Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • کشمیریوں کا سکندر – سکندر حیات خان تحریر : تابش عباسی

    کشمیریوں کا سکندر – سکندر حیات خان تحریر : تابش عباسی

    آج کی تحریر ارض وطن ، کشمیر کے اس بیٹے کے نام جس کو دنیا سردار سکندر حیات خان کے نام سے جانتی تھی – جس کا نام ہی ” حیات ” ہو اس کے نام کے ساتھ مرحوم لکھتے وقت ہاتھ اور بولتے وقت زبان ساتھ چھوڑ جاتی ہے-

    سردار سکندر حیات احمد خان یکم جون 1934 کو کشمیر کی ایک مشہور سیاسی گھرانے ، سردار فتح محمد کریلوی کے گھر پیدا ہوئے -آپ کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع کوٹلی کی تحصیل نکیال سے تھا ۔

    سردار سکندر حیات خان صاحب نے ابتدائی تعلیم آبائی گاؤں کریلہ اور کوٹلی سے ہی حاصل کی – آپ نے 1956 میں گارڈن کالج راولپنڈی سے گریجویشن مکمل کی اور 1958 میں وکالت کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے پنجاب یونیورسٹی لاہور کا انتخاب کیا –

    وکالت کی ڈگری مکمل کرنے کے بعد واپس کوٹلی تشریف لائے اور بار کونسل کے صدر بھی منتخب ہوئے -1972 میں پہلی مرتبہ ممبر قانون ساز اسمبلی آزاد کشمیر منتخب ہوئے اور وزیر مال بنے –

    1970 سے لے کر 2001 تک سردار سکندر حیات خان صاحب ہمیشہ الیکشن جیت کر اپنے حلقے سے ممبر قانون ساز اسمبلی آزاد کشمیر منتخب ہوتے رہے – ایک دو مواقع پر آپ ممبر قانون ساز اسمبلی منتخب نہ ہوئے کیونکہ آپ آزاد کشمیر کے صدر کے عہدے پر فائز تھے- اس دوران آپ کے بھائی سردار محمد نعیم انتخابی سیاست میں حصہ لے کر ممبر قانون ساز اسمبلی منتخب ہوتے رہے -1985-90 اور 06-2001 کے دو ادوار میں وزیر اعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر منتخب ہوئے-

    آپ پوری عمر آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے ساتھ ہی منسلک رہے پر 2011 میں جماعت کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے پاکستان مسلم لیگ ن (آزاد کشمیر) بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا- مگر ایک بات ، جس کا گلہ سردار سکندر حیات خان صاحب کے اکثریتی کارکنوں کو تھا کہ پاکستان مسلم لیگ ن آزاد کشمیر ، سردار سکندر حیات خان صاحب کو وہ عزت ، وہ مقام ، وہ رتبہ نہ دے سکی جو سردار صاحب کے شایان شان تھا ۔فروری 2021، میں سابق وزیراعظم آزاد کشمیر و قاہد مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان نے دھیرکوٹ کے ایک جلسہ میں دعویٰ کیا کہ ” انشاء اللہ ، اپنی زندگی میں مجاہد اول سردار عبد القیوم خان صاحب والی مسلم کانفرنس کو بحال کروں گا ” – اس دعویٰ میں پہلا قدم ، سردار سکندر حیات خان صاحب کی مسلم کانفرنس میں واپسی کی صورت میں تھا – سردار سکندر حیات خان صاحب نے جماعت میں واپسی کا کریڈٹ چیئرمین یوتھ ونگ آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس سردار عثمان علی خان کو دیا اور عثمان علی خان کی سیاسی تربیت کی کھل کر تعریف بھی کی -سردار سکندر حیات خان صاحب کی مسلم کانفرنس میں واپسی کے اعلان کے بعد ، سردار سکندر صاحب کے صاحبزادے سردار فاروق سکندر ( جو اس وقت پاکستان مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کی حکومت میں وزیر مال تھے) نے والد کے فیصلے کی تائید کی اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس میں واپسی کا فیصلہ کیا اور اپنی رکنیت سازی کی تجدید کی –

    سردار سکندر حیات خان صاحب کے دور حکومت میں آزاد کشمیر میں ریکارڈ ترقیاتی کام ہوئے جن کی مثال آج بھی کہیں کہیں ہی ملتی ہے – آزاد کشمیر میں سڑکوں کا جال بچھایا ، تعلیمی اصلاحات پر کام کیا اور سب سے بڑھ کر مجاہد اول سردار عبد القیوم خان صاحب کے دست و بازو بن کر "کشمیر بنے گا پاکستان” کے نعرے کو عملی جامہ پہنانے کے خواب کو حقیقت بنانے کے لیے خوب جدوجہد کی-

    نہ صرف آزاد کشمیر ، بلکہ پاکستان کے سیاستدان بھی سردار سکندر حیات خان کی سیاسی بصیرت کے مداح تھے – بھٹو دور ہو یا ڈکٹیٹرشپ ، میاں صاحب ہوں یا بی بی شہید ، پرویز مشرف ہو یا کوئی بھی سیاسی حریف و حلیف ، سردار سکندر حیات خان صاحب سب کے ساتھ ان کے انداز سے چلنا جانتے تھے – پر جہاں مزاحمت کی ضرورت پڑی ، وہاں تاریخ نے دیکھا کہ سردار سکندر حیات خان ایک سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئے-

    9 اکتوبر 2021 ،کو سردار سکندر حیات خان صاحب کی جب کوٹلی میں وفات ہوئی تو پورے دنیا میں پسنے والے کشمیری بالخصوص جبکہ ان کے سیاسی پیروکار بالعموم افسردہ تھے – کشمیری قوم تو ابھی سید علی گیلانی صاحب و شیخ تجمل صاحب کا دکھ نہ بھولی تھی کہ سردار سکندر حیات خان صاحب بھی داغ مفارقت دے گئے – شاید اسی موقع کے لیے شاعر نے کہا تھا کہ

    کوئی روکے کہیں دست اجل کو

    ہمارے لوگ مرتے جارہے ہیں

    سردار سکندر حیات خان صاحب کی وفات پر ہر مکتبہ فکر کے لوگوں کو آنسو بہاتے اور غمگین دیکھا- سردار سکندر حیات خان صاحب کی تدفین ان کے والد محترم سردار فتح محمد کریلوی کے پہلو میں کریلہ کے مقام پر کی گئی -اللہ تعالیٰ سردار سکندر حیات خان صاحب کی بخشش و مغفرت فرمائیں اور تحریک کشمیر و تحریک تکمیل پاکستان کے لیے ان کی جدوجہد و محنت قبول فرمائیں – بیشک ، سکندر صدیوں میں ہی پیدا ہوا کرتے ہیں اور مستقبل قریب میں ایسا کوئی سیاسی لیڈر ، کم ازکم آزاد کشمیر میں تو موجود نہیں جو کہ سردار سکندر حیات خان صاحب کا متبادل ہو سکے – یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سردار سکندر حیات خان صاحب کی وفات ، ایک سیاسی کارکن یا لیڈر کی نہیں بلکہ سیاست کی ایک چلتی پھرتی یونیورسٹی کی وفات ہے-

  • قومی المیہ تحریر۔محمد نسیم 

    قارئین گرامی ڈاکٹر عبدلقدیر خان صاحب کی رحلت کا علم ہوا تو سارا دن موبائل فون پر، سوشل میڈیا پر جہاں ایپ کھولتا یہ ہی خبر دیکھنے کو ملی لیکن پتہ نہیں کیوں دل مضطرب نہیں تھا آنکھوں میں آنسو نہیں اُتر سکے وہ غم و دکھ نہیں تھا جو کسی محسن کے جانے کا ہوتا ہے اور وہ شخص تو محسنِ پاکستان نہیں بلکہ محسنِ اسلام و مسلم اُمہ تھا اپنے اس عمل پر پیشمان بھی تھا اور نادم بھی مگر اس ندامت کے باوجود میرے پاس رونے کی کوئی وجہ نہیں تھی 

    کیونکہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کوئی سلیبرٹی نہیں تھے اپنی ہوری جوانی کے دوران کبھی کبھار ہی انکا چہرہ ٹی وی پر دیکھنے کو ملا اور ملا بھی تو ایک مبہم سے تاریخی کردار کے طورپر جیسے کوئی غدار کہتا تو کوئی محسن پھرجب خود سے سوال کرتا کہ اگر وہ محسن پاکستان ہیں تو نظر بند کیوں ؟

    محسنوں کو تو پلکوں پر بٹھایا جاتا ہے 

    اس کی ہر راحت ہر خوشامد بجا لائی جاتی ہے اس کے چرچے کرتی دُنیا نہیں تھکتی 

    خیر قصہ مختصر کہ اسی کشمکش میں ان سے الفت نہ ہوپائی ۔

    مجھے ڈرامے کے ایک کردار "دانش” سے کافی اُلفت تھی بلکہ پورے پاکستان کو تھی اس کی ڈرامے کی غیر حقیقی موت پر بھی میرے سمیت ہر پاکستانی صدمے میں تھا اور ہر کسی کا دھاڑیں مار مار رونے کو دل کرتا تھا اور سوشل میڈیا پر ہم نے دیکھا سینکڑوں کی تعداد میں ویڈیوز آئیں جب دانش مررہا تھا اور ہفتہ بھر قوم سوگ میں رہی تھی

    مگر  ڈاکٹر عبدلاقدیر خان صاحب کی دفعہ میرے سمیت قوم کے جذبات ویسے نہ تھے ہر کوئی میری طرح اناللہ واناالیہ راجعون لکھ کر تعزیت تو کررہا تھا مگر دل پہ وہ چوٹ نہیں تھی وہ دکھ نہ تھا وہ درد نہ تھا وہ تڑپ نہ تھی جو دانش کے مرنے پر تھی 

    دانش تو ہم سب کا پیارا تھا اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لئیے ڈرامے کورپیٹ کرتا اور ایک ہی قسط کو دو سے تین بار دیکھتا تھا

    مگر ڈاکٹر عبدلقدیر خان سے محبت الفت کیا ان سے ملاقات کی خواہش کبھی دل میں نہ آئی میں جیسے سلیبرٹیزکے ساتھ تصویریں کھنچوانے کے لئیے بے تاب رہتا تھا اور اپنے پسنددیدہ فنکاروں کے ساتھ باتیں کرنے ملنے کی جو چاہت میرے دل  تھی ڈاکٹر عبدالقدیر کے لئیے کبھی نہ ہوئی اور شاید آدھے سے زیادہ پاکستانیوں کا بھی یہی حال ہے 

    چنانچہ یہ سب سوچ کر میں نے اپنے اندر اُٹھنے والی ندامت کو کامیابی سے دبا دیا اور سوشل میڈیا کو چلانے لگا اچانک ایک مولانا کی ویڈیو سامنے آئی تو ان کو بھی دوسرے تجزیہ کاروں کی طرح سُن ہی لیا مولانا نے اس وڈیو میں اپنی ڈاکٹر قدیر خان سے ملاقات کا احوال بتایا کہ جب ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے ڈاکٹر صاحب کے ہاتھ چوُم لئیے جس پر ڈاکٹر صاحب بھی حیران ہوئے اور پوچھا کہ مولانا صاحب سفید داڑھی کے ساتھ ایسا کیوں ؟

    مولانا نے جواب میں بڑی کمال کی بات کی اور حدیث نبوی ﷺ  کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جو تیر بنائے جو تیر پہنچائے اور جو تیر چلائے دونوں کے لئیے جنت کی بشارت ہے لہذا مولانا صاحب نے فرمایا کہ او شیرا تو تا (تم نے) تو ایٹم بم بنایا ہے 

    مولانا کی اس بات نے عبدالقدیر صاحب کے ساتھ ساتھ مجھے بھی ایک عجیب حیرت میں ڈال دیا کہ آج کے مولانا جن کی خدمتیں کرتی عوام نہیں تھکتی اور مذہبی خدمات کی وجہ سے جنکا الگ ہی پروٹوکول ہوتا جن کے ہاتھ چومتے لوگوں کے ماتھے تھکتے نہیں انہوں نے ماتھا جھکا کر ڈاکٹر عبدلقدیر صاحب کے ہاتھ کو چوُما ڈاکٹر صاحب کا یہ پروٹوکول مجھے ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا سا لگا 

    چنانچہ دونوں باریش بھی نہ تھے تو کافی مماثلت بھی پیدا ہوگئی

    خیر رات ہوئی دن بھر کا تھکا ہارا پہلی فرصت بستر پر گرا اور رات کے پہلے حصے میں ہی نیند کی آغوش میں جاگرا 

    صبح صادق اُٹھا یہ صبح بھی دوسرے دنوں کی طرح نہایت پُرسکون تھی مگر موسم کی وجہ سے خنکی تھوڑی زیادہ تھی خیر نماز سے فارغ ہوکر قرآن پاک کی تلاوت کے لئیے قرآن پاک کو چُوم کر کھولا چُومنے سے ایک بار پھر مجھے مولانا کا ڈاکٹر عبدلقدیر کا ہاتھ چُُومنے والی بات یاد آگئی کہ عبدلقدیر صاحب نے ایٹم بم بنایا ہے اس لئیے ہاتھ چُومے تیروں والی حدیث بھی ذہن میں آگئی دماغ میں چلنے والی اس غیر ارادی افکار کی گھتیاں سلجھارہا تھا کہ تیر بنانے والا جنت میں کیوں جائیگا ؟

    ذرا غور کیا تو یہ ہی نتیجہ نکال پایا کہ تیر اندازوں کو تیرایجاد کرنے اور چلانے پر جنتی اعزاز سے نوازا گیا تھا بلکہ انکی خلاصی اور بخشش کی وجہ ان کے عالمِ اسلام کی سربلندی کے چلنے اور اُٹھنے والے ہاتھ تھے جب ڈاکٹر عبدلقدیر کے کام کو اس کسوٹی پر رکھا تو مولانا صاحب کے جملے پر دم بخود سا رہ گیا 

    "اوشیرا! تو تا ایٹم بم بنایا” یعنی کہ دورحاضر میں عالمِ اسلام کی اس خستہ حالی میں اسلام کو ایٹمی طاقت بناکر اسلام کا پرچم تا قیامت سر بلند کردیا 

    بس اسی سوچ کا دماغ میں آنا تھا کہ دماغ میں الجھی ساری گتھیاں سلجھ گئیں اپنے اندر کی ندامت جسے میں زبردستی بڑے زعم سے اپنے اندر چھپائے بیٹھا تھا آنسو بن کر رخساروں پر بہنے لگے اب مجھے اس ولی اللہ کے بچھڑنے کا غم منانے کی وجہ تھی 

    کہ آج ہم جس ملک پاکستان میں مذہبی آزادی کے ساتھ عبادات کرتے ہیں عیدیں مناتے ہیں ہماری داڑھیاں محفوظ ہیں اور آزادی کے ساتھ عید قرباں پر جانور اللہ کی راہ میں قرباں کرتے ہیں کیونکہ ہم دشمن کو اسی ایٹمی طاقت کی وجہ سے روکے ہوئے ہیں 

    لیکن پھر بھی اس ندامت اور نااہلی کو سہارا دینے کی کوشش کی لیکن ہائے افسوس!میری اس کوشش کے دوران بھی "آنسو ” آنکھوں کا دامن چھوڑ چکے تھے 

    جیسا کہ تحریر میں پہلے ذکر کرچکا کہ یہ سارا معاملہ تلاوت کلام پاک کے دوران پیش آیا میرے آنسو حلقہِ رخسار کو چھوڑ کر کلام الہی کے پاک صفحوں پر گرنے ہی والے تھے کہ خود کو سنبھالا دیا اور اپنے ان مجرمانہ آنسوؤں کو مجرمانہ دامن میں سمیٹ لئیے 

    سچ تو یہ ہے کہ مجھ سے یہ برداشت نہ ہوا کہ میرے یہ گناہ گار آنسو کلام پاک کو چھونے کی جسارت کریں 

    آخر پر اتنا ہی کہوں گا کہ قوم اس پیارے ملک پاکستان کو بنانے والے بابائے قوم قائداعظم اور اس ملک پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنانے والے ڈاکٹر عبدلقدیر کی احسان مند رہے گی 

    @Naseem_Khemy

  • پاکستان میں ٹریفک کا نظام تحریر: فرمان اللہ

    میں ایک اوورسیز پاکستانی ہوں کافی عرصے بعد کچھ دن پہلے پاکستان آیا ہوں۔ چونکہ ہم دوسرے ملکوں میں رہتے ہیں تو ہمارے لیے آسان ہوتا ہے دوسرے ملکوں اور پاکستان کے نظام میں فرق کرنا۔ میں ایک سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہوں تو یہ سوچ کر آیا تھا کہ ان بنیادی مسائل کو اجاگر کروں گا جن کا تعلق صرف حکمرانوں سے نہیں بلکہ عوام سے بھی ہو اور آج ان مسائل میں سے ایک اہم مسلہ ٹریفک کا نظام ہے۔

    اس آرٹیکل میں میں پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد کے ٹریفک نظام کے حوالے سے لکھوں گا۔ ٹریفک قوانین عوام کی حفاظت کے لیے ہوتے ہیں لیکن ہمیں ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہمارے اوپر ظلم کیا جا رہا ہے۔ سب سے پہلے ذکر کروں گا ریڈ سنگل کا کراس کرنا۔ ریڈ سگنل کو ہماری عوام ایسے کراس کرتی ہے جیسے دنیا میں لوگ گرین سگنل کو کراس کرتے ہیں۔ پوری دنیا میں ریڈ سگنل کراس کرنا ایک سنگین جرم ہے لیکن ہمارے ہاں لوگ اسے جرم نہیں سمجھتے اور بہت سارے مقامات پر میں نے دیکھا ہے کہ ٹریفک پولیس بھی ریڈ سگنل کے کراس کرنے کو اتنی اہمیت نہیں دیتی جس کی وجہ سے عوام بغیر سوچے سمجھے ریڈ سگنل کراس کر لیتے ہیں جو انتہائی خطرناک ہے کسی کی جان بھی جا سکتی ہے۔

    دوسرا سیٹ بیلٹ کا نہ باندھنا
    پاکستان میں لوگ سیٹ بیلٹ کا استعمال نہ ہونے کے برابر کرتے ہیں اور سیٹ بیلٹ ایکسیڈنٹ کی صورت میں ہمارے حفاظت کرتا ہے لیکن شاید ٹریفک پولیس کی طرف سے اس کی اہمیت کو اتنا اجاگر نہیں کیا گیا اور نہ سختی کی گئی جس کی وجہ سے عوام سیٹ بیلٹ کا استعمال نہیں کرتی۔

    تیسرا یو ٹرن
    پوری دنیا میں یو ٹرین صرف ایک لائن سے کیا جا سکتا ہے لیکن پاکستان میں دو دو تین تین لائنوں سے یو ٹرن کیا جاتا ہے جو ایک جرم بھی ہے اور ایکسیڈنٹ کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔

    راونڈ اباوٹ
    پوری دنیا میں راونڈ اباوٹ میں داخل ہونے سے پہلے گاڑی روکی جاتی ہے دیکھا جاتا ہے کہ کیا راونڈ اباوٹ میں کوئی گاڑی تو نہیں اگر ہے تو اس کے گزرنے کا انتظار کیا جاتا ہے لیکن پاکستان میں اس کے برعکس چلا جاتا ہے۔ راونڈ اباوٹ میں داخل ہونے والا بغیر احتیاط کیے راونڈ اباوٹ میں داخل ہو جاتا ہے جبکہ راونڈ اباوٹ میں گھومنے والی گاڑی اس کے لیے راونڈ اباوٹ کے اندر ہی رک جاتی ہے جو انتہائی غلط عمل ہے۔

    اس کے علاوہ بہت سارے ایسے مسائل ہیں جن کا اگر میں زکر اس آرٹیکل میں کروں تو یہ آرٹیکل بہت لمبا ہو جائے گا میں نے کچھ اہم ایشوز کا زکر کیا ہے جن کی اصلاح انتہائی ضروری ہے۔ ٹریفک ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ایک کوتاہی روڈ مارکنگ کا نہ ہونا جس کی وجہ سے زیادہ تر ڈرائیور لائن کی پابندی نہیں کرتے۔ ہر روڈ پر روڈ مارکنگ ہونی چاہیے اس کے علاوہ بہت سارے سگنل کام نہیں کرتے جو ٹریفک جام کا سبب بنتے ہیں۔

    ٹریفک پولیس اور عوام دونوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں ٹریفک کا نظام بہتر ہو جائے۔

    شکریہ

    Article by: Farman Ullah
    Twitter ID: @ForIkPakistan

  • استاد اور اس کی شفقت تحریر : ڈاکٹر وسیم ریاض ملک

    میرا نام وسیم ریاض ہے میرا تعلق جھنگ  شہر سے ہے میں جھنگ میں اپنا ایک کلینک چلاتا ہوں۔ لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ میں اس مقام تک کیسے پہنچا اس مقام تک پہنچنے کے لیے استاذہ کرام اور میرے والدین کا کیا کردار تھا میں نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے قریبی سکول تور ہائی سکول سے حاصل کی چوتھی کلاس تک تو بہت مزے سے زندگی گزر رہی تھی لیکن جیسے ہی پانچویں کلاس میں آئے تو سب بچوں کے منہ پر تھا کہ ہمارے نئے انچارج آئے ہیں جو کہ بہت ظالم ہے اور بہت مارتے ہیں لیکن میں اس بات کو مذاق سمجھتا رہا چند دن کلاس میں گزرے تو ایک روز میں سکول میں کام کرکے نہ گیا تو سر نے میرے ہاتھ پر دو ڈنڈے مارے زور سے جس کی مجھے بہت تکلیف ہوئی اس کے بعد میں سر کے ڈر سے ہمیشہ کام کرکے جاتا تھا ایک مرتبہ سر میں میتھ کا ٹیسٹ دیا وہ ہم سب تیار کرکے آئے اس ٹیسٹ میں میرے 40 میں سے 35 نمبر آئے  لیکن اس کے باوجود بھی سر نے مجھے پانچ ڈنڈے مارے تاکہ مجھے یہ یاد رہے تمہیں پانچ نمبر کیوں کاٹے اور میں آگے اس کی پانچ نمبروں کی بھی تیاری کرو تاکہ آنے والے امتحانوں میں میں پورے نمبر لے سکوں اس وقت بے شک یہ ایک ظلم لگتا تھا اردو ایسے لگتا تھا کہ میں کسی قید خانے میں آگیا ہوں صبح اسکول جانے کا دل نہیں کرتا تھا اور رات کو کام یاد کیے بغیر نیند نہیں آتی تھی یہ خوف اور یہ پڑھائی اس کا یہ صلاح ملا کے  پانچویں میں میرے 85% نمبر آئے جب میں نے اپنے نمبر دیکھیں تو مجھے وہ سب مارے ہیں وہ سب ظلم بھول گئے اور مجھے ایسے لگ نے اور مجھے ایسے لگ گیا کہ یہ سر نہیں یہ ایک فرشتہ ہے کہ انہوں نے مجھ جیسے ایک نالائق بچے کو بھی اس قابل بنا دیا کہ وہ اچھے نمبر حاصل کرسکتا ہے تھوڑی سی محنت اور توجہ سے لگن کے ساتھ ایسے ہی سلسلہ چلتا رہا اور میں اپنی تعلیم جاری رکھتا رہا اور بہت سے استادوں کی شفقت حاصل کرتا رہا آج اگر میں ڈاکٹر ہوں تو صرف اور صرف اپنے اساتذہ کرام کی محنت کی وجہ سے اگر وہ محنت نہ کرتے تو شاید میں آج اس مقام پر نہ ہوتا۔ آج اس بات کا فرق پتہ چلتا ہے کہ جن استادوں نے ہم پر محنت نہیں کی انہوں نے ہم پر کتنا ظلم کیا حقیقت میں۔ آج میں ڈاکٹر ہوں اپنے شہر میں ایک نام ہے ایک مقام ہے یہ صرف اور صرف اپنے اساتذہ کرام کی وجہ سے ہے جنہوں نے مجھ پر اتنی محنت کی مجھے پڑھایا تاکہ میں قابل انسان بن سکوں اور معاشرے کے لئے بہتری کا سبب بن سکوں کیونکہ بہترین انسان وہی ہے جس سے دوسرے انسان کو فائدہ پہنچے۔ بچپن میں ایسے استاد بہت اچھے لگتے تھے جو مارتے بھی نہیں تھے اور پڑھاتے بھی نہیں تھے گھر کے کام کرواتے تھے تو ایسے استاد بہت اچھے لگتے تھے دل کرتا تھا کے ساری زندگی ان استادوں کے پاس پڑھیں۔ لیکن حقیقت میں وہ ہماری زندگی تباہ کر رہے ہوتے تھے یہ بات اب سمجھ آتی ہے جب ہم کسی مقام پر پہنچے ہیں کا میری آپ سب لوگوں سے اپیل ہے اپنے بچوں کے لئے اچھا سوچیں اور اچھے سکول کا انتخاب کریں تاکہ وہ استاد کی شفقت سے محروم نہ رہے اور ان کو اصل معنی میں محنتی استاد ملے تاکہ وہ آپ کے بچوں پر محنت کرے اس تاکہ آپ کے بچے کا کوئی قابل انسان بن سکیں میرے آپ سب والدین  سے درخواست ہے کہ جب بچہ آپ کو آکر کہے کہ آج مجھے استاذہ کرام نے مارا ہے تو ان کو آگے سے جھڑکے اور کہیں کہ آپ سکول کا کام کر کے جاتے تو استاذہ کرام آپ کو نہ مارتے کیونکہ جب تک آپ بچوں کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے اس معاملے میں کہ آپ کو استاذہ  کرام نے کیوں مارا تب تک آپ کا بچہ نہیں پڑھے گا اور استاد بھی اصل معنی میں آپ کے بچے پر محنت نہیں کر سکیں گے اور جب کل کو آپ کا بچہ اچھے مقام پر نہیں پہنچ سکے گا تو آپ کو اس بات کا پچھتاوا ہو گا
    Twitter: @WaseemjuttMalik

  • بچوں کے نکاح میں جلدی کریں اور اپنے بچوں کو گناہ سے بچائیں تحریر۔ ہارون خان جدون

    اللہ کے دین میں نکاح بہت ہی آسان عمل ہے اور اتنا مشکل عمل نہیں جتنا کے آج کل ہم لوگوں نے بنا دیا ہے

    آج ہماری خواہشات اور مطالبات اس قدر بڑھ گے ہیں کے ہم کسی بھی معاملے میں سمجھوتہ کرنا ہی نہیں چاہتے وہ خواہ لڑکا ہو ، لڑکی ہو، قابلیت ہو، آمدنی والا ہو یا اسکا نسب خاندان بہت اعلی ذات کا ہو، ہمیں لڑکا چاہیے تو اچھا کمانے والا ہو ، ہیرو type کا ہو، ماں باپ کا اكلوتا ہو ہینڈسم سمارٹ ہو اسیطرح اگر لڑکی چاہیے تو وہ بھی اچھی شکل صورت والی حور پری ہو، پڑھی لکھی ہو، اچھی کماتی ہو ڈاکٹر، اینجنیر یا ٹیچر ہو اور گھر کے کاموں کے معاملے میں سگھڑ ہو دادیوں نانیوں کو بھی پیچھے چھوڑ دے

    دوسری طرف دنیا کے حالات یہاں تک پنچ چکے ہیں کے آج کل  بےحیائی اس قدر پھیل چکی ہے اور دن بدن مزید پھیلتی جا رہی ہے کے ہر طرف برے حالات ہیں اور زنا عام ہو چکا ہے

    اور اسکے زمدار ہم خود ہیں اور اس کی زیادہ تر زمداری والدین پر ہے جنہوں نے خوب سے خوب تر کی طلب میں اپنے نوجوان بچوں/ بچیوں کو اس نج تک پنچایا ہے کے وہ حلال کے رشتے نا ہونے کی وجہ سے انکو girlfriend اور boyfriend بنانے پڑتے ہیں حالانکہ اس کا نہ تو ہمارا دین اس بات جی اجازت دیتا ہے اور نا ہی ہمارا اسلامی معاشرہ اس بات کی اجازت دیتا ہے

    آج ہمارے بچے بچیاں مخلوط تعلیم حاصل کر رے ہیں اور والدین نے بچوں کو بچپن سے ہی دین کیطرف اس طرح نہیں لگایا جس طرح سے انکو لگانا چاہیے تھا اور جوان ہوتے ہی انکو حلال رشتے میں باندھ دیا جاۓ اور انکی شادی ہو جاۓ تو وہ ناجائز رشتے کی طرف نہیں جاتے

    لیکن والدین اپنے بچوں کی کبھی مستقبل کی فکر، کبھی اچھی job کی فکر اور کبھی اچھی لڑکی کی تلاش میں انکی late شادياں کرواتے ہیں جس سے وقت ہاتھ سے نکل جاتا ہے اور بچوں کی عمریں نکل جاتی ہیں

    حالانکہ بالغ ہوتے ہی لڑکا/ لڑکی کو جسمانی ضرورت کے لئے فوری حلال رشتے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے لیکن وہ جب نہیں مل پاتی تو پھر لڑکی/ لڑکا غلط حرام طریقے سے اپنے جسم کی تسکین پورے کرتے ہیں اور پھر اس سے زنا بڑھتا ہے

    حالانکہ بحثیت مسلمان ہمارا ماننا یہ ہے کے ہمیں وہی کچھ ملتا ہے جو اللہ پاک نے ہمارے نصیب میں لکھ دیا ہے اور ویسے بھی رزق عورت کے نصیب میں ہوتا ہے پھر بھی ہم بچوں کی شادی میں دیر کرتے ہیں

    دوسرا سب سے اہم مسلہ ہمارا معاشرے کا یہ بھی ہے کے ہم ان بچیوں کو قبول ہی نہیں کرتے جنکی زندگی میں پہلے کوئی تھا جیسے کسی لڑکی کا شوھر فوت ہو گیا ہو، کسی کو طلاق ہو گئی ہو یا کسی کی کسی بھی وجہ سے منگنی ٹوٹ چکی ہو

    اس کے ساتھ ساتھ ہم لوگ اپنے مرد جنکے قد چھوٹے، تعلیمی ڈگری نا ہونے، خوش شکل نا ہونے اور اس کے ساتھ ساتھ دوسری اور تیسری شادی کروانے کے حق میں نہیں ہوتے خوا اس مرد کی پہلی بیوی سے اولاد نہ ہو اور اسے اولاد کی ضرورت ہو، خدا راہ اس معاشرے میں ٹوٹی منگنی، طلاق یافتہ ، بیوہ، رنڈوے، کالی رنگت والے، کم امدنی والے، دوسری یا تیسری شادی والے کو بھی اتنا ہی جینے کا حق حاصل ہے جتنا کسی کنوارے امیر لڑکے یا لڑکی کو ہے

    خدارا سبکو جینے دیں اور اس مسلے سے سبکدوش ہونے کے لئے اپنے بچے اور بچیوں کی شادی جلدی کرواہیں اور شریعت کے عین اصولوں کے مطابق رشتہ پکا کرنے سے چھان بین کر لیں اور پہلے استخارہ کر لیں اور پھر بات پکی کریں اور ساتھ ہی شادی نکاح کر لیں

    یوں سالوں سال منگنیاں کر کے بچوں کو آس امید پر رکھنا اور لٹکاے رکھنا بھی اچھا نہیں ہے اور آپ اس بات کی فکر نا کریں کے اپکا بچا شادی جیسی زمداری نہیں نبھا سکے گا میرا ماننا یہ ہے کے جو لڑکا اپنی girlfriend کے ناز نخرے اٹھا سکتا ہے اسکے خرچے اٹھا سکتا ہے وہ اپنی بیوی کے بھی اٹھا سکتا ہے اسلئے آپ اس بات کی tension نا لیں وہ کیسے مینج کرے گا

    پلیز نکاح کو عام کریں اور زنا کو روکیں ادھر بچے شادی کے قابل ہوے تو آپکو انکا نکاح کرکے شادی کے بندھن میں باندھ دینا چاہیے

    مغرب میں اگر لڑکا/ لڑکی 12 سال سے 15 سال کی عمر میں live together کر سکتے ہیں تو ہم اپنے بچوں کو حلال رشتے میں کیوں نہیں اکٹھا کر سکتے پلیز اس بارے میں سوچیں اور غور سے سوچیں اور اس پر عمل کریں

    اور اس لفظ سے خود کو باہر نکالیں کے لوگ کیا کہیں گے لوگوں کی باتوں میں نا آئیں اپنے بچوں کی جلدی شادیاں کروائیں اور اس کام کے لئے دوسرے لوگوں کو بھی motivate کریں تاکہ ہماری society گناہ اور زنا سے بچ سکے

    آپ ہمت کریں خود سے start کریں اپنے گھر سے start کریں رفتہ رفتہ باقی لوگ بھی آپ کے ساتھ اس نیک کام میں مل جاہیں گے بس آپ کو ہمت کرنا ہو گی

    نکاح کو عام کریں اور زنا کو روکیں یہ آپ کی میری اور سبکی زمداری ہے اس میں اپنا اپنا حصہ ڈالیں اور اپنے اپنے حصے کا کام کریں.

    اللہ پاک ہم سبکے بچوں کی قسمت اچھی کرے..آمین 

    @ItzJadoon

  • ماہ ربیع الاوّل اور ہمارا طرزِ عمل   تحریر: قاری محمد صدیق الازھری

    ماہ ربیع الاوّل اور ہمارا طرزِ عمل تحریر: قاری محمد صدیق الازھری

    ” ربیع ” عربی میں موسمِ بہار کو کہا جاتا ہے، اور اوّل کے معنی ہیں: پہلا، تو ربیع الاول کے معنی ہوئے: پہلا موسمِ بہار۔ اس مہینے میں سرورِ دو عالم حضور اقدس جناب محمد رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے اور یہ مقام کسی اور مہینے کو حاصل نہیں، اسی لیے جب آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے پیر کےدن روزے کےبارے میں پوچھاگیا ،تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی فضیلت کی ایک وجہ یہ بیان فرمائی کہ اس دن میں پیدا ہوا، جب پیر کے دن روزہ کو حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی وجہ سے فضیلت حاصل ہے، تو ماہِ ربیع الاوّل کوبھی آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کا مہینہ ہونے کی خاص حیثیت کے اعتبارسے سال بھر کے تمام مہینوں پر فضیلت وفوقیت حاصل ہے۔

    محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم بن عبد الله بن عبد المطلب بن ہاشم بن مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان بن ادو بن ہمیسع بن سلامان بن عوض بن بوض بن قموال بن ابی بن عوام بن ناشد ‏بن حزا بن بلداس بن یدلاف بن طابخ بن جاحم بن ناحش بن ماخی بن عیفی بن عبقر بن عبید بن الدعا بن ہمدان بن سمب بن یژبی بن یحزن بن یلجن بن ارعوا بن عیضی بن ذیشان بن عیصر بن اقناد بن ایہام بن مقصر بن ناحث بن ضارح بن سمی بن مزی بن عوض بن عرام قیدار بن اسماعیل بن ابراہیم بن آذر بن ناحور ‏بن سروج بن رعو بن فائج بن عابر بن ارفکشاد بن سام بن نوح بن لامک بن متوشائح بن اخنون بن یارو بن ملہل ایل بن قینان بن انوش بن شیث بن آدم علیہ السلام کی ساری زندگی ہم سب کے لیے بہترین نمونہ ہے۔ یہی وہ مقدس مہینہ ہے جس میں حضور اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی اور اسی مہینے میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ الله تعالٰی نے قرآن مجید کی سورۃ الانبیاء میں ارشاد فرمایا کہ؛ "اے محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم! ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔” 

    حضوراکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر مبارک ایک اعلی ترین عبادت ہے، بلکہ روحِ ایمان ہے۔

    آپ کی ولادت، آپ کا بچپن، آپ کا شباب، آپ کی بعثت، آپ کی دعوت ، آپ کا جہاد ،آپ کی عبادت ونماز، آپ کے اخلاق، آپ کی صورت وسیرت، آپ کازہدو تقوی، آپ کی صلح وجنگ ، خفگی و غصہ، رحمت و شفقت، تبسم و مسکراہٹ، آپ کا اٹھنابیٹھنا ، چلنا پھرنا، سونا جاگنا، الغرض آپ کی ایک ایک ادا اور ایک ایک حرکت و سکون امت کے لیے اسؤہ حسنہ اور اکسیر ہدایت ہے اور اس کا سیکھنا سکھانا، اس کا مذاکرہ کرنا اور دعوت دینا امت کا فرض ہے۔

    نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کا ذکر مبارک انسان کی عظیم ترین سعادت ہے اور اس روئے زمین پر کسی بھی ہستی کا تذکرہ اتنا باعث اجر و ثواب اتنا باعث خیر و برکت نہیں ہوسکتا جتنا سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا تذکرہ ہوسکتا ہے۔ لیکن تذکرہ کے ساتھ ساتھ ان سیرتِ طیبہ کی محفلوں میں ہم نے بہت سی ایسی غلط باتیں شروع کردی ہیں جن کی وجہ سے ذکر مبارک کا صحیح فائدہ اور صحیح ثمر ہمیں حاصل نہیں ہورہا ہے۔ ان غلطیوں میں سے ایک غلطی یہ ہے کہ ہم نے سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر مبارک صرف ایک مہینے یعنی ربیع الاوّل کے ساتھ خاص کردیا ہے اور ربیع الاوّل کے بھی صرف ایک دن اور ایک دن میں بھی صرف چند گھنٹے نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کرکے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کاحق ادا کردیا ہے، یہ حضورِ اقدس صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کے ساتھ اتنا بڑا ظلم ہے کہ اس سے بڑا ظلم سیرتِ طیبہ کے ساتھ کوئی اور نہیں ہوسکتا۔

    اصل ربیع الاوّل اس کا ہے، جو رات دن ہر وقت حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو یاد رکھتا ہے، سال میں ایک مہینے کے لیے نہیں، ایک دن کے لیے نہیں، بارہ ربیع الاوّل کے لیے نہیں، جو اللہ کے نبی کی سنت پر زندہ رہتا ہے، ہر سانس میں سوچتاہے اور اہلِ علم سے پوچھتا ہے کہ یہ خوشی کیسے مناؤں؟ غمی کیسے ہو؟ اپنی زندگی اسلامی طرز عمل پر کیسے گزاروں؟  ساری سنتیں پوچھتاہے اور سنت پوچھ کر سنت کے مطابق خوشی اور غمی کی تقریبات کرتاہے،تو جس کی ہر سانس سرورِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سنت پر فد ا ہو، اس کی ہر سانس حضور اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی دین کی اشاعت کے لیے ہے۔ جو شخص آپ کی سنت پرعمل کررہاہے اس کا ہر دن خوشی کا دن ہے، کیونکہ آپ کے دنیا میں تشریف لانے کا مقصد یہی ہے کہ امت آپ کے نقشِ قدم کی اتباع کرے، کیونکہ؎

    نقشِ قدم نبی کے ہیں جنت کے راستے

    ﷲ سے ملاتے ہیں سنت کے راستے

    Bio: The contributer Qari Muhammad Siddique Al- Azhari is a columnist and blogger. I have written many columns in newspapers and websites.

    Twitter ID:

    https://twitter.com/iamqarisiddique?s=09

  • رزق حلال عین عبادت ہے   تحریر:   محمد جاوید

    رزق حلال عین عبادت ہے تحریر:  محمد جاوید

    پاکستانی کرنسی نوٹ پہ لکھا ہوا جملہ "رزق حلال عین عبادت ہے”

    یہ جملہ صرف ایک جملہ ہی نہیں بلکہ مسلمان کیلئے ایک پورا فلسفہ زندگی ہے.

    اللہ پاک نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر ایمان والوں کو رزق حلال کی تلقین فرمائی

    اسی طرح متعدد احادیث اور روایات میں سرکار دوعالمﷺ  نے بھی اپنی امت کو حلال اور پاکیزہ رزق تلاش کرنے کمانے کھانے اور کھلانے کی تلقین فرمائی ہے.

    حلال رزق کا انسان کی نشو نماء پہ گھرا بلکہ بہت گھرا اثر ڈالتا ہے

    آج ایک دوست نے اسی حوالے سے ایک واقع سنایا تو پتہ چلا کہ ابھی بھی کس قدر ایماندار لوگ اس جہاں میں موجود ہیں

    واقع کچھ اسطرح ہے.

    کچھ دیر پہلے والد صاحب کو ایک کال آئی۔ میں بھی ساتھ ہی بیٹھا ہوا تھا اور یہ کال کسی کسٹمر کی تھی جو کہہ رہا تھا کہ” قریشی صاحب میں صبح آپ کے پاس دکان پر آیا تھا ، میرا ٹوٹل بل آٹھ ہزار روپے کا بنا تھا لیکن میں غلطی سے نو ہزار روپے دے گیا ہوں۔ ہم جب گھر واپس پہنچے تو میری بیگم نے یاد دلایا کہ گھر سے پورے نو ہزار روپے گن کر لے گئے تھے۔ مہربانی کر کے میرا ایک ہزار واپس کر دیجیے” ۔

    والد صاحب نے کہا ” پیسے تو میں نے بھی گن کر ہی دراز میں ڈالے تھے لیکن پھر بھی بھول ہو سکتی ہے۔ میں کنفرم کر کے آپ کو کچھ دیر بعد کال کرتا ہوں” ۔ کال ختم ہوتے ہی والد صاحب نے فوراً بھائی کو کال کی جو اس وقت دکان پر موجود تھے اور کہا کہ دراز میں موجود ٹوٹل رقم گنتی کرو اور کیلکولیٹر اپنے ساتھ رکھ لو۔ رات والے اتنے پیسے دراز میں موجود تھے اور میرے ہوتے ہوئے اتنے کسٹمرز آئے تھے جن کا بل اتنا اتنا بنا تھا۔ اس رقم کا ٹوٹل کرو اور اب دیکھو کہ میرے جانے کے بعد کتنے کسٹمرز آئے ہیں؟ ان کا بل کتنا بنا اسے ٹوٹل کرو۔ اب بتاؤ کہ دراز میں موجود رقم برابر ہے یا کوئی فرق ہے؟ معلوم ہوا کہ اس حساب سے تقریباً نو سو روپے زیادہ ہیں

    یعنی یہ اس بات کی گواہی تھی کہ گاہک ایک ہزار روپے زیادہ دے گیا تھا

    ایک سو روپے کا فرق تو بل میں بھی لگا سکتا ہے یا ممکن ہے کسی کو بل میں ایک سو زیادہ لکھ کے دیا ہو لیکن رعایت میں کسی نے ایک سو نہ دیا ہو  ۔۔

    اس کے بعد والد صاحب نے کسٹمر کو کال کی اور کہا آپ کا ایک ہزار امانت ہے کسی بھی وقت آ کر لے جائیں۔ کسٹمر نے شکریہ ادا کیا۔ والد صاحب نے یاد دلایا کہ پہلے آپ کا بل نو ہزار روپے کا بنا تھا لیکن پھر آپ نے کہا کہ آٹھ ہزار تک کا کر دیں جس کے بعد آپ کا کچھ سامان کم کیا تھا۔ جب آپ نے رقم دی تو شاید میرے خیال میں نو ہزار ہی چل رہے تھے ورنہ ایسا نہ ہوتا۔۔

    مجھے اس معاملے میں انتہا کا سکون مل رہا تھا۔ کچھ وقت اور محنت سے والد صاحب نے کسی کا بھلا کر دیا اور خود بھی محفوظ رہے کہ کسی کا حق غلطی سے بھی ہمارے پاس نہ آ جائے۔

     حلال کی رقم شاید کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔

    یہ جملہ ہم نے اپنے بزرگوں سے بھی سن رکھا ہے کہ حلال کی کمائی کبھی حرام میں نہیں جاتی 

    حرام کی کمائی ہی حرام کام کی طرف لے جاتی ہے.

    حلال کمائی تھوڑی بھی ہو تو برکت ساتھ لاتی ہے

    اور اگر حرام بہت سارا بھی جمع ہوجائے تو برکت نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہتی

    ہم نے ایسے کئی واقعات پڑھے ہیں کہ زیادہ دولت و حرص کی لالچ نے 

    بہت بڑے بڑے پارسا اور نیک لوگوں کے ایمان بھی بگاڑ دئے

    اور یہ ایک ایسا سلسلہ ہے جس کا اثر براہ راست اپنے خاندان میں اپنے بیوی بچوں پر پڑتا ہے

    آجکل جو ماں باپ کی نافرمانی عام ہے اس کی بہت ساری وجوہات میں سے ایک اہم وجہ یہ بھی ہے انہیں رزق حلال نہیں کھلایا جاتا.

    صوفیاء فرماتے ہیں کہ حلال کھانے والے کی اولاد کبھی نافرمان نہیں ہوتی.

    @M_Javed_

  • بلوچستان کے صحرا میں کھڑی "امید کی شہزادی” کی کہانی۔ تحریر: حمیداللہ شاہین 

    بلوچستان کے صحرا میں کھڑی "امید کی شہزادی” کی کہانی۔ تحریر: حمیداللہ شاہین 

    جیسے ہی "امید کی شہزادی” نام سنا جاتا ہے ذہن میں آتا ہے کہ یہ ایک مصری شہزادی کا نام ہے جس کے وجود نے اس وقت کے لوگوں میں امید کی شمع روشن کی ہے۔  اس طرح وہ اس نام سے پکارے جانے لگے۔

    تاہم اس خیال کے علاوہ جو ذہن میں آتا ہے اس شہزادی کی ایک الگ کہانی ہے۔

    آئیے معلوم کریں۔

    بلوچستان کے ریگستانوں میں کھڑی یہ شہزادی کون ہے؟

    صوبہ بلوچستان میں کئی ساحلی مقامات اور خوبصورت وادیاں ہیں جو کہ بے مثال ہیں۔  لیکن لوگ کئی جگہوں کی خوبصورتی سے بھی واقف نہیں ہیں یہاں تک کہ کوئی شہزادی بھی نہیں جو چند سال پہلے تک برسوں خاموش کھڑی رہی۔  تاہم مکران کوسٹل کے پہاڑی سلسلے میں کھدی ہوئی یہ پتھر کی مجسمہ اب "امید کی شہزادی” کے نام سے مشہور ہے۔

    کراچی سے 190 کلومیٹر دور واقع اس مجسمے کی شہزادی شاہی انداز میں ملبوس ہے۔  لمبی شہزادی خوبصورت دکھائی دیتی ہے لیکن اسے ایسا لگتا ہے جیسے وہ کسی چیز کی امید کر رہی ہو۔  اس مجسمے کو 2002 میں مشہور ہالی ووڈ اداکارہ انجلینا جولی نے شہزادی کا نام دیا تھا۔  انجلینا جولی نے اس وقت اقوام متحدہ کی خیر سگالی سفیر کی حیثیت سے اس علاقے کا دورہ کیا اور جب انہوں نے ہنگول نیشنل پارک کا دورہ کیا تو انہوں نے شہزادی کو برسوں تک پہاڑی سلسلے میں کھڑے دیکھا۔  اس شہزادی کو دیکھتے ہی یہ نام اس کے ذہن میں آیا اور اس نے اس مجسمے کی شہزادی کا نام تجویز کیا جو اس جگہ پر برسوں سے "امید کی شہزادی” کے طور پر موجود ہے۔  امید کی اس شہزادی کا نام ایک بار پھر مقبول ہوا اور یہ مجسمہ جو برسوں سے موجود ہے کو پہچان ملی۔

    اس سے پہلے یہ مجسمہ بحیرہ عرب کے ساحلوں کے قریب خاموشی سے کھڑا تھا ، تیز ہواؤں اور دھول کے طوفانوں کی زد میں آ جاتا لیکن یہ اپنی شناخت کے بغیر ویسا ہی رہتا۔  اس جگہ پر اسفنکس کا ایک اور مجسمہ بھی موجود ہے۔  یہ مصر کے مشہور مجسمہ اسفنکس سے مشابہت رکھتا ہے ، جو اس ویران صحرا میں کھڑی شہزادی کی اکلوتی دوست ہے۔  ماہرین کے مطابق یہ مجسمے 750 سال پرانے اور تاریخی ورثہ ہیں۔ 

    یہاں کیسے پہنچیں؟

    کراچی سے سفر کرنے والے لوگوں کو اس مقام تک پہنچنے کے لیے 4 گھنٹے کا سفر کرنا پڑتا ہے۔  ہفتے کے آخر میں یہاں آنے کی کوشش کریں۔ 

    ہنگول نیشنل پارک تک پہنچنے کے دو طریقے ہیں۔ 

    1: ٹور آپریٹر سے بکنگ کروائیں اور پھر آسانی سے یہاں پہنچیں۔

    2: دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اس جگہ کا نقشہ گوگل کی مدد سے محفوظ کریں اور پھر یہاں پہنچنے کے لیے گاڑی چلائیں۔ 

    یہاں پہنچنے کے لیے پہلے حب آئیں پھر زیرو پوائنٹ کا سفر کریں۔  مکران کوسٹل ہائی وے پر سفر کرتے ہوئے ، آپ کو کچھ انتہائی خوبصورت مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں جو اس سفر کو یادگار بناتے ہیں اور آپ کو کبھی تھکا نہیں دیتے۔  جب آپ یہ سفر جاری رکھیں گے تو آپ ہنگول نیشنل پارک پہنچ جائیں گے۔

    یاد رکھیں کہ یہ روڈ ٹرپ کچھ جگہوں پر بہت مشکل ہے کیونکہ ہائی وے پر سہولیات کی کمی اس سفر کو مشکل بنا دیتی ہے۔  اپنے ساتھ اضافی ایندھن ضرور لیں تاکہ پٹرول ختم نہ ہو۔  یہاں کوئی میکانکس یا آٹو شاپس نہیں ہیں ، لہذا کچھ کاروں کی مرمت کے اوزار اپنے پاس رکھیں تاکہ انہیں ضرورت کے مطابق استعمال کیا جاسکے۔  اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کی گاڑی اچھی حالت میں ہے اور اسے کوئی پریشانی نہیں ہے۔  اگر گاڑی میں کوئی مسئلہ ہو تو یہاں سفر نہ کریں۔ 

    اخراجات اور سامان:

    اگر آپ ٹور آپریٹر بک کروانا چاہتے ہیں تو آپ کو کراچی سے ہنگول نیشنل پارک تک کے سفر کے لیے فی شخص 3500 سے 5000 روپے ادا کرنا ہوں گے۔  ٹور آپریٹرز دو طرفہ ائر کنڈیشنڈ بسیں استعمال کرتے ہیں۔  ٹور آپریٹرز ناشتہ ، دوپہر کا کھانا ، پانی کی بوتلیں ، سافٹ ڈرنکس ، نمکین اور دیگر اشیاء کے ساتھ ساتھ فوٹو گرافر بھی فراہم کرتے ہیں۔  اسی طرح جو لوگ خود جانا چاہتے ہیں وہ اپنے ساتھ کھانا ، سنیکس ، کیمرہ وغیرہ بھی لے جائیں تاکہ وہ شہزادی ہوپ کے ساتھ کھڑے ہو کر یادگار تصاویر کھینچ سکیں۔

    پرنسس آف ہوپ اور ہنگول نیشنل پارک میں آنے والوں کی تعداد وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی جا رہی ہے ، لیکن اس تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔  جو لوگ یہاں آتے ہیں وہ اپنے اور اپنے پیاروں کے نام مجسمے کے قریب دیواروں پر تیز اشیاء یا مارکروں سے لکھتے ہیں۔  یہی وجہ ہے کہ بہت سی جگہوں پر جہاں آپ لوگوں کے نام لکھے ہوئے دیکھیں گے جو اس جگہ کی خوبصورتی اور اس کے تاریخی ورثے کو متاثر کرتے ہیں۔

    بلوچستان کی یہ پٹی کئی اہم سیاحتی مقامات اور تاریخی اعتبار سے اہم ہے۔  کنڈ ملیر ، ہنگول نیشنل پارک ، ہنگلاج ماتا مندر اور شہزادی ہوپ ، اورماڑہ اور گوادر میں کئی سیاحتی مقامات ہیں جنہیں سجایا خوبصورتی اور بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔  اس کے ساتھ ساتھ حکومت بلوچستان کو یہاں سڑکوں کی حالت بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ریسٹ ہاؤس ، ہوٹل ، کھانے کی دکانیں ، پٹرول پمپ اور زائرین کے لیے دیگر ضروریات کی فراہمی کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ یہاں سیاحت کو مزید ترقی دی جا سکے۔

    @iHUSB

  • مچھلی کے ٹینک کو کیسے صاف کریں تحریر: محمّد اسحاق بیگ

    میٹھے پانی کے مچھلی کے ٹینک میں ٹینک کے سائز کے لحاظ سے ہفتے میں تقریبا 30 منٹ سے ایک گھنٹہ کام کی ضرورت ہوتی ہے۔

     آپ کو کیا ضرورت ہو گی :

     1) آپ کو ایک صاف 5 گیلن بالٹی کی ضرورت ہوگی جس کے اندر کبھی کیمیکل یا صابن نہ ہو۔

     2) ایک نلی یا بجری صاف کرنے والی چھاننی ۔

     3) قدرتی یا مصنوعی سمندری نمک کا ایک بیگ۔

     میں نے کام کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے جس میں ٹینک کو ہر ہفتے اسی دن صاف کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور فلٹرز جو ہر 2 یا 3 ہفتوں میں صاف کیے جا سکتے ہیں۔

     اپنے مچھلی کے ٹینک کی صفائی شروع کرنے سے پہلے آپ کو سب سے پہلے جو کام کرنا ہے وہ یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس کوئی ٹینک ہے تو اسے ہٹا دیں۔  ہیٹر کو پانی سے ہٹانے کی ضرورت نہیں ہے جبکہ یہ گرم ہے لہذا اسے ہٹانے کی کوشش کرنے سے پہلے کم از کم 20 منٹ تک اسے پلگ ان چھوڑنا یقینی بنائیں۔  پانی ہیٹر پر شیشے کو ٹھنڈا کرنے میں مدد کرتا ہے اگر اسے ہٹا دیا جائے تو یہ ٹوٹ سکتا ہے ، یا گلاس مکمل طور پر ٹوٹ سکتا ہے۔  آپ کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کسی بھی مچھلی کے ٹینک کے اندر کبھی بھی ہاتھ نہ لگائیں اس بات کو یقینی بنانے سے پہلے کہ ہیٹر نہ صرف بند ہے بلکہ سوئچ بورڈ  سے نکلا ہوا ہے۔  ذرا سی کوتاہی آپ کے لیے ایک جھٹکا لگانے کے لیے کافی ہو سکتا ہے جو کہ مہلک ہو سکتا ہے۔

     ہیٹر کے پاس ٹھنڈا ہونے کا وقت ہونے کے بعد آپ ٹینک سے ہیٹر کو محفوظ طریقے سے ہٹا سکتے ہیں یا یہ ہیٹر زیر آب ہے آپ اسے نیچے ٹینک کے نیچے دھکیل سکتے ہیں۔

     اب جو بھی سجاوٹ آپ نے ٹینک میں رکھی ہے اسے لے لو ، لہذا آپ کے پاس نیچے کی چھوٹی بجری ہے ، اس سے آپ کو کوئی بھی گندگی مل جائے گی جو کہ ان سجاوٹوں نے چھپا رکھی ہے۔  اب اگر آپ کے پاس بجری صاف کرنے والا نہیں ہے تو آپ کو اپنی آستینیں اٹھانا پڑیں گی اور اپنے ہاتھوں کو گیلا کرنا پڑے گا۔  آپ کو بجری کو ہلانے کی ضرورت ہوگی تاکہ گندگی کے درمیان پانی میں داخل ہو جائے ، اور پانی کو چھاننی  سے بالٹی میں نکالنا شروع کردے۔  پانی کو باہر نہ پھینکیں آپ کو فلٹر صاف کرنے کے لیے اس کی ضرورت پڑے گی۔

     اگر آپ کے پاس بجری صاف کرنے والی چھاننی  ہے تو ، پلاسٹک کی ٹیوب کو بجری میں دھکیلیں یہاں تک کہ یہ ٹینک کے نیچے سے ٹکرا جائے ، پھر بالٹی میں ایک سائفون شروع کریں ، ہر سیکنڈ یا 2 بجری کلینر کو ایک انچ یا 2 پر منتقل کریں اور اس عمل کو دہرائیں  آپ نے 15 فیصد ٹینکوں کو ہٹا دیا ہے پانی نے تمام بجری صاف کر دی ہے۔

     اب اس مقام پر آپ ایکویریم فلٹرز صاف کر سکتے ہیں۔  فلٹرز کے اندرونی حصے بیکٹیریا کو بڑھانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں ، جو مچھلی کے فضلے اور ناپاک کھانے سے پانی میں موجود نائٹریٹس اور نائٹریٹس کو توڑنے میں مدد دیتے ہیں۔  اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ہم ان تمام ایکویریم دوستانہ بیکٹیریا کو نہیں مارتے ، ہم فلٹر میٹریل اور سپنج کو گندے پانی میں صاف کرتے ہیں جو  آپ کے ہاتھ بھی بیکٹیریا سے بھرا ہوئے ہیں ۔  ہر چیز کو فلٹرز سے نکالیں اور انہیں گندے ایکویریم پانی کی بالٹی میں کللا کریں ، پھر سپنج کو بالٹی میں ایک دو نچوڑ دیں اور فلٹرز کو دوبارہ جوڑیں ، اور انہیں واپس ٹینک پر رکھیں۔

     اب پانی میں سمندری نمک ڈالنے سے پہلے ٹینک میں شامل کرنا ضروری ہے۔  تمام پانی میں کچھ مقدار میں نمک ہوتا ہے اور مچھلی کے قدرتی افزائش  کو نقل کرنے کے لیے آپ کے ٹینک میں بھی نمک ہونا ضروری ہے۔  ہر 50 گیلن پانی میں تقریبا 1 کپ سمندری نمک شامل کریں۔

     اب آپ ٹینک میں پانی ڈال سکتے ہیں ، لیکن آپ کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ پانی ٹینک میں پانی کے درجہ حرارت کے ایک یا دو ڈگری کے اندر ہے۔  ٹینکوں کے درجہ حرارت میں اچانک تبدیلی اچانک مچھلی کو صدمے میں ڈال سکتی ہے اور انہیں مار سکتی ہے یا ان کی قوت مدافعت کو کمزور کر سکتی ہے اور انہیں مچھلی کی بیماری میں مدد دے سکتی ہے۔  میں بالٹی کو گرم پانی سے بھرنے اور اسے باقاعدگی سے چیک کرنے کی تجویز دیتا  ہوں جب تک کہ یہ ٹینکوں کا درجہ حرارت جیسا نہ ہو ، پھر آہستہ آہستہ ٹینک میں پانی ڈالیں ، فلٹر اور ہیٹر سیٹ  کریں۔

     فلٹر کی صفائی صرف مہینے میں ایک یا دو بار کرنے کی ضرورت ہے ، لیکن ٹینک میں پانی ہر ہفتے اسی دن صاف کرنا ضروری ہے

     امید ہے کے میں اپنی بات آپ کو سمجھانے میں کامیاب ہوا ہوں اگر پھر بھی سمجھ نا اے تو آپ رابطہ کر سکتے ہیں ویسے بھی یہ کام الفاظوں میں لکھنا نہایت ہی مشکل ترین ہے ۔

     میں نے کوشش تو کی ہے اب یہ آپ نے بتانا ہے کے میں آپ کو ٹھیک سے سمجھا پایا بھی ہوں کے نہیں 

     دعاؤں کا طلب گار 

     

     

    @Ishaqbaig___

  • غربت اور اس سے جڑے نفسیاتی مسائل  تحریر: نعمان سرور

    غربت اور اس سے جڑے نفسیاتی مسائل  تحریر: نعمان سرور

    چند دن قبل ایک خبر میڈیا کی زینت بنی کے ایک شخص نے اپنے تین بچوں کو کنویں کے اندر پھینک کر قتل کر دیا اور پھر خود بھی خودکشی کر لی جب اس بات کی حقیقت سامنے آئی تو وجہ غربت نکلی، آجکل ایسے واقعات بہت زیادہ سنائی دیتے ہیں

    سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی کی جانب سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں تھرپارکر میں خودکشی اور ذہنی امراض کی شرح میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے تھرپارکر کا شمار پاکستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں غربت بہت زیادہ ہے۔

    ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ چونکا دینے والی ہے اس میں انکشاف کیا گیا ہے کے اس علاقے میں خودکشی کرنے والے زیادہ تر افراد کی اوسط عمر 10-20 سال ہے جبکہ ملک کے دوسرے حصوں میں یہی شرح 20-35 ہے اب سوچنے کی بات یہ ہے کے  غریب طبقہ کے نوجوان اپنی جان کیوں لے رہے ہیں اور ہم اسے روکنے کے لیے کیا اقدامات کر سکتے ہیں؟

    ایشیائی ترقیاتی بینک کا اندازہ ہے کہ تقریبا ایک چوتھائی پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔

    یہ لوگ اپنے حالات سے تنگ آ کر ایسے اقدامات کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جس کی بڑی وجہ تعلیم کا نہ ہونا اور ان کو معاشرتی اور معاشی انصاف نہ ملنا ہے جب معاشرے میں ایسی تقسیم ہوتی ہے جو کے انصافی پر مبنی ہو تو اس کے اثرات بچوں کی نفسیات پر پڑتے ہیں جس پر آج تک توجہ نہیں دی گئی، وزیراعظم پاکستان نے بچوں کو خوراک کی فراہمی پر توجہ دینے کے لئے اقدامات کرنے کا عندیہ دیا تھا مگر اب وقت ہے عملی اقدامات کرنے کا۔

    تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ غربت سے وابستہ افراد جب معاشرے میں ناانصافی دیکھتے ہیں تو اس کا بڑا اثر ان کی ذات پر پڑتا ہے سوشل میڈیا تک رسائی نے اس فرق کو اور زیادہ بڑھا دیا ہے سوشل میڈیا کے زریعے ایکٹر،مشہور لوگ،سیاستدان اپنی نجی زندگی کی آسائشوں سے بھری تصاویر جب اپلوڈ کرتے ہیں تو یہ انٹرنیٹ کے ذریعے غریب لوگوں تک جاتی ہے جس سے ان میں احساس کمتری ، ناراضگی ، مایوسی کو جنم دیتی ہیں۔ اور وہ نوجوان اس کا موازنہ اپنی زندگی سے کرنے لگتے ہیں اگر ان کو اچھی تعلیم دی جائے تو ان کو سوچ ان چیزوں پر مثبت طریقے سے غوروفکر کرے۔

    نفسیاتی مسائل کے نتیجے میں غربت میں رہنے والے نوجوانوں کے لیے بے شمار مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ 

    جب غربت میں ڈوبا شخص یہ تمام عیش و عشرت دیکھتا ہے جو اسے میسر نہیں ہوتی لیکن دوسروں کو میسر ہوتی ہے تو اس کی سوچ کا دائرہ محدود ہوجاتا ہےجس کے نتیجے میں ناقص تعلیمی کارکردگی ، ابتدائی اسکول چھوڑنے اور مثبت سرگرمیوں کی دوری جنم لیتی ہے۔

    جس کی وجہ سے ان نوجوانوں کی سوچ منفی ہو جاتی ہے اور وہ روزگار اور آسائش حاصل کرنے کے ہر اچھے برے طریقے کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں خراب معاشی حالات اور روزگار کے مواقع کی کمی ان مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔

    انہیں وجوہات کی بنا پر نوجوان اکثر غیر صحت مندانہ رویوں کا سہارا لیتے ہیں جیسے نشہ آور چیزیں ، جو کہ وقت کے ساتھ مسلسل بڑھ رہی ہیں مبینہ طور پر پاکستان میں منشیات روزانہ 700 جانیں لیتی ہیں ، اور خودکشی اس کے علاوہ ہے۔

    جو نوجوان ان مسائل کا شکار ہو جاتا ہے اس میں غصہ بڑھ جاتا ہے جس سے گھریلو تشدد اور طلاق کے مسائل دن بدن دیکھنے میں آ رہے ہیں یہ سب نفسیاتی مسائل کی وجہ سے ہو رہا ہے۔

    ایک حالیہ تحقیق کے مطابق جیلوں میں 85 فیصد مرد قیدی ڈپریشن کا پائے گئے ۔ 

    ان کا حل کیسے ممکن ہے ؟؟

    حکومت وقت کی زمہ داری ہے کے وہ ان غریب نوجوانوں کو مالی بااختیار بنانے میں اپنا کردار ادا کرے، غربت کے خاتمے کے پروگراموں کو شروع کیا جائے، زہنی صحت کے حوالے سے تعلیم دی جائے اور بچوں کو سکول لیول پر ہی ان کی دماغی جانچ کی جائے کے وہ کیا سوچ رہے ہیں کیسے حالات سے گزر رہے ہیں۔

    نفسیاتی مسائل کو حل کرنے کا بہترین وقت جلد از جلد ہے۔ ابتدائی سراغ لگانا اور جلد حل کرنا ہی اس کا علاج ہے ، پاکستان میں پہلے سے ہی بنیادی ہیلتھ یونٹس کا ایک وسیع نیٹ ورک موجود ہے جو دیہی علاقوں میں بنیادی دیکھ بھال فراہم کرتا ہے۔ اگر ذہنی صحت کی خدمات کو اس نظام میں شامل کیا جاتا ہے تو بہت سے نوجوان ان ہیلتھ یونٹس کے زریعے اپنے مسائل کا حل پا سکتے ہیں اور سکولوں کی سطح پر بھی بچوں کی دماغی نشونما کی جانچ کی اشد ضرورت ہے۔

    مزید برآں ، تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ جو ملک اپنے نوجوانوں کی نفسیات پر ایک 1000 روپے خرچ کرتا ہے یہی نوجوان بعد میں ملک کی پیداواری صلاحیت میں 5000 روپے کا اضافہ کرتے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ خرچہ کسی قوم پر بوجھ نہیں بلکے آمدن ہے اور نیکی بھی ہے۔

    اللہ تعالی ہم سب کو ہامی و ناصر ہو آمین۔

    ٹویٹر اکاؤنٹ

    @Nomysahir