Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • ہماری پولیس ! تحریر: علی مجاہد۔ 

    ہماری پولیس ! تحریر: علی مجاہد۔ 

    پاکستان میں پولیس کا ایک الگ ہی رول ہے سمجھ نہیں آتی یہ پولیس ہماری دیکھ بال کے لیے ہے یا کسی اور مقصد کے لیے دوسرے ملکوں میں آپ کسی سنسان علاقوں سے گزر رہیں ہوں گے تو اگر وہاں پولیس موجود ہو گی تو آپ بلا جھجک وہاں سے چلے جائیں گے پر ہمارے پاکستان میں پولیس کا سسٹم اتنا خراب ہے آپ اگر پاکستان میں کسی سنسان علاقے سے گزریں گے اور اگر وہاں پولیس کھڑی ہوگی تو آپ اگر زرا برابر بھی غلط نہیں ہوں گے تو پھر بھی آپ وہاں سے گزرنا پسند نہیں کریں گے، اگر آپ پاکستان میں رہتے ہیں اور آپکی آمدن اچھی نہیں تو آپکے پاس رقم ہوگی تو آپکو چوروں اور ڈکیتوں سے زیادہ پولیس سے ڈر لگے گا ایسا بلکل ہماری پولیس خراب ہے مگر ہاں اچھے بڑے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں مگر انکو ڈنڈا دینے والوں کو یعنی وزیراعظم، پولیس انسپکٹر اور دوسرے وہ لوگ جن کے انڈر ہوتی ہے پولیس انکو بھی چاھیے کہ وہ بھی ایکٹیو ہوں، قصور میں ایک پولیس کانسٹیبل نے نوجوان حافظ قرآن سمیع الرحمان کو اس بنا پر گولی مار کر قتل کر دیا کے اس نے پولیس والے کے ساتھ بدفعلی کرنے سے انکار کیا اسلامی معاشرے میں انصاف کی فراہمی یقینی بنانا حکومت وقت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ کچھ دنوں پہلے میں اور میرے دو دوست رات 9 بجے باہر ہوٹل پر چائے پینے جا رہے تھے تو ہم نے (ایم اے جناح روڈ کراچی) پر موٹر سائیکل روکی پیٹرول چیک کرنے کےلئے اتنے میں پولیس آتی ہے ہم سے پوچھا کیا کر رہے ہو بتایا تو ہماری تلاشی لی گئی بائک کے پیپر چیک کیے اسکے بعد ہونا تو یہ چاہیے کہ وہ ہمیں چھوڑ دیں پر انہوں نے بولا ہمیں رپورٹ ہے تین لوگ یہاں ڈکیتی کرتے ہیں اور اولیاء آپ لوگوں جیسا بتایا گیا ہے پھر بہت بدتمیزی کرنے کے بعد تقریباً آدھے گھنٹے بعد بولا 500 روپے دو تو میں آپ کو چھوڑ دوں گا اور یہ کیس کسی اور پر ڈال دوں گا کیا ہماری پولیس کا اب صرف یہ کام رہے گیا ہے اور ساتھ ساتھ جو دوسرے پولیس والے تھے موبائل میں ان میں سے ایک بار بار ہمارے پاس آرہا تھا اور یہ کنفرم کر رہا تھا کہ تمھارا کوئی جانے والا تو نہیں پولیس میں اگر ہے تو انکو فون کرلو ہم نے 1 سے 2 بار منا کیا پھر آیا تو میں موبائل انسپکٹر جو تھا اس کے پاس گیا اور بولا سر میرا ایک جاننے والا رینجرز میں ہے اس سے بات کرواؤں تو پہلے تو چلایا پھر بولا کرواؤ تو جب میں کسی کو فون لگانے لگا تو بولا چھوڑو اور یہاں سے چلے جاؤ اور ساتھ میں یہ بھی کہنے لگا کہ پیچھے مڑ کر مت دیکھنا، انکا برتاؤ دیکھ کر ایسا لگا جیسے ہم کوئی کریمنل ہیں یا چلتے پھرتے کسی کا بھی قتل کرتے ہوں اور جو لوگ کریمنل ہیں کرپٹ ہیں ان کو خلاف پولیس کی کوئی کارکردگی نہیں یا تو یہ انکے ساتھ ملے ہوئے ہیں یا انکو اس بات پر فورس کیا جاتا ہے کہ عام لوگوں کو تنگ کرنا ہے۔

    تو کیا یہ ہماری پولیس ہے؟

    کیا یہ ادارہ اس لیے بنایا ہے؟

    آخر کب تک ہم اس طرح اپنے ہی ملک میں ڈر ڈر کر جئیں گے؟

     آپ نے سنا ہوگا بہت سے ایماندار پولیس والوں کی کہانیاں وہ بھی اسی پولیس میں ہوتے ہیں پر فرق صرف اتنا ہے انکو معلوم ہوتا ہے کہ انکا کام کیا ہے وہ وردی کا ناجائز استعمال نہیں کرتے اور وہ لوگوں کہ دلوں میں بھس جاتے ہیں۔ 

    "محسوس یہ ہوتا ہے یہ دور تباہی ہے

    شیشے کی عدالت ہے پتھر کی گواہی ہے”

  • بچوں کے بناؤ اور بگاڑ کا ذمہ دار کون؟  دوسرا حصہ:  تحریر: احسن ننکانوی 

    جی اسلام علیکم اس دن ہم نے بات کی تھی کہ بچے کے بناؤ اور بگاڑ کا اصل ذمہ دار کون ہوتا ہے۔

    جس میں بات کی تھی کہ والدین اور اساتذہ کرام کی کتنی کتنی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اور وہ کس حد تک بچے کے بناؤ اور بگاڑ کا ذمہ دار ہوتے ہیں۔

    آج ایک بہت ہی اہم پہلو پر روشنی ڈالیں گے جو کسی بھی بچے کے بناؤ یا بگاڑ میں بہت حد تک ذمہ دار ہوتا ہے۔ اور جیسے جیسے وہ اثرات مرتب کرتا ہے اسی طرح بچہ بگڑتا یا سنورتا ہے۔

    آپ نے علامہ اقبال کا وہ مشہور شعر تو سنا ہوگا جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے کہ شاہین کا بچہ بلند پرواز کر تو سکتا تھا لیکن زاغوں اور کوؤں کی بری صحبت نے اسے بگاڑ دیا۔

    آپ میرے شعر سے سمجھ تو گئے ہوں گے کہ میں کس چیز کی بات کر رہا ہوں میرا اصل اشارہ اس طرف ہے کہ معاشرہ ماحول بچے پر بہت اثرات مرتب کرتا ہے۔

    کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو والدین اور اساتذہ کرام پر ساری ذمہ داری ڈال دیتے ہیں حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ معاشرتی ماحول بھی بچے پر مختلف قسم کے اثرات ڈالتا ہے۔

    الحمدللہ پاکستان میں تقریبا 95 فیصد والدین اور اساتذہ کرام ایسے ہیں جو اپنے بچوں کو ایک اچھا انسان بنتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔

    اور اپنی زمہ داری بہت ہی احسن طریقے سے سر انجام دیتے ہیں۔

    اس لئے بچوں کے بگڑنے اور سنورنے کی ساری ذمہ داری والدین اور اساتذہ پر ڈال دینا ایک بہت ہی ناانصافی اور زیادتی والی حرکت ہے۔

    والدین اور اساتذہ کرام کی ایک واضح اور غالب اکثریت ایسی بھی ہے جو اپنے بچوں کواسلامی اور روحانی طور پر ایک اچھا انسان بنتا ہوا دیکھنا چاہتی ہے۔ اور معاشرے میں کچھ کر گزرنے کی صلاحیتیں ان کے بچے میں ہوں۔

    لیکن ماحول اور معاشرے کے سامنے وہ اپنی جائز اور نیک آرزو کا خون ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔

    جب تک ایک صحت مند ماحول اور معاشرہ بچے کو نہیں ملے گا تو والدین یا اساتذہ کرام جتنی مرضی محنت کر لیں۔

    ان کی ساری محنت پر پانی پھر جاتا ہے جو بہت ساری آرزوئیں لے کر اپنے بچے کو ایک اسلامی طرز عمل اور اسلامی زندگی پر چلتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔

    بتائیے آج کا بگڑا ہوا ماحول اور معاشرہ ہمارے والدین کی نیک تمناؤں کے لیے کارساز ہے۔

    بتائے کیا ہمارے معاشرے میں کمر توڑ مہنگائی اور دوسری جو ماحول خراب کرنے والی چیزیں ہیں انھوں نے والدین اور بچوں کو ذہنی مریض بنا کے رکھ دیا ہے اور بہت زیادہ آبادی اس مسئلے سے دوچار ہیں۔

    معاشرہ اتنا بگڑ چکا ہے کہ والدین اور اساتذہ کرام جیسے مرضی اپنا ذمہ داری نبھائیں لیکن جب بچے باہر نکلتے ہیں تو فحش فلمیں اور گانے وغیرہ سنتے ہیں۔

    تو جو والدین اور اساتذہ کرام نے بچوں کو روحانی تعلیم دی ہوتی ہے تو اس پر پانی پھر جاتا ہے جب وہ باہر کے ماحول میں جاتے ہیں۔

    اس لئے ہم صرف یہ نہیں کہہ سکتی کہ والدین یا اساتذہ کرام سے صرف بچوں کے ذمہ دار ہوتے ہیں ماحول معاشرہ بھی ایک بہت بڑا ذمہ دار ہوتا ہے جس میں ہمارے بچے جوان ہوتے ہیں۔

    اب اسی سے نوے فیصد تک سلجھے ہوئے اور نیک گھرانے بھی اپنے بچوں کو سنبھال نہیں پا رہے۔

    نیک اور صالح والدین بھی بہت ساری کوشش کے باوجود پریشان ہیں۔

    سب سے پہلی ہر بندے کی ذمہ داری ہے کہ وہ ماحول کو ٹھیک کرنے کا سوچے اور جو جو اس پر ذمہ داری عائد ہو اس کے مطابق وہ ماحول کو ٹھیک کرے اس طرح معاشرہ ٹھیک ہوگا اور لوگوں کی اچھی اچھی ترجیحات ہو اس طرح سے جب ماحول ٹھیک ہو گا تو ہمارے بچوں کی پرورش بھی اچھے ماحول میں ہوگی تو جب وہ جوان ہوں گے تو اس وقت تک معاشرہ بہت پاک صاف ہو چکا ہوگا۔

    اور آنے والی نسلیں ایک پاک صاف معاشرے میں پروان چڑھ سکیں گی ۔

    ‎@AhsanNankanvi

  • مری میں سیاحوں کو درپیش مسائل تحریر: سعادت حسین عباسی 

    مری میں سیاحوں کو درپیش مسائل تحریر: سعادت حسین عباسی 

    سیاحت کسی بھی ملک یاشہرکا ایک بہترین سرمایہ ہوتا ہے جس سے لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کا روزگار چلتا ہے اور سیاحت کو بہترین سرمایہ کاری کے طور پر مانا جاتا ہے آج میں مری کی سیاحت کے حوالے سے ذکر کروں گا۔ چند روز قبل فیملی کے ہمراہ میرا مری جانے کا اتفاق ہوا، بہت سی چیزیں میری توجہ کا مرکز بنی جن میں مری کی خوبصورتی اور وہاں کا فضائی ماحول ہے لیکن ان سب سے ہٹ کر کچھ ایسی بھی چیزیں تھی جو ہر سیاح کو اپنی طرف متوجہ کرواتی ہیں آج میں ان مسائل کو اس امید سے اپنے کالم میں ذکر کروں کہ تاکہ مری انتظامیہ وپولیس کی توجہ اس طرف مبذول ہو اور ان مسائل کو دور کیا جائے تاکہ مری کی سیاحت محفوظ اور پرامن ہو۔ صبح نو بجے کے قریب میں جھیکا گلی کے بازار میں پہنچا اور وہاں ناشتے کے لیے رکا گاڑی میں ہی ناشتے کا آرڈر کیا اور ناشتہ منگوایا اسی اثناء گاڑی کی دونوں اطراف کو بھکاری بچوں اور چند خواتین نے گھیر لیا اور زور زور سے گاڑی کے شیشے پر ہاتھ مارنے لگے، آخر تنگ آکر میں گاڑی سے اترا تو وہاں پاس میں موجود ٹریفک پولیس کے اہلکار سے ان کے بارے میں شکایت کی تو ان صاحب نے کہا کہ ہم اس معاملے میں کچھ نہیں کرسکتے ان کو یہاں سے ہٹانا ہمارا کام نہیں، وہاں پر موجود مقامی لوگوں سے بات کی تو پتہ چلا کہ متعلقہ تھانہ کے اہلکار ان سے پیسے لیتے ہیں اور ان کو کھلی اجازت دی ہوئی ہے یہاں پر طرح کی من مانی کرنے کی، یہ سینکڑوں کی تعداد میں افغانی خواتین اور بچے ہیں جو کئی مہینوں سے یہاں پر موجود ہیں اور ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوتی اور نہ ہی ان کو یہاں سے ہٹایا جاتا ہے یہ سب جھیکاگلی مری مال روڈ اور اردگرد کے سیاحت کے پوائنٹس پر پھیلے ہوئے ہیں، واپس آکر گاڑی نکالی اور آگے بڑھا تو پیچھے سے کسی بچے نے ایک لکڑی اٹھا کر شیشے پر دے ماری، ان بھکاریوں کی آئے روز کی بدمعاشی اور من مانی کی وجہ سے بہت سارے سیاح اب مری کی طرف رخ نہیں کرتے اور اگر بدستور ایسا ہی رہا تو مری سے سیاحت ختم ہوتی جائے گی اس لیے مقامی انتظامیہ وپولیس کو ان کا سد باب کرنا چاہیے اور مری کے امن کو بحال رکھنا ہوگا۔ دوسرا بڑا ایشو ٹریفک کا ہے جب جھیکا گلی سے مال روڈ کی طرف جاتے ہیں تو کئی کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں دو، تین کلو میٹر کا سفر گھنٹوں میں طے ہوتا ہے، پارکنگ مافیا نے روڈ کی سائیڈ پر پارکنگ بنائی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے ٹریفک جام رہتی ہے اور اس کے علاوہ سب سے اہم ایشو جس کا یہاں ذکر کرنا نہایت ضروری ہے وہ یہ ہے کہ مال روڈ پر بہت سارے اوباش نوجوان گھوم رہے ہوتے ہیں جو خواتین اور فیملیز کو ہراساں کرتے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر بہت سے ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جن میں اوباش لوگوں کی طرف سے خواتین وفیملیز کو ہراساں کیا جاتا ہے۔ اس لیے میری اسسٹنٹ کمشنر مری اور پولیس سے یہ التجا ہے کہ خدارا مری ایک پرامن سیاحتی مرکز ہے اس کے امن کو بحال رکھیں اور سیاحوں کو درپیش مسائل کو جلد سے جلد دور کریں اور مری کی قدیمی سیاحت کے باب کو برقرار رکھیں تاکہ سیاح فیملیز اور خواتین خود کو اس خوبصورت ہل اسٹیشن پر محفوظ سمجھیں اور اپنی چھٹیاں سکون کے ساتھ یہاں گزاریں اور مری کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوسکیں۔ 

    ٹویٹر:

    https://twitter.com/IamSaadatAbbasi?s=09

  • زندگی میں استاد کی اہمیت و قدر  تحریر؛ انیس الرحمن

    زندگی میں استاد کی اہمیت و قدر تحریر؛ انیس الرحمن

    آپ زندگی اور اسے جینے کی تعبیر کرنا چاہتے ہیں تو زندگی میں سے استاد کو نکال دیں تو شاید آپ کی زندگی میں پیچھے کچھ بھی نہیں بچے۔
    آپ کے سب سے پہلے استاد آپ کے والدین ہوتے ہیں زندگی جینا سکھانے والے استاد والدین اور بزرگ ہی ہوتے ہیں جب آپ کچھ ایک سمجھداری کی عمر میں داخل ہوتے ہیں تو آپ کی زندگی میں باقاعدہ نظم و ضبط لانے کیلئے آپ کو کسی ادارہ میں اساتذہ کی نگرانی میں بھیج دیا جاتا ہے۔

    آپ کی پہلی درسگاہ آپ کا گھر اور دوسری آپ کا تعلیمی ادارہ ہوتا ہے۔ تعلیمی ادارہ میں استاد آپ کو نظم و ضبط، وقت کی تقسیم ، وقت کی قدر، ایک متنوع معاشرہ میں جینے کا سلیقہ، مجلس میں بیٹھنے، جینے اور بقاء کے آداب سکھاتے ہیں، آپ کی کمزوریوں اور خامیوں کا ادراک کر کے انہیں دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ اپنے تعلیمی ادارہ میں نہ صرف تعلیم حاصل کر رہے ہوتے ہیں بلکہ زندگی جینے کا گر سیکھ رہے ہوتے ہیں۔

    ایسے میں آپ کو قابل قدر استاد کا ملنا کسی غنیمت سے کم نہیں ہوتا جو آپ کی چھپی صلاحتیوں کو نکھارتا ہے آپ کی خامیوں کو خوبیوں میں بدلتا ہے اچھے برے کی تمیز حلال و حرام کا فرق سکھاتا ہے۔ یقینا وہ شخص بدنصیب ہے جو کسی قابل اور ناصح استاد سے محروم ہے۔ کیونکہ آپ بچپنے سے لیکر لڑکپن کی عمر میں شعور و آگہی کی طرف بتدریج سفر کر رہے ہوتے ہیں ایسے میں آپ کی بہتر ترویج ایک ناصح اور مخلص استاد ہی کر سکتا ہے۔

    آپ اپنی اوائل عمری سے ہی کسی ایسے استاد کو اپنا راہنما ضرور بنا لیجئے کہ جو آپ کو زندگی کے ہر موڑ پر آپ کی راہنمائی کرے۔ آپ کو زمانے کی اونچ نیچ سے آگاہ کرے آپ کو مشکل وقت میں اچھے مشوروں سے نوازے۔ آپ کا یہ استاد آپ کیلئے ایک ایسا راہنما ہوگا جو آپ کے مزاج کو بچپن سے جانتا ہوگا اور آپ کو اچھے انداز میں راہنمائی دے گا۔

    استاد اور والدین کی وہ شخصیات ہیں جو آپ ی شاگردوں اور اپنی اولادوں کو اپنے سے کہیں اوپر دیکھنا چاہتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ ہم اپنے زندگی کی ابتدائی دور میں غلطیوں سے جو چیز نہیں سیکھ سکے آج ہمیں ادراک ہے ان چیزوں کا تو ہم اپنے اولاد اور اپنے شاگردوں کو بروقت ان غلطیوں سے آگاہ کر کے زندگی میں انہیں مزید کامیابیوں سے ہم کنار کرنے کی کوشش کریں۔

    آج استادوں کے عالمی دن کے موقع پر میں اپنے ان تمام اساتذہ کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں جنہوں نے زندگی کے ہر موڑ پر میری راہنمائی کی اور خاص طور پر والد محترم کہ جو بطور پیشہ ایک استاد بھی ہیں انہوں نے جس طرح میری قدم قدم پر راہنمائی کی وہ قابل قدر و قابل ستائش ہے۔ آج کے دن اپنے تمام اساتذہ کو خصوصی طور پر اپنی دعاؤں میں یاد کرونگا۔ ان شاءاللہ

  • عمران خان اور کامیابی کی جدو جہد تحریر: فضل عباس

    عمران خان اور کامیابی کی جدو جہد تحریر: فضل عباس

    عمران خان وہ انسان ہیں جن کی ساری زندگی بطور ہیرو گزری 19 سال کی عمر میں آپ نے کرکٹ کے میدان میں قدم رکھا ہاں آغاز اچھا نہیں ہوا لیکن عمران خان نے تو جدوجہد کرنا سیکھا تھا تو یہاں سے عمران خان کی جدوجہد کا آغاز ہوتا ہے عمران خان ٹیم سے باہر ہونے پر ہمت نہیں ہارتا بلکہ اپنے کھیل میں موجود خامیوں کو دور کرنے میں لگ جاتا ہے اور اس میں کامیاب ہو جاتا ہے اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ جب عمران خان واپس ٹیم میں آتا ہے تو ایک قابل رشک کھلاڑی بن چکا ہوتا ہے باؤلنگ ہو یا بیٹنگ یا چاہے فیلڈنگ کی بات ہو ہر میدان میں عمران خان کا ڈنکا بجتا ہے اب والا عمران خان پرانے والے عمران خان سے بہتر ہوتا ہے عمران خان اپنے اندر ایک عظیم کھلاڑی پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے

    عمران خان اپنے آپ کو ایک عظیم کھلاڑی منوا لیتا ہے اس کے بعد وہ وقت آتا ہے جو عمران خان کی پہچان ہے جی یہ وقت عمران خان کی کپتانی کا ہے آج بھی عمران خان کو شاندار کپتانی کی وجہ سے کپتان کہا جاتا ہے دنیا عمران خان کو بہترین کپتان مانتی ہے عمران خان نے اپنے دور کپتانی میں شاندار قیادت کا مظاہرہ کیا ہے عمران خان نے اس وقت کی ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم جو بہترین تھی اسے ہرا کر دکھایا انگلینڈ میں انگلینڈ کرکٹ ٹیم کو ہرا کر دکھایا آسٹریلیا میں آسٹریلیا کو شکست دے کر بتایا کہ ہم جیتنا جانتے ہیں اور سب سے بڑی بات بھارت کو بھارت میں دھول چٹا کر بتایا کہ ہم اپنی تاریخ خود لکھتے ہیں

    عمران خان 1987ء کے ورلڈ کپ میں پاکستان کو سیمی فائنل تک پہنچا دیتے ہیں لیکن بد قسمتی سے ہم آسٹریلیا سے سیمی فائنل ہار جاتے ہیں عمران خان کرکٹ کے میدان سے استعفیٰ دینے کا اعلان کرتا ہے لیکن اس وقت کے صدر کے کہنے پر عمران خان واپس کرکٹ کے میدان میں آتا ہے اب کی بار عمران خان کی آنکھوں میں شوکت خانم ہسپتال بنانے کا خواب بھی بس چکا تھا عمران خان کو پتہ تھا اگر ورلڈکپ جیتے تو شوکت خانم ہسپتال بنانے میں کوئی دشواری پیش نہیں آۓ گی لہذا اب ایک تیر سے دو شکار کرنے تھے لیکن ورلڈ کپ سے تھوڑا پہلے ہی پاکستان کے اہم کھلاڑی وقار یونس اور سعید انور زخمی ہو کر ٹیم سے باہر ہو جاتے ہیں
    یہ بات بھی عمران خان کا یقین نہیں توڑ سکی عمران خان نئے کھلاڑیوں کو ٹیم میں لاتے ہیں سیلیکشن کمیٹی سے لڑ کر انضمام الحق کو ٹیم میں لاتے ہیں یہاں سے ورلڈکپ کی جدو جہد کا آغاز ہوتا ہے آغاز کچھ اچھا نہیں ہوا شروعات میں شکست ہوئی لیکن عمران خان پاکستان ٹیم کو بتاتے رہے یہ ورلڈ کپ ہمارا ہے ہمیں کوئی نہیں ہرا سکتا ٹیم کے لیے یہ نعرہ امید کی کرن ثابت ہوتا ہے اور ہر کھلاڑی جیت حاصل کرنے میں لگ جاتا ہے پاکستان سیمی فائنل میں پہنچ جاتا ہے یہاں عمران خان کا انتخاب انضمام الحق ثابت کرتا ہے کہ عمران خان کا انتخاب بالکل صحیح ہوتا ہے کیوں کہ اس میں سفارش کا عمل دخل نہیں ہوتا انضمام الحق اپنی شاندار کارکردگی سے پاکستان کو فائنل میں پہنچا دیتا ہے فائنل میں پاکستان کا مقابلہ انگلینڈ سے ہوتا ہے عمران خان کارنرڈ ٹائیگر شرٹ پہنے ٹاس کے لیے میدان میں اترتا ہے اور ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کرتا ہے پہلے کھلاڑی آؤٹ ہونے کے بعد حیران کن طور پر عمران خان خود میدان میں اترتا ہے اور شاندار ففٹی اسکور کرتا ہے عمران خان کی شاندار بنیاد کا باقی ٹیم فائدہ اٹھاتے ہوئے شاندار اختتام کرتی ہے
    باؤلنگ کا وقت آتا ہے تو وسیم اکرم ہیرو قرار پاتا ہے ایک ساتھ دو آؤٹ کر کے میچ پورے طریقے سے پاکستان کے ہاتھ میں کر دیتا ہے آخر پر عمران خان وکٹ لے کر پاکستان کو فاتح بناتا ہے یوں پاکستان عمران خان کی قیادت میں پہلا کرکٹ ورلڈ کپ جیتتا ہے

    اس کے ساتھ ہی شوکت خانم ہسپتال بنانے کی جدو جہد کا آغاز ہوتا ہے اور عمران خان دنیا بھر کے بڑے ناموں کو کمپیئن میں لاتا ہے اس سلسلے میں سب سے بڑا نام نصرت فتح علی خان صاحب ہیں جو شوکت خانم ہسپتال کے لیے ہمیشہ خان صاحب کے ساتھ رہے عمران خان لوگوں کے ساتھ مل کر شوکت خانم ہسپتال بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں عمران خان نے نا صرف شوکت خانم ہسپتال بنایا بلکہ اسے دنیا کا بہترین ہسپتال بنا کر دکھایا اور لاکھوں ماؤں کی دعا حاصل کی
    ابھی کے لیے اتنا کافی ہے سیاست کے میدان میں عمران خان کی کامیابیاں بیان کرنے کے لیے الگ سے تحریر کی ضرورت ہے انشاء اللہ بہت جلد عمران خان کی سیاست پر بھی تحریر لکھوں گا

  • ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران (قسط ۔ 09) تحریر:محمداحمد

    جیسا کہ پچھلی 8 تحریروں میں بتایا کہ ملک میں اصل گڑبڑ کون کر رہا ہے حقیقت میں اصل گڑبڑ ہم ہی کر رہے ہیں اور ہم حکمرانوں کو کوستے ہیں لیکن ہم بھول جاتے ہیں کہ اللہ پاک اس قوم کی حالت کبھی نہیں بدلتا جو اپنی قسمت آپ نہیں بدلتے اسی لئے آج وضاحت کریں گے کہ کیسے ٹوکری میں ناجائز سفارش اور رشوت ، بجلی میں ہیرہ پھیری ، باریش چہرے بے نمازی پیشانیاں ، خواتین کی کسے ہوۓ کپڑے ننگے لباس استعمال ذ ہو رہے ہیں بتانے کا مقصد یہ ہے کہ عوام باخبر ہو 

    ٹوکری میں ناجائز سفارش: 

    آج کل کے دور میں سفارشات پہ ہی کام ہوتا ہے لوگ قابلیت کو ترجیع نہیں دیتے کہیں کوئی کام کی تلاش کرنی ہو یا تعلیم ادارے میں تعلیم حاصل کرنی ہے ہر جگہ سفارشات کی جاتی ہیں لیکن سفارشات کے ساتھ ساتھ رشوت بھی عروج پہ ہوتی چلی جا رہی ہے 

    رشوت کے بغیر کوئی کام سرانجام نہیں ہو پاتا لوگ بھول گے ہیں کہ حلال روزی کماکر بچوں کو کھلانے سے ان کی تربیت میں بھی بہتری آۓ گی اور جس بچے کی تربیت ہی حرام کی کمائی سے کی گئی ہو وہ بڑا ہوکر کیا کرے گا پھر ہمارے زہن میں اتا ہے بچے بڑوں کا ادب نہیں کرتے چھوٹوں کے ساتھ احترام سے پیش نہیں آتے جس وقت والدین کو اولاد کی ضرورت ہوتی ہے اس وقت بچے والدین سے علیحدگی اختیار کر لیتے ہیں اصل وجہ وہ رشوت سے لیا ہوا حرام کا نوالہ ہے جس سے بچے کی تربیت ایسے ہوئی جس کی وجہ سے بچے کے خون میں ملاوٹ ہوئی لیکن اولاد شائد بھول جاتی ہے جو آج حال والدین کا ہے وہی حال کل ان کا بھی ہو گا جو سوال وہ اج اپنے والدین سے کر رہے ہیں کل کو وہی سوال ان کے بچے بھی ان سے کریں گے اسی لئے کوشش کریں کہ اپنے اپنے بچوں کو قابلیت کی بنا پر سکول کالج میں داخلہ کروائیں رشوت کو ترجیع نہ دیں عزت کی حلال کی روزی کمائیں اللہ پاک اسی میں اتنی برکت ڈالے گا کہ آپ کے کھانے سے کم نہیں ہوگی 

    ایک واقع میری آنکھوں سے بھی گزرا کسی عزیز نے گھریلو بجلی کا میٹر لگوانا تھا بہت دفعہ گزارش کی لائن مین کو کہ سب ڈیمانڈ نوٹس جمع کروا دیا ہے اب بہت وقت ہوگیا ہے آپ کی مہربانی میرا میٹر لگا دیں لیکن مجال ہے ان لائن مین پر جوں سے توں گزری ہو 

    پھر کسی نے مشورہ دیا آپ کس صدی میں رہتے ہیں جلدی کام کروانے کےلئے تھوڑی بہت رشوت لگائیں دیکھیں اپکا کام دنوں نیں ہوجاۓ گا بندا حالات سے مجبور ہوکر رشوت کو ترجیع دیکر لائن مین کو رشوت دے دیتا ہے اور وہی میٹر جو کافی عرصے سے نہیں لگ رہا وہ دنوں کی بجاۓ گھنٹوں میں لگ جاتا ہے وقت اور حالات انسان کو بدل دیتے ہیں اس لئے چاہیے کہ ہم سب رشوت اور ناجائز سفارش کو ترجیح نہ دیں

    بجلی میں ہیرہ پھیری: 

    بجلی کی ہیرہ پھیری ایسا معمہ ہے جس کا بس چلاتا ہے وہ ہاتھ خالی نہیں جانے دیتا چور چوری سے جاتاہے کبھی ہیرہ پھیری سے نہیں جاتا 

    ہمارے ملک میں بجلی چوری ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جس کو کبھی بھی حل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ جب تک لوگوں کے ضمیر مردہ رہیں گے تب تک چوری عروج پر رہے گی ۔ ہمارے ہاں تو کسی جلسے جلوس کا اگر انعقاد کیا جاتا ہے تو چوری کی بجلی استعمال کرتے ہیں اسی طرح اگر کوئی کرکٹ ٹورنامنٹ ہو تو بھی بجلی چوری کی استعمال کی جاتی ہے 

    ان سارے معملات پر ہر انسان کی نظر ہوتی ہے چاہے وہ ملازمین ہو یا عام انسان لیکن کوئی کچھ نہیں کہتا اس کی وجہ یہی ہے سب اپنے مفادات دیکھتے ہیں رشوت دےکر ملازمین کے منہ بند کر دیئے جاتے ہیں تاکہ عملہ اس پر کاروائی نا کرے اور بجلی کی ہیرہ پھیری عروج پر ہوتی ہے اس لئے ہم سب کو چاہیے کہ ہم لوگ حلال کمائیں حلال کھلائیں اپنے ضمیر کو جگائیں وہ قومیں تباہ ہو جاتی ہیں جو اپنی قسمت نہیں بدلتیں اس لئے اپنے آپ کو بدلیں لوگ خود ہی بدل جائیں گے اگر ہر انسان ایسا سوچ لے تو کبھی بھی کوئی مسئلہ پیش نہیں آۓ گا 

    باریش چہرے بے نمازی پیشانیاں:

    اسلام ہمیں راہِ ہدایت سیکھاتا ہے نماز دن

    ین کا ستون ہے بعض لوگ اپنے آپ کو ایسے سانچے میں ڈالتے ہیں کہ جس سے ان کو لوگ دیکھ کر کہیں کہ بہت ہی معتبر شخص ہے لیکن اللہ پاک اس انسان کو سخت ناپسند فرماتا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت رکھ کر اس کی سنت پر عمل نہ کرے حدیث میں آتا ہے کہ حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں

    جہنم میں خوفناک وادی ہے ویل نامی جس سے جہنم خود بھی پناہ مانگتا ہے یہ اس شخص کا ٹھکانہ ہو گی جو نماز کو وقت گزار کر پڑھتا ہے

    اللہ کریم اس کی عمر سے برکت ختم کر دے گا، اس کے چہرے سے نیک لوگوں کی علامت مٹا دے گا۔

    ذلیل ہو کر مرے گا ۔

    بھوکا مرے گا۔

    مرتے وقت اسے اتنی پیاس لگے گی کہ اگر سارے دریاؤں کا پانی بھی پلا دیا جائے تو اس کی پیاس نہ بجھے گی

    خواتین کی کسے ہوۓ کپڑے ننگے لباس: 

    بڑھتے ہوۓ حالات کو دیکھتے ہوئے ہمارے معاشرے میں خواتین کے لباس پہ بہت تنقید ہوتی ہے اور حقیقت بھی یہی ہے پاکستان واحد ایسا ملک ہے جو کلمہ کے نام پر بنا ہے جیسے جیسے لوگ پڑھے لکھے ہوتے جارہے ہیں آزاد خیال کے مالک ہوتے جارہے ہیں کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک ترقی نہیں کرتا جب تک وہ قوم اپنے اپ کو نہیں بدلتی اسلئے ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن حدیث کے مطابق زندگی گزاریں جیسا کہ ارشاد ہے جب بھی نظر خیر محرم عورت پر پڑھے تو نظر کو فوراً نیچے کرنا چاہیے اور خواتین کو چاہیے لباس کا ایسا استعمال کرنا چاہیے جو عزت مجروع کرنے کا باعث نہ بنے کھلے بال ، جینز اج کل فیشن بن گیا ہے اس کی روک تھام ہر والدین کا فرض بنتا ہے وہ اپنے بچوں کو ترغیب دیں کہ عورت کی عزت حجاب میں ہے 

    لیگنگ یعنی عورتوں کے جسم سے چپکا شلوار حرام ہے لوگ اس بات کو نہیں مانتے اور بڑا دکھ ہوتا ہے جہ سب دیکھ کر ۔ مہربانی آپ سے درخواست ہے جدید لباس کی روک تھام کیلئے اپنا اپنا کردار ادا کریں 

    اگلی قسط میں شئیر کیا جاۓ گا کہ کیسے شادیوں میں شراب نوشی اور مجرے اور فیرننگ ، مرد عورت کا اختلاق ، ٹی وی پر فحش فلمیں ننگے ناچ ہو رہے ہیں بتانے کا مقصد یہ ہے کہ عوام باخبر ہو کہ ملک میں اصل گڑبڑ ہم کر رہے ہیں یا 

    حکومت اصل گناہگار کون ہے ۔ جیسی عوام ویسے حکمران

     

    @JingoAlpha

  • بنی اسرائیل  کی ابتداء کہاں سے ہوئی   تحریر اکرام اللہ نسیم

    بنی اسرائیل  کی ابتداء کہاں سے ہوئی تحریر اکرام اللہ نسیم

    بنی اسرائیل قوم کا تذکرہ اللہ رب العزت نے بہت مرتبہ قرآن مجید میں کیا

    انکا تذکرہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس لئے کیا کہ یہی قوم فرعون کے سامنے اپنے دین پر قائم رہی اپنے دین سے نہیں ہٹیں

    بنی اسرائیل قوم کہاں سے شروع ہوئی  دراصل حضرت یعقوب علیہ السلام جو کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے والد تھے اُن دوسرا نام اسرائیل تھا

    وہاں سے اس قوم کی ابتدا ہوئی

    حضرت یعقوب علیہ السلام کے 12 بیٹے تھے انکو بنی اسرائیل کہا جاتا تھا پہلے یہ لوگ کنعان میں آباد تھے پھر حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعہ کے بعد مصر میں جابسے۔ اس طرح بنی اسرائیل مصر میں پھلے پھولے اور لاکھوں کی تعداد تک پہنچ گئے حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے کا بادشاہ جو  مصریان بن ولید جو حضرت یوسف علیہ السلام کے ہاتھوں مسلمان ہو گیا تھا جب انکا انتقال ہوا تو 

    مصر کے بادشاہت کے تخت پر آپ بیٹھ گئے

    اور مصر کا نظم و نسق سنبھالا جب آپکا انتقال ہوا

    آپ کے بعد بادشاہ قابوس نامی والی  مصر ہوا کفر اور ضلالت کے جو باب آپ نے بند کئے تھے وہ اس قابوس بادشاہ نے دوبارہ کھولے

    جب اولاد یعقوب علیہ السلام نے س طریقے کو قبول نہ کیا تو ان کو غیر ملکی کہہ کر غلام بنالیا اور انتہائی سخت کام لینے لگا جب اس بھی انتقال ہوا اس کا بھائی ولید بن مصعب والی مصر ہوا مصر کے بادشاہ کو فرعون کہتے ہیں یہ اس دوسرے فرعون سے بھی زیادہ ظالم تھا 

    اس نے بادشاہ کا تخت سنبھالتے ہوئے کہا 

    انا ربکم الاعلی  ترجمہ۔ میں تمہارا بڑا رب ہوں  

    یہ اس لحاظ سے بھی ظالم تھا کہ اس نے خدائی کا دعویٰ بھی کرڈالا 

    اور ساتھ یہ احکامات بھی جاری کئے کہ اعلی سے ادنی تک تمام رعایا مجھے سجدہ کرے

    چنانچہ ہامان نے سب سے پہلے اسے سجدہ کیا  پھر اور وزیروں اور مشیروں نے اسکو سجدہ کیا 

    اور جو لوگ دور دراز علاقوں میں رہتے تھے انکے لئے اپنے سونے کہ مجسمے  بنا کر بھیجے جن مجسموں کے نیچے ہاتھی کے دانت آبنوس اور چاندی کے تخت رکھے اور انکے آس پاس سنہری درخت کروائے چاندی سے پرندے تیار کئے درختوں کے شاخوں پر اس طرح سے نصب کئے تھے اور ہر جانور اسی ترتیب سے رکھی تھی کہ جس وقت بھی خادم تحت کو حرکت دیتا تھا تو انکے پیٹ سے آواز آتی تھی کہ اے مصر کے لوگو فرعون تمہارا خدا ہے اسکو سجدہ کرو یہ سن کر مورتی کے آگے سب قصبے والے سجدہ ریز ہو جاتے لیکن بنی اسرائیل اس سے باز نہ آئے فرعون نے بنی اسرائیل کے سرداروں کو بلایا اور تنبیہ کی اور کہا کہ تم مجھے سجدہ کیوں نہیں۔ کرتے ہو لیکن بنی اسرائیل کے سردار انکی دھمکی سے مرعوب نہ ہوئے اور یہ کہا کہ فرعون کا عذاب ہلکا ہے اور عذاب خداوندی ابدی ہے بہتر یہی ہے کہ فرعون کے عذاب پر صبر کرو اور اسکو سجدہ نہ کرو یہ بات تمام بنی اسرائیل نے منظور کرلی اور فرعون کو بھی باور کرایا کے ہم نے اپنے دین سے نہیں ہٹنا اللہ کے علاؤہ کوئی رب نہیں یہ سن کر فرعون کو غصہ آیا اور تانبے کی بڑی بڑی دیگیں منگوائی اور اسمیں زیتون کا تیل ڈالا اور پھر جو بھی فرعون کے رب ہونے سے انکار کرتا اسکو فرعون کھولتی ہوئی دیگیوں میں پھینکواتا یہاں تک کہ انبوہ کثیر کو اسی طریقے سے جلا ڈالا مگر بنی اسرائیل جو دین اسلام پر جان تو دے سکتی تھی مگر پیچھے نہیں ہٹ سکتی تھی بنی اسرائیل اپنے ایمان پر قائم و ثابت قدم رہے 

    @realikramnaseem

    ٹویٹر اکاؤنٹ ہینڈل

  • صحافت اور سیاست   تحریر: ثمرہ اشفاق

    صحافت اور سیاست  تحریر: ثمرہ اشفاق

    صحافت اور سیاست بنیادی طور پر دو الگ الگ اور ایک دوسرے سے یکسر مختلف شعبے ہیں۔

    سیاست کا مقصد اقتدار میں آ کر خدمت خلق ہے اور عوام کے پیسے کے جائز استعمال سے عوام ہی کا معیار زندگی بہتر بنانا ہے۔

    جبکہ صحافت کا مقصد باوثوق ذرائع سے حقائق عوام تک پہنچانا،اور چھان بین کر کہ سچ کو جھوٹ سے الگ کرنا ہے۔بیشر جرائم اور عوامی دولت میں خرد برد پر اداروں کو جھنجھوڑنا بھی صحافی کے فرائض میں شامل ہے۔

    لیکن سیاست اور صحافت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔صحافت کے بغیر سیاست ممکن نہیں اور سیاست کے بغیر صحافت،

    سیاستدان صحافیوں کے کڑے سے کڑے سوالات کے جوابدہ ہوتے ہیں اور اپنا یا اپنی سیاسی پارٹی کا موقف میڈیا کے ذریعے بآسانی عوام تک پہنچاتے ہیں۔

    لیکن بدقسمتی سے آج کل پاکستان میں سیاست اور صحافت کو الگ کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

    صحافت کا لبادہ اوڑھے چند صحافی حکومتی جب کہ چند اپوزیشن کے ترجمان بنے دکھائی دیتے ہیں۔جن کا مقصد صرف اور صرف چند سیاسی پارٹیوں کی ترجمانی کرنا اور حقائق توڑمروڑ کر پیش کرنا ہے۔کسی بھی سیاسی شخص کی کوئی بھی ذاتی یا سیاسی زندگی کے حوالے سے آنے والی خبر کا سب سے پہلے دفاع کیا جاتا ہے۔

    گزشتہ دنوں نواز شریف اور مریم نواز کے ترجمان محمد زبیر کی متنازع ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد سب سے پہلے چند صحافیوں نے ان کا دفاع کرتے ہوئے اس کے غلط ہونے کی خبر دی۔گو کہ سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے انہیں بھرپور تنقید کا سامنا کرنا پڑا مگر صحافی سیاستدانوں کی چمچہ گیری سے باز نہیں آتے۔

    ایسے ہی کئی صحافی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صحافت کو خیر آباد کہہ کر سیاست میں قدم رکھ لیتے ہیں۔اور انہیں مختلف سیاسی عہدوں سے نوازا جاتا ہے۔

    پاکستان میں اس کا آغاز پچاس کی دہائی میں ایک انگریزی اخبار کے ایڈیٹر الطاف حسین نے کابینہ میں شامل ہو کر کیا۔ بھٹو مرحوم کے دور میں انگریزوں اخبار سے وابستہ ایک اور صحافی نسیم احمد وفاقی سیکرٹری اطلاعات مقرر ہوئے اور اور اس منصب پر فرائض سر انجام دیتے رہے اسی دور میں مرحوم کوثر نیازی وزیر حج اور اطلاعات رہے جب کہ حنیف رامے بھی پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ بن گئے۔

    آج کل اس سلسلے نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے،صحافیوں کی سیاسی جماعتوں سے وابستگیاں بڑھتی جا رہی ہیں،جس کے لئے وہ اپنے پیشے سے بھی بے ایمانی کرتے ہوئے جھوٹ اور سچ میں تفریق نہیں کرتے،اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جب اقتدار کے مزے سیاستدان لوٹتا ہے تو ان نام نہاد صحافیوں کو بھی اس میں حصہ دیا جاتا ہے۔

    سرکاری دوروں میں من پسند صحافیوں کو ساتھ لے جانا ہو یا چیئرمین پیمراو پی سی بی کے عہدوں سے نوازنا ہو، عوام کے پیسے کی تباہی میں ان نام نہاد صحافیوں نے بھی ہاتھ دھوئے ہیں جس کا قرض وہ آج تک اپنے قلم یا اپنی زبان سے ان کے ترجمان بن کر ادا کرتے ہیں۔

    چند غیر جانبدار اور پائے کے صحافیوں کو اب آگے آنا ہو گا اور اپنے اس پیشے کو بد نامی سے بچانا ہو گا،صحافت کا لبادہ اوڑھے ان کالی بھیڑوں کو پہچانیں اور انہیں بے نقاب کریں تا کہ آئندہ ہر صحافی غیر جانبدار ہو کر حقائق عوام کے سامنے رکھے۔سیاسی جماعتوں کاموقف لیا جائے لیکن صرف ایک سیاسی جماعت کا دفاع اور دوسری پر تنقید ایک صحافی کی صحافت کو متنازع بنا دیتی ہے۔اب گنے چنے چند ایک ناموں کے علاوہ ہر صحافی متنازع بن چکا ہے۔نامور صحافیوں کو اس کا ادراک ہونا چاہیے اور اس پیشے کو سیاست میں آنے کی آسان سیڑھی بننے سے روکنا چاہئے۔

    @sam_rahmughal

  • بنیادی صحت کے اداروں کی اہمیت اور معاشرے پہ اثرات۔ تحریر:روشن دین

    بنیادی صحت کے اداروں کی اہمیت اور معاشرے پہ اثرات۔ تحریر:روشن دین

    @Rohshan_Din

    صحت انسان کی بیسک نیڈ ہے جو ہر ریاست کو اپنے ہر شہری کے لے فری فیسر کرنا چاے۔ اور صحت کے شعبے میں بیسک ہیلتھ کیئر کے ادارے کا مضبوط ہونا سب سے ضروری ہے۔ 

    ۔ کوئی بھی ملک اپنے بنیادی صحت کے نظام کو مضبوط کیے بغیر اپنے صحت کے شعوبے کو بہتر نہیں بنا سکا ہے۔ ۔ پاکستان میں صحت کے اشارے پریشان کن ہیں۔ پاکستان کے علاقے گلگت بلتستان بلوچستان اندرون سندھ جنوبی پنجاب اور کے پی کے کے علاقوں میں صحت کا نظام تباہ حال ہے

    پی ایچ سی کمیونٹی ہیلتھ سروسز کا ایک مجموعہ ہے ، یعنی لیڈی ہیلتھ ورکرز ، دائیوں ، ویکسینیٹرز وغیرہ کے ذریعے فراہم کردہ گھریلو سطح پر ، اور پی ایچ سی کی سہولیات کی سطح پر ایمبولریٹری مریضوں کو فراہم کی جانے والی صحت کی خدمات۔ فی الحال پاکستان میں ، کمیونٹی ہیلتھ سروسز تقریبا entirely مکمل طور پر پبلک سیکٹر کی طرف سے فراہم کی جاتی ہیں جبکہ سہولت کی سطح کی سروسز پبلک اور پرائیویٹ دونوں شعبے فراہم کرتے ہیں۔ پی ایچ سی کی خدمات فراہم کرنے والے سرکاری شعبے کی سہولیات میں بنیادی ہیلتھ یونٹ (بی ایچ یو) ، ڈسپنسری ، ماں اور بچے کے مراکز ، دیہی صحت کے مراکز (آر ایچ سی) اور شہروں کے ہسپتالوں کے آؤٹ پیشنٹ محکمے شامل ہیں۔ نجی شعبے میں ، پی ایچ سی عام معالجین اور شہروں کے نجی اسپتالوں کی او پی ڈی فراہم کرتے ہیں۔ لوگ کمزور کنٹرول والے نجی شعبے میں ہومیو پیتھک پریکٹیشنرز ، حکیموں اور علاج معالجے کے دیگر طریقوں سے بھی بنیادی دیکھ بھال چاہتے ہیں۔

    1980 اور 1990 کی دہائی میں ، پاکستان نے بی ایچ یو اور آر ایچ سی کا ایک قومی نیٹ ورک بنایا اس خیال کے ساتھ کہ ہر یونین کونسل میں 5 سے 25 ہزار کی آبادی کے ساتھ ایک بی ایچ یو ہونا ضروری ہے۔ اس سارے کام میں ایک مسلہ ہمیشہ درپیش ایا وہ یہ کہ کوئی بھی ڈاکٹر بیک ورڈ ایرز دیھاتوں میں ڈیوٹی کرنا پسند نہی کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے اکثر دہاتوں میں ڈسپنسر کام کرتے ہیں یا وہ اکثر وہ بھی موجود نہی ہوتے ہیں جس کی وجہ سے مقامی سطح پہ بیمارویوں کا اعلاج ناممکن ہوا ہے۔ 

    کمیونٹی ہیلتھ سروسز فراہم کرنے کے لیے ، ایک قومی LHW پروگرام قائم کیا گیا۔ فی الحال ، کچھ 90،000 LHWs تقریبا 115 ملین لوگوں کو پورا کرتے ہیں۔ 

    پی ایچ سی صرف مریضوں کے لیے نہیں ہے۔ یہ ہر عمر کے صحت مند افراد کے لیے اتنا ہی ہے جتنا انہیں بیماری اور چوٹ اور ان کی صحت کے خطرات سے بچانے کے لحاظ سے۔ خطرات بنیادی طور پر ماحولیاتی ہیں – ہوا کا معیار ، پانی جو ہم استعمال کرتے ہیں ، وغیرہ – اور رویے – تمباکو نوشی ، بیٹھے ہوئے طرز زندگی وغیرہ۔ اسی طرح ، معذور افراد اور صحت یاب افراد کے لیے بحالی کی خدمات پی ایچ سی کا حصہ ہیں۔ عارضی طور پر بیمار افراد کی گھر پر دیکھ بھال یعنی علاج کی خدمات بھی پی ایچ سی کا حصہ ہیں۔ صحت کی خدمات پر تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ تقریبا 70 70 فیصد ضروری صحت کی خدمات پی ایچ سی کی سطح پر فراہم کی جا سکتی ہیں۔اگر اس فارمولے پہ مکل کنڑول کے چلایا جاے تو۔ ۔

    انفرادی خدمات کے علاوہ ، صحت عامہ کے کچھ ضروری کام ہیں جن میں بیماریوں کی نگرانی ، صحت سے متعلق معلومات جمع کرنا ، ہنگامی تیاری ، صحت کے مواصلات اور تحقیق شامل ہیں۔ یہ افعال پی ایچ سی کی سطح پر بھی انجام دیے جاتے ہیں۔ آخر میں ، چونکہ صحت بھی ان عوامل سے متاثر ہوتی ہے جو کہ براہ راست وزارت صحت کے کنٹرول میں نہیں ہیں مثلا nutrition غذائیت ، پینے کا صاف پانی ، سیوریج کا نظام ، تعلیم وغیرہ ، مقامی سطح پر دیگر شعبوں کے ساتھ تعاون بھی PHC کا حصہ ہے۔ چھوٹی بیماریوں اور زخموں کا بروقت علاج ، نوجوان خواتین کو تولیدی صحت سے متعلق رہنمائی ، قبل از پیدائش کی دیکھ بھال ، خاندانی منصوبہ بندی ، ضروری ویکسینیشن ، بچوں کی نشوونما کی نگرانی ، بیماریوں کی اسکریننگ ، غذائیت سے متعلق رہنمائی ، بستر پر بزرگوں کی گھر کی دیکھ بھال وغیرہ سب پی ایچ سی کی سطح پر ہوتے ہیں۔

    پی ایچ سی صرف صحت کی دیکھ بھال کی سطح نہیں ہے۔ یہ دیکھ بھال اور سماجی بہبود کا فلسفہ بھی ہے۔ یہ گھریلو اور کمیونٹی کی سطح پر دیگر محکموں کے تعاون سے اور لوگوں کے لیے آسانی سے قابل رسائی سہولیات کی فراہمی ہے۔ صحت کی دیکھ بھال کی فراہمی میں لوگوں کی فعال شمولیت کو یقینی بنانا ، اس کے وسیع معنوں میں ، اہم ہے۔ لوگوں کو مطلع کیا جانا چاہیے ، ان سے مشورہ کیا جانا چاہیے اور ان پر نظر رکھنی چاہیے۔ مقامی حکومتوں کے تناظر میں صحت کمیٹیوں کے ذریعے ادارہ جاتی کمیونٹی کی شمولیت بہترین اور پائیدار طریقہ ہے۔

    اس کی اہم اہمیت کے باوجود ، کسی نہ کسی طرح پاکستان میں پی ایچ سی کو غریبوں کے لیے دوسرے درجے کی صحت کی سہولیات سمجھا جاتا ہے۔ ملک میں معیاری پی ایچ سی نظام قائم کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ اشرافیہ ذہنیت ہے۔ امیر اور طاقتور بڑے شہروں میں بڑے ، مہنگے ہسپتالوں میں جاتے ہیں اور بی ایچ یو اور ایل ایچ ڈبلیو دیہی پیری شہری غریبوں کے لیے ہیں۔ کمزور پی ایچ سی سسٹم کی وجہ سے ، زیادہ تر مریض معمولی بیماریوں کے لیے بھی براہ راست تیسرے درجے کے ہسپتالوں میں جاتے ہیں اور اسی وجہ سے بڑے اسپتالوں کی بھیڑ اور گھٹن کا شکار او پی ڈی۔بڑھ جاتے ہے ۔اس کے مثال اپکو ایبٹ اباد میڈیکل کمپکس ۔پیمز اسلام اباد اور پشاور میں ایل ار ایچ لاہور لاہور میں میو ہسپتال وغیرہ وغیرہ۔ ایوب میڈیکل کمپکس میں گلگت بلتستان ے لیکر ہزارہ تک تمام لوڈ اجاتا جس کی وجہ سے وہاں ہمیشہ مسائل ہوتے۔ 

    ایک اچھی طرح سے کام کرنے والے صحت کے نظام میں ، ایمرجنسی مریضوں کے علاوہ دیگر تمام مریضوں کو ڈیجیٹل طور پر صحت کی اعلی سطح کے حوالے کیا جانا چاہیے۔ پی ایچ سی اس لحاظ سے ثانوی اور تیسری سطح کی دیکھ بھال کے لیے ایک دربان سمجھا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ہمارا میڈیکل ایجوکیشن سسٹم ، پبلک اور پرائیویٹ دونوں ، میڈیکل کے طلباء کو پی ایچ سی کی سیٹنگز کے سامنے نہیں لاتا۔ جب تک یہ تصورات اور طریقہ کار تبدیل نہیں ہوتے ، ایک متحرک اور فعال PHC کی توقع کرنا مشکل ہے۔بلکہ ناممکن ہے۔ 

    صحت میں اشرافیہ پالیسی کی سطح پر بھی موجود ہے۔ ہمارے قومی اور صوبائی بجٹ دستاویزات کا جائزہ لینے میں صرف ایک سرسری ہے ، اگر کوئی ہے تو ، پی ایچ سی کا ذکر ہے۔ یہاں تک کہ پاکستان شماریات بیورو کی طرف سے متواتر ‘نیشنل ہیلتھ اکاؤنٹس’ پی ایچ سی پر اخراجات کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کرتے اگر پی ایچ سیز کو مضبوط بنایا جاے تو سرمایاداروں کے پروئیوٹ ہسپتال بند ہوجاے گے ۔وہ لوگ اس لے ان اداروں کو مکمل طور تباہ کر چکے ہیں۔ 

    اگر ہم واقعی یونیورسل ہیلتھ کیئر کو آگے بڑھانے چاہتے ہیں ، صحت کی دیکھ بھال کے معیار کو بہتر بنانے اور ملک میں ہمارے صحت کے اشارے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو ہمیں PHC کی طرف سخت تبدیلی لانی ہوگی۔ اس کے لے ہمیں ادارں کو مضبوط کرنا ہوگا ۔میرٹ پہ لوگوں کو لانا ہوگا ۔ان تمام اداروں اکا ڈیٹ ہونا چاے ۔یہ لوگ روزانہ بنیاد پہ کام لر رہے رہے ہیں کہ بھی نہیں ۔اس کام کے عوامی شعور کا بھی ضروری ہے۔

  • فیڈرل بورڈ کے میٹرک انٹر نتائج میں افواج پاکستان کے تعلیمی اداروں نے میدان مار لیا تحریر:ناصر بٹ

    فیڈرل بورڈ کے میٹرک انٹر نتائج میں افواج پاکستان کے تعلیمی اداروں نے میدان مار لیا تحریر:ناصر بٹ

    @mnasirbuttt

    اور آج فیڈرل بورڈ آف ایجوکیشن کی جانب سے انٹرمیڈیٹ کے بعد میٹرک کے نتائج کا بھی اعلان کر ہی دیا گیا، تقریب تو پروقار رہی لیکن انٹرمیڈیٹ کی طرز پر میٹرک والے ٹاپرز کو وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کے ہاتھوں سے انعامات وصول کرنے کا اعزاز حاصل نہ ہوسکا، اعزاز کیوں نہ ہوتا وفاقی وزیر شفقت محمود کورونا کے اس دور میں وزیراعظم عمران خان کے بعد انٹرنیٹ پر سب سے معروف سمجھی جانے والی شخصیت جو بن گئے تھے خیر آج کی تقریب میں وفاقی سیکرٹری ایجوکیشن فرخ خان بطور مہمان خصوصی پہنچیں اور بچوں کی جہاں ایک طرف خوب حوصلہ افزائی کی وہیں دوسری طرف کورونا کے باوجود تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھنے پر اپنی وزارت کے گن بھی گاتی رہیں، آج کے رزلٹ میں حیران کن اور افسوسناک حد تک ایک بات شدت سے محسوس ہوتی رہی جب بورڈ ٹاپ کرنے والے تمام سٹوڈنٹس کی فہرست سامنے آئی تو 80 فیصد سے زائد سٹوڈنٹس کا تعلق افواج پاکستان کے تعلیمی اداروں سے نکلا، سائنس گروپ کے محمد صارم کو دیکھیں یا رابعہ اصغر کو، دونوں ہی بچے پہلی پوزیشن پر براجمان تھے لیکن تعلق آرمی پبلک سکول اور فضائیہ ڈگری کالج سے تھا، آگے چلیں تو سائنس گروپ میں 1096 نمبر لیکر دوسری پوزیشن حاصل کرنے والی کائنات سلیمان کا تعلق بھی آرمی پبلک سکول جبکہ دوسری ہی پوزیشن حاصل کرنے والی دو اور طالبات زینب علی اور عاصمہ اسماعیل کا تعلق بھی گریزن اکیڈمی اور فضائیہ کالج سے ہی نکلا جبکہ تیسری پوزیشن پر براجمان عشبہ فاطمہ کا تعلق بھی آرمی پبلک سکول سے رہا، آپ انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کی روداد سننا چاہتے ہیں تو یہ لیجیے، پری انجینئرنگ گروپ میں 1090 نمبر لیکر پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے غفران احمد طالب اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی دو طالبات عیشاء ارشد ملک اور تابیر ساجد کا تعلق بھی آرمی پبلک سکول سے نکلا، افواج پاکستان کے اداروں کے نام کامیابیاں یہاں رکتی نہیں بلکہ میڈیکل گروپ اور سائنس جنرل گروپ میں بھی پہلی پوزیشن اور تیسری پوزیشن آرمی کالجز کے بچوں کے ہی نام رہی، اس کے علاوہ پوزیشنز پر نظر دوڑائیں تو وہاں پر بھی بین الاقوامی نجی تعلیمی اداروں کی برانچز کا نام لکھا ملا لیکن مجال ہے کہ کسی سرکاری ادارے کو فیڈرل بورڈ کی تقریب انعامات میں آنے کا شرف نصیب ہوا ہے، سرکاری اداروں میں سرکاری مراعات، بھاری بھر کم تنخواہوں اور جان سیکورٹی کے باوجود سٹوڈنٹس کو امتحانی میدان میں کسی مقام پر نہ پہنچا پانا ایک طرف اساتذہ کی ذاتی دلچسپی اور نوکری کے ساتھ مخلص ہونے پر سوالیہ نشان ہے وہیں دوسری جانب وزارت تعلیم کو بھی اس بارے میں سر جوڑنے کی ضرورت ہے کہ سویلین سرکاری تعلیمی اداروں میں کس بات کی کمی رہ گئی کہ وہاں پڑھنے والے بچے فوجی اداروں سے پیچھے نہیں بہت پیچھے رہ رہے ہیں، بہرحال کھلے دل کے ساتھ افواج پاکستان کے تعلیمی اداروں کو شاباشی اور مبارکباد بھی ملنی چاہیے جس طرح ان کی جانب سے کورونا کے باوجود آن لائن کلاسز سمیت ہر قسم کی جدوجہد کرکے سٹوڈنٹس کو آج اس مقام پر پہنچایا گیا