Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • رحمت للعالمین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم تحریر: خوشنود

    رحمت للعالمین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم تحریر: خوشنود

           جب سے یہ کائنات ظہور میں آئی ہے اللّٰہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت و رہنمائی، اپنے بندوں کی اصلاح اور انہیں سیدھی راہ پر چلانے کے لئے مختلف ادوار میں کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام کو بھیجا۔ نبوت کا جو سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر آکے ختم ہوا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللّٰہ عزوجل کے تمام انبیاء مرسلین رحمت تھے مگر رحمت للعالمین نہیں تھے۔ اُنکی نبوت اپنی قوم، اپنے دور اور اپنے زمانے تک محدود تھی جبکہ حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت و شفقت ہر عہد، ہر زمانے، ہر قوم اور تمام جہانوں کے لئے ہے۔ سرکارِ دو عالم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو اللّٰہ تعالیٰ نے رحمت للعالمین بنا کر بھیجا۔ جہاں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنا تعارف رب العالمین کروایا ہے وہاں حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو رحمت للعالمین کے لقب سے نوازا۔یہ لقب اور شرف ایسا ہے جو کسی اور کے لئے استعمال نہیں کیا گیا۔

    قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے: 

    وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین

    "اور (اے پیغمبر) ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔”

    اِس آیتِ کریمہ پر توجہ کی جائے تو معلوم ہوتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صرف عرب کے لئے رحمت بنا کر نہیں بھیجا گیا تھا۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم صرف اُمتِ مسلمہ کے لئے رحمت نہیں، تمام نبیوں، رسولوں اور فرشتوں کے لئے بھی رحمت ہیں۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم تمام چرند پرند، حیوانات و نباتات کے لئے بھی سراپا رحمت بن کر آئے۔ غرض عالم میں جتنی چیزیں ہیں سید المرسلین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سب کے لئے رحمت ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ جو تمام عالموں کا مالک و مختار ہے اُس نے اِن عالموں کے لئے رحمت کا اہتمام اپنے آخری نبی محمد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی صورت میں کر دیا۔ 

    چھٹی صدی عیسوی کا زمانہ جو بعثت نبوی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے قبل کا زمانہ ہے اُس زمانے میں نہ صرف سر زمین عرب بلکہ پوری دنیا جہالت و گمراہی کا شکار تھی۔ پورا معاشرہ پستیوں کی گہری دلدل میں ڈوبا ہوا تھا۔ ذات پات کا ایسا خوفناک نظام رائج تھا کہ انسانیت پناہ مانگتی تھی۔

    حیوان تو حیوان آپس میں انسانوں کے ساتھ بھی جانوروں سے بدتر سلوک کیا جاتا تھا۔ انسان انسان کا دشمن اور بھائی بھائی کے لہو کا پیاسا تھا۔ یتیموں کا مال ہڑپ کر لیا جاتا تھا اور بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔ کفر و شرک، ظلم و بربریت، قتل و غارت، چوری، ڈاکہ زنی، شراب نوشی نیز ہر قسم کا گناہ عام تھا۔ ان سب حالات اور گھٹا ٹوپ اندھیرے کو دور کرنے کے لئے عرب کی سر زمین سے وہ آفتابِ ہدایت طلوع ہو جسکی چکا چوند کر دینے والی روشنی نے جہالت کی تمام تاریکیوں کو ختم کر دیا۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کی تلقین فرمائی۔ جس معاشرے میں غلام اور عورت کی کوئی عزت نہیں تھی آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے اُس معاشرے میں غلاموں کو بھی عزت دلوائی عورت کو بحیثیت ماں، بہن، بیٹی، بیوی ہر روپ میں بلند مقام بخشا۔ اللّٰہ تعالیٰ کے تمام احکامات کی صرف تبلیغ نہیں کی بلکہ اپنی زندگی میں عملی طور پہ کر کے بھی دکھایا۔ وہ معاشرہ جو اپنے افعال و اعمال اور اخلاق و کردار کے لحاظ سے حیوانوں سے بھی بدتر تھا آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے دامن سے وابستہ ہو کر فرشتوں سے بھی افضل گردانا گیا۔ الغرض تاریخِ انسانی میں حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ ایک ایسا اعلیٰ و ارفع مقام رکھتی ہے جسکی کوئی مثال نہیں۔ 

    وہ دانائے سبل ختمُ الرسل مولائے کُل جس نے 

    غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادی سینا 

    نگاہِ عشق ومستی میں وہی اول، وہی آخر

    وہی قرآں،وہی فرقان، وہی یٰسین، وہی طہٰ

    آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم محسنِ انسانیت ہیں، انسان کامل ہیں اور ہر لحاظ سے قابلِ تقلید ہیں۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی قیامت تک کے انسانوں کے لئے بہترین نمونہ ہے۔ بطور مسلمان ہمیں ہر وقت اللّٰہ کریم کا شکر ادا کرتے رہنا چاہیے کہ اُس نے ہمیں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا اُمتی بنایا۔ جو شخص دنیا میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائے گا اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت و پیروی کرے گا اُسے دونوں جہانوں میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت سے حصہ ملے گا۔ ہمارے ایمان کا تقاضا ہے کہ ہم سیرتِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا مطالعہ کریں اور اپنی زندگی کے ہر پہلو میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہوں۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کو اپنے لئے مشعلِ راہ بنائیں تا کہ ہماری دنیا و آخرت دونوں سنور جائیں۔

      @_Khushnood_

  • سوشل میڈیا کی مدد سے عوام کے مسائل کے حل   تحریر : رانا عابد حسین

    سوشل میڈیا کی مدد سے عوام کے مسائل کے حل تحریر : رانا عابد حسین

    آج کل کے دور میں سوشل میڈیا ایک بہت عام سی چیز ہو گئی ہے پہلے لوگ فیس بک اور ٹیوٹر صرف اس لئے استعمال کرتے تھے کہ وہ اپنے دوستوں سے بات کر سکیں لیکن آج کے دور میں لوگ سوشل میڈیا اس لئے استعمال کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے مسئلوں کا حل حکومت سے کروا سکے پاکستان تحریک انصاف حکومت سے پہلے ایسے اقدامات نہیں کیے جاتے تھے سوشل میڈیا پر لوگوں کے مسائل حل نہیں کئے جاتے تھے لیکن اب جب سے پاکستان تحریک انصاف حکومت آئی ہے پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان ڈیجیٹل میڈیا بنایا اور ہر منسٹری کیلئے فوکل پرسن بنائے گئے تاکہ فوکل پرسن سوشل میڈیا پر رہتے ہوئے عوام کے مسائل کو حل کروا سکیں تاکہ عوام کو پتہ لگے کہ ان کی حکومت ان کے درمیان ہی ہے پہلے جو کام ایک سال میں ہوا کرتا تھا عدل و انصاف بہت عرصے بعد ملتا تھا آج صرف ٹیوٹر پر جا کر پوسٹ کرنے سے اور حکومتی اداروں کو ٹیگ کرنے سے آپکا مسئلہ چند گھنٹوں میں حل ہو جاتا ہے یہ ساری کی ساری محنت پنجاب حکومت کے فوکل پرسنز کو جاتی ہے اور اس کا سارا کا سارا کریڈٹ کو حکومت پاکستان اور پاکستان تحریک انصاف کو جاتا ہے کیونکہ اگر وہ سوشل میڈیا کو اہمیت نہ دیتے تو آج پاکستان اتنا تبدیل نہ ہوتا آج کے دور میں رہتے ہوئے آپ دیکھ سکتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف حکومت میں ہوتے ہوئے کتنا اچھا کام کر رہی ہے اور کتنے اچھے طریقے سے سوشل میڈیا کو ہینڈل کر رہی ہے اتنی اچھی کارکردگی شوشل میڈیا پر پہلے آج تک کسی حکومت کی نہیں رہی۔ وہ بے شک پاکستان کے وزیر اعظم کے فوکل پرسن ارسلان خالد ہو یا سی ایم پنجاب کے فوکل پرسن ہوں اظہر مشوانی ہوں یا وزیر بلدیات کے فوکل پرسن وقاص امجد ہو یا وہ بے شک سپورٹس کے فوکل پرسن زبیر خالد ہو یا فوکل پرسن چائلڈ پروٹیکشن ارسلان نعیم ہو یا ہیومن رائٹس کے فوکل پرسن فیصل کھوکھر ہوں سب اتنی تیزی کے ساتھ ایکشن لیتے ہیں مسائل چند گھنٹوں میں حل ہو جاتے ہیں پہلے یہی مسائل نواز شریف صاحب خود جا کر یا شہباز شریف صاحب خود جاکر حل کرواتے تھے لیکن آج یہ ہی کام سوشل میڈیا پر بیٹھتے ہوئے فوکل پرسنز کر رہے ہوتے ہیں آپ اس سے اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں پاکستان تحریک انصاف کتنے اچھے طریقے سے لوگوں کے مسائل سن رہی ہے اور ان کو بغیر کسی سفارش کے جلد از جلد حل کروانے کی بھی کوشش کر رہی ہے اور اس میں میں اپنی عوام اپنے نوجوانوں سے بھی درخواست کروں گا کہ وہ بھی سوشل میڈیا بہت زیادہ استعمال کریں اور دوسروں کی اس پلیٹ فارم سے مدد بھی کریں تاکہ حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر وہ بھی ایک اچھی قوم بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ جب ہم سب ایک ضرورت مند کی سوشل میڈیا پر مدد کریں گے اور اس کی آواز حکومت تک پہنچانے میں اس کی مدد کریں گے تو مجھے یقین ہے کل کو جب آپ کو خود کے لیے اپنی آواز پہنچانے کی ضرورت ہوگی تو سب لوگ آپ کی مدد کے لیے پہنچیں گے جن کی مدد کے لیے آ پہنچے تھے اور ایسے آپ کی آواز پہنچے گی منٹوں میں آپ کے مسائل حل ہوں گے جب حکومت آپ کو اتنے طریقہ سے ڈیل کر رہی ہے اور آپ کے مسائل حل کر رہی ہے تو کچھ آپ کا بھی فرض بنتا ہے کہ آپ حکومت کے لیے اور اس قوم کے لئے کچھ نہ کچھ کریں تاکہ ہم ایک عظیم قوم بن سکیں اور اس میں میں تمام فوکل پرسنز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو دن رات اس قوم کے لئے بلا تفریق کام کر رہے ہیں اور بغیر کسی لالچ کے مسائل حل کروانے کی کوشش کر رہے ہیں بے شک یہی وہ لوگ ہیں جو ہماری قوم کا اثاثہ ہے
    @AbidRana876

  • کیا ڈیجٹل ورلڈ کے احمق…کیا ان کے فرینڈ لسٹ                        تحریر ؛۔ محمد جواد خان

    موجودہ صدی میں کئے گئے انسانی جرائم کے مجرموں کی چارج شیٹ تیار کی جائے تو امریکی صدور کے نام سرفہرست رہیں گے. حضرت قبلہ بش دوم کے صرف ہاتھ کیا پورا جسم انسانی خون سے سرخ ہے. گزشتہ صدی سے افغانستان و عراق، صومالیہ، فلسطین، پاکستان کی حالات زار دنیا کے نظر میں ہیں اور مزید تشریح تحصیل حاصل.

    قبلہ بش صاحب دوم کے بعد قبلہ بارک حسین اوباما صاحب سریر آراء سلطنت ہوئے. کاخ سپید(White House) میں ان کے تمام اٹھ سال مسلمان دنیا پر ان کے مسلط کردہ جنگ میں گزر گئے. قبلہ بارک حسین اوباما شاید پہلے امریکی  صدر ہیں جو جنگ میں ائے اور… جیسے شام، یمن و لیبیا میں… بدترین جنگ و خانہ جنگیاں صدقہ جاریہ کے طور پر چھوڑ گئے.

     

      قبلہ بش دوم صاحب نے اپنے دور حکومت میں 150 ڈرون حملوں کی اجازت دی تھی. ان تمام 150 ڈرون سٹرائکس میں 296 جنگجو combatants مارے گئے اور 195 معصوم اور نہتے سویلین شہید ہوگئے. بات ختم.

       قبلہ حضرت بارک حسین اوباما نے افغانستان میں موجود ارمی کی تعداد ایک لاکھ پر لے جاکر وہاں غیر ملکی فوجی وجود میں سب سے زیادہ اضافہ کیا. اور 2001 کی جنگ کو 2014 تک طول دے کر افغان جنگ کو امریکی تاریخ کا سب سے طویل المدت جنگ بنا کر ریکارڈ قائم کی!

       ٹیریرزم، دہشت اور وحشت، بربریت، بے رحمی و خونریزی میں داعش نے انسانی تاریخ کے حافظے سے چنگیز خان و اٹیلا دی ھنز بھلا دئے. اسلامی دنیا پر یہ مسلط شدہ لعنت خالص قبلہ بارک حسین اوباما صاحب کی تن تنہا ایجاد ہے… جسطرح طالبان اس کے پیشرؤوں کے ایجاد ہیں… . اوبامہ ایڈمنسٹریشن نے شام، لبنان اور یمن کا جو حشر کیا اس پر تاریخ روتی رہے گی…. امید ہی نہیں کی جاسکتی کہ ہمارے زندگیوں میں شام و لیبیا پھر سے وہی پرامن شام و لیبیا بن جائیں گے. انسانی تاریخ میں سب سے بڑی پناہ گزینی کا بحران، حلب بمباری، لیبیا بمباری اور ان کے نتیجے میں معصوم شہریوں جوانوں، بوڑھوں، عورتوں، شیرخوار بچوں کی بہائی گئ خون عہد اوبامہ کی تاریخی تذکرے میں بولڈ فانٹ میں قلمبند ہوں گے.

      اوپر عرض کیا قبلہ بش دوم نے 150 ڈرون حملوں کی اجازت دی تھی………… قبلہ بارک حسین اوباما نے یہ تعداد بڑھا کر 500 ڈرون سٹرائکس کی اجازت دی… بلکہ احکامات جاری کئے… اور پاکستان و افغانستان کے علاوہ لیبیا، شام اور یمن تک ڈرون حملوں کا حلقہ وسیع کیا جن میں 3040 جنگجو مارے گئے…. معصوم شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد اس کی دو گنا ہے! افغانستان میں ایک حملے میں 287 شہری شہید ہوئے!

      

      امن کیلئے ان کوششوں……. کے بدلے… سر کے بل کھڑے… ناروے کے عالمی نوبل پرائز کمیٹی نے سال 2009 کو قبلہ بارک حسین اوباما کو نوبل انعام برائے امن Nobel Prize for Peace سے نوازا…. ذہنیت کی بات ہے اپ لبرل و پشتون نیشلسٹ نہیں اور نوبل کو تمغہ خداوندی نہیں سمجھتے تو "امن” کی بجائے خونریزی یا دھشتگردی لکھیں، "کوششوں” کی جگہ "جرائم”.

    الوہی نوبل کمیٹی  Divine Nobel Committee اور نوبل پرائز پر شک کریں تو پاکستانی لبرلز دھڑا دھڑ پوسٹ لگاتے ہیں "ایسے لوگ انفرینڈ کریں جو نوبل پرائز کو نہیں مانتے!” جیسے ان کی فرینڈ لسٹ خود نوبل پرائز کمیٹی کی سلیکشن لسٹ ہو!

         وینزویلا کے ھیوگو شاویز کیا مرد قلندر تھے. ایک بار اقوام متحدہ میں نوم چومسکی کی کتاب ہاتھ میں اٹھائے کسی کو ھدف تنقید و ملامت بنا رہے تھے… سامعین میں کسی نے کہا مسٹر پریذیڈنٹ، اپ برا بھلا کہہ رہے ہیں مگر فلاں کا نام  تو سالانہ ایوارڈ کیلئے نوبل کمیٹی کے ہاں زیرغور ہیں. مرد قلندر نے فوراً جواب دیا:

      "ہاں مجھے پتہ ہے نوبل انعام سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے کلرک کے چیٹ پر دی جاتی ہے!”

     

         سو حرف مدعا یہ کہ لبرلز…. اور بعض پشتون نیشلسٹ حضرات کی خدمت میں عرض ہے کہ اپ کے روشن چہروں، اپ کی بیٹی ملالہ یا آپ کے عبدالسلام کو نوبل انعام ملے آپ کو مبارک ہو… ہم آپ کی خوشی پر واقعی خوش ہیں… مگر نوبل پرائز کو فکری ایمان و  دیانت کی لٹمس ٹیسٹ litmus test  نہ بنائیں. ہم بھی قوم کی بیٹی اور قوم کے سائنس دانوں اور ان کی نوبلیت و قابلیت  کی اصلیت اور  حقیقت جانتے ہیں. جتنا  آپ کو اپ کی پسند و ناپسند  کے اظہار اور ھیرو سازی کے  حقوق حاصل ہیں … اتنا ھم خاکساروں کو  خاموش رہنے یا دو حرف اختلاف کا بھی حق ہے. جو لبرل یا پشتون گھمنڈی پوسٹ لگاتے ہیں کہ جو "ملالہ اور عبدالسلام پر ایمان بالغیب نہیں لاتے وہ انفرینڈ ہوجائیں” جس پھر عمر  بھر میں ایک ہی لائک صاحب پوسٹ کی اپنی ہوتی ہے… ان کی خدمت میں عرض ہے کہ آپ پہلے نوبل کی تلفظ اور اور سپلنگ درست کریں اور پھر اپنی نوبل فرینڈلسٹ خوب سنبھال کے رکھیں. ہمیں فرینڈ ریکویسٹ بھیجنے کی بٹن ہی نہیں معلوم. اور  اپ جیسے ڈیجٹل دور کے بھانڈوں، مسخروں کا فرینڈ لسٹ میں موجود ہونا تو ڈیجیٹل کرائم کی ارتکاب اور ڈیجٹل حماقت Digital stupidity کی شرمناک غلطی کرنے  سے کم نہیں سمجھتے!

    Twitter Handle : @Jawad_Yusufzai

  • ڈپریشن تحریر : اقصٰی صدیق 

    ڈپریشن تحریر : اقصٰی صدیق 

     

    ڈپریشن کے لفظی معنی پچکاؤ، دبی ہوئی جگہ، بددلی، افسردگی اور ذہنی اضمحلال وغیرہ میں ملتے ہیں۔

     لیکن عام زندگی میں یہ لفظ عموماً اس وقت استعمال ہوتے ہیں جب کوئی فرد اپنے موڈ میں بہت زیادہ گراوٹ یا خود کو قابل رحم محسوس کرتا ہے۔ تاہم معالجین اس موڈ میں گراوٹ کی علامت بیان کرنے یا کسی مخصوص بیماری کے اظہار کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

     لیکن اس وقت شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب کسی دکھ پر فطری طور پر غمزدہ ہونے والی اور بیماری والی آزردگی میں فرق کرنا پڑے۔ 

    دنیا بھر میں ہر سال 10 اکتوبر کو دماغی صحت کے حوالے سے خصوصی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد یہ ہے ہے کہ عوام الناس کو کو ذہنی و دماغی امراض سے متعلق ضروری معلومات پہنچائی جائیں۔ عالمی ادارۂ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق 350 ملین سے زائد افراد جن میں ہر عمر کے افراد شامل ہیں جو کہ دنیا کے مختلف حصوں میں بستے ہیں ڈپریشن کی شدید کیفیت کا شکار ہیں۔

     یہ ایک المیہ ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں ڈپریشن جیسے عارضے کو مرض نہیں سمجھا جاتا بلکہ مریض اس عارضے کے ساتھ ہی اپنی گزر اوقات کرتا رہتا ہے۔

    ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان میں تقریبا 15 فیصد سے زائد افراد ڈپریشن میں مبتلا ہیں۔ تین فیصد سے زیادہ شیزوفرینیا کا شکار ہیں۔

    جبکہ چھ فیصد سے زائد افراد بدسلوکی اور 1 سے 2 فیصد افراد مرگی کے مرض میں مبتلا ہیں۔ اور عموماً خودکشی کے واقعات میں اضافہ کی ذمہ داری معاشرتی برائیوں کے علاوہ ان بیماریوں پر بھی ہے، اس ضمن میں ڈپریشن اور اس سے پیدا ہونے والی دوسری بیماریاں اور پیچیدگی اول نمبر پر ہیں۔

    یہ ایک حقیقت ہے ہے کہ دنیا کی زندگی میں ہر انسان رنج و غم، مصبیت وتکلیف، آفت و ناکامی اور نقصان سے دوچار ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

     البتہ دانشمند اور کم عقل کے انداز فکر اور طرز عمل میں ایسے مواقع پر ایک نمایاں فرق ہوتا ہے۔

    کم عقل رنج و غم کے ہجوم میں پریشان ہوکر اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے، اور مایوسی کا شکار ہو کر ہاتھ پیر چھوڑ دیتا ہے۔ اور بعض اوقات تو غم کی تاب نہ لا کر خودکشی بھی کر لیتا ہے۔

     اس کے مقابلے میں دانشمند کبھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا۔ اسے یقین ہوتا ہے کہ جو کچھ ہوا تقدیر الٰہی کے مطابق ہوا، اور اللہ تعالیٰ کا کوئی بھی کام اور حکم حکمت سے خالی نہیں ہوتا، یقینا اس میں بھی میرے لیے کوئی خیر اور بہتری کا پہلو ہوگا۔

    عقل مند کا یہ عقیدہ اسے ایسا روحانی سکون و اطمینان بخشتا ہے، جس سے ہر مشکل آسان لگنے لگتی ہے اور بڑے سے بڑے سانحے کو بھی مقدر کا فیصلہ سمجھتے ہوئے اپنے غم کا علاج پالیتا ہے اور پریشان نہیں ہوتا۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ ” مومن کا معاملہ بھی خوب ہے وہ جس حال میں بھی ہوتا ہے خیر ہی سمیٹتا ہے، اگر وہ دکھ بیماری اور تنگ دستی سے دوچار ہوتا ہے تو اُسے سکون اور صبر کے ساتھ برداشت کرتا ہے۔اور یہ آزمائش اس کے حق میں خیر ثابت ہوتی ہے، اور اگر اس کو کو خوشی و خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو شکر کرتا ہے اور یہ خوشحالی اس کے لیے خیر کا سبب بنتی ہے۔(صحیح مسلم) 

    جدید تحقیق کے مطابق بے خوابی کی پُرانی شکایت ذہنی پستی کی علامت قرار دی جا سکتی ہے،

     حال ہی میں ہونے والی ایک تحقیق سے یہ بات واضح ہوئی ہے ہے کہ اچھی نیند سونے والوں کے مقابلے میں نیند اچاٹ ہونے والوں کے ڈپریشن یا پستی کا شکار ہونے کے امکانات 6 گناہ بڑھ جاتے ہیں۔ اس مرض سے متاثرہ ایسے افراد بھی ہوتے ہیں جو بظاہر خوب سوتے ہیں لیکن اس کے باوجود آرام کے احساس سے محروم ہوتے ہیں بعض افراد کو بھوک پیاس نہیں لگتی جس کی وجہ سے وہ روز بروز کمزور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس طرح کے مریض توانائی سے محروم ہو کر کرسی یا بستر سے اٹھنے سے بھی مجبور ہو جاتے ہیں اور انہیں کسی چیز میں کوئی دلچسپی نہیں رہتی۔

    اور ڈپریشن کا شکار مریض کسی چیز پر توجہ مرکوز کرنے میں پریشانی کا سبب بنتا ہے۔وہ اپنے آپ کو ناکارہ تصور کرنے لگتا ہے، اور زندگی اس کے لیے ایک بے مقصد شے بن کر رہ جاتی ہے۔

    پستی کے عارضے سے متعلق یہ بات بھی صحیح ہے کہ اس مرض سے متاثرہ افراد خود کو عموماً لاعلاج تصور کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ اپنے علاج کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتے۔

    جس کی وجہ سے وہ روز بروز اس مرض کی گہرائیوں میں دھنستے چلے جاتے ہیں، ایسے افراد کو ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ اور ایسے واقعات کو یاد کرنا چاہیے جو ان کے لیے مشعل راہ ہوں۔کیوں کہ بے شمار کام لوگوں کے پیچھے بھی کئی ناکامیاں چھپی ہوئی ہیں۔

    ڈپریشن یا پستی کی کیفیت بالعموم دو قسم کی ہوتی ہے۔ ماہرین کی بیان کردہ یہ دو اقسام کچھ اس طرح ہیں۔

    حیاتیاتی پستی: حیاتیاتی پستی کراچی جسم میں ہونے والی کیمیائی تبدیلیوں کے ثواب ہوتی ہے یہ کیفیت بعض اوقات نفسیاتی عوامل کا نتیجہ ہوتی ہے ہے اس لئے اس کا علاج بالعموم پستی رفع کرنے والی ادویات سے کیا جاتا ہے طور پر استعمال سے یہ کیفیت دور ہو جاتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس قسم کی پستی کے مریضوں کے علاج میں سب سے بڑی دقت یہ ہوتی ہے۔ کہ اس کے مریض دافع پستی ادویہ کے استعمال کے لیے آمادہ نہیں ہوتے، وہ خود کو صحت مند خیال کرکے اس مرض کا مکمل طور پر علاج نہیں کرا پاتے۔

    نفسیاتی پستی: یہ بیرونی اسباب کا نتیجہ ہوتی ہے۔ یہ دراصل کسی غم اور دُکھ کی بڑھی ہوئی صورت ہوتی ہے بعض اوقات یہ غم اور دُکھ اس قدر نازک ہوتا ہے، کہ اس کی نشاندہی مشکل ہوتی ہے۔بعض اوقات عمر میں تبدیلی بھی اس کا سبب بن سکتی ہے۔ جیسے بچپن اور جوانی کے رخصت ہونے پر بعض لوگ شدید پستی کا شکار ہوتے ہیں۔ بعض لوگوں پر یہ کیفیت محبت میں ناکامی کے باعث پیدا ہوجاتی ہے۔

    بعض اوقات فوری طور پر کس معزوری کے طور پر بھی نفسیاتی پستی لاحق ہو سکتی ہے، اس کے علاوہ بھی کئی اقسام پائی جاتی ہیں۔ جیسے کہ پستی کے مریضوں کی ایک قسم ایسی بھی ہے جنہیں "مسکراتے مریض” کہا جاتا ہے۔

     یہ مریض اپنے غم کو اپنے اندر دبائے رکھتے ہیں اور اوپر سے خوش باش نظر آتے ہیں۔ ایسے مریض اپنے آپ کو بہت مشکل سے مریض مانتے ہیں، بعض اوقات ماحول اور حالات بھی لوگوں کو پستی میں مبتلا کرنے کے لیے کافی ہوتے ہیں، جبکہ کچھ لوگوں میں یہ کیفیت موروثی بھی پائی جاتی ہیں۔

    یاد رہے کہ پستی کوئی ایسا مسئلہ نہیں کہ جس کا علاج نہ کیا جا سکے۔ اس مسئلہ کو مناسب علاج معالجے کے ساتھ ساتھ مضبوط قوت ارادی کی بدولت مات دی جاسکتی۔ پستی کا شکار افراد جب اپنی پستی کو دور کرنے یا کم کرنے کے لیے شراب یا دیگر نشہ آور اشیاء کا سہارا لیتے ہیں تو وہ نہ صرف اس مرض کو بڑھانے کا موجب بنتے ہیں بلکہ دیگر کئی خطرناک امراض جیسے کہ دل کا دورہ وغیرہ کا بھی شکار ہو جاتے ہیں۔

    دماغی اور نفسیاتی بیماریوں میں تشویش ناک حد تک اضافے کی وجوہات غربت، بے روزگاری سیاسی عدم استحکام، تشدد اور دیگر سماجی برائیاں ہیں۔ کچھ خرابیاں پیدائشی بھی ہوتی ہیں، جب کہ کچھ انسان کے جسمانی نظام میں موجود ہوتی ہیں۔ ماہرین نفسیات کے مطالعاتی جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ تمام نفسیاتی امراض میں ڈپریشن سرفہرست ہے۔ اس کے بعد ڈپریشن سے متعلق شدید ذہنی امراض شیزوفرینیا، بےچینی، فکر یا تشویش اور جسمانی نظام سے پیدا ہونے والی نفسیاتی بیماریاں، بدسلوکی اور اذیت رسانی وغیرہ شامل ہیں۔

    یاد رہے کہ درج ذیل کیفیات میں مبتلا افراد زیادہ تر ڈپریشن کے عارضے میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

     بہت زیادہ غمگین رہنے والے افراد، باطن پسند افراد، خود تنقیدی افراد، کوتاہی کرنے کی طویل و گہری سوچ رکھنے والے افراد، بہت زیادہ تنقید کرنے والے اور گہری پریشانیوں میں رہنے والے افراد، اور اضطراری کیفیت کے شکار افراد وغیرہ۔

    لہذا میں یہی کہنا چاہوں گی کہ” نفسیاتی مریض ” کہلوانے سے نہیں بلکہ ہونے سے ڈریں، ہر قسم کا ذہنی اضمحلال قابلِ علاج ہے۔

    @_aqsasiddique

  • زندگی کیسے بدلیں تحریر:محمّد اسحاق بیگ

    آج ایک مشکل ٹاپک آپ سب کی نظر کر رہا ہوں امید ہے پڑھ کر آپ بور تو ہوں گے ہی پر یہ ہماری زندگی سے وابستہ ہے اس لیے اسے اگنور نہ کریں۔ 

    رفتار کی تحقیق سے اندازہ ہوتا ہے کہ عام فرد ہر روز 60،000 سے زیادہ سوچتا ہے ، جن میں سے 90% ، کل  سےزیادہ  ہمارے خیالات کی نقل ہیں۔  اس کے علاوہ ، افراد عملی طور پر اپنی توانائی کا ایک بڑا حصہ زور صرف کر  دیتے ہیں ، اور ان میں سے 90 فیصد خدشات کبھی پورا نہیں ہو پاتے ۔

     پھر ، ہم میں سے اکثریت ان شاندار لمحات کو یاد کرنے میں مصروف رہتے ہیں جب ہمیں بے پناہ محبت ، ذہانت اور فہم کی چمک کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔  وہ منٹ جب ہم نے اپنے عمومی ماحول اور اپنے اندر ہم آہنگی کے ساتھ مطلق ہم آہنگی محسوس کرتے ہیں ۔  اس صورت میں کہ ہم صرف اپنے پریشان ذہن سے نمٹ سکیں اور اسے مزید قابل ذکر پیداواری صلاحیت کے ساتھ لاگو کریں!

     عکاسی سیکھنا اور ریہرسل کرنا ہمیں بے معنی خدشات سے آزاد کر سکتا ہے اور اپنی سمجھ اور صلاحیتوں کو آگے بڑھا سکتا ہے۔  اگرچہ مختلف تفکر کے رسم و رواج اور طریقے پوری دنیا  میں موجود ہیں ، انہیں عام طور پر چار عمومی درجہ بندی میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: فکسی تفکر ، ذہین (یا سمجھنے والا) عکاسی ، نگہداشت کی عکاسی اور جدید فکر۔  فکسنگ کی عکاسی:

     فکسشن عکاسی مداخلت کی کسی بھی باقی قسم کی وجہ ہے۔  رکاوٹوں کو شکست دینے اور ذہنی ارتکاز کو برقرار رکھنے کے لیے فکسنگ ضروری ہے۔  سطح کی ہر  سطح پر بلا روک ٹوک پانی ڈالنے کا تصور  یہ فوری طور پرہمارا ذہن  پانی کے  فکس میں بدل جائے گا جو اداسی کے نشانات میں باسی ہو جائے گا۔  کسی بھی صورت میں ، اگر آپ اس مساوی پانی کو ایک طرف موڑ دیتے ہیں اور اسے تناؤ میں رکھتے ہیں تو ، یہ بہت زیادہ طاقت پہنچا سکتا ہے۔  نفسیات موازنہ سے کام کرتی ہے۔  اسے کھلے عام گھومنے کی اجازت دیں ، اور اس کی طاقت کم ہوگی ، یہ بنیادی طور پر قابل رسائی جگہ پر قبضہ کرے گا۔  بہر حال ، مرتکز دماغ ہمارے اہداف کا ناقابل یقین ٹرانسپورٹر بن سکتا ہے۔

     توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کے ذریعے ، دماغ اس مقصد کے ساتھ زیادہ نمایاں پرسکون ، انحصار اور لچک حاصل کرسکتا ہے جو پریشانی ، پریشانی اور غور و فکر کی عدم موجودگی ماضی کا مسئلہ بن جاتی ہے۔  مزید یہ کہ ، توجہ کی دوسری اہم اقسام میں توجہ کا استعمال کیا جاتا ہے – دیکھ بھال ، ذہین اور اختراعی۔  مزید یہ کہ جسمانی صلاحیتوں کو پیدا کرنے کے لیے فکسنگ کی قوت کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

     ذہین مراقبہ:

     ذہین عکاسی کی توجہ مرکوز استدلال کے طور پر کی جاسکتی ہے۔  آپ ایک سوچ ، حالات ، یا سوال کا انتخاب کرتے ہیں اور اس پر اپنے خیالات کو نمایاں کرتے ہیں۔  اس مقام پر جب آپ کا دماغ غور کرتا ہے ، آپ اسے اپنی ظاہری شکل کے موضوع پر واپس لے جاتے ہیں تاہم نازک طریقے سے۔  اس طرح کی سوچ عام طور پر موت ، زندگی ، زندگی کی اہمیت ، یا آپ کے اپنے نفسیاتی مشن کے موضوع کے بارے میں زیادہ نمایاں تجربات حاصل کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے ، چاہے وہ رابطے ہوں ، منطقی پہیلی ہو ، یا ہر روز کے مسائل۔  علم کے بے نقاب حصوں کو حاصل کرنے کی کلید یہ ہے کہ آپ اپنے منتخب کردہ موضوع پر بار بار اپنے خیالات کو مربوط کریں اور اس تجربے سے آپ کے دماغ میں جو بھی ابھرے اس کے لیے کھلا رہے۔

     نگہداشت مراقبہ:

     دیکھ بھال اس وقت ذہن سازی کی ایک شرط ہے ، جب آپ کی نفسیات ڈھیلا ہو اور آپ کے تجربے سے آگاہ ہو ، بشمول غور و فکر ، جذبات اور سانس لینے ، اور ہر چیز کو بغیر رکاوٹ اور سکون کے قبول کرتا ہے۔  اس طریقے سے ، آپ خود تجزیہ کیے بغیر یا اپنے کردار اور اہمیت پر قائم رہنے کے بغیر ہر چیز کا مکمل طور پر سامنا کر سکتے ہیں۔  ہمارے بیشتر خدشات ہماری زندگی میں ذہن سازی اور سوچے سمجھے کاموں کی عدم موجودگی سے ابھرتے ہیں۔  نگہداشت کا عمل ہمیں مزید ارتکاز اور فکسنگ میں مدد دے سکتا ہے ، ہمارے خط و کتابت کی نوعیت کو بہتر بنا سکتا ہے ، دباؤ کی نگرانی کر سکتا ہے ، ہماری پیداواری صلاحیت کو بڑھا سکتا ہے اور بے خوف ہو سکتا ہے۔

     خیالی سوچ:

     اگرچہ فکسنگ اور دیکھ بھال ہماری زندگیوں میں ذہن اور ذہنیت کی زیادہ وضاحت لاتی ہے ، تخیلاتی غور و فکر ہمیں تبدیل کرنے میں مدد کرتا ہے اور زیادہ قابل ذکر تاثیر کے ساتھ دماغ کے لیے امکانات کو لاگو کرتا ہے۔  تخیلاتی غور و فکر ہماری مائل کی مخصوص خصوصیات کو بنانے اور مضبوط بنانے میں ہماری مدد کر سکتا ہے۔  یہ اسی طرح ہماری زندگی میں مزید قابل فہم نتائج اور امکانات کا خیرمقدم کر سکتا ہے۔  مثال کے طور پر ، اختراعی تاثر ، تصوراتی غور و فکر کے لیے سب سے زیادہ استعمال ہونے والی تکنیک ، ہماری انفرادی خواہشات کو مطمئن کرنے میں مدد کر سکتی ہے ، جیسے کہ مہارت سے زندگی گزارنا یا اطمینان حاصل کرنا۔

     ہمارا نفسیاتی ذہن تخلیقی اور حقیقی بہتری کے درمیان نہیں پہچانتا۔  اگرچہ ایک تاثر صرف چند سیکنڈ تک برداشت کر سکتا ہے ، اندرونی دماغ دماغ تقابلی پرجوش ، ذہنی اور ذہنی ردعمل کو ایک سے زیادہ بار متحرک کر سکتا ہے۔  اس طرح ، ہماری ذہن سازی میں فائدہ مند مخلصانہ چارج شدہ تصاویر لانے سے ہم اپنے تخلیقی ذہن پر مفید کمانڈ پر عمل کر سکتے ہیں اور اپنی نفسیات کی مثبت خصوصیات کو متاثر کر سکتے ہیں۔

     ہم بحیثیت مجموعی یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اپنے اصل جسم کو تیار کر سکتے ہیں اور مستقل طور پر مشق کرکے برداشت اور موافقت کو فروغ دے سکتے ہیں۔  اسی طرح کی ہدایات نفسیات کے لیے درست ہیں۔  مختلف تحقیقات نے ظاہر کیا ہے کہ زیادہ ممتاز علم ، تخیل اور دیگر دانشورانہ صلاحیتوں کو فروغ دینا ممکن ہے۔  غور و فکر کے محنتی عمل کے ساتھ ، آپ کی نفسیات زیادہ واضح ، واضح اور ناقابل یقین ہو جائے گی ، اور آپ حقیقت میں اسے کسی بھی کام یا تحریک میں دیکھ بھال اور مروجہ پیداواری صلاحیت کے ساتھ لاگو کرنا چاہیں گے۔

     اہ 3 دن کی محنت کا نتیجہ اب آپ کے سامنے ہے ۔لازمی پڑھیں اور اپنی راۓ سے لازمی آگاہ کریں ۔

      

    @Ishaqbaig___

  • ڈاکٹر عبد القدیر خان کی پاکستان کےلئے قربانیاں ! تحریر    علی مجاہد

    ڈاکٹر عبد القدیر خان کی پاکستان کےلئے قربانیاں ! تحریر علی مجاہد

    اسلامی ایٹم بم، ہم تو کہتے ہیں پاکستانی ایٹم بم مگر جو انڈین میڈیا، مغربی میڈیا ہیں وہ اس کو اسلامی ایٹم بم کیوں کہتے رہے؟ 

    ڈاکٹر عبد القدیر خان نے اس نا ممکن کام کو کیسے ممکن بنایا اور پھر ایسے موقع پر جب پاکستان ایٹمی پروگرام بنا بھی نا تھا تو انڈیا کے چھکے چھڑا دیئے ان کی مشت تھی بہت بڑی اس مشت کی دھجیاں اڑا دیں،

     ڈاکٹر عبد القدیر خان کی پیدائش انڈیا کے شہر بھوپال میں 1936ء کو ہوئی اور پاکستان بننے کے بعد وہ پاکستان ہجرت کرکے آئے اور وہ 85 برس کی عمر میں وفات پا گئے۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان کو آپ پاکستان کا محسن کہنا چاھتے ہیں، آپ انہیں سب سے بڑا پاکستانی کہنا چاھتے ہیں جو کہیں وہ ان پر بالکل فٹ ہوتا ہے۔ 

    ڈاکٹر عبد القدیر خان اپنی تعلیم کے سلسلے میں ہالینڈ چلے گئے انہوں نے وہاں سے آلا تعلیم حاصل کی اور پی ایچ ڈی کرنے کے بعد وہ وہاں 4 سال تک (physical dynamical research) ہالینڈ نوکری کرتے رہے، اس وقت انکو وہاں 12,000 تنخواھ ملتی تھی پر انہوں نے اپنے ملک کی خدمت کرنا چاھا پھر وہ 15 برس رہنے کے بعد بھٹو صاحب کے کہنے پر پاکستان واپس آئے جب وہ پاکستان آئے تو 71 والا بڑا مشکل وقت تھا قوم بڑی مایوس تھی تو ذولفقار علی بھٹو نے اس وقت ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی اس وقت ڈاکٹر منیر اور دیگر کام کر رہے تھے اس پر، بھٹو صاحب نے ڈاکٹر عبد القدیر صاحب سے بہت ہی سیدھا سی بات کی کہ مجھے ایٹم بم چاھیے اس وقت انکو پاکستان میں صرف 1500 تنخواھ ملتی اس بات کا کافی بار ڈاکٹر صاحب نے اقرار بھی کیا، اب آپ حیران یہ ہوں گہ کہ 1976 کو واپس آتے ہیں اور دس گیارہ سال بعد انڈیا جو بہت بڑی کور اور ڈیویژن لیول کی انڈیا کی تاریخ کی سب سے بڑی مشت تھی اب انہوں نے پاکستان کہ صوبہ سندھ پر حملہ کرنا تھا اب انکا خیال یہ تھا کہ ہم نے 71 والا کام کر لیا تو جب چاھیں کچھ بھی کر سکتے ہیں لیکن اس وقت پاکستان نے فوری طور پر فائر موف کی ان دوران مشاہد حسین سید جو کہ پاکستان کے سینیٹر ہیں انکی شادی تھی اور ایک انڈین صحافی بھی آئے ہوئے تھے انکی ملاقات ڈاکٹر عبد القدیر سے چائے پر ہو گئی تو ڈاکٹر صاحب نے ایک ایسی بات انکے کان میں ڈالی کہ اسکے بعد انہوں نے یہ بات خبر کہ صورت میں چھاپی (یو کے) ایک اخبار کو اور اس وقت تھل تھل مچ گئی اسکے بعد جو فوجیں لائن آف کنٹرول پر لگی ہوئیں تھیں اور اچانک جنرل ضیاء میچ دیکھنے انڈیا پہنچ گئے اور اس وقت کہ وزیراعظم کہ کان میں انہوں نے ایک بات کئی کہ زیادہ آور ہونے کی ضرورت نہیں جو چیز آپ کہ پاس ہے وہ ہمارے پاس بھی ہے کہنا کا مطلب یہ تھا کہ ایٹم بم پاکستان نے بنالیا ہے اور اس وقت پاکستان نے ابھی تجربا بھی نہیں کیا ہوا تھا اور اسکے بعد فوج واپس چلے گئی اور حالات معمول پر آگئ اب آپ کہیں گے پاکستان نے 1998 کو تجربہ کیا ہے 28/مئی کو لیکن ڈاکٹر قدیر کے مطابق 1987، 1988 میں پاکستان نے یہ صلاحیت حاصل کر لی تھی، جنرل ضیاء نے انکو بلایا اور کہا آپ کو کتنا وقت چاھیے تو انہوں نے کہا ہفتہ سے دس دن میں پاکستان ایٹمی تجربا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عبد القدیرخان وہ مایہ ناز سائنس دان ہیں جنہوں نے آٹھ سال کے انتہائی قلیل عرصہ میں انتھک محنت و لگن کی ساتھ ایٹمی پلانٹ نصب کرکے دنیا کے نامور نوبل انعام یافتہ سائنس دانوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ 

    گزرتو خیر گئی ہے تیری حیات قدیر

    ستم ظریف مگر کوفیوں میں گزری ہے۔
    .

  • یار غار تحریر:محمد آصف شفیق

    یار غار تحریر:محمد آصف شفیق

    حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو  ہجرت مدینہ  کے دوران   رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نصیب ہوا  جس کا تذکرہ اس حدیث پاک میں تفصیل سے آیا ہے  آج  ہم اسی  حدیث مبارکہ کا مطالعہ کریں  گے 

    یحیی بن بکیر لیث عقیل ابن شہاب عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتی ہیں کہ جب سے میں نے ہوش سنبھالا تو اپنے والدین کو دین (اسلام) سے مزین پایا اور کوئی دن ایسا نہ ہوتا تھا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح و شام دونوں وقت ہمارے یہاں تشریف نہ لاتے ہوں جب مسلمانوں کو ستایا جانے لگا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بار ادہ ہجرت حبش (گھر سے) نکلے حتیٰ کہ جب (مقام) برک انعماد تک پہنچے تو ابن الدغنہ سے جو (قبیلہ) قارہ کا سردار تھا ملاقات ہوگئی اس نے پوچھا اے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہاں جا رہے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ مجھے میری قوم نے نکال دیا ہے میں چاہتا ہوں کہ سیاحی کروں اور اپنے رب کی عبادت کروں ابن الدغنہ نے کہا کہ اے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تم جیسا آدمی نہ نکل سکتا ہے نہ نکالا جاسکتا ہے تم فقیر کی مدد کرتے ہو رشتہ داروں سے حسن سلوک کرتے ہو بے کسوں کی کفالت کرتے ہو مہمان کی ضیافت کرتے ہو اور حق کی راہ میں پیش آنے والے مصائب میں مدد کرتے ہو میں تمہارا حامی ہوں چلو لوٹ چلو اور اپنے وطن میں اپنے رب کی عبادت کرو چنانچہ آپ ابن الدغنہ کے ساتھ واپس آئے پھر ابن الدغنہ نے شام کے وقت تمام اشراف قریش میں چکر لگایا اور ان سے کہا کہ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسا آدمی نہ تو نکل سکتا ہے اور نہ نکالاجا سکتا ہے کیا تم ایسے شخص کو نکالتے ہو جو فقیر کی مدد کرتا ہے رشتہ داروں کے ساتھ سلوک کرتا ہے بے کسوں کی کفالت کرتا ہے مہمانوں کی ضیافت کرتا ہے اور حق کی (راہ میں پیش آنے والے مصائب) میں مدد کرتا ہے پس قریش نے ابن الدغنہ کی امان سے انکار نہ کیا اور ابن الدغنہ سے کہا کہ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہہ دو کہ اپنے گھر میں اپنے رب کی عبادت کریں گھر میں نماز پڑھیں اور جو جی چاہے پڑھیں اور ہمیں اس سے تکلیف نہ دیں اور زور سے نہ پڑھیں کیونکہ ہمیں خوف ہے کہ ہماری عورتیں اور بچے (اس نئے دین میں) پھنس جائیں گے ابن الدغنہ نے حضرت ابوبکر سے یہ بات کہہ دی کچھ عرصہ تک حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسی طرح اپنے گھر میں اپنے رب کی عبادت کرتے رہے نہ زور سے نماز پڑھتے تھے اور نہ گھر کے سوا پڑھتے تھے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دل میں آیا تو انہوں نے ایک مسجد اپنے گھر کے سامنے بنا لی اور (اب) وہ اس مسجد میں نماز اور قرآن پڑھتے اور مشرکین کی عورتیں اور بیٹے ان کے پاس جمع ہو جاتے اور ان سے خوش ہوتے اور ان کی طرف دیکھتے تھے بات یہ ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ (رقت قلبی کی وجہ سے) بڑے رونے والے تھے جب وہ قرآن پڑھا کرتے تو انہیں اپنی آنکھوں پر اختیار نہ رہتا اشراف قریش اس بات سے گھبرا گئے اور انہوں نے ابن الدغنہ کو بلا بھیجا جب وہ ان کے پاس آیا تو انہوں نے کہا کہ ہم نے تمہاری امان کی وجہ سے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس شرط پر امان دی تھی کہ وہ اپنے رب کی عبادت کریں مگر وہ اس حد سے بڑھ گئے اور انہوں نے اپنے گھر کے سامنے ایک مسجد بنا ڈالی اور اس میں زور سے نماز و قرآن پڑھتے ہیں اور ہمیں خوف ہے کہ ہماری عورتیں اور بچے نہ پھنس جائیں لہذا انہیں روکو اگر وہ اپنے رب کی عبادت اپنے گھر میں کرنے پر اکتفا کریں تو فبہا اور اگر وہ اعلان کئے بغیر نہ مانیں تو ان سے کہہ دو کہ وہ تمہاری ذمہ داری کو واپس کردیں کیونکہ ہمیں تمہاری بات نیچی کرنا بھی گوارا نہیں اور ہم ابوبکر کو اس اعلان پر چھوڑ بھی نہیں سکتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ابن الدغنہ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور کہا جس بات پر میں نے آپ سے معاہدہ کیا تھا آپ کو معلوم ہے اب یا تو اس پر قائم رہو یا میری ذمہ داری مجھے سونپ دو کیونکہ یہ مجھے گوارا نہیں ہے کہ اہل عرب یہ بات سنیں کہ میں نے جس شخص سے معاہدہ کیا تھا اس کی بابت میری بات نیچی ہوئی حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں تمہاری امان تمہیں واپس کرتا ہوں اور اللہ عزوجل کی امان پر راضی ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس زمانہ میں مکہ میں تھے پھر نبی نے مسلمانوں سے فرمایا کہ مجھے (خواب) میں تمہاری ہجرت کا مقام دکھایا گیا ہے کہ وہ کھجور کے درخت ہیں اور وہ دو سنگستانوں کے درمیان واقع ہے پھر جس نے بھی ہجرت کی تو مدینہ کی طرف ہجرت کی اور جو لوگ حبشہ کو گئے تھے ان میں سے اکثر مدینہ لوٹ آئے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کی تیاری کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم کچھ ٹھہرو کیونکہ مجھے امید ہے کہ مجھے بھی ہجرت کی اجازت مل جائے گی حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے (فرط مسرت سے) عرض کیا میرے ماں باپ آپﷺ پر قربان کیا آپﷺ کو ایسی امید ہے پھر حضرت ابوبکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کی وجہ سے رک گئے اور دو اونٹنیاں جو ان کے پاس تھیں انہیں چار مہینہ تک کیکر کے پتے کھلاتے رہے ابن شہاب بواسطہ عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتی ہیں کہ ہم ایک دن ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مکان میں ٹھیک دوپہر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک کہنے والے نے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا (دیکھو) وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منہ پر چادر ڈالے ہوئے تشریف لا رہے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی تشریف آوری ایسے وقت تھی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کبھی تشریف نہ لاتے تھے حضرت ابوبکر نے کہا میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  پر قربان واللہ ضرور کوئی بات ہے جبھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  اس وقت تشریف لائے حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اندر آنے کی اجازت مانگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو اجازت مل گئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم  اندر تشریف لائے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا اپنے پاس سے اوروں کو ہٹا دو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے (ماں) باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  پر فدا ہوں جائیں یہاں تو صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی گھر والی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا مجھے ہجرت کی اجازت مل گئی ہے ابوبکر نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  پر فدا ہوں مجھے بھی رفاقت کا شرف عطا ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا ہاں (رفیق سفر تم ہو گے) حضرت ابوبکر نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے (ماں) باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  پر قربان میری ایک اونٹنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم  لے لیجئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم تو بقیمت لیں گے حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ پھر ہم نے ان دونوں کے لئے جلدی میں جو کچھ تیار ہو سکا تیار کردیا اور ہم نے ان کے لئے چمڑے کی ایک تھیلی میں تھوڑا سا کھانا رکھ دیا اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنے ازار بند کا ایک ٹکڑا کاٹ کر اس تھیلی کا منہ اس سے باندھ دیا اسی وجہ سے ان کا لقب (ذات النطاق) ازاربند والی ہوگیا حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر ؓجبل ثور کے ایک غار میں پہنچ گئے اور اس میں تین دن تک چھپے رہے عبداللہ بن ابوبکرؓ جو نوجوان ہوشیار اور ذکی لڑکے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  حضرات کے پاس رات گزارتے اور علی الصبح اندھیرے منہ ان کے پاس سے جا کر مکہ میں قریش کے ساتھ اس طرح صبح کرتے جیسے انہوں نے یہیں رات گزاری ہے اور قریش کی ہر وہ بات جس میں ان دونوں حضرات کے متعلق کوئی مکر و تدیبر ہوتی یہ اسے یاد کرکے جب اندھیرا ہوجاتا تو ان دونوں حضرات کو آکر بتا دیتے تھے اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام عامر بن فہیرہ ان کے پاس ہی دن کے وقت بکریاں چراتے اور تھوڑی رات گئے وہ ان دونوں کے پاس بکریاں لے جاتے اور یہ دونوں حضرت ان بکریوں کا دودھ پی کر اطمینان سے رات گزارتے حتیٰ کہ عامر بن فہیرہ صبح اندھیرے منہ ان بکریوں کو ہانک لے جاتے اور ان تین راتوں میں ایسا ہی کرتے رہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر نے (قبیلہ) بنو ویل کے ایک آدمی کو جو بنی عبد بن عدی میں سے تھا مزدور رکھا وہ بڑا واقف کار رہبر تھا اور آل عاص بن وائل سہمی کا حلیف تھا اور قریش کے دین پر تھا ان دونوں نے اسے امین بنا کر اپنی دونوں سواریاں اس کے حوالہ کردیں اور تین راتوں کے بعد صبح کو ان دونوں سواریوں کو غار ثور پر لانے کا وعدہ لے لیا ( چنانچہ وہ حسب وعدہ آ گیا) اور ان دونوں حضرات کے ساتھ عامر بن فہیرہ اور رہبر ان کو ساحل کے راستہ پر ڈال کر لے چلا ابن شہاب نے فرمایا سراقہ بن جعشم کے بھتیجے عبدالرحمن بن مالک مدلجی نے بواسطہ اپنے والد کے سراقہ بن جعشم سے روایت کی ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس کفار قریش کے قاصد آ پڑے (جو اعلان کر رہے تھے) کہ جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قتل کردے یا پکڑ لائے تو اسے ہر ایک کے عوض سو اونٹ ملیں گے اسی حال میں میں اپنی قوم بنو مدلج کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ان میں سے ایک آدمی آکر ہمارے پاس کھڑا ہوگیا ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ اس نے کہا اے سراقہ میں نے ابھی چند لوگوں کو ساحل پر دیکھا ہے میرا خیال ہے کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھی ہیں سراقہ کہتے ہیں کہ میں سمجھ تو گیا کہ یہ وہی لوگ ہیں مگر میں نے (اسے دھوکہ دینے کے لئے تاکہ وہ میرے حاصل کردہ انعام میں شریک نہ ہو سکے) اس سے کہا یہ وہ لوگ نہیں بلکہ تو نے فلاں فلاں آدمی کو دیکھا ہے جو ابھی ہمارے سامنے سے گئے ہیں پھر میں تھوڑی دیر مجلس میں ٹھہر کر کھڑا ہوگیا اور گھر آکر اپنی باندی کو حکم دیا کہ وہ میرے گھوڑے کو لے جا کر (فلاں) ٹیلہ کے پیچھے میرے لئے پکڑ کر کھڑی رہے اور میں اپنا نیزہ لے کر اس کی نوک سے زمین پر خط کھینچتا ہوا اور اوپر کے حصہ کو جھکائے ہوئے گھر کے پیچھے سے نکل آیا حتیٰ کہ میں اپنے گھوڑے کے پاس آ گیا بس میں نے اپنے گھوڑے کو اڑا دیا کہ وہاں جلد پہنچ سکوں جب میں ان حضرات کے قریب ہوا تو گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور میں گر پڑا فورا میں نے کھڑے ہو کر اپنے ترکش میں ہاتھ ڈالا اور اس میں سے تیر نکالے پھر میں نے ان تیروں سے یہ فال نکالی کہ آیا میں انہیں نقصان پہنچا سکوں گا یا نہیں تو وہ بات نکلی جو مجھے پسند نہیں تھی پھر میں اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور میں نے ان تیروں کی فال کی پرواہ نہ کی اور گھوڑا مجھے ان کے قریب لے گیا حتیٰ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت (کی آواز) سنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم  ادھر ادھر نہیں دیکھ رہے تھے اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ادھر ادھر بہت دیکھ رہے تھے کہ میرے گھوڑے کے اگلے پاؤں گھٹنوں تک زمین میں دھنس گئے اور میں اس کے اوپر سے گر پڑا میں نے اپنے گھوڑے کو للکارا جب وہ (بڑی مشکل سے) سیدھا کھڑا ہوا تو اس کے اگلے پاؤں کی وجہ سے ایک غبار اٹھ کر دھوئیں کی طرح آسمان تک چڑھنے لگا پھر میں نے تیروں سے فال نکالی تو اس میں میری ناپسندیدہ بات نکلی پھر میں نے ان حضرات کو امان طلب کرتے ہوئے پکارا تو یہ ٹھہر گئے میں سوار ہو کر ان کے پاس آیا تو ان تک پہنچنے میں مجھے جو موانع پیش آئے ان کے پیش نظر میرے دل میں یہ خیال آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین غالب ہوجائے گا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  سے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی قوم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی گرفتاری یا قتل کے سلسلہ میں سو اونٹ انعام کے مقرر کئے ہیں اور میں نے انہیں وہ تمام خبریں بتا دیں جو لوگوں کا ان کے ساتھ ارادہ تھا اور میں نے ان کے سامنے کھانا اور سامان پیش کیا لیکن انہوں نے کچھ بھی نہ لیا اور نہ مجھ سے کچھ مانگا صرف یہ کہا کہ ہمارا حال چھپانا پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  سے درخواست کی کہ مجھے ایک امن کی تحریر لکھ دیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے عامر بن فہیرہ کو حکم دیا انہوں نے چمڑے کے ٹکڑے پر تحریر لکھ دی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے ابن شہاب کہتے ہیں کہ مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات زبیر سے ہوئی جو مسلمان تاجروں کے ایک قافلہ میں شام سے آ رہے تھے تو زبیر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پہننے کے لئے سفید کپڑے دیئے ادھر مدینہ کے مسلمانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ سے نکل آنے کی خبر سن لی تھی تو وہ روزانہ صبح کو مقام حرہ تک (آپ کے استقبال کے لئے) آتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا انتظار کرتے رہتے یہاں تک دوپہر کی گرمی کی وجہ سے واپس چلے جاتے ایک دن وہ طویل انتظار کے بعد واپس چلے گئے اور جب اپنے گھروں میں پہنچ گئے تو اتفاق سے ایک یہودی اپنی کسی چیز کو دیکھنے کے لئے مدینہ کے کسی ٹیلہ پر چڑھا بس اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے اصحاب کو سفید (کپڑوں میں ملبوس) دیکھا کہ سراب ان سے چھپ گیا تو وہ یہود بے اختیار بلند آواز سے پکارا کہ اے گروہ عرب! یہ ہے تمہارا نصیب و مقصود جس کا تم انتظار کرتے تھے یہ سنتے ہی مسلمان اپنے اپنے ہتھیار لے کر امنڈ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقامہ حرہ کے پیچھے استقبال کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان سب کے ساتھ داہنی طرف کا راستہ اختیار کیا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ماہ ربیع الاول پیر کے دن بنی عمرو بن عوف میں قیام فرمایا پس حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کے سامنے کھڑے ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش بیٹھے رہے جن انصاریوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا تو وہ آتے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سلام کرتے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دھوپ آگئی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر اپنی چادر سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سایہ کردیا اس وقت ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانا پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بنی عمرو بن عوف میں دس دن سے کچھ اوپر مقیم رہے اور یہیں اس مسجد کی بنیاد ڈالی گئی جس کی بنیاد تقویٰ پر ہے اور اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر چلے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ چل رہے تھے یہاں تک کہ وہ اونٹنی مدینہ میں (جہاں اب) مسجد نبوی (ہے اس) کے پاس بیٹھ گئی اور وہاں اس وقت کچھ مسلمان نماز پڑھتے تھے اور وہ زمین دو یتیم بچوں کی تھی جو اسعد بن زرارہ کی تربیت میں تھے اور جن کا نام سہل و سہیل تھا اور ان کی کھجورں کا کھلیان تھی جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی بیٹھ گئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان شاء اللہ یہی ہمارا مقام ہوگا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں بچوں کو بلایا اور اس جگہ مسجد بنانے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس کھلیان کی ان سے قیمت معلوم کی تو انہوں نے کہا (ہم قیمت) نہیں (لیں گے) بلکہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم یہ زمین آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو ہبہ کرتے ہیں۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ مسجد کی بنیاد ڈالی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی صحابہ کرام کے ساتھ اس کی تعمیر میں اینٹیں اٹھا اٹھا کر لا رہے تھے اور فرماتے جاتے تھے یہ بوجھ اٹھانا اے ہمارے رب بڑا نیک اور پاکیزہ کام ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے اے اللہ ثواب تو صرف آخرت کا ہے انصار اور مہاجرین پر رحم فرما پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے کسی مسلمان شاعر کا شعر پڑھا جس کا نام  مجھے نہیں بتایا گیا ابن شہاب کہتے ہیں کہ احادیث میں ہمیں یہ بات معلوم نہیں ہوئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شعر کے سوا اور شعر کو پورا پڑھا ہو۔ صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1139   

    @mmasief

  • کنگ آف کامیڈین عمر شریف تحریر:عثمان

    کنگ آف کامیڈین عمر شریف تحریر:عثمان

    بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی۔۔۔ 

    ایک شخص سارے جہان کو ویران کر گیا۔۔۔

    اسٹیج کے بے تاج بادشاہ کامیڈی کنگ عمر شریف جرمنی میں انتقال کر گئے اور کروڑوں مداحوں کو افسردہ چھوڑ گئے .کامیڈی کنگ عمر شریف 19 اپریل 1955 کو کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں پیدا ہوئے . انہوں نے اپنے کیرئر  کا آغاز 1974 میں 14 سال کی عمر میں اسٹیج اداکاری سے کیا 1980 میں پہلی بار انہوں نے آڈیو کیسٹ سے اپنے ڈرامے ریلیز کیے۔ عمر شریف کی اداکاری سے بے ساختہ قہقہوں کا طوفان سا آجاتا تھا۔ ٹی وی، اسٹیج ایکٹر، فلم ڈائریکٹر، کمپوزر ،شاعر، مصنف اور پروڈیوسر یہ تمام صلاحیتیں عمر شریف کی شخصیت کی پہچان تھی ۔ساتھی فنکاروں کا کہنا تھا کہ عمر شریف  اپنی ذات میں انجمن تھے جن سے تمام کامیڈینز نے سیکھا ہے۔اسٹیج اور تھیٹر کی تاریخ عمر شریف کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے ۔نامور فن کار نے اپنی اداکاری کے ذریعے نہ صرف ملک بھر میں بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا ۔ یہ ستارا جو کروڑوں لوگوں کو ہنساتا تھا آج سب کو رُلا گیا چند روز قبل خبر آئی کہ پاکستان کے معروف کامیڈین عمر شریف کی طبیعت اچانک زیادہ خراب ہوگئی ہے ۔ان کی تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل تھیں جن میں انہیں  وہیل چیئر پر بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے ۔عمر شریف کے کروڑوں مداح اپنے پسندیدہ قومیڈین کی جلد صحت یابی کے لئے دعا گو تھے۔ عمر شریف نے زیادہ طبیعت خراب ہونے پر اپنے ارباب اختیار سے علاج کے لیے درخواست بھی کی تھی کیوں کہ ڈاکٹروں کے مطابق عمر شریف کا علاج امریکہ یا جرمنی میں ممکن تھا ۔تو شرم کی بات اس قوم کے لئے یہ ہے کہ ایک قومی ہیرو جس نے اس ملک پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا وہ کافی دنوں سے بیمار تھے تو یہ بات پورے پاکستان کو پتہ تھی کہ عمر شریف بیمار ہے بجائے اس کے کہ کوئی سماجی یا سیاسی شخصیت اس قومی ہیرو کی جیتے جی مدد کرتے اس قومی ہیرو کے شدید بیمار ہونے کا انتظار کرتے رہے۔۔۔۔ پھر عمر شریف جب زیادہ بیمار ہوئے تو مجبوراً عمر شریف نے خود ہی علاج کی لیے مدد کی اپیل کی اور فلم نگاروں نے بھی سوشل میڈیا پر عمر شریف کی علاج کے لیے مدد کی اپیل کی اور دعاگو بھی رہے ۔ تو کچھ دنوں بعد سندھ حکومت کو ہوش آیا اور عمر شریف کے علاج کا ذمہ اٹھایا پھر اس علاج کا کیا فائدہ جب بندہ  اتنا بیمار ہوجائے کہ اسے ہوش ہی نہ رہے۔ یہ بات بھی ٹھیک ہے کہ جو قسمت میں ہوتا ہے وہی ہوتا ہے لیکن اللہ تعالی فرماتا ہے کہ ” کوشش قسمت کو بدل دیتی ہے ” تو سندھ حکومت نے عمر شریف کے علاج کے لئے 4 کروڑ روپے دینے کا اعلان کر دیا ساتھ ہی ‏ایئر ایمبولینس کا انتظام  کیا جس میں عمر شریف امریکہ کی طرف  روانہ ہوگئے پھر راستے میں عمر شریف کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو ایئرایمبولینس کو جرمنی اتارا گیا تو وہیں اسٹیج کی دنیا کے بے تاج بادشاہ کامیڈی کنگ عمر شریف انتقال کر گئے اور کروڑوں مداحوں کو افسردہ چھوڑ گئے یہ خبر سنتے ہی کروڑوں مداح، فنکار، اداکار، سیاسی، سماجی رہنماؤں، ڈرامہ نگار، کامیڈین سمیت انڈین بالی ووڈ اسٹار امیتابھ بچن،شاہ رخ خان ، عامر خان، سلمان خان،کامیڈین کپل شرما،سدھوں پاجی نے بھی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی ان اسٹاروں کا کہنا تھا کہ اب شاید ہی کوئی عمر شریف جیسا کامیڈی کنگ اس دنیا میں آئے ۔پہلے کمیڈین معین اختر پھر سکندر صنم اور اب عمر شریف اس دنیا سے کوچ کر گئے اور قومیڈی میں خلا چھوڈ گئے اب شاید ہی کوئی اس خلا کو پورا کریں ۔اور پھر  عمر شریف کو ان کی خواہش کے مطابق” عبداللہ شاہ ہجویری ” میں سپر د خاک کر دیا گیا ۔ہماری یہی دعا ہے کہ اللہ تعالی عمر شریف کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے آمین ۔۔

    زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا ہمیں ۔۔۔

    سو گئے ہم داستان کہتے کہتے ۔۔۔

    Twitter’ @Usmankbol

  • تعلیم یافتہ اور ڈگری یافتہ تحریر:شمسہ بتول

    ہم نے بہت بار یہ جملہ سنا کہ عالم اور جاہل برابر نہیں ہو سکتے ۔ ایک پڑھا لکھا شخص اور ایک ان پڑھ شخص میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ۔ مگر حقیقت تو یہ ہے کہ ہم اس بات کو مکمل طور پہ آج تک سمجھ نہیں پاۓ۔ ہم نے اس بات کا الٹا مطلب لے لیا کہ جو ان پڑھ ہو گا وہ جاہل ہو گا اور جس کے پاس ڈگری ہو گی وہ عالم ہو گا مگر حقیقت تو یہ ہے کہ ہو ان پڑھ اور جاہل میں بھی فرق ہوتا ہے سب ان پڑھ جاہل نہیں ہوتے اور سب پڑھے لکھے عالم نہیں ہوتے ۔ 

    کیا وجہ ہے کہ اتنے ہاٸی سٹینڈرڈ کے سکول اور کالجز اور یونیورسیٹیز میں پڑھنے کہ باوجود بھی ہمارے بچوں اور نوجوان نسل میں اخلاقیات کی کمی ہے کیا ۔ کیا وجہ ہے کہ نوجوان نسل بڑوں کا ادب اور اپنی اقدار اور روایات کو بھلا رہی ہے؟ کیا وجہ ہے کہ اتنی تعلیم حاصل کرنے کے باوجود بھی وہ دین سے دور ہیں اور اسلامی روایات کو بھلا بیٹھیں ہیں؟ جبکہ ہماے آباٶاجداد نہ تو بڑے اداروں سے پڑھے اور نہ ہی زیادہ تعلیم یافتہ تھے مشکل سے کوٸی میٹرک یا ایف اے پاس ہوتا تھا مگر با ادب اور اعلی اخلاقیات انکا شیوہ تھیں اور اسلامی روایات کو بہت خوبصورتی سے لے کر چلتے رہے کیونکہ اس وقت کا تعلیمی نظام رٹا سسٹم یا GPA کی دوڑ پہ مبنی نہیں تھا بلکہ علم کے حصول پہ مبنی تھا والدین اور اساتذہ مل کر بچوں کی اخلاقی اور روحانی تربیت کرتے تھے ۔ مختصر کہا جاۓ اگر تو یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ہم نے

     ہم نے اعلی تعلیم یافتہ جاہل بھی دیکھے اور کم تعلیم یافتہ عالم بھی دیکھے ”

    علم کی تعریف یہ نہیں ہے کہ تمہارے پاس ڈگریاں ہوں بلکہ علم کا مطلب تو یہ ہے کہ تم صحیح اور غلط اور حق و باطل میں اور جاٸز و ناجاٸز میں فرق کر سکو۔

    ہمارے نوجوان نسل جو یونیورسٹیز سے فارغ التحصیل ہو رہی ہے اگر ہم جاٸزہ لیں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ ان کے پاس اسناد تو ہیں مگر علم کی کمی ہے۔ ان میں اخلاقیات او تہذیب اور ادب و آداب کی کمی ہے کیونکہ ہمارا تعلیمی نظام اس قدر تباہ ہو چکا ہے کہ ہم نے بچوں کو مارکس اور رٹا سسٹم پہ لگا دیا ہم نے انہیں شعور نہیں دیا ہم نے انکی تربیت نہیں کی اخلاقیات نہیں سکھاٸی ۔

    اور جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل تباہی کی طرف جا رہی ۔ ڈگری تو صرف ایک رسید ہوتی کہ آپ نے تعلیم حاصل کی مگر آپ کے علم و قابلیت کا پتہ تو آپ کی اخلاقیات و اقدار سے پتہ چلتا

    جس کا ہمارے ہاں بہت زیادہ فقدان ہے اور اس کا ذمہ دار کہیں نہ کہیں ہمارا تعلیمی نظام بھی ہے

    مثال کے طور پہ ہم نے اکثر یہ دیکھا ہو گا کہ کالجز یونیورسیٹیز کے سٹوڈنٹس اپنے ہی کالجز اور یونیورسیٹیز میں کچرا جہاں چاہا پھینک دیا کلاس روم میں کچرا پھیلا دیا کہ صفاٸی تو خاکروب کا کام ہے۔ تو ایسے تعلیم یافتہ او جاہل میں کیا فرق باقی رہ گیاہم تو یہاں پڑھنے آتے یہ کونسی تعلیم دی ہم نے انہیں  جو ان میں اتنا شعور بھی نہ پیدا کر سکی کہ وطنِ عزیز کا ہر ایک کونہ ہمارا گھر ہے اور بحیثیت پاکستانی ہم اس گھر کے فرد ہیں اور ہمیں اسکی تزٸین و آراٸش کا خیال رکھنا ہے تو ایسے تعلیم یافتہ ات جاہل میں کیا فرق باقی رہ گیا۔

    مختصر یہ کہ ہمارے ہاں پڑھے لکھے لوگ  کچرا پھینکتے اور پراٸمری یا مڈل پاس وہ کچرا اٹھاتا تو سوال یہ ہے کہ واقع ہی ہم اپنی درسگاہوں میں علم کی روشنی پھیلا رہے شعور اجاگر کر رہے یا صرف ڈگریاں بانٹ رہے؟

    ہمارے سیاستدان جو آکسفورڈ سے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں لیکن انکے علم کا پتہ انکی الزام تراشیوں اور اخلاقیات سے چلتا۔ محض چند سیٹوں کے لیے ایک دوسرے کو گالیاں دینا یا کردار کشی کرنا تعلیم یافتہ ہونے کی نشانی نہیں بلکہ جہالت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ تعلیم  حاصل کرنے کے بعد بھی کرپشن رشوت بدعنوانی سفارش اور گالم گلوچ کا کلچر  یہ سب علم کی توہین کے زمرے میں آتا

    ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے تعلیمی نظام کو ٹھیک کریں اور والدین اور اساتذہ مل کر ایک تربیت یافتہ نسل تیار کریں ۔ تعلیم انسان کو شعور دیتی ہی مگر افسوس کہ ہم نے اسے GPA اور گریڈ تک محدود کر دیا اور اس میں اداروں کے ساتھ ساتھ ہمارے اساتذہ اور والدین بھی شامل ہیں ۔ ہر سال ہمارے ہاں اتنی وافر مقدار سے سٹوڈنٹس کالجز اور یونیورسیٹیز میں ٹاپ کر رہے مگر عملی زندگی میں کوٸی بھی اس ملکی ترقی کے لیے کچھ نہیں کر پا رہا کیونکہ ہم نے انہیں رٹا سسٹم سکھایا انہیں حقیقی معنوں میں تعلیم و شعور  نہیں دیا ۔ یونیورسیٹیز کو GPA کی فیکٹریاں بنانے کی بجاۓ اصل معنوں میں علم و شعور کی درسگاہیں بناٸیں تا کہ مستقبل میں ہماری نوجوان نسل اس قوم کی ترقی کا باعث بنے نہ کہ شرمندگی کا۔

    "خوشبو آ نہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے”

    اس لیے رٹا سسٹم کی بجاۓ بچوں کو عملی طور پر تعلیم سے روشناس کراٸیں کیونکہ ڈگری صرف یہ بتاۓ گی کہ آپ نے یہ پڑھا ہے مگر آپکا عمل اور کردار اور آپکی اخلاقیات بتاٸیں گی کہ آپ واقع ہی اہل علم ہیں۔

    @sbwords7

  • کراچی کے ذائقے تحریر: فہد احمد خان

    کراچی کے ذائقے تحریر: فہد احمد خان

    ویسے تو پاکستان کے دیگر شہروں کے کھانے بھی بہت مشہور ہیں جیسے لاہور کے مرغ چھولوں اور بلوچستان کی سجی کی تو کیا ہی بات ہے، لیکن بات کی جائے کراچی کے کھانوں کی تو کراچی سا ذائقہ پورے پاکستان میں کہیں ڈھونڈتے نہیں ملتا۔ اس بات سے وہ لوگ بخوبی واقف ہوں گے جو کراچی میں رہائش پذیر ہوں اور کسی بھی سلسلے میں پاکستان کے دوسرے شہروں میں سفر کیا ہو، ایسے افراد بھی واقف ہوسکتے ہیں جنھوں نے مختلف شہروں کا سفر کیا ہو اور ہر جگہ کے ذائقوں سے واقف ہوں۔ کراچی کے ذائقے کا مدمقابل کوئی نہیں اس بات کا اعتراف غیر ملکی بھی کرتے ہیں۔

    اگر لزیز اور چٹخاروں کے شوقین کراچی آجائیں تو یہ شہر انہیں کسی صورت مایوس نہیں کرے گا … کراچی کی مشہور فوڈ اسٹریٹس ہر قسم کے ذائقے کا ذخیرہ رکھتی ہیں جن میں برنس روڈ فوڈ اسٹریٹ، بوٹ بیسن فوڈ اسٹریٹ، حیسن آباد فوڈ اسٹریٹ، سندھی مسلم فوڈ اسٹریٹ، نارتھ ناظم آباد فوڈ اسٹریٹ، ساحلے سمندر ایک حسین اور تازی ہوا کے ساتھ دو دریا فوڈ اسٹریٹ بھی موجود ہے۔

    انہیں میں سے ایک برنس روڈ ہے جو کہ تاریخی مقام ہونے کے ساتھ ساتھ ذائقوں کا مرکز بھی بنتا جارہا ہے، پہلی ہی دہلی ربڑی, فریسکو بیکری اور آزاد بن کباب کے لئے مشہور تھا مگر اب تو شنواری سے لے کر کراچی حلیم اور وحید کباب تک سارے ہی ذائقہ ایک سڑک پر مل جاتے ہیں،

     دن بھر کی مصروف ترین اس سڑک پر رات کا اندھیرا پھیلنے کے بعد اس سڑک کے دونوں اطراف کو ٹریفک کے لئے بند کردیا جاتا ہے مغرب کے بعد ماحول ہی تبدیل ہوجاتا ہے پورا دن جہاں ٹریفک کا شور، دھواں، ہارن کی آواز یہ سب پُر سکون ماحول میں تبدیل ہوجاتی ہیں پوری فضا ہی آپ کا مصالحہ دار خوشبووں کے ساتھ استقبال کرتی نظر آئے گی …

    نہ صرف برنس روڈ بلکہ کراچی کے بیشتر علاقوں میں مشہور فوڈ اسٹریٹس قائم ہیں، جن کی شہرت نہ صرف پورے پاکستان بلکہ دنیا بھر میں پائی جاتی ہے۔ جن میں برنس روڈ کے علاوہ بوٹ بیسن، سندھی مسلم سوسائٹی، محمد علی سوسائٹی، حسین آباد اور زمزمہ شامل ہیں۔

    بوٹ بیسن کی فوڈ اسٹریٹ بھی کراچی کی پرانی فوڈ اسٹریٹ میں شامل ہیں، یہاں ہر طرح کے میسر ہیں، دیسی کے ساتھ ساتھ یہاں ولایتی کھانوں کی ورائٹی بھی پائی جاتی ہے۔

    کراچی کے پوش علاقے پر واقع سندھی مسلم سوسائٹی کی فوڈ اسٹریٹ بھی اپنی مثال آپ ہے، یہاں صرف بڑے ریسٹورانٹ ہی واقعی نہیں بلکہ کھانے کے ساتھ ساتھ لسی، جوس، کافی، اور چٹخاروں جیسی ورائٹی بھی ملتی ہے۔

    اگر کراچی کے علاقے عائشہ منزل پر واقع حسین آباد فوڈ اسٹریٹ کی بات کریں تو اس کی ایک الگ ہی بات ہے، یہاں صبح کے چار بجے بھی رات دس بجے جیسا سماع ہوتا ہے۔ یہاں ہر طرح کے کھانے ملتے ہیں لیکن یہاں کی سب سے مشہور ڈش کٹاکٹ ہے، یہاں ایک گلی گولہ گنڈا اور سوپ کی دوکانوں کی بھرمار کی وجہ سے گولہ گنڈا اور سوپ گلی کے نام سے مشہور ہے۔

    زمزمہ فوڈ اسٹریٹ کے تو کیا ہی کہنے ہیں، صبح کا ناشتہ ہو یا رات کے کسی بھی پہر لگی بے وقت بھوک، نفاست پسندوں کے لیے کراچی میں زمزمہ فوڈ اسٹریٹ سب سے بہتر انتخاب ہے، یہاں جیب ہلکی کردینے والی لیکن بہترین کھانوں کے ہے طرح کے ریسٹورانٹ موجود ہیں۔

    کراچی کے ذائقے شہر قائد کے سوا کہیں اور ملنے مشکل ہی نہیں ناممکن ہی ہوتے سوائے ایک صورت میں جب کہ پکانے والا کراچی کا ہو … 

    کراچی آنے والا کوئی شخص ان ذائقوں سے لطف اندوز ہوئے بغیر چلا گیا تو اس نے کراچی کو دیکھا تو ضرور مگر حق ادا نا کرسکا ….

    ٹیوئٹر: @fahadpremier