Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • ‏”نٸے لکھاری“ ‏تحریر حمزہ احمد صدیقی

    ‏”نٸے لکھاری“ ‏تحریر حمزہ احمد صدیقی

    ‏قلم ایک طاقتور ہتھیار ہے جس سے نہ صرف ظلم و جبر اور جہالت کی تاریکیوں کو دور کیا جا سکتا ہے بلکہ تاریکیوں کو اجالاوں میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ حق اور سچ کے پھلاٶ کو روکنے کےلیے ٹوٸیٹر اور فیس بک سمیت تمام سوشل میڈیا پر بھارتی لابی سرگرم ہے، جو محب وطن پاکستانیوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس رپورٹ کر کے سسپنڈ کروا رہی ہے۔ بھارتی انٹیلیجنس کی سرپرستی میں کام کرنے والا یہ گروہ، ہر اس شخص کے اکاؤنٹ کے خلاف رپورٹنگ شروع کر دیتا ہے جو اسلام، پاکستان، کشمیر، مسلمانوں کے قتل عام اور اسلاموفوبیا پر بات کرتا ہے۔ ٹوٸیٹر سمیت تمام سوشل میڈیا ہر اس اکاؤنٹ کو بلاک یا سسپنڈ کر دیتا جس کے خلاف رپورٹنگ ہوتی ہے، جس سے بہت سے پاکستان اور اسلام کے مجاہدوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ ایک مدت بعد اب ٹوٸٹر نے ویریفیکیشن کا پروسس بحال کیا جس کی وجہ سے ٹویٹر پر آجکل ہر طرف اکاونٹ ویریفاٸیڈ کروانے کی چہل پہل ہے اور کیوں یہ گہماگہمی نہ ہو؟ گزشتہ چند سالوں میں ہزاروں اکاٶنٹس بِنا کسی وجہ کے سسپنڈ کردیے گٸے اور بعد ازاں یہ کہہ کر معاملہ ختم کر دیا جاتا تھا کہ آپ نے ایپ کے قوانين کی خلاف ورزی کی ہے جس کی وجہ سے اکاؤنٹ لاک یا سسپنڈ کیا جا چکا ہے۔ لیکن اب جیک نے اپنے ٹوٸٹر صارفينز کو اپنا اکاونٹ ویریفاٸیڈ کروانے کا سنہری موقع فراہم کیا ہے۔ اب ویریفکیشن ایپلی کیشن کے ذریعے ٹوٸٹر صارفين اپنے اپنے اکاؤنٹس کو ویریفائی کرواسکتے ہیں۔ ٹوٸٹر کے نئے قوائد کے مطابق ہراکاؤنٹ کا ایک پروفائل ہوگا جس میں صارف کو اپنی اصلی تصویر لگانی ہوگی، اپنا ای میل یا فون نمبر کنفرم کرنا ہوگا، اس کے علاوہ ٹویٹر صارف کے اکاؤنٹ سے قوائد و ضوابط کے تحت گزشتہ چھ مہینوں سے کوٸی خلاف ورزی نہ کی گٸی ہو۔ ٹوٸٹر نے صارفین کے لیے چھ کیٹگیریز بنائی ہیں جن میں گورنمنٹ، کمپنیز،برانڈز اینڈ آرگنائزیشنز، خبر رساں ادارے اور صحافی، انٹرٹینمنٹ ، اسپورٹس اینڈ گیمنگ، ایکٹوسٹس اورگنائزرز اور نمایاں افراد شامل ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عام شخص ان تمام کیٹگیریز پر کیسا پورا اترے گا؟ کیونکہ بہت سے سارے احباب ایسے ہیں جو کیسی بھی حکومتی عہدے پر نہیں ہیں تو یہ کیٹگیری ان احباب کے لیے نہیں ہے۔ مگر ان تمام کیٹگیریز میں ایک ایسی ہے جس پر ہر کسی کی رساٸی ممکن ہے وہ ”خبر رساں ادارے اور صحافی“ ہے۔۔۔ ٹویٹر نے اپنے صارفين کے لیے بہت سی رعایت کی ہے۔ اگر آپ صحافی یا کیسی چینل سے آپکا تعلق نہیں بھی ہے تو کوٸی مسٸلہ نہیں، اس کے لیے آپ اچھا لکھاری ہونا ضروری ہے۔ تو اگر آپ اچھے لکھاری ہیں تو اس کیٹگیری ”خبر رساں ادارے اور صحافی“ پر جا کر ویریفیکشن کے لیے اپیل کرسکتے ہیں۔ بعض لوگ پہلے سے مختلف ساٸٹس میں کالم لکھ رہے ہیں، ان کے لیے خوشخبری یہ ہے کہ وہ اس کیٹگیری کے لیے اہل ہیں۔۔۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے احباب جو پہلے سے گالم نگار نہیں ہیں اور نہ کسی ساٸٹ سے انکا تعلق ہے، تو انکی بھی آسانی کے لیے ارشاد کرتا چلوں کہ وہ اپنا اپنا قلم اٹھاٸیں اور اپنے جذبات اور احساسات کو تحریر کی شکل دیں۔۔۔تحریریں شاٸع کرنے میں مختلف ادارے اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ آجکل بہت سی ساٸٹس ایسی ہیں جو تحریریں شاٸع کررہی ہیں، جن میں باغی ٹی وی ، اردو پوائنٹ ، گوبلی اردو اور دیگر نیوز ساٸٹ شامل ہیں جو کیسی بھی حرص و لالچ کے بغیر نٸے لکھاریوں کو سہنری مواقع فراہم کر رہی ہیں۔ اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوٸے بہت سے لوگ تحریریں لکھ رہے جس سے معاشرے میں ادب اور زبان سے محبت اور لگاٶ پیدا ہو رہا ہے۔ نوجوان نسل جو نہ صرف اپنی زبان لکھنا اور بولنا بھولتی جا رہی تھی بلکہ ان میں اپنے ماضی سے لگاٶ اور رکھ رکھاٶ بھی ختم ہوتا جا رہا تھا۔ ایسی صورتحال میں صحافی مبشر لقمان کےچینل باغی ٹی وی، اردو پوائنٹ اور گلوبلی اردو وغیرہ نے نوجوان نسل میں مطالعے اور لکھنے کا جذبہ پیدا کیا۔ حیرت انگیز طور پر اس موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوٸے بہت سے اچھے اور بہترین لکھاری سامنے آٸے جو مستقبل میں معاشرے اور ملک کے لیے مفید ثابت ہوں گے۔ تو ناظرین اپنا اپنا قلم اٹھاٸیں اور اپنی تحریریں ان ساٸٹس پر شاٸع کروائيں تاکہ آپ کی الفاظ کی گرفت مظبوط ہو اور آپ آنے والے دنوں میں جہاد بلقلم کر سکیں۔۔۔۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو ،آمین

    @HamxaSiddiqi

  • فکر نہ کریں تبدیلی جو آگئی ہے۔۔۔۔۔۔۔تحریر ناصر علی تنولی۔۔۔

    پاکستان تحریک انصاف کی حکومت جب سے آئی ہے صوبہ ڈویثرن ضلع اور تحصیل میں تبدیلی آگئی ہے سرکاری محکمے اتنی دلجوئی سے کام کرتے ہیں جیسے ان اداروں میں اچانک سے فرشتے آگئے ہیں لوگ ان سے انتہائی خوش ہیں اور ہر طرف خوشحالی ہر طرف سکون ہر طرف ایمانداری اور  سچائی نظر آرہی ہیں۔مگر صرف سوشل میڈیا پر  اور یہ سب کیوں نہ ہو ۔تبدیلی جو آگئی ہے

    ہاں جی تبدیلی نے سب کو تبدیل کر دیا ہے صوبہ کے پی کے میں  وزیر اعلی کا سپیشل سوشل میڈیا ونگ بن گیا ہے وہی پر وزیر اعلی نے اس ونگ سے اٹھا کر کچھ لوگوں کو پورے صوبے میں اداروں کے فیس بک اکاونٹس اور ٹویٹر اکاونٹ چیک کرنے کا کام سونپ دیا ہے اور سوشل میڈیا ونگ سے لئے گئے شیر جوانوں میں سے ایک شحص کو سرکاری طور پر نوٹفکیشن جاری کرکے پورے صوبے میں سرکاری اداروں پر سربراہ بنا دیا ہے اب وہ لوگ چیک کریں گے کہ  سرکاری محکمے میں سوشل میڈیا پر کون کتنا کارکردگی دیکھاتا ہے گراونڈ پر کام ہو نہ ہو سوشل میڈیا پر کام ہونا چاہئے کیونکہ۔تبدیلی جو آگئی ہے

    صوبہ KPK میں ڈویثرن لیول پھر ضلع اور تحصیل میں سرکاری اداروں میں بیٹھے افسران کو سپیشل ٹاسک دیا جاتا ہے کہ آپ نے کتنے گراں فروشی پر جرمانے کرنے ہیں آپ نے کتنی غیرقانونی فیکٹریوں کو سیل کرنا ہے آپ نے سبزی فروٹ کے ریٹ چیک کرنے ہیں زائد کرایہ لینے والوں کو لگام ڈالنی ہے پٹواریوں کے آفس وزٹ کرنا ہے یا پھر کرپشن روکنے کے لئے کام کرنا ہے یا کورونا وائرس کی روک تھام کے لئے کام کرنا ہے ۔۔۔اور پھر یہ سارے کام بلکل ٹھیک طریقے سے ہوتے ہیں اور اوپر تک پتہ چلتا ہے کہ سب اچھا ہے عوام بھی خوش ہے مگر یہ سب ہو رہا ہے صرف سوشل میڈیا پر ۔۔کیونکہ تبدیلی جو آگئی ہے

    ڈپٹی کمشنرز کی جانب سے ہدایات جاری ہوتی ہیں اسسٹنٹ کمشنرز جاتے ہیں مگر جرمانہ ہوتا ہے ایک غریب ریڑی بان پر ۔جرمانہ ہوتا ہے ایک چھوٹی سی کریانہ کی دکان پر۔ جہاں غریب بچوں کے لئے سستی ٹافیاں رکھی ہوتی ہیں ۔جرمانہ ہوتا ہے سبزی منڈی کے باہر ایک چھابڑی فروش پر ۔ جرمانہ ہوتا ہے چینی کے بڑے ڈیلر کے گودام کے ساتھ جڑے ایک غریب مسکین دکاندار پر ۔جس کے پاس پانچ کلو چینی رکھی ہوتی ہے ۔اور یہ سب ہونا بھی چاہئے کیونکہ تبدیلی جو آگئی ہے۔

    مجال ہے کہ کبھی سبزی منڈی میں افسران کسی آڑھتی پر ہاتھ ڈالیں یا جرمانہ کریں ۔کیا مجال ہے کہ کبھی چینی کے بڑے ڈیلر کو جرمانہ کیا جائے ۔کوئی مزاق تو نہیں ہے یہاں تو اب قانون کی بالادستی ہے ۔مجال ہے کہ کسی آٹے کی مل پر چھاپہ پڑے یا جرمانہ ہو ۔وہ ملاوٹ کریں یا وزن کم دیں کوئی نہیں پوچھے گا کیونکہ ۔تبدیلی جو آگئی ہے ۔

    جب سے ایمانداروں کی حکومت آئی ہے ہر کام ایک دم ہوتا ہے۔ ہر ادارے کے افسران بزرگوں کو اپنی کرسی پر بیٹھاتے ہیں۔ خواتین کی عزت کی جاتی ہے۔ بچوں کو جوس پلائے جاتے ہیں ۔ اور یہ سب کام ہوتے ہیں صرف سوشل میڈیا پر ۔کیونکہ تبدیلی جو آگئی ہے۔

    ایسا لگتا ہے کہ موجودہ حکومت میں ہر ادارے کی کارکردگی سوشل میڈیا پر زیادہ سے زیادہ اچھی تصاویر لگانے  سے دیکھی جاتی ہے اور اسی کارکردگی پر پروموشن بھی کی جاتی ہے۔ اور یہ سب کیوں نہ ہو تبدیلی جو آگئی ہے۔

    موجودہ حکومت میں مہنگائی انتہائی زیادہ ہے ۔ ہر طرف لاقانونیت ہے ہر طرف لوگ احتجاج کر رہے ہیں حکومتی وزیروں اور مشیروں پر کرپشن کے الزامات لگ رہے ہیں کمائی ہو رہی ہے مگر پوچھے گا کوئی نہیں کیونکہ تبدیلی جو آگئی ہے۔

    حکومتی مشیروں کے رشتہ دار سرکاری ملازمتوں کے حق دار بن رہے ہیں NHA ہو یا CNW یا پر PWD

    ہر جگہ سے اپنے بھانجوں پتیجوں دامادوں کو نوازہ جارہا ہے ہر جگہ روڈوں پلوں سرکاری عمارات کے ٹھیکے اپنوں کو دئے جارہے ہیں اور یہ سب کیوں نہ ہو ۔تبدیلی جو آگئی ہے

    اور سب جب صحافی یا کوئی عام شہری ان سب چیزوں کو سامنے لائیں تو حکومتی مشیروں اور وزیروں کے بیٹے بھانجے بتیجے اور چند پیسے دے کر لوگوں کو رکھا جاتا ہے اور فیک اکاونٹ سے لوگوں کی پگڑیاں اچھالی جاتی ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں کیونکہ تبدیلی جو آگئی ہے۔

    اور اس تبدیلی نے ہر طرف عوام کی چیخیں نکال دی ہیں ہر طرف شور ہے مہنگائی مہنگائی کے نعرے لگ رہے ہیں ہر طرف احتجاج ہو رہے ہیں لوگ مر رہے ہیں ادویات مہنگی ہو گئی ہیں غریب کو آٹا تک میسر نہیں لوگ خودکشیاں کر رہے ہیں ۔اور حکومتی ترجمان اور سرکاری اداروں کے سوشل میڈیا اکاونٹس ایک ہی بات کہ رہے ہیں کہ سب اچھا ہے بعض لوگ حکومت کو بدنام کرنے کے لئے پراپیگنڈے کر رہے ہیں عوام خوش ہے

    ہر طرف امن ہے خوشحالی ہے۔۔۔۔۔اور یہ سب کچھ کہنے والے سچے ہیں بلکل سچے اور عوام جھوٹی ۔۔۔کیونکہ تبدیلی جو آگئی ہے ۔۔۔۔۔اور ایسا لگتا ہے کہ  2023 کے الیکشن میں عوام اس تبدیلی کو ایسی جگہ پھینک کر آئیں گے جہاں سے یہ آواز پھر نہیں آئے گی۔۔۔۔۔۔تبدیلی جو آگئی ہے۔۔۔۔

    https://twitter.com/NATanoli007?s=09

  • خبریں کم سنسنی زیادہ تحریر: ثمرہ اشفاق

    @sam_rahmughal

    نیوز چینل ہمیں حالات حاضرہ سے با خبر رکھنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔دنیا کے کسی بھی کونے سے کوئی بھی خبر چند ہی منٹوں میں آپ کی ٹی وی سکرین پر ہوتی ہے۔
    پہلے پاکستان کا واحد نیوز چینل پی ٹی وی تھا جہاں انتہائی صبرو تحمل سے ہر خبر سنائی اور دکھائی جاتی تھی۔
    اس کے بعد2000 میں نجی نیوز چینلز کا آغاز ہوا اور خبریں پڑھنے کے انداز میں جدت آتی گئی،لیکن آج کل آخر ایسا کیا ہے جو عوام کو نیوز چینل سے دور کر رہا ہے,لوگ نیوز چینل لگاتے ہی کیوں خوف وہراس کا شکار ہو جاتے ہیں،ایسے لگتا ہے کچھ بھی اچھا نہیں ہو رہا،ہر طرف افراتفری کا ماحول ہے۔
    یہ وجہ ہے میڈیا میں بڑھتی ہوئی سنسنی کی،جہاں خبریں کم اور سنسنی زیادہ ہوتی ہے۔
    کسی بھی چلتے ہوئے پروگرام کو روک کر بریکنگ نیوز کے نام پر عوام میں تجسس پیدا کیا جاتا ہے،نیوز اینکر اپنی آواز اور سنسنی خیز میوزک کے تڑکے کے ساتھ اس کو مزید سنسنی خیز بنانے کی کوشش کرتا ہے۔
    ایسے ماحول میں ناظرین زہنی الجھن کا شکار رہتے ہیں اور خبریں سننے سے گریز کرتے ہیں۔

    میڈیا میں بڑھتی ہوئی سنسنی اور مثبت خبروں کے فقدان کا ہمارے ملک کا اصل چہرہ بھی دنیا کے سامنے نہیں جا سکتا۔دنیا پاکستان کو ایک پرامن ملک کے طور پر نہیں دیکھ پاتی۔
    آج کل کرکٹ میچ کے کسی میدان کی خبر سنتے ایسا لگتا ہے گویا آپ کسی جنگ کے میدان میں موجود ہیں۔نیوز اینکر ایسےمحاورے استعمال کرتے ہیں گویا جنگ کا گمان ہونے لگے،
    جیسا کہ دانت کھٹے کر دیے،دھول چٹا دی،طوفانی بولنگ،دھواں دار اننگز جیسے محاورے سننے کو ملتے ہیں۔
    میڈیا معیاری خبروں کو کہیں پیچھے رکھ کر غیر ضروری خبروں پر ذیادہ رپورٹنگ کرتا ہے، چھت سے قربانی کا بیل اتارنے کی رپورٹنگ ہو یا پھر غیر ملکی فلموں کی خبریں ہوں سب غیر اہم اور غیر ضروری ہیں۔
    سیاسی مخالفین کی تنقید کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے،یہاں بھی محاوروں کا استعمال بلا خوف وخطر کیا جاتا ہے،جیسا کہ ترکی باترکی جواب،طنز کے نشتر برسا دئیے،فلاں کی اپوزیشن یا حکومت پر چڑھائی،سن کر گویا گمان ہوتا ہے یہ سیاسی مخالفین نہیں ذاتی دشمن ہیں۔
    میڈیا کو اگر عوام میں پذیرائی اور اپنی طرف متوجہ کرنا ہے تو معیاری خبروں کو اپنے بلیٹن کا حصہ بنانا ہو گا،جسے سن کر کوئی ذہنی تناؤ کا شکار نہ ہو۔
    ذیادہ سے ذیادہ اپنے ملک کا مثبت پہلو دنیا کے سامنے رکھیں۔
    دنیا کو دکھا دیں کہ پاکستان خوبصورت اور امن کا گہوارہ ہے۔
    اپنے ناظرین کو معیاری،دلچسب اور حقائق پر مبنی خبروں سے آگاہ رکھیں یہی میڈیا کی ذمہ داری اور فرض ہے۔
    کسی بھی فرد یا طبقہ کے جذبات واحساسات کو مدنظر رکھ کر خبر دینی چاہئیے۔خبر کی اہمیت کو مدنظر رکھ کر مرچ مصالحہ لگائے بغیر ایک اچھی باڈی لینگویج سے خبر کو بریک کیا جانا چاہیے۔

  • مستقبل کی ضرورت تحریر: سدرہ

    تعلیم مستقبل کے پاسپورٹ کی شناخت کرتی ہے ، ان لوگوں کے کل کے لیے جو آج کے لیے تیار ہیں
    اگر تعلیم آپ کو صرف جشن منانا اور اپنے آپ کو دکھانا سکھاتی ہے تو مجھے افسوس ہے ، میں آپ کو ایک اور ناخواندہ گونگا سمجھتی ہوں۔ تعلیم آپ کی ڈگریوں اور ذہانت کو ظاہر کرنے کے بارے میں نہیں ہے۔ تعلیم اس بات کے بارے میں ہے کہ آپ ایک فرد کے طور پر کس حد تک ترقی کرتے ہیں۔ آپ کی تعلیم ان لوگوں کو کیسے فارغ کرتی ہے جنہیں تعلیم حاصل کرنے کے لیے کافی مراعات حاصل نہیں تھیں؟ تعلیم صرف آپ کی ڈگریوں کی تعداد کے بارے میں نہیں ہے ، یہ آپ کے اعمال کی پیداوار ہے۔
    تعلیم کا بنیادی مقصد انسانوں کو یہ سکھانا ہے کہ اس دنیا میں نفیس طریقے سے کیسے رہنا ہے تاکہ تنازعات کم ہوں اور ہر کوئی ایک دوسرے اور ماحول کے مطابق اور امن کے ساتھ رہ سکے۔ تعلیم انسان میں پوشیدہ صلاحیتوں/صلاحیتوں کو بھی سامنے لاتی ہے اور قانونی اور باعزت طریقے سے اس کی روٹی اور مکھن کمانے میں مدد دیتی ہے۔ انسان کی سرسری ترقی کے لیے تعلیم ضروری ہے۔
    صحیح اور غلط کیا ہے ، غیر اخلاقی اور اخلاقی کیا ہے ، متعلقہ اور غیر متعلقہ کیا ہے اور کیا انصاف اور ناانصافی کیا جائز اور ناجائز کیا ہے اس میں فرق کرنے کے قابل ہونا۔

    یہ تعلیم کے فوائد ہیں۔
    تعلیم آپ کو کسی بھی غلط چیز پر سوال کرنے کی طاقت دیتی ہے۔
    تعلیم آپ کو اپنے آپ کو انجام دینے اور ایمانداری سے برتاؤ کرنے کا صحیح طریقہ سیکھنے میں مدد دیتی ہے۔
    تعلیم آپ کو حساسیت تلاش کرنے میں مدد دیتی ہے اور یہ آپ کو مختلف پہلوؤں پر سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔
    تعلیم غلط مفروضوں کو دور کرتی ہے۔
    یہ آپ کو زیادہ باشعور اور پراعتماد بناتا ہے۔
    تعلیم سیاسی ، سماجی اور معاشی ترقی کی بنیاد رکھتی ہے۔
    کسی بھی ملک کا. ایک پیداواری تعلیمی نظام قوم کو اس قومی مقصد کو حاصل کرنے کے قابل بناتا ہے۔ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک کے طور پر تعلیم میں آغاز سے ہی شدید مسائل کا شکار ہے۔

    یہاں بہت سے ایسے عوامل ہیں جو اس وجہ کا سبب بنے ہیں ۔۔ یہ بلاگ ان تمام عناصر کی نشاندھی کرتا ہے جو پاکستان میں تعلیمی نظام متاثر کرنے کی وجہ بنے ہیں
    پاکستان میں تعلیمی نظام سے وابستہ مسائل مناسب بجٹ کی کمی ، پالیسی پر عمل درآمد ، ناکارہ ٹیسٹنگ سسٹم ، ناقص جسمانی ڈھانچے ، اساتذہ کے معیار کا فقدان ، تعلیمی پالیسی پر عمل درآمد نہ ہونا ، بالواسطہ تعلیم ، کم اندراج ، اعلی درجے کا استعفیٰ ، سیاسی مداخلت تعلیمی محکموں میں بدعنوانی ملک میں کم خواندگی کا ایک عامل ہے۔ محکمہ تعلیم میں مانیٹرنگ کے موثر نظام کی ضرورت ہے۔
    تعلیم یافتہ مردوں اور عورتوں کی بے روزگاری پاکستان کے لیے ایک بڑی تشویش ہے۔ سکولوں میں طلباء کی کیریئر کونسلنگ ہونی چاہیے تاکہ انہیں جاب مارکیٹ کی سمجھ ہو اور وہ اس کے مطابق اپنی صلاحیتوں کو ترقی دے سکیں۔
    بلدیاتی نظام ملک میں تعلیم اور خواندگی کو فروغ دینے میں مدد کرتا ہے۔ بلدیاتی نظام میں ، تعلیم کے لیے فنڈز علاقے کی ضرورت کی بنیاد پر خرچ کیے جائیں گے۔
    تعلیم دنیا کو تبدیل کرنے کا سب سے طاقتور ہتھیار ہے
    تعلیم اور کورونا وائرس۔
    اگر کوویڈ نے لوگوں کی صحت اور زندگی سے زیادہ کچھ متاثر کیا ہے ، تو یہ تعلیمی نظام ہے۔ یہاں تک کہ کاروباری اداروں اور کارپوریٹوں نے بھی تیرنے کی کوشش کی ہے ، لیکن یہ ابتدائی اور ہائی اسکول جانے والے بچے ہیں جو بنیادی طور پر متاثر ہوتے ہیں
    لاک ڈاؤن جاری رہنے کے ساتھ ، اساتذہ نے اپنے طلبا کو آن لائن پڑھانے کا طریقہ اپنانا شروع کر دیا ہے۔

    ٹیکنالوجی نے ان مشکل وقتوں میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ تین بڑی ایپس جیسے زوم ، گوگل میٹس اور مائیکروسافٹ ٹیموں کو اساتذہ نے آن لائن تعلیم کے بطور بڑے پیمانے پر استعمال کیا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ طلباء موبائل یا کمپیوٹر ڈیوائس پر اساتذہ کے ساتھ رابطے کے مسائل کی وجہ سے اچھی طرح بات چیت نہیں کر سکتے جو کہ آف لائن موڈ میں ایسا نہیں ہے
    کووڈ 19 کی وجہ سے۔
    تمام طلباء نے بغیر امتحان مکمل کیے اگلے معیار پر ترقی دی۔ یہ مستقبل کو نقصان پہنچائے گا ۔۔ اس لیے اگلے معیار میں ترقی دینے سے پہلے سوچیں کہ کون اس قابل ہے اور کون نہیں۔
    آن لائن کلاسز لینا ، جو کہ مرکوز کلاس کے لیے موزوں نہیں ہے۔ آن لائن کلاس لینے پر تمام طلباء کبھی بھی فعال نہیں ہوتے ہیں۔
    کورونا وائرس کی وجہ سے طلباء بیرونی کھیل نہیں کھیلتے اور وہ ڈپریشن میں ہیں ، یہی وجہ ہے کہ ان کی تعلیم بھی متاثر ہوتی ہے۔
    تمام مواد تعلیم کے لیے صرف آن لائن موڈ میں دستیاب ہے۔ اگر طالب علم کی طرف سے کوئی سوال ہوتا ہے تو وہ آن لائن سیشن میں تصویر کو نہیں پوچھ سکتا اور نہ سمجھ سکتا ہے جیسا کہ جسمانی طور پر پوچھنا اور تصویر کو گہرائی سے سمجھنا۔
    کورونا وائرس تمام نظام کی تباہی ہے ، لیکن سب سے
    کورونا وائرس تعلیم کو توڑتا ہے۔
    طلباء کو کوئی پریشانی نہیں ہے کہ ان کا رزلٹ پاس ہو جائے گا یا رزلٹ فیل ہو جائے گا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ تمام طلباء کو اگلے معیار پر ترقی دی جائے گی۔ انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ وہ کچھ سیکھتے ہیں یا نہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ جب حکومت ہمیں فروغ دے رہی ہے پھر ہم کیوں کچھ بھی سیکھتے ہیں۔ آئیے اپنا وقت سوشل میڈیا ، چیٹنگ ، گیمنگ وغیرہ پر ضائع کریں۔
    @Sidra_VOIK

  • ففتھ جنریشن وار تحریر : نواب فیصل اعوان


    آج جس موضوع پہ مجھے لکھنے کا اتفاق ہوا ہے یہ موضوع کوٸ عام فہم نہیں ہے اس کو سمجھنے کیلۓ ہمیں بہت سے پہلوٶں کا جاٸزہ لینا پڑے گا
    ففتھ جنریشن وار ہے کیا چیز اس کے محرکات کیا ہیں اس کے فاٸدے یا نقصانات کیا ہیں اس پہ تفصیلی بات ہوگی ۔
    ففتھ جنریشن وار ایک ایسی جگ ہے جس میں کسی بھی قوم کو عدم استحکام اور معاشی طور پہ مفلوج کرکے ان پہ کولڈ اسٹریٹیجی کو مسلط کیا جاتا ہے ۔
    ففتھ جنریشن وار رواٸیتی تلواروں پستولوں راٸفلوں یا موجودہ ایٹمی ہتھیاروں سے بلکل بھی نہیں لڑی جاتی ۔
    ففتھ جنریشن وار ایک ایسی جنگ ہے جس میں دشمن کسی بھی قوم کو جھوٹا پروپیگنڈہ کر کے کسی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیتے ہیں اور بحثیت قوم ایسا کرنے پہ مجبور دکھاٸ دیتے ہیں ۔
    ففتھ جریشن وار رواٸیتی جنگوں سے یکسر مختلف جنگ ہے جس میں حریف دشمنوں کو عدم استحکام کا شکار کر کے اپنے مفادات حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔
    ففتھ جنریشن وار کی ابتدا ناٸن الیون کے بعد شروع ہوٸ جس میں القاعدہ نے ناقابل تسخیر سمجھے جانے والے امریکہ کو کھڈے لاٸن لگا کے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا ار دیکھتے ہی دیکھتے القاعدہ کی ہر ملک میں برانچ کھلنے لگی اور لوگ جوک در جوک القاعدہ کا حصہ بننے لگے ۔
    یہاں سے امریکہ کو عدم استحکام کا شکار کر کے ایک عجیب جنگ کا آغاز کیا گیا جو بعد میں ففتھ جنریشن وار فیٸر کہلاٸ ۔
    کسی بھی ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنا وہاں کی عوام کو مایوسی کی طرف دھکیلنا اس ملک کے خلاف سوشل میڈیا پہ جھوٹے پروپیگنڈے کو تقویت دینا اور ملکی اداروں کے خلاف کرنا یہ سب بھی ففتھ جریشن وار کہلاتا ہے ۔
    ففتھ جنریشن وار کی سمجھ بوجھ رکھنے والے یہ ضرور جانتے ہونگے کہ ففتھ جنریشن وار کا مطلب بھی یہی ہے کہ کسی بھی ملک کے خلاف ایسی سرد جنگ کا آغاز کیا جاۓ جو بنا کسی ہتھیار کے دشمن ممالک میں افراتفری اور عدم استحکام کو فروغ دے تاکہ وہ اپنے متعلقہ عزاٸم میں کامیاب ہو سکیں ۔
    ففھ جنریشن وار یہ بھی ہے کہ دشمن ہمارے نوجوانوں کی ذہن سازی کر کے حکومت و ریاستی اداروں کے خلاف کر دینا ہے تاکہ وہ ریاستی اداروں سے ٹکراٸیں جس سے اندرونی خلفشار کی سی فضا قاٸم ہو ۔
    وہ دور اور تھے جب تلواروں نیزوں، توپوں یا بندوقوں کے ساتھ دشمنوں کو زیر کیا جاتا تھا یا افرادی قوت کے ذریعے جنگیں جیتی جاتیں تھیں مگر ففتھ جنریشن وار فٸیر کا جب سے دور آیا ہے آپ لوگ سوشل میڈیا سے ففتھ جنریشن جاری رکھ سکتے ہو ۔
    ففتھ جنریشن وار ایسی جنگ ہے جہاں لوگ ملکی مفادات کو یکسر انداز کےٹرک کی بتی کے پیچھے لگ جاتے ہیں ۔
    ففتھ جنریشن وار فئیر کو ذہنی جنگ یا بیانیے کی جنگ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ کسی بھی پسماندہ ذہن کے مالک شخص پہ مسلط کی جاتی ہے ۔ اس وقت اس دنیا میں اس جنریشن کا اہم اور موئثر ہتھیار میڈیا ہے جس میں الیکٹرانک میڈیا ،پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا شامل ہیں۔ کیا آپ لوگ یہ جانتے ہیں کہ آپ لوگ سوشل میڈیا کے کسی بھی پلیٹ فارم سے اس ٹولز کو بروئے کار لا کر بالخصوص نوجوان نسل کی ذہن سازی کرکے اپنے ملک یا ریاست کے خلاف کرسکتے ہیں اور ریاست یا ریاستی اداروں کے خلاف اندرونی محاذ کھول سکتے ہیں ۔ اس میں کسی بھی ملک کے حالات خراب کرنے کیلۓ مذہبی منافرت پھیلایا جاتا ہے اور ایک دوسرے کے مسالک کے مابین تعصبات کو ایک دوسرے کے دماغوں میں نقش کر کے فسادات کو فروغ دیا جاتا ہے ۔کیا آپ جانتے ہیں کہ ففتھ جنریشن وار فئیر میں اپنی مخالف طاقت کو کمزور کرنے کے لیے قوم پرستی کی بنیاد پر پنجابی کو پھٹان سے پھٹان کو سندھی سے سندھی کو بلوچی سے اور بلوچی کو گلگت بلتستانی سراٸیکی کو پنجابی سے لڑایا جاتا ہے۔ ففتھ جنریشن وار فئیر میں مخالف فریق کو معاشی طور پر غیر مستحکم کرنے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ مخالف فریق معاشی ترقی نہ کر سکیں اور ناکام و نامراد ہوتا جاۓ ۔ ففتھ جنریشن وار کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ ففتھ جنریشن وار فئیر دشمن عناصر ریاستی افواج کے خلاف غلط پروپیگنڈہ کر کے اپنی ریاست کی افواج کے خلاف نفرت کے راگ الاپے جاتے ہیں اس چیز کو کامیاب کرنے کے لیے نوجوانوں کا ایک گروہ تیار کر کے عسکری حلقوں کو طرح طرح کے الزامات لگا کر اپنے مقاصد کی وصولی کے لئے راستے ہموار کیۓ جاتے ہیں تاکہ وہ ملکی لوگوں کو ہی دشمن ملک کے خلاف استمعال کریں تاکہ لوگ یہ سمجھیں کہ یہ تو ان کا اندرونی معاملہ ہے مگر حقیقیت اسکے برعکس ہوتی ہے وہ دشمن ممالک کے ایجنڈے پہ کام کر رہا ہوتا ہے ۔ معزز قارئین ففتھ جنریشن وار دوسری جنگوں کی نسبت بہت خطرناک ترین وار ہے جس سے ہتھیاروں یا افرادی قوت کے مظاہرے سے بھی زیادہ نقصان ہوتا ہے ۔ بحثیت مسلمان اور پاکستانی ہماری اولین زمہ داری یہ ہونی چاہیۓ کہ ہم اپنے اسلام و ملک کے ایک اچھے شہری بن کے رہیں اسلام کی سربلندی کیلۓ پاکستان کی ترقی کیلۓ دشمن کی تمام چالوں کو بے نقاب کرتے ہوۓ ملکی مفاد کی جنگ لڑیں اور دشمن یا ان کے آلہ کار جس طرح ہماری ریاست کے خلاف منفی پروپیگنڈے اور اوچھے ہتھکنڈے اختیار کرتے ہیں ان تمام سازشوں کا قلع قمع کر کے ملک کی سالمیت ،استحکام اور ترقی کے لئے ملکی وفادار بن کے سوچنا چاہیے تاکہ ہم ففتھ جنریشن وار فئیر سے مکمل طور پر بچ سکیں اور اس سرد جنگ کے نقصانات کم کیۓ جاسکیں ۔
    دوسری جانب ریاست کو بھی چاہیئے کہ وہ ففتھ جنریشن وار کے نام پر جو لوگ اپنے حقوق کے حصول کی بات کرتے ہیں ملکی مفاد کیلۓ کام کر رہے ہیں ففتھ جنریشن وار لڑ رہے ہیں اور جو لوگ حق حاکمیت اور حق ملکیت کی بات کرتے ہیں، اپنے خلاف ہونے والی ناانصافیوں پر آواز بلند کرتے ہیں انہیں خوف زدہ کرنے ڈرانے دھمکانے اور سزا دینے کے بجائے انکی بات کو بغور سنا جاۓ اور کوشش کی جاۓ کہ انکے مسائل جنگی بنیادوں پہ حل کیۓ جاٸیں تاکہ عوام اور ریاست کے بیچ محبت کا رشتہ برقرار رہے اور ہمارے ملک باسی دشمنوں کے آلہ کار بننے سے بچ سکیں کیونکہ ففتھ جنریشن وار فیٸر تمام روایتی جنگوں سے مختلف ہے کیا آپ جانتے ہیں کہ فیک نیوز بھی ففتھ جنریشن فٸیر ہی کی ایک قسم ہے انڈین کرونیکلز نیٹ ورک جو کچھ عرصہ پہلے بے نقاب ہوا تھا اس میں بھی کٸ ویب ساٸٹس جرنلسٹ اور اقوام عالم کی کارواٸیوں پہ کنٹرول حاصل کرنے کیلۓ اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلۓ ہر سازش کی جاتی تھی اس کے علاوہ حالیہ دورہ نیوزی لینڈ کی منسوخی بھی ففتھ جنریشن وار کا ہی ایک حصہ ہے ۔ اس وقت قوم کو یا ملکی حالات کو کنٹرول کرنا ہے کہ انکی عوام محفوظ ہیں اس سلسلے میں قوم میں ففتھ جنریشن کے متعلق آگاہی پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ عوام جان سکے کہ یہ ففتھ جنرشن وار ہے کیا ۔؟ اس کے مقاصد کیا ہیں ۔؟ کیسے ففتھ جنریشن وار کسی بھی ملک یا قوم پہ مسلط کر کے اپنے اہداف حاصل کرنے کیلۓ لڑی جاتی ہے ۔؟ الحَمْدُ ِلله پاکستان کی عوام میں اس حوالے سے کافی شعور موجود ہے مگر اکثریت ففتھ جنریشن وار کی اے بی سی ڈی سے بھی ناواقف ہے اس وقت پاکستان میں ہمارے پاکستانی دشمن ممالک خاص طور پہ ازلی دشمن بھارت اسراٸیل و امریکہ کے پروپیگنڈے کو کاٶنٹر کر کے ان کو منہ توڑ جواب دیتے ہوۓ دشمن مالک کی کروڑوں اربوں روپے کی انویسٹمنٹ کو خاک میں ملانے کا ہنر رکھتے ہیں اللہ پاک ہمیں ملکی مفاد کیلۓ ہر فورم پہ حق بات کہنے والا بنا دے اور ملکی مفاد کیلۓ لڑنے والا بنا دے آمین تاکہ ہم بھی اقوام عالم کی تمام قوموں کو ٹکر دینے کے مقابل آجاٸیں ۔

    ‎@NawabFebi

  • سوشل میڈیا کا غیرضروری استعمال اور نقصانات:تحریر: عمران افضل راجہ

    سوشل میڈیا کا غیرضروری استعمال اور نقصانات:تحریر: عمران افضل راجہ

    گزشتہ دنوں شادی کی ایک تقریب میں شرکت کا موقع ملا، ہم بہت پرجوش تھے کہ چلو
    کافی عرصے بعد سب سے ملنے کا موقع مل رہاہے، خوب گپ شپ ہو گی۔ وہاں پہنچے تو
    دیکھا دلہا دلہن سمیت سب لوگ سیلفیاں لینے میں مصروف ہیں۔ کسی کے پاس باتکرنے
    کی فرصت نہیں۔ کچھ دیر یوں ہی سب کو دیکھ دیکھ کر بور ہوتے رہے پھر ہم نے بھی
    اپنا موبائل نکالا اور فیس بک پرسکرولنگ شروع کر دی۔ گزشتہ اتوار ایک پارک جانا
     ہوا تو وہاں بھی یہی منظر دیکھنے کو ملا۔ سب تفریح سے لطف اٹھانے کیبجائے اپنے
     اپنے موبائل کی سکرین پر جھکے ہوئے تھے۔

    ہم سب موبائل ہاتھ میں لیے فیس بک، واٹس ایپ، انسٹا گرام میں مصروف ہیں۔ سوشل
    میڈیا پر ہمارے سینکڑوں دوست ہیںلیکن درحقیقت ہم بالکل تنہا ہیں۔ ہمارے پاس
    اپنے گھر والوں کے پاس بیٹھنے، ان سے بات چیت کرنےکا وقت نہیں۔ گھر کےہر فرد کی
     اپنی ایک الگ دنیا ہے جو موبائل کی سکرین تک محدود ہے۔ اس تنہائی کا اگرچہ
    وقتی طور پر ہم سب کو احساس نہیں لیکنجتنا زیادہ سوشل میڈیا کے استعمال میں
    اضافہ ہو رہا ہے اتنا ہی معاشرے میں نفسیاتی مسائل میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔
    ہر دوسراشخص احساس کمتری، مایوسی، حسد، چڑچڑےپن اور سماجی تنہائی کا شکار نظر
    آتا ہے۔

    پہلے پہل شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں جائیں تو رشتے دار ایک دوسرے سے گھل
    مل کر باتیں کرتے تھے، ایک دوسرے کے دکھدرد سنتے تھے،  تقریب کو بھرپور  طریقے
    سے انجوائے کیا جاتا تھا۔ مگر اب سب لوگ سیلفیاں لینے اور اسٹیٹس لگانے میں
    مصروفہوتے ہیں۔ کسی کے پاس ایک دوسرے سے بات کرنے کی فرصت نہیں ہوتی۔ اس طرح
    غیر محسوس طریقے سے ہم اپنے پیاروںسے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

    جتنا زیادہ لوگ سوشل میڈیا سے جڑ رہے ہیں اتنا زیادہ سماجی تنہائی کا شکار ہوتے
     جا رہے ہیں۔  ایک تحقیق میں دیکھا گیا کہ جو لوگفیس بک ، ٹویٹر ، Google+ ،
    یوٹیوب ، لنکڈ ان ، انسٹاگرام ، پنٹیرسٹ ، ٹمبلر ، وائن ، اسنیپ چیٹ اور ریڈڈیٹ
     سمیت 11 سوشلمیڈیا سائٹس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں، اتنا ہی سماجی طور پر الگ
     تھلگ ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیاپر زیادہ دوستوں کا مطلب ہر گز یہنہیں ہے کہ حقیقت
    میں بھی آپ کے زیادہ دوست ہیں۔

    زیادہ تر سوشل میڈیا پر صداقت کی شدید کمی ہے۔ لوگ اپنی دلچسپ مہم جوئی کے لیے
    اس کا استعمال کرتے ہیں،  قریبی رشتہ دارایک  دوسرے سے کتنا پیار کرتے ہیں ، اس
     قسم کی تصاویر فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام پر اپ لوڈ کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت
    میں یہ سب ایک دھوکہ ہے۔ اگرچہ یہ بظاہر بہت اچھا لگتا ہے لیکن اکثر یہ دیکھا
    گیا ہے کہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔سوشل میڈیا پر مدرز ڈے اور فادرز ڈے دھوم
    دھام سے منانے والے، اور جذباتی پوسٹ لگانے والے اکثر لوگوں کے پاس عیدکے عید
    بھی اپنے والدین سے ملنے کا وقت نہیں ہوتا۔ ایک ایسی ہی خاتون جن کا سٹیٹس دیکھ
     کر لگتا تھا کہ ان سے زیادہ محبتکرنے والا اور خیال رکھنے والا شوہر کسی کا
    نہیں، ایک مرتبہ ان سے ملاقات ہوئی تو چہرے پر نیل کے نشانات تھے. استفسار پر
    معلومہوا کہ شوہر نے نشے کی حالت میں پیٹا ہے۔

    معاشرے میں طلاق کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی ایک بڑی وجہ سوشل میڈیا پر
    غیر حقیقی زندگی کی تشہیر ہے۔ نوجوان نسلاپنے جیون ساتھی کو ویسا ہی دیکھنا
    چاہتی ہے جیسا کہ سوشل میڈیا پر دکھایا جاتا ہے اور جب وہ ان کی امیدوں پر پورا
     نہیں اترتا توفاصلے اور اختلافات بڑھتے جاتے ہیں۔ میاں بیوی ایک دوسرے کو وقت
    دینے کی بجائے سوشل میڈیا پر مصروف ہیں۔ ان تمامباتوں کا منطقی نتیجہ طلاق کی
    صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔

    اسی طرح خودکشی کے رجحان میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ لوگ اپنی کامیابیوں، ترقی،
    تقریبات، تفریح حتی کہ کھانے پینے کی تصاویربھی سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں۔
    اس طرح وہ لوگ جو یہ سب حاصل نہیں کر سکتے وہ احساس محرومی کا شکار ہو جاتے
    ہیں۔اور یہ سب حاصل نہ ہونے پر ناکامی کی صورت میں یا تو خودکشی کر لیتے ہیں یا
     پھر ان چیزوں کے حصول کے لیے جرائم پیشہسرگرمیاں اختیار کر لیتے ہیں۔

    انسان ایک معاشرتی حیوان ہے۔ اسے پیدائش سے لے کر موت تک زندگی کے ہر قدم پر
    دوسرے انسانوں کا سہارا اورمدد درکار ہوتیہے۔ وہ اپنی خوشیاں اور غم دوسروں کے
    ساتھ بانٹنا چاہتا ہے۔ لیکن سوشل میڈیا نے انسان کو سچ مچ کا حیوان بنا دیا ہے۔
     اسکی ایک مثال چودہ اگست پر مینار پاکستان پر ہونے والا سانحہ ہے۔  اگر ہم اس
    قسم کے واقعات کا گہرائی سے تجزیہ کریں تو ہماس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ سوشل
    میڈیا کے بے لگام استعمال نے ہم سے ہماری اخلاقیات،  صحت اور سماجی اقدار چھین
    لی ہیں۔اس نے نہ صرف ہمیں تنہا کر دیا ہے بلکہ ایک ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی
    بیمار معاشرے کو بھی جنم دیا ہے۔

    سوشل میڈیا نےایک نشے کی طرح لوگوں کوجکڑ لیا ہے۔ چند لمحے موبائل ہاتھ میں نہ
    ہو تو طبیعت بے چین ہو جاتی ہے۔ گھنٹوںفیس بک اور انسٹا گرام پر بے معنی اور
    غیر ضروری پوسٹیں دیکھتے رہنے میں وقت کے ضائع ہونے کا احساس ہی نہیں ہوتا۔
    ماہریننفسیات اسے ‘فیس بک ایڈکشن ڈس آرڈر’ کا نام دیتے ہیں۔ یہ لوگ نہ صرف
    نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتے ہیں بلکہ رات بھر جاگنےاور بیٹھے رہنے سے جسمانی
    بیماریوں کا بھی بآسانی شکار ہو جاتے ہیں۔ زیادہ دیر تک بیٹھے رہنے سے موٹاپے،
    جوڑوں کے درد،  دل اورشوگر کے امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ نیند کی کمی سے
    چڑچڑاپن اور نظر کی کمزوری جیسے مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔ ماہرین صحتنے بیٹھے
    رہنے کو سگریٹ نوشی سے تشبیہ دی ہے کیونکہ اس سے بہت سے خطرناک امراض جنم لیتے
    ہیں۔ جس کے نتیجے میں ہر سالہزاروں افراد موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہم فرصت کے
    لمحات میں بیٹھ جاتے ہیں اور غیر ارادی طور پر موبائل پر سکرولنگ شروعکر دیتے
    ہیں، جو کہ نفسیاتی طور پر بے حد خطرناک ہے۔ اس سے معاشرے میں نکمے اور بے کار
    لوگوں کی ایک فوج پیدا ہوتی جارہی ہے۔جن کا کام صرف سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں
    کو متاثر کرنا ہوتا ہے۔ جو ہر وقت ایک خیالی دنیا میں رہتے ہیں لیکن عملیزندگی
    میں مکمل طور پر ناکام ہوتے ہیں۔ ۔

    سوشل میڈیا پر لوگ ہر وقت دوسروں سے موازنہ کرتے ہیں، جس سے جلن، حسد اور احساس
     کمتری جنم لیتا ہے۔ تحقیق سے یہبات ثابت ہوئی ہے کہ سوشل میڈیا میں موازنہ کا
    عنصر حسد کا باعث بنتا ہے- زیادہ تر لوگ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ دوسرے لوگوں کی
    تعطیلات، بے پناہ محبت کرنے والے ساتھی اور بہترین سلوک کرنے والے بچوں کو دیکھ
     کر حسد پیدا ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میںماہرین نے فیس بک کا استعمال کرتے ہوئے حسد
     اور دیگر منفی جذبات کو دیکھتے ہوئے لکھا ہے کہ "صرف فیس بک پر ہونے والےحسد
    کے واقعات کی شدت حیران کن ہے، یہ اس بات کا ثبوت فراہم کرتی ہے کہ فیس بک
    ناگوار جذبات کی افزائش گاہ ہے۔” وہمزید کہتے ہیں کہ اگر لوگوں نے اس سے نکلنے
    کی کوشش نہ کی تو یہ ایک ایسا شیطانی چکر بن سکتا ہے، جو کہ جلن، حسد، مقابلہ
    بازی،احساس محرومی اور منفی سرگرمیوں کو فروغ دینے کا باعث بن سکتا ہے۔ کیونکہ
    حسد محسوس کرنے سے ڈپریشن اور دیگر منفیجذبات کو فروغ ملتا ہے اور منفی خیالات
    جسمانی صحت کو بھی تباہ کر دیتے ہیں۔

    سوشل میڈیا کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہر لمحہ اپنے ایڈونچر کو اپ لوڈ کرنے کے
    لیے کبھی پہاڑ کی چوٹی پر،  کبھی دریا کے کنارے اورکھبی گلیشیر کے نیچے کھڑے ہو
     کر تصویریں لینے والے لوگ اکثر اوقات اپنی قیمتی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے
    ہیں۔ ہر روز اس قسمکے واقعات اخبارات کی زینت بنتے رہتے ہیں۔

    جسمانی اور نفسیاتی بیماریوں کے علاوہ سوشل میڈیا اخلاقی اقدار کو بھی نقصان
    پہنچانے کا سبب ہے۔ ٹک ٹاک اس کی ایک بد ترینمثال ہے۔ ٹیکنالوجی استعمال کرنے
    کے جنون میں مبتلا لوگ معاشرتی اور اخلاقی روایات کو سمجھے بغیر ٹک ٹاک پر غیر
    اخلاقی مواداپ لوڈکرتے رہتے ہیں۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ باعزت خاندانوں کے
    بچے، بچیاں، بوڑھے، جوان سب اس میں مصروفہیں۔

    ہمارا مذہب ہمیں میانہ روی کا درس دیتا ہے۔ نمودونمائش سے روکتا ہے۔ دین نے تو
    ہمیں سکھایا ہے کہ پھلوں کے چھلکے تکاپنے ہمسائے سے چھپا کر پھینکو، کہیں ان کو
     احساس محرومی ہو اور ان کی دل آزاری ہو۔ اس کے باوجود ہم دوسروں کے جذباتاور
    احساسات کی پرواہ کیے بغیر اپنے ہر لمحے حتی کہ کھانے پینے کی تصویریں بھی سوشل
     میڈیا پر شیئر کرتے ہیں۔ یہ سوچے بغیر کہ جولوگ مہنگے ہوٹلوں میں یہ کھانا
    نہیں کھا سکتے ان کے دل پر کیا گزرے گی۔

    ان تمام باتوں کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ سوشل میڈیا کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
    ظاہر ہے کہ یہ ہمیں دنیا سے جوڑتا ہے ، اور ایسےدوستوں کو تلاش کرنے میں ہماری
    مدد کرتا ہے جن سے ہم برسوں پہلے رابطہ کھو چکے تھے۔ اس کے علاوہ معلومات
    کےحصول اورکاروبار کرنے میں بھی مددگار ہے۔ لیکن اس کے استعمال سے پہلے ہمیں
    کچھ حدود کا تعین کرنا ہو گا۔ بجائے اس کے کہ ہم حکومتسے کبھی ٹک ٹاک، کبھی یو
    ٹیوب پر پابندی کا مطالبہ کریں، ہمیں سب سے پہلے اپنی اصلاح کرنی ہو گی۔ ان
    تمام چیزوں کو استعمالکرتے ہوئے اعتدال اور اخلاقیات کو ملحوظ خاطر رکھنا
    چاہیے۔

    اپنے ہر لمحہ کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کی بجائے اس کو کسی با مقصد کام کے
    لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ذریعےمعلومات حاصل کی جا سکتی ہیں، پیسے
     کمانے اور کاروبار کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دوسروں پر تنقید کرنے
    اور پابندیاںلگانے سے پہلے اپنی اصلاح کرنا ضروری ہے۔ ہم نظم و ضبط اور پابندی
    وقت کے ذریعے اپنی جسمانی اور ذہنی صحت کا خیال بھیرکھ سکتے ہیں۔ موجودہ دور
    میں ٹیکنالوجی سے دور نہیں رہا جا سکتا لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ ہم اس
     میں کھو جائیں۔ ہم پراپنی جان کا بھی حق ہے اور اپنے رشتے داروں کا بھی۔ اس
    نشے سے نکلنے میں سب سے اہم کردار والدین ادا کر سکتے ہیں۔ لیکنزیادہ تر والدین
     خود ہی ان چیزوں سے نہیں نکل پاتے۔ ان کے پاس بچوں کو دینے کے لیے وقت نہیں۔
    انہیں شروع سے ہیبچوں کو یہ بات سمجھانی چاہیے کہ ہر کام اپنے وقت پر کرنا ہے
    اور صحت، فیملی، پڑھائی اور معاشرے  کا کامیاب شہری بننا سبسے زیادہ ضروری ہے۔
    بچوں سے بات چیت کریں، ان کو اپنے بچپن اور اسکول لائف کے قصے سنائیں، ان کے
    مسائل سنیں۔سب سے پہلے تو اپنی صحت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ ورزش کے لیے وقت
    مختص کرنا چاہیے۔ دن کے کچھ گھنٹے صرف اپنی فیملیکے لیے مخصوص ہونے چاہئیں۔
    سونے جاگنے کے اوقات میں بھی موبائل کو بند کر دیں۔ اگر یہ چھوٹی چھوٹی
    تبدیلیاں ہم اپنیزندگی میں لے آئیں تو یقینا زندگی پر بہت خوشگوار اثرات مرتب
    ہوں گے۔ لیکن اگر ہم نے ابھی اس لت سے نکلنے کی کوشش نہیںکی تو اس کے گھناؤنے
    اثرات زندگیوں کو تباہ بھی کر سکتے ہیں۔ جس کے نتائج سانحہ مینار پاکستان سے
    بھی زیادہ شدید نوعیت کے ہوسکتے ہیں۔

    Imran Afzal Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He
    has been writing for different forums. His major areas of interest are
    Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • آج کا نوجوان تحریر: ثناءاللہ محسود

    آج کا نوجوان تحریر: ثناءاللہ محسود

    نوجوان کسی بھی معاشرے کی ایک اہم طاقت ہوتے ہیں۔ یہ کسی بھی خاندان ، ملک اور قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں بوڑھوں کی نسبت مضبوطی اور طاقت بخشی  ہے۔ یہ اپنے بل بوتے پر زندگی کی ہر جنگ میں فتح یاب ہو سکتے ہیں۔ کسی بھی ملک کی کامیابی کا انحصار نوجوان نسل پر ہوتا ہے۔ یہ اپنے ملک کی بنیاد ہوتے ہیں۔ وقت آنے پر ان کا خون ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرتاہے ۔یہ پہاڑوں کی طاقت رکھتے ہیں۔ اسی نوجوان کو علامہ اقبال نے شاہین کا نام دیا۔

    تو سوال یہ ہے۔ کہ کیا آج کا نوجوان اپنی قوم کی تقدیر بدلنے کا عزم رکھتا ہے۔ کیا یہ اقبال کا شاہین بننے کا ولولہ رکھتا ہے۔

    تو اس کا جواب یہ ہے ، کہ آج کا نوجوان ان سارے جذبوں سے خالی ہے۔اور اس کی وجہ نوجوانوں کا سوشل میڈیا ، منشیات ، اور دوسرے فضول امور میں دلچسپی لینا ہے ۔ رئیس لوگوں کے بگڑے ہوئے امیر زادے نفسانی خواہشات کی پیروی کرنے میں مگن رہتے ہیں۔ اور دوسری طرف غریب طبقے کے لوگ دال، روٹی کی فکر میں گھلتے رہتے ہیں۔ ایسے میں نوجوانوں کو ملک کی فکر کیونکر ہو ۔

    اور ان سب کی وجہ یہ ہے۔ کہ آج کے دور میں نوجوانوں کی رائے کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔ اگر وہ کسی بات میں مداخلت کریں تو ان کی بات کی تردید کر دی جاتی ہے۔ انھیں معاشرے کا اہم رکن سمجھنے کی بجائے  نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ایسے میں وہ اپنے لئے صحیح راستے کا انتخاب نہیں کر پاتے، اور ایسے عوامل کا شکار ہو جاتے ہیں جو معاشرے کے ساتھ ساتھ انہیں بھی تاریکیوں میں دھکیل دیتے ہیں۔

    اور ایسی صورتحال میں جرائم مافیا  انہیں با آسانی جرائم کی دنیا میں لے جاتے ہیں ۔جس سے ان کی زندگی کے ساتھ ساتھ معاشرے کا نقصان بھی ہوتا ہے۔

     ہم ماضی پر نظر دوڑائیں تو اندازہ ہوگا کہ ایک زمانہ تھا جب اسکولوں، کالجوں میں کھیل کے میدان ہوتے تھے، جہاں کھیلوں کے مقابلے منعقد کیے جاتے تھے۔  ان کھیلوں کے ذریعے صبر و برداشت، حوصلہ، مقابلہ کرنے کے جذبات پیدا ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ تعلیمی اداروں میں غیرنصابی سرگرمیاں جیسے بیت بازی، تقریری مقابلے، مضمون نویسی وغیرہ ہوا کرتے تھے۔کیوں ختم کردی گئیں یہ ساری چیزیں جس کے ذریعے وہ اپنے مسائل  بیان کرتے تھے۔  اس تیز ترین دور میں نوجوانوں سے ان کی رائے کا ہر وسیلہ چھین لیا گیا ہے ۔ سکول ، کالج نیز ہر ادارہ اپنا نام کمانے کی فکر میں نوجوانوں کے جذبات کا خون کرتا ہے۔ اور رہی سہی کسر بے روزگاری نے پوری کر دی ہے۔ 

    ان سب مسائل کا حل بس یہی ہے۔ کہ نوجوان نسل کو آگے بڑھنے کے وسائل مہیا کیے جائیں۔ کیونکہ ہمارے ملک کا مستقبل انہیں نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔ انہیں تعلیم، صحت،  اور تجربات کا موقع دیا جائے تا کہ نوجوان ذہنی اور نفسیاتی دباؤ سے باہر نکلیں۔ نوجوانوں کے لئے روزگار کے ذرائع مہیا کیے جائیں۔ بہت سے نوجوان مختلف وجوہات کی بنا پر تعلیم سے دور ہیں۔ ان کے لیے تعلیم حاصل کرنا آسان کیا جائے۔ تا کہ اقبال کے شاہین اپنے وطن کو ایک بہترین مستقبل دے سکیں۔

    @Sanaullahmahsod

  • تعلیم کا اصل مقصد کیا ہے،؟!  تحریر: تیمور خان

    تعلیم کا اصل مقصد کیا ہے،؟! تحریر: تیمور خان

     

    جب میں اپنے معاشرے کے لوگوں کو دیکھتا ہوں تو میرے ذہن میں کئی سوالات جنم لیتے ہیں جن میں سب سے اہم سوال تعلیم کے متعلق ہے۔  شاید تعلیم کندھوں پر بڑھتے بوجھ کا نام ہے ، شاید تعلیم ان پرانی کتابوں کا نام ہے ، شاید تعلیم ایک ایسی دوڑ ہے جس میں ہر انسان دوسرے انسان کو پیچھے چھوڑنا چاہتا ہے ، شاید تعلیم کی اہمیت صرف ایک کاغذ پر مبنی ہے  جس کو ہم ڈگری کہتے ہیں اور وہ اس تک محدود ہے۔  آخر ایسی تعلیم کا کیا فائدہ ہے جس کا وہ مطلب نہیں جانتے کہ میں نے کیا پڑا کیا لکھا؟

     ہماری نظر میں صرف وہی لوگ ہی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں جو اچھی انگریزی بولتے ہوں، اچھے کپڑے پہنتے ہوں، وہی لوگ اعلیٰ تعلیم یافتہ سمجھے جاتے ہیں ، ہمارا ذہن ان باتوں کو کیوں مانتا ہے؟  ہمیں تعلیم حاصل بھی کرتے ہیں اور ہمیں سکھایا بھی جاتا ہے لیکن ہمیں تعلیم کا صحیح مطلب اور مقصد نہیں سکھایا جاتا۔  اگر کوئی ہم سے پوچھے کہ ہمارے خیال میں تعلیم کا اصل مقصد کیا ہے تو ہم کہیں گے کہ ہمیں ڈاکٹر ، انجینئر ، وکیل پائلٹ ہو ٹیچر بننا ہے اور پیسہ کمانا ہے ، لیکن تعلیم کی اہمیت اور مقصد ان چند الفاظ کے گرد گھومتا ہے؟   تعلیم صرف پیسہ کمانے کے لیے نہیں ہے ، تعلیم صرف ڈگری یا نوکریاں حاصل کرنے کے لئے ہرگز نہیں ہے ہماری سوچ کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی نے درست کہا ہے کہ جب تعلیم کا بنیادی مقصد نوکری حاصل کرنا ہوتا ہے تو معاشرے میں صرف نوکر ہی پیدا ہوتے ہیں نہ کہ لیڈر اور یہی آج کل میں اپنے معاشرے میں دیکھ رہا ہوں۔

     افسوس کی بات ہے کہ جن کے پاس ڈگریاں ہیں ، ہم ان کو پڑھا لکھا سمجھتے ہیں اور جن کے پاس ڈگریاں نہیں ہیں ، ہم انہیں جاہل سمجھتے ہیں ، لیکن میرا خیال ہے کہ ہر وہ شخص جو صحیح اور غلط اور اچھے یا برے میں فرق پڑھے کیونکہ میں نے دیکھا ہے  پڑھے لکھے میں جاہل لوگوں کو  اور جاہلوں میں پڑھے لکھے کو بھی،  اگر ہم تعلیم کے معنی کو غور سے سمجھنے کی کوشش کریں تو علم انسان کی تیسری آنکھ کی طرح لگتا ہے۔

     دو آنکھوں سے ہم دنیا کے خوبصورت مناظر دیکھتے ہیں مگر علم کی آنکھ سے ہم عقل اور سمجھ کے مشکل مراحل سے گزرتے ہیں۔  جاہل اور پڑھے لکھے میں کوئی فرق نہیں۔  میری نظر میں جاہل وہ ہیں جو اپنے علم کے باوجود ناانصافی کرتے ہیں ، اپنی صلاحیتوں کا غلط استعمال کرتے ہیں۔  میری نظر میں وہ لوگ بھی جو صرف جہالت اور بے ہوشی کی فہرست میں ہیں ان کی فہرست میں جو پڑھاتے ہیں لیکن عملی طور پر وہ کچھ نہیں کرتے۔  

     عمل کے بغیر علم برائی ہے اور علم کے بغیر عمل گمراہی ہے ، یعنی علم اور عمل دونوں ضروری ہیں ، کوئی بھی کافی نہیں ہے۔  اگر علم آنکھ ہے تو عمل اس کا وژن ہے ، اگر علم زندگی ہے تو عمل شعور ہے ، اگر علم تعلیم ہے تو عمل تربیت ہے ، اگر علم پھول ہے تو عمل خوشبو ہے۔  علم شعور ہے۔  علم بنیادی طور پر قابلیت ، قابلیت اور ذہن کی کشادگی کا نام ہے ، لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہم نے خود ان چیزوں کو جاننے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی کسی نے ہمیں یہ باتیں بتانے کی زحمت کی۔  اور آج ہم اس فرق کو بھول گئے ہیں اور ہماری برتری صرف ڈگریاں اور نوکریاں ہیں اور ہم انسانیت سے اس قدر دور چلے گئے ہیں کہ واپسی کی کوئی علامت نہیں ہے۔

    اس جدید دور میں ، تعلیم کا مقصد اس بات کو پوری طرح پہنچانے کے لیے کافی نہیں ہے کہ صرف سیکھنا ہماری زندگی میں کیا نکات لاتا  ہے۔  تعلیم ایک سے زیادہ مقاصد کو پورا کرتی ہے – ایک ایسے سپیکٹرم کے ذریعے جو ہماری زندگی کے معاشی ، سماجی اور ثقافتی پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔  یہ اب محض خیالات اور علم کو آنے والی نسلوں تک منتقل نہیں کر رہا ہے اور نہ ہی یہ صرف مالی مستحکم کیریئر کی تیاری کے لیے ہے۔  یہ ان خیالات کو بھی لے رہا ہے اور انہیں ہماری زندگیوں اور ہمارے آس پاس کی دنیا میں لاگو کر رہا ہے۔  اس کے نتیجے میں ، تعلیم کی کثیر جہتی نوعیت اپنے شاگردوں میں ہمہ گیر ثقافتی تنوع کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے ، ہمارے مطالعے میں تنقیدی سوچ کی وکالت کرنے ، اور ایسے مواقع لے کر ہماری زندگیوں کو تقویت دینے کی کوشش کرتی ہے جو ہماری زندگیوں میں اضافہ کرتے ہیں۔  دنیاوی تجربات  تعلیم کے ان پہلوؤں کو پورا کرتے ہوئے ، یہ ضروری قدم ہمیں علم اور حکمت مہیا کرتے ہیں جو معاشرے اور جوانی میں ہماری شروعات کو تیار کرتے ہیں, تحریر کرنے کا مقصد یہ ہے، کہ ہمیں تعلیم کو حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیم کو سمجھنا بھی چاہئے، تاکہ ہمارا آنے والا کل روشن ہو، اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ اس پر سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

    @iTaimurOfficial

  • جنٹلمین گیم از اوور؟تحریر:وقاص امجد

    جنٹلمین گیم از اوور؟

    کرکٹ جسے جنٹلمین کا کھیل کہا جاتا تھا ،اب مفادات کا کھیل ثابت ہونے لگا ہے۔یہ بات اس وقت کھل کر سامنےآئی جب ٹی 20ورلڈکپ کی تیاریوں کے سلسلے میں پاکستان کے دورے پر موجود نیوزی لینڈکرکٹ ٹیم نے میچ شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل نہ صرف کھیلنے سے انکار کردیا بلکہ یکطرفہ طور پرپورادور ہ کینسل کرکےاپنے وطن واپس جانے کی ٹھان لی۔ اپنے اس اقدام کے پیچھے کیوی ٹیم نے یہ جواز پیش کیا کہ انکی ٹیم کو پاکستان میں خطرہ ہے لہٰذا جلد ازجلد انکے واپس جانے کے انتظامات کیےجائیں۔پاکستانی حکام، سکیورٹی ایجنسیز اور انٹیلی جینس پریشان ہوگئے کہ یک لخت ایسا کیا ہوا کہ مہمان ٹیم جانے پربضد تو ہوگئی مگر یہ بتانے سے قاصر تھی کہ انھیں خطرہ کس سے ہے؟یہ صورتحال دنیا بھر کے کرکٹ شائقین اور خصوصی طور پر پاکستانیوں کیلئے کسی صدمے سے کم نہ تھی کیونکہ نیوزی لینڈ کی ٹیم اٹھارہ سال بعد پاکستان آئی تھی اور یہاں پانچ روز ہنسی خوشی گزارنے کے بعد اچانک سے سکیوٹی کا ایشو بنا کر واپس اپنے دیس چلی گئی۔ 

    سکیورٹی کے فول پروف اقدامات کیے جانے کےباوجود نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے یوں چلے جانے کی گرد ابھی بیٹھی بھی نہیں تھی کہ انگلینڈ کی ٹیم نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے ہوئے پاکستان آنے سے انکار کردیا۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم نے تو پھر سکیورٹی کا بہانہ بنایا مگر انگلینڈ نے انتہائی بھونڈا جواز پیش کرتے ہوئے معذرت کی کہ انھیں اپنے کھلاڑیوں کی تھکاوٹ اور ذہنی صحت کی فکر ہے ۔ انگلش ٹیم کے اس انکار کے پیچھے چھپی وجہ کو ماہرین کرکٹ متحدہ عرب امارات میں جاری بھارتی کرکٹ لیگ( آئی پی ایل) سے بھی جوڑرہے ہیں جہاں انگلش کھلاڑی بھاری بھرکم پیسوں کے عوض کھیلنے میں مگن ہیں۔

     پاکستان کرکٹ بورڈ اوربالخصوص وزارت داخلہ کیلئےیہ بات باعث تشویش تھی کہ مکمل یقینی دہانی اور سٹیٹ آف دا گیٹس بننے کے باوجود پہلے ایک ٹیم نے یہاں آکر فوراًجانے کی راہ لی اور دوسری ٹیم نے آنا بھی گوارہ نہیں سمجھااور وہیں سے آنکھیں ماتھے پر رکھ کر دو ٹوک انکار کردیا۔

    یک نہ شُددوشُد والی یہ صورتحال جہاں سکیورٹی کے حوالے سے عالمی سطح پر پاکستان کا امیج خراب کرگئی وہیں پاکستانی کھلاڑیوں کے ارمانوں پر بھی پانی پھیر گئی کیونکہ ورلڈکپ کی تیاریوں کے سلسلے میں یہ دونوں سیریز کافی مددگار ثابت ہونے والی تھیں۔

    اس مشکل وقت میں نئے چیئر مین پی سی بی رمیز راجہ کے دوٹوک بیانیے نے کھلاڑیوں کیساتھ ساتھ پاکستانی عوام کی بھی ڈھارس بندھائی ۔نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی ٹیموں کے کرکٹ نہ کھیلنے کے باعث پاکستان کرکٹ بورڈ ایک طرف تو مالی نقصانات کا ازالہ کررہا ہے اور دوسری طرف کھلاڑیوں کو ورلڈکپ کی تیاری کروانے کیلئے ڈومیسٹک ٹی ٹوینٹی کرکٹ ٹورنامنٹ کا بھی بھرپور طریقے سے آغاز کرنے جارہا ہے ۔ 

    کرکٹ بورڈ کے اس اقدام سے جہاں کھلاڑیوں کو اپنا غصہ میدان میں اتارنے کا موقع ملے گاتو وہیں بڑی ٹیموں سے نبردآزما ہونے کیلئے سازگار ماحول بھی میسرآئے گا۔

    بھارت ، آسٹریلیا اور انگلینڈ پر مشتمل بگ تھری گروپ نے ماضی میں بھی پاکستا ن کرکٹ کو کئی اہم مواقعوں پرشدید نقصان پہنچایا ہے مگر اس بار نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے تمام حدود پھلانگتے ہوئے پاکستان کو ان تینوں ٹیموں سےزیادہ بڑا دھچکادیا ہے۔

     اب صورتحال کا یہی تقاضہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اپنی بات منواتے ہوئے ناصرف اپنی اہمیت کو ثابت کرے بلکہ آئی سی سی کو ان ٹیموں کیخلاف تادیبی کارروائی کی سفارش بھی کرے تاکہ آنے والے وقت میں ویسٹ انڈیز اورآسٹریلیا کا دورہ پاکستان ممکن ہوسکے اور اگر ایسا نہ ہوا تو مستقبل قریب میں”جنٹلمین گیم”کہلایا جانے والا کھیل صرف مفادات کا کھیل قرار پائے گا۔

    ازقلم  

    وقاص امجد

    Twitter Account 

    @waqas_amjaad

  • ہم دونوں اردو میں بات کر رہے تھے  تحریر محمد تنویر

    ہم دونوں اردو میں بات کر رہے تھے تحریر محمد تنویر

    یہاں میرے دل کے بہت قریب موضوع کو متعارف کرانے کے لیے ایک داستان ہے۔ ایک خاندانی محفل کے دوران میں اپنے کزن کی پوتی کے ساتھ گپ شپ کر رہا تھا۔ جب اس نے مجھے اپنی دلچسپیوں کے بارے میں بتایا تو میں نے اسے قریب آنے کو کہا کیونکہ میں اسے سن نہیں سکتا تھا اور میں نے اپنے آلہ سماعت کی طرف اشارہ کیا جو میں نے کان میں لگایا ہوا تھا۔ اس نے سماعت کے چھوٹے آلے میں بڑی دلچسپی ظاہر کی اس کی جانچ کرنے سے پہلے اس کے بارے میں کئی سوالات پوچھے جس چیز نے مجھے متاثر کیا وہ اس کا تجسس اور سیکھنے کا شوقین تھا۔

    ہم دونوں اردو میں بات کر رہے تھے اس لیے نہیں کہ یہ قومی زبان ہے بلکہ اس لیے کہ یہ میری مادری زبان بھی ہے۔ اس عمر میں وہ واحد زبان تھی جو وہ سمجھتی تھی۔ اگر میں انگریزی میں بات کرتا تو ہم اتنے سنجیدہ موضوع پر ایسی بامعنی گفتگو نہیں کر سکتے تھے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ کیا وہ دلچسپی بھی لیتی یقینا نہیں کیونکہ ایک بچہ اس چیز میں دلچسپی رکھتا ہے جس میں وہ مصروف ہے یہ تب ہی ممکن ہے جب اس عمل میں استعمال ہونے والی زبان وہ ہو جو بچہ سمجھتا ہو۔

    یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے یہ فطرت کی ایک بنیادی حقیقت ہے جسے ہمارے اساتذہ اکثر نظر انداز کرتے ہیں۔ اس سے ہمارے بچوں کی تعلیم (جو دراصل خود حاصل کرنا ہے) اور ان کے سیکھنے کی ترغیب میں دلچسپی ختم ہو کررہ جاتی ہے۔ موجودہ نظام کے تحت بچے کو ایک استاد کی بات سننے کی ضرورت ہوتی ہے جو تمام باتیں ایک عجیب زبان میں کرتا ہے جسے بچہ ہمیشہ نہیں سمجھتا کچھ معاملات میں استاد بھی اس میں روانی نہیں رکھتا ہے بچے کا ان پٹ نہیں مانگا جاتا۔

    کیا کوئی طالب علم سے یہ توقع کرسکتا ہے کہ وہ تمام ممبو جمبو میں دلچسپی لے اپنے آپ سے لطف اندوز ہونے دو رسمی تعلیم دراصل پیدائش کے وقت شروع ہونے والے قدرتی طور پر سیکھنے کے عمل میں خلل ڈالتی ہے۔ اگر ہمارے معلم واقعی بچوں کی بھلائی چاپتے ہیں تو وہ قدرتی عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں اور بچے کو اس چیز سے محروم نہ کریں جو اسے خوشی اور تحفظ کا احساس دلاتی ہے وہ صرف اور صرف مادری ہے۔ عالمی تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق تمام ترقی یافتہ اور خوسحال ممالک کی ترقی کا راز بھی یہی ہے کہ ان ملکوں میں بنیادی تعلیم مادری زبان میں ہی فراہم کی جاتی ہے.

    SNC دوسری زبان کا مرکب ہمارے بچوں کو جذباتی اور عملی ضروریات کو پورا نہیں کرتا جو چیز مجھے سنگل قومی نصاب اور زبان کی پالیسی کے بارے میں انتہائی پریشان کن معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ پالیسی بچے کی ضروریات اور حساسیت کو مکمل
    طور پر نظر انداز کرتی ہے 3 ستمبر کو منعقد ہونے والی SNC کے بارے میں مختصر کانفرنس ان دنوں مسلسل ترقی پذیر SNC پر بحث کرنے والی سیریز کا تازہ ترین فورم ہے تمام شرکاء نے تعلیم میں حصہ لیا لیکن بچے کی سیکھنے کی ضروریات کے تناظر میں اس سے زیادہ بے خبر گروپ نہیں ہوسکتا ان میں سے ہر ایک کی بنیاد میں جانتا ہوں سے شروع ہوئی۔ اساتذہ کا بچے کی نفسیات کے بارے میں علم نہ ہونا بہت زیادہ جذباتی عدم تحفظ کا باعث بنتا ہے جو معاشرے میں بہت سی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔
    SNC نصاب میں کیے گئے انتخاب کے سیکورٹی پہلو پر توجہ نہیں دیتا یہ مسائل خاص طور پر زبان بچے کے سیکھنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔ "ذہنیت کی یکسانیت” کی خاطر SNC تنوع کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ تنقیدی سوچ کو ختم کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں روٹ لرننگ اور ثقافتی بیگانگی پیدا ہوتی ہے۔ سب سے بڑھ کر
    علمی ترقی سست ہو جاتی ہے۔ اگر تعلیم کا ذریعے کچھ سالوں کے لیے بچے کی اپنی مادری زبان میں ہوتا تو یہ یقینی بناتا کہ وہ ایک اچھی طرح سے ایڈجسٹ شخصیت کی نشوونما کرتی ہے اور زندگی بھر تعلیم سے لطف اندوز ہوتی ہے۔ یہ دنیا بھر میں ایک تسلیم شدہ اصول ہے۔ اس کے باوجود ایس این سی کے معماروں نے ایک عجیب و غریب پالیسی کا انتخاب کیا ہے جسے ابہام میں ڈوبے ہوئے گزشتہ سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے کے دوران خفیہ طور پر تبدیل کیا گیا ہے۔

    مختصراً، جیسا کہ میں اسے سمجھتا ہوں انگریزی اور اردو کو گریڈ 1 سے بطور مضامین پڑھایا جائے گا۔ عام علم سماجی علوم اور اسلامیات اردو میں ہوں گے جبکہ سائنس اور ریاضی انگریزی میں پڑھائی جائے گی۔

    یہ زبان کا مرکب ہمارے بچوں کی جذباتی ضروریات کو پورا نہیں کرتا۔ اس پر مسلط کی گئی زبان زیادہ تر معاملات میں اس کی مادری زبان نہیں ہے بلکہ نامعلوم الفاظ کا ‘ممبو جمبو’ ہے جو ایک لسانی رکاوٹ بن جاتا ہے جو اس کے بعد اسے پیچھے چھوڑ دے گا اور اسے ایک مصنوعی سیکھنے کا طریقہ اپنانے پر مجبور کرے گا جسے بچے کبھی پسند نہیں کریں گے۔

    ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان ایک کثیر لسانی ریاست ہے اور تعلیم کو بھی بہ زبانی ہونا پڑے گا یہ مادری زبان پر مبنی ہونا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ خطے سے خطے میں مختلف ہوتا ہے اور یہ کہ یکسانیت کے اصول کے خلاف عسکریت پسند ہمارے حکمران بہت زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں یقینا قومی زبان اردو اور انگریزی بھی تدریسی طور پر پڑھائی جائے گی مادری زبان میں تعلیم کیلئے احتیاط سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

    دس سال پہلے معروف ماہر لسانیات ہیویل کولمین نے برٹش کونسل کے لیے پاکستان کی تعلیم کے بارے میں ایک فالو اپ رپورٹ تیار کی تھی جس میں اس نے تجویز دی تھی کہ پاکستان کو مقامی زبانوں پر تحقیق کرنی چاہیے۔ اگر یہ کیا جاتا تو ہم SNC کے ساتھ گھومتے نہیں۔ ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی ارباب اختیار کوچاہیئے مادری زبان میں علم حصول یقینی بنائیں تاکہ نسل نو مستقبل میں دنیا دے کندھے سے کندھا ملا کر چل سکے۔