Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • انصاف کا دوہرا معیار  تحریر :  محمد زیشان روؤف

    انصاف کا دوہرا معیار تحریر :  محمد زیشان روؤف

    ‏ 

    کہتے ہیں معاشرے میں برائی کرنا جتنا آسان ہو جاتا ہے اس قدر اس برائی کے ارتکاب میں اضافہ بھی ہو جاتا ہے اور کوئی بھی برا کام کرنے میں آسانی کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اب اس کا سر انجام دینا آسان ہو چکا اور پہلے مشکل تھا بلکہ کسی بھی گناہ اور جرم پر مناسب سزاؤں کے رحجان میں کمی ہی اصل آسانی ہے جو باقی دیکھنے والوں کو بھی جرم کرنے پر اکساتی ہے۔ جب مجرم کو سزا نہیں ملتی تو باقی لوگوں کو شہہ ضرور مل جاتی ہے کہ ویسا ہی جرم وہ بھی دہرائیں اور جو جرم کر چکا ہوتا ہے اسکے تو جیسے منہ کو خون لگنے والی بات ہو جاتی ہے۔ جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ سزا جزا کا تو کوئی عمل دخل ہی نہیں اس لئے بار بار جرم ہوتے رہتے  ہیں ۔

     پاکستان کا المیہ یہی رہا ہے کہ قانون تو بنا دیا جاتا ہے مگر اس پر عمل درآمد کروانا کبھی ممکن نہیں ہو سکا۔ اثر و رسوخ رکھنے والے لوگ قانون کو گھر کی باندی سمجھ لیتے ہیں اور اس طرح معاشرے میں جرم پروان چڑھتا رہتا ہے اور آئے دن نیا سے نیا جرم سامنے آتا ہے دو یا چار دن سوشل میڈیا ,  پرنٹ اور  الیکٹرانک میڈیا پر شور مچتا ہے پھر کوئی نیا کیس سامنے آ جاتا ہے اور پرانے کیس پر سے سب کی نگاہیں ہٹ جاتی ہیں اور یوں کبھی کسی کیس کا فیصلہ سامنے نہیں آتا جو کہ لوگوں کے لیئے نشان عبرت بن سکے۔ جب تک سزاؤں پر شرعی طریقہ کار کے مطابق عمل نہیں ہو گا تب تک لوگ عبرت حاصل کیسے کریں گے۔ اس لیئے ہمیشہ سے برائی کی جڑ کو پکڑنے کی ضرورت رہی۔ اور برائی کی جڑ ہمارے معاشرے میں انصاف کا نہ ہونا ہے  ۔

    اگر بروقت سزا  جرم ہونا شروع ہو جائے تو معاشرے میں آدھی برائیاں تو خود بخود ہی ختم ہو جائیں گی۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں طاقتور کو سزا دینے کا رواج ہی نہیں کمزور بغیر جرم کے بھی چار پانچ سال سزا کاٹ لیتا ہے۔ انصاف کا یہ دہرا معیار ہمارے معاشرے کی جڑیں کھوکھلی کر رہا ہے۔  جس معاشرے کی جڑیں عدل و انصاف کی وجہ سے کھوکھلی ہونا شروع ہو جائیں اس معاشرے کو تباہی سے کوئی بھی نہیں روک سکتا۔ حضرت علی (رض) کا قول ہے

    کفر کا نظام تو چل سکتا ہے لیکن ناانصافی کانہیں

    عدل و انصاف کسی معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتا ہے۔  جب آپ ریڑھ کی ہڈی کو نکال دیں گے تو پھر جسم کا کیا بنے گا۔

    عواموانصاف کی فوری اور معیاری فراہمی کو کس قدر ترسی ہوئی ہے اس کا اندازہ جنرل الیکشن 2018میں عمران خان کی جیت سے واضع ہے۔ خان صاحب نے عدل و انصاف کا نعرہ لگایا تھا عوام نے عدل و انصاف کو ویلکم کیا اور ووٹ دیا۔

    لیکن پاکستان میں نظام عدل قائم ہونا نا ممکن نظر آتا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جو اسلام کے نام ہر حاصل کیا گیا ہو وہاں 4 ماہ سے 4 سال تک کی بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا جاتا ہے لیکن ایک طبقہ جو لبرل ازم کا جھنڈا اٹھائے پھرتا ہے وہ یہ کہے کہ سر عام سزا دینا انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں آتا ہے۔ اور ایسے قاتلوں اور درندوں کا دفاع کرنے والے ایسے لوگوں کی وجہ سے ہی پاکستان میں جرم دہرایا جاتا ہے۔ جب کسی کو سر عام سزا نہ دی جائے گی تو لوگ عبرت کیسے حاصل کریں گے۔ اب دیکھا جائے تو وہ درندہ صفت لوگ کوئی زیادہ اثرو رسوخ والے بھی نییں ہوتے لیکن ان کے حق میں آواز اٹھا کر بچانے والے اس بات کے ذمہ دار ہیں جو ان درندوں کے ساتھ بھی رحم والا معاملہ کر کے جرم کو تقویت دیتے ہیں

    اس لیئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ جرم کو عام کرنے کے پیچھے لبرل طبقے کا بھی بہت بڑا رول ہے

    اسی طرح منشیات کا دھندہ دیکھا جائے تو وہ چھوٹے پیمانے پر شاید لوگ چھپ چھپا کر کرتے ہوں لیکن بڑے مافیاز کو حکومتی اداروں کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے جو کہ اعلٰی آفسران کو ماہانہ ادائیگی کرتے ہیں اور کھلم کھلا منشیات جیسے نا سور کو معاشرے میں پھیلاتے ہیں۔ ایسے عناصر پر بھی کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا اور اگر کوئی رنگے ہاتھوں پکڑا بھی جائے تو زر خرید عدالتوں سے شراب کو شہد ثابت کروا کے بری ہو جاتا ہے

    انصاف کسی بھی اسلامی ریاست کی بنیادی اکائی ہے جسے بد قسمتی سے پاکستان کی بنیادوں سے مسمار کر دیا گیا۔ اور یوں پاکستان کی بنیادی اکائیوں میں سے ایک ستون ہی نکال دیا گیا۔ جب تک انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیئے جاتے حقیقی تبدیلی کسی صورت نہیں آ سکتی کیونکہ معاشرے مل کر قومیں اور ملک بناتے ہیں جب کی معاشرتی نظام ہی درہم برہم ہوا ہو تو کون سی تبدیلی کی امید کی جا سکتی ہے

    ‎@Z33_6

  • غداری اقوام کی تباہی کا سبب تحریر: محمد عمران خان

    قدیم چینیوں نے تاتاریوں کے حملوں سے بچنے کیلئے دیوار چین بنا لی،اس عظیم دیوار کو بنانے کے دوران 10 لاکھ مزدور اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، بیس سے تیس فٹ اونچی اور پندرہ سو میل پر پھیلی یہ دیوار بنانے میں چین کو زمانے لگ گئے، بالآخر انسانی تاریخ کی سب سے بڑی تعمیر معرض وجود میں آئی جس کو دیوار چین کہا جاتا ہے،

    اب سوال یہ ہے کےکیا چین بیرونی حملوں سے محفوظ ہوا؟ 

    آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اس دیوار کو بنانے کے بعد پہلے 100 سال میں تاتاریوں نے تین بار چین میں گھس کر چین کی اینٹ سے اینٹ بجا ڈالی اور اس سے بھی بڑی حیرت کی بات یہ ہے کہ تاتاریوں کو ایک بار بھی دیوار چین کو پھلانگنے یا توڑنے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی،

    جانتے ہو کیوں؟

    اس لئے کہ ہر بار بیرونی دشمن کے لئے دروازے اور کنڈیاں اندر سے کھلیں، تاتاریوں نے محافظوں کو خریدا اور ملک کے اندر غدار پیدا کئے۔

    قدیم چینیوں نے اپنی تمام توانائیاں اور وسائل دیوار بنانے میں لگا دیے لیکن یہ بھول گئے کہ انسان بھی بنانے سے بنتے ہیں، تراشنا پڑتا ہے، حب الوطنی کی بٹھی سے گزارنا پڑتا ہے، تربیت کے مراحل سے گزر کے انسان تعمیر ہوتا ہے وہ ہی ملک و ملت کے مقدر کا ستارہ بن کے افق پہ چمکتا ہے۔

    ایسے ہی ہم نے پاکستان بنانے میں تو لاکھوں لوگوں کی قربانی دینے سے رتی برابر دریغ نا کیا، ایٹم بم اور جدید ہتھیار بھی بنا لیے، لیکن فرد اور قوم کو بنانے کے لیے ذرا سا کام نا کیا جس کا نتیجہ آج آپ سب کے سامنے ہے۔ پاکستان کو ہمیشہ اندر کی غداریوں اور اندر کے ناسوروں سے نقصان پہنچا ہے۔ پاکستان کو آج تک اتنا نقصان شاید ہی دشمن کے ہاتھوں ہوا ہو جتنا اندر کے غداروں نے دیا ہے۔ کئی مواقع پر پاکستان کے اہم راز اور دستاویزات لیک ہوکر دشمنوں کے ہاتھوں تک جا پہنچیں مگر وہ راز لیک کرنے والے شاذونادر ہی تلاش کیے جاسکے۔ اسی طرح پاکستان کی تاریخ کا معروف ترین کیس ڈان لیکس بھی اندر کی غداری پر مبنی تھا جس میں پاکستان کی حفاظت کے ذمہ دار ادارے کے اعلیٰ افسر نے راز دشمن کے ہاتھوں فروخت کردیے۔ اسی طرح سابقہ سیاست دانوں نے بھی اپنی اداروں سے چپقلش کے نتیجے میں اہم ترین راز عالمی میڈیا پر اگلے جس کے نتیجے میں پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان برداشت کرنا پڑا۔

    اندر کے ناسوروں اور غداروں کے متعلق ہی مسلمانوں کے عظیم لیڈر سلطان صلاح الدین ایوبی نے فرمایا تھا:

    "اندر کے غداروں کے ہوتے ہوئے دشمن کی ضرورت نہیں ہوتی”

    برصغیر کی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں کو شکست ہمیشہ اپنے ہی لوگوں کی غداری سے ہوئی۔ ریاست میسور اور برصغیر کے عظیم جنگجو ٹیپو سلطان نے انگریزوں کو ناکوں چنے چبوا دیے مگر صرف ایک دوست کی غداری نے ان کی جان سے قیمت ادا کی۔ اسی طرح نواب سراج الدولہ کو بھی ان کے کمانڈر میر جعفر کی سنگین غداری کی وجہ سے شکست ہوئی اور ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ مغل شہنشاہوں کو بھی اندرونی غداریوں کا سامنا رہا اور ان کی مضبوط اور وسیع تر حکمرانی انگریزوں کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔ 

    اسی لیے ایک حقیقی کلمہ گو مسلمان کو یہ کسی بھی حالت میں بھی زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے مذہب یا قوم سے غداری کرنے کا سوچے بھی سہی۔ بطور فرد اور بطور شہری ہمیں اپنی قوم اور اپنے وطن کے ساتھ مخلص ہونا چاہیے۔ قومی سلامتی اور وقار کی خاطر تمام تر اختلافات کو پس پشت ڈال دینا چاہیے۔ یہ بات بھی ہمارے فرائض میں شامل ہونی چاہیے کہ اپنے اردگرد اور قرب و جوار پر گہری نظر رکھی۔ کسی بھی مشتبہ حرکت کی صورت میں متعلقہ اداروں کو فوری اطلاع کریں تاکہ ہماری سلامتی اور وطن کی عزت و آبرو دونوں محفوظ رہیں۔ بصورت دیگر ہماری بقاء اور استحکام کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

    Twitter Handle: @ImranBloch786

  • پاکستان میں انقلاب چاہیے یا انقلابی سوچ  ; تحریر فرازرؤف

    پاکستان میں انقلاب چاہیے یا انقلابی سوچ  ; تحریر فرازرؤف

    پاکستان کی تاریخ گواہ ہے جب بھی کوئی حکمران اس ملک پر مسلط ہوا چاہے وہ سویلین حکمران تھا یا پھر عسکری ہر کسی نے الیکشن سے پہلے یا ملک پر قابض ہونے سے پہلے اس ملک میں انقلاب، تبدیلی کے نعرے لگائے لیکن اقتدار ملنے کے بعد وہ بھی اس اسٹیٹس کو کا حصہ بن گئے یا سسٹم نے انہیں مجبور کر دیا کہ وہ بھی اس راہ پر چلیں جو ان سے پہلے حکمرانی کرکے جا چکے تھے۔

    وہ کیا محرکات ہیں جو ہر آنے والے حکمران پر حاوی ہو جاتے ہیں الیکشن سے پہلے انقلابی سوچ رکھنے والا لیڈر کیسے اقتدار اعلی ملنے کے بعد اسی آلودہ نظام کا حصہ بن جاتے ہیں۔ کیا یہ گلا سڑا نظام اب اس ملک کے لیے ناسور بن چکا ہے جو بھی آتا ہے وہ اسی بوسیدہ نظام کا یا تو حصہ بن جاتا ہے یا پھر اسی میں سے راستہ تلاش کرنا شروع کر دیتا ہے۔ جب کہ وہ جانتے ہیں کہ اس کا نتیجہ صفر بٹا صفر ہی نکلے گا۔

    تاریخ اٹھا کر دیکھیں فرانس ہو یا ایران دونوں میں انقلاب کے محرکات یکساں تھے امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا گیا۔ نا انصافی اتنی بڑھتی گئی کے لوگوں نے حکمرانوں کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا اور ہتھیار اٹھا لئے۔ کم و بیش  انقلاب کا مفہوم و وجوہات ایک جیسی ہی نظر آتی ہیں۔

    وہ کیا وجوہات ہیں کہ ہمارے بیوروکریٹس بھی اسی نظام کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں، کیونکہ وہ  کھانچے لگانا جانتے ہیں اتنے سالوں سے سسٹم میں رہ کر تمام لوپ ہولز کا پتہ ہے۔ یہ ہی ایک مین وجہ ہے کہ وہ اس نظام کو یا اپنی سوچ کو بدلنا نہیں چاہتے۔ حقیقت میں ہماری بیوروکریسی اچھی طرح جانتی ہے کہ ہمارے سیاست دان لالچی ہوتے ہیں اور اُنہیں اپنے جال میں پھنسانا کوئی مشکل کام نہیں اور یوں سیاست دانوں کی لالچ اور حرص کی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بیورو کریسی اُنہیں آرام سے استعمال کرلیتی ہے اور جب تمام مقاصد حاصل کرلیئے جاتے ہیں تو اُنہیں چلتا کردیا جاتا ہے اور بیوروکریسی وہیں کی وہیں موجود رہتی ہے۔

    میرے خیال میں سیاست دان اگر صحیح معنوں میں مخلص ہو جائیں اور سیاست کو عبادت سمجھ کر عوام کی خدمت کے جذبے سے کام کریں تو انہیں کوئی بیوروکریٹ استعمال نہیں کر سکے گا اور یہ بات نوٹ کر لیں کہ جس دن بیوروکریسی درست ہوگئی تو پاکستان دنیا کے نقشے پر مثالی ملک بن سکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس سرزمین کو وسائل سے مالا مال بنایا ہے۔ قطر، سنگا پور، ہانگ کانگ، ملائشیا اور یو اے ای کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جہاں کی بیوروکریسی کی بدولت ملک دنیا کے نقشے پر اُبھرتے نظر آئے۔

    اس ملک میں انقلاب اس وقت تک نہیں آ سکتا جب تک اس ملک میں لوگ انقلابی سوچ کے حامل نہیں ہوجاتے اس ملک میں انقلاب اس وقت تک نہیں آسکتا جب تک لوگ خود اپنی قسمت بدلنے کی جدوجہد نہیں کرتے، ایک فرد واحد کا انقلابی سوچ رکھنے سے کچھ نہیں ہو گا جب تک پوری کابینہ انقلابی نہیں ہو گی۔

    آج کی بڑی مثال موجودہ حکومت ہے، عمران خان نیازی الیکشن جیت کر اس نیت سے حکومت میں آئے تھے کہ ملک کے ہر شعبے اور ادارے میں  رفارمز لائے جائیں گے، شروع کے دو سال بیوروکریسی نے خان صاحب کو سسٹم میں ایسا الجھایا کہ اب تین سال ختم ہونے کو ہیں ابھی تک خاطر ہوا کام نہیں ہو سکتا۔

    حکومت شروع دن سے جب سے اقتدار میں آئی، تب سے بیوروکریسی میں بھی انقلابی تبدیلیوں کی خواہاں ہے لیکن کیا کریں، معاملات سلجھنے کی بجائے مزید بگڑ جاتے ہیں۔

     بیوروکریسی کیوں وزیراعظم عمران خان کو ناپسند کرتی ہے؟ کیونکہ عمران خان نے تہیہ کیا ہے کہ اب ملک ویسے نہیں چل سکتا جیسے پہلے چل رہا تھا، لیکن کیا ملک میں ریفارمز بیروکرسی کے بغیر کیے جا سکتے ہیں? جواب یقینا منفی میں ہو گا۔

    موجودہ حکومت کے ایم پی اے اور ایم این اے حضرات بھی اپنے حلقے کی سیاست کو اسی پرانی نظر سے دیکھتے ہیں جسے ہم تھانہ کچہری کی سیاست کہتے ہیں۔

    لہذا ایک طویل غوروفکر کے بعد یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اس ملک میں انقلاب کی نہیں بلکہ انقلابی سوچ رکھنے والے لوگوں کی ضرورت ہے جو اپنے ذاتی مفاد کو ایک طرف رکھ کر ملکی مفاد میں مل کر کام کریں۔ اس میں بیوروکریسی، حکمران اور خصوصا عوام کا ذہنی طور پر شامل ہونا ضروری ہے۔

    Author: Faraz Rauf

    Twitter ID: @farazrajpootpti 

  • برادری جھلنی پوسی تحریر: عرفان صادق

    برادری جھلنی پوسی تحریر: عرفان صادق

    عصر کا وقت تھا فون کی گھنٹی بجی کال اٹھائی تو ماموں زاد مخاطب تھا۔ کہنے لگا عرفان بھائی ایک مسئلہ پوچھنا ہے۔ میں نے کہا یار میں مفتی تو نہیں بہرحال بتاؤ کیا ایشو ہے۔۔؟
    گویا ہوا کہ ایک بچہ جو پیدا ہوا ہو اور اس کی کچھ دیر سانس اور نبض چلتی رہی ہو کیا اس کا جنازہ ہو گا۔۔؟
    میں نے کہا ہاں یار جنازہ تو ہونا چاہیے اس کا حق ہے۔ تو جی ٹھیک کہہ کر کال بند کر دی۔
    تھوڑی ہی دیر بعد دوبارہ اس کی کال آئی تو کہنے لگا کہ عرفان بھائی یہاں سب کہہ رہے ہیں کہ جنازے کی ضرورت نہیں ہے ، بچہ زندہ تھا ہی نہیں، جنازہ رہنے دیں۔۔۔!
    میں نے کہا کہ یار آپ پریشان مت ہوں جنازے کی ترتیب بنا لیتے ہیں۔ تو آئیں بائیں شائیں کرنے لگا۔ مجھے معاملہ تھوڑا گمبھیر لگا تو میں نے پوچھ لیا کہ یار اصل مسئلہ بتاؤ کہ کیوں نہیں جنازہ کرنا چاہ رہے۔۔؟
    میرے اس سوال پر اس کے جواب نے میرے رونگٹے کھڑے کر دیے۔
    کہنے لگا کہ عرفان بھائی سچ تو یہ ہے کہ امی کہتی ہیں کہ "جنازہ کروایا تاں برادری جھلنی پوسی” (جنازہ کروایا تو پوری برادری کو جھیلنا/ برداشت کرنا پڑے گا) جو کہ ہمارے لیے بہت مشکل ہے کیوں کہ مالی حالات خراب ہیں اور کام بھی کوئی خاص نہیں ہے۔
    یقین مانیے اس کے ان الفاظ نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔۔ مجھے یوں لگا کہ آسمان سے بجلی برسے یا زمین پھٹ جائے اور میں اس میں ریزہ ریزہ ہو جاؤں۔۔
    کیوں۔۔؟
    کیونکہ اس کی برادری میں ہوں، اس کی برادری آپ ہیں، اس کی برادری ہم سب ہیں۔
    یہ ہر دوسرے گھر کی کہانی ہے کہ بندہ فوت بعد میں ہوتا ہے پورے خاندان کےلئے بوریا بستر اور کھانے کی ٹینشن لواحقین کو پہلے لاحق ہو جاتی ہے۔ اور یہ اس کا آخری درجہ ہے کہ آج ایک معصوم جان کو بغیر جنازے کے دفن کیا جانے لگا تھا کہ "برادری جھلنی پوسی”
    بہرحال میں نے اسے کہا کہ پریشان مت ہو، ہم جنازہ پڑھیں گے اور بے شک برادری کو مت پوچھنا، کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بھی سنت ہے کہ ایک دفعہ جب ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا بیٹا فوت ہوا جو ابھی چھوٹا تھا تو آپ نے ان کے گھر جا کر صرف گھر والوں کو شامل کیا اور نماز جنازہ ادا کر لی۔
    اور ہاں اگر برادری کو خبر دینی ہی ہے تو مجھے بتانا میں انتظامات کروا لیتا ہوں۔۔ لیکن اسے اللہ نے سمجھ دی ،میں بھی کچھ دیر میں ان کے گھر پہنچا، کچھ ان کو سمجھایا جو اللہ نے توفیق دی اور پھر ہم نے رات عشاء کے بعد اس کے قریبی ترین تقریبا بیس لوگوں کے ساتھ نماز جنازہ ادا کی۔
    معزز قارئین یہ ایک کہانی ہے آپ اگر آنکھیں کھولیں تو ایسی ہی ہزاروں کہانیاں میرے اور آپ کے اردگرد روز رونما ہوتی ہیں ، لوگ مرگ پر پریشان حال ہوتے ہیں کہ کفن دفن تو درکنار برادری کو قورمہ کہاں سے کھلائیں گے۔؟ ان کے رہنے کا کیا بند و بست ہو گا۔۔؟
    خدارا غریب کےلئے موت کوبھی آسان کیجیے ایسا نہ ہو کہ غریب کہیں اس رواج کے ڈر سے اپنے مردے دفنانا ہی نہ چھوڑ دے یا قریب المرگ لوگوں کو اولڈ ہاؤس کے حوالے کرنا، ایدھی ہومز کے حوالے کرنا یا کسی روڑھی پر پھینکنا نہ شروع کر دیں۔ اور یاد رکھیں کہ اگر ایسا ہوا تو اس میں میرے اور آپ کے سمیت ہم سب مجرم ہونگے۔ تو آئیے آج سے عزم کیجیے کہ ایک تو کسی بھی مرگ پر گوشت نہ پکے ، پھر آپ اپنی حیثیت میں فوتگی والے گھر سے کھانے کا بائیکاٹ شروع کریں اور تیسرا یہ کہ اس تحریر کو پڑھنے والا ہر فرد اپنی اپنی فیملی ، محلے یا گاؤں میں ایسی کمیٹی بنائے جو لوگوں کو فوتگی کے موقعہ پر سہولیات دے کہ شہر سے باہر سے آئے مہمانوں کا کھانا ، میت کا کفن ، دفن ، قبر کا بند و بست اور ضروری معاملات نپٹانے سے اس فیملی کو بے فکری ہو تا کہ آئندہ کوئی فرد یہ کہہ کر جنازے سے انکار نہ کر سکے کہ "برادری جھلنی پوسی”

  • نجی تعلیمی ادارے مافیا نہیں مسیحا ہیں  تحریر: آصف علی یعقوبی

    نجی تعلیمی ادارے مافیا نہیں مسیحا ہیں تحریر: آصف علی یعقوبی

     

     نجی تعلیمی اداروں کے بارے میں اکثر کم پڑھے لکھے لوگوں کی جانب سے مافیا جیسے خطرناک الفاظ استعمال کرنا یا تو لاعلمی ہے یا منافقت۔ منافقانہ رویوں کو تو کسی تحریر یا کالم سے نہیں بدلا جاسکتا لیکن لاعلمی کو علم و تحقیق کے بعد ٹھیک کیا جاسکتا ہے۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ میں معاشرے کے ایسے چیزوں کے بارے میں حقائق پیش کرسکوں جس سے اکثریت کو لاعلم رکھا جاتا ہے اور میرا یہی قدم اصل میں علم کا لبادہ اوڑھے منافقین کے خلاف قلمی جہاد ہے۔ اس کالم میں میں تحقیق اور حکومتی اعداد و شمار کے مطابق یہ سمجھانے کی کوشش کروں گا کہ پرائیویٹ تعلیمی ادارے مافیا نہیں بلکہ عوام کی فلاح و بہبود کے ایسے ادارے ہیں جنہوں نے عوامی مقبولیت کی وجہ سے پاکستان میں "پبلک سکولز” کا درجہ حاصل کیا ہے۔ لیکن اس سے پہلے لفظ مافیا کی تعریف کروں گا تاکہ سمجھنے والے حضرات منافقین کی تعلیم دشمنی کو سمجھ سکیں۔  مافیا خطرناک ترین جرائم کے مرتکب لوگوں کے ایک منظم گروہ کو کہا جاتا ہے۔ جیسے معاشرے میں تعلیمی لبادہ پہنے ایسے لوگ جو ملک کے بہترین تعلیمی نظام چلانے والے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کیخلاف پروپیگنڈے کرکے ان کو بدنام کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں اصل میں یہی مافیا ہیں۔ کیونکہ تعلیم جرم نہیں بلکہ تعلیم کیخلاف اکھٹے ہونا جرم عظیم ہے۔ نجی تعلیمی ادارے تو ملکی معیشت کو بہتر بنانے، بے روزگاری کو کم کرنے، معیاری تعلیم دینے، مستحق غریب اور خصوصاً یتیم بچوں کو مفت تعلیم دینے اور اس طرح کے دوسرے کار خیر میں حصہ ڈالنے کے حوالے سے سب سے بڑے مسیحا کے روپ میں موجود ہیں۔ محکمہ تعلیم خیبر پختونخواہ اور پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے مطابق اس وقت صوبے میں 8782 پرائیویٹ سکولز ہیں جن کی کل آمدن 2 ارب 90 کروڑ 43 لاکھ روپے ہیں۔ ان سکولوں کا کل خرچہ 2 ارب 41 کروڑ 71 لاکھ روپے ہیں۔ یعنی اگر ان تعلیمی اداروں کا اوسط معلوم کیا جائے تو ایک  سکول کا سالانہ آمدن تقریبا” 55 ہزار روپے بنتا ہے۔ تعلیم دشمن مافیا ان نجی سکولز کیخلاف یہ پروپیگنڈے کرتے ہیں کہ وہ فیس بہت لیتے ہیں تو ان کو حکومت سے جاری ہونے والے یہ اعداد و شمار بھی جاننے چاہیئے کہ ان 8782 رجسٹرڈ تعلیمی اداروں میں 6 ہزار 9 سو 35 ادارے ایسے ہیں جن کی فیسز 500 سے 2000 تک ہیں۔ 10 ہزار فیس لینے والے سکولز 104، 15 ہزار فیس لینے والے 23 جبکہ 40ہزار تک فیس لینے والے سکولز کی تعداد 5 ہیں۔ ان محدود وسائل میں اگر تعلیمی کارکردگی کی بات کی جائے تو نجی تعلیمی ادارے پرائمری سطح پر 40 فیصد جبکہ ہائی سطح پر 60 فیصد بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرکے سرکار کی مدد کرتی ہے۔ فلاحی طور پر بھی یہ ادارے ہزاروں مستحق یتیم اور غریب بچوں کو مفت تعلیم اور کتب فراہم کرتی ہیں۔ جبکہ گشتہ 4 سال سے ایسے 90 ہزار بچوں کو بھی راضی کرکے مفت تعلیم دے رہے ہیں جنہوں نے مکمل طور پر سکول چھوڑا تھا۔ نجی تعلیمی ادارے بیروزگاری کے اس طوفان میں بھی صرف خیبر پختونخواہ میں 1 لاکھ سے زیادہ افراد کو باعزت روزگار دیکر ریاست کو معاونت  فراہم کر رہے ہیں۔ ان چند تحقیقی سطوروں سے واضح ہوگیا کہ نجی تعلیمی ادارے وطن عزیز میں ایک روشن اور تعلیم یافتہ پاکستان کی ضمانت اور وطن عزیز کے غریب عوام کے لئے مسیحا ہیں۔ ان اداروں کی خدمات کا اعتراف کرکے حکومت کو ایک قانون پاس کرنا ہوگا کہ تعلیم کے ان محسنوں کے لئے مافیا جیسے خطرناک الفاظ اور مخالف پروپیگنڈوں پر سخت پابندی عائد کریں اور عوام بھی ان تعلیمی اداروں کے ساتھ مکمل یکجہتی اور سپورٹ کا مظاہرہ کریں کیونکہ اگر 56 ہزار اوسطاً کمانے والے مافیا ہوگئے تو پھر معاشرے میں کروڑوں روپے کمانے والے کاروباری حضرات، لاکھوں روپے کمانے والے ڈاکٹرز اور ایک کیس کے ہزاروں،  لاکھوں روپے لینے والے وکلا تو مافیا کے باپ کہلانے کے قابل ہیں

  • کرپشن ایک زہریلی بیماری  تحریر : فرح بیگم

    کرپشن ایک زہریلی بیماری تحریر : فرح بیگم

    کرپشن کو بے بہا برائیوں کی چھیڑ کہا جاتا ہے ۔ کرپشن اعلی اقدار کی دشمن ہے ۔کرپشن ایک دیمک کی طرح ہے جو معاشرے کو اندر سے چاٹ کر کھوکھلا کر رہی ہے ۔ یہ بات واضع ہے کہ قوموں کی بربادی میں اہم کردار کرپشن کا ہی ہے ،بیشک وہ کسی بھی صورت میں ہو ۔ جس قوم میں جتنی زیادہ کرپشن ہوگی وہ قوم یا ملک اتنی ہی بربادی کی گڑھے میں جا گرتی ہے ۔کرپشن کی وجہہ سے قومیں اپنی پیچان کھو بیٹھتی ہیں ۔ اس طرح لگتا ہے جیسے کوئی بلند مقام کھبی اس قوم کو ملا ہی نہیں تھا ۔ کرپشن کینسر کی طرح خطر ناک اور جان لیوا مرض ہے ۔ یہ جس معاشرے کو لگ جائے اس کی بربادی یقینی سمجھیں۔کرپشن معاشرے میں ایک اچھوت کی طرح پھیلتی ہے اور زندگی کے ہر پہلو کو ختم اور برباد کر کے رکھ دیتی ہے ۔ جس طرح درختوں کی خراب جڑیں پورے درخت کو خراب کرتی ہیں اسی طرح کرپشن پورے معاشرے کو تباہ کر دیتی ہیں ۔ کرپشن کسی بھی صحت مند معاشرے کو خراب کر دیتی ہے ۔ یہاں تک کہ ہر چیز زرد کر دیتی ہے ۔ کامیاب اداروں میں کچھ عرصے بعد ہی کرپشن کی بو اٹھنا شروع ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ معاشرے کی اخلاقی صحت کے ادارے بھی کرپشن کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ اگر ہم انٹی کرپشن کمیٹی یا ادارہ بناتے ہیں اس قدر کرپشن زیادہ ہو جاتی ہے ۔
    پاکستان کی معیشت اور معاشرے کی تباہی کا ذمدار کرپشن ہے۔ جس نے جس قدر کرپشن کر کے مال جمع کیا ہوگا وہ اتنے ہی بلند مرتبے پر فائز ہوگا ،اور حمام میں سب کے سب ننگے ہوں گے ۔ سب کے سب خاموش ہو جاییں گے۔ پچھلے سال دنیا بھر میں حکومتوں کی کارکردگی میں شفاعت اور کرپشن کا جائزہ لینے والی عالمی تنظیم نی رپورٹ میں کہا تھا کہ جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ کرپشن اور بد عنوانی پائی جاتی ہے ۔ اس میں حکومت کی ذمداری ہے کہ وہ کرپشن اور بد عنوانی کو روکنے کے لیے اپنے ادارے مضبوط کریں ۔ اور ان اداروں پر سختی برتے۔ جو ممالک کرپشن کی خطرہ ناک بیماری میں مبتلا ہیں ان میں پاکستان ، انڈیا ،بنگلادیش ،مالدیپ ، سری لنکا،نیپال وغیرہ شامل ہیں ۔ ان ممالک میں انسداد کرپشن کے لیے سرکاری ادارے قائم ہیں ۔ مگر ان ادارے میں بھی کرپشن داخل ہو گئی ہے کیوں کہ اس کی بڑی وجہہ سیاسی مداخلت ہے ۔ یہ بات بتاتی چلوں کہ پچھلی حکومت نے کرپشن کی نشان دہی تو کی تھی لیکن صرف باتوں کی حد تک رہے ۔
    پاکستان کے لیے نہایت افسوس کا مقام ہے کہ ایسے وقت میں جب ھارا پیارا وطن مشکلات سے دو چار ہے ۔ غلط قسم کی سازشوں نے ملک کو گھیرا ہوا ہے، ملک کو اندرونی اور بیرونی خطرات لا حق ہیں اور ان خطرات میں اس ملک کے شہری اپنی ہی سر زمین کو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔ اپنے ملک کو ہی دنیا میں بد نام کرنے میں مگن ہیں ۔ آج کل تو الیکٹرانکس کا زمانہ ہے اور کرپشن کی خبر تو پوری دنیا میں پھیل جاتی ہیں اور اس سی ملک کی ساکھ خراب ہوتی ہے ۔ بانی قائد قائدا اعظم محمّد علی جناح نے 11 اگست 1947 کی تقریر میں کہا تھا کہ "ہمارا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن اور رشوت ہے ۔اسمبلی کو اس کے خاتمے کے لیے اقدارمات کرنے ہیں ۔ لیکن کرپٹ لوگ آزادی سی قانون کی داجیحہ اڑا کر کرپشن کر رہے ہیں ۔اور ملک کی بد نامی کا باعث بن رہے ہیں ۔شرمندگی کا مقام ہے کہ کرپشن ایک ایسا نا سور بن گئی ہے جس کی جڑیں ہماری زندگی کے ہر شعبے میں پھیل گئی ہیں ۔ اگرچہ ہر شعبے میں کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے والے موجود ہیں لیکن انکی کوئی نہیں سنتا ۔پی ٹی آئی کے چیئرمین اور موجودہ وزیراعظم عمران خان کرپشن اور بڑے ڈاکوں کو پکڑنے کے لیے انکو قابو میں کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے ۔لیکن یہ کوشش کہاں تک کامیاب ہوگی اور کون کون قابو میں اتا ہے یہ وقت کے ساتھ ساتھ معلوم ہوگا ۔عوام اب سمجھ دار ہو گئی ہے انکو یہ پتہ لگ گیا ہے کہ ملک کو بچانا ہے تو کرپشن کا حاتما کرنا ہوگا تب ہی ملک ترقی کر سکتا ہے ۔

    Twitter ID: @iam_farha

  • پنجاب بورڈز نتائج میں تاخیر کیوں؟ تحریر محمد ناصر بٹ

    پنجاب بورڈز نتائج میں تاخیر کیوں؟ تحریر محمد ناصر بٹ

    کورونا آیا تو سب بہا لے گیا، جہاں ایک طرف معاشی چیلنجز کھڑے ہوئے تو دوسری جانب تعلیمی اداروں میں حکومت، ٹیچرز اور سٹوڈنٹس کو بھی آمنے سامنے کھڑے ہونے پر مجبور ہونا پڑا، حکومت کبھی اداروں کو بند کبھی امتحانات کو آن لائن کرکے ایسے تیسے گزارا تو کرتی گئی لیکن جب بغیر پڑھائے امتحانات کا وقت آیا تو بلا لیا گیا بچوں کو سینٹرز میں اور امید کی گئی کہ سب بچے آئیں گے بھی، ایسا ہوا تو ضرور لیکن ایک بڑی تعداد حکومتی پالیسی سے نالاں امتحانی مراکز کا رخ نہ کر سکی، ان تمام ناراض بچوں کے لیے حکومت نے احساس ہونے پر بین الالصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس کے اجلاس میں فیصلہ کیا کہ ان کو نہ صرف دوبارہ بیٹھنے کا موقع ملے گا بلکہ سیپلمنٹری کا ٹیگ بھی ان کے رزلٹ کارڈز کی زینیت کو مدھم نہیں کرے گا، پنجاب حکومت سمیت ملک بھر کے 30 تعلیمی بورڈز کو احکامات پہنچا دئیے گئے لیکن وہ کہتے ہیں نہ دیر کردی مہربان آگے آتے، زبانی کلامی احکامات تو ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا نے فی الفور متعلقہ اداروں تک پہنچا دئیے لیکن سرکاری کام میں احکامات بھی سرکاری اور تحریری ہی مانے جاتے ہیں تو سلسلہ چل پڑا ایک ڈیپارٹمنٹ سے دوسرے اور اس کے بعد تیسرے کا، یعنی قانونی پیچیدگیوں کے سمندر سے تیر کر آخر کار بین الالصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس کے فیصلوں کا ڈرافٹ پنجاب حکومت کے ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ تک 29 تاریخ کو پہنچ ہی گیا، اب مسئلہ پیش آیا کہ پنجاب کے نو بورڈز تو 30 ستمبر یعنی اگلے ہی دن رزلٹ اعلان کرنے کی تاریخ دے بیٹھے تھے لیکن قانونی مسئلہ یہ بھی نظر آیا کہ سب بچوں کو پاس کرنے، سیپلیمنٹری ٹیگ ہٹانے سمیت وفاقی دارالحکومت میں ہونے والے دیگر فیصلوں کو پالیسی کا حصہ نہ بنایا گیا تو کل نہ صرف بورڈز بلکہ سٹوڈنٹس کے لیے بھی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں تو کڑوا گھونٹ بھر ہی لیا گیا اور ایک پریس ریلیز کے ذریعے بچوں کو رزلٹ بوجہ کابینہ اجلاس میں پروموشن پالیسی نہ منظور ہونے کے ملتوی کر دیا گیا، اب ایسا ہونا ہی تھا کہ سوشل میڈیا پر فیک نیوز منڈی میں دکانداروں کی تو جیسی سیل لگ گئی، ہر دوسرا رزلٹ کینسل ہونے کی مختلف وجوہات بتانے دکان سجا کر بیٹھ گیا، کسی نے پروموشن پالیسی خطرے میں قرار دی تو کسی نے سرے سے رزلٹ ہی غائب کر دیا، خیر تازہ اور حقائق پر مبنی خبر کی تلاش میں کامیابی سمیٹنے والوں نے یہ بتایا کہ انٹرمیڈیٹ پارٹ ٹو کا رزلٹ آئندہ ایک ہفتے کے دوران آسکتا ہے جس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ نئی پالیسی تو دوبارہ ری ڈیزائن کی جا چکی لیکن چیف سیکریٹری پنجاب کے اسلام آباد میں موجود ہونے کی وجہ سے اس کی منظوری نہ ہوسکی جس کی وجہ سے پالیسی ڈرافٹ وزیراعلی پنجاب کی ٹیبل تک بھی نہ پہنچ سکا اور نہ ہی وزارت قانون کی راہداریوں پر چڑھ سکا، اب ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب یہ کہتا ہے کہ ہفتے کے آخری ایام ہونے کی وجہ سے منظوریوں کا سلسلہ سوموار سے ہی شروع ہوگا جس میں بہرحال دو سے تین روز لگ سکتے ہیں تاہم میٹرک کا رزلٹ 16 اکتوبر کو ہی آئے گا

    Twitter:
    @Mnasirbuttt

  • کیا انسان واقعی چاند پر گیا ہے تحریر اصغر علی                                             

    کیا انسان واقعی چاند پر گیا ہے تحریر اصغر علی                                             

    کیا انسان واقعی چاند پر گیا ہے

    16 جولائی 1969 کو امریکی خلائی سٹیشن کینیڈی اسپیس سینٹر سے اپولو 11 تین خلا بازوں کو لے کر خلا کی جانب روانہ ہوا وہ چند دن بعد یہ خلائی شٹل چاند کی زمین کو چھو چکی تھی نیل آرمسٹرانگ  پہلے آدمی  تھے جنہوں نے چاند پر پہلا قدم رکھا اس مشن میں نیل آرمسٹرانگ کے ساتھ بز ایلڈرن اور مائیکل کولن بھی شامل تھے بز ایلڈرن وہ دوسرے انسان تھے جنہوں نے چاند کی سطح کو چھوا تھا جہاں دنیا میں اس کارنامے کو بہت زیادہ سراہا گیا یا اور یہ ایک بہت بڑی کامیابی کے طور پر بتایا گیا وہاں پر اس کو فیک کہنے والے لوگوں کی تعداد بھی کم نہیں تھی سب سے پہلے ایک امریکہ کے ہیں نیوی کے افسر بل کسنگ نے 1976 میں ایک کتاب لکھی جس میں انہوں نے اس پر کافی اعتراضات اٹھائے اس کے بعد انیس سو اسی میں ایک اور شخص نے اس سارے مشن کو ایک ایک فلم قرار دیا اور کہا کہ یہ سارا کا سارا ایک سٹوڈیو میں فلمایا گیا ہے جیسا کہ آپ جانتے ہیں اس طرح کی فیک نیوز بہت جلدی پھیلتی ہہیں تو یہ نیوز بھی بہت جلدی پھیل گئی بھی اور لوگوں کو یقین ہونے لگا کہ امریکہ نے ناسا کے ساتھ مل کر یہ ڈرامہ رچایا ہے چاند پر اترنے کے مطابق ان چہ مہگوئیوں سے ہٹ کر کچھ ایسے ثبوت بھی ملتے ہیں جسے دیکھ کر آج کا انسان یہ یقین کر سکتا ہے کہ واقعی انسان چاند پر گیا ہے تو ان میں سے چند ایک ثبوت یہ ہیں انسان کا چاند پر پہنچنے کا پہلا ثبوت یہ دیا جاتا ہے کے اپولو 11 مشن جب چاند سے واپس آیا تو چاند کی سطح سے 22کلو مٹی اور پتھر اپنے ساتھ لایا اس کے بعد جانے والے اور بھی مشن اس طرح کے نمونے ساتھ لاتے رہے چاند پر جانے کا دوسرا ثبوت یہ پیش کیا جاتا ہے کے اپولو  11 آپولو 14 اور اپولو 15 مشنز جب چاند کی سطح سے واپس آنے لگے تو خلابازوں نے چاند کی سطح پر ریکٹر و ریفلیکویو لگا دیے تھے اسی طرح کی ڈیوائسز 1973 میں سوویت یونین کی جانب سے بھیجے جانے والے مشن رونا سیونٹین اور رونا 18 نے بھی چاند کی سطح پر نصب کی تھی دراصل یہ ڈیوائس ایک آئینہ نما ڈیوائس تھی جو زمین سے بھیجے گئے  عکس  کو اپنے اندر محفوظ کرتی ہے چاند کے اترنے کا تیسرا بڑا ثبوت یہ ہے کیا جاتا ہے ہے کہ انیس سو انہتر سے لے انیس سو تہتر تک ٹھیک کامیاب مشن اتارے گئے یہ تمام مشن چاند پر مختلف مقامات پر اترے تھے خلا باز وہاں پر کئی کئی گھنٹے رہے اور چاند گاڑی پر بیٹھ کر چاند مختلف حصوں کا مشاہدہ کرتے رہے ان گاڑیوں کے پہیوں کے نشان آج بھی چاند کی سطح پر موجود ہیں اگر آپ کے پاس ایک اچھی سی دوربین ہے یا  ایک اچھی سی سیٹلائٹ ہے تو آج بھی زمین سے بیٹھ کر آپ چاند کی سطح پر گاڑیوں کے ٹائروں کے نشان دیکھ سکتے ہیں ان تمام ثبوتوں کے باوجود ناصح کے چاند پر اترنے پر بہت زیادہ اعتراضات پائے جاتے ہیں سب سے پہلا اعتراض یہ ہے کہ اگر چاند کی سطح پر پر اب و ہوا نہیں ہے تو وہاں لگائے جانے والا امریکہ کا جھنڈا کیسے لہرا رہا ہے اس میں امریکہ نے کہا کہ جھنڈے کے اوپری حصے میں ایک راڈ لگا ہوا ہے  جو جھنڈے کو سیدھا رکھنے کے لئے ہے اور نیچے پڑے ہوئے بل اس لیے لیے سیدھے نہیں ہوسکے کہ وہاں پر آب و ہوا نہیں ہے ہے اور یہی وجہ ہے کہ کہ پرچم کے بل سیدھے نہیں ہو سکے اور اسی حالت میں پرچم آپ کو نظر آرہا ہے دوسرا اعتراض یہ اٹھایا جاتا ہے کہ چاند کی سطح پر کوئی آب و ہوا نہیں ہے اور نہ ہی اس کے اوپر بادل ہوتے ہیں تو کسی بھی تصویر میں جو چاند کے اوپر کھینچی گئی ہے ستارے کیوں نہیں نظر آ رہے تو اس پے سائنسدانوں کا یہ کہنا ہے کہ چونکہ سورج کے روشنی چاند پر پر بغیر رفلیکٹ ہوئے سیدھی پڑتی ہے اس لیے لیے وہاں پر کھینچی ہوئی تصویر میں میں ستارے نظر میں آ رہے اور وہ تمام تصویریں دن کے ٹائم کی ہے ایک اعتراض یہ بھی اٹھایا جاتا ہے کہ ناسا آج سے پچاس سال پہلے اگر چاند پر جا سکتا ہے تو آج اتنی جدید ترین ٹیکنالوجی ہونے کے باوجود وہ چاند پر کیوں نہیں جاتا اس کا جواب ناسا اس طرح دیتا ہے 1969 سے 1972 تک ناسا کی جانب  سے سات مشن چاند پر بھیجے گئے ان میں سے چھ مشن چاند کی سطح پر کامیابی سے اترے اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ دور امریکہ اور روس کے درمیان خلائی جنگ کا دور تھا تھا کہ کون پہلے خلا میں جاتا ہے اور کون پہلے چاند پر جاتا ہے ہے خلا میں جانے کی جنگ روس جیت گیا اور چاند پہ جانے کی جنگ امریکہ چاند کی جنگ جیتنے کے بعد امریکہ کے پاس کسی قسم کا کوئی جواز نہیں تھا کہ وہ ایک دفعہ پھر چاند پر اربوں ڈالر خرچ کر کے جائے جو لوگ یہ کالم پڑھ رہے ہیں ان سے میں صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ ان کو کیا لگتا ہے کیا واقعی امریکہ ناسا چاند پر گیا یا پھر یہ سب بچایا گیا ایک ڈرامہ تھا

    Written by Asghar Ali

    Twitter id @Ali_AJKPTI

    T

  • مسلہ کشمیر تاریخ کے آئینے میں تحریر : نعیم الزمان

    مسلہ کشمیر تاریخ کے آئینے میں تحریر : نعیم الزمان

    پاکستان اور بھارت کے شمال مغرب میں واقع ریاست جموں و کشمیر۔ 1846 ٫ میں انگریزوں نے ڈوگرہ مہاراجہ گلاب سنگھ پر ریاست جموں و کشمیر کو 75 لاکھ روپوں کے عوض فروحت کیا۔ ریاست جموں و کشمیر کا کل رقبہ 69547 مربع میل ہے۔1947 ٫ میں پاک بھارت تقسیم کے بعد اس وقت کے ریاستی حکمران مہاراجہ ہری سنگھ نے مسلمانوں کی مرضی کے خلاف 26 اکتوبر 1947 ٫ کو بھارت کے ساتھ الحاق کا اعلان کردیا۔ جس کے نتیجے میں بھارت اور پاکستان نے اپنی افواج کو ریاست جموں و کشمیر میں داخل کر دیا۔ ریاست کے زیادہ تر حصہ پر بھارت نے قبضہ کرلیا۔ اور 1948 ٫ میں پاک بھارت جنگ چھڑ گئی۔ جس کے بعد اقوام متحدہ نے سلامتی کونسل میں منظور قرادادں پر پاکستان اور بھارت کو کشمیر سے اپنی افواج نکالنے اور ریاست میں رائے شماری کروانے پر زور دیا۔ اور یکم جنوری 1949 ٫ کو دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کروائی۔ اس وقت کے بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے رائے شماری کروانے کا وعدہ کیا۔جو بعد ازاں اس وعدے سے منحرف ہوگئے۔ تب سے ریاست جموں و کشمیر دو حصوں میں تقسیم ہو کر رہ گئی۔ ریاست جموں و کشمیر کی کل آبادی تقریباً ایک کروڑ ہے۔اور 80 فیصد سے زائد آبادی مسلمان ہے۔ریاست جموں و کشمیر کے زیادہ تر حصے پر بھارت قابض ہے جو رقبے کے لحاظ سے 39102 مربع میل ہے ۔ اس کا دارالحکومت سرینگر ہے۔ اس کو مقبوضہ کشمیر کہا جاتا ہے۔ اس کی آبادی تقریباً 80 لاکھ ہے جو زیادہ تر مسلمان ہیں ۔ اور بقیہ حصہ آزاد کشمیر کہلاتا ہے۔ آزاد کشمیر کا دارالحکومت مظفرآباد ہے ۔جس کی اپنی ریاستی حکومت ہے ۔اور یہ پاکستان کے زیر انتظام ہے۔ اس کا رقبہ 25 ہزار مربع میل ہے اور اس کی آبادی تقریباً 27 لاکھ ہے۔ ریاست جموں و کشمیر کا مسلہ دونوں ممالک کے درمیان ایک بڑے تنازعہ کی شکل اختیار کر گیا۔ اس مسلے کو کہیں بار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں زیر بحث لایا گیا۔ اور کہیں بار دونوں ممالک کے درمیان حالات انتہائی شدت اختیار کرتے رہے۔ اسی مسلہ کے باعث 1999 ٫ میں دونوں ممالک کے درمیان گارگل کے محاذ پر جنگ چھڑ گئی جس میں دونوں ممالک کا کافی نقصان ہوا ۔ایک مرتبہ پھر جنگ بندی کا اعلان ہو۔ دونوں ممالک نے اختلافات کو دور کرنے کے لیے دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ہوئے۔ اور تجارت بحال ہوئی۔اور دونوں ممالک کے درمیان ٹرین سمجھوتہ ایکسپریس چلائی گئی۔ مگر 2008 میں ممبئی حملوں اور سمجھوتہ ایکسپریس میں آتشزدگی کے بعد ایک مرتبہ پھر حالات انتہائی شدت اختیار کر گے۔ خاص کر امریکہ میں نائن الیون حملوں کے بعد دنیا میں ایک نئی جنگ چھڑ چکی تھی جسے اسلامی دہشت گردی کا نام دیا گیا۔جس کے بعد کشمیر یوں کی جدو جہد آزادی کو اسلامی دہشت گردی کا لیبل لگا دیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے کثیر تعداد میں مستقل طور پر فورسز کو داخل کیا۔جنہوں نے انسانی حقوق کی پامالیاں کرتے ہوئے سیکڑوں بے بس اور معصوم کشمیریوں کا قتل عام کیا۔عورتوں کی عصمت دری کی۔ بچوں کو اغواہ کیا۔ جن کا ابھی تک کوئی پتہ نہیں چلا کہ وہ کہاں ہیں ۔آزادی کے لیے مظاہرے کرنے نکلنے والے نوجوانوں کو شہید کر دیا جاتا اور باقیوں پر دہشت گردی کا الزام اور غداری کا الزام لگاکر جیلوں میں بند کردیا جاتا۔ بھارتی فوج کے اس مظالم پر کہیں بار انسانی حقوق کی تنظیموں نے آواز بلند کی مگر کوئی مثبت حل نکالنے میں ناکام رہی۔ آزادی کی اس تحریک کو دہشت گردی سے جوڑنے پر کشمیر کاز کو عا لمی سطح پر بہت نقصان پہنچا ۔ کشمیری عوام آزادی کے متوالے اپنی ہمت اور جذبہ آزادی کی بدولت بھارتی مظالم کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہے۔اور بھرپور مزاحمت کرتے رہے۔ اور اپنے عزیز واقارب کی جانوں کو قربان ہوتے دیکھ کر بھی ہمت نہ ہارے۔ مکار بھارت نے ریاست جموں وکشمیر پر 5اگست 2019 ٫ کو ایک نیا قانون نافذ کر دیا۔آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کر دیا گیا۔ جس قانون کے بعد ریاست کو اس کی بنیادی حیثیت سے محروم کرنے کا کھیل کھیلاگیا۔ آرٹیکل 370 کے تحت جموں وکشمیر کی ایک ریاست کی حیثیت تھی۔جس کا اپنا پرچم تھا مواصلات دفاع اور خارجہ امور کے علاوہ کسی بھی معاملات میں انڈین حکومت مداخلت نہیں کر سکتی تھی۔ آرٹیکل 35 اے کے تحت ریاست کے باشندوں کی مستقل ریاست باشندہ پہچان ہوتی تھی ان کو مستقل ریاستی باشندہ حقوق ملتے تھے ریاست سے باہر کے لوگوں کو وہاں پر جائیداد خریدنا ناممکن تھا۔ ریاست سے باہر کے لوگوں وہاں جاکر سرمایہ کاری نہیں کر سکتے تھے اور نہ ہی سرکاری ملازمت کر سکتے تھے۔ آرٹیکل 370 کے ساتھ ہی 35 اے کو بھی ختم کر دیا گیا ۔اور کشمیریوں پر لاک ڈاؤن لگا دیا گیا تا کہ وہ اس کے خلاف مظاہرے نہ کر سکیں۔ اس سارے معاملے پر پوری دنیا خاموش تماشائی بنی رہی۔ پاکستان نے بھارت کے اس بچگانہ اقدام کو پوری دنیا میں اجاگر کیا ۔اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اس مسلے کے حل پر زور دیا۔ گزشتہ دو برس سے کشمیر ی لاک ڈاؤن کا سامنا کر رہے ہیں مگر ان کے حوصلے ابھی بھی بلند ہیں۔ ان کے جذبات کم نہیں ہو رہے بلکہ بڑھ رہے ہیں۔ مسلہ کشمیر کے حل کے بغیر دونوں ممالک کے درمیان امن ممکن نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت نصیب ہو اور بھارت کو اس کے مکار ارادوں میں ناکامی ہو ۔ اے اللہ اپنے پیارے حبیب کے صدقے کشمیر اور فلسطین کے مسلمانوں کی حفاظت فرما اور انھیں آزادی جیسی نعمت عطاء فرما۔ پاکستان اور پوری امتِ مسلمہ کی حفاظت فرما۔ امین 

    تحریر : نعیم الزمان  

    @786Rajanaeem

  • نئی نسل کی بگاڑ کا زمہ دار کون؟ تحریر:ذیشان اخوند خٹک 

    آج کل کی نوجوانوں میں بے راہ روی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور غلط راستے پر نکل پڑے ہیں. چھوٹے عمر کی بچوں کی محبت کی داستانیں اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ والدین اسکی لئے اپنی پسند کا رشتہ بھی نہیں دیکھ سکتے. ہمارے نوجوان اس طرح تباہ ہورہے ہیں کہ ان کے ذہنوں سے بڑوں کی عزت و احترام نکل رہی ہے. نوجوانوں کی توجہ پڑھائی کی بجائے ٹک ٹاک اور دیگر ایپلیکیشن پر ہیں.

    استاد اور شاگرد کے درمیان ایک مقدس اور پاکیزہ رشتہ ہونے کے باوجود اس رشتے کو محبت اور عشق کی حدوں میں آتے دیر نہیں لگ رہی ہیں. یونیورسٹی میں جو آج کل حالات چل رہے ہیں ان سے ہمارا معاشرہ اور نوجوان بری طرح سے متاثر ہورہے ہیں. ہمارے پاکستان میں تعلیمی نظام بھی تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے کیونکہ ہمارے امتحانات کے دوران نقل سرعام طالب علموں کو فراہم کی جاتی ہے. نوجوانوں کو تعلیمی ریس کی بجائے نمبروں کی ریس پر لگا دیا ہیں.

    انٹریٹ نے بھی ہمارے نوجوان کو بہکانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی. ان کو ٹک ٹاک، پب جی جیسے نشہ آور ایپس میں لگا کر ان کی کیریئر اور ذہن کو تباہ کردیا. انٹرنیٹ نے آج کل کی جنریشن کو برباد کرکے رکھ دیا. انٹرنیٹ پر ہر چیز کھلی اور بےلگام دکھائی جارہی ہے. جس سے نوجوان الٹی سیدھی حرکتوں میں پڑ کر خود کو مشکلات میں گھیر رہے ہیں اور فیس بک اور دیگر ویب سائٹس سے اکثر نوجوان فائدے کی جگہ ذہنی، وقتی، صحت اور مالی طور پر نقصان اٹھا رہے ہیں مگر حکومت خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے.

    نوجوانوں کی تباہی میں ان کے والدین کا بھی ہاتھ ہے کیونکہ ان کی والد کو دفتروں کے کاموں سے اور والدہ کو گھریلو کاموں سے اتنی وقت نہیں نکالتے کہ وہ اپنے بچوں کی صحیح تربیت کریں. ہمیں معاشرے کو سدھارنے کیلئے نوجوان نسل کو مزید تباہی سے بچانے کیلئے والدین کی حیثیت سے بھر پور کردار ادا کرنا ہوگا. بچوں کے ساتھ مل کر ان کے مسائل کا حل تلاش کرینگے. والدین کو چاہیے کہ بچے بڑے ہوجانے کے بعد ان کو رشتہ ازدواج میں منسلک کرے تاکہ گناہ سے بچا رہے.

    حکومت کو چاہیے کہ پہلے تو وہ غیر اخلاقی ویب سائٹس کو فوری طور پر بند کریں اور غیر اخلاقی مواد اپلوڈ کرنے پر سزا متعین کریں. یونیورسٹیوں اور کالجوں میں انٹرنیٹ کے مثبت استعمال پر ورکشاپ منقعد کریں تاکہ نوجوان انٹرنیٹ سے فائدہ اٹھا سکے اور ملک کیلئے زرمبادلہ بھی کمائے. یونیورسٹیوں اور کالجوں میں اخلاقیات کی مخصوص وقت مقرر کریں جس میں علماء کرام نوجوانوں کو اخلاقیات کا درس دے اور بے راہ روی سے بچنے کا طریقہ بتائے اور بڑوں کی عزت نہ کرنے کی وعیدیں بتائے.

    ٹویٹر ہینڈل 

    @ZeeAkhwand10