Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • تحریر:مریم صدیق  والدین اور بچوں کے درمیان بڑھتے تنازعاتہ

    تحریر:مریم صدیق والدین اور بچوں کے درمیان بڑھتے تنازعاتہ

    والدین اور بچوں کے درمیان بڑھتے تنازعات آج بھی ایک بہت اہم ملہچو ہے ۔ تاہم انسانی تاریخ کے مختلف ادوار میں اس کی شدت میں بدلاو نظر آتا رہا جیسا کہ روایتی اور صنعتی دور کے آغاز میں نوجوان آزادانہ طور پر اپنے خیالات کا اظہار اور کسی بھی حالت میں ان کا عملی مظاہرہ نہیں کر سکتے تھےلیکن پھر گزرتے وقت اور ترقی کے ساتھ آپس میں خاندانی تعلقات بھی بدلتے رہے اور آزادی رائے عام ہوتی رہی مگر اب بھی پہلے کی نسبت دو نسلوں کے مابین تنازعات زیادہ عام ہیں۔
    دراصل اس مےئلا کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ تمام نسلیں اپنے اپنے دور میں رہنا چاہتی ہیں اور ہر دور کا ایک اپنا اصول و اقدار کا نظام ہوتا ہے جوکہ ہر نسل کے لیے بہت اہم ہے جس کا دفاع کرنے کےلیے وہ ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ کسی زمانے میں پرانی نسل کی زندگی سے متعلق نظریات کو انسانی وجود کی بنیاد سمجھا جاتا تھا ۔ اب اکثر بچےایک طرف اپنے کنبے کی زندگی کے تجربے کو اپناتے ہیں تو دوسری طرف بڑوں کے دباو سے بھی آزاد ی حاصل کرنے کی کوشش میں لگے رہتے اور سامنے آنے والی ہر چیز کو مسترد کر دیتے ہیں کہ انہیں اپنی زندگی مختف انداز میں گزارنی ہے۔
    دراصل مسئلے کی بنیادی وجہ جنریشن گیپ ہے جس کا اثر دونوں کی سوچ پر مرتب ہوتا ہے۔اور اس مسئلے کا حل نوجوان نسل کی تعلیم اور اخلاقیات میں ہے۔ تعلیم کے معاملات میں سب سے پہلے آزادی رائے سے متعلق آگاہی،پھر شعوری طور پر فیصلے کرنے کی صلاحیت اور ان کے لئے ذمہ دار بننے کی اہلیت ، پھر خود اپنے آپ کو جاننے اوردنیاوی علم حاصل کرنے کی جستجو پر سب سے زیادہ توجہ دی جانی چاہئے۔ اخلاقی تعلیم کے امور خصوصی توجہ کے مستحق ہیں مگر بدقسمتی سے فی الحال نئی نسل زندگی کی اقدار کے بارے میں بالکل مختلف نظریات رکھتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ تعلیم اور اخلاقیات کے علم کو معاشرتی طور پر عام ہونا چاہئے۔ جب نئی نسل جوانی کے دور میں داخل ہوتی ہے تو اسے معاشرے میں کئی ماںئل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسا کہ کرپشن، معاشرتی انصاف اور ثقافتی و معاشرتی ترقی میں کمی اس کا حل نوجوان نسل کو آگاہی دینے اور انکی لاعلمی کو ختم کرنے کی کوششوں سے ہی ممکن ہے تا کہ معاشرے اور ملک میں ثقافت کی سطح کو بلند کیا جا سکے۔
    والدین اور بچوں کے مسائل کی "جنریشن گیپ” کے علاوہ اور بھی بہت سی وجوہات ہیں جو انہیں نفسیاتی طور پر بھی متاثر کر سکتی ہیں۔ اور یہ وجوہات دور کی تبدیلی یا معاشی و معاشرتی ترقی کے برعکس ہر وقت موجود رہتی ہیں۔ اس کی ایک وجہ بچوں اور والدین کے مابین مفادات کا تصادم ہے۔نوجوان خود کو ہر طرح سے قابل سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی پریشانیوں کا حل بخوبی نکال سکتے ہیں لیکن والدین کے لیے ان کے بچے ہمیشہ چھوٹے ، ناتجربہ کار رہیں گے جنھیں پہلے کی طرح معاشرے میں موجود خراب اثرورسوخ سے بچانے کی ضرورت ہے۔ فطرتی طور پر والدین تحفظ کے لیےبچوں سے طرح طرح کی گفتگو کرتے ہیں جن کو اکثر ہدایات کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور بچے عام طور پر تنازعے کے اس حل کو مسترد کرتےدیتے ہیں ، کیونکہ انہیں یقین ہوتاہے کہ وہ پہلے ہی کافی عمر کے اور سمجھدار ہو چکے ہیں۔ نوجوان خود ہی مسائل کو حل کرنا اور ان کے لئے خود ذمہ دار بننا چاہتے ہیں۔ یقینا وہ غلط فیصلہ کرسکتے ہیں لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے کہ انہی غلطیوں کی وجہ سے وہ اپنی زندگی کا تجربہ حاصل کرتے ہیں۔ لہذا نفسیاتی سطح پر اس مسئلے کا حل دونوں نسلوں کو ہی آنا چاہئے۔ میری رائے میں والدین کو بات چیت کی شکل اور بچے کے ساتھ اپنا رویہ تبدیل کرنا چاہئے ۔ یہ ظاہر کریں کہ وہ ان کے معاملات میں اس کا راستہ روکنے کا ارادہ نہیں رکھتے بلکہ اس کے برعکس ، کسی بھی چیز میں مدد کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اور بچوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ان کو سب سے پہلے والدین کی تندرستی کا خیال رکھنا ہےاور اپنی حد میں رہ کر معاملات کو سلجھانے اور والدین کو سمجھنے کی بھی کوشش کرنی ہے۔
    عمر بڑھنے کا تقاضا یہ ہے کہ آپ نوجوان نسل کی مدد کریں نا کہ ان کے لیے روکاوٹ بنیں اور نا ہی ان کے حریف۔ ان ساری باتوں سے یہی نتیجہ اخذ ہوا کہ "والدین” اور "بچوں” کے مابین مسائل نےنہ صرف بہت سارے تنازعات اور تضادات کو جنم دیا ہے ، بلکہ اسے حل کرنے کے بہت سارے طریقے بھی پیدا کیے ہیں۔

    @MS_14_1

  • امریکہ کی افغانستان میں 20 سالہ جنگ . تحریر : محمد وقاص

    امریکہ کی افغانستان میں 20 سالہ جنگ . تحریر : محمد وقاص

    ورلڈ ٹریڈ سینٹر پرحملہ کے بعد امریکہ افغانستان پر چڑھ دوڑا۔ اس وقت افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم تھی ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کا ماسٹر مائنڈ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو ٹھہرایا گیا۔جو اس وقت افغانستان میں پناہ گزیر تھے ۔امریکہ نے طالبان کے امیر ملا عمر پر دباو ڈالا کہ وہ اسامہ بن لادن کو ہمارے حوالے کر دے ورنہ بعد میں آنے والے نتائج کا ذمہ دار ہمیں نہ ٹھہرایا جائے۔طالبان کے امیر ملا عمر نے اس امریکی پیشکش کو مسترد کر دیا اور کہا کہ وہ اسامہ بن لادن کو نہ ملک سے دربدر کریں گے اور نہ ہی کسی کے حوالے کریں گے۔

    اس کے کچھ عرصے بعد ہی امریکہ اپنی اتحادی فوجوں کے ساتھ افغانستان پر ٹوٹ پڑا۔افغانستان سے بھی کافی لوگ جو طالبان کی سخت اسلامی شرائط کی وجہ سے متنفر تھے انہوں نے بھی امریکہ کا بڑھ چڑھ کر اس میں ساتھ دیا اور یوں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے طالبان حکومت کا خاتمہ کر دیا۔یوں امریکہ نے افغانستان میں اپنی مرضی کی ایک حکومت قائم کر دی جو ان کے اشاروں پر چلتی تھی۔

    بات یہیں ختم نہیں ہوتی امریکہ اور اس کی اتحادی فوجیوں اور افغان فورسزز نے طالبانوں کے خلاف جگہ جگہ محاز آرائی شروع کر دی۔اس کے بعد نیٹو اتحادی فورسز نے ایک ایبٹ آباد میں خفیہ آپریشن کا کیا جس میں انہوں نے القاعدہ کے سربراہ اسامی بن لادن کو مارنے کا دعوی کیا۔20 سال جنگ کرنے کے بعد امریکہ کو افغانستان میں اپنی شکست ہی نظر آ رہی تھی۔امریکہ نے کھربوں ڈالراس جنگ میں جھونک دئیے مگر ہاتھ میں ناکامی کے سوا کچھ نہ آیا۔لہذا انہوں نے اپنی عافیت اسی میں سمجھی کہ اب افغانستان سے کسی طرح انخلا کر لیا جائے۔اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی چارہ بھی نہ تھا۔

    چناچہ امن معائدہ کا ٹاسک پاکستان کو سونپا کو گیا۔پاکستان کی ان تھک کوششوں کی وجہ سے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لایا گیا۔جس کا اعتراف خود امریکہ اور دنیا بھی کرتی ہے ورنہ یہ امن معائدہ کھبی نہ طے پاتا اور یہ خونی جنگ کھبی نہ رک پاتی۔طالبان نے امن معائدہ میں شرط رکھی کہ تمام غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد ہی ہم امن معائدہ کر سکتے ہیں ورنہ ہمیں یہ معائدہ قابل قبول نہیں۔چونکہ امریکہ کی بھی یہ خواہش تھی کیونکہ امریکہ اس جنگ میں میں بھاری مالی نقصان اور جانی نقصان اٹھا چکا تھا اس نے یہ شرط قبول کر لی ۔اس طرح اس طویل 20 سالہ جنگ کا اختام ہوا۔

    امریکہ کی اس طویل 20 سالہ جنگ کے نتائج کچھ اس طرح سے بیان کیے جا سکتے ہیں۔2001سے 2020 تک 71000شہریوں کی جانیں گئیں۔66سے69 ہزارافغان فوجی جان سےگئے۔نیٹو کے 3500 فوجی ہلاک ہوئے.3800نجی سیکورٹی اہلکارجان سے گئے۔طالبان/دیگرجنگجوؤں نے84000جانیں گنوائیں۔27 لاکھ لوگ پڑوسی ملکوں میں چلے گئے۔32 لاکھ ملک کے اندر ہی در بدر ہیں۔پاکستان میں تقریبا 80 ہزار شہریوں کی جان گئی۔پاکستان کو ایک سو پچاس ارب ڈالر کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا۔امریکہ نے افغانستان کی تعمیر نو پر 1.43 کھرب ڈالر خرچ کئے۔کل ملا کر جنگ پر 22.6 کھرب ڈالر خرچ ہوئے۔ اور نتیجہ صرف تباہی تباہی اور تباہی نکلا.

    @WaqasUmerPk

  • امید کی کرن:  تحریر.عمرخان

    امید کی کرن: تحریر.عمرخان

    آگ تو ناجانے کب کی بُجھ گئی تھی۔ اب صرف راکھ بچی تھی اور میں اپنی سوچوں میں ڈوبا خواہشوں اور امیدوں کی تکمیل کا سوچتے اُس راکھ کو گورے جا رہا تھاجو دھیرے دھیرے یخ ٹھنڈی ہوئے جا رہی تھی۔
    میری سوچیں میرے دماغ پہ حاوی ہوئے جا رہی تھیں،
    آخر یہ اُمیدوں اور خواہشوں کی تکمیل کیونکر ممکن نہیں؟ کیونکر وقت کہ ساتھ ہر اُمید ختم ہوئے جاتی ہے؟ کیونکر میں خواہشوں کو تکمیل نہیں دے پا رہا؟لگتا تھا کہ اب کامیابی ممکن ہی نہیں۔ اب تو ناکامی مقدر ہے۔ لیکن یہ میں کیا دیکھتا ہوں کہ وہ راکھ جو میری آنکھوں کے سامنے بلکل بُھج چکی تھی‚ اس میں ایک ہلکی سی روشنی منور ہوئے جاتی ہے۔ یہ روشنی !!یہ روشنی کیسی ہے؟ ایک عجیب کشمکش میں مبتلا میں ایک اور سوچ سوچنے ہر مجبور ہوا کہ جیسے اس بُجھی ہوئی راکھ میں سے اس چھوٹی سی چنگاری نے اُمید نہ کھوتے ہوئے اپنے ہونے کا احساس مجھے دلایا تو میں انسان ہو کر نہ اُمید کیسے ہو سکتا ہوں ؟
    تب سمجھ آیا کہ انسان زندگی کہ کتنے ہی اندھیروں کا شکار کیوں نہ ہو ایک جگنو اُمید کا اسکے ہمدم ہوتا ہے جو ہر وقت اسے یہ احساس دلاتا ہے کہ اندھیرا زیادہ دیر نہیں ہے خواہ وہ جگنو چھوٹا ہی ہوتا ہے لیکن اس سے جڑی امیدیں بہت بڑی ہوتی ہیں.
    انسان زندگی میں کتنا ہی بے سکون اورنہ اُمید کیوں نہ ہو اسکی زندگی مکمل امیدوں اور کاوشوں ہر انحصار کرتی ہے.
    امیدیں ایک ایسی ڈور ہیں جو انسان کو زندگی کی روشنیوں سے باندھے رکھتی ہیں. زندگی کی خوبصورتی انہی چھوٹی اور بڑی امیدوں کی تکمیل پر ہے. جب زندگی میں اُمید کی کوئی کرن جاگتی ہے تو اسے پورا کرنا جوش اور ولولہ انسان کو اس کے خالق کے قریب کر دیتا ہے بس عقل انسانی اپنی امیدوں کو پہچاننے سے قاصر ہے.
    اس بُجھی راکھ میں ایک چھوٹی سی چنگاری نے آگ مکمل نہ بُجھنے کا احساس دلا کر مجھے اس قابل بنایا کہ اپنی خواہشوں کی تکمیل کےلئیے اپنی اُمید کی کرن کو کبھی مرنے نہیں دینا اور یہی زندگی کی بھاگ دوڑ ہے۔

    ‎@U4_Umer_

  • مسئلہ ناموس رسالت ﷺ اور بحیثیت امت ہمارا کردار . تحریر : علی حسن

    مسئلہ ناموس رسالت ﷺ اور بحیثیت امت ہمارا کردار . تحریر : علی حسن

    کافر ہمیشہ سے ہی مسلمانوں کی دل آزاری کرنے میں لگا ہوا ہے. ان کو نہیں پتا کہ ہم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کس قدر محبت کرتے ہیں اور ایمان کا تقاضا بھی یہی ہے کہ کائنات کی ہر شے سے بڑھ کر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کی جائے.

    میں یہاں پرایک حدیث کا حوالہ دینا چاہوں گا.
    عن أنس وأبي هريرة رضي الله عنهما مرفوعاً: لا يُؤْمِنُ أحدُكم حتى أَكُونَ أَحَبَّ إليه مِن وَلَدِه، ووالِدِه، والناس أجمعين.
    [صحيح.] – [حديث أنس -رضي الله عنه-: متفق عليه. حديث أبي هريرة -رضي الله عنه-: رواه البخاري.]

    ترجمہ :
    انس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک میں اس کے نزدیک اس کی اولاد، اس کے والدین اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں“

    اس حدیث کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جب تک محبت کی انتہا نا کر دی جائے تب تک بندہ مکمل مسلمان ہی نہیں ہو سکتا.آج کل مسلمانوں کو امن کا اتنا درس دیا جا رہا کہ دنیا کچھ بھی کرتی چلی جائے مسلمان جیسے کہ سو رہے ہیں.
    فرانس نے سلطان عبدالحمید کے دور میں گستاخانہ ڈرامہ بنایا تو سلطان عبدالحمید نے دلیرانہ للکار سے فرانس کو روکا اور کہا کہ اگر فرانس باز نا آیا تو عالم اسلام میں جہاد کا اعلان کر دوں گا. صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہ بھی گستاخوں کے سر قلم کرتے رہے ہیں حتیٰ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود حکم دیا تھا گستاخ کو قتل کرنے کے لیے. مسلمان گستاخوں کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کر سکتے کیونکہ یہ ہمارے جذبات کا مسئلہ ہے، یہ ہماری محبت کا مسئلہ ہے اور یہ ہماری غیرت کا مسئلہ ہے.

    مسلمان گناہ گار تو ہو سکتا ہے لیکن غدار نہیں ہوسکتا.اگر ہم گستاخوں کے خلاف خاموش رہیں تو ہمارا ایمان کہاں ہو گا.اگر ہم گستاخوں کو جواب نہیں دیتے تو ہم قبر میں اپنے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا منہ دکھائیں گے؟
    ہم کیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت کی طلب کریں گے؟ ہم کیسے باوفا امتی کہلائیں گے؟
    ہم حوض کوثر پر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھوں سے جام پینے کیسے جائیں گے؟

    بحیثیت امت ہمارا فرض ہے کہ ہم ہر محاذ پر ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دفاع کریں چاہے ہماری جان چلی یا ہمارے مال ختم ہو جائیں اور یا ہماری اولادیں قربان ہو جائیں ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا.
    ابھی حال ہی میں فرانس نے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کی جس پر مسلمان بہت دکھی ہوئے لیکن افسوس ہم ان کو جواب نا دے سکے.
    ہمیں اس قدر سخت جواب دینا چاہیے تھا کہ ساری دنیا جان لیتی مسلمان اپنی جان تو قربان کر سکتا ہے، اپنا مال تو لٹا سکتا ہے لیکن گستاخی رسول کو کبھی برداشت نہیں کر سکتا.

    افسوس ہمیں اپنی معیشت کا زیادہ احساس تھا لیکن ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پہرہ نا دے سکے. ہمارے ایمان کمزور ہو چکے ہیں ہم یہ کہتے رہے کہ اگر فرانس کو سخت جواب دیا تو سارے یورپی ممالک ہمارے ساتھ تجارت نہیں کریں گے ہماری معیشت تباہ ہو جائے گی. یورپ ہمیں گرے لسٹ سے نہیں نکالے گا. اسی خوف سے ہم ان کو جواب نہیں دے سکے. نمسلمان کا ایمان تو بہت ہی مضبوط ہوتا ہے.

    کیا دنیا کے سارے خزانے ہمارے رب کے نہیں ہیں؟
    کیا ساری کائنات کا مالک ہمارا رب نہیں ہے؟
    کیا یورپ کو رزق ہمارا رب نہیں دیتا؟
    کیا ہمیں رزق ہمارا رب نہیں دیتا؟

    یقیناً ساری کائنات کا مالک ہمارا رب ہے ہمیں رزق اللہ ہی دیتا ہے تو پھر ڈر کس بات کا جب رزق اللہ دیتا ہے تو ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دفاع میں اگر معیشت بیٹھ بھی جائے تو پرواہ نہیں. ہمارا رب ہمیں اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت پر پہرہ دینے کی وجہ سے سپر پاور بنانے پر قادر ہے. لیکن شرط یہ ہے کہ مخلص ہو جاو ڈر نکال دو اپنے اندر سے اور بس ایک ہی بات کہو گستاخ رسول اب تیری خیر نہیں.

    اللہ تعالیٰ ہمیں باوقار مسلمان بنائے آمین.

    @AliHassan_9211

  • مایوسی ایک گناہ ہے . تحریر: شعیب مراتب

    مایوسی ایک گناہ ہے . تحریر: شعیب مراتب

    انسان کی قدر و منزلت صرف دولت ہے دولت کی جدوجہد کے لئے ہمیشہ محنت کرتا ہے خوبصورت زندگی اللہ کا ذکر کرنے سے توبہ کرنے سے ملتی ہے ہمیشہ اللہ کا ذکر کرو اللہ آپ کو وہ منزل دے گا جس کا آپ تصور بھی نہیں کرسکتے اللہ ہر چیز پر قادر ہے وہ بڑا غفور و رحیم ہے مانگو اس سے جو دینے والا ہے صرف اللہ ہی ہے جو آپ کی مدد کر سکتا ہے زندگی میں مشکلات آتی رہتی ہیں مگر ہمت اور حوصلے سے مقابلہ کرنا چاہیے کسی کے پاس پیسہ دیکھ کر کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے ہوسکتا ہے کل آپ کو اللہ تعالی اس کا بہتر اجر دے اللہ تعالی پرامید اور توکل قائم رہنا چاہیے انسان کو ہمیشہ انسانیت کی خدمت اور بھلائی کرنی چاہیے ہر وقت اللہ تعالی سے ڈرتے رہنا چاہیے وہ بڑا غفور الرحیم ہےوہ انسان سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے الحمدللہ ہم مسلمان ہیں مسلمان گھر میں پیدا ہوئے ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں کسی کا غریب ہونا مذاق بن جاتا ہے چاہے اس کا اخلاق جتنا مرضی اچھا ہو مگر لوگ سمجھتے ہیں پتہ نہیں اس کو ہمارے ساتھ کوئی مطلب ہے اسلام ہمیں محبت رواداری برداشت کا درس دیتا ہے اللہ تعالی ہم سب کو ایمان کی دولت سے مالا مال کرے دنیا ایک دکھاوا ہے ہم سب نے اللہ کی طرف لوٹ کر جانا ہے اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصرہو. آمین.

    @Shoaib__s

  • پاکستان کا مطلب کیا؟۔۔۔۔۔لا الہ الا اللہ  تحریر ۔مدثر محمود

    پاکستان کا مطلب کیا؟۔۔۔۔۔لا الہ الا اللہ تحریر ۔مدثر محمود

    آج کی نوجوان نسل پاکستان سے محبّت تو ضرور کرتی ہے لیکن ان لوگوں کو محبت کا مفہوم معلوم نہیں ہے۔انہیں بتانا پڑے گا کہ قانون کی خلاف ورزی جرم ہے بد تہذیبی ہے اور گناہ بھی جرم ہے ۔ نوجوانوں میں وطن کی محبت ،قانون کا احترام اور اعلی اخلاقی صفات پیدا کرنے کے لیے بہت توجہ اور منصوبہ بندی سے کام کرنا پڑے گا اس کام کے لیے سب سے پہلے والدین اور پھر ماسٹر اور مولوی کا کردار بہت اہمیت کا حامل رہے گا ۔پاکستان کا مطلب کیا؟۔لا الہ الا اللہ۔ تحریک پاکستان اور یہ نعرہ کیوں لازم و ملزوم ہے ۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے کیوں کہا تھا کہ ’’تحریک پاکستان میں25 فیصد حصہ اصغر سودائی کا ہے۔ ‘‘اس کے لیے نوجوانوں کو قیام پاکستان سے پہلے کے حالات و واقعات بارے بھی بتانا ہوگا۔کہ کیسے ہمارے بزرگوں نے اس وطن کو حاصل کرنے کے لیے جانیں قربان کی ہماری ماؤں بہنوں کی عزتوں کو تار تار کیا گیا اتنی مصیبتیں مشکلات برداشت کرنے کے بعد پاکستان معرض وجود میں آیا۔

    پاکستان کا مطلب کیا؟۔لا الہ الا اللہ کا نعرہ لگانے والوں کو اس نعرے کی الف ب سے روشناس کرنا ہوگا۔جب ہم ایسا کر لیں گے تو پھر یقینا ہمارے پاکستان پیارے پاکستان کو دُنیا کی کوئی طاقت ترقی یافتہ پاکستان بننے سے نہیں روک سکتی۔

    @Mudsr_Ch

  • ‏اسلام، ہم جنس پرستی اورعلما کا کردار . تحریر: نینی ملک

    ‏اسلام، ہم جنس پرستی اورعلما کا کردار . تحریر: نینی ملک

    اسلام میں کسی بھی غیرفطری طریقے کی جنس پرستی بہت سختی سے منع ہے۔ ہم جنس پرستی کی سزا اللہ کے نزدیک اس قدر سخت ہے کہ قوم لوط کے اس عمل پراللہ نے انکی بستی کو زمیں سے اوپر اٹھا کر زمیں پر دے مارا اور ہمیں قرآن میں واضح بتا دیا کہ کس قدرنا پسندیدہ عمل ہے. اس عمل کی سزا جب مقرر کی تو اس پر حد لگا دی کہ فریقین کی رضا مندی سے کیا گیا تو فاعل و مفعل کو عبرتناک سزا دی جائے علاقے کی بلند ترین عمارت سے اوندھے منہ گرایا جائے اور پھر بھی کسی میں زندگی کی رمق باقی رہے تو اسے سنگسار کر دیا جائے۔ اس دور پر فتن میں یہ گناہ عام ہو چکا ہے کالج یونیورسٹی کے طلبا ہوں ہاسٹل میں رہنے والے یا پھر مدرسوں میں پڑھنے والے ۔۔ جی ہاں اسلامی مدارس کے طلبا بھی اس قبیح عمل میں گرے ہیں۔

    کالج و یونیورسٹی میں تو بے راہ روی کے نتائج ہیں لیکن ایسا کیوں ہے کہ مدارس میں بھی ایسا کام ہو رہا ہو؟؟
    تو اسکی وجہ ہے ان مدارس کے وہ معلم جو خود اس گناہ میں ملوث ہیں ۔ جو طلبا کو اپنی جنسی خواہش پوری کرنے کی لیے استعمال کرتے ہیں اور ظلم عظیم کہ خانہ خدا میں ایسے قبیح کام کرتے ہیں۔۔ رفتہ رفتہ طلبا عادی ہونے لگتے ہیں اور وہ بھی اس گناہ کی دلدل میں دھنس جاتے ہیں.

    چند ہفتے قبل ایک ایسا ہی واقعہ منظرعام پر آیا ایک معلم نے اپنے شاگرد کے ساتھ کیا پھراس پر ظلم کہ قرآن پر حلف لیا اپنی بیگناہی پر ادارہ جسے سب سے پہلے اس واقعے کا نوٹس لے کر ایسے حیوان کے لیے اسلامی ریاست میں اسلامی سزا کا مطالبہ کرنا تھا انہوں نے فقط ادارے سے نکال کر اپنا فرض ادا کر دیا۔۔ کیا یہ اللہ کے دین سے خیانت نہیں کی گئ؟؟؟؟ صاحب ارباب نے اس حیوان کو انسانوں کی بستی میں ضمانت پر رہا کر دیا۔ کیا یہ ہے وہ اسلامی ریاست جو کلمے کی نام پر بنائ گئ تھی؟؟؟ یا یہ ہے وہ ریاست مدینہ جسکا خواب عمران خان صاحب نے دیکھا تھا؟؟؟ جواب یہی ہے کہ یقینا نہیں۔

    یہ خیانت ہے علما کی دین کے ساتھ ۔۔ اس اسلام کے نام پر بنی ریاست کے ساتھ کیوں وہ پاکستان میں شریعہ کے نفاذ کا فقط زبانی مطالبہ کرتے ہیں؟؟؟ کیونکہ اس طرح ہو گیا تو سب سے پہلے ان پر حد نافذ ہو گی۔ ایسے نام نہاد علما کو دوسروں کے لیے نشان عبرت بنایا جائےگا۔

    ریاست مدینہ بنانے سب اپنا کردار نبھایئں۔۔ انصار و مہاجرین جیسی تربیت اپنی اولاد کی کریں اپنی اولاد کے قریب ہوں وہ کیا کرتے ہیں کہاں جاتے ہیں آپکو خبر ہونی چاہیے۔۔۔۔ انکے سکول انکے مدارس میں کون ان پر مہربان ہے خدارا خبر رکھیں۔۔ جب بچے والدین سے ایسی شکایت کریں تو خدارا انکو بچے اور اساتذہ کو بڑے اور قابل احترام سمجھ کر اگنور مت کریں ۔

    ریاست کی یہ ذمہ داری ہے اپنی قوم کے آنے والے معماروں کی حفاظت کریں سکول و مدارس میں کیمرے نصب کر کے انکا کنٹرول اپنی پہنچ میں رکھیں تاکہ کسی پر بھی ذہنی جسمانی یا جنسی تشدد نہ ہو پائے۔۔اگر کوئ ایسی شکایت درج کروائے اسکا فورا نوٹس لے کر ملزم کو عبرتناک سزا دی جائے۔
    اس پرفتن دور میں آنے والی نسل کو جنسی درندوں سے محفوظ کرنے کا صرف یہی حل ہے.

    Twitter handle: @NiniYmz

  • قربانی سنت ابراہیمی ہے   تحریر: تماضر خنساء

    قربانی سنت ابراہیمی ہے تحریر: تماضر خنساء

    حلال جانور کو تقرب الہی کیلیے قربان کرنے کا سلسلہ
    حضرت آدم ع سے چلا آرہا ہے جب آپ ع کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل نے بارگاہ ایزدی میں اپنی قربانی پیش کی.
    قرآن پاک اس کو کچھ یوں بیان کرتا ہے :
    وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ابْنَيْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَرِ قَالَ لَأَقْتُلَنَّكَ ۖ قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّـهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ ﴿سورۃ المائدۃ ٢٧﴾

    اور پیغمبر علیھم السّلام آپ ان کو آدم علیھم السّلام کے دونوں فرزندوں کا سچا ّقصّہ پڑھ کر سنائیے کہ جب دونوں نے قربانی دی اور ایک کی قربانی قبول ہوگئی اور دوسرے کی نہ ہوئی تو اس نے کہا کہ میں تجھے قتل کردوں گا تو دوسرے نے جواب دیا کہ میرا کیا قصور ہے خدا صرف صاحبان تقوٰی کے اعمال کو قبول
    کرتا ہے (27)

    اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قربانی کی عبادت آدم ع کے زمانے سے ہی چلی آرہی ہے مگر اس کی خاص پہچان خلیل اللہ کی وہ عظیم قربانی ہے کہ جس پر زمین و آسماں انگشت بدنداں تھے ۔
    اور اسی عظیم واقعے کی بنا پر یہ امت محمدیہ پر واجب کردیا گیا کہ ہر سال خلیل اللہ کی اس عظیم قربانی کا عمل دہرایا جاتا رہے گا ۔
    اس عظیم قربانی کا واقعہ کچھ یوں ہے کہ
    سید نا ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کر رہے ہیں ۔انھوں نے اس کا تذکرہ اپنے بیٹے سے کیا تو اسماعیل نے کہا : آپ کو جو حکم دیا جا رہا ہے اسے کر ڈالیے ، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔ رب العزت نے اس بارے میں فرمایا:
    پھر جب دونوں مطیع ہو گئے اور ابراہیم نے اسے پیشانی کے بل گرادیا اور ہم نے اسے ندادی کہ اے ابراہیم علیہ السلام ! یقینا تو نے خواب سچ کر دکھایا۔ یقینا ہم نیکی کرنے والوں کوایسا ہی بدلہ دیتے ہیں.
    (سورۃ الصافات: 103 – 105 )

    یہ قربانی کیاتھی؟ محض خون اور گوشت کی قربانی نہ تھی بلکہ روح اور دل کی قربانی تھی ۔ یہ محض باپ کا اپنے اکلوتے بیٹے کے خون سے زمین کو رنگین کرد ینا نہ تھا بلکہ اللہ تعالی کے سامنے اپنے ہرقسم کے ارادے اور مرضی کومٹادینا تھا۔ یہ اپنی عزیز ترین متاع کو اللہ تعالی کے سامنے پیش کرنا تھا۔ یہ تسلیم ورضا ،صبراور شکر کا وہ امتحان تھا جس کو پورا کیے بغیر اللہ تعالی کی رضا نہیں مل سکتی ۔ یہ غیر اللہ کی محبت کی قربانی اللہ تعالی کے راستے میں تھی۔ یہ اللہ تعالی کی اطاعت اور عبودیت کا بے مثال منظر تھا۔ جانوروں کی ظاہری قربانی دراصل اپنی روح اور دل کی قربانی ہے ۔اسلام قربانی ہے۔اسلام کے لفظی معنی اپنے آپ کو اپنی مرضی کو اللہ تعالی کے سپرد کردینا اور اس کی اطاعت اور بندگی کے لیے گردن سر تسلیم خم کر دینا ہے ۔قربانی قرب کا ذریعہ بنتی ہے ،اسی سے انسان سیکھتا ہے کہ اللہ تعالی کی خاطر کیسے اپنا سب کچھ قربان کرنا ہے ؟ اپنامال ، صلاحیتیں ،قوتیں ، وقت اور ضرورت پڑنے پر جان بھی جو کچھ بھی رب کی طرف سے ملا ہو، سب کچھ قربان کرنا ہے ۔ جانور کو قربان کر کے انسان قربانی کا سبق سیکھتا ہے ۔ یہی وہ حقیقت ہے جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا اسماعیل علیہ کے اس ایثار اور قربانی سے ظاہر ہوتی ہے ۔ یہی وہ برکت ہے جس کو مسلمان دن میں پانچ مرتبہ اپنے رب کے سامنے یاد کرتے ہیں: اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم اے اللہ تو محمد اور محمد کی آل پر برکت نازل کر، جس طرح تو نے ابراہیم اورا براہیم کی آل پر برکت نازل کی
    قربانی ایک اہم عبادت اور شعائر اسلام میں سے ہے،یہ نمائش یا کسی رسم کا نام نہیں بلکہ یہ ایک عبادت اور مذہبی فریضہ ہے، کیونکہ فرمایا گیا کہ ”اللہ تعالیٰ کو ان جانوروں کا گوشت اور خون ہرگز نہیں پہنچتا، بلکہ اسکو تمہاری جانب سے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔
    اگر ایسا نہیں تو ہمارا رد عمل کیا ہے؟ ہمارے دور میں ”سنت ابراہیمی“ ہم سے کیا تقاضا کرتی ہے؟
    بس یہی بتانا تھا کہ اللہ کے پاس تو نیت اور تقوی پہنچے گا اور ہم کیا پہنچا رہے ہیں؟

    @timazer_K
    Twiter handle

  • مطلقہ اور بیوہ کہاں جائیں . تحریر : سیدہ بخاری

    مطلقہ اور بیوہ کہاں جائیں . تحریر : سیدہ بخاری

    لوگ بہت سی معاشرتی برائیوں پر آواز اٹھاتے ہیں، کبھی جہیز لینے کے خلاف ، کم عمری میں شادی کے خلاف، کبھی چائلڈ لیبر کے خلاف تو کبھی والدین کو اولڈ ہوم میں داخل کروانے کے خلاف، بچوں اور بچیوں سے جنسی ذیادتی کے خلاف، یہ سب بہت اچھا ہے کہ ان معاشرتی برائیوں کے خلاف نہ صرف آواز اٹھائی جائے بلکہ انکے سدباب کیلئے موثر اقدامات بھی کئے جائیں لیکن آج میں جس موضوع پر لکھ رہی ہوں اس پر کہیں بات نہیں ہوتی، اور وہ ہیں شادی کے بعد ناموافق حالات کی وجہ سے اپنے میکے کی دہلیز پر واپس آ کر بیٹھ جانے والی طلاق یافتہ یا بیوہ لڑکیوں کے دکھ، وہ بدقسمت لڑکیاں جو سسرال کے جہنم سے نکل کر جب ماں باپ کی دہلیز پر آتی ہیں تو انکو خوش آمدید نہیں کیا جاتا بلکہ مصیبت اور بوجھ تصورکیا جاتا ہے، اس چیزپرشکر نہیں کیا جاتا کہ بیٹی ذہنی مریضہ بننے سے بچ گئی اورصحیح سلامت آپکو واپس مل گئی۔ پھر ہمارا معاشرہ انکے ساتھ جو سلوک کرتا ہے وہ ایک الگ کہانی ہے. جب یہ بدقسمت لڑکیاں پھر سے گھر بسانے کی آس میں نیا ہمسفر تلاش کرنے کی کوشش کریں تو اس میں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ بھی ایک الگ داستان ہے، میں نے جو سروے کیا اس میں ایک طلاق یافتہ مرد کو کنواری لڑکی کا رشتہ بھی آسانی سے مل جاتا ہے لیکن ایک طلاق یافتہ یا بیوہ کو ایسا رشتہ ملا ہو یہ شاذو نادر ہی دیکھا گیا ہے۔

    کیا ایک مطلقہ یا بیوہ اس بات کا حق نہیں رکھتی کہ اسکو اسکی عمر کے مطابق اچھا ہمسفر مل سکے؟
    کیا انکے نصیب میں بس پانچ بچوں کا ادھیڑ عمر باپ ہی ہوتا ہے جسکے بچوں کی ساری عمر خدمت کرنے کے باوجود بھی وہ سوتیلی کا ٹیگ سر پر سجائے پھرتی ہے؟
    ہمارے معاشرے میں مردوں کی نا انصافیوں اور عورتوں کے غلط رویوں، حسد اور عدم برداشت کیوجہ سے دوسری شادی بھی ایک گناہ کبیرہ بن کر رہ گئی ہے ورنہ اس میں کیا مضائقہ ہے کہ ایک صاحب حیثیت مرد انصاف کے تقاضوں پر پورا اترتے ہوئے ایسی خواتین سے نکاح ثانی کریں جو کہ عرب میں عام رواج ہے، جہاں مطلقہ اور بیوہ خواتین کو دوسری شادی کے لئے عمریں گلانی نہیں پڑتیں۔
    طلاق ہونے سے ذندگی ختم نہیں ہوتی لیکن ہمارے معاشرے میں تصور یہی ہے کہ اگر ایک لڑکی کو طلاق ہوئی ہو تو وہ اپنی تمام حسرتوں کو دفن کرتے ہوئے کسی بھی ایسے مرد کیلئے حامی بھرے جس کو کہ اسکا دل ماننے کو بھی تیار نہ ہو۔
    لیکن اس پر ہمارے ہاں کوئی بات نہیں کرتا، اپنے ماں باپ کی دہلیز پر بیٹھی ان مجبور بے بس لڑکیوں کے بارے میں کوئی بات نہیں کرتا جنکی آنکھیں اچھے رشتے کی راہ تکتے ویران ہو جاتی ہیں اور پھر مجبورا انکے حصے میں دوگنی عمر کا مرد ہی آتا ہے۔

    ایک مطلقہ /بیوہ لڑکی اس بات کا پورا حق رکھتی ہے کہ اسکو اچھا ہمسفر ملے اور وہ اچھی ذندگی گزارے جیسا کہ کسی بھی عام لڑکی کا حق ہے۔ طلاق سے کوئی لڑکی اچھوت نہیں بن جاتی نہ ہی اس میں کوئی ایسی نامناسب تبدیلی واقعہ ہو جاتی ہے کہ اس سے شادی کرنے کو غلط سمجھا جائے، ہمیں اپنے معاشرے سے ان فرسودہ ،جاہلانہ اور ہندوانہ رواجوں کا خاتمہ کرنا ہوگا اور اسکے لئے کسی کو تو پہلا قدم اٹھانا ہوگا۔

  • کب بدلے گا پاکستان؟ . تحریر: فیصل فرحان

    کب بدلے گا پاکستان؟ . تحریر: فیصل فرحان

    یہ سوال پچھلے ستر سالوں سے ہر پاکستانی کی جانب سے کیا جاتا ہے کہ آخر کب بدلے گا ہمارا پاکستان؟ کب ظلم و انصافی ختم ہوگی اور کب ہم ترقی کی منزل پر پینچے گے، کب آئے گا وہ دن جب ایک ماں بھوک کی وجہ سے اپنے بچوں کا گلا نہ گھونٹیں۔ میں آج اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کرونگا۔ جب سے ملک پاکستان بنا ہے تب سے لے کر آج تک اس پر مافیا حکومت کرتا آرہا ہے ہے۔ ایک عالمی جریدے کی رپورٹ کے مطابق پچھلے ستر سالوں سے 22 خاندان پاکستان پر حکومت کرتے آرہے ہے۔ مطلب قائد کی وفات کے بعد جن وڈیروں نے ملک کا اقتدار سنبھالا آج بھی انہی کی اولادیں ہم پر مسلط ہے اور آگے بھی وہی مسلط رہے گی کیونکہ کسی مڈل کلاس بندے کو سیاست میں آنے ہی نہیں دیا جاتا اور اگر کوئی آ جائے تو اسے زلیل کر کے بھگا دیا جاتا ہے۔ اس وقت ہمارے ملک کے سارے سیاستدان بڑی بڑی فیملیوں سے تعلق رکھتے ہے اوران لوگوں نے کبھی غربت یا مشکلیں نہیں دیکھی اور نہ ہی انہیں اندازا ہے کہ ایک غریب بندہ اپنی زندگی میں کیا کیا فیس کرتا ہے اسلیے یہ لوگ اقتدار میں آ کر کبھی غریب کا نہیں سوچتے بلکہ عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگائے رکھتے ہے اور ہم عوام بھی لکیر کے فقیر ہے جو ان لوگوں کی جھوٹی باتوں میں آ کران کے جلسوں میں بھنگڑے ڈالتے ہے اوران رنگ بازو کی خاطر اپنے دوستوں اور فیملیوں سے لڑتے ہے۔ یقین جانیے یہ سارے سیاستدان ان پڑھ ہے یقین نہیں تو ان کی پارلیمنٹ اجلاسوں والی ویڈیوز دیکھ لو جس میں یہ ایک دوسرے کی ماں بہن کو گالیاں نکالتے ہے، تو خود سوچوں ایسے لوگ ہماری بہتری کیلیے کیا قانون سازی کرے گے؟؟

    ان لوگوں کو الف ب کا بھی نہیں پتہ کہ غریب کس قرب سے گزر رہا ہے ملک میں، ان لوگوں کے سامبے ہماری کوئی حیثیت نہیں ہے یہ ہم عوام کو ایک کیڑے مکوڑے کی طرح سمجھتے ہے تبھی تو ملک میں بچوں کے ساتھ ریپ ہوتے ہے ہمارے پیارے سرعام قتل ہو جاتے ہے لیکن ان لوگوں کی جانب سے سوائے بیان کے کچھ نہیں آتا۔ کیونکہ ان کے نزدیک ہماری زندگیوں کی کوئی ویلیو نہیں جبکہ خود ان کو معمولی سا بخار ہو جائے تو بیرون ملک علاج کیلیے چلے جاتے ہے۔ اس سارے کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ آپ کو بارآور کروا سکوں کہ ان سیاستدانوں کے ہوتے ہمارا ملک کبھی ترقی نہیں کر سکتا کیونکہ ہر بار یہی لوگ چہرے بدل بدل کر آتے رہتے ہے۔ اب ہمیں نیچے سے لوگ سیاست میں لانا ہونگے اور خود اس فیلڈ میں قدم رکھنا ہوگا۔ جب مڈل کلاس بندہ اقتدار میں ہوگا تو اسے بخوبی اندازہ ہوگا کہ عام پاکستانی کن حالات میں جی رہا ہے اور پھر اسے احساس ہوگا۔ اب ہمیں ان 22 خاندانوں سے جان چھڑوانا ہوگی اور ملک میں انقلاب لانا ہوگا۔ اب پاکستان کی بھلائی کیلیے انقلاب ناگزیر ہوچکا ہے۔ اٹھوں نوجوانوں اور پاکستان کی خاطر میدان میں آو۔ جب ہم خود ہی میدان میں نہیں آئے گے تو ان ظالموں سے چھٹکارا کون دے گا؟
    اگر پاکستان کو بدلنا ہے تو ہم سب کو بدلنا ہوگا، ان شا اللہ پھر بہت جلد پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا.

    @Farhan_Speaks_