Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • عمر شریف کون تھے   تحریر ذیشان اخوند خٹک

    عمر شریف کون تھے  تحریر ذیشان اخوند خٹک

    ‏عمر شریف کون تھے
    عمر شریف نے کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں 19 اپریل 1955 کو آنکھ کھولی.
    ان کی عمر تقریباً چار سال کی تھی جب ان کے والد کا انتقال ہوا جس کی وجہ سے ان کا بچپن کا وقت بہت مشکل حالات میں گزرا.
    انہوں نے اپنی کیریئر کا آغاز 14 سال کی عمر میں سٹیج ڈرامے سے کیا. اسی سٹیج ڈرامے میں بہترین کارکردگی پر انہیں پانچ ہزار کا انعام اور 70 سی سی موٹرسائیکل میں دیا گیا.
    6 سال بعد انہوں نے آڈیو کیسٹ ڈرامے شروع کئے.
    ان کی مشہوری کا وجہ یہی تھی کہ انہوں نے کامیڈی کی منفرد انداز اپنایا جو کہ لوگوں کو کافی پسند آیا.
    وہ مشہور کامیڈین منور ظریف کے بہت بڑے مداح تھے اور اسے اپنے روحانی استاد مانتے تھے.
    عمر شریف ایک ٹی وی انٹرویو میں منورظریف سے متعلق  انھوں نے کہا کہ ان جیسا آدمی اور فنکار میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا، نہ مجھے کوئی ان جیسا اچھا لگا۔ہمارے ملک کے آرٹسٹ بڑے اعلیٰ ہیں لیکن سچ کہتا ہوں منورظریف دنیا میں دوسرا پیدا نہیں ہوا۔
    وہ صرف پاکستان کے بہترین اداکار نہیں تھے بلکہ پورے برصغیر کے بہترین کامیڈین تھے. انہوں نے صرف پاکستان میں نہیں بلکہ بھارت کے کافی مشہور شو میں اپنا فن پیش کیا.
    انہوں نے ٹی وی اور فلموں میں بھی کام کیا مگر ان کی مشہوری کی وجہ سٹیج ڈرامے بنے.
    عمر شریف پاکستان کے واحد مزاحیہ فنکار تھے جس کے مداح پورے دنیا میں موجود ہے.
    بالی وڈ کے مشہور اداکار ان کے مداح تھے.
    ان کے 40 سالہ کیریئر کے بہترین کارکردگی پر ان کو 10 نگار ایوارڈ سے نوازا گیا اور حکومت پاکستان نے تمغہ امتیاز سے بھی نوازا. بھارت کے مقبول چینل زی ٹی وی نے بے تاج بادشاہ عمر شریف کو زی ایوارڈ سے نوازا.
    عمر شریف نے اپنی کیریئر میں سٹیج ڈراموں میں اداکاری، ہدایت کاری کی. انہوں نے 70 سے زائد اردو ڈرامے کے سکرپٹ لکھے اور ان میں اداکاری کے جوہر بھی خود دیکھائے.
    انہوں نے ایک ڈرامہ میں 400 سے زائد بہروپوں میں نظر آئے.
    انہوں نے زندگی کے 66 بہاریں دیکھ لی اور انہوں نے تین شادیاں کی تھی جس میں انہوں نے 2 کو طلاق دی تھی.
    ان کی زندگی میں بہت مشکل حالات آئے جب ان کی نوجوان بیٹی حرا وفات ہوگئی جس پر وہ بہت رنجیدہ ہوئے تھے.
    وہ بہت بیمار تھے جس کی وجہ سے انہوں نے حکومت پاکستان سے علاج کی اپیل کی جس پر وزیر اعظم عمران خان اور سندھ حکومت نے فری علاج کا اعلان کیا اور انہیں ائیر ایمبولینس پر امریکہ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا.
    امریکہ منتقلی کے دوران اسکی طبیعت خراب ہوئی جس کے بنا پر اسے جرمنی میں روکنا پڑا. جرمنی کے ہسپتال میں وہ حالق حقیقی سے جا ملے.
    ان کی رحلت کے بعد فضا سوگوار رہی اور عوام نے سوشل میڈیا پر اپنے غم کا بھرپور اظہار کیا. وزیراعظم عمران خان، صدر عارف علوی، شاہد آفریدی، جاوید شیخ اور پاکستان کے مشہور شخصیات نے اظہار افسوس کیا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا. بالی وڈ کے جانی لیور اور دیگر شخصیات نے بھی ان کے وفات پر غم کا اظہار کیا.
    جرمنی کے ہسپتال میں میت ورثا کے حوالے کردی جس کو جلد پاکستان منتقل کیا جائے گا.
    عمر شریف کے وصیت کے مطابق ان کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں واقع عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر دفن کیا جائیگا.

    ٹائٹل 

    ٹویٹر ہینڈل
    ‎@ZeeAkhwand10

  • نظام تعلیم اور والدین کا کردار تحریر: محمد جنید

    نظام تعلیم اور والدین کا کردار تحریر: محمد جنید

    ‏پہلے وقتوں میں اگر کیسی بچے کا باپ ڈاکٹر ہوتا تھا توبچہ بھی ڈاکٹر ہی بنتا تھا، باپ اگر درزی ہوتا تو بیٹا بھی درزی ہی بنتا تھا، باپ اگر مستری ہوتا تو اس کا بیٹا بھی باپ کی طرح مستری ہی بنا کرتا تھا 

    پھر وقت بدلا نظام تعلیم میں تبدیلیاں پیدا ہوئیں لوگوں میں نئی سوچ پیدا ہونے لگی اور لوگ اپنے شعبے سے ہٹ سے اہنے بچوں کو تعلیم سیکھانے لگے 

    آج کل کے بڑھتے ہوئے تعلیمی رجحان میں ہر ماں باپ یہ چاہتا ہے کہ ان کے بچے ڈاکٹر، انجینئر، ٹیچر، پائلٹ یا تو آرمی افسر بنیں۔ لہذا دوران تعلیم ان کو یہ بات باور کروا دی جاتی ہے کہ بیٹا تم ڈاکٹر بنو گے، تم انجینئر بنو گے یا تم پائلٹ بنو گے وغیرہ وغیرہ۔

     اس طرح بچوں بچے کے دماغ پہ دباؤ ڈال دیا جاتا ہے کے تم نے بس اس طرف جانا ہے اور یہ ہی کرنا ہے کیسی دوسرے شعبے بارے سوچنا بھی نہیں ہے، مطلب کے بچے کے دماغ کو ایک طرح سے بند کر دیا جاتا ہے کؤوں کے مینڈک کی طرح جو صرف اپنے والدین کے بتائے تعلیمی رستے پہ ہی چلتا ہے اور اپنے اصلاحات کو استعمال کرنے اور سوچے سمجھنے سے قاصر ہو جاتا ہے

     جیسے ہی بچہ میٹرک کا امتحان پاس کرتا ہے تو اسے والدین کی مرضی سے ایف اس سی، آئی سی ایس یا ایف اے وغیرہ میں داخل کروا دیا جاتا ہے۔ اب اس سارے عمل کے دوران وہ بچہ جس نے اپنی زندگی گزارنی ہے یا جس نے اپنی دلچسپی کے مطابق اپنے شعبے کا انتخاب کرنا ہے اسے اس فیصلے میں شامل ہی نہیں کیا جاتا یا یوں سمجھ لیں کہ سیدھا اپنی مرضی سے داخل کروا دیا جاتا ہے۔ بچے کی رضامندی، اس کی دلچسپی اور ہم آہنگی کو سرے سے ہی نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ بالکل یہی صورت حال انٹر پاس کرنے کے بعد ہوتی ہے 

    اور یہیں سے ہی بچوں کے روئیے میں بگاڑ شروع ہو جاتا ہے وہ چلتا تو النے والدین کے طریقے پہ ہی ہے تعلیم بھی حاصل کر رہا ہوتا ہے پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا کیونکہ بچے کا اس تعلیم کے لئے ذہن ہی تیار نہیں ہوتا اور نا ہی وہ اس میں خوش ہوتا ہے

    مثال کے طور پر اگر کوئی بچہ میڈیکل یا انجینئرنگ کر چکا ہے پر اس کی دلچسپی اب میڈیکل یا سائنس کے شعبے میں نہیں تھی بلکہ وہ کیسی آرٹس سبجیکٹ میں ہے جیسے کہ انگلش کے شعبے میں دلچسپی رکھتا ہو اور اسے اپنے تعلیمی کیرئیر کے طور پر اپنانا چاہتا ہو یا کہ وہ وکیل بننے میں دلچسپی رکھتا ہو، اسے سیاست کا شوق ہو اور وہ اسے بطور مضمون پڑھنا چاہتا ہو، اسے اردو ادب سیکھنے کا شوق ہو یا اسلامی علوم کو سیکھنے کی طرف اس کا رجحان پیدا ہو گیا ہو یا بعض پچوں میں دور جدید میں گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ آئی ٹی اور مختلف ڈیجیٹل پروگرامز میں دلچسپی بڑھ جاتی ہے اور وہ اسے کاروبار کے طور پہ استعمال کرنا چاہتا ہے تو جب وہ اپنی تعلیم کے پس منظر کو دیکھے گا تو اس کا ان شعبوں سے کوئی تعلق نا ہو گا اور نا ہی معلومات اور والدین بھی بچوں کا سہارا بننے کے بجائے اس کی مخالفت کرتے ہیں اور اسے سختی سے بتا دیتے ہیں اگر تم پڑھو گے تو صرف اسی فیلڈ میں جس کا ہم انتخاب کر چکے ہیں ورنہ نہیں. 

    اکثریت والدین کی ایسی ہے جو چاہتے ہیں کہ ہمارا بچہ ایسی فیلڈ کا انتخاب کرے جس کی موجودہ وقت میں بہت زیادہ اہمیت ہو چاہے بچے کی اس فیلڈ میں کوئی دلچسپی ہو یا نا ہو اگر کیسی فلیڈ کی اہمیت بنانی ہی ہے تو وہ خود ہی اس کی اہمیت بنا سکتا ہے جو اس میں شامل ہو گا

    ایک اور بھی وجہ ہے کے پڑھنے والے بچے کی جس شعبے میں دلچسپی ہے وہ اس کا اپنے والدین کو بتا ہی نہیں پاتا اور ہچکچاہٹ کا شکار رہتا ہے کیونکہ بچے اور والدین کے درمیان اس طرح ہی بات ہی نہیں ہو پاتی ہمارے معاشرے میں اسے شرم و حیا کا نام دے دیا گیا ہے پر حقیقت اس کے برعکس ہے یہ بچوں کا ڈر ہوتا ہے جو بچوں کو والدین سے دور کر دیتا ہے ساتھ ہی بچوں کے مستقبل پر بھی اثر انداز ہوتا ہے کیونکہ جس شعبے میں بچے کو اس کے والدین نے بھیجا ہوتا ہے وہ اسے سمجھ ہی نہیں پاتا اور نا خود کو اس کے لیے تیار کر پاتا ہے نتیجے کے طور پر اس کی ڈگریاں زیادہ اہمیت کی حامل ہی نہیں ہوتی کیونکہ وہ ان میں اچھے نمبر ہی حال نہیں کر پاتا.

    اور جس فیلڈ میں بچے کی دلچسپی ہوتے ہے جیسے وہ پسند کرتا ہے اور اسی فیلڈ کو اپنانا چاہتا ہے اس کے لیے والدین ہی اجازت نہیں دے پاتے تو اس طرح سے بچہ کا مستقبل پوری طرح سے ختم ہو جاتا ہے وہ سمجھ ہی نہیں پاتا ہے اب آگے اسے کیا کرنا چاہیے

    اس لئے اس سارے عمل کے دوران والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچے سے مشورہ کریں ان سے پوچھیں کہ وہ کس شعبے میں دلچسپی رکھتا ہے، اس کا شوق کیا ہے؟ وہ کیا کرنا چاہتا ہے؟ کیوں کہ تعلیم حاصل کرنا، اس پر توجہ دینا والدین یا کسی اور شخص کا کام نہیں بلکہ محض اسی بچے کا کام ہے جس نے آگے بڑھ کر اس پیشے کو اپنانا ہے اور تعلیم حاصل کرنا ہے۔

    ‎@Durre_ki_jan

  • ہماری پولیس ! تحریر: علی مجاہد۔ 

    ہماری پولیس ! تحریر: علی مجاہد۔ 

    پاکستان میں پولیس کا ایک الگ ہی رول ہے سمجھ نہیں آتی یہ پولیس ہماری دیکھ بال کے لیے ہے یا کسی اور مقصد کے لیے دوسرے ملکوں میں آپ کسی سنسان علاقوں سے گزر رہیں ہوں گے تو اگر وہاں پولیس موجود ہو گی تو آپ بلا جھجک وہاں سے چلے جائیں گے پر ہمارے پاکستان میں پولیس کا سسٹم اتنا خراب ہے آپ اگر پاکستان میں کسی سنسان علاقے سے گزریں گے اور اگر وہاں پولیس کھڑی ہوگی تو آپ اگر زرا برابر بھی غلط نہیں ہوں گے تو پھر بھی آپ وہاں سے گزرنا پسند نہیں کریں گے، اگر آپ پاکستان میں رہتے ہیں اور آپکی آمدن اچھی نہیں تو آپکے پاس رقم ہوگی تو آپکو چوروں اور ڈکیتوں سے زیادہ پولیس سے ڈر لگے گا ایسا بلکل ہماری پولیس خراب ہے مگر ہاں اچھے بڑے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں مگر انکو ڈنڈا دینے والوں کو یعنی وزیراعظم، پولیس انسپکٹر اور دوسرے وہ لوگ جن کے انڈر ہوتی ہے پولیس انکو بھی چاھیے کہ وہ بھی ایکٹیو ہوں، قصور میں ایک پولیس کانسٹیبل نے نوجوان حافظ قرآن سمیع الرحمان کو اس بنا پر گولی مار کر قتل کر دیا کے اس نے پولیس والے کے ساتھ بدفعلی کرنے سے انکار کیا اسلامی معاشرے میں انصاف کی فراہمی یقینی بنانا حکومت وقت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ کچھ دنوں پہلے میں اور میرے دو دوست رات 9 بجے باہر ہوٹل پر چائے پینے جا رہے تھے تو ہم نے (ایم اے جناح روڈ کراچی) پر موٹر سائیکل روکی پیٹرول چیک کرنے کےلئے اتنے میں پولیس آتی ہے ہم سے پوچھا کیا کر رہے ہو بتایا تو ہماری تلاشی لی گئی بائک کے پیپر چیک کیے اسکے بعد ہونا تو یہ چاہیے کہ وہ ہمیں چھوڑ دیں پر انہوں نے بولا ہمیں رپورٹ ہے تین لوگ یہاں ڈکیتی کرتے ہیں اور اولیاء آپ لوگوں جیسا بتایا گیا ہے پھر بہت بدتمیزی کرنے کے بعد تقریباً آدھے گھنٹے بعد بولا 500 روپے دو تو میں آپ کو چھوڑ دوں گا اور یہ کیس کسی اور پر ڈال دوں گا کیا ہماری پولیس کا اب صرف یہ کام رہے گیا ہے اور ساتھ ساتھ جو دوسرے پولیس والے تھے موبائل میں ان میں سے ایک بار بار ہمارے پاس آرہا تھا اور یہ کنفرم کر رہا تھا کہ تمھارا کوئی جانے والا تو نہیں پولیس میں اگر ہے تو انکو فون کرلو ہم نے 1 سے 2 بار منا کیا پھر آیا تو میں موبائل انسپکٹر جو تھا اس کے پاس گیا اور بولا سر میرا ایک جاننے والا رینجرز میں ہے اس سے بات کرواؤں تو پہلے تو چلایا پھر بولا کرواؤ تو جب میں کسی کو فون لگانے لگا تو بولا چھوڑو اور یہاں سے چلے جاؤ اور ساتھ میں یہ بھی کہنے لگا کہ پیچھے مڑ کر مت دیکھنا، انکا برتاؤ دیکھ کر ایسا لگا جیسے ہم کوئی کریمنل ہیں یا چلتے پھرتے کسی کا بھی قتل کرتے ہوں اور جو لوگ کریمنل ہیں کرپٹ ہیں ان کو خلاف پولیس کی کوئی کارکردگی نہیں یا تو یہ انکے ساتھ ملے ہوئے ہیں یا انکو اس بات پر فورس کیا جاتا ہے کہ عام لوگوں کو تنگ کرنا ہے۔

    تو کیا یہ ہماری پولیس ہے؟

    کیا یہ ادارہ اس لیے بنایا ہے؟

    آخر کب تک ہم اس طرح اپنے ہی ملک میں ڈر ڈر کر جئیں گے؟

     آپ نے سنا ہوگا بہت سے ایماندار پولیس والوں کی کہانیاں وہ بھی اسی پولیس میں ہوتے ہیں پر فرق صرف اتنا ہے انکو معلوم ہوتا ہے کہ انکا کام کیا ہے وہ وردی کا ناجائز استعمال نہیں کرتے اور وہ لوگوں کہ دلوں میں بھس جاتے ہیں۔ 

    "محسوس یہ ہوتا ہے یہ دور تباہی ہے

    شیشے کی عدالت ہے پتھر کی گواہی ہے”

  • بچوں کے بناؤ اور بگاڑ کا ذمہ دار کون؟  دوسرا حصہ:  تحریر: احسن ننکانوی 

    جی اسلام علیکم اس دن ہم نے بات کی تھی کہ بچے کے بناؤ اور بگاڑ کا اصل ذمہ دار کون ہوتا ہے۔

    جس میں بات کی تھی کہ والدین اور اساتذہ کرام کی کتنی کتنی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اور وہ کس حد تک بچے کے بناؤ اور بگاڑ کا ذمہ دار ہوتے ہیں۔

    آج ایک بہت ہی اہم پہلو پر روشنی ڈالیں گے جو کسی بھی بچے کے بناؤ یا بگاڑ میں بہت حد تک ذمہ دار ہوتا ہے۔ اور جیسے جیسے وہ اثرات مرتب کرتا ہے اسی طرح بچہ بگڑتا یا سنورتا ہے۔

    آپ نے علامہ اقبال کا وہ مشہور شعر تو سنا ہوگا جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے کہ شاہین کا بچہ بلند پرواز کر تو سکتا تھا لیکن زاغوں اور کوؤں کی بری صحبت نے اسے بگاڑ دیا۔

    آپ میرے شعر سے سمجھ تو گئے ہوں گے کہ میں کس چیز کی بات کر رہا ہوں میرا اصل اشارہ اس طرف ہے کہ معاشرہ ماحول بچے پر بہت اثرات مرتب کرتا ہے۔

    کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو والدین اور اساتذہ کرام پر ساری ذمہ داری ڈال دیتے ہیں حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ معاشرتی ماحول بھی بچے پر مختلف قسم کے اثرات ڈالتا ہے۔

    الحمدللہ پاکستان میں تقریبا 95 فیصد والدین اور اساتذہ کرام ایسے ہیں جو اپنے بچوں کو ایک اچھا انسان بنتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔

    اور اپنی زمہ داری بہت ہی احسن طریقے سے سر انجام دیتے ہیں۔

    اس لئے بچوں کے بگڑنے اور سنورنے کی ساری ذمہ داری والدین اور اساتذہ پر ڈال دینا ایک بہت ہی ناانصافی اور زیادتی والی حرکت ہے۔

    والدین اور اساتذہ کرام کی ایک واضح اور غالب اکثریت ایسی بھی ہے جو اپنے بچوں کواسلامی اور روحانی طور پر ایک اچھا انسان بنتا ہوا دیکھنا چاہتی ہے۔ اور معاشرے میں کچھ کر گزرنے کی صلاحیتیں ان کے بچے میں ہوں۔

    لیکن ماحول اور معاشرے کے سامنے وہ اپنی جائز اور نیک آرزو کا خون ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔

    جب تک ایک صحت مند ماحول اور معاشرہ بچے کو نہیں ملے گا تو والدین یا اساتذہ کرام جتنی مرضی محنت کر لیں۔

    ان کی ساری محنت پر پانی پھر جاتا ہے جو بہت ساری آرزوئیں لے کر اپنے بچے کو ایک اسلامی طرز عمل اور اسلامی زندگی پر چلتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔

    بتائیے آج کا بگڑا ہوا ماحول اور معاشرہ ہمارے والدین کی نیک تمناؤں کے لیے کارساز ہے۔

    بتائے کیا ہمارے معاشرے میں کمر توڑ مہنگائی اور دوسری جو ماحول خراب کرنے والی چیزیں ہیں انھوں نے والدین اور بچوں کو ذہنی مریض بنا کے رکھ دیا ہے اور بہت زیادہ آبادی اس مسئلے سے دوچار ہیں۔

    معاشرہ اتنا بگڑ چکا ہے کہ والدین اور اساتذہ کرام جیسے مرضی اپنا ذمہ داری نبھائیں لیکن جب بچے باہر نکلتے ہیں تو فحش فلمیں اور گانے وغیرہ سنتے ہیں۔

    تو جو والدین اور اساتذہ کرام نے بچوں کو روحانی تعلیم دی ہوتی ہے تو اس پر پانی پھر جاتا ہے جب وہ باہر کے ماحول میں جاتے ہیں۔

    اس لئے ہم صرف یہ نہیں کہہ سکتی کہ والدین یا اساتذہ کرام سے صرف بچوں کے ذمہ دار ہوتے ہیں ماحول معاشرہ بھی ایک بہت بڑا ذمہ دار ہوتا ہے جس میں ہمارے بچے جوان ہوتے ہیں۔

    اب اسی سے نوے فیصد تک سلجھے ہوئے اور نیک گھرانے بھی اپنے بچوں کو سنبھال نہیں پا رہے۔

    نیک اور صالح والدین بھی بہت ساری کوشش کے باوجود پریشان ہیں۔

    سب سے پہلی ہر بندے کی ذمہ داری ہے کہ وہ ماحول کو ٹھیک کرنے کا سوچے اور جو جو اس پر ذمہ داری عائد ہو اس کے مطابق وہ ماحول کو ٹھیک کرے اس طرح معاشرہ ٹھیک ہوگا اور لوگوں کی اچھی اچھی ترجیحات ہو اس طرح سے جب ماحول ٹھیک ہو گا تو ہمارے بچوں کی پرورش بھی اچھے ماحول میں ہوگی تو جب وہ جوان ہوں گے تو اس وقت تک معاشرہ بہت پاک صاف ہو چکا ہوگا۔

    اور آنے والی نسلیں ایک پاک صاف معاشرے میں پروان چڑھ سکیں گی ۔

    ‎@AhsanNankanvi

  • مری میں سیاحوں کو درپیش مسائل تحریر: سعادت حسین عباسی 

    مری میں سیاحوں کو درپیش مسائل تحریر: سعادت حسین عباسی 

    سیاحت کسی بھی ملک یاشہرکا ایک بہترین سرمایہ ہوتا ہے جس سے لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کا روزگار چلتا ہے اور سیاحت کو بہترین سرمایہ کاری کے طور پر مانا جاتا ہے آج میں مری کی سیاحت کے حوالے سے ذکر کروں گا۔ چند روز قبل فیملی کے ہمراہ میرا مری جانے کا اتفاق ہوا، بہت سی چیزیں میری توجہ کا مرکز بنی جن میں مری کی خوبصورتی اور وہاں کا فضائی ماحول ہے لیکن ان سب سے ہٹ کر کچھ ایسی بھی چیزیں تھی جو ہر سیاح کو اپنی طرف متوجہ کرواتی ہیں آج میں ان مسائل کو اس امید سے اپنے کالم میں ذکر کروں کہ تاکہ مری انتظامیہ وپولیس کی توجہ اس طرف مبذول ہو اور ان مسائل کو دور کیا جائے تاکہ مری کی سیاحت محفوظ اور پرامن ہو۔ صبح نو بجے کے قریب میں جھیکا گلی کے بازار میں پہنچا اور وہاں ناشتے کے لیے رکا گاڑی میں ہی ناشتے کا آرڈر کیا اور ناشتہ منگوایا اسی اثناء گاڑی کی دونوں اطراف کو بھکاری بچوں اور چند خواتین نے گھیر لیا اور زور زور سے گاڑی کے شیشے پر ہاتھ مارنے لگے، آخر تنگ آکر میں گاڑی سے اترا تو وہاں پاس میں موجود ٹریفک پولیس کے اہلکار سے ان کے بارے میں شکایت کی تو ان صاحب نے کہا کہ ہم اس معاملے میں کچھ نہیں کرسکتے ان کو یہاں سے ہٹانا ہمارا کام نہیں، وہاں پر موجود مقامی لوگوں سے بات کی تو پتہ چلا کہ متعلقہ تھانہ کے اہلکار ان سے پیسے لیتے ہیں اور ان کو کھلی اجازت دی ہوئی ہے یہاں پر طرح کی من مانی کرنے کی، یہ سینکڑوں کی تعداد میں افغانی خواتین اور بچے ہیں جو کئی مہینوں سے یہاں پر موجود ہیں اور ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوتی اور نہ ہی ان کو یہاں سے ہٹایا جاتا ہے یہ سب جھیکاگلی مری مال روڈ اور اردگرد کے سیاحت کے پوائنٹس پر پھیلے ہوئے ہیں، واپس آکر گاڑی نکالی اور آگے بڑھا تو پیچھے سے کسی بچے نے ایک لکڑی اٹھا کر شیشے پر دے ماری، ان بھکاریوں کی آئے روز کی بدمعاشی اور من مانی کی وجہ سے بہت سارے سیاح اب مری کی طرف رخ نہیں کرتے اور اگر بدستور ایسا ہی رہا تو مری سے سیاحت ختم ہوتی جائے گی اس لیے مقامی انتظامیہ وپولیس کو ان کا سد باب کرنا چاہیے اور مری کے امن کو بحال رکھنا ہوگا۔ دوسرا بڑا ایشو ٹریفک کا ہے جب جھیکا گلی سے مال روڈ کی طرف جاتے ہیں تو کئی کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں دو، تین کلو میٹر کا سفر گھنٹوں میں طے ہوتا ہے، پارکنگ مافیا نے روڈ کی سائیڈ پر پارکنگ بنائی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے ٹریفک جام رہتی ہے اور اس کے علاوہ سب سے اہم ایشو جس کا یہاں ذکر کرنا نہایت ضروری ہے وہ یہ ہے کہ مال روڈ پر بہت سارے اوباش نوجوان گھوم رہے ہوتے ہیں جو خواتین اور فیملیز کو ہراساں کرتے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر بہت سے ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جن میں اوباش لوگوں کی طرف سے خواتین وفیملیز کو ہراساں کیا جاتا ہے۔ اس لیے میری اسسٹنٹ کمشنر مری اور پولیس سے یہ التجا ہے کہ خدارا مری ایک پرامن سیاحتی مرکز ہے اس کے امن کو بحال رکھیں اور سیاحوں کو درپیش مسائل کو جلد سے جلد دور کریں اور مری کی قدیمی سیاحت کے باب کو برقرار رکھیں تاکہ سیاح فیملیز اور خواتین خود کو اس خوبصورت ہل اسٹیشن پر محفوظ سمجھیں اور اپنی چھٹیاں سکون کے ساتھ یہاں گزاریں اور مری کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوسکیں۔ 

    ٹویٹر:

    https://twitter.com/IamSaadatAbbasi?s=09

  • زندگی میں استاد کی اہمیت و قدر  تحریر؛ انیس الرحمن

    زندگی میں استاد کی اہمیت و قدر تحریر؛ انیس الرحمن

    آپ زندگی اور اسے جینے کی تعبیر کرنا چاہتے ہیں تو زندگی میں سے استاد کو نکال دیں تو شاید آپ کی زندگی میں پیچھے کچھ بھی نہیں بچے۔
    آپ کے سب سے پہلے استاد آپ کے والدین ہوتے ہیں زندگی جینا سکھانے والے استاد والدین اور بزرگ ہی ہوتے ہیں جب آپ کچھ ایک سمجھداری کی عمر میں داخل ہوتے ہیں تو آپ کی زندگی میں باقاعدہ نظم و ضبط لانے کیلئے آپ کو کسی ادارہ میں اساتذہ کی نگرانی میں بھیج دیا جاتا ہے۔

    آپ کی پہلی درسگاہ آپ کا گھر اور دوسری آپ کا تعلیمی ادارہ ہوتا ہے۔ تعلیمی ادارہ میں استاد آپ کو نظم و ضبط، وقت کی تقسیم ، وقت کی قدر، ایک متنوع معاشرہ میں جینے کا سلیقہ، مجلس میں بیٹھنے، جینے اور بقاء کے آداب سکھاتے ہیں، آپ کی کمزوریوں اور خامیوں کا ادراک کر کے انہیں دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ اپنے تعلیمی ادارہ میں نہ صرف تعلیم حاصل کر رہے ہوتے ہیں بلکہ زندگی جینے کا گر سیکھ رہے ہوتے ہیں۔

    ایسے میں آپ کو قابل قدر استاد کا ملنا کسی غنیمت سے کم نہیں ہوتا جو آپ کی چھپی صلاحتیوں کو نکھارتا ہے آپ کی خامیوں کو خوبیوں میں بدلتا ہے اچھے برے کی تمیز حلال و حرام کا فرق سکھاتا ہے۔ یقینا وہ شخص بدنصیب ہے جو کسی قابل اور ناصح استاد سے محروم ہے۔ کیونکہ آپ بچپنے سے لیکر لڑکپن کی عمر میں شعور و آگہی کی طرف بتدریج سفر کر رہے ہوتے ہیں ایسے میں آپ کی بہتر ترویج ایک ناصح اور مخلص استاد ہی کر سکتا ہے۔

    آپ اپنی اوائل عمری سے ہی کسی ایسے استاد کو اپنا راہنما ضرور بنا لیجئے کہ جو آپ کو زندگی کے ہر موڑ پر آپ کی راہنمائی کرے۔ آپ کو زمانے کی اونچ نیچ سے آگاہ کرے آپ کو مشکل وقت میں اچھے مشوروں سے نوازے۔ آپ کا یہ استاد آپ کیلئے ایک ایسا راہنما ہوگا جو آپ کے مزاج کو بچپن سے جانتا ہوگا اور آپ کو اچھے انداز میں راہنمائی دے گا۔

    استاد اور والدین کی وہ شخصیات ہیں جو آپ ی شاگردوں اور اپنی اولادوں کو اپنے سے کہیں اوپر دیکھنا چاہتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ ہم اپنے زندگی کی ابتدائی دور میں غلطیوں سے جو چیز نہیں سیکھ سکے آج ہمیں ادراک ہے ان چیزوں کا تو ہم اپنے اولاد اور اپنے شاگردوں کو بروقت ان غلطیوں سے آگاہ کر کے زندگی میں انہیں مزید کامیابیوں سے ہم کنار کرنے کی کوشش کریں۔

    آج استادوں کے عالمی دن کے موقع پر میں اپنے ان تمام اساتذہ کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں جنہوں نے زندگی کے ہر موڑ پر میری راہنمائی کی اور خاص طور پر والد محترم کہ جو بطور پیشہ ایک استاد بھی ہیں انہوں نے جس طرح میری قدم قدم پر راہنمائی کی وہ قابل قدر و قابل ستائش ہے۔ آج کے دن اپنے تمام اساتذہ کو خصوصی طور پر اپنی دعاؤں میں یاد کرونگا۔ ان شاءاللہ

  • عمران خان اور کامیابی کی جدو جہد تحریر: فضل عباس

    عمران خان اور کامیابی کی جدو جہد تحریر: فضل عباس

    عمران خان وہ انسان ہیں جن کی ساری زندگی بطور ہیرو گزری 19 سال کی عمر میں آپ نے کرکٹ کے میدان میں قدم رکھا ہاں آغاز اچھا نہیں ہوا لیکن عمران خان نے تو جدوجہد کرنا سیکھا تھا تو یہاں سے عمران خان کی جدوجہد کا آغاز ہوتا ہے عمران خان ٹیم سے باہر ہونے پر ہمت نہیں ہارتا بلکہ اپنے کھیل میں موجود خامیوں کو دور کرنے میں لگ جاتا ہے اور اس میں کامیاب ہو جاتا ہے اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ جب عمران خان واپس ٹیم میں آتا ہے تو ایک قابل رشک کھلاڑی بن چکا ہوتا ہے باؤلنگ ہو یا بیٹنگ یا چاہے فیلڈنگ کی بات ہو ہر میدان میں عمران خان کا ڈنکا بجتا ہے اب والا عمران خان پرانے والے عمران خان سے بہتر ہوتا ہے عمران خان اپنے اندر ایک عظیم کھلاڑی پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے

    عمران خان اپنے آپ کو ایک عظیم کھلاڑی منوا لیتا ہے اس کے بعد وہ وقت آتا ہے جو عمران خان کی پہچان ہے جی یہ وقت عمران خان کی کپتانی کا ہے آج بھی عمران خان کو شاندار کپتانی کی وجہ سے کپتان کہا جاتا ہے دنیا عمران خان کو بہترین کپتان مانتی ہے عمران خان نے اپنے دور کپتانی میں شاندار قیادت کا مظاہرہ کیا ہے عمران خان نے اس وقت کی ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم جو بہترین تھی اسے ہرا کر دکھایا انگلینڈ میں انگلینڈ کرکٹ ٹیم کو ہرا کر دکھایا آسٹریلیا میں آسٹریلیا کو شکست دے کر بتایا کہ ہم جیتنا جانتے ہیں اور سب سے بڑی بات بھارت کو بھارت میں دھول چٹا کر بتایا کہ ہم اپنی تاریخ خود لکھتے ہیں

    عمران خان 1987ء کے ورلڈ کپ میں پاکستان کو سیمی فائنل تک پہنچا دیتے ہیں لیکن بد قسمتی سے ہم آسٹریلیا سے سیمی فائنل ہار جاتے ہیں عمران خان کرکٹ کے میدان سے استعفیٰ دینے کا اعلان کرتا ہے لیکن اس وقت کے صدر کے کہنے پر عمران خان واپس کرکٹ کے میدان میں آتا ہے اب کی بار عمران خان کی آنکھوں میں شوکت خانم ہسپتال بنانے کا خواب بھی بس چکا تھا عمران خان کو پتہ تھا اگر ورلڈکپ جیتے تو شوکت خانم ہسپتال بنانے میں کوئی دشواری پیش نہیں آۓ گی لہذا اب ایک تیر سے دو شکار کرنے تھے لیکن ورلڈ کپ سے تھوڑا پہلے ہی پاکستان کے اہم کھلاڑی وقار یونس اور سعید انور زخمی ہو کر ٹیم سے باہر ہو جاتے ہیں
    یہ بات بھی عمران خان کا یقین نہیں توڑ سکی عمران خان نئے کھلاڑیوں کو ٹیم میں لاتے ہیں سیلیکشن کمیٹی سے لڑ کر انضمام الحق کو ٹیم میں لاتے ہیں یہاں سے ورلڈکپ کی جدو جہد کا آغاز ہوتا ہے آغاز کچھ اچھا نہیں ہوا شروعات میں شکست ہوئی لیکن عمران خان پاکستان ٹیم کو بتاتے رہے یہ ورلڈ کپ ہمارا ہے ہمیں کوئی نہیں ہرا سکتا ٹیم کے لیے یہ نعرہ امید کی کرن ثابت ہوتا ہے اور ہر کھلاڑی جیت حاصل کرنے میں لگ جاتا ہے پاکستان سیمی فائنل میں پہنچ جاتا ہے یہاں عمران خان کا انتخاب انضمام الحق ثابت کرتا ہے کہ عمران خان کا انتخاب بالکل صحیح ہوتا ہے کیوں کہ اس میں سفارش کا عمل دخل نہیں ہوتا انضمام الحق اپنی شاندار کارکردگی سے پاکستان کو فائنل میں پہنچا دیتا ہے فائنل میں پاکستان کا مقابلہ انگلینڈ سے ہوتا ہے عمران خان کارنرڈ ٹائیگر شرٹ پہنے ٹاس کے لیے میدان میں اترتا ہے اور ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کرتا ہے پہلے کھلاڑی آؤٹ ہونے کے بعد حیران کن طور پر عمران خان خود میدان میں اترتا ہے اور شاندار ففٹی اسکور کرتا ہے عمران خان کی شاندار بنیاد کا باقی ٹیم فائدہ اٹھاتے ہوئے شاندار اختتام کرتی ہے
    باؤلنگ کا وقت آتا ہے تو وسیم اکرم ہیرو قرار پاتا ہے ایک ساتھ دو آؤٹ کر کے میچ پورے طریقے سے پاکستان کے ہاتھ میں کر دیتا ہے آخر پر عمران خان وکٹ لے کر پاکستان کو فاتح بناتا ہے یوں پاکستان عمران خان کی قیادت میں پہلا کرکٹ ورلڈ کپ جیتتا ہے

    اس کے ساتھ ہی شوکت خانم ہسپتال بنانے کی جدو جہد کا آغاز ہوتا ہے اور عمران خان دنیا بھر کے بڑے ناموں کو کمپیئن میں لاتا ہے اس سلسلے میں سب سے بڑا نام نصرت فتح علی خان صاحب ہیں جو شوکت خانم ہسپتال کے لیے ہمیشہ خان صاحب کے ساتھ رہے عمران خان لوگوں کے ساتھ مل کر شوکت خانم ہسپتال بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں عمران خان نے نا صرف شوکت خانم ہسپتال بنایا بلکہ اسے دنیا کا بہترین ہسپتال بنا کر دکھایا اور لاکھوں ماؤں کی دعا حاصل کی
    ابھی کے لیے اتنا کافی ہے سیاست کے میدان میں عمران خان کی کامیابیاں بیان کرنے کے لیے الگ سے تحریر کی ضرورت ہے انشاء اللہ بہت جلد عمران خان کی سیاست پر بھی تحریر لکھوں گا

  • ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران (قسط ۔ 09) تحریر:محمداحمد

    جیسا کہ پچھلی 8 تحریروں میں بتایا کہ ملک میں اصل گڑبڑ کون کر رہا ہے حقیقت میں اصل گڑبڑ ہم ہی کر رہے ہیں اور ہم حکمرانوں کو کوستے ہیں لیکن ہم بھول جاتے ہیں کہ اللہ پاک اس قوم کی حالت کبھی نہیں بدلتا جو اپنی قسمت آپ نہیں بدلتے اسی لئے آج وضاحت کریں گے کہ کیسے ٹوکری میں ناجائز سفارش اور رشوت ، بجلی میں ہیرہ پھیری ، باریش چہرے بے نمازی پیشانیاں ، خواتین کی کسے ہوۓ کپڑے ننگے لباس استعمال ذ ہو رہے ہیں بتانے کا مقصد یہ ہے کہ عوام باخبر ہو 

    ٹوکری میں ناجائز سفارش: 

    آج کل کے دور میں سفارشات پہ ہی کام ہوتا ہے لوگ قابلیت کو ترجیع نہیں دیتے کہیں کوئی کام کی تلاش کرنی ہو یا تعلیم ادارے میں تعلیم حاصل کرنی ہے ہر جگہ سفارشات کی جاتی ہیں لیکن سفارشات کے ساتھ ساتھ رشوت بھی عروج پہ ہوتی چلی جا رہی ہے 

    رشوت کے بغیر کوئی کام سرانجام نہیں ہو پاتا لوگ بھول گے ہیں کہ حلال روزی کماکر بچوں کو کھلانے سے ان کی تربیت میں بھی بہتری آۓ گی اور جس بچے کی تربیت ہی حرام کی کمائی سے کی گئی ہو وہ بڑا ہوکر کیا کرے گا پھر ہمارے زہن میں اتا ہے بچے بڑوں کا ادب نہیں کرتے چھوٹوں کے ساتھ احترام سے پیش نہیں آتے جس وقت والدین کو اولاد کی ضرورت ہوتی ہے اس وقت بچے والدین سے علیحدگی اختیار کر لیتے ہیں اصل وجہ وہ رشوت سے لیا ہوا حرام کا نوالہ ہے جس سے بچے کی تربیت ایسے ہوئی جس کی وجہ سے بچے کے خون میں ملاوٹ ہوئی لیکن اولاد شائد بھول جاتی ہے جو آج حال والدین کا ہے وہی حال کل ان کا بھی ہو گا جو سوال وہ اج اپنے والدین سے کر رہے ہیں کل کو وہی سوال ان کے بچے بھی ان سے کریں گے اسی لئے کوشش کریں کہ اپنے اپنے بچوں کو قابلیت کی بنا پر سکول کالج میں داخلہ کروائیں رشوت کو ترجیع نہ دیں عزت کی حلال کی روزی کمائیں اللہ پاک اسی میں اتنی برکت ڈالے گا کہ آپ کے کھانے سے کم نہیں ہوگی 

    ایک واقع میری آنکھوں سے بھی گزرا کسی عزیز نے گھریلو بجلی کا میٹر لگوانا تھا بہت دفعہ گزارش کی لائن مین کو کہ سب ڈیمانڈ نوٹس جمع کروا دیا ہے اب بہت وقت ہوگیا ہے آپ کی مہربانی میرا میٹر لگا دیں لیکن مجال ہے ان لائن مین پر جوں سے توں گزری ہو 

    پھر کسی نے مشورہ دیا آپ کس صدی میں رہتے ہیں جلدی کام کروانے کےلئے تھوڑی بہت رشوت لگائیں دیکھیں اپکا کام دنوں نیں ہوجاۓ گا بندا حالات سے مجبور ہوکر رشوت کو ترجیع دیکر لائن مین کو رشوت دے دیتا ہے اور وہی میٹر جو کافی عرصے سے نہیں لگ رہا وہ دنوں کی بجاۓ گھنٹوں میں لگ جاتا ہے وقت اور حالات انسان کو بدل دیتے ہیں اس لئے چاہیے کہ ہم سب رشوت اور ناجائز سفارش کو ترجیح نہ دیں

    بجلی میں ہیرہ پھیری: 

    بجلی کی ہیرہ پھیری ایسا معمہ ہے جس کا بس چلاتا ہے وہ ہاتھ خالی نہیں جانے دیتا چور چوری سے جاتاہے کبھی ہیرہ پھیری سے نہیں جاتا 

    ہمارے ملک میں بجلی چوری ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جس کو کبھی بھی حل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ جب تک لوگوں کے ضمیر مردہ رہیں گے تب تک چوری عروج پر رہے گی ۔ ہمارے ہاں تو کسی جلسے جلوس کا اگر انعقاد کیا جاتا ہے تو چوری کی بجلی استعمال کرتے ہیں اسی طرح اگر کوئی کرکٹ ٹورنامنٹ ہو تو بھی بجلی چوری کی استعمال کی جاتی ہے 

    ان سارے معملات پر ہر انسان کی نظر ہوتی ہے چاہے وہ ملازمین ہو یا عام انسان لیکن کوئی کچھ نہیں کہتا اس کی وجہ یہی ہے سب اپنے مفادات دیکھتے ہیں رشوت دےکر ملازمین کے منہ بند کر دیئے جاتے ہیں تاکہ عملہ اس پر کاروائی نا کرے اور بجلی کی ہیرہ پھیری عروج پر ہوتی ہے اس لئے ہم سب کو چاہیے کہ ہم لوگ حلال کمائیں حلال کھلائیں اپنے ضمیر کو جگائیں وہ قومیں تباہ ہو جاتی ہیں جو اپنی قسمت نہیں بدلتیں اس لئے اپنے آپ کو بدلیں لوگ خود ہی بدل جائیں گے اگر ہر انسان ایسا سوچ لے تو کبھی بھی کوئی مسئلہ پیش نہیں آۓ گا 

    باریش چہرے بے نمازی پیشانیاں:

    اسلام ہمیں راہِ ہدایت سیکھاتا ہے نماز دن

    ین کا ستون ہے بعض لوگ اپنے آپ کو ایسے سانچے میں ڈالتے ہیں کہ جس سے ان کو لوگ دیکھ کر کہیں کہ بہت ہی معتبر شخص ہے لیکن اللہ پاک اس انسان کو سخت ناپسند فرماتا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت رکھ کر اس کی سنت پر عمل نہ کرے حدیث میں آتا ہے کہ حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں

    جہنم میں خوفناک وادی ہے ویل نامی جس سے جہنم خود بھی پناہ مانگتا ہے یہ اس شخص کا ٹھکانہ ہو گی جو نماز کو وقت گزار کر پڑھتا ہے

    اللہ کریم اس کی عمر سے برکت ختم کر دے گا، اس کے چہرے سے نیک لوگوں کی علامت مٹا دے گا۔

    ذلیل ہو کر مرے گا ۔

    بھوکا مرے گا۔

    مرتے وقت اسے اتنی پیاس لگے گی کہ اگر سارے دریاؤں کا پانی بھی پلا دیا جائے تو اس کی پیاس نہ بجھے گی

    خواتین کی کسے ہوۓ کپڑے ننگے لباس: 

    بڑھتے ہوۓ حالات کو دیکھتے ہوئے ہمارے معاشرے میں خواتین کے لباس پہ بہت تنقید ہوتی ہے اور حقیقت بھی یہی ہے پاکستان واحد ایسا ملک ہے جو کلمہ کے نام پر بنا ہے جیسے جیسے لوگ پڑھے لکھے ہوتے جارہے ہیں آزاد خیال کے مالک ہوتے جارہے ہیں کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک ترقی نہیں کرتا جب تک وہ قوم اپنے اپ کو نہیں بدلتی اسلئے ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن حدیث کے مطابق زندگی گزاریں جیسا کہ ارشاد ہے جب بھی نظر خیر محرم عورت پر پڑھے تو نظر کو فوراً نیچے کرنا چاہیے اور خواتین کو چاہیے لباس کا ایسا استعمال کرنا چاہیے جو عزت مجروع کرنے کا باعث نہ بنے کھلے بال ، جینز اج کل فیشن بن گیا ہے اس کی روک تھام ہر والدین کا فرض بنتا ہے وہ اپنے بچوں کو ترغیب دیں کہ عورت کی عزت حجاب میں ہے 

    لیگنگ یعنی عورتوں کے جسم سے چپکا شلوار حرام ہے لوگ اس بات کو نہیں مانتے اور بڑا دکھ ہوتا ہے جہ سب دیکھ کر ۔ مہربانی آپ سے درخواست ہے جدید لباس کی روک تھام کیلئے اپنا اپنا کردار ادا کریں 

    اگلی قسط میں شئیر کیا جاۓ گا کہ کیسے شادیوں میں شراب نوشی اور مجرے اور فیرننگ ، مرد عورت کا اختلاق ، ٹی وی پر فحش فلمیں ننگے ناچ ہو رہے ہیں بتانے کا مقصد یہ ہے کہ عوام باخبر ہو کہ ملک میں اصل گڑبڑ ہم کر رہے ہیں یا 

    حکومت اصل گناہگار کون ہے ۔ جیسی عوام ویسے حکمران

     

    @JingoAlpha

  • بنی اسرائیل  کی ابتداء کہاں سے ہوئی   تحریر اکرام اللہ نسیم

    بنی اسرائیل  کی ابتداء کہاں سے ہوئی تحریر اکرام اللہ نسیم

    بنی اسرائیل قوم کا تذکرہ اللہ رب العزت نے بہت مرتبہ قرآن مجید میں کیا

    انکا تذکرہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس لئے کیا کہ یہی قوم فرعون کے سامنے اپنے دین پر قائم رہی اپنے دین سے نہیں ہٹیں

    بنی اسرائیل قوم کہاں سے شروع ہوئی  دراصل حضرت یعقوب علیہ السلام جو کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے والد تھے اُن دوسرا نام اسرائیل تھا

    وہاں سے اس قوم کی ابتدا ہوئی

    حضرت یعقوب علیہ السلام کے 12 بیٹے تھے انکو بنی اسرائیل کہا جاتا تھا پہلے یہ لوگ کنعان میں آباد تھے پھر حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعہ کے بعد مصر میں جابسے۔ اس طرح بنی اسرائیل مصر میں پھلے پھولے اور لاکھوں کی تعداد تک پہنچ گئے حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے کا بادشاہ جو  مصریان بن ولید جو حضرت یوسف علیہ السلام کے ہاتھوں مسلمان ہو گیا تھا جب انکا انتقال ہوا تو 

    مصر کے بادشاہت کے تخت پر آپ بیٹھ گئے

    اور مصر کا نظم و نسق سنبھالا جب آپکا انتقال ہوا

    آپ کے بعد بادشاہ قابوس نامی والی  مصر ہوا کفر اور ضلالت کے جو باب آپ نے بند کئے تھے وہ اس قابوس بادشاہ نے دوبارہ کھولے

    جب اولاد یعقوب علیہ السلام نے س طریقے کو قبول نہ کیا تو ان کو غیر ملکی کہہ کر غلام بنالیا اور انتہائی سخت کام لینے لگا جب اس بھی انتقال ہوا اس کا بھائی ولید بن مصعب والی مصر ہوا مصر کے بادشاہ کو فرعون کہتے ہیں یہ اس دوسرے فرعون سے بھی زیادہ ظالم تھا 

    اس نے بادشاہ کا تخت سنبھالتے ہوئے کہا 

    انا ربکم الاعلی  ترجمہ۔ میں تمہارا بڑا رب ہوں  

    یہ اس لحاظ سے بھی ظالم تھا کہ اس نے خدائی کا دعویٰ بھی کرڈالا 

    اور ساتھ یہ احکامات بھی جاری کئے کہ اعلی سے ادنی تک تمام رعایا مجھے سجدہ کرے

    چنانچہ ہامان نے سب سے پہلے اسے سجدہ کیا  پھر اور وزیروں اور مشیروں نے اسکو سجدہ کیا 

    اور جو لوگ دور دراز علاقوں میں رہتے تھے انکے لئے اپنے سونے کہ مجسمے  بنا کر بھیجے جن مجسموں کے نیچے ہاتھی کے دانت آبنوس اور چاندی کے تخت رکھے اور انکے آس پاس سنہری درخت کروائے چاندی سے پرندے تیار کئے درختوں کے شاخوں پر اس طرح سے نصب کئے تھے اور ہر جانور اسی ترتیب سے رکھی تھی کہ جس وقت بھی خادم تحت کو حرکت دیتا تھا تو انکے پیٹ سے آواز آتی تھی کہ اے مصر کے لوگو فرعون تمہارا خدا ہے اسکو سجدہ کرو یہ سن کر مورتی کے آگے سب قصبے والے سجدہ ریز ہو جاتے لیکن بنی اسرائیل اس سے باز نہ آئے فرعون نے بنی اسرائیل کے سرداروں کو بلایا اور تنبیہ کی اور کہا کہ تم مجھے سجدہ کیوں نہیں۔ کرتے ہو لیکن بنی اسرائیل کے سردار انکی دھمکی سے مرعوب نہ ہوئے اور یہ کہا کہ فرعون کا عذاب ہلکا ہے اور عذاب خداوندی ابدی ہے بہتر یہی ہے کہ فرعون کے عذاب پر صبر کرو اور اسکو سجدہ نہ کرو یہ بات تمام بنی اسرائیل نے منظور کرلی اور فرعون کو بھی باور کرایا کے ہم نے اپنے دین سے نہیں ہٹنا اللہ کے علاؤہ کوئی رب نہیں یہ سن کر فرعون کو غصہ آیا اور تانبے کی بڑی بڑی دیگیں منگوائی اور اسمیں زیتون کا تیل ڈالا اور پھر جو بھی فرعون کے رب ہونے سے انکار کرتا اسکو فرعون کھولتی ہوئی دیگیوں میں پھینکواتا یہاں تک کہ انبوہ کثیر کو اسی طریقے سے جلا ڈالا مگر بنی اسرائیل جو دین اسلام پر جان تو دے سکتی تھی مگر پیچھے نہیں ہٹ سکتی تھی بنی اسرائیل اپنے ایمان پر قائم و ثابت قدم رہے 

    @realikramnaseem

    ٹویٹر اکاؤنٹ ہینڈل

  • صحافت اور سیاست   تحریر: ثمرہ اشفاق

    صحافت اور سیاست  تحریر: ثمرہ اشفاق

    صحافت اور سیاست بنیادی طور پر دو الگ الگ اور ایک دوسرے سے یکسر مختلف شعبے ہیں۔

    سیاست کا مقصد اقتدار میں آ کر خدمت خلق ہے اور عوام کے پیسے کے جائز استعمال سے عوام ہی کا معیار زندگی بہتر بنانا ہے۔

    جبکہ صحافت کا مقصد باوثوق ذرائع سے حقائق عوام تک پہنچانا،اور چھان بین کر کہ سچ کو جھوٹ سے الگ کرنا ہے۔بیشر جرائم اور عوامی دولت میں خرد برد پر اداروں کو جھنجھوڑنا بھی صحافی کے فرائض میں شامل ہے۔

    لیکن سیاست اور صحافت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔صحافت کے بغیر سیاست ممکن نہیں اور سیاست کے بغیر صحافت،

    سیاستدان صحافیوں کے کڑے سے کڑے سوالات کے جوابدہ ہوتے ہیں اور اپنا یا اپنی سیاسی پارٹی کا موقف میڈیا کے ذریعے بآسانی عوام تک پہنچاتے ہیں۔

    لیکن بدقسمتی سے آج کل پاکستان میں سیاست اور صحافت کو الگ کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

    صحافت کا لبادہ اوڑھے چند صحافی حکومتی جب کہ چند اپوزیشن کے ترجمان بنے دکھائی دیتے ہیں۔جن کا مقصد صرف اور صرف چند سیاسی پارٹیوں کی ترجمانی کرنا اور حقائق توڑمروڑ کر پیش کرنا ہے۔کسی بھی سیاسی شخص کی کوئی بھی ذاتی یا سیاسی زندگی کے حوالے سے آنے والی خبر کا سب سے پہلے دفاع کیا جاتا ہے۔

    گزشتہ دنوں نواز شریف اور مریم نواز کے ترجمان محمد زبیر کی متنازع ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد سب سے پہلے چند صحافیوں نے ان کا دفاع کرتے ہوئے اس کے غلط ہونے کی خبر دی۔گو کہ سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے انہیں بھرپور تنقید کا سامنا کرنا پڑا مگر صحافی سیاستدانوں کی چمچہ گیری سے باز نہیں آتے۔

    ایسے ہی کئی صحافی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صحافت کو خیر آباد کہہ کر سیاست میں قدم رکھ لیتے ہیں۔اور انہیں مختلف سیاسی عہدوں سے نوازا جاتا ہے۔

    پاکستان میں اس کا آغاز پچاس کی دہائی میں ایک انگریزی اخبار کے ایڈیٹر الطاف حسین نے کابینہ میں شامل ہو کر کیا۔ بھٹو مرحوم کے دور میں انگریزوں اخبار سے وابستہ ایک اور صحافی نسیم احمد وفاقی سیکرٹری اطلاعات مقرر ہوئے اور اور اس منصب پر فرائض سر انجام دیتے رہے اسی دور میں مرحوم کوثر نیازی وزیر حج اور اطلاعات رہے جب کہ حنیف رامے بھی پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ بن گئے۔

    آج کل اس سلسلے نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے،صحافیوں کی سیاسی جماعتوں سے وابستگیاں بڑھتی جا رہی ہیں،جس کے لئے وہ اپنے پیشے سے بھی بے ایمانی کرتے ہوئے جھوٹ اور سچ میں تفریق نہیں کرتے،اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جب اقتدار کے مزے سیاستدان لوٹتا ہے تو ان نام نہاد صحافیوں کو بھی اس میں حصہ دیا جاتا ہے۔

    سرکاری دوروں میں من پسند صحافیوں کو ساتھ لے جانا ہو یا چیئرمین پیمراو پی سی بی کے عہدوں سے نوازنا ہو، عوام کے پیسے کی تباہی میں ان نام نہاد صحافیوں نے بھی ہاتھ دھوئے ہیں جس کا قرض وہ آج تک اپنے قلم یا اپنی زبان سے ان کے ترجمان بن کر ادا کرتے ہیں۔

    چند غیر جانبدار اور پائے کے صحافیوں کو اب آگے آنا ہو گا اور اپنے اس پیشے کو بد نامی سے بچانا ہو گا،صحافت کا لبادہ اوڑھے ان کالی بھیڑوں کو پہچانیں اور انہیں بے نقاب کریں تا کہ آئندہ ہر صحافی غیر جانبدار ہو کر حقائق عوام کے سامنے رکھے۔سیاسی جماعتوں کاموقف لیا جائے لیکن صرف ایک سیاسی جماعت کا دفاع اور دوسری پر تنقید ایک صحافی کی صحافت کو متنازع بنا دیتی ہے۔اب گنے چنے چند ایک ناموں کے علاوہ ہر صحافی متنازع بن چکا ہے۔نامور صحافیوں کو اس کا ادراک ہونا چاہیے اور اس پیشے کو سیاست میں آنے کی آسان سیڑھی بننے سے روکنا چاہئے۔

    @sam_rahmughal