Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • بنیادی صحت کے اداروں کی اہمیت اور معاشرے پہ اثرات۔ تحریر:روشن دین

    بنیادی صحت کے اداروں کی اہمیت اور معاشرے پہ اثرات۔ تحریر:روشن دین

    @Rohshan_Din

    صحت انسان کی بیسک نیڈ ہے جو ہر ریاست کو اپنے ہر شہری کے لے فری فیسر کرنا چاے۔ اور صحت کے شعبے میں بیسک ہیلتھ کیئر کے ادارے کا مضبوط ہونا سب سے ضروری ہے۔ 

    ۔ کوئی بھی ملک اپنے بنیادی صحت کے نظام کو مضبوط کیے بغیر اپنے صحت کے شعوبے کو بہتر نہیں بنا سکا ہے۔ ۔ پاکستان میں صحت کے اشارے پریشان کن ہیں۔ پاکستان کے علاقے گلگت بلتستان بلوچستان اندرون سندھ جنوبی پنجاب اور کے پی کے کے علاقوں میں صحت کا نظام تباہ حال ہے

    پی ایچ سی کمیونٹی ہیلتھ سروسز کا ایک مجموعہ ہے ، یعنی لیڈی ہیلتھ ورکرز ، دائیوں ، ویکسینیٹرز وغیرہ کے ذریعے فراہم کردہ گھریلو سطح پر ، اور پی ایچ سی کی سہولیات کی سطح پر ایمبولریٹری مریضوں کو فراہم کی جانے والی صحت کی خدمات۔ فی الحال پاکستان میں ، کمیونٹی ہیلتھ سروسز تقریبا entirely مکمل طور پر پبلک سیکٹر کی طرف سے فراہم کی جاتی ہیں جبکہ سہولت کی سطح کی سروسز پبلک اور پرائیویٹ دونوں شعبے فراہم کرتے ہیں۔ پی ایچ سی کی خدمات فراہم کرنے والے سرکاری شعبے کی سہولیات میں بنیادی ہیلتھ یونٹ (بی ایچ یو) ، ڈسپنسری ، ماں اور بچے کے مراکز ، دیہی صحت کے مراکز (آر ایچ سی) اور شہروں کے ہسپتالوں کے آؤٹ پیشنٹ محکمے شامل ہیں۔ نجی شعبے میں ، پی ایچ سی عام معالجین اور شہروں کے نجی اسپتالوں کی او پی ڈی فراہم کرتے ہیں۔ لوگ کمزور کنٹرول والے نجی شعبے میں ہومیو پیتھک پریکٹیشنرز ، حکیموں اور علاج معالجے کے دیگر طریقوں سے بھی بنیادی دیکھ بھال چاہتے ہیں۔

    1980 اور 1990 کی دہائی میں ، پاکستان نے بی ایچ یو اور آر ایچ سی کا ایک قومی نیٹ ورک بنایا اس خیال کے ساتھ کہ ہر یونین کونسل میں 5 سے 25 ہزار کی آبادی کے ساتھ ایک بی ایچ یو ہونا ضروری ہے۔ اس سارے کام میں ایک مسلہ ہمیشہ درپیش ایا وہ یہ کہ کوئی بھی ڈاکٹر بیک ورڈ ایرز دیھاتوں میں ڈیوٹی کرنا پسند نہی کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے اکثر دہاتوں میں ڈسپنسر کام کرتے ہیں یا وہ اکثر وہ بھی موجود نہی ہوتے ہیں جس کی وجہ سے مقامی سطح پہ بیمارویوں کا اعلاج ناممکن ہوا ہے۔ 

    کمیونٹی ہیلتھ سروسز فراہم کرنے کے لیے ، ایک قومی LHW پروگرام قائم کیا گیا۔ فی الحال ، کچھ 90،000 LHWs تقریبا 115 ملین لوگوں کو پورا کرتے ہیں۔ 

    پی ایچ سی صرف مریضوں کے لیے نہیں ہے۔ یہ ہر عمر کے صحت مند افراد کے لیے اتنا ہی ہے جتنا انہیں بیماری اور چوٹ اور ان کی صحت کے خطرات سے بچانے کے لحاظ سے۔ خطرات بنیادی طور پر ماحولیاتی ہیں – ہوا کا معیار ، پانی جو ہم استعمال کرتے ہیں ، وغیرہ – اور رویے – تمباکو نوشی ، بیٹھے ہوئے طرز زندگی وغیرہ۔ اسی طرح ، معذور افراد اور صحت یاب افراد کے لیے بحالی کی خدمات پی ایچ سی کا حصہ ہیں۔ عارضی طور پر بیمار افراد کی گھر پر دیکھ بھال یعنی علاج کی خدمات بھی پی ایچ سی کا حصہ ہیں۔ صحت کی خدمات پر تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ تقریبا 70 70 فیصد ضروری صحت کی خدمات پی ایچ سی کی سطح پر فراہم کی جا سکتی ہیں۔اگر اس فارمولے پہ مکل کنڑول کے چلایا جاے تو۔ ۔

    انفرادی خدمات کے علاوہ ، صحت عامہ کے کچھ ضروری کام ہیں جن میں بیماریوں کی نگرانی ، صحت سے متعلق معلومات جمع کرنا ، ہنگامی تیاری ، صحت کے مواصلات اور تحقیق شامل ہیں۔ یہ افعال پی ایچ سی کی سطح پر بھی انجام دیے جاتے ہیں۔ آخر میں ، چونکہ صحت بھی ان عوامل سے متاثر ہوتی ہے جو کہ براہ راست وزارت صحت کے کنٹرول میں نہیں ہیں مثلا nutrition غذائیت ، پینے کا صاف پانی ، سیوریج کا نظام ، تعلیم وغیرہ ، مقامی سطح پر دیگر شعبوں کے ساتھ تعاون بھی PHC کا حصہ ہے۔ چھوٹی بیماریوں اور زخموں کا بروقت علاج ، نوجوان خواتین کو تولیدی صحت سے متعلق رہنمائی ، قبل از پیدائش کی دیکھ بھال ، خاندانی منصوبہ بندی ، ضروری ویکسینیشن ، بچوں کی نشوونما کی نگرانی ، بیماریوں کی اسکریننگ ، غذائیت سے متعلق رہنمائی ، بستر پر بزرگوں کی گھر کی دیکھ بھال وغیرہ سب پی ایچ سی کی سطح پر ہوتے ہیں۔

    پی ایچ سی صرف صحت کی دیکھ بھال کی سطح نہیں ہے۔ یہ دیکھ بھال اور سماجی بہبود کا فلسفہ بھی ہے۔ یہ گھریلو اور کمیونٹی کی سطح پر دیگر محکموں کے تعاون سے اور لوگوں کے لیے آسانی سے قابل رسائی سہولیات کی فراہمی ہے۔ صحت کی دیکھ بھال کی فراہمی میں لوگوں کی فعال شمولیت کو یقینی بنانا ، اس کے وسیع معنوں میں ، اہم ہے۔ لوگوں کو مطلع کیا جانا چاہیے ، ان سے مشورہ کیا جانا چاہیے اور ان پر نظر رکھنی چاہیے۔ مقامی حکومتوں کے تناظر میں صحت کمیٹیوں کے ذریعے ادارہ جاتی کمیونٹی کی شمولیت بہترین اور پائیدار طریقہ ہے۔

    اس کی اہم اہمیت کے باوجود ، کسی نہ کسی طرح پاکستان میں پی ایچ سی کو غریبوں کے لیے دوسرے درجے کی صحت کی سہولیات سمجھا جاتا ہے۔ ملک میں معیاری پی ایچ سی نظام قائم کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ اشرافیہ ذہنیت ہے۔ امیر اور طاقتور بڑے شہروں میں بڑے ، مہنگے ہسپتالوں میں جاتے ہیں اور بی ایچ یو اور ایل ایچ ڈبلیو دیہی پیری شہری غریبوں کے لیے ہیں۔ کمزور پی ایچ سی سسٹم کی وجہ سے ، زیادہ تر مریض معمولی بیماریوں کے لیے بھی براہ راست تیسرے درجے کے ہسپتالوں میں جاتے ہیں اور اسی وجہ سے بڑے اسپتالوں کی بھیڑ اور گھٹن کا شکار او پی ڈی۔بڑھ جاتے ہے ۔اس کے مثال اپکو ایبٹ اباد میڈیکل کمپکس ۔پیمز اسلام اباد اور پشاور میں ایل ار ایچ لاہور لاہور میں میو ہسپتال وغیرہ وغیرہ۔ ایوب میڈیکل کمپکس میں گلگت بلتستان ے لیکر ہزارہ تک تمام لوڈ اجاتا جس کی وجہ سے وہاں ہمیشہ مسائل ہوتے۔ 

    ایک اچھی طرح سے کام کرنے والے صحت کے نظام میں ، ایمرجنسی مریضوں کے علاوہ دیگر تمام مریضوں کو ڈیجیٹل طور پر صحت کی اعلی سطح کے حوالے کیا جانا چاہیے۔ پی ایچ سی اس لحاظ سے ثانوی اور تیسری سطح کی دیکھ بھال کے لیے ایک دربان سمجھا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ہمارا میڈیکل ایجوکیشن سسٹم ، پبلک اور پرائیویٹ دونوں ، میڈیکل کے طلباء کو پی ایچ سی کی سیٹنگز کے سامنے نہیں لاتا۔ جب تک یہ تصورات اور طریقہ کار تبدیل نہیں ہوتے ، ایک متحرک اور فعال PHC کی توقع کرنا مشکل ہے۔بلکہ ناممکن ہے۔ 

    صحت میں اشرافیہ پالیسی کی سطح پر بھی موجود ہے۔ ہمارے قومی اور صوبائی بجٹ دستاویزات کا جائزہ لینے میں صرف ایک سرسری ہے ، اگر کوئی ہے تو ، پی ایچ سی کا ذکر ہے۔ یہاں تک کہ پاکستان شماریات بیورو کی طرف سے متواتر ‘نیشنل ہیلتھ اکاؤنٹس’ پی ایچ سی پر اخراجات کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کرتے اگر پی ایچ سیز کو مضبوط بنایا جاے تو سرمایاداروں کے پروئیوٹ ہسپتال بند ہوجاے گے ۔وہ لوگ اس لے ان اداروں کو مکمل طور تباہ کر چکے ہیں۔ 

    اگر ہم واقعی یونیورسل ہیلتھ کیئر کو آگے بڑھانے چاہتے ہیں ، صحت کی دیکھ بھال کے معیار کو بہتر بنانے اور ملک میں ہمارے صحت کے اشارے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو ہمیں PHC کی طرف سخت تبدیلی لانی ہوگی۔ اس کے لے ہمیں ادارں کو مضبوط کرنا ہوگا ۔میرٹ پہ لوگوں کو لانا ہوگا ۔ان تمام اداروں اکا ڈیٹ ہونا چاے ۔یہ لوگ روزانہ بنیاد پہ کام لر رہے رہے ہیں کہ بھی نہیں ۔اس کام کے عوامی شعور کا بھی ضروری ہے۔

  • فیڈرل بورڈ کے میٹرک انٹر نتائج میں افواج پاکستان کے تعلیمی اداروں نے میدان مار لیا تحریر:ناصر بٹ

    فیڈرل بورڈ کے میٹرک انٹر نتائج میں افواج پاکستان کے تعلیمی اداروں نے میدان مار لیا تحریر:ناصر بٹ

    @mnasirbuttt

    اور آج فیڈرل بورڈ آف ایجوکیشن کی جانب سے انٹرمیڈیٹ کے بعد میٹرک کے نتائج کا بھی اعلان کر ہی دیا گیا، تقریب تو پروقار رہی لیکن انٹرمیڈیٹ کی طرز پر میٹرک والے ٹاپرز کو وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کے ہاتھوں سے انعامات وصول کرنے کا اعزاز حاصل نہ ہوسکا، اعزاز کیوں نہ ہوتا وفاقی وزیر شفقت محمود کورونا کے اس دور میں وزیراعظم عمران خان کے بعد انٹرنیٹ پر سب سے معروف سمجھی جانے والی شخصیت جو بن گئے تھے خیر آج کی تقریب میں وفاقی سیکرٹری ایجوکیشن فرخ خان بطور مہمان خصوصی پہنچیں اور بچوں کی جہاں ایک طرف خوب حوصلہ افزائی کی وہیں دوسری طرف کورونا کے باوجود تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھنے پر اپنی وزارت کے گن بھی گاتی رہیں، آج کے رزلٹ میں حیران کن اور افسوسناک حد تک ایک بات شدت سے محسوس ہوتی رہی جب بورڈ ٹاپ کرنے والے تمام سٹوڈنٹس کی فہرست سامنے آئی تو 80 فیصد سے زائد سٹوڈنٹس کا تعلق افواج پاکستان کے تعلیمی اداروں سے نکلا، سائنس گروپ کے محمد صارم کو دیکھیں یا رابعہ اصغر کو، دونوں ہی بچے پہلی پوزیشن پر براجمان تھے لیکن تعلق آرمی پبلک سکول اور فضائیہ ڈگری کالج سے تھا، آگے چلیں تو سائنس گروپ میں 1096 نمبر لیکر دوسری پوزیشن حاصل کرنے والی کائنات سلیمان کا تعلق بھی آرمی پبلک سکول جبکہ دوسری ہی پوزیشن حاصل کرنے والی دو اور طالبات زینب علی اور عاصمہ اسماعیل کا تعلق بھی گریزن اکیڈمی اور فضائیہ کالج سے ہی نکلا جبکہ تیسری پوزیشن پر براجمان عشبہ فاطمہ کا تعلق بھی آرمی پبلک سکول سے رہا، آپ انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کی روداد سننا چاہتے ہیں تو یہ لیجیے، پری انجینئرنگ گروپ میں 1090 نمبر لیکر پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے غفران احمد طالب اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی دو طالبات عیشاء ارشد ملک اور تابیر ساجد کا تعلق بھی آرمی پبلک سکول سے نکلا، افواج پاکستان کے اداروں کے نام کامیابیاں یہاں رکتی نہیں بلکہ میڈیکل گروپ اور سائنس جنرل گروپ میں بھی پہلی پوزیشن اور تیسری پوزیشن آرمی کالجز کے بچوں کے ہی نام رہی، اس کے علاوہ پوزیشنز پر نظر دوڑائیں تو وہاں پر بھی بین الاقوامی نجی تعلیمی اداروں کی برانچز کا نام لکھا ملا لیکن مجال ہے کہ کسی سرکاری ادارے کو فیڈرل بورڈ کی تقریب انعامات میں آنے کا شرف نصیب ہوا ہے، سرکاری اداروں میں سرکاری مراعات، بھاری بھر کم تنخواہوں اور جان سیکورٹی کے باوجود سٹوڈنٹس کو امتحانی میدان میں کسی مقام پر نہ پہنچا پانا ایک طرف اساتذہ کی ذاتی دلچسپی اور نوکری کے ساتھ مخلص ہونے پر سوالیہ نشان ہے وہیں دوسری جانب وزارت تعلیم کو بھی اس بارے میں سر جوڑنے کی ضرورت ہے کہ سویلین سرکاری تعلیمی اداروں میں کس بات کی کمی رہ گئی کہ وہاں پڑھنے والے بچے فوجی اداروں سے پیچھے نہیں بہت پیچھے رہ رہے ہیں، بہرحال کھلے دل کے ساتھ افواج پاکستان کے تعلیمی اداروں کو شاباشی اور مبارکباد بھی ملنی چاہیے جس طرح ان کی جانب سے کورونا کے باوجود آن لائن کلاسز سمیت ہر قسم کی جدوجہد کرکے سٹوڈنٹس کو آج اس مقام پر پہنچایا گیا

  • گھریلو مسائل تحریر : فرح بیگم

    گھریلو مسائل تحریر : فرح بیگم

    ہر انسان کو زندگی میں پریشانیاں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑھتا ہے ۔ان مشکلات اور پریشانیوں سی نکلنے کے لیے کھبی کھبی حکمت عملی کرنی پڑھتی ہے تو کھبی صبر سے کام لینا پڑھتا ہے ۔ یہاں ہر شخص جنگ لڑ رہا ہوتا ہے کھبی گھریلو حالات سے، کھبی اندرون سے، کھبی بیرون سے ، کھبی اپنی سوچ سے ،کھبی معاشی حالات سے تو کھبی اپنے آپ سے ۔ زندگی جینے کے لیے مسائل کا سامنا تو کرنا پڑھتا ہے اور انکو سلجانے کے لیے کوئی نہ کوئی ترگیب تو کرنی پڑھے گی ۔ایک انسان کامیابی کا دعویٰ تب کر سکتا ہے جب وہ راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو دور کر کے اپنے لیے سکون حاصل کرے ۔ دنیا میں کچھ ہی لوگ ہوں گے انکو پریشانیوں اور مصبیتوں کا سامنا نا کرنا پڑھے ۔ کسی فرد کو مسائل توڑ دیتے یا اسکو نا امید کر دیتے ہیں۔ تو کسی کو اگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے ہیں ۔ یا کسی کو اتنا تباہ اور برباد کر دیتے ہیں کہ انسان مرنے کی دعا کرنے لگتا ہے ۔ ہر دفع اسکا دل پریشان رہتا ہے ۔نا کام کا ہوش ہوتا ہے، نا کھانے کا ہوش ہوتا ہے ،نا لباس کا ہوش ہوتا ہے اور نا ہی رشتوں کا ہوش ہوتا ہے جس سے انسان کو خوشی ملتی ہے ۔ مسائل نے انسان کو توڑ کر رکھ دیا ہے کہ اسکے دل میں زندہ رہنے کی خوائش ہی مر جاتی ہے ۔ بہت سے لوگ ان مسائل کا سامنا نہیں کرتے اور ذہنی مریض بن جاتے ہیں ۔
    ہم جس دور میں سانس لے رہے ہیں یہ بڑا مشکلات سے دو چار ہے ۔ہر فرد کے گرد پریشانیاں ہی پریشانیاں ہیں ۔ صرف ایک فرد نہیں گھروں کے گھر مسائل میں مبتلا ہیں ۔ ہر گھر میں لڑائی جھگڑے اور رشتوں میں دوری عام بن گئی ہے ۔ برداشت کرنے کی قوت اتنی کم رہ گئی ہے کہ ایک آدمی دوسری کی بات برداشت نہیں کرتا ۔اب نا کوئی بزرگ کی نصیحت سنتا ہے نا ماں باپ کا کہنا مانتا ہے ۔ گھر میں اے روز تلخیوں نے انسان کو ذہنی ،جسمانی مفلوج کر دیا ہے ۔ انسان کو جس طرح ہوا پانی کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح ذہنی راحت بھی درکار ہوتی ہے ۔ اگر ان تنازعات کو روکا نہ جائے تو انسان سنگین قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔ گھر تنازعات کی بہت ساری وجوہات ہو سکتی ہیں. یہ تنازعہ میاں بیوی ، بھن بھائی ،ساس بہو ، والدین اولاد کا بھی ہو سکتا ہے۔ ہر جھگڑے کی نویت الگ ہے لیکن کام ایک ہی ہے ینی ذہنی مریض بنانا ، شدید پرشانی میں مبتلا کرنا ۔ لگاتار سوچتے رہے تو بندا پرشانی سے پاگل ہو جاتا ہے ۔مثبت سوچنے کی صلاحیت میں کمی آ جاتے ہے ۔کوئی کام کرنے کو دل نہیں کرتا انسان کا ۔ عجیب و غریب حالت ہو جاتی ہے ۔اپنی اصل حالت میں واپس آنا بہت مشکل ہو جاتا ہے تو کھبی نا ممکن دیکھی دیتا ہے ۔زیادہ تر لوگوں کے مسائل اور پریشانی شادی کے بعد شروع ہوتی ہے ۔ انسان کی زندگی کو سنوارنے میں ایک عورت اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ اگر عورت تعلیم یافتہ ہوگی تو صرف مرد نہیں بلکہ پورا گھرانہ تعلیم یافتہ اور سلیقہ مند ہوگا ۔اسکے ذھن میں فتور ، فریب اور لڑائی جھگڑا کچھ نہیں ہوگا ۔اسکے بر عکس ان پڑھ عورت پورے معاشرے کو تباہ اور برباد کر دیتی ہے وہ گھر کو دوزخ بنا دیتی ہے ۔اور سانس لینا دشوار ہو جاتا ہے ۔تعلیم ضروری ہے لیکن ایک عورت کو تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت یافتہ بھی ہوا چاہیئے تا کہ کوئی مسائل نا جنم لے ۔ گھر میں جیسے ہی مسائل سر اٹھاییں تو انکا فوری طور پر حل نکالیں۔ ہر مسئلے کا حل مفاہمت نہیں کہیں بار مزمت سے بھی حل ہو سکتے ہیں ۔

    Twitter ID : @iam_farha

  • نفسیاتی الجھنیں اور ہمارا معاشرہ تحریر : وسیم سید 

    نفسیاتی الجھنیں اور ہمارا معاشرہ تحریر : وسیم سید 

    twitter / @S_paswal 

     

    ‏جب سے زندگی وجود میں آئی تب سے ہی جسمانی بیماریاں بھی زندگی کا حصہ ہیں ۔ جیسے کوئی گاڑی یا کوئی بھی مشین ہو ۔ تو اس میں بھی کوئی نہ کوئی خرابی پیدا ہوتی رہتی ہے ۔اسی طرح انسان بھی کبھی جسمانی کبھی روحانی اور کبھی نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہو جاتا ہے ۔ مگر افسوس کا مقام ہے ہم جسمانی بیماریوں کو تو بہت اہمیت دیتے ہیں مگر نفسیاتی الجھنوں کو اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ 

    ‏نفسیاتی الجھنوں پہ اکثر لکھاری قلم آزمائی کرتے رہتے ہیں مگر میرے نزدیک اس پہ جتنا بھی لکھا جائے کم ہے ۔ نفسیاتی بیماریاں ایسی بیماریاں ہیں جن کے بارے میں معاشرے میں ابھی اتنی آگاہی ہی نہیں ۔ اس لئے خود مریض کو بھی پتہ نہیں چلتا کہ وہ کس نفسیاتی مرض کا شکار ہے ۔ اپنے اردگر نظر دوڑانے سے آپکو معلوم ہوگا کہ بہت سے لوگ ان نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہیں ۔ اور اس مرض کے زیر اثر وہ لوگ ایڑیا رگڑ رگڑ کر زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں ۔

    ‏نفسیاتی الجھنوں نے پورے معاشرے کو ایسے ہی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جیسے کرونا وائرس جیسے مہلک وبا نے پورے معاشرے کو مفلوج کر کے رکھ دیا ۔ نفسیاتی بیماری کا مطلب پرگز یہ نہیں کہ آپ پاگل ہیں ۔ جسمانی بیماریوں کی طرح نفسیاتی بیماری بھی ایک مرض ہے ۔ جیسے ہم اپنی جسمانی بیماری کیلئے ڈاکٹر کے پاس جا کر مکمل علاج کر واتے ہیں ۔ ویسے ہی نفسیاتی الجھنوں کا بھی علاج ممکن ہے ۔ مگر ہمارے معاشرے میں اس پہ بات کرنا بھی ایسا ہے جیسے کوئی اچھوت بیماری جو نام لینے سے بھی نقصان پہنچائے گی ۔ 

    ‏نفسیاتی مسائل میں ایک مرض شیزو فرینیا ہے ۔ یہ ایک خطرناک ذہنی مسئلہ ہے ۔ جس میں مریض کو لگتا ہے کہ ہر بات کے دو مطلب ہیں اور وہ مریض ہمیشہ بات کے منفی پہلو پہ نظر رکھتا ہے ۔ اور اسے لگتا ہے کہ ہر بات میں طنز چھپا ہے ۔ اس مرض نے بہت سے لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔ اس مرض کی زد میں آنے والوں میں ہر طبقے اور ہر شعبہ زندگی کے لوگ شامل ہیں ۔ جنہیں ہر وقت یہ خوف ہوتا ہے کہ ان کا مالی نقصان ہوجائے گا اور یا پھر اس کے ادرگرد کے لوگ اسے مارنا چاہتے ہیں اور اسکے خلاف سازشوں میں شریک ہیں ۔

    ‏ایک ذہنی بیماری اور بھی ہے جسے نفسیات کی زبان میں ”بائی پولر” کہا جاتا ہے عام بان میں اسے خود پرستی بھی کہا جا سکتا ہے ۔اس کی زد میں آنے والے شخص کو اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ وہ مافوق الفطرت قوتوں کا مالک ہے اس جیسا اور کوئی نہیں، وہی خود پرستی ۔ چنانچہ وہ مختلف دعوے کرتا نظر آتا ہے۔ ذہنی امراض کے ایک اسپتال میں ایک مریض نے دوسرے مریضوں کو اونچی  بلند مخاطب کر کے کہا ”آپ سب کو اطلاع دی جاتی ہے کہ مجھے اوتار بنا کر آپ کی طرف بھیجا گیا ہے” اس پر بائی پولر کا دوسرا مریض اپنی جگہ سے اٹھا اور اتنی ہی بلند آواز میں کہا ”لوگو، اس کی باتوں میں نہ آنا، یہ جھوٹا ہے کیونکہ میں نے اسے اوتار بنا کر نہیں بھیجا”۔ یہ محض لطیفہ نہیں ہے اگر آپ کسی بھی منٹل ہاسپٹل کا ایک چکر لگائیں گے تو آپکو معلوم ہوگا کہ یہ تو حقیقت پہ مبنی بات ہے ۔ 

    ‏یہ بیماری فقط آپ ذہنی امراض کے ہسپتال میں نہیں دیکھیں گے بلکہ ایسے مریض آپکو جگہ جگہ نظر آئیں گے جو خود پرستی کے مرض میں مبتلا ہیں ۔ جیسے کوئی شاعر اسے ایسا لگتا ہے جیسے اس جیسا کوئی اور شاعر تو دنیا میں موجود ہی نہیں ۔ کوئی منصف ہے تو وہ یہ سوچے بیٹھا ہوتا ہے کہ اس جیسا تو کوئی اور لکھ ہی نہیں سکتا ۔ یہی حال ہمارے سیاست دانوں کا ہے انہیں لگتا ہے ان جیسا صادق اور امین کوئی نہیں اور دوسروں پہ کیچڑ اچھانے میں وہ کوئی کمی نہیں چھوڑتے ۔ 

    ‏نفسیاتی اور  ذہنی بیماریاں ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں۔ ان بیماریوں میں صرف شیزو فرینیا یا بائی پولر ہی شامل نہیں بلکہ اس کی بیسیوں اقسام ہیں جن میں سے کچھ تو موروثی  ہیں یعنی والدین سے اولاد میں منتقل ہوتی ہیں ۔ اور کچھ حالات کے تحت جنم لیتی ہیں۔ انسان کی عمر کا خطرناک دور اس کی زندگی کے ابتدائی دن ہوتے ہیں، ماہر نفسیات کہتے ہیں کہ انسان کی شخصیت سات سال کی عمر میں مکمل ہو جاتی ہے اور کچھ تحقیق کے مطابق انسان کی شخصیت دو سال میں مکمل ہو جاتی ہے ۔ اور اس پر مثبت یا منفی اثرات کے متعدد محرکات ہیں جن میں گھریلو ماحول، والدین کا برتاو ، دوست اور معاشرے کا مجموعی ماحول شامل ہیں۔ 

    ‏جیسے باقی جسمانی صحت کے مسائل اہم ہیں ویسے ہی ذہنی مسائل بھی بہت اہمیت رکھتے ہیں ۔ اب ہم جس معاشرے میں سانس لے رہے وہاں یہ مسائل وبا کی طرح پھیل چکے ۔ ہر دوسرا شخص ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا شکار ہے ۔ حتی کہ چھوٹے چھوٹے بچے شدید نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو کر اپنی جان کی بازی ہارتے نظر آتے ہیں ۔ ضرورت امر کی ہے کہ اس پہ خاص توجہ دی جائے ۔ بچوں اور بچیوں کیلئے کونسلنگ کی کلاسسز کا باقاعدہ اہتمام کیا جائے ۔ 

    ‏کسی عام فرد کے ذہنی بیماری کا شکار ہونے اور کسی ریاست کے اس کی زد میں آنے کے اثرات بہت مختلف ہیں۔ کاش ہم لوگ اپنے بچوں، بچیوں کے طرز عمل پر ان کے بچپن ہی سے نظر رکھیں اور اس کے علاوہ تعلیمی اداروں میں ان کی کونسلنگ کا اہتمام بھی کریں اور اپنی آنے والی نسل کو ڈپریشن اور ذہنی دباؤ سے نکال کر ایک خوبصورت زندگی کی طرف لائیں جس میں لاپرواہ ہنسی کا راج ہو اور ہماری نسل تتلیوں کے سنگ اپنے رنگوں کو نکھارے 

  • ہم دنیا سے پیچھے کیوں؟ تحریر:محمد ذیشان رؤف

    عالم اسلام کے عروج کی بات کی جائے تو صدیوں پر محیط سنہرے ادوار پر لکھی گئی تصانیف سے دنیا کی لائیبریریاں بھری پڑی ہیں۔  اور نا ہی یہ بندہ نا چیز اتنی بڑے موضوع کو چند سطروں میں سمیٹنے کی جسارت کر سکتا ہے۔

    لیکن ساری دنیا کے مسلمانوں کے زوال کی ایک ہی کہانی ہے اور وہ ہے اسلام سے دوری۔

    اور اسی کے بر عکس ہمارے اسلاف کی عروج کی وجہ بھی یہی رہی۔ اسلام پر قائم رہ کر دنیا مسخر کرنے والوں کی نسلوں نے جیسے جیسے اسلامی اقدار کو چھوڑ کر مغرب کی تقلید شروع کی ویسے ویسے زوال پزیر ہوتے گئے۔ اور اب حال یہ ہے کہ آج کے جدید دور میں ہمارے معاشرے میں کسی کا معیار اگر پرکھا جاتا ہے تو اس کی بنیاد یہ سمجھی جاتی ہے کہ آیا یہ خاندان یا فرد مغربی تہذیب کے کس قدر قریب ہے۔ اور یہ اندھی تقلید ہی ہماری پروان چڑھتی نسلوں کی ذہنی غلامی کا باعث بن رہی ہے۔ ہمارے عقیدے اس قدر کمزور ہو چکے ہیں کہ اللہ پر ایمان صرف کتابوں میں پڑھنے کی حد تک رہ گیا ہے۔ ایمان کی کمزوری ہی کہ وجہ سے ہم حلال و حرام کی تمیز کرنا بھی بھول چکے۔ ہمیں اس بات کا کوئی ادراک نہیں ہے کہ ہماری کمائی کن ذرائع سے آ رہی ہے۔ سود کے خلاف اللہ پاک نے خود اعلان جنگ کیا لیکن اسلام کے نام پر حاصل ہونے والے ملک کا سارا معاشی نظام سود پر چل رہا ہے۔ اسلام کو غالب کرنے کا حکم ہے لیکن ہم محکوم اور مغلوب ہو کر رہنا پسند کر چکے۔ ہمارے سکولوں کے نصاب تک مغرب کی منظوری کے بغیر مرتب نہیں کیئے جا سکتے۔ جہاد اور قتال سے ہم نا آشنا ہو کر رہ گئے۔ اللہ پاک نے بھی ان مؤمنوں کے ساتھ فرشتوں کی مدد کا وعدہ کیا ہے جو اللہ کی راہ میں اللہ کے احکامات پر عمل پیرا ہوں۔ بحیثیت قوم ہم بکھرے پڑے ہیں۔ فرقہ واریت، ذات پات ہمارے اندر ایک نا سور بن چکی ہے۔ مسلماں ایک دوسرے کے خلاف آمنے سامنے کھڑے ہیں۔ معاشرتی برائیاں اس قدر سرایت کر چکی ہیں کہ کسی کے ہاتھ سے کوئی دوسرا محفوظ نہیں۔ بے ایمانی، جھوٹ اور دھوکہ دہی میں ہم  بہت اوپر کے نمبروں پر جا چکے ہیں۔ بلکہ ایماندار قوموں میں غیر مسلم ممالک پہلے نمبرز پر ہیں۔

    جب ہر فرد کسی نا کسی دھوکے اور چکر فراڈ میں اپنا ذہن لڑانےمیں لگا ہو ہو پھر اس قوم اور ملک میں سائینس دان، فلاسفر اور موجد پیدا نہیں ہوتے بلکہ چور ڈاکو اور لٹیرے ہی جنم لیتے ہیں۔ پھر ہر بندہ اپنی استطاعت کے مطابق ملک کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ایک 6 گریڈ کا سرکاری ملازم چند سو روپے سے چند ہزار کی کرپشن کرے گا تو گریڈ 18 سے 20 کا آفسر لاکھوں کروڑوں کی بلکہ موقع ملنے پر اربوں کھربوں روپے کی کرپشن بھی کرے گا۔ یہاں لوٹ مار اور کرپشن سے صرف وہ شخص بچا ہے جسے آج تک موقع نہیں ملا۔ جب  ایسے افراد مل کر معاشرہ اور قوم بنتے ہیں تو پھر وہ دنیا پر حکمران نہیں ہوا کرتے بلکہ غلامی ہی ان کا مقدر ہوا کرتی ہے۔

    اور اس کی وجہ علامہ محمد اقبال نے ایک شعر میں بیان کر دی

    وہ معزز تھے زمانے میں مسلمان ہو کر

    اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآن ہو کر  

    قرآن سے دوری ہی ہر برائی کی جڑ ہے

    اور پھر ہر برائی مل کر تباہ حال معاشرے کی بنیاد بن چکی اور یہی تباہ حال معاشرے ہمیں کبھی ایک قوم نہیں بننے دے سکتے۔

    جب ہم اپنا موازنہ بحیثیت قوم دوسری اقوام سے کرتے ہیں تو ان کی ترقی اور عروج کی ایک ہی وجہ معلوم ہوتی ہے۔ کہ انھوں نے وہ تمام اسلامی اصول اپنا لیئے جن پر عمل کرنے کا حکم ہمیں تھا۔ وہ تمام غیت مسلم لوگ جھوٹ فراڈ ، دھوکہ دہی اور کرپشن سے دور ہو کر دنیا کی سپر پاور کہلائے جب کہ ہم یہ سب ترک کرتے گئے اور پست ہوتے گئے۔ 

    ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے بڑے عہدے داران کی کرپشن کی داستانیں اپنے بچوں کو سنا کر ان کی ذہن سازی ایک غلط کام کی طرف کرنے کے بجائے اسلام کی نامور شخصیات کے عروج کی داستانیں اور اس عروج تک جانے کا نسخہِ اسلام بتایا کریں تا کہ یہ بد حالی اگلی نسلوں کے ذہنوں سے نکال کر ہی ایک نیا معاشرہ اور قوم تیار کر سکیں۔

  • فخر ملت، شہید ملت  نوابزادہ لیاقت علی خان تحریر: کائنات فاروق

    فخر ملت، شہید ملت نوابزادہ لیاقت علی خان تحریر: کائنات فاروق

     

    بات کرتے ہیں پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم نواب زادہ لیاقت علی خان کی، جیسا کہ اکتوبر کے مہینے کا آغاز ہوچکا ہے اور یہ مہینہ نہ صرف شہید ملت کا ماہ پیدائش ہے بلکہ ماہ وفات بھی ہے۔ آج کی تحریر میں اُن کے کردار، جدوجھد، اور پاکستان کے لیے قربانیوں کا ذکر کریں گے۔ تحریر کے آغاز میں نواب زادہ لیاقت علی خان کی ابتدائی زندگی پر ایک سرسری نظر ڈالتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔

    آپ ہندوستان کے علاقے کرنال میں ایک نامور نواب گھرانے میں 2 اکتوبر، 1896ء کو پیدا ہوئے۔ آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم گھر میں ہی مکمل کی اور ایم اے او کالج علی گڑھ سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی، آکسفورڈ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری لی اور 1922ء میں انگلینڈ بار میں شمولیت اختیار کرلی۔

    انگلینڈ سے واپسی کے بعد آپ نے اپنی سیاسی زندگی کے آغاز کا فیصلہ کیا۔ آپ نے قائد اعظم محمد علی جناح کے زیر قیادت مسلم لیگ میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی۔ 1926ء میں میں آپ اتر پردیش سے قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 1940ء میں مرکزی قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہونے تک آپ یو پی اسمبلی کے رکن رہے۔

     

    آپ نے نہ صرف اپنا کردار پاکستان کے حصول تک نبھایا بلکہ پاکستان بننے کے بعد بھی اپنی زندگی اس ارض پاک کے لیے وقف کردی۔ تحریک پاکستان کی جدوجھد میں قائداعظم کے شانہ بشانہ رہے اور آزادی کے بعد اپنا سب کچھ ترک کرکے پاکستان چلے آئے۔ نواب آف کرنال کے ثبوت ہونے کے باعث آپ کے رہن سہن کے ٹھاٹھ باٹھ ایسے تھے کہ جب آپ انگلینڈ تعلیم حاصل کرنے گئے تو آپ کے ہمراہ خانساماں اور ملازمین بھی گئے، آپ کے ہاں ایک وقت کا کھانا چالیس افراد سے کم کا نہ بنا کرتا تھا۔ لیکن پیارے وطن کے حصول کی جدوجھد سے لے کر اسے اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے تک کی جدوجھد تک آپ نے اپنا آپ فراموش کرکے نہایت سادہ زندگی گزاری۔ نہ صرف اپنی تمام جائیدادیں پاکستان کو وقف کردیں بلکہ جب آپ وزیر اعظم بنے تو آپ نے سرکاری خزانے کا بےجا استعمال کرنے سے بھی گریز کیا۔ حتٰی کہ تاریخ میں درج ہے کہ نواب خاندان کو غربت کے باعث پھیکی چائے پیتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔

    نواب لیاقت علی خان کے یہ تاریخی جملے اُن سے اس ملک کی محبت کی  ترجمانی کرتے ہیں،

    1951ء میں یوم پاکستان کے موقع پر لیاقت علی خان نے کراچی میں ایک جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

     

    "مجھے معلوم نہیں کہ قوم کے اعتماد اور اس کے خلوص کو کس طرح بحال کیا جا سکتا ہے، میرے پاس جائیدادیں نہیں ہیں،میرے پاس امرا نہیں ہیں مجھے خوشی ہے کہ میرے پاس یہ چیزیں نہیں ہیں، کیونکہ یہ آدمی کے یقین کو متزلزل کر دیتی ہیں۔ میرے پاس صرف میری زندگی ہے اور وہ بھی پچھلے چار برسوں سے پاکستان کے نام وقف کر چکا ہوں۔ مَیں اس کے سوا اور کیا دے سکتا ہوں،مَیں وعدہ کرتا ہوں کہ اگر پاکستان کے دفاع کے لئے قوم کو خون بہانے کی ضرورت پڑی تو لیاقت کا خون بھی اس میں شامل ہو گا”۔

    اور بیشک تاریخ نے آپ کے ان جملوں کو من و عن سچ ثابت کیا۔ 

    آپ نے بطور وزیر دفاع، وزیر خارجہ، وزیر خزانہ اور وزیراعظم پاکستان، اپنے فرائض کو بخوبی نبھایا۔

    وہ پزیرائی جو آپ کے پیش کردہ بجٹ کو عوامی سطح پر ملی کو آج تک کسی دوسرے بجٹ کو حاصل نہ ہوسکی۔

    متحدہ برطانوی ہندوستان کے پہلے اور آخری وزیر خزانہ لیاقت علی خان کے 1947-48ء کے بجٹ کو عوام قبول بجٹ کا درجہ حاصل ہوا تھا۔ تاریخ میں اس بجٹ کو غریبوں کے بجٹ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے کیونکہ اس کی تمام پالیسیوں کا رُخ امیروں سے دولت لے کر غریبوں کی طرف منعطف کرنا تھا۔ آپ نے اپنے عمل اور پالیسیوں سے یہ ثابت کیا کہ آپ کو نہ صرف پاکستان سے والہانہ محبت ہے بلکہ آپ کس قدر غریب عوام کا درد رکھتے ہیں۔

     

    پاکستان کا پہلا سیاسی قتل 16 اکتوبر کو ہوا تھا- جو کہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کا قتل تھا۔ ان کو 16 اکتوبر 1951ء کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں گولی مار کر شہید کر دیا گیا تھا، آپ کے آخری الفاظ تھے "خدا پاکستان کی حفاظت کرے”.

     

    افسوس کہ آج ہم نے ایسی شخصیت کو فراموش کردیا ہے جن کی وطن عزیز کی خاطر قربانیوں کی مثالیں لازوال ہیں۔ حال ہی میں سندھ حکومت کی جانب سے ملک کے نامور کامیڈین عمر شریف کے انتقال پر یہ اعلان کیا گیا ہے کہ کراچی کو "شہید ملت انڈرپاس” کا نام تبدیل کرکہ اسے عمر شریف کے نام سے منسوب کیا جائے گا جو کہ نہایت ہی غیر مناسب ہے۔ کسی بھی ایسی جگہ کا نام تبدیل کرنا جو کہ محسن ملت، شہید ملت نوابزادہ لیاقت علی خان کے نام سے منسوب ہو ٹھیک عمل نہیں، خان صاحب جیسی شخصیت پوری قوم کے لیے مشعل راہ ہے اور ہم انھیں جتنا بھی خراج تحسین پیش کریں وہ کم ہوگا۔

     

    @KainatFarooq_

  • الیکٹرانک میڈیا کا دوہرا معیار تحریر:بابر شہزاد

    الیکٹرانک میڈیا کا دوہرا معیار تحریر:بابر شہزاد

    میڈیا کسی بھی ملک کا ایک اہم ستون سمجھا جاتا ہے کیونکہ معاشرے کے نکھار اور بگاڑ میں میڈیا کا کلیدی کردار ہوتا ہے کہ جب تک یہ لوگ بلا کسی حیل و حجت کے معاشرے کی برائیوں کی نشان دہی کرتے رہتے ہیں تب تک اس اہم ستون کی اہمیت برقرار رہتی ہے لیکن جیسے ہی یہ تفرقہ شروع کر دیں اور چاپلوسی پر اتر آئیں تو اپنی ساکھ اور اہمیت کھو دیتے ہیں۔

    میں اپنی اس بات کو کچھ سادہ مثالوں سے ثابت کروں گا کہ کیسے کچھ نام نہاد صحافیوں نے صحافت کا لبادہ اوڑھ کر دوسروں کے ایجنڈے پر کام کیا۔ ن لیگی دور حکومت میں عائشہ گلالئی جو کہ تحریک انصاف کی مخصوص نشستوں پر ایم این اے بن کر اسمبلی میں براجمان تھیں تو نہ جانے کس کی ایماء پر اس نے اس وقت من گھڑت کہانی میڈیا کے سامنے پیش کر دی کہ کیسے عمران خان اور اس کے موبائل پر پیغام بھیجتے ہیں اور اس کو ہراساں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بس اس کی پریس کانفرنس کرنے کی دیر تھی کہ میڈیا کی بھیڑیں بغیر کسی ثبوت کے عمران خان پر چڑھ دوڑے اور روزانہ رات کے ٹاک شوز میں عدالتیں لگتیں اور روزانہ عمران خان کو سزا دینے کے متلاشی نظر آتے۔ اور تو اور ایک بڑے تگڑے صحافی نے یہ تک کہہ دیا کہ اس نے گلالئی کے موبائل میں عمران خان کے پیغامات دیکھے ہیں جس کو دیکھنے کے بعد وہ س نتیجے پر پہنچا ہے کہ گلالئی کے الزامات میں صداقت ہے۔ ہر طرف ایک طوفان بدتمیزی برپا تھا اور روزانہ کی بنیاد پر اس کی پگڑی اچھالی جاتی لیکن نہ تو کوئی ثبوت عدالتوں میں پیش کیا گیا اور نہ ہی کوئی سزا ہوئی اور سب ڈرامہ وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہو گیا لیکن ان نام نہاد صحافیوں نہ کبھی شرم آئی کہ اپنے کیے ہوئی پروگرامز پر معافی ہی مانگ لیتے اور نہ ہی گلالئی اس کے بعد منظر عام پر آئیں کہ اس خاتون نے پیسوں کی خاطر اپنی عزت تک داؤ پر لگا دی۔ یہ کوئی پہلا واقع نہیں تھا کہ مخالفین نے عمران خان کو نیچا دکھانے کے لیے ایسے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے کیونکہ اس سے پہلے یہودی ایجنٹ کا نعرہ بھی لگایا گیا اور ریحام خان کی قسط بھی سب کو یاد ہے کہ کیسے مطلقہ ہونے کے بعد اس نے عمران خان کی کردار کشی کی اور اب تک کر رہی ہے لیکن کمال کا حوصلہ اور ہمت ہے عمران خان میں کہ کبھی مخالفین کو ان کی طرح جواب نہیں دیا۔ عائشہ گلالئی اور ریحام خان نہیں انتہائی غلیظ الزامات لگائے اور روزنہ کی بنیاد پر لگاتیں تھیں لیکن خان صاحب نے کبھی ان کو جواب دینا بھی مناسب نہ سمجھا بلکہ اپنے ساتھیوں کو بھی ان کی زبان میں جواب دینے سے منع کیا۔

    اب آ جاتے ہیں اور تازہ واقع کے اوپر کہ کچھ دن قبل سابقہ ن لیگی گورنر اور پاکستان مسلم لیگ ن کا اہم رہنما زبیر عمر کی نازیبا ویڈیوز وائرل ہوئیں جس میں گورنر صاحب کی خواتین کے ساتھ رنگرلیوں کو ہر کسی نے دیکھا کہ کیسے اپنی بیٹیوں کی عمر کی لڑکیوں کے ساتھ ان کو نوکری اور پتہ نہیں کیا کیا جھانسا دے کر اپنے بستر کو گرم کرتے رہے۔ بہت ہی چونکا دینے والی ویڈیوز تھیں اور میڈیا کے لیے بہت بڑی خبر بھی تھی لیکن چونکہ یہ عمران خان نہیں تھا لہذا نہ تو کوئی ٹاک شو ہوا اور نہ اس بار کوئی بھی صحافی ان غریب لڑکیوں کی آواز بنا جو اس درندے نما انسان کی حوس کا نشانہ بنیں۔

    اگر خدانخواستہ یہ ویڈیوز عمران خان یا کسی تحریک انصاف کے رہنما کی ہوتیں تو اب تک ان نام نہاد صحافیوں نے لڑکیوں کی مشک کو پہچانتے ہوئے کئی پروگرام کر لیے ہونے تھے لیکن چونکہ یہ ن لیگی رہنما کی ویڈیوز ہیں تو نہ تو کوئی لڑکی کے گھر تک پہنچا اور نہ ہی کسی صحافی نے زبیر عمر سے سوال پوچھنے یا اس کے خلاف پروگرام کرنے کی جسارت کی بلکہ کچھ خاتون صحافیوں سمیت بعض صحافیوں نے تو باقاعدہ اس کا ساتھ دیا کہ سوشل میڈیا صارفین بہت تنقید کر رہے تھے تو کچھ صحافی حضرات باقاعدہ طور پر زبیر عمر کے ترجمان کے طور پر اس کا دفاع کر رہے تھے جو کہ انتہائی حیران کن بات ہے۔

    تو قارئین آپ نے دیکھا کہ ہمارے میڈیا اور خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا میں کیسے منافقت کی جاتی ہے اور صرف وہی خبریں مرچ مصالحے ڈال کر سنائی جاتی ہیں جن کے بدلے میں بہت سے مالی فوائد میسر ہوں۔ صحافت ایک مشکل پیشہ ہے ان لوگوں کے لیے جو محنت کرتے ہیں اور معاشرے کی اصلاح کے لیے کام کرتے ہیں لیکن آج کل کے صحافیوں نے اس پیشے کو بدنام کر کے رکھ دیا ہے کیونکہ وہ صحافی صرف اور صرف پیسے کو اپنے خدا سمجھ بیٹھے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ پاک انہیں اپنے پیشے کے ساتھ انصاف کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔ 

    Twitter handle: @babarshahzad32

  • پارلیمانی نظام یا صدارتی نظام تحریر :محمد احمد

    پارلیمانی نظام یا صدارتی نظام تحریر :محمد احمد

    برصغیر پاک و ھند پر صلیبی سامراج کے قبضے کے تحت Colonialism کا بہت اثر رہا عام رعایا اور خواص کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ تھا جو کہ قیام پاکستان اور ھندوستان کے بعد بھی جاری رہا اور آج بھی اسکے اثرات دونوں ممالک پر بدرجہ اتم موجود ہیں۔
    برطانیہ کا رائج شدہ پارلیمانی جمہوری نظام ھند و پاک میں بھی اپنایا گیا جو کہ اپنی اچھی یا بری حالت میں چل رہا ہے ۔عوام کو اپنے شہروں میں مختلف جماعتوں کے ٹکٹ ہولڈر کو ووٹ دینا ہوتا ہے جسکی بنیاد پر وہ پارلیمنٹ میں جاکر اپنی پارٹی کے شخص کو ووٹ کرکے لیڈر آف ہاوس منتخب کرتے ہیں اور وہی ملک کا وزیر اعظم بنتا ہے۔
    یہ نظام پوری طرح ڈلیور نہیں کرپا رہا ۔
    کیوں ؟ اسکی چند اہم وجوہات ہیں
    1۔ ایک پارٹی کا سربراہ نیک ایماندار ہے لیکن اس شخص نے اپنا ٹکٹ کسی ایسے شخص کو دیا ہے جو چور ہے رسہ گیر اپنے علاقے میں مشہور ہے اور لوگوں پر اسکا خوف ہے تو وہ electable کہلاتا ہے اور وہ جیت جاتا ہے ۔ ایسے میں وہ شخص پارلیمنٹ میں پہنچ گیا اس نے اپنے ذاتی مفادات کا تحفظ کرنا ہے عوام کو کچھ نہیں ملنا ۔
    2۔ کوئی ایسا پارٹی لیڈر جو کرپٹ ہے چور ہے لیکن اسکا ٹکٹ ہولڈ نیک اور ایماندار ہے ۔ اب کیا اس ٹکٹ ہولڈر کو ووٹ دیا جائے جسکی وجہ سے کرپٹ شخص حکمران بن سکتا ہے ؟ ظاہر ہے یہ ایک گھمبیر مسئلہ ہے۔
    3۔ اس نظام میں electable کافی اہمیت رکھتے ہیں جو الیکشن سے پہلے چلنے والی ہوا کا رخ دیکھ کر اسکے ساتھ جانے کا فیصلہ کرتے ہیں اور جیتنے کے بعد ہمیشہ اقتدار میں رہ کر اپنا لوٹ مار تھانہ کلچر کرپشن رشوت کا بازار گرم رکھتے ہیں اور حکومتوں کو بلیک میل کرتے ہیں ۔ انکو ہم electable مافیا کہہ سکتے ہیں۔
    4۔ پاکستان جیسے ملک میں وڈیرہ شاہی اور اثر رسوخ والے امیر اور جدی پشتی سیاسی لوگوں کو زیادہ پذیرائی دی جاتی ہے۔ کوئی ایسا شخص جو کہ پڑھا لکھا ہو اور سماج میں کچھ بہتری لانے کے لیے عملی سیاست میں حصہ لینا چاہتا ہو تو اسکے لیے اول تو کسی پارٹی کے اندر جگہ بنانا بہت مشکل ہے اور اگر سفید پوش شخص ہے تو اور بھی زیادہ مشکل ہوجاتا ہے کہ وہ سیاست کو وقت دے یا اپنے روزگار یا کاروبار کو ۔ ایسا شخص آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے تو جیتنا ناممکن ہے کیونکہ الیکشن جیتنے کے لیے ذاتی ووٹ کے ساتھ ساتھ پارٹی ووٹ بھی چاہیے ہوتا ہے۔
    5۔ کسی ایسے شخص کو جوکہ صاف ستھری شخصیت والا کم پیسے والا ہو اسکو ٹکٹ مل جائے اور اسکے مقابلے میں کوئی بدمعاش غنڈہ کو ٹکٹ مل جائے تو لوگ ووٹ کسی شریف آدمی کی بجائے بدمعاش غنڈے کو دینا پسند کرتے ہیں کیونکہ اسکا علاقے میں خوف ہوتا ہے اور وہ تھانے میں پرچہ ، زمین پر قبضہ اور دیگر دھمکیوں کی وجہ سے لوگوں پر اثر رکھتا ہے ۔ ایسے لوگوں کے ڈیروں پر کریمنل اور کرپٹ حضرات کا اکثر ڈیرہ رہتا ہے جو کہ اس سیاست دان کے لیے ہر اچھا برا کام بھی کرتے ہیں اور علاقے کا SHO بھی اس سے ملا ہوا ہوتا ہے۔ ایسی پریکٹس اکثر دیہاتی اور پسماندہ علاقوں میں بہت زیادہ کی جاتی ہے جوکہ پاکستان کا بیشتر حصہ ہے۔
    6۔ الیکشن سے پہلے ووٹ خریدے جاتے ہیں فی شناختی کارڈ 1000 روپے کا ووٹ کا ٹرینڈ تو کافی علاقوں سے رپورٹ ہوا ہے ۔ الیکشن سے پہلے 10 سے 15 ہزار لوگ ایسے غریب لوگ جو کہ ووٹ بیچنا چاہتے ہیں ضرور مل جاتے ہیں جو کہ 1000 روپے نقد لیکر حلف دیتے ہیں کہ ہم ووٹ ڈالیں گے ۔ اب اس پری پول دھاندلی کا کوئی سدباب نہیں ہے۔
    7 ۔ ملک کے اکثر بالخصوص دیہاتی اور پسماندہ علاقوں میں ہر محلے قصبے یونین کونسل پر ایک ایسا شخص موجود ہوتا ہے جو اس علاقے کا سو کالڈ بڑا ہوتا ہے وہ اس علاقے کی ہر خوشی غمی میں شریک رہتا ہے اور انکے تمام انتظامی و دیگر حکومتی مسائل میں انکا ساتھ دیتا رہتا ہے گلی محلے کے چھوٹے موٹے کاموں میں لوگوں کی ھیلپ کرتا رہتا ہے( مقامی MNA یا MPA کی مدد اور تعاون سے ) تو الیکشن دنوں میں وہ اپنے علاقے میں ٹکٹ ہولڈر سے پیسے لیکر جلسے بھی منعقد کرواتا ہے اور الیکشن دنوں میں ووٹ کے نام پر پیسہ اور مراعات بھی لیتا رہتا ہے۔ وہ شخص اس علاقے کی قسمت کافیصلہ کرتا ہے اور اکثر لوگ اسکے کہنے پر بھی ووٹ ڈالتے ہیں۔
    8۔ ہمارے سامنے بے شمار ایسی مثالیں موجود ہیں کہ الیکشن دنوں میں امیر "ترین” لوگ کیسے کروڑوں روپے خرچ کرتے ہیں یونین کونسل لیول پر اثر رکھنے والوں کو جو زیادہ بڑے ہوتے ہیں انکو 1300 CC گاڑیاں ، ان سے کم اثر رکھنے والوں کو 800 cc گاڑیاں اور جانفشانی سے کام کرنے والے لوگوں کو موٹرسائیکل تک گفٹ کرتے ہیں تاکہ وہ لوگ زور لگا کر الیکشن لڑیں اور ووٹر کو جیسے تیسے منائیں اور الیکشن کے دن لوگوں کو نکال کر پولنگ بوتھ لیکر جائیں اور جب شام کو رزلٹ آئے تو اپنے ٹکٹ ہولڈر کو اپنے علاقے یا محلے یا پولنگ بوتھ کا رزلٹ دے سکیں اور اقتدار میں آنے کے بعد مزید قریب آکر مزید مزے کرسکیں ۔
    9۔ بےشمار علاقے بالخصوص اندرون سندھ میں ایسے ہیں جنکا تعلیمی معیار اتنا ہے یا انکو آگہی اتنی ہوتی ہے کہ وہ اپنے ملک کے صدر کا نام تک نہیں جانتے ہوتے اور الیکشن کے دن پر انکو گاڑیوں میں بھر بھر کر لے جایا جاتا ہے اور کہا جاتا کہ بس اس نشان پر ٹھپہ لگانا ہے اور وہ بغیر کسی چوں چراں کے ٹھپہ لگا کر آتے ہیں ۔ اور ساری زندگی نعرے لگاتے گزر جاتی ہے کہ فلاں زندہ ہے اور فلاں جیوے۔ سالہا سال سے یہ پریکٹس جاری ہے اور انکی ابتر حالت کبھی بھی نہیں بدلی نہ پینے کا صاف پانی میسر ہے نہ علاج کی سہولیات اور نہ ہی بچوں کو سکول مہیا ہیں۔
    10۔ ہمارے پارلیمانی نظام سے فائدہ اٹھانے والے حکمرانوں نے ایک بات بہت پہلے سے سمجھ لی تھی کہ پاکستان کو خواندگی اور آگہی کی طرف نہیں لیکر جانا ۔ عوام کی جہالت اور کم علمی ہی انکو لیڈر بنانے میں سب کلیدی کردار ادا کرے گی ۔ جو شناختی کارڈ کے عوض ووٹ بیچ سکیں ، جو فقط بریانی کی پلیٹ پر ووٹ ڈال سکیں، جو کرپٹ حکمرانوں کے بارے میں یہ رائے رکھیں کہ کھاتا ہے تو لگاتا بھی تو یے ، جو خوف اور دہشت کی وجہ سے ووٹ دے سکیں ، جو علاقے پر اثر رسوخ رکھنے کی وجہ سے ووٹ دے سکیں ایسے لوگ یقینا” پڑھے لکھے تعلیم یافتہ نہیں ہوسکتے ۔ اسلیے جان بوجھ کر لوگوں کو ان پڑھ رکھا جاتا رہا تاکہ انکے اقتدار کو طول مل سکے۔

    11۔ ہر 3 سال بعد جب سینیٹ کا الیکشن آتا ہے تو یہی MNA اور MPA اپنی بولی لگواتے ہیں، اپنے ضمیروں کا سودا کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کو ووٹ دیتے ہیں جو زیادہ پیسے خرچ کرتا ہے اور زیادہ اچھی بولی لگاتا ہے ۔

    پاکستان کو صدارتی نظام زیادہ سوٹ کرتا ہے جس میں عوام کو اپنے شہر کے کرپٹ یا ایماندار شخص کو ووٹ دیکر اپنے ملک کی قسمت کا فیصلہ انکے ہاتھ میں نہیں دینا ہوتا جو پارلیمنٹ میں جاکر اپنا ووٹ بیچ کر نجانے کس کو ہم پر مسلط کرنے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے عوام براہ راست لیڈر کا انتخاب کرتی ہے جو کہ اصل جمہوریت ہے اور بقول مرحوم مولانا ڈاکٹر اسرار احمد صدارتی نظام اسلامی شرعی نظام سے قریب تر اور پارلیمانی نظام سے بہتر ہے ایسا شخص جسکو عوام نے ڈائریکٹ ووٹ دیکر منتخب کیا وہی شخص عوام کی اصل نمائندگی کا حقدار ہے اور وہی اس مملکت خداداد اور عوام کے لیے بہتر کام کرسکتا ہے۔ مفلوج و ناکارہ پارلیمانی نظام کے تحت بہتری کی گنجائش بہت کم ہے اس نظام کو کرپٹ ایلیٹ جو کہ پیسے کی بدولت اقتدار کے ایوانوں کا حصہ بنتی ہے اپنے کاروبار اپنے خاندان کے لیے کام کرتی ہے ۔ کتنے ہی سیاستدان ایسے آئے جو اقتدار میں آنے سے پہلے تو کم امیر تھے اقتدار میں آنے کے بعد سپر امیر ہوگئے کاروبار جائداد گاڑیاں اتنی زیادہ بنا لیں بیرون ملک جائیداد بنا لی بچے ملک سے باہر رہنے اور پڑھنے لگے۔ بڑے بڑے شوگر و انڈسٹری مافیا ، رئیل سٹیٹ مافیا ،قبضہ گروپ مافیا پیسے کی وجہ سے الیکشن جیت کر پارلیمان میں آئے اور اپنے کرپشن کا دفاع بھی کیا اور مزید فائدہ اور مراعات بھی حاصل کیں۔

    پاکستان میں پارلیمانی نظام کی بجائے صدارتی نظام ہونا چاہئے ۔
    @EyeMKhokhar

  • فیک نیوز اور معصوم زندگیاں  تحریر محمد ناصر بٹ

    فیک نیوز اور معصوم زندگیاں تحریر محمد ناصر بٹ

    @mnasirbuttt

    مجھے یاد ہے جب سال 2015 میں ایک امریکی کمپنی کے ساتھ جاب کے دوران اچانک سے مجھے دوست کی کال میں یہ آگاہ کیا گیا کہ میرا پنجاب یونیورسٹیز کے انسٹیٹیوٹ آف کمیونیکیشن سٹڈیز کے ایم ایس سی میڈیا سٹڈیز کے پروگرام میں نام میرٹ لسٹ کا حصہ بن چکا ہے اور یہ خبر ملنے کی دیر تھی کہ نامور صحافی حامد میر صاحب کا خیال ذہن میں گردش کرنے لگا کیونکہ یہ ہی وہ شخصیت تھی جس کی وجہ سے پاکستان میں میڈیا کی تعلیم حاصل کرنے کا خواہشمند ہر دوسرا سٹوڈنٹ جامعہ پنجاب کے اس ڈیپارٹمنٹ کا حصہ بننا چاہتا تھا کیونکہ ناصرف حامد میر بلکہ ملکی و غیر ملکی میڈیا میں ورکرز سے لیکر اہم پوزیشنز پر براجمان زیادہ تر صحافیوں کا تعلق اسی ادارے سے تھا تو الیکشن 2013 میں پیدا ہوئے شوق کو عملی جامہ پہننانے کی جدوجہد کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا، پہلے سمسٹر میں تو کلاس فیلوز کے ساتھ یونیورسٹی کی خوبصورتی سے محظوظ ہوا گیا لیکن جلد ہی لاہور کے ایک نجی چینل سے بطور اینکر کام کا آغاز کر دیا، 2016 سے لیکر آج تک 3 صحافتی اداروں میں کام کرتے وقت سب سے اہم چیز جس نے مجھے پریشان رکھا وہ فیک نیوز تھی، میں نے کوشش کی کہ اس لعنت سے دور رہوں اور الحمدللہ یہ کرنے میں کسی حد تک کامیاب بھی رہا لیکن سوشل میڈیا کا عروج جعلی خبروں کی منڈی میں خام مال بیچنے والوں کو بھی ہیرو کی مانند پیش کرنے لگا، فیک نیوز میں اکثر ہمارے اخبارات، ٹی وی چینلز کی جانب سے بھی منفی و غیر ذمہ دار رپورٹنگ ہوئی لیکن اس تباہی میں زیادہ کردار سوشل میڈیا پر بیٹھے نام نہاد صحافیوں نے ادا کیا، کاپی پیسٹنگ کے کلچر نے وقتی طور پر تو کئی اکاؤنٹس کو لائکس و فالوورز بڑھانے میں تو مدد دی لیکن ساتھ ہی ساتھ جعلی خبروں سے متاثرہ افراد کی تعداد میں بھی روز بروز اضافہ ہوتا چلا گیا، کچھ ماہ پہلے لاہور کی ایک طالبہ نے کالج پروفیسر پر ہراسگی کا الزام لگایا اور کالج پروفیسر کے خلاف ایک سوشل میڈیا مہم کا آغاز کیا، کچھ روز تک جب پروفیسر صاحب کا سوشل میڈیا پر خوب پوسٹ مارٹم ہو گیا تو ان کو خود کشی کرنی پڑی لیکن بعد ازاں تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ امتحان میں کم نمبرز دینے کی وجہ سے طالبہ نے استاد کو بدنام کیا لیکن کیا کریں بہت دیر ہوچکی تھی قوم ایک معمار سے محروم ہوچکی تھی لیکن وجہ ایک فیک نیوز تھی جسے بغیر تحقیق کے آگے شئیر کیا جاتا رہا، بغیر پاؤں بغیر ہاتھ جعلی خبر اس قدر تیزی سے گردش میں آئی کہ دیکھنے والے یقین ہی کر بیٹھے، ہمارے یہاں آئے روز پاکستانی سٹوڈنٹس کی جانب سے بھی ٹویٹر پر ٹرینڈنگ کی جاتی ہے جس میں حکومت سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ طلباء کے حقوق سلب کرنے کی بجائے کورونا کی وجہ سے ہوئے نقصان کا ازالہ ریلیف کی صورت میں کریں تاکہ نہ ہی سال کا ضیاع ہو اور نہ ہی تعلیم کا جس کے بعد حکومت کی جانب سے بین الالصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس میں سٹوڈنٹس کے لیے اہم فیصلہ سازی کی گئی تاہم یہاں بھی لاکھوں سٹوڈنٹس کے ہجوم میں کچھ مفاد پرست ٹولے کے اراکین نے صورتحال کا خوب فائدہ اٹھایا اور فیک نیوز کے ذریعے بچوں کے دلوں دماغ پر غالب ہونے کی کوشش کی گئی، کبھی امتحانی نتائج کی خود ساختہ تاریخ تو کبھی پروموشن پالیسی کی منظوری نہ ہونے کی خبروں نے کئی سٹوڈنٹس کی زندگی اجیرن بنا دی، میٹرک انٹرمیڈیٹ کے سٹوڈنٹس نے جہاں اپنے ہی ہم جماعتوں کے دکھ کو آواز دی اور ایوانوں تک پہنچایا وہیں کچھ ہم جماعتوں نے میٹرک پاس صحافی بننے کی خواہش دل میں لیے سٹوڈنٹس کو جعلی و خود ساختہ خبروں کی منڈی کے گاہک بنانے کی بھی کوشش کی، دیکھ کر دکھ بس اتنا ہوا کہ معصومیت کے سمندر میں بہنے والے کئی سٹوڈنٹس ان جعلی ہتھکنڈوں کا شکار ہو بھی گئے اور امیدوں کی تسبیح پرونے کا آغاز کر دیا لیکن ایسا ہونا نئی بات نہیں، مجھے یاد ہے پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کا لاہور مال روڈ پر لیگی حکومت کے خلاف احتجاج جاری تھا کہ ہمارے ایک سینئر صحافی نے خبر دی کہ آج اس سٹیج سے پی ٹی آئی خیبرپختونخواہ اسمبلی اور پیپلزپارٹی سندھ اسمبلی سے احتجاجا استعفوں کا اعلان کرے گی اور پاکستان کے ایک بڑے چینل نے اس خبر کو بطور بریکنگ نیوز اپنے ناظرین کی نظر بھی کر ڈالا لیکن بعد میں ایسا نہ ہو سکا لیکن معروف صحافی آج بھی بڑے فخر سے ٹی وی پر بیٹھ کر اسی رفتار سے جھوٹ بولتے نظر آتے ہیں، زلفی بخاری کی بہن کو اہم سرکاری عہدے دینے کی خبر ہو یا خاتون اول بشری عمران خان کی بہن کو ایچ ای سی میں نوازنے کی باتیں یا ان کی جانب سے دوران عدت ایام عمران خان سے شادی کرنے کا پروپیگنڈہ، کسی بھی صورتحال میں نہ ہی خبر دینے والے نے معافی مانگی اور نہ ہی بعد ازاں کہیں اظہار شرمندگی کرتے دکھائی دئیے، اسلام نے خبر کی تصدیق پر بڑے واضع انداز میں زور دیا لیکن ہم بغیر کسی تصدیق کے خبروں کو آگے شئیر کرنا باعث ثواب سمجھ بیٹھے ہیں، صحافتی ذمہ داراریوں کی ادائیگی سے جہاں ایک طرف مظلوم کی آواز بن کر انصاف کی فراہمی یقینی بنانے ہوئے جنت کی راہداریوں پر قدم رکھا جاسکتا ہے وہیں دوسری جانب جعلی اور غیر تصدیق شدہ خبروں سے کسی نے جذبات سے کھیلنے اور مظلوم کی بجائے ظالم کا آلہ کار بنتے ہوئے جہنم کی آگ کا ایندھن بھی مقدر بن سکتا ہے اس لیے صحافتی اقدار یہ ہی ہیں کہ بجائے نام نہاد زرائع کی باتوں پر اعتماد کی نظریں جمائی جائیں کوشش یہ ہو کہ دیر آئے درست آئے کا ماجرا ہو کہ جب بھی خبر دیں آپ کے قارئین آپ کے سامعین یا ناظرین سب کی معلومات میں اضافہ ہو اور ان کے لیے مفید بھی بن سکیں

  • مہنگائی قابو کرنے کا آسان طریقہ تحریر زوہیب خٹک

    مہنگائی قابو کرنے کا آسان طریقہ تحریر زوہیب خٹک

    عمران خان صاحب اپنی مشکلات میں اضافہ مت کریں اور سیدھا سیدھا امریکہ کے سامنے لیٹ جائیں، اسرائیل کو تسلیم کریں، بھارت کی شان میں قصیدے پڑھنا شروع کر دیں۔ آئی ایم ایف کے پاس جائیں 10 ارب ڈالر قرضہ لیں 5 ارب سے عیاشی کریں اور ہمیں 5 ارب کی سبسڈی دیں۔ ملک جائے بھاڑ میں قرضہ چڑھتا ہے تو چڑھنے دیں کونسا آپ نے وہ قرض ادا کرنا ہے

    آپ کے بہادر فیصلے چند گھنٹے اس قوم کو یاد رہتے ہیں بس۔ ہم غیرت سے جینا تو چاہتے ہیں لیکن اسکی قیمت ادا کرنے کو تیار نہیں۔خدا کے لئے ہمیں غیرت سے جینے کا درس دینا چھوڑ دیں۔ غیرت کی ہمیشہ ایک قیمت ہوتی ہے اور وہ قیمت ہم ادا کرنے کو تیار نہیں.

    خان صاحب ہم روشن خیال نہیں راشن خیال ہیں۔ ہم دماغ سے نہیں پیٹ سے سوچنے والی عوام ہیں ۔ آپکی جرات کیسے ہوئ ہمیں خوداری کا سبق پڑھانے کی ہم ہرگز اس کی قیمت ادا کرنے کو تیار نہیں۔۔
    ہم سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جانتے ضرور ہیں لیکن ہم سے اس پر عمل نہ ہوگا کیونکہ ہمیں بس دو وقت کی روٹی چائیے اس لیے مہربانی کریں ہمیں آزمائش میں نا ڈالیں۔ ہم نہ تو غیرت سے جینا چاہتے ہیں ، نہ ہمیں کسی اور چیز کی پرواہ ہے۔ ہاں ہم سے بس نعرے لگوا لیں اسرائیل نامنظور، غلامی رسول میں موت بھی قبول ہے۔ لیکن غیرت سے جینا ہمیں نہیں قبول۔

    ہم بدنصیب لوگوں کو حقائق سمجھ نہیں آ رہے۔ ہمیں نواز اور زرداری جیسے فرعون ہی سوٹ کرتے ہیں۔ جو بیرونی قرضوں میں سے چند سکوں کی سبسڈی عوام کو دے کر باقی اپنے اکاؤنٹس بھرنے کے لیے واپس لے جاتے ہیں اور یہ عوام کہتی ہے کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے۔ جو عوام خود لٹنے برباد ہونے ملک گروی رکھوانے غلامی برداشت کرنے کو تیار ہے انہیں آپ غیرت کے سبق پڑھا رہے ہیں۔؟؟

    دنیا کی فاتح قوموں کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں وہ ریاستِ مدینہ ہو یا سلطنت عثمانیہ مٹھی بھر مسلمان جن کے پاس کھانے کو روٹی نہیں پہننے کو اچھا لباس نہیں رہنے کو پکا مکان نہیں وہ غیرت کے اوپر کھڑے ہوتے ہیں تو اللہ انہیں چند سالوں میں آدھی دنیا کی حکمرانی عطا کر دیتا ہے ان عرب کو بدوؤں کے ہاتھوں سلطنتِ روم اور فارس ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے۔ زیادہ دور کیوں جاتے ہیں یہ آپ کے پڑوس میں چند ہزار طالبان نے غیرت کے اوپر پوری دنیا سے ٹکر لے لی بیس سال بھوک و افلاس برداشت کی ایک ایک گھر سے دس دس جنازے اٹھائے ہزاروں کو تو کفن دفن تک نصیب نہیں ہوا لیکن وہ ڈٹے رہے لڑتے رہے او بِلآخر فتح یاب ہوئے۔

    اس عوام کو سلطان صلاح الدین ایوبی سلطان محمد فاتح خالد بن ولید جیسے عظیم فاتح تو چاہئیے ہیں لیکن خود انہوں نے رتی برابر غیرت ایمانی نہیں دکھانی۔ جان لیں کہ عظیم مقاصد کے لیے عظیم قربانیاں بھی دینی پڑتی ہیں مشکلات تکلیفیں رکاوٹیں آتی ہیں ان حالات سے لڑ کر ہی قومیں عظیم بنتی ہیں دنیا کی تاریخ میں کسی قوم نے بھی بغیر تکلیفوں کے عروج نہیں پایا۔ ابھی تو حالات اور خراب کیے جائیں گے جو آپ نے امریکہ بہادر کو آنکھیں دکھائی ہیں وہ آپ پر اقتصادی پابندیاں لگائے گا ہر محاذ پر آپ کو ضرب لگانے کی کوشش کرے گا عوام نے تب آپ کے ساتھ کھڑے ہونا تو دور خود آپ کو گریبان سے پکڑ کر اقتدار سے نکال دینا ہے اور بخوشی غلامی کا توق گلے میں ڈال کر کہیں گے ہمارے اجداد بھی غلام تھے ہم بھی غلام رہیں گے بے شک علامہ اقبال کہتے رہے ہوں ۔ "اس رزق سے موت اچھی جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی”۔ لیکن ہمیں روٹی چاہئیے پھر چاہے غلامی کی ہی کیوں نا ہو۔ کیونکہ غیرت سے پیٹ نہیں بھرتا نا ہم غیرت سے جینے کے لیے قربانی دینے کو تیار ہیں۔۔

    Twitter @zohaibofficialk