Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • پاکستان اور عالمی سطح پر پیٹرول کی قیمت:  تحریر: تیمور خان 

    پاکستان اور عالمی سطح پر پیٹرول کی قیمت: تحریر: تیمور خان 

     حکومت نے یکم اکتوبر سے پٹرول کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر اضافہ کیا تھا اور یہاں تک کے 

     حکومت نے جمعرات 30 ستمبر  کو پٹرول کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر اور ہائی سپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمت میں 2 روپے فی لیٹر اضافہ کیا۔

     دریں اثنا ، مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل (ایل ڈی او) کی قیمتوں میں بالترتیب 7.05 روپے اور 8.82 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا۔

     یکم اکتوبر سے پٹرول کی قیمت 127.30 روپے فی لیٹر ، ہائی سپیڈ ڈیزل 122.04 روپے فی لیٹر ، مٹی کا تیل 99.31 روپے اور لائٹ ڈیزل کا تیل 99.51 روپے فی لیٹر ہوگا۔

     ایک پریس ریلیز میں ، فنانس ڈویژن نے کہا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے گزشتہ دو ہفتوں میں بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ ایکسچینج ریٹ کی مختلف حالتوں کی بنیاد پر پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔

     تاہم ، وزیر اعظم عمران خان نے "سفارش کے خلاف فیصلہ کیا اور صارفین کو قیمتوں میں کم سے کم اضافے کی منظوری دی”۔

     نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت نے پٹرولیم لیوی اور سیلز ٹیکس میں کمی کے ذریعے قیمتوں کے زیادہ بین الاقوامی دباؤ کو جذب کیا۔

     اس نے مزید کہا ، "پاکستان میں پٹرولیم کی قیمتیں خطے میں سب سے سستا ہیں۔”

     15 ستمبر کو حکومت نے تمام پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 5 روپے 6 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا تاکہ بین الاقوامی مارکیٹ کی قیمتوں اور کرنسی کی قدر میں کمی کا اثر ہو۔

     پٹرول اور ایچ ایس ڈی دو بڑی مصنوعات ہیں جو ملک میں بڑے پیمانے پر اور بڑھتی ہوئی کھپت کی وجہ سے حکومت کے لیے زیادہ تر آمدنی پیدا کرتی ہیں۔  اوسطا petrol پٹرول کی فروخت 750،000 ٹن تک پہنچ رہی ہے جبکہ ماہانہ 800،000 ٹن HSD کی کھپت ہے۔  مٹی کے تیل اور ایل ڈی او کی فروخت عام طور پر 11،000 اور 2000 ٹن سے کم ہے۔

     نظر ثانی شدہ میکانزم کے تحت ، حکومت تیل کی قیمتوں کو پندرہ روزہ بنیادوں پر نظر ثانی کرتی ہے تاکہ پاکستان اسٹیٹ آئل کی درآمدی لاگت کی بنیاد پر ماہانہ حساب کتاب کے سابقہ ​​طریقہ کار کے بجائے پلاٹ کے آئل گرام میں شائع ہونے والی بین الاقوامی قیمتوں کو منتقل کیا جا سکے، اور آخر کار 15 دن بعد یعنی 16 اکتوبر کو ایک مرتبہ پھر حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 10.49 اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 12.44 روپے فی لیٹر اضافہ کیا اب سوال یہ ہے کہ پٹرول تو پورا دنیا میں ایک بحران بنا ہوا ہے تو اس سے چھٹکارا کیسے پایا جا سکے جو پٹرول پرائز ریکارڈ سطح پر پہنچ چکا ہے، اللہ تبارک وتعالیٰ ہمارے ہال پر رحم فرمائے۔

    @ImTaimurKhan

  • اکیسوی صدی میں سائنسی ترقی تحریر : راجہ فہد علی خان

    کائنات کی تخلیق، انسان کی پیدائش، یہ روشن جہاں،یہ ارض و سماء، یہ اندھیری راتیں، چرندوپرند، یہ حیوان وانسان، بروبحر ، خشکی و تری الغرض ہر چیز اس مالک دو جہاں کی قدرت کے کرشمے کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اللّٰہ رب العزت کی ان تخلیق کردہ چیزوں، مخلوقات سے متاثر ہونے اور کچھ فطری تحقیق و تجسس کے نتیجے میں انسان نے اپنی بڑھتی ہوئی ضروریات زندگی کو پورا کرنے کی ٹھانی اور اس کا نتیجہ سائنس کی شکل میں سامنے آیا۔   جوں جوں کرہ ارض پر انسانی آبادی بڑھتی گئی، انسانی ضروریات میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا وہ ضروریات انسانی کوششوں سے پوری بھی ہونے لگیں لیکن انسان کا فطری تجسس اور کھوج کا عمل نہ تھم سکا اور یہ سلسلہ صدیوں سے برابر چلتا آرہا ہے۔ عصر حاضر میں جہاں آپ نظر دوڑائیں گے آپ کو سائنس کی ترقی نظر آئے گی۔ایک نومولود کی پیدائش سے لے کر اس کی تمام ضروریات زندگی تعلیم، صحت، کاروبار، ادویات، سفر، چاہے امن کا زمانہ ہو یا جنگ کا سائنس زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔موجودہ جدید دور میں علومِ سائنس اور سائنسی ایجادات قابلِ تعریف ہیں۔اسلام اور قرآنی تعلیمات بھی سائنس کی ترغیب دیتے ہیں۔

    اکیسویں صدی میں ضروریات کے پیشِ نظر جدید ٹیکنالوجی ہماری ایک ضرورت بن چکی ہے جس کے بغیر ہمارا گزارہ اگر ناممکن نہیں تو آسان و سہل بھی نہیں۔ گزشتہ ادوار میں اگر کوئی چیز ایجاد ہوتی تھی تو اس میں ضرورت وقت کے مطابق جدت لانے کے لیے وقت درکار ہوتا تھا جبکہ زمانہء حاضر میں اس معیاد میں کوئی نئی چیز متعارف کروا دی جاتی ہے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں آنے والے دس سال اس سے کہیں زیادہ مختلف ہوں گے اور اس زمانے میں موجودہ دور کی ٹیکنالوجی بےکار اور ناکارہ تصور کی جانے لگے گی۔

    اگر ہم صحت کے میدان کے بات کریں تو سائنس نے ہمارے نظامِ صحت کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے اور شعبہ صحت بہت زیادہ بہتری کی طرف گامزن ہوا ہے۔ گزشتہ ادوار میں بچے کی پیدائش بھی ہسپتالوں کی عدم فراہمی کی وجہ سے گھروں میں ہوتی تھی اور کتنی جانیں چلی جاتی تھیں لیکن سائنس اور ٹیکنالوجی نے ان مسائل کا حل نکالا ۔اگرچہ سائنس وٹیکنالوجی کی وجہ سے بہت سے موذی امراض تشخیص ہوئے لیکن بیک وقت ان موذی امراض کا علاج بھی دریافت کر لیا گیا۔

    شعبہ تعلیم کو دیکھا جائے تو سائنسی ایجادات اور جدید ٹیکنالوجی نے ہمارے نظامِ تعلیم کو بہت ہی آسان اور جدید طرز کا کر دیا ہے۔ پرانے زمانے میں فقط دو شعبے ہی پڑھنے کے لیے میسر ومخصوص سمجھے جاتے  تھے۔ طالبعلم شعبہ طب ، انجینئرنگ اور فوج میں جانے کے لیے بھاگ دوڑ کیاکرتے تھے۔ جدیدسائنس وٹیکنالوجی کی بدولت اب تعلیمی میدان میں ہزاروں نئے شعبے متعارف کروا دیے گئے ہیں۔تعلیمی میدان میں سائنس نے مختلف موضوعات کا تصور و خیال دے کر نوجوان کو مختلف میدانوں میں ترقی کے مواقع حاصل کرنے کا حق دیا ہے۔ یہ کہنا حق بجانب ہے کہ سائنسی عروج نے ہمارے تعلیمی نظام کو بہت ہی آسان اور وسیع کر دیا ہے۔اب ہمارے نوجوان کو محض طب کے میدان میں ہی مختلف اور کئی قسم کے شعبے میسر ہیں اور سائنسی ایجادات نے ہمیں گھر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے کا موقع مہیا کیا ہے۔

    گھر بیٹھے روزگارکی فراہمی بھی سائنس وٹیکنالوجی کی مرہون منت ہے اب ہمارے نوجوان گھر بیٹھے اپنی  مالی ضروریات پوری کر سکتے ہیں،گھر بیٹھے اپنا کاروبار چلا سکتے ہیں۔ 

    جنگ کے میدان میں بھی ٹیکنالوجی کا بہت اہم کردار ہے جو کہ وقت کی اشد ضرورت ہے کیونکہ کسی بھی ملک کے لیے اپنی سرحدوں کا دفاع لازم ہے۔سائنسی ٹیکنالوجی کی بدولت ہی ہمارا ملک ایٹمی طاقت بنا جس میں عظیم سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر کا کلیدی کردار ہے۔ سائنسی ترقی نے ملکی دفاع کو مضبوط، ہمہ وقت چوکنا بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ہم اپنے ملک کی سرحدوں سے چوبیس گھنٹے اپنے دشمن ممالک کے حالات و واقعات سے با خبر رہ سکتے ہیں۔

    یہ کہنا ہر گز غلط نہ ہو گا کہ سائنسی ایجادات نے ہمارے نظامِ زندگی زندگی کو آسان ترین بنا دیا ہے۔جدید سیل فون، لیپ ٹاپس، کمپیوٹرز اور دیگر سائنسی آلات کی بدولت ہماری زندگی ایک کلک کی محتاج ہے اور سارے کام سمٹ کر ایک بٹن کی دوری پر ہیں حتیٰ کہ اب خریداری بھی گھر بیٹھے ایک آسان اور پر آسائش کام بن گیا ہے۔گھر بیٹھے بٹھائے انسان اپنی من پسند چیز منگوا سکتا ہے اور محض یہ ہی نہیں اس طرح کا ہر کام محض حکم کا محتاج ہے اور پھر پایہ تکمیل تک پہنچ جاتا ہے۔ جہاں سائنسی ترقی نے ہمیں کاروبار، صحت، تعلیم الغرض ہر قدم پر مواقع فراہم کیے ہیں تو اس کے ساتھ ساتھ سفری آلات میں بھی ایک جدت آئی ہے۔ اگر پچھلی صدی کی ہی بات کر لی جائے تو تب زیادہ تر سفر پیدل طے کیا جاتا تھا یا بیل گاڑیوں کا استعمال معمول تھا۔اب اگر موجودہ وقت کی بات کریں تو ہمارا سفر نہایت آسان اور سہل کر دیا گیا ہے۔ ہم کسی بھی جگہ  بیٹھ کر اپنی مرضی کی گاڑی منگوا کر نہایت ہی مناسب پیسوں پر آرام دہ سفر سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ سائنسی ترقی نے ہمیں ہر قدم پر آسانی اور سکون مہیا کرنے کی کوشش کی ہے۔

    المختصر یہ کہ سائنس نے ہمارے معیار زندگی کو بلند کرنے، جینے کے ڈھنگ کو سہل اور آسائشوں سے آراستہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ گو کہ سائنسی ایجادات اور سائنسی ترقی اپنے جوبن پر ہے مگر حضرت انسان کی تحقیق و تجسس اور کھوج کی جستجو ابھی اختتام کو نہیں پہنچی اور اس اولاد آدم نے ابھی مزید میدان سر کرنے ہیں اور کائنات کو تسخیر کرنا ہے۔

    @FahadRaja6720

  • منفرد اور ممکنہ جنگ عظیم سوئم اور نوجوانوں کی عفلت.  تحریر. واحید خان

    منفرد اور ممکنہ جنگ عظیم سوئم اور نوجوانوں کی عفلت. تحریر. واحید خان

    پاکستان کے نامناسب تعلیمی نظام اور فرسودہ سیاسی نظام کا سب سے بڑا نقصان جو ہمارے نوجوان نسل کے ترجیحات اور تصورات سے اج واضح ہے وہ 74 سال گزرنے کیعبد بھی یہی ہے کہ ہمارا نوجوان موجود مسائل اور مشکلات کی وجہ سے افراد کے بجائے, شخصیات کے بجائےاور پالیسیوں کے بجائے ریاست اور اداروں سے نفرت کرنے لگے ہیں اور یہ خود سے ہوبھی نہیں رہا ہیں بلکہ اسکے پیچھے باقاعدہ ملک دشمن اور اسلام دشمن خفیہ تنظیمیں انتہائی فعال کردار ادا کررہے ہیں.

    اس وقت اگر ہمارے نوجوانوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ ہمارے خفیہ اداروں میں اسلامی خلافت کے تحفظ قیام اور دفاع کیلئے جو عظیم ہستیاں موجود ہیں بخدا اگر اپ انکے کام اور مشکلات کے بارے میں اگاہ ہوجائے تو اپ انکے قدم بوسی کی خواہش کرینگے .اپ انکے پھیر چومے نگے اپ ان سے ملنے کی خواہش کرینگے مگر یقین مانئے انکو اپنے پیاروں سے ملنے کیلئے مہینوں مہینوں اور سالوں تک ملنے کا موقع نہیں ملتا .کچھ تو ساری زندگی مل نہیں پاتے .کوئی سمندروں میں اپنے عظیم مقاصد کیلئے مچھلیوں کا خوارک بن جاتے ہیں تو کوئی صحراوں میں وحشی درندو کا شکار بن جاتے ہیں .کوئی ان دیکھی زندانوں میں راکھ بن جاتے ہیں اور انکی لاشوں تک کو کوئی نہیں دیکھ پاتا اور کوئی اپنے بیرونی دنیاں کے مختلف اہم مقامات میں اپنی فطرت اور اپنے مزاج کے برعکس زندگی کے عظیم مقصد اور اسلامی احیاء کیلئے جینے پر مجبور ہیں اور یہ کوئی افسانہ نہیں ہے یہ کوئی لفافہ صحافت کی بات نہیں ہے بلکہ ٹھوس اور اٹل حقیقت ہے اور اسی کے بدولت عظیم روسی طاقت کراچی کے گرم پانیوں کے خواھش میں ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا اور انہی ہستیوں کے بدولت پاکستانی ایٹم بم کو کھلونا بنانے کے شوق میں افغانستان پر چڑھائی کرنیوالی نیٹو ذلیل وخوار ہوکر اج اسی ملک سے منتیں کررہاہے کہ اپنا سامان واپس لیجانے کیلئے چند دن تو اپنے پاس محفوظ راتیں دیدیں .مگر بد قسمتی انکے یہ عظیم کام اور یہ راز انکے بیوی بچوں تک پر عیاں ہونا انکے فرائض منصبی کے تحت منع ہے پھر ہمارے نوجوان کو کیسے معلوم ہوگا کہ کون کہاں اور کیسے جی رہاہے انکو تو اپنے عقل کے استعمال کیلئے بھی اللہ تعالی نے تاکید فرمائی ہے. جب نہ انکو نام ظاہر کرنے کی اجازت نہ انکو کام ظاہر کرنے کی اجازت نہ انکو تصویر بنانے کی اجازت نہ انکو شاباش لینے کی اجازت نہ انکو پھولوں کی لڑیاں گلے میں ڈالنے کی اجازت مگر وہ لڑ رہے ہیں وطن کیلئے ریاست کیلئے اسلام کیلئے خلافت کیلئے..وہ لڑ رہے ہیں صحراوں میں طوفانوں سے وہ لڑ رہے ہیں پہاڑوں میں سنگلاخ چٹانوں کے اوپر وحشی درندو سے وہ لڑ رہے ہیں گرمی سے سردی سے سیلابوں کے طوفان خیز ھنگاموں سے وہ لڑ رہے ہیں بے سروسامانی کے حالت میں دنیاں کے عظیم ترین اور جدید ترین شہروں میں جدید ترین سرچ اینڈ سٹرائیک ٹیکنالوجی سے وہ لڑرہے ہیں تو ہمیں از خود انکا احساس کرنا ہوگا ..ہواوں میں یہ موجود سمندروں میں یہ موجود راتوں کے اندھیروں میں یہ موجود دنیاں کے کونے کونے میں یہ موجود .دنیاں کے حساس ترین مراکز میں یہ موجود دنیاں کے اہم رازوں میں یہ موجود مگر پھربھی ہمارا نوجوان ایک سیکنڈ میں انگلی کے معمولی جنبش سے ریاست کے ان عظیم ہستیوں کے بارے میں خرافات لکھ دیتے ہیں جو عالمی طاقتیں باوجود انتہائی طاقت رکھنے کے کہنے سے ڈرتے ہیں .لکھنے سے ڈرتے ہیں .بیان کرنے سے ڈرتے ہیں.

    کیا اس پاکستانی جوان کو معلوم نہیں کہ دنیاں میں تیسری منفرد عالمی جنگ کی تیاری ہورہی ہیں اور اسکے لئے عالمی قوتوں کے درمیان گٹھ جوڑ کا سلسلہ کافی تیزی سے چل رہاہے .اس وقت دنیاں دو بلاکس میں تقسیم ہوچکی ہے .ایک بلاک میں امریکہ برطانیہ بھارت اسرائیل نمایا ممالک جبکہ دوسرے گروپ میں چائنا پاکستان روس اور ایران اہم ممالک ہیں .ایک طرف اگر سمندری راستے سے چائنا کو اقتصادی طور پر کورڈن اف کرنے کیلئے اسرائیل امریکہ کے زریعے بھارت کو اگے کررہاہے اور ابنائے ملاکا کو چائنا کے اسی فیصد سیل کیلئے بند کرنا چاہتا ہے.امریکہ پہلے سے ساوتھ سی میں اپنے جنگی ائیرکرافٹ کیرئیر پہنچاچکاہے .دوسری طرف چائنا مکمل اس بات کا ادراک کررہاہے اور ریاست سکم کے دہانے پر پہنچ چکا ہے اور جیسے ہی بھارتی نیوی ابنائے ملاکا کو بند کرے گی چائنا ریاست سکم پر قبضہ کرکے ہندوستان کے سات ریاستوں اسام ناگالینڈ اروناچل پردیش میگہالیہ میزورام منی پور تریپور ہندوستان سے الگ کردے گا اور بھارت مکمل اس سلسلے میں لاچار ہیں اسلئے خاموش ہے اور اب وہ تبت کارڈ کو امریکہ کے زریعے استعمال کیلئے دلائی لامہ کو پوری دنیاں کے سیاسی دورےکرائے گا اور اسکو چین کے خلاف استعمال کرے گا.اسکے بدلے بھارت کو لگام ڈالنے کیلئے چائنا کشمیر کو سکرین پر لائے گا اور ازادی کی تحریک کو پروموٹ کرے گا..

    ہمارے نوجوان نسل کو یہ تک نہیں معلوم کہ جن ہستیوں اور جس ریاست کے خلاف وہ غیروں کے اشارے پر بھونکتے ہیں وہ ان حالات میں ایک اہم جینیس مائینڈڈ گیمر ہے.اور عالمی گیم تبدیل کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور دشمن قوتو کی اولین وار ہی ان پاکستانی نوجوانوں کے زہنی ترجیحات کی تبدیلی کا ہے اور یہ جو کچھ اب افغانستان میں حالات تبدیل ہونے کے بعد وہ سوشل میڈیا پر لکھ رہے ہیں مغرب اور یہودی یہی تو چاہتے ہیں . میں اپکو اپنے کم علمی مشاہدے اور تجربے کے بنیاد پر یہ یقین دلاتا ہو کہ پاکستان کے ان اداروں کے شاہینوں کا اس عالمی بدلتی ہوئی حالات پر مکمل گرفت موجود ہے اگر انکی کوئی کمزوری ہے تو وہ یہی ہے کہ انکے پاس اپنے سیاسی حقوق کے نام پر فروخت شدہ ضمیروں کو چپ کرانے کیلئے سوائے قیدوبند اور کوئی اپشن نہ رہا. اگر ریاست کے اندر بھارتی اور اسرائیلی غداروں کو غائب کیا جاتاہے تو انکو ھیرو بنایاجاتاہے اور جو ریاست کیلئے شہید ہوتا ہے وہ انکو زیرو بنایا جاتا ہے.

    مجھے یقین ہے کہ میرے اوپر بھی اداروں کیلئے کام کرنے کا الزام لگا کر اس اہم ایشو کو غیر اہم بنانے کے سینکڑوں کمنٹس درج ہوجائے نگے لیکن اس سے پہلے میں دوباتیں واضح کردو کہ اداروں کے اندر افراد نے میرے ساتھ جو تاریخی جبر وظلم کیا ہے وہ شاید کسی پاکستانی کیساتھ ہواہو لیکن میں ریاست کا بچہ ہو افراد کا نہیں اس ریاست کیلئے اگر کوئی اج بھی خدمت کررہاہے تو بخدا میں انکے بوٹ پالش کرونگا اور یہ میں اپنے لئے عبادت سمجھونگا.میری دشمنی فرد سے توہوسکتی ہے ریاست سے نہیں اداروں سے نہیں .ازادی سے نہیں ..

    خداراہ عالمی بدلتی ہوئی حالات میں ایک گلاس پانی میں ڈوب کر نہ سوچئے ایک مسلمان اور ایک پاکستانی بن کر سوچئے .اب عرب دنیاں کو موڑنے کی کوششیں ہورہی ہیں اب اسلامی دنیاں کو تقسیم کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں اب نئے بلاکس بن رہے ہیں اب نئے نئے جنگ چھیڑے جائے نگے.یہ عدم تشدد والے بھائی اپنے امن کے ایمپورٹ فارمولے کہیں دفن کرے.یہ نئے میری جسم میری مرضی والے اپنے عیاشیوں کو اپنے دہلیز تک محدود رکھے.اپنے انگن کی فکر کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کیجئے ان لوگوں کو اپنے دعاوں میں یادرکھئے جو خفیہ ہیں اور قران وحدیث سے ظاہر ہیں کہ ہر دور میں چالیس ابدال اور بارہ قطب زندہ رہینگے..وہ کوئی اسمانی مخلوق نہیں ہیں وہ انہی ریاستی اداروں میں ہونگے انہی مساجد ومدارس میں موجود ہونگے انکو کسی بلٹ پروف گاڑی کی ضرورت نہیں ہے انکو کسی کیمرے اور سٹوڈیوں کی رنگینیوں کی ضرورت نہیں ہیں .وہ سوتے میں بھی اسلام کیلئے کام کررہے ہوتے ہیں انکا جاگنا سونا جانا بیٹھنا سب کچھ اسلام اور ریاست کیلئے ہیں .یادرکھئے مضبوط اسلامی خلافت کے قلعے کھبی باہر سے کسی کافر نے فتح نہیں کئے ہیں بلکہ انکو اپنے غداروں کے زریعے اندر سے ہی توڑوایاگیا ہے .سو سنجیدہ رہئے اور جس بات کے بارے میں علم نہیں رکھتے اس پر بناء سوچے سمجھے زندہ باد مردہ باد کہنے سے باز رہئے.اس ریاست میں ابدال لگے ہوئے ہیں قطب کے رہنمائی میں خلافت مضبوط ہورہی ہیں دنیاں تمھارے سامنے سرنگو رہیگی مگر اپنے صفوں میں اعتماد پیدا کرے اپنے ریاست پر یقین پیدا کرے اپنے خفیہ اداروں کیساتھ تعاون کرے 

    Twitter Handle

    @PTI58

  • پہلی جنگ عظیم کی مکمل داستان حصہ دوئم تحریر:اصغرعلی

    پہلی جنگ عظیم کی مکمل داستان حصہ دوئم تحریر:اصغرعلی

                                                       

    اس کے بعد جرمنی جو کہ بلجئیم پر قبضہ کر چکا تھا اور بیلجیئم کے راستے فرانس کے دارالحکومت پیرس کے قریب پہنچ چکا تھا اس کو ادھر  بر طانوی فوج کا سامنا کرنا پڑ گیا جیسے ہی برطانوی فوج کا سامنا ہوا تو ادھر جرمنی کی پیش قدمی پوری طرح رک چکی تھی کیونکہ فرانس اور برطانیہ  نے مل کر جرمنی کی فوج پر ایک بڑا حملہ کر دیا مجبورا جرمنی کو دفاعی پوزیشن لینی پڑی اور واپس اپنے ملک میں آہستہ آہستہ کر کے جرمن فوج چلی گئی اس لڑائی کو بیٹل آف برلن بھی کہا جاتا ہے ایک طرف سے جرمنی کو بری طرح شکست ہو چکی تھی لیکن دوسری طرف جرمنی نے روس کے تین لاکھ سپاہی مار دیے تھے یہی وہ وقت تھا جب نہ چاہتے ہوئے بھی مسلمانوں کی سب سے بڑی سلطنت سلطنت عثمانیہ نے روس پر حملہ کر دیا اور اس طرح سلطنت عثمانیہ پہلی جنگ عظیم کا حصہ بن گیا یہی وہ غلطی تھی جس کا خمیازہ مسلمانوں کی سب سے بڑی سلطنت یعنی سلطنت عثمانیہ کو اٹھانا پڑا کیونکہ اسی جنگ عظیم کے بعد سلطنت عثمانیہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی اور  سلطنت عثمانیہ کا نام و نشان تک ختم ہو گیا کیوں کہ سلطنت عثمانیہ نے جیسے ہی روس پر حملہ کیا تو اسی ٹائم روس کے فوجی اتحاد برطانیہ فرانس اور دو تین ملکوں نے سلطنت عثمانیہ پر مغرب والی سائیڈ سے ایک بڑا حملہ کر دیا لیکن سلطنت عثمانیہ بھی آخر کار عثمانی سلطنت ہی تھی اس نے مغربی اتحاد یعنی کے فرانس اور برطانیہ کی فوج کو  چند ہی گھنٹوں میں شکست سے دوچار کر دیا اور یہاں بھی مغربی اتحاد کو کامیابی نصیب نہیں ہوئی یہ وقت انیس سو سولہ کا تھا اور اس وقت تک مغربی اتحاد کے ڈھائی لاکھ فوجی مارے جا چکے تھے ادھر موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سلطنت عثمانیہ نے سوئس کینال کے علاقے پر حملہ کر دیا یہ بہت اچھی حکمت عملی تھی کیونکہ اگر کسی بھی طرح س سوئس کینال اس وقت سلطنت عثمانیہ کے قبضے میں آجاتی تو برطانیہ پہلی جنگ عظیم برے طریقے سے ہار جاتا اور اپنا سپرپاور سٹیٹس بھی گنوا بیٹھتا کیونکہ اس وقت دنیا کی تمام بڑی تجارتیں اسی سوئس کینال سے ہوا کرتی  تھی اور آج بھی یہ سوئس کنال ترکی کا حصہ سمجھی جاتی ہے مگر ایسا نہیں ہوا برطانیہ جو کہ سوپر پاور تھا اس نے سعودی عرب میں سعودی باغیوں  کو سلطنت عثمانیہ کے خلاف بغاوت پر اکسا  دیا اور ان کو فتح کی صورت میں آزادی دینے کا وعدہ کیا اس کے بعد انیس سو سولہ کے اختتام پر ایک اورجنگ ہوئی جس کو بیٹل اف سوم کے نام سے یاد کیا جاتا  ہے یہ اسرائیل کے محاذ پر ہوئی تھی جو کہ اس وقت سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا اس جنگ میں ایک دن میں 80 ہزار فوجی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے ان میں سے زیادہ تر برطانوی اور کینیڈین سپاہی تھے اب جہاں جہاں ان ملکوں کی کالونی ہوا کرتی تھی ادھر بھی جنگ شروع ہوگئی اس کے علاوہ بحرالکاہل اور چائنا میں بھی جرمنی کی کچھ کالونیاں تھیں اس پر جاپان نے حملہ کر دیا کیونکہ جاپان کے ساتھ بھی برطانوی فوجی معاہدہ ہوا تھا اسی دوران مشہور گیلی پولی کی جنگ بھی ہوئی جس میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے سپاہی  تھے یہاں پر سلطنت عثمانیہ  نے  آسٹریلوی اور نیوزی لینڈ کے سپاہیوں کو شکست دی آپ ٹی وی پر یا اخبارات پر گیلی پولی میں مارے جانے والے سپاہیوں کی یاد میں اینڈ ڈے بناتے ہوئے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کو دیکھتے ہوں گے اس کے بعد ایک محاذ کے دوران جرمنی اور برطانوی فوجیں آمنے سامنے آئیں برطانیہ نے جرمنی کے بحری جہازوں کو بری طرح شکست دی اس کے بعد برطانوی جہازوں کو کو دیکھتے ہیں جرمن جاز کھلے سمندر سے غائب ہو جاتے تھے اور جرمنی نیوی اکثر بر طانوی نیوی سے کتراتی تھی اور شدید خوف اور ڈر کی وجہ سے برطانوی نیوی جہازوں کے علاوہ سواریوں کے جہازوں پر بھی جرمن نے حملے شروع کر دیے لیکن یہاں ایک بہت بڑی غلطی جرمن سے ہوگی غلطی یہ تھی کہ امریکہ سے آنے والا مشہور جہاز لوزی تانیہ جو کہ بارہ سو لوگوں کو لے کر برطانیہ جا رہا تھا اس کو نشانہ بنا دیا گیا جس میں عملے کے 25 افراد سمیت  بار دو سو سے زیادہ امریکی شہری ہلاک ہوگئے اور یہ وہ وقت تھا کہ جب امریکا اس جنگ میں شامل ہوا اس سے پہلے ریاست ہائے متحدہ امریکا ورلڈ وار ون میں ابھی تک شامل نہیں ہوا تھا امریکہ کے آ جانے کے بعد  مغربی فوجی اتحاد روس فرانس اور برطانیہ کی طاقت ڈبل ہوچکی تھی مشرق کے سائیڈ پر جرمنی کو اس کے اتحادیوں سمیت زبردست شکست ہوگئی اس کے بعد مغرب والی سائیڈ پر امریکہ کے آجانے کے بعد  1918 میں ایک معاہدے کے تحت جرمنی نے ہتھیار ڈال دیئے اس کے بعد جرمنی کی مختلف کالونیاں جو کہ چائنہ اور افریقہ میں واقع تھی وہ فرانس اور روس نے آپس میں بانٹ لیں اور جرمنی کو پہلی جنگ عظیم  کا قصوروار یا ذمہ دار ٹھہرایا گیا اور اس پر بھاری تاوان ڈالا گیا یہ تاوان اتنا بڑا تھا کہ اس کی قسطیں یکم نومبر دو ہزار دس تک جرمنی ادا کرتا رہا اس کے بعد افریقہ  میں ایشیا میں اور یورپ میں ملکوں کے نئے بارڈر تشکیل دیے گئے پہلی جنگ عظیم کے خاتمے پر دنیا کی چار بڑی سلطنتیں بری طرح ٹوٹ چکی تھی تباہ اور برباد ہو چکی تھی اور مختلف ملکوں میں بٹ چکی تھی جن میں جرمن رشئین آسٹریا-ہنگیرین اور سلطنت عثمانیہ شامل تھیں اس کے بعد بہت سارے نئے ممالک نے جنم لیا جس میں آسٹریا-ہنگری پو لینڈ چیکوسلوواکیہ بوسنیا یوگوسلاویہ اور فن لینڈ وغیرہ وغیرہ شامل ہیں اس کے علاوہ مڈل ایسٹ سارا فرانس اور برطانیہ نے آپس میں بانٹ لیا تھا اور اسی جنگ عظیم کے بعد بہت ساری جدید ٹیکنالوجیز سامنے آئی تھیں جن میں ریڈیو مشین گن ٹائم بم میزائل ٹینک اور بہت سارا فوجی ساز و سامان شامل ہے اور اسی جنگ عظیم کے ختم ہونے کے ساتھ ہی دنیا میں اس وقت کی سب سے خطرناک بیماری سوائن فلو آ گئی جس سے ایک اندازے کے مطابق 5 کروڑ انسانوں کی جان گئی جبکہ پہلی جنگ عظیم میں ایک اندازے کے مطابق 80 لاکھ سے سوا کروڑ انسانی جانوں کا زیاہوا تھا یوں ایک جنگ جو کہ آسٹریا-ہنگری اور سربیا کے درمیان شروع ہوئی تھی پوری دنیا میں پھیلنے کے بعد اپنے اختتام کو پہنچ چکی تھی جنگ کے نتائج بہت ہی زیادہ تباہ کن تھے جس کی لپیٹ میں پوری دنیا آ گئی تھی اور اس جنگ کے بعد کچھ معاہدے ہوئے جو کہ جنگ عظیم دوئم کی وجہ بھی بنے

    Asghar Ali is digital media journalist, Columnist and Writer who writes for baaghitv.com.
    for more info visit his twitter 

            account @ali_ajkpti

  • نوجوان نسل اسلام سے دور کیوں ہے تحریر: ملک ضماد

    اللّٰہ رب العزت کا شکر ہے جس نے ہمیں ایک سچے دین سے نوازا،
    کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے ۔۔
    وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا ۔۔
    تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں۔ ۔۔
    کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاج سردارا۔۔

    آج کا نوجوان دین سے دور کیوں ہے؟ پہلے تو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ آج کا نوجوان دین سے خود دور ہوا یا اسے دین سے دور کیا گیا ، کیونکہ خود دور ہو جانے اور دور کر دینے میں بڑا فرق ہے ۔۔۔
    کوئی فرد کسی گروہ یا کسی جماعت کو اپنے لئے پسند کرتا ہے تو اس گروہ ، جماعت کے لوگ اس فرد کےلئے رول ماڈل کا کام سر انجام دیتے ہیں۔ وہ انھیں لوگوں کی حرکات سے اثر لیتا ہے اور بالآخر ان لوگوں کی طرح ہی ہو کر رہ جاتا ہے ۔۔۔
    دین اسلام کے خلاف سازش آج سے یا کچھ عرصہ قبل سے نہیں بلکہ اس سازش کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب برصغیر میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے دور کا آغاز مختلف مسالک کی دینی درسگاہوں اور تدریسی کے جدا گانہ قیام سے ہوا تھا ۔ یہ انتہائی افسوس ناک بات تھی اس دور میں مختلف مکاتب فکر کے جدا جدا مدارس وجود میں آ گئے ، ان درسگاہوں سے تعلیم پانے والے طالب علم ایک مخصوص ماحول میں تحصیل علم کے بعد جب باہر نکلے اور مسند علم و ارشاد پر فائز ہوئے تو ان کے دل و دماغ اسی مسلک کے سانچے میں ڈھلے ہوئے تھے اور انکے اعمال و کردار پر اس وابستگی کی گہری چھاپ نمایاں تھی ، علماء کی یہ کھیپ مساجد کے محراب و منبر سے دین کے بنیادی مسائل کو پس پشت ڈالتے ہوئے اپنے اپنے مسلک کا پرچار کرنے لگے ،
    بقول اقبال ~
    گلا تو گھونٹ دیا اہلِ مدرسہ نے تیرا ۔۔
    کہاں سے آئے صدا لاالہ الااللہ ۔۔۔
    اس طرح علماء ایک دوسرے کو تنقید و تنقیص کا نشانہ بنانے لگے، اور مسلکی رواداری کے برعکس انتہا پسندی جڑ پکڑ گئی۔۔
    پھر فرقہ پرستی اور تفرقہ پروری کی آگ بھڑک اٹھی ، جس سے انتشار فتنہ و فساد اور نا اتفاقی نے جنم لیا اور وحدت ملی کے تصور کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا، نتیجتاً امت گروہوں اور دھڑوں میں بٹ گئی، اس سے اسلام کی اجتماعی حیثیت ضعف و انحطاط کی زد میں آ گئی ۔
    دوسری طرف برطانوی استعمار نے برصغیر میں وارد ہو کر سب سے پہلا تخریبی کام یہ کیا کہ مسلمانوں کا وہ نظام تعلیم جو مدت سے یہاں رائج تھا اس نظام تعلیم کو تباہ کر دیا ایسا کرنے میں ان کے اپنے سامراجی عزائم کار فرما تھے ، عام تعلیم کو لا دینیت کے رنگ میں رنگ دینے سے مسلمانوں کی شاندار اقدار زوال پزیر ہو گئیں ۔۔
    آج سے ڈیڑھ سو سال قبل تک مسلمانوں کے دینی اور دنیاوی تعلیم کے مدارس ایک ہی ہوتے تھے۔اور جدا گانہ نظام تعلیم کا کوئی تصور موجود نہ تھا ، ایک ہی درسگاہ سے طلبا کو سائنس ، ریاضی، فلسفہ، منطق ، حدیث و قرآن اور فقہی علوم پڑھائے جاتے تھے، گویا دینی اور عصری علوم و فنون ایک ہی نصاب کا حصہ تھے، انگریز کے شاطر دماغ نے اپنی ریشہ دوانیوں سے ملت اسلامیہ کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے لیے سیکولر نظام تعلیم ملک بھر میں رائج کر دیا اقبال اس نظام کے بارے میں فرماتے ہیں ~
    شکایت ہے مجھے یارب خداوندان مکتب سے۔۔
    سبق شاہین بچوں کو دے رہا ہے خاکبازی کا۔۔۔
    ایسے نظام تعلیم سے عالم اسلام میں کوئی رومی، رازی ، فارابی، جامی اور ابن رشد جیسا ہمہ جہت عالم، مفکر اور دانشور کیسے پیدا ہو سکتا تھا ؟ لہذا نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ دینی اداروں سے فارغ التحصیل علماء مولوی تو بن گئے جن کا کام نکاح خوانی اور مردوں کی تجہیز و تکفین کے علاؤہ کچھ نہ تھا,
    لیکن علمی دنیا پہ حکمرانی کے لئے سکالر نہ بن سکے ، ایک زمانہ تھا کہ مولوی کا لفظ آج کے پی ایچ ڈی اور علوم و فنون کے ماہر کے مترادف تصور کیا جاتا تھا۔۔
    تاریخ میں ملا علی قاری کے پائے کے محدث اور عبد الرحمٰن جامی جیسے فقیہہ کا زکر بڑے احترام سے ملتا ہے جو اپنے زمانے میں ملا کہلایا کرتے تھے ، آج ملا کا لفظ تحقیر و نفرت کی علامت بن گیا ہے ۔۔
    یہ عام مشاہدہ ہے کہ دینی مدرسوں کے فاضل علماء نورو بشر اور حاضر و ناظر جیسے موضوعات پر تو گھنٹوں تقریر کر سکتے ہیں لیکن ان سے اسلام کے معاشی نظام ، بین الاقوامی تعلقات، اقوام عالم کے ساتھ جنگ و صلح کے ضابطوں اسلامی تہزیب و ثقافت، سیاسی پالیسی ، اسلامی تعزیرات اور اسلامی معاشرت کے ضابطوں کے بارے میں اظہار خیال کرنے کو کہا جائے تو وہ پانچ منٹ سے زیادہ کسی موضوع پر نہیں بول سکتے ، یہی وجہ ہے کہ آج کی نوجوان نسل دینی علوم سے بے بہرہ اور فرقہ پرست علماء سے حد درجہ بے زار نظر آتی ہے ، کیونکہ ان کے نزدیک بقول اقبال ~
    فرقہ بندی ہے کہیں، اور کہیں ذاتیں ہیں
    کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں۔۔؟
    آخر میں یہی کہوں گی کہ اگر ہمیں دین کے ساتھ سچی لگن ہے تو ہمیں اپنی انا کو بھول کر دین اسلام کے لئیے ایک ہونا ہو گا ، دین رہ گیا تو ہمارا مقام رہے گا ورنہ ہم نہ دنیا کے رہیں گے نہ عقبیٰ کے ۔۔
    بقول اقبال ~
    قو م مذہب سے ، مذہب جو نہیں تم بھی نہیں
    جذب باہم جو نہیں محفلِ انجم بھی نہیں۔ ۔

    ایک اور مقام پر فرماتے ہیں ~
    منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک
    ایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایک
    حرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک
    کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

  • غسل کے احکام ومسائل تحریر حسینہ کھوسہ

    غسل کے احکام ومسائل تحریر حسینہ کھوسہ

    غسل کا مطلب ہوتا ہے انسان کا اپنے پورے بدن پر ایک مخصوص طریقہ سے پانی بہانا۔ غسل کو واجب کرنے والی چیزیں چھ ہیں: 

    (۱) کسی مرد یا عورت کا احتلام ہو جانا مین می کا

    قوت کے ساتھ شرم گاہ سے باہر آنا۔

     (۲) میاں بیوی کا ہم بستری کرنا۔

     (۳) کسی کافر کا اسلام

    لے آنا۔ 

    (۴) کسی مسلمان کا مر جانا۔ واضح رہے کہ راہ خدا میں شہید ہونے والے کے علاوہ ہر

    میت کونسل دینا واجب ہے۔ 

    (۵) عورت کا حیض (ماہواری) کے خون سے پاک ہونا۔ (6)عورت کا نفاس (بچہ جننے کے بعد نکلنے والا فاضل خون) کے خون سے پاک ہونا۔

    غسل کرنے کے دو طریقہ ہیں : پسندیدہ ومحبوب طریقہ اور بقدر ضرورت جائز طریقہ۔

    پہلے طریقہ غنسل کرنے سے غسل کامل و مکمل اور شریعت کی نگاہ میں محبوب ہوتا ہے جبکہ دوسرے

    طریقہ سے غسل کرنے میں غسل کی ضرورت پوری ہوجاتی ہے۔ ویسے دونوں طر لیے جائز ہیں۔

    پہلے طریقہ یعنی کامل و مکمل کرنے کا انداز یہ ہے

    غسل کی نیت دل میں کی جائے اور بسم الله پڑھا جائے۔

     دونوں ہاتھوں کو تین بار دھویا جائے اور شرمگاہ کو دھویا جائے۔

     پھر پورا وضو کیا جائے جس طرح سے نماز کے لیے وضو کیا جاتا ہے۔

     پھر تین بار سر پر پانی ڈالا جائے تا کہ بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچ جائے۔

    = پر پورے بدن پر پانی ڈالا جائے۔ پانی ڈالنے میں جسم کے دائیں حصہ پر پہلے ڈالا

    جائے اس کے بعد بائیں حصہ پر پانی ڈالا جائے جسم کو ہاتھوں سے رگڑا جائے تا کہ کوئی جگہ

    سوکھی نہ رہ جائے۔ اس مرحلہ میں صابون ، شیمپو وغیرہ کا استعمال کرنا بھی جائز ہے۔

    غسل کا دوسرا بقدر ضرورت طریقہ یہ ہے کہ ایک ساتھ ہی پورے بدن پر پانی ڈال لیا

    جائے۔ واضح رہے کہ اس طریقہ میں منہ اور ناک میں پانی ڈال کر انہیں صاف کرنا ضروری ہے۔

    پہلے طریقہ میں وضو کرنے میں یہ دونوں چیز میں آ جاتی ہیں۔

    ویسے تو انسان غسل کسی بھی وقت کرسکتا ہے۔ تاہم غسل جن موقعوں پر کرنا شریت

    کی نگاہ میں مستحب ہے وہ یہ ہیں:

    عید کی نماز کے لیے۔ اس میں عید الفطر اورعیدالانی دونوں شامل ہیں۔

    جمعہ کی نماز کے لیے۔

    = حج یا عمرہ کے لیے احرام باندھنے سے پہلے۔

    = وہ عورت جسے کی بیماری کی وجہ سے خون آرہا ہو

    ، اس کے لیے شرعا پسندیدہ ہے کہ وہ

    ہرنماز سے پہلے غسل کرے۔ اگرچہ واجب نہیں۔ بلکہ ہر نماز سے پہلے صرف وضواجب ہے۔

    یہاں ذہن میں رہنا چاہیے کہ ان موقعوں پرنہانا محض مستحب ہے، فرض نہیں۔ لیکن اگر

    کوئی ان مواقع پر نہاتا نہیں ہے تو وہ کسی گناہ کا ارتکاب نہیں کرتا۔

    خواتین کے لیے غسل کے چند اہم مسائل درج ذیل ہیں:

    1) عورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے جسم کے ہر حصہ کو جانچ لے کہ وہاں پانی پہنچا

    کہ نہیں۔ 

    اس میں بالوں کی جڑوں کو حلق کے نیچے، بغلوں میں، ناف کے نیچے گھنٹوں کے

    موڑنے کی جگہوں کو بطور خاص دیکھ لینا چاہیے۔ اگر کوئی انگوٹی یا گھڑی پہن رکھی ہے تو نہاتے

    ہوئے انہیں گھما اور ہلا لینا چاہیے تاکہ پانی ان کے نیچے تک پہنچ جائے ۔

    ۲) عورتوں کو غسل میں دو چیزوں کا خاص طور سے اہتمام کرنا چاہیے: ایک تو یہ کہ غسل مکمل کیا جائے یعنی جسم کی کھال کا کوئی حصہ ایا باقی نہ رہنے پائے جس تک پانی نہ پہنچا ہو۔

    دوسری بات یہ کہ بلاوجہ پانی کا اسراف نہ کیا جائے۔ شریعت میں جس بات ک تعلیم دیتا ہے وہ یہ

    ہے کہ غسل مکمل کیا جائے لیکن اس میں کم سے کم پانی استعمال کیا جائے۔ اللہ کے رسول کے

    بارے میں حدیث گزر چکی ہے کہ آپ کا وضو ایک مد میں اور غسل ایک صاع کے برابر پانی

    میں ہوجاتا تھا۔ یہ مد اور صاع دو پیمانے ہیں جن سے عربوں میں سیال اشیا کوناپا جاتا تھا۔ موجودہ

    زمانے کی اصطلاح میں مد آدھی کلو کے برابر ہوتا ہے اور ایک صاع دوکلو کے برابر ہوتا ہے۔

    ۳) ناپاک عورت کے لیے اسی حالت میں سونا جائز ہے، تاہم افضل یہ ہے کہ سونے

    سے پہلے وضو کر لیا جائے۔

    4)اگر عورت کے بال گھنے ہیں یا چٹیا میں گندھے ہوئے ہیں تو اس کے لیے ضروری

    نہیں ہے کہ انہیں کھول کر ہی نہائے ۔ جو چیز ضروری ہے وہ یہ کہ پانی کو بالوں کی جڑوں تک پہنچایا

    جائے۔ اس میں بہتر ہے کہ پوری چٹیا کوایک بارفواره یائونٹی کے نیچے رکھ کر بھگولیا جائے اور پھر سر 

    پرہی اسے نچوڑ دیا جائے تا کہ سارے بالوں میں پانی پہنچ جائے

  • عملی زندگی میں کامیابی کے لیے صرف نمبرات کافی نہیں! تحریر: سید اعتزاز گیلانی

    نمبرات کی دوڑ ہمیں جس طرف لے جا رہی ہے وہاں سامنے اندھا کنواں ہے اور سسٹم اس قابل نہیں کہ بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو سامنے لا سکے۔ اور یہ چیز آنے والی عملی زندگی میں طلباء کو محسوس ہوگی جب انکو عملی طور پر کام کرنا ہوگا مگر وہ اپنی صلاحیت کی پہچان نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات میں پھنس جائیں گے۔ اور اسکے نتائج نظر آنا شروع بھی ہوگئے ہیں کیوں کہ حالیہ میڈیکل کے انٹری ٹیسٹ میں بہت سے نمبروں کے سلطان ڈھیر ہوگئے کیوں کہ انکے پاس ایک محدود حد تک رٹہ تھا جو صرف نمبر لا سکا مگر عملی طور پر وہ کچھ بھی نہ سیکھ سکے اور جب ٹیسٹ میں تصوراتی بنا پر سوال کیے گئے تو جواب دینے سے قاصر رہے، اور یہی چیز پھر آگے چل کے اُنکو عملی زندگی میں مشکل میں ڈال دیتی ہے اور پھر طلباء ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کیوں کہ بطور یونیورسٹی اسٹوڈنٹ میں اس چیز کو محسوس کر رہا ہوں  کیوں کہ نمبر میرے بھی اپنے وقت میں بہت اچھے تھے میں بھی بہت خوش تھا اور ہر طرف نمبروں کا ہی چرچا تھا اور یہی چیز اب بھی ہے نمبر ہم پر نفسیاتی طور پر اس قدر حاوی ہیں کہ ہم انہی کی خاطر دوڑ میں لگے ہیں اس میں بچوں کا کوئی قصور نہیں کیوں والدین ، اساتذہ اور رشتے دار یہ بچوں کی ذہن سازی ہی ایسی کر رہے ہیں کہ وہ پھر سب چیزیں بھول کر صرف اچھا اسکور کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس اسکور میں رٹہ ہوتا ہے جو صرف مخصوص وقت تک رہتا ہے۔ میں خود سائنس کا طالب علم ہوں اور ابھی یونیورسٹی سطح پر ہوں اور با خوبی سمجھ چکا ہوں کہ میں نے کیا کھویا اور کیا پایا ہے پایا تو خیر کچھ نہیں مگر اب کوشش میں لگے ہیں کہ کچھ حاصل ہو جائے۔ میری عزیز طلباء سے یہی گزارش ہے کہ بس کوشش کریں کہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو استعمال کریں اپنے تصوارت اور مشاہدات کو وسیع کرتے جائیں اگر ابھی سے آپ ایسا کریں گے تو جب آگے جائیں گے تو خود کو جلد کامیابی کی طرف لے جا سکتے ہیں اور جب آپ یونیورسٹی میں آئیں گے تو آپکو آسانی ہوگی۔ آج کل ٹیکنالوجی کا دور ہے اور لوگ ڈیجیٹل زون کی طرف بڑھ رہے ہیں اور پیسہ بھی اسی طریقے سے کمانے کی کوشش میں ہیں۔ اب تو حکومتی سطح پر بھی ایسے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں جہاں انٹرنیٹ کے ذریعے آنلائن پیسے کمانے کی طرف رجحان کو بڑھایا جا سکے۔ یونیورسٹی سطح پر پہنچ کر کم سے کم ایک طالب علم کو یہ احساس ضرور ہونا ضروری ہے کہ وہ اب عملی زندگی میں داخل ہو چکا ہے اور آنے والے وقت میں اس نے بہت سے زمہ داریاں اٹھانی ہیں اور ایسے ایک طالب علم کو اپنی سکلز کو کو بڑھانے کے بہت ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ پڑھائی کے ساتھ ساتھ خود کو مالی طور پر خود کفیل بھی بناتا جائے۔ کیوں کہ یونیورسٹی سے آپکی عملی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ اور یہاں آپکو صرف گائیڈ کیا جائے گا آپ پر اسکول اور کالج کی طرح سختی نہیں ہوتی یہاں وہی چل سکتا ہے جس کو سیکھنے کا شوق ہوگا۔ وہ طالب علم جو یونیورسٹی کی سطح پر خود کو تیار کرنا شروع کر دیتا ہے اور حالت کے تقاضے سمجھتے ہوئے اپنی زندگی کو ترتیب دیتا ہے وہ جب اپنی تعلیم سے فراغت حاصل کرتا ہے تو پھر معاشرہ اسے خوش آمدید کہتا ہے اس کے پاس حالت سے نپٹنے کی سکت زیادہ ہوتی ہے ، اور دوسری اہم چیز اُسکے تصورات اور مشاہدات اس قدر وسیع ہو چُکے ہوتے ہیں کہ موجودہ صورت حال کے مطابق تمام مسائل کے حل نکال کر لے آتا ہے۔ اسلئے بطور یونیورسٹی طالب علم میں اپنے تجربات اور مشاہدات کی بنا پر آپ سے یہ سب کہہ رہا ہوں اس پر غور لازمی کیجئے گا میں دعوے سے کہتا ہوں کہ جب آپ یونیورسٹی میں جائیں گے تو آپ ان سب چیزوں کو ہوتا دیکھیں گے۔ اسلیے میں اسے اپنا فرض سمجھتا تھا کہ آپ کو ایک اچھا مشورہ دوں اور آپکو اپنے مستقبل کے حوالے سے کچھ آگاہی بھی ہو جائے۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آپکی دعاؤں کا طالب

    TA: @AhtzazGillani

  • پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کیسے آئے گی : تحریر :    عزیز الرحمن 

    پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کیسے آئے گی : تحریر :  عزیز الرحمن 

    ‏پاکستان نے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے اپنا دوسرا قومی رابطہ جاری کیا ، کے پی میںایسی زمین کی تزئین کو دیکھنے کے لیے ، آپ کو کے پی ٹاپ نوشہرہ نظام پور وادی کے پی کے پاکستان کی پہاڑیوں پر جانا ہوگا۔ یہ ٹور آپ کا ایڈونچر ٹور ہوگا۔ اس جگہ کو نظام پور کہا جاتا ہے اور وہاں جانے کے لیے آپ کو شمال کی طرف شمال میں ایک پہاڑ پر چڑھنا پڑتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان ایک عالمی رہنما کے طور پر ابھرے ہیں جو 10 بلین درخت شروع کرنے والے ارب درختوں کو مکمل کرنے کے بعد موسمیاتی تبدیلی کی طرف ٹھوس عملی اقدامات کر رہے ہیں۔ یہ خوشی اور اعزاز کی بات ہے کہ پاکستان میزبانی کر رہا ہے۔ عمران خان نے اس منصوبے کا آغاز ہمارے زمین کی تزئین ہمارے ماحول اور مناظر کو بدلنے کے وژن کے ساتھ کیا تھا۔

    میرے وزیر اعظم عمران خان کے خیال میں پاکستان میں درخت زیادہ تر ممالک سے کم ہیں۔ پاکستان میں فی شخص صرف 5 درخت ہیں جبکہ باقی دنیا میں اوسطا2 فی شخص 422 درخت ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا کہ حکومت اس سال ملک بھر میں 10 ارب درخت لگائے گی۔ آسٹریلیا 3266 ، امریکہ 699 ، چین 130 ، برطانیہ حکومت 47 ، میرا ملک صرف 5 درخت فی شخص۔

    اگر موسمیاتی تبدیلی سے نمٹا نہیں گیا تو یہ عالمی پر غذائی تحفظ کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومت کو پودے لگانے اور بچانے کے لیے قدرتی فنڈ قائم کرنا چاہیے۔ پاکستان کو درخت لگانے چاہئیں اور ہریالی کی اہمیت کے بارے میں شعور اجاگر کرنا چاہیے۔ ملک کو 10 ارب درختوں پر سختی سے عمل کرنا چاہیے ہم صاف اور سرسبز پاکستان چاہتے ہیں۔ کلین اینڈ گرین پاکستان (سی جی پی) مائی پی ایم عمران خان کی پانچ سالہ مہم اس مہم کے تحت حکومت نے عملدرآمد کرنا ہے۔ اگر آپ ایک درخت لگاتے ہیں تو آپ ایک زندگی ، پاکستان اور اپنی آنے والی نسل کے مستقبل کے لیے پودے لگاتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے ادارے نے حکومت کے ارب درختوں کے منصوبے کی نگرانی کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر آپ یہاں پرندوں کی آواز چاہتے ہیں تو پنجرہ نہ خریدیں۔ ایک لمحہ ایک دن بدل سکتا ہے ایک دن زندگی بدل سکتا ہے اور ایک زندگی دنیا بدل سکتی ہے۔ درخت لگانے کا بہترین وقت بیس سال پہلے ہے ، ایک درخت فطرت کے ساتھ ہمارا سب سے گہرا مواد ہے ، درخت کو زمین کے پھیپھڑے کہا گیا ہے۔ تو آئیے ان کی اچھی طرح دیکھ بھال کریں ان میں زیادہ سے زیادہ پودے لگائیں اور پاکستان کو سرسبز بنائیں۔ زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے ، گلوبل وارمنگ ایک حقیقت ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے زمین کا درجہ حرارت ابلتے پانی کی طرح بڑھ رہا ہے۔ انسانی حقوق سے گہرا تعلق لاکھوں ماحولیاتی تبدیلی سے متاثر ہو رہے ہیں۔ تو کچھ جگہ یہ کافی عرصے سے خشک ہے۔ موسمیاتی تبدیلی پاکستان بھر میں بیماریوں کے پھیلنے میں معاون ہے۔ اگر ہم جلد ہی موسمیاتی تبدیلیوں کو سست نہ کریں تو مزید مہلک وبائیں آئیں گی۔ آب و ہوا کی تبدیلی اب کوئی مسئلہ نہیں ہے جو یہاں ہو رہا ہے یہ اب ہو رہا ہے۔ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کی جنگ کے لیے زیادہ تر نوجوانوں کی تعداد نبرد آزما ہے۔

    ‎@Aziz_khattak1

  • بچوں کی مشین تحریر :ذیشان اخوند خٹک

    بچوں کی مشین

    آپ نے بچوں کی مشین کا نام دیکھ کر ضرور سوچا ہوگا کہ انگریزوں نے کوئی روبوٹ یا مشین ایجاد کیا ہوگا جو کہ بچے کو تیار کریگا مگر حقیقت کچھ اور ہی ہے کہ یہ مشین ہم لوگوں نے ہی ایجاد کی ہے اور یہ مشین کسی لوہے سے نہیں بنائی ہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی انسان سے بنائی ہے اور اس بدنصیب جیتی جاگتی کو معاشرہ میں عورت کے نام سے پکارا جاتا ہے.

    پاکستان میں اس ظلم کی شرح شہروں کے مقابلے میں گاوں میں بہت زیادہ ہے. اس ظلم کے خلاف معروف ڈرامہ نگار نور الہدی شاہ نے 2017 میں سمی کے نام پر ایک ڈرامہ لکھا جو کہ ہم ٹی وی پر نشر ہوگیا. وہ ڈرامہ تو دراصل ونی مطلب دیت میں لڑکی دینے کے مکروہ عمل کے خلاف تھا مگر انہوں نے دریا کو کوزے میں بند کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ڈرامہ سیریل میں بچوں کی مشین کی مسئلہ بھی اجاگر کیا.
    پاکستان دنیا میں عورتوں کے بدترین حالت میں نویں نمبر پر ہے.

    آج سے چودہ سو سال پہلے عرب میں یہ رواج شروع ہوگیا تھا کہ زندہ بیٹیوں کو دفنا دیتے تھے مگر آج کل تو یہ عمل ان سے بھی بدتر ہورہا ہے کیونکہ مرد کی غلطی بھی عورت کے جھولی میں ڈال دیتی ہے اور اسے پھر ساری زندگی طعنے دیتے رہتے ہیں اور وہ بیچاری روزمرہ کے طعنوں کی وجہ سے روزانہ زندہ اور مرتی ہے.

    آج کل ایک بیٹا پیدا کرنے کیلئے مرد اور ان کے سسرال اس بیچاری کو بچوں کی مشین بنادیتے ہیں اور اس زیادہ بچے پیدا ہونے کی وجہ سے عورت کے جسم میں خون ناپید ہوجاتا ہے. جس سے ان کی زندگی کمزوری کی وجہ سے زندہ لاش بن جاتی ہے اور ہر بیماری ان کے جسم میں پیدا ہوجاتی ہے اور پھر ان بیچاری عورت کو ہر وقت بیمار رہنے کی طعنے بھی سننے پڑتے ہیں.

    ہم تو بس نام کے مسلمان ہے اور اس موقعہ پر ہم یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی تقسیم ہے کہ وہ کس کو بیٹیوں سے نوازتا ہے اور کسی کو بیٹوں سے اور کسی کو بے اولاد کر دیتا ہے. پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیوی حضرت سارہ بانجھ عورت تھی مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں حضرت اسحاق علیہ السلام جیسے بیٹے سے نوازا.

    عورت معاشرہ کا ایک حصہ ہے اور انہیں وہ مقام اور عزت دے جو انہیں اسلام نے عطا کردیا ہے. بیٹے کے نام پر عورت کی تذلیل نہ کرے کیونکہ اولاد باپ کے نصیب سے پیدا ہوتے ہیں. بیٹی پیدا ہونے میں ماں کا کوئی قصور نہیں ہوتا بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک تقسیم ہے. بیٹیاں بوجھ نہیں بلکہ رحمت ہوتی ہیں. جو شخص اپنے دو بیٹیوں کی اچھی پرورش کرتا ہے اسے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی بشارت دی.

    بیٹیاں سب کے مقدر میں کہاں ہوتی ہے۔
    گھر جو خدا کو پسند ہوتا ہے وہاں ہوتی ہے

    ٹویٹر ہینڈل
    @ZeeAkhwand10

  • پہلی جنگ عظیم کی مکمل داستان  تحریر اصغر علی                                        

    پہلی جنگ عظیم کی مکمل داستان تحریر اصغر علی                                        

               

    یہ بات 28 جولائی 1914 کی ہے جب پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی تو اس ٹائم یہی گمان کیا جا رہا تھا کہ یہ دنیا کی سب سے بڑی جنگ ہے اور اس کے بعد کوئی بھی اس طرح کی بڑی جنگ نہیں ہو سکتی اور کئی لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ دنیا کی آخری جنگ ہے لیکن سب کے اندازے غلط نکلے کیونکہ اس کے کچھ ہی عرصے کے بعد انیس سو انتالیس میں جنگ عظیم دوئم شروع ہوگی پہلی جنگ عظیم آسٹریا اور ہنگری نے اس وقت شروع کی کہ جب ان کے ایک بہت ہی قریبی لیڈر کو مارا گیا اس کے بعد اسی جنگ کے دوران دنیا دو حصوں میں تقسیم ہو گئی تھی ایک طرف دنیا کی سپر پاور سے اور دوسری طرف دنیا کے باقی ممالک ان میں سپر پاور برطانیہ روس اور فرانس ایک ساتھ تھے اور ان کے ساتھ کچھ اور ملک بھی تھے جنگ شروع ہونے کے کچھ عرصے کے بعدامریکہ جاپان اور اٹلی بھی اس اتحاد کے ساتھ شامل ہوگئے تھے  ان کے مد مقابل تھے سینٹرل پاور جن میں آسٹریا-ہنگری  سلطنت عثمانیہ جرمنی اور چھوٹے کافی ملک تھے پہلی جنگ عظیم سے پہلے یورپ ہتھیاروں کی دوڑ میں بہت آگے نکل چکا تھا جس میں مشین گن ٹائم بام ٹینک اور جدید قسم کا اس وقت کے مطابق اسلحہ یورپ میں تیار ہونے لگا تھا برطانیہ اور جرمنی یورپ میں خوب ترقی کر رہے تھے اور دونوں نے اپنے ان ہتھیاروں کو اپنی اپنی سلطنتوں کو بڑھانے میں بھی کافی استعمال کیا تھا ان دنوں میں یورپ میں طاقت کا توازن باربار بگڑا تھا اور طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے مختلف ملکوں نے آپس میں اتحاد بنانا شروع کر دیئے تھے ان ملکوں نے آپس میں فوجی اتحاد کے علاوہ خفیہ معاہدے بھی کرنا شروع کر دیے تھے ان اتحادوں میں دو اتحاد قابل ذکر ہیں triple alliance 1882 یہ جنگی اتحاد آسٹریا-ہنگری جرمنی اور اٹلی کے درمیان طے پایا اس اتحاد کا نعرہ یہ تھا کہ اگر کوئی بھی دنیا کا ملک ان تینوں میں سے کسی بھی ملک پر حملہ کرتا ہے تو یہ تینوں مل کر اس کا مقابلہ کریں گے اور ایک دوسرے کا مشکل وقت میں دفاع کریں گے جس میں بہت سارے فوجی معاہدے بھی سائن کیے ہوئے تھے جس میں ایک دوسرے کے بارڈرپر اپنی فوج ایک دوسرے کی سرحد کے اوپر سے اپنے جہاز گزارنا اور اس طرح کی بہت سارے معاہدے تھے اس اتحاد کے بعد انیس سو سات میں ایک اور بڑا جنگ اتحاد قائم ہوا جو کہ فرانس روس اور برطانیہ کے درمیان تھا اٹلی نے لڑائی کے دوران ان اپنا اپنا معاہدہ چھوڑ کر برطانیہ فرانس اور روس کے ساتھ ساتھ معاہدہ کر لیا تھا اٹلی کا اپنا اتحاد  سے الگ ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ اٹلی کے کچھ علاقے پر آسٹریا-ہنگری نے قبضہ کر رکھا تھا جتنے بھی طاقتور ممالک تھے وہ افریقہ اور ایشیا میں اپنی اپنی کالونی کو بنانے میں لگے ہوئے تھے کالونیاں بنانے کا مقصد یہ تھا کہ ان جگہوں پر ان ملکوں کا قبضہ تھا اور یہ وہ دور تھا کہ جب ورلڈ وار شروع ہوئی انیسویں صدی کی شروعات میں سب سے کامیاب برطانیہ تھا کیونکہ برطانیہ نے برصغیر پاک و ہند آسٹریلیا اور 25 فیصد دنیا پر اپنا قبضہ جما لیا ہوا تھا اور یہ وہی وقت تھا جس کا ذکر بہت ساری کتابوں میں بہت سارے آرٹیکلز میں اور بہت ساری موویز میں دیکھنے کو یا سننے کو یا پڑھنے کو ملتا ہے کہ سلطنت برطانیہ اپنے عروج پر تھی اور اس کے عروج میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا یہی وجہ تھی کہ برطانیہ کے پاس بہت سارے ذریعے اور بہت زیادہ طاقت تھی کیونکہ پوری دنیا پر برطانیہ کا راج چلتا تھا پہلی جنگ عظیم میں 13 لاکھ لوگ برصغیر پاک و ہند سے صرف برطانیہ کے لیے لڑے تھے کیونکہ اس وقت برصغیر پاک وہند برطانیہ کی ایک کالونی تھا انیسویں صدی کی شروعات میں یورپ میں نیشنل ازم اپنے عروج پر تھی اس وقت یہ تصور عام تھا کہ دنیا کا سب سے کامیاب ملک وہ ہے جس نے سب سے زیادہ جنگ لڑی اور جیتی ہے یہی وجہ یا یہی وہ تصور تھا جس کی وجہ سے اس دور میں جنگیں بہت زیادہ ہوا کرتی تھی یہی وہ وجہ تھی کہ آسٹریا-ہنگری کے بادشاہ جو کہ بوسنیا میں گئے اور وہاں پر ان کو قتل کر دیا گیا ان کو قتل کرنے والا گلیلیو تھا یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کو اکیلا گیلیلیو نہیں بلکہ اور بھی بہت سارے لوگوں نے مل کر قتل کیا تھا جس کی وجہ سے آسٹریا ہنگری نے میں نے صرف یہ سے ہتھیار ڈالنے کو اور آسٹریا-ہنگری کا حصہ بننے کو کہا مگر سربیا نے اس کی یہ بات نہیں مانی اور اس نے روس سے مدد لینا چاہیے چاہیے رؤف جو کہ پہلے ہی تیار بیٹھا تھا تھا اس نے اپنی بھرپور مدد دینے کا اعلان کیا اور اس کے بعد آسٹریا-ہنگری نے جرمنی سے مدد مانگی جرمنی اور آسٹریا-ہنگری کا 1882 میں ایک معاہدہ ہوا تھا جس کے مطابق ایک دوسرے کا مشکل وقت میں ساتھ دینا شامل تھا اس کے بعد جرمنی نے آسٹریا-ہنگری کے ساتھ مل کر سربیہ پر حملہ کردیا جس کے فورا بعد بعد روس نے جرمنی پر حملہ کر دیا یا روس کے حملہ کرنے کے بعد فرانس جو کہ روس کا اتحادی تھا اس نے بھی جرمنی پر حملہ کر دیا یوں یہ جنگ جو کہ آسٹریا-ہنگری اور سربیا کے درمیان کی تھی وہ جنگ اب آسٹریا-ہنگری سربیہ جرمنی روس اور فراس  تک پہنچ چکی تھی اس کے بعد جرمنی جس پر دونوں اطراف سے حملہ ہو چکا تھا اس نے ایک سائیڈ پے میں روس اور دوسری سائیڈ پر فرانس کے ساتھ جنگ میں بری طرح الجھنے کی وجہ سے مغرب والی سائیڈ میں روس کے ساتھ دفاعی حکمت عملی اپنائی کیونکہ روس کی فوج بہت طاقتور اور تعداد میں بہت زیادہ تھی اس لیے لیے جرمنی نے روس کے ساتھ دفاعی حکمت عملی اپنائی اور مشرق والی سائیڈ سے اس نے بیلجئیم کے راستے فرانس پر حملہ کرنا چاہا اس لیے جرمنی نے بیلجیئم پر حملہ کرنے کا پلان بنایا تاکہ وہ بلجئیم کے راستے فرانس کی فوج پر پر اس کی پچھلی سائیڈ سے حملہ آور ہو کر اس کو تہس نہس کر دے اس کے بعد جرمنی نے بیلجیئم پر حملہ کر دیا بیلجیم پر حملہ ہونے کے ساتھ  کا ہیں بیلجیئم کا فوجی اتحادی برطانیہ بھی جنگ میں کود پڑا برطانیہ نے نے جرمنی پر حملہ کر دیا یوں اب جرمنی تین اطراف سے بری طرح جنگ میں گر چکا تھا اور اب اب پہلی جنگ عظیم برطانیہ سمیت دنیا کے  7  ممالک میں پھیل چکی تھی زبر دست فوجی طاقت کا مظاہرہ ایک دوسرے کی جانب سے دیکھنے کو مل رہا تھا کیونکہ برطانیہ اور روس اس وقت سپرپاور تھے اور فرانس بھی ان کا اتحادی ہونے کے ناطے اس جنگ میں کود پڑا تھا اس طرح 1907 میں بننے والا اتحاد فرانس روس اور برطانیہ یہ تینوں ہی سپرپاور اور اس جنگ عظیم میں شامل ہو چکے تھے جس کا مطلب صاف تھا کہ یورپ میں شدید تباہی آنے والی ہے اس کے بعد کیا ہوا کس طرح سلطنت عثمانیہ  آٹومن امپائر اس جنگ کا نہ چاہتے ہوئے بھی حصہ بن گئی آرٹیکل جاری ہے 

    Asghar Ali is digital media journalist, Columnist and Writer who writes for baaghitv.com.
    for more info visit his twitter 

            account @Ali_AJKPTI 

    Twitter id : https://twitter.com/Ali_AJKPTI