلت پیدا کرتے ہیں تاکہ اس خود ساختہ مہنگائ سے موجودہ حکومت کی ساکھ خراب ہو اور ماضی کے چوروں کو ایکبار پھر واپسی کا موقع مل سکے۔

    یہ مافیاز درپردہ انہیں سابق حکمرانوں کے اشارے پر چلتے ہیں،

    انکی ڈوریاں وہیں سے ہلائ جاتی ہیں۔

    یہ سب لوگ اسی نیٹ ورک کا حصہ ہیں،

    جو مل کے لوٹ مار کرتا تھا ،

    مل کے بندر بانٹ کرتا تھا اور پھر اقرار بھی کرتا تھا کہ کھاتا ہے تو کھلاتا بھی ہے۔

    حکومت ان سب باتوں کے باوجود اپنے آپ کو مکمل طور پر بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی۔

    زخیرہ اندوزوں اور چوربازاری کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا بہت زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔

    موجودہ حکومت کی کوششوں سے ملکی معیشت کے مثبت اعشاریے مہنگائ کی اس لہرکی وجہ سے ماند نظر آتے ہیں۔

    اس مہنگائ کو کم کرنے کے لئے حکومت کو ہی کچھ کرنا ہو گا۔

    کسی غیبی امداد کا منتظر رہنا اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہو گا۔

    کالم لکھنے کے دوران ہی پتہ چلا ہے کہ پٹرول کی قیمتوں میں ایکبار پھر اضافہ ہو گیا ہے۔

    یہ اضافہ بے شک تیل کی قیمت میں بین الاقوامی طور پر ہونے والے اضافے ہی کا شاخسانہ ہے۔

    مگر یہ اضافہ عام آدمی کی قوت خرید کو بری طرح متاثرکر رہا ہے،

    حکومت کو پٹرولیم مصنوعات میں مزیدسبسڈی دینے کے لئے کوئ منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔

    اگرچہ ایک مقروض ملک کے لئے یہ آسان ہرگز نہیں مگر کبھی کبھار عوام کی خاطر کچھ کڑوے گھونٹ پی لینے میں کوئ مضائقہ نہیں ہونا چاہیے۔

    خطے میں اب بھی پاکستان میں تیل کی قیمتیں دوسرے ممالک کی نسبت کم ہیں۔

    مگر یہ مفروضہ عوام کے دُکھوں کا مداوا ہر گز نہیں۔

    ان مشکل حالات میں عوام کو بھی حکومت کی مجبوریوں کو سمجھتے ہوۓ چھوٹی چھوٹی بچتوں پر کام کرنا ہوگا۔

    اس سے نہ صرف ان کا فائدہ ہوگا بلکہ ملک کے لئے بھی آسانیاں پیدا ہوں گی۔

    قطرہ قطرہ مل کر دریا بنتا ہے۔

    ہم اس ملک کا نہیں سوچیں گے تو دوسراکون سوچے گا؟

    ہم سب کو مل کے ان مشکلات کا مقابلہ کرنا ہو گا۔

    سب کچھ کرنا اکیلے حکومت کے بس کی بات نہیں۔

    ہم سب کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔

    ہمیں اس بے بنیاد پروپیگنڈے سے بچنا ہو گا،

    جو اس ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کے لئے کیا جا رہا۔

    ہمیں اس ففتھ جنریشن وار میں ریاست کے ہاتھ مضبوط کرنا ہونگے۔

    یہ یاد رکھیں کہ یہ ملک ہے تو ہم سب بھی ہیں۔

    ہمیں سبز ہلالی پرچم کی سربلندی کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

    بدقسمتی یہ ہے کہ کسی بچت یا ملکی مفاد میں جب بھی کوئ  مشورہ   دیا جاتا ہے لوگ حکومت کا مذاق اڑانا شروع کر دیتےہیں۔

    لوگ بھول جاتے ہیں کہ اس ملک کو 70سال لگاتار برباد کیا گیا،

    اسے درست کرنے کے لئے کچھ وقت تو لگے گا،

    موجودہ حکومت کو ابھی 3سال ہوے ہیں آۓ ہوۓ۔

    ابھی سے کچھ گماشتے یہ کہنا شروع ہو گئے ہیں کہ جنہوں نے دہائیوں اس ملک کو لُوٹا،

    جو اس ملک کی بربادی کے زمہ دار ہیں،

    انہیں کو واپس لے آئیں۔

    واہ کیا منطق ہے،گویا

    میر کیا سادےہیں،بیمار ہوۓ جس کے سبب

    اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں

    تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    @lalbukhari