Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • اللہ نے انسان کے ہاتھ میں کوشش دی ہے . تحریر: مدثر

    اللہ نے انسان کے ہاتھ میں کوشش دی ہے . تحریر: مدثر

    اس چھوٹے سے جملے میں کامیاب قوموں کی ترقی کا راز پنہاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ:
    ترجمہ: انسان کیلئے وہی کچھ ہے جس کیلیے وہ کوشش کرتا ہے۔
    علامہ محمد اقبال نے اس شعر کی ترجمانی اپنے کلام میں یوں ارشاد فرمایا کہ۔

    ہمت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا
    وہ کونسا عقدہ ہے جو وا ہو نہیں سکتا۔

    انسان کے بس میں کوشش ہے اس کوشش کا ثمر تو اللہ پاک کے ہاں موجود ہے۔ جتنا زیادہ کوئی کوشش کرے گا اُتنا زیادہ اسے اس چیز کا پھل ملے گا۔ کوئی بھی چیز بغیر کوشش کے انسان کو میسر نہیں ہو سکتی۔ دنیا میں کئی قومیں ہیں لیکن سب سے نمایاں،برتر اور ترقی یافتہ قومیں وہی ہیں جنہوں بہت زیادہ کوشش کی اور اپنے کام کو سرانجام دیا۔

    حدیثِ پاک ہے کہ :
    محنت کرنے والا اللہ کا دوست ہے۔ ہاتھ سے کام کرنے والا بھی اللہ کا دوست ہے۔ جو جتنی زیادہ جتن کرتا ہے اللہ پاک اسے اتنا زیادہ دیتا ہے۔
    دنیاوی مثال لے لیں اگر ایک طالب علم پورا سال پڑھتا نہیں اور پیپر بھی بغیر پڑھے دے آتا ہے تو کیا وہ اچھے نمبروں کی امید رکھ سکتا ہے؟ ہر گز نہیں!, کیوں؟ کیونکہ اس نے اچھے نمبر لینے کی کوشش ہی نہیں کی محنت ہی نہیں۔

    اچھے اوصاف میں سے سب سے بہترین وصف یہ ہے کہ آپ کتنے محنتی ہیں اور کسی چیز کو حاصل کرنے کیلیے کس جائز حد تک جا سکتے ہیں۔ محنت تو کامیاب انسانوں کا شیوہ ہے۔ محنت ہی انسان کو بناتی ہے اور محنت ہی انسان کو اوجِ ثریا کی بلندیوں پر لے جاتی ہے۔

    اقبال فرماتے ہیں:
    فرشتوں سے بہتر ہے انسان بننا
    مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ

    اللہ نے انسان کے ہاتھ میں فقط کوشش دی ہے اور ساتھ اس کا ثمر بھی بتا دیا ہے کہ میں تمہیں وہی دونگا جس کےلئے جتنی تم کوشش کرو گے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہمہ تن گوش ہو کر اپنے ذہن میں مقصد لے کر اس کی تگ و دو میں لگ جائیں اور ہر ممکن حد تک کوشش کریں کیونکہ صلہ دینے والی ذات تو اللہ تعالیٰ ہی کی ہے.

    @MudasirWrittes

  • قربانی کا حق، حقداروں تک . تحریر : احمد فراز گبول

    قربانی کا حق، حقداروں تک . تحریر : احمد فراز گبول

    عید الاضحٰی مسلمانوں کا دوسرا مذہبی تہوار ہے اور اسے ایثار اور ہمدردی کے جذبے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ پورے عالمِ اسلام میں اس دن سنتِ ابراہیمی کی یاد میں جانور ذبح کئے جاتے ہیں اور ان کا گوشت اعزہ و اقارب، پڑوسیوں اور غریب غربا میں بانٹا جاتا ہے۔ سرمایہ داروں کی تجوریوں کے وزن تلے دبے ہمارے اس معاشرے میں کئی ایک ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں صرف عیدِ قربان پہ ہی کھانے کے لئے گوشت نصیب ہوتا ہے۔ اس عید پر جانوروں کی قربانی کا مقصد معاشرے کی کمزور اور نچلے طبقوں کے لوگوں کی دلجوئی کرنا اور اپنا دسترخوان ان کے ساتھ بانٹنا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے نزدیک پہلی ترجیح اپنے ریفریجریٹرز اور دوسری ترجیح صرف دوست احباب اور رشتہ دار ہی بن چکے ہیں۔ غریب غربا کو تو ہم نے یاد کرنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ جن تک گوشت پہنچانے کے لئے ہم جانور قربان کرتے ہیں حقیقت میں ان تک پہنچتا ہی نہیں ہے۔

    اکیسویں صدی کے اس خود غرض دور میں قربانی کی روح کو سمجھنا انتہائی اہم ہے۔ ہمارے اردگرد کئی ایسے حقدار مگر نادار لوگ موجود ہیں جو کہ خودداری کے بوجھ تلے دبے ہیں۔ لیکن ہمارا بے حس معاشرہ بجائے ان کی مدد کرنے کے انہیں بھی اپنے ساتھ مقابلے کی دوڑ میں شامل کرنے پر تلا ہوا ہے۔

    دراصل ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں اپنے قربانی کے فرضی تصور کو حقیقی مقصد کی طرف واپس لے کر آنا چاہئے۔ اور قربانی کا گوشت اور عید کی خوشیاں ان لوگوں کے ساتھ بانٹنی چاہئیں جو ان کے حقیقی طور پر اور صحیح معنوں میں حقدار ہیں۔ قربانی کا گوشت بانٹنے سے پہلے اس امر کی ضرورت ہے کہ کیا ہمارے اردگرد سبھی لوگوں نے عید کے کپڑے اور راشن لے لئے ہیں؟ کیونکہ بچے سب کے سانجھے ہوتے ہیں اور بچوں کو باپ کی غربت کا علم نہیں ہوتا۔ انہیں بس وہی چیز چاہیئے ہوتی ہے جو وہ دوسروں کے بچوں کو پہنے ہوئے دیکھتے ہیں۔ محسنِ انسانیت جناب عبد الستار ایدھی نے اپنے بیٹے کی طرف سے سائیکل خرید کر دینے کی فرمائش پر کہا تھا کہ جب تک میرے پاس اتنے پیسے نہ آ جائیں کہ محلے کے تمام بچوں کو سائیکل خرید کر دے سکوں اس وقت تک میں آپ کو سائیکل نہیں دلا سکتا۔
    ایثار اور ہمدردی کی اس سے بڑی مثال اور نہیں ملتی۔

    مختلف تیوہار اور مواقع پر معاشرے کا سفیدپوش طبقہ سب سے زیادہ مصائب کا سامنا کرتا ہے۔
    میری آپ سب سے بس یہی گزارش ہے کہ عید کا حق حقداروں تک لازمی پہنچائیے اور عید کی خوشیوں کو جتنا ہو سکے مل بانٹ کر منائیے کیونکہ اچھائی ہمیشہ بانٹنے سے بڑھتی ہے۔ خدائے ذوالجلال والاکرام پاکستان کا حامی ناصر ہو۔

    @1nVi5ibL3_

  • نشیات کے عادی لوگ  تحریر:  بلال ناصر کھرل

    نشیات کے عادی لوگ تحریر: بلال ناصر کھرل

    ۱_ منشیات کے خلاف قوم کا محاذ ایک کھلا راز
    پاکستان ایک ایسے خطرے سے دو چار ہے جس نے بہت سے گھروں کو ویران کر دیا اور نوجوان قوم کو دیمک کی طرح چاٹ لیا ہے
    پاکستان میں 8 ملین افراد ہیروئن اور افیون جیسے منشیات کے عادی ہے اور ہر سال چھیالیس لاکھ سے زائد افراد منشیات کی زیادتی کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہے ،
    نشے کا اثر صرف جسم پر ہی نہیں ، ان کے گھر والوں اس کی زندگی میں وابستہ ہر انسان پے پڑتا ہے ، اور انسان کی ذہنی صحت اور دماغی تندرستی پر بھی پڑتا ہیں ،
    تو کیا یہ انسانوں کے لیے نقصان دہ نہیں ہے؟
    نقصان دہ ہے تو وقت کے حکمران بھنگ پی کے کیوں سوئے ہے اس پے ایکشن کیوں نہیں لے رہیں اقوام متحدہ کے سروے کے مطابق پاکستان دنیا کے منشیات کے لحاظ سے نمبر 1 پے ہے ،
    یہ نوجوان نسل کو برباد کرنے میں اپنا مسلسل کردار ادا نہیں کے رہا؟
    منشیات سے زیادہ تر 13 سے 21 سال کے نوجوان لڑکیاں اور لڑکے متاثر ہو رہے ہیں ، اور اس کے علاوہ ان کے گھر والے اور آنے والی نسلے بھی متاثر ہو رہی ہے ، کیا ہمیں حکومت وقت سے مطالبہ نہیں کرنا چاہیے؟
    کیوں کہ یہ سب نہایت ہی مہلک ثابت ہوتا ہے
    کیا یہ سب ہم ایسے ہی دیکھتے رہیں گے؟
    ہر ایک فرد ہمارے ملک پاکستان کا حصہ ہے ایک شخص کا نقصان پورے ملک کا نقصان ہے تو ہم اپنے ملک کا نقصان ہوتے کیسے دیکھ سکتے ہیں ،
    اگر آپ کسی ایسی شخص کو جانتے ہے جو نشہ کرتا ہے ، یا اس لت میں مبتلا ہو رہا ہے ، تو انہی بتائیے کہ یہ کس طرح اپنے ہاتھوں سے اپنی زندگی کا گلا گھونٹ رہا ہے ، اگر یہ لوگ پھر بھی نہیں رکتے تو قانون کی ہیلپ لیجیے کیوں یہ ہمارا بھی اچھے انسان ہونے کا حق ہے اور اس ملک کے ذمہ دار فرد ہونے کا حق بنتا ہے کہ ہم قانون کی پاسداری کریں اور اطلاع دیں ،
    منشیات کی لت اگر زور پکڑ لے تو اس سے چھٹکارا پانا نا ممکن ہے
    کیا آپ اس کہ اثر سے نہ آشنا ہے؟ اگر نہیں تو یہ سب ملک میں کیوں کر ہو رہا ہے
    اس سے چھٹکارا پانا مشکل ہے نہ ممکن نہیں ہے اس کے لئے خود پر قابو ایک اہم جز ہے جس سے ہم نہایت ہی آسان طریقے سے اس بیماری سے آزاد ہو سکتے ہے،
    منشیات کے عادی لوگ کس طرح مجبور ہو کر اپنی اس لت کو پورا کرنے کے لئے کن بری بری چیزوں کا سہارا لیتے ہے اور برے کاموں میں ملوث ہو جاتے ہے
    نشہ کرنے والے لوگ شاید ہمارے معاشرے کی کچھ غلط راویوں ،
    بیروزگاری، گھریلوں مسائل اور اس جیسے کئی مسائل نوجوان قوم کو یہ راستہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں ،
    لہذا! ان چیزوں پر قابو پا کر نوجوان نسل کو برے کاموں سے موڑ کر سیدھے راستہ اختیار کر کے تمام مسائل کا حل نکالنا ہر گھر کی ذمہ داری ہے آپ لوگ اپنے بچوں کے خیال رکھے ،
    اُن کی محفل کا خیال رکھے ، تب ہی منشیات جیسی لت چھٹکارا پا سکتے !!
    ہمارا موٹو : منشیات سے پاک پاکستان___
    @kharal

  • کشمیر کے الیکشن پرسیاست . تحریر: محمداحمد

    کشمیر کے الیکشن پرسیاست . تحریر: محمداحمد

    کشمیر میں تمام جماعتوں کو اوران کے ماننے والوں کو مبارک ہو اور فاتح جماعت کو بھی اڈوانس مبارکباد
    تمام لوگوں سے چند سوالات ہیں ہمیشہ کے طرح یہ بھی الیکشن گزر جاہیں گے سب رہنماؤں کو چاہیے وہ ایک دوسرے کی عزت کریں تاکہ لوگوں سے آپ کو عزت ملے ۔ کل کو تمام سیاسی رہنما ایک ہی جگہ رہیں گے نفرت کو اتنا بھی آگے نہیں لے کے جانا چاہیے کہ جب ایک دوسرے سے سامنہ ہو تو چہرے سے شرمندگی کے آثار ہوں.

    سب اپنے مفادات اور نظریات کی جنگ لڑ رہے ہیں جس کو حاصل کرنے کیلئے کسی بھی حد تک جانے کیلئے دریغ نہیں کریں گے مختلف طریقوں سے اپنا اپنا چورن بیچ رہے ہیں عمران خان صاحب کے سوا کسی نے بھی آزادی کشمیر یا کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی بات نہیں کی جبکہ دوسری طرف مودی کشمیریوں پر ظلم کررہا تھا تو نواز شریف جندال سے کاروباری تعلقات بنا رہے تھے، مریم صفدر کو بتانا چاہیے 2015 میں اوفا مشترکہ اعلامیہ میں نوازشریف نے مودی کو خوش کرنے کے لئے مسلۂ کشمیر کیوں شامل نہیں کیا تھا؟ ‏

    اگرپاکستان مسلم لیگ نون الیکشن ہار گئی تو آزاد کشمیر کے الیکشن چوری کرنے کا الزام عمران خان پر ہوگا لیکن تمام احباب کو سب یاد ہے سابق وزیراعظم خاقان عباسی نے کہا تھا ہر الیکشن چوری ہوتا ہے میں نے بھی چوری کرواۓ ہیں کیا کر لیں گے خداراہ کسی نے انسانی حقوق کی بحالی کی بات کی مقبوضہ کشمیر میں وہاں کے لوگوں پر جو ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے گئے آخر کشمیری کیا چاہتے ہیں؟

    میری تمام احباب سے گزارش ہے کہ ووٹ ڈالنے سے پہلے اپنے کشمیر اپنے تشخص کے بارے میں ضرور سوچنا کہ کشمیری ہمارے منتظر ہیں ایسا نہ ہو کے یہ الیکشن ہمیں تقسیم در تقسیم کرتا چلا جاہے خدارا اپنے ووٹ کا استعمال سوچ سمجھ کے کیجیے
    یہ میری ذاتی رائے ہے ، آپ سب کی اختلاف رائے ہو سکتی ہے.
    خدا سب کا حامی و ناصرہو. آمین.

    @JingoAlpha

  • اولاد کا غم تحریر:  عائشہ رسول

    اولاد کا غم تحریر: عائشہ رسول

    اولاد ایک بڑی نعمت ہے. جنکی اولاد نہیں ہوتی وہ طرح طرح کے جتن کرتے ہیں. اگر اولاد راہ راست پر نہ ہو یعنی نافرمان ہو تو ایسی اولاد زندگی بھر کے لیے روگ بن جاتی ہے
    دورہ حاضر میں پاکستان میں ہی نہیں پوری دنیا میں ہی اس مسئلے کو لے کر لوگ پریشان ہیں

    اولاد کا غم’ غموں کا بادشاہ ہے جسے بھلایا نہیں جاسکتا’ جب یاد آتاہے تازہ ہو جاتا ہے
    نافرمان اولاد ہو یا بیوی وہ قابل قبول نہیں خواہ وہ نبی کی ہی کیوں نہ ہوں

    اسماعیل علیہ السلام بھی نبی کا بیٹا تھا اور نوح علیہ السلام کا بیٹا بھی نبی کا بیٹا تھا. نوح علیہ السلام کی بیوی بھی نبی کی بیوی تھی اور خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا بھی نبی کی بیوی تھی جنہیں جبرائیل علیہ السلام سلام بھیجتا تھا. حضرت مریم علیہا السلام بھی نبی ہی کی ماں تھیں.

    ماں کا نیک ہونا اولاد کیلئے فضیلت اور اولاد کا نیک ہونا والدین کیلئے. جو اولاد ماں باپ کی عزت و احترام کا خیال نہیں رکھتی وہ ساری زندگی گرم ریت اور کانٹوں پہ بسر کرتی ہے خواہ اس کے محلات اور دولت کے انبار ہی کیوں نہ ہوں. سکون انکے نصیب میں نہیں ہوتا
    والدین مہمان ہوتے اور اولاد میزبان. قدرت کے نظام میں تبدیلی نہیں آئی اج جو کچھ ہم اپنے والدین کے ساتھ کریں گے کل ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا

    اولاد جزبات سے سوچتی اور والدین جزبوں سے والدین کے جزبات بہت نازک ہوتے ایسے رویے مت رکھیں کہ والدین منہ بند ہو جائے اور آنکھیں ہونے کے باوجود اپکو دیکھنا بند کر دیں. اس عذاب کا بڑا سخت حساب ہوتا. اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو والدین کا فرمانبردار فرمائے.
    آمین ثم آمین

    @Ayesha__ra

  • ‏بچوں کی حوصلہ افزائی کیجئے . تحریر: خالد اقبال عطاری

    ‏بچوں کی حوصلہ افزائی کیجئے . تحریر: خالد اقبال عطاری

    یہ ایک حقیقت ہے کہ بنیاد مضبوط ہو تو عمارت بھی مضبوط ہوتی ہے. بالکل اسی طرح بچوں کی تربیت اچھی ہو تو وہ بڑے ہو کر گھر اور سوسائٹی کے اچھے فرد بن سکتے ہیں. بالخصوص اس میں والدین اور اساتذہ کرام کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے.
    پیارے والدین اوراساتذہ کرام اپنے بچوں کو با کردارو با صلاحیت بنانے میں حوصلہ افزائی کا نہایت ہی اہم کردار ہوتا ہے. ہمارے بزرگوں اور بڑوں کی سیرت سے ہمیں یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ حوصلہ شکنی کے بجائے حوصلہ افزائی کی جائے. چنانچہ ایک بار حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے ایک آیت کی تفسیر کے بارے میں سوال کیا؟ لوگ جواب نہ دے سکے لیکن آپ کے ایک شاگرد حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اس کے متعلق میرے ذہن میں کچھ ہے. حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا اے میرے بھتیجے اگر تمہیں معلوم ہے تو ضرور بتاؤ اور اپنے آپ کو حقیر ( یعنی چھوٹا) نہ سمجھو.

    پیارے والدین اور اساتذہ کرام اگر چہ کچھ بچے ایسے ہوتے ہیں کہ انہیں حوصلہ افزائی کی ضرورت نہیں ہوتی وہ اپنی لگن اور محنت جستجو سے کامیابیاں حاصل کرتے ہیں. لیکن کچھ بچوں کو حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے جسمیں والدین اور اساتذہ کرام کنجوسی کرتے ہیں. حوصلہ افزائی کے حوالے سے مفید اقدامات حاضر ہیں.
    1: بچہ کوئی اچھا کام کرے کوئی اچھا کارنامہ انجام دے، کسی کی مدد کرے، اسکول ہوم ورک وغیرہ اچھا کرے تو اسکی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے تعریف کریں، شاباشی دیں، کوئی تحفہ دیں، اسکی پسند کی کوئی کھانے کی چیز بنا کر دیجئے اس سے بچہ آئندہ کام اچھے اور لگن سے کرے گا
    2: بچے کوئی مشکل کام سر انجام دیں یا ذیادہ محنت والا کام کریں تو انہیں یہ احساس دلائیں کہ آپ ان کے اس کام سے خوش ہیں یوں آئندہ وہ بچے اور مزید ذیادہ محنت کریں گے
    3: والدین اور اساتذہ بچوں کو کوئی چیلنج یا ٹارگٹ دیں اور پھر انہیں وہ ٹارگٹ مکمل کرنے پر حوصلہ افزائی کریں. اسطرح بچے اپنے گھر والوں اور دینی یا دنیاوی تعلیم دینے والوں کو اپنے قریب اور اپنا خیر خواہ سمجھے گا اور تنہائی محسوس نہیں کریں گے.
    4: انہیں بتائیں کہ امتحانات میں ذیادہ اچھے نمبر نہ آنے پر مایوس نہ ہوں. بلکہ مزید تعلیم پر توجہ دیں. اصل چیز قابلیت ہے اگر وہ ہے تو سب کچھ ہے.
    5: بچوں کے ساتھ وقت گزاریں. ان سے باتیں کریں انکے سوالات کے جوابات دیں اور خود ان سے ان کی پڑھائی کے متعلق سوالات کریں. اسطرح انکا حوصلہ بڑھے گا.
    6: اگر بڑوں کی موجودگی میں وہ کچھ بولنا چاہیں تو انہیں بولنے دیں ساتھ میں انہیں بڑوں سے کسطرح گفتگو کرنی چاہیے یہ بھی سکھائیں.
    7: اگر کسی بات پر بچہ صحیح ہو اور آپ غلطی پر تو اپنی غلطی کا اعتراف کیجئے یوں آپ کی عزت بڑھے گی.
    8: بچوں کی اسکول و مدرسہ کی تعلیم کا جائزہ لیجیے اور غلطی پر سمجھائیں اور اچھے کام پر حوصلہ افزائی کیجئے.
    9: ہر معاملے میں شاباشی اور تعریف نہ کریں بلکہ ان کی غلطیوں کی بھی نشاندہی کریں مگر بہترین انداز کے ساتھ.

    پیارے والدین و اساتذہ بچے گیلی مٹی کی طرح ہوتے ہیں ان سے جسطرح پیش آئیں گے انکی ویسی ہی شکل بن جائے گی لہذا انکی ہمت بندھایا کریں ذیادہ مارنے پیٹنے، ڈانٹنے سے حوصلہ افزائی کے بجائے حوصلہ شکنی ہو سکتی ہے.
    بچوں کی حوصلہ افزائی کیجئے اور انکا مستقبل بہتر کیجئے.

    @AttariKhalid1

  • تحریر:عرفان محمود گوندل   اشاروں پہ ناچنے والے قیمے والے نان

    تحریر:عرفان محمود گوندل اشاروں پہ ناچنے والے قیمے والے نان

    گزشتہ روز مسلم لیگ ( ن ) کی لیڈر محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ نے تقریر کے دوران ایک عجیب حرکت کی ۔
    انہوں نے اپنے سامنے قیمتاً (دیہاڑی) پہ خریدے گئے حاضرین سے ایک عجیب بات کی
    جلسے میں کہنے لگی
    میں یہ چاہتی کہ میں جب ہاتھ اوپر کروں تو آپ سب (غلام) میرے ہاتھ کے اشارے پہ کھڑے ہو جائیں اور اگر میں ہاتھ نیچے کروں تو آپ سب (غلام) بیٹھ جائیں ۔۔
    چونکہ سامنے سارے دیہاڑی دار تھے ۔ ایک ہزار روپیہ اور دوپہر کے کھانے کی قیمت پر انہوں نے ن لیگ گ کی لیڈر کی ہاں میں ہاں ملانی تھی ۔ اس لیے جب مریم نواز شریف صاحبہ نے کہا کہ میں
    آپ سب کو آزما کے دیکھوں ؟
    تو سب نے سیٹیاں بجائیں
    پھر شہزادی نے دونوں ہاتھ آہستہ آہستہ فضا میں بلند کیے
    سکرین پہ چونکہ عوام کا ( جم غفیر) نظر نہیں آرہا تھا اس لیے نہ دیکھ سکا کہ مریم صاحبہ کے اشارے پہ پنڈال کھڑا ہوا یا نہیں ۔
    کچھ لمحوں بعد مریم صاحبہ نے ہاتھ آہستہ آہستہ نیچے کر دیے
    اندازہ ہے کہ دھنسی ہوئی آنکھوں والے ، بھوکے پیٹ ، سوکھی چمڑی ، پیلے دانت ، پھٹے ہوئے کپڑے اور ٹوٹے ہوئے جوتوں والے لیڈر کے اشاروں پہ ناچنے لگے ہوں گے ۔ کہتے ہیں بھوک تہذیب کے آداب بھلا دیتی ہے ۔
    یہی کچھ حال پنڈال میں کھڑے قیمے والے نانوں، بریانی کی پلیٹوں ، زندہ شناختی کارڈوں چمچوں کھڑچھوں بیلچوں ڈوئیوں چھونیوں اور پتیلیوں کا ہو گا ۔
    کھڑے نہ ہوتے تو دیہاڑی نہ ملتی یا شاید پیسے کاٹ لیے جاتے ۔ حکم کے غلام تھے بھوکے پیٹ کی خاطر گرم توے پہ ناچ لینا تھا ۔ غلامی کی نکیل ڈلی ہوئی تھی اس لیے ہاتھ کے اشاروں پہ ناچنا بھی تھا اور گانا بھی تھا کیونکہ یہی حکم تھا ٹھیکیدار کا کہ شہزادی صاحبہ کو خوش کرنا ہے
    ایک عورت نے تقریب میں دور کھڑے شوہر کو انگلی سے اشارہ کیا کہ ادھر آؤ ۔
    شوہر باادب ہو کے ہاتھ باندھے حاضر ہوا اور ادب سے پوچھا
    جی فرمائیے
    بیوی نے ادائے دلبری سے کہا کچھ نہیں میں تو انگلی کی مقناطیسی قوت چیک کررہی تھی کہ کتنی دور تک اثر رکھتی ہے ۔
    کیوں وہ صّیاد کسی صید پہ توسن ڈالے
    صید جب خود ہی چلے آتے ہوں گردن ڈالے

    @I_G68

  • افغانستان اور خطے کے ممالک کا کردار ۔ تحریر : روشن دین دیامر

    افغانستان اور خطے کے ممالک کا کردار ۔ تحریر : روشن دین دیامر

    جن احباب کو افغانستان کی تاریخ کا علم نہیں تو ان کی معلومات کے لئے یہاں ایک تاریخی حقیقت بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
    تاریخ میں افغانستان پہ کسی غیر ملکی طاقت یا حکمران نے دو دفعہ حکومت کی ہے۔ ایک اشوک اعظم اور دوسرا اکبراعظم نے۔ اس کے علاوہ افغانستان پہ اج تک کسی نے حکومت نہیں کی ہے۔ اب کچھ دوست کہیں گے بھائی امریکہ نے حکومت کی تو عرض ہے امریکہ نے حکومت نہیں قبضہ کرنے کی کوشش کی جو وہ ناکام و نامراد ہوکے چلی گی۔

    اب آئے ذرا تفصیل سے موجودہ صورت حال پہ روشنی ڈالتے ہیں۔ امریکی انخلاء کے بعد افغان کا ماضی کیا ہوگا؟ اس پہ ہر کسی نے اپنا نقطہ نظر پیش کر رہے ہئں اور مختلف قیاس آرائیاں اور خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ہم بھی چند گزارشات اپ کے نظر کرتے ہیں ۔
    ایک اہم بات امریکی گزشتہ بیس سالوں میں افغانستان پہ مکمل کنڑول کبھی حاصل نہیں کر سکے تھے۔ اس کا شہری علاقوں پہ قبضہ رہا جبکہ دہاتی علاقوں پہ طالبان کی حکومت رہی ہے۔ چونکہ افغانستان ایک قبائلی معاشرہ ہے اسلئے یہاں کوئی منظم اور مضبوط حکومت کبھی نہیں رہا ہے۔ افغانستان کے گیارہ فیصد علاقہ شہری ہے جبکہ انانوے فیصد حصہ دہاتی ہے اور وہ بھی پاکستانی دہات کی طرح نہیں۔ افغان کے دہات ایک خالص قبائلی اور مزہبی ذہنت کے لوگوں پہ مشتمل ہیں۔ جو موجودہ دور میں بھی قرون وسطی جیسی سوچ ہے۔ پسماندہ قبائلی روایات بہت مضبوط ہے۔

    موجودہ طالبان بھی وہ طالب نہیں رہے جو روس کے خلاف استمال ہوے تھے۔ اب یہ لوگ گزشتہ بیس سالوں سے امریکیوں سے لڑ لڑ کے سمجھ چکے ہیں کہ ریاست چلانے کےلے معاشی و سیاسی نظام بنانا ضروری ہوتا ہے۔ اب جب اچانک امریکہ باگ نکلا تو افغانستان میں خانہ جنگی کا خطرہ پیدا ہوا ہے۔ اس کی وجہ امریکہ جاتے ہوے اپنا اسلحہ ساتھ لے کے نہیں گیا بلکہ اسے افغانستان میں چھوڑ کے جا رہا ہے۔ ابھی اگر وہ اسلحہ دائیش اور اِئی ایس جسے دہشت گردوں کے ہاتھ لگ گیا تو خطے میں امن کےمسائل پیدا ہونگے۔ ایسے میں اس خطے کے ممالک کو اس حوالے ضرور اپنی حکمت عملی بنانا ہوگا ۔پاکستان، ایران، روس، چین، تاجکستان، ازبکستان سمیت دوسرے ممالک اس وقت افغانستان کے معاملے پہ بہت سنجیدگی سے غورکر رہے ہیں ۔وہ کسی صورت افغانستان میں خانہ جنگی ہونے نہیں دینگے۔ اس حوالے سے اگست کا مہنہ بہت اہم ہے۔ میری راے میں اگست تک یا اس کے بعد افغانستان میں ایک ایسی حکومت ترتیب دینے کی ضرورت ہے جس میں تمام فریق اپس میں مل کے نظام حکومت بنائیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جو بھی حکومت ہوگی اسے بہت مشکلات کا سامنا ہوگا۔ معاشی طور پہ اور دفاعی طور پہ بھی۔ کیونکہ افغانستان اس وقت شدید افراتفری اور معاشی بدحالی کا شکار ہے۔ مختلف مفادات رکھنے والے وار لارڈز اور مسلح جھتوں کا ایک جنگل بن چکا ہے۔ جسے صاف کرنے میں کچھ عرصہ تو ضرور لگے۔

    امید ہے خطے کے ممالک افغانستان کو اس دلل سے نکالنے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں گے اور ایک دفعہ پھر پر امن افغانستان ابھرے گا اور خطے کے ترقی کے لے اپنا کردار ادا کرے گا.

  • حضرت امام شاہ ولی اللہ کا ایک مختصر تبصرہ ۔ تحریر : روشن دین دیامری

    حضرت امام شاہ ولی اللہ کا ایک مختصر تبصرہ ۔ تحریر : روشن دین دیامری

    حضرت امام شاہ ولی ولی رح (1703 میں پیدا ہوے اور 1763 میں وفات پاگے ہیں ۔اج ہم شاہ صاحب کے ایک مختصر سا تعارف اپ کو کرواتے ہیں جو شاہ صاحب کے حوالے سے ہمارے معاشرے میں بہت کم سننے کو ملتا ہے۔ شاہ صاحب نے اپنا فلسفہ تب دیا جب یورپ اپنے جدید دور سے ابھی کئی دہائیاں دور تھا اور مارکس کے فلسفے سے تقریبا ایک صدی پہلے۔ ، شاہ ولی اللہ ہندوستانی معاشرے ، اس کی سیاست اور معیشت کے حوالے سے پیشن گوئی کے نظریات پیش کررہے تھے۔ اس کے خیالات بڑے پیمانے پر انسانیت کے لئے امید کی کرن ہیں۔

    دور حاضر کے ذہنوں کو اسلام کے بنیادی خطوط بیان کرنے کے لئے شاہ ولی اللہ نے اپنی شاہکار کتاب حجت اللہ البلغا لکھا جس میں شاہ صاحب نے اسلامی نظام کے حوالے سے ایک بہترین نظریہ دیا۔ انہوں نے اپنے قلم کی طاقت کو مذہبی ، سیاسی اور معاشی امور کے بارے میں لکھنے کے لئے استعمال کیا۔ ایک طرف انہوں نے نظام حکومت کو صیح طور پہ نہ چلانے پر ہندوستانی حکمران کو تنقید کا نشانہ بنایا تو دوسری طرف انہوں نے تعلیم یافتہ طبقہ کو سیاسی اور معاشی میدان میں اصلاح کے مطالبے پر دھیان دینے پر راضی کیا۔ انہوں نے بادشاہت کے خاتمے کی حمایت کی اور اس کی جگہ ایک نئے سیاسی نظام لانے کی بات کی۔ جس کو ٹیکنوکریسی یا اداراجاتی نظام کے طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔ مطلب اب جو دور دور اے گا اس میں شخصی ویلو نہی بلکہ ادارے فیصلہ کرینگے۔ ہر فیلڈ کا ماہرین کا ایک گروپ ہوگا کو مشاورت سے کام کرینگے۔

    شاہ ولی اللہ کے معاشی خیالات انسانیت پسند تھے۔ اپ نے کام کاج کے اوقات کار چھے گھنٹے مختص کے تھے تاکہ انسان اپنے اولاد کو تربیت بھی دے سکے۔ فلسفیانہ دائرے میں شاہ ولی اللہ نے ایک ایسا نظریہ پیش کیے جو دنیا کے تمام مذاہب کو قریب لاسکتے ہیں۔ انہوں نے چار بنیادی خصوصیات پر روشنی ڈالی جو تمام مذاہب میں موجود تھیں: آخبات طہارت ، ، سماحت اور عدالت۔ مختلف مذاہب کی پیروی کرنے والے معاشروں کو شاہ ولی اللہ کے افکار پر مبنی نظام کے ضریعے آج بھی قریب لایا جاسکتا ہے۔شاہ صاحب اسلام معاشی سیاسی اور عدلتی نظام پہ مکل بحث کرتے ہیں ۔معاشی نظام کے حوالے سے وہ فرماتے ہیں ۔کسی معاشرے میں دولت چند سرمایہ داروں کے ہاتھ میں نہی بلکہ معاشرے میں سرکولیٹ ہونا چاے۔ تاکہ ہر انسان کے مسلہ حل ہوجاے۔ دولت کی تقسیم جو محاذ محنت کے بنیار پر یا پیسوں کے بنیاد پہ تقسیم نا کی جاے بلکہ ضرورت کو مد نظر رکھا جاے۔ انشااللہ ہم شاہ صاحب کو جو معاشی فلسفہ ہے اس پے اگے لکھتا رہونگا۔

  • بجلی والو! بوں۔۔۔۔۔۔۔۔او  تحریر ۔ ڈاکٹر راہی

    بجلی والو! بوں۔۔۔۔۔۔۔۔او تحریر ۔ ڈاکٹر راہی

    ملک عزیز کے سارے سرکاری و نیم سرکاری محکمے کامل ہڈحرامی و ناکامی کے بے مثل نمونے ہیں لیکن محکمہ واپڈا اس معاملے میں کئی خاص اعزاز رکھتا ہے ۔

    پورے ملک میں بلا تخصیص رنگ و نسل گالیاں کھانے کا جو مقام اب تک اس محکمے نے بغیر کسی محنت اور مشقت کے حاصل کیا ہے اس کے لئے اک خاص قسم کی بے عزتی پروف مادہ چاہئے ہوتا ہے جو خدا تکبر سے بچائے اس کے پاس بے حد کی حد سے بھی زیادہ ہے۔

    اجی! موسم نے تیور دکھائے نہیں اور انہوں نے ٹھانی نہیں کہ عوام الناس کی صحیح چیخیں نکالنی ہیں ۔اب بندہ پوچھے کہ حضور آپ نے لوڈ شیڈنگ کرنی ہے جم جم کریں تہتر کے آئین کے تناظر میں اور موجودہ حکومت کی عوام دوستی کے وسیع تر تناظر میں یہ آپکا سرکاری حق ہے لیکن اگر عوام کو مطلع کر دیا جائے کہ اس "وقت سے لے کر اس وقت تک” آپ نے پسینے میں نہانا ہے، جنرییٹر بابو کو تکلیف دینی ہے یا ہمیں گالیاں نکالنی ہیں تو اس میں آپ کا کیا جاتا ہے۔

    اب حال یہ ہے کہ پرانی گالی منہ میں ہی ہوتی ہے کہ لائٹ آکر پھر جاچکی ہوتی ہے ۔کوئی نظام الاوقات نہیں کوئی ٹائم ٹیبل نہیں ۔

    گرڈ اسٹیشن والے اپنی مرضی سے تو بٹن نیچے نہیں کرتے ہوں گے ان کے پاس کہیں سے تو کوئی حکم نامہ آتا ہوگا ۔ظالمو وہی سرکولیٹ کردیا کرو ۔کم سے کم کسی درجہ تو سکون ملے کہ امتحان اتنے گھنٹے ہے ۔اتنی مدت کے بعد بجلی آہی جائے گی ۔ موجودہ دور میں کونسا مشکل کام ہے۔

    مگر محکمہ سرکاری ہو اور عوام کا فائدہ، سوچنا بھی نا۔۔۔

    تحریر ۔ ڈاکٹر راہی
    @IamRahiii