Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی جنگی جرائم   تحریر: محمد اختر

    مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی جنگی جرائم تحریر: محمد اختر

    قارئین کرام!  5 جنوری 1949 کو اقوام متحدہ کے کمیشن نے ایک قرارداد منظور کی جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری کی ضمانت دی گئی تاکہ کشمیری عوام اپنے حق خود ارادیت کو استعمال کر سکیں۔لیکن، تاحال اس کے برعکس گزشتہ ساتھ دہائیوں سےمقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام اب بھی اس پر عمل درآمد کے منتظر ہیں۔ کشمیریوں کو ہندوتوا نظریے کے زیر اثر بھارتی قابض افواج کے مظالم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس بابت ہر شخص آشنا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر دنیا کا سب سے زیادہ عسکری زدہ خطہ بن چُکا ہے، جہاں بھارتی قابض افواج انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیاں کر رہی ہیں، جو کہ اقوام متحدہ کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے۔جبکہ، ان خلاف ورزیوں کو بین الاقوامی میڈیا میں اور ساتھ ہی اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی 2018 اور 2019 میں دو رپورٹوں میں بھی درج کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں، پاکستان نے ایک بار پھر ایک جامع ڈوزیئر جاری کیاہے۔ جو عالمی انصاف اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔جموں و کشمیر کا وہ حصہ جو غیر قانونی طور پر بھارت کے قبضے میں ہے دنیا کے ان علاقوں میں سے ایک ہے جہاں کے باشندے کئی دہائیوں سے کھلی فضا میں سانس لینے کے لیے ترس رہے ہیں۔بھارت کی قابض افواج نے ان پر ایسے مظالم ڈھائے ہیں کہ ایک بار جب ان کی مکمل چھان بین کی جائے اور حقائق سامنے آجائیں تو مقبوضہ وادی کے مظلوم عوام کو ریاستی دہشت گردی کی بدترین شکل کا سامنا کرنا پڑے گا۔پاکستان نے عالمی برادری کو بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے بارہا ثبوت فراہم کیے ہیں، جس پر عالمی برادری اور بین الاقوامی تنظیموں نےمحض رسمی بیانات جاری کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی کئی دہائیاں پرانی قراردادیں بھی ہیں جن پر عمل درآمد ہونا باقی ہے۔ یہ سب دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ عالمی برادری تنازعہ کشمیر کو حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے ورنہ بھارت اتنا مضبوط نہیں ہے کہ پوری دنیا کے سامنے مضبوطی سے کھڑا ہو سکے۔دنیا کو بھارت کا اصل چہرہ دکھانے کے لیے پاکستان نے ایک بار پھر غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی جنگی جرائم کے ثبوت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں، پاکستان نے بڑے پیمانے پر جنگی جرائم، کشمیریوں کی نسل کشی، کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال، جبری گمشدگیوں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں،داعشکے پانچ تربیتی کیمپوں اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض افواج کے جعلی مقابلے کے ناقابلِ تردید ثبوت پیش کئے ہیں۔ڈوزیئر میں جعلی پرچم آپریشن اور خواتین کی بے حرمتی کے جامع ثبوت موجود ہیں۔131 صفحات پر مشتمل دستاویز تین باب پر مشتمل ہیں۔ پہلا باب جنگی جرائم سے متعلق ہے۔ دوسرا باب جعلی مقابلوں سے متعلق ہے، جبکہ تیسرا باب سلامتی کونسل کی قراردادوں اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی آبادی کو تبدیل کرنے کی ہندوستان کی کوششوں سے متعلق ہے۔ڈوزیئر میں 113 حوالہ جات ہیں، جن میں سے 26 بین الاقوامی میڈیا سے اور 41 بھارتی تھنک ٹینک سے لیے گئے ہیں۔ ان میں سے صرف 14 حوالہ جات پاکستان کے ہیں۔ یہ سب سے مستند دستاویز ہے جس میں 3432 مقدمات جنگی جرائم سے متعلق ہیں۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جب میں ڈوزیئر میں معلومات کا جائزہ لے رہا تھا تو یہ جان کر خوفزدہ ہوا کہ 8،652 اجتماعی قبریں بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر کے 6 اضلاع کے 89 دیہاتوں میں دریافت ہوئیں جن میں سے 154 قبروں میں 2، 2 افراد جبکہ 23 قبروں میں 17 سے زائد افراد کی لاشیں ہیں۔بھارتی فورسز نے 239 ٹارگٹ سیل بنائے ہیں۔ 2014 سے اب تک مقبوضہ وادی کے 30 ہزار افراد کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں 231 افراد کرنٹ لگا کر شہید کئے گئے ۔ جب سے بھارت میں ہندوتوا کی حکومت آئی ہے، بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ میڈیا کو پیش کیے گئے ڈوزیئر میں 1،128 افراد کی نشاندہی کی گئی جو ماورائے عدالت قتل ہوئے یا پیلٹ گنیں ان کے خلاف استعمال کی گئیں۔ڈوزیئر میں خواتین کی بے حرمتی اور ایک لاکھ سے زائد املاک کو جلایا گیا ہے جو کہ آتش زنی کے جرم میں آتی ہیں۔ اس میں پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے کیے گئے جعلی آپریشنز کا بھی ذکر ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کا نوٹس لینا چاہیے اور تحقیقات کرنی چاہیے۔ چونکہ،کشمیری عالمی انصاف اورانسانی حقوق کے علمبرداروں سے پوچھ رہے ہیں کہ اس سے زیادہ وحشیانہ اور کیا ہو سکتا ہے؟ عصمت دری کو بھارت نے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، لیکن اس کی سرزنش نہیں کی گئی۔یورپی ممالک اس پر دوہرے معیار پر عمل پیرا ہیں۔ یہاں تک کہ بھارت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت اس وقت دی گئی جب وہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا حسبِ معمول مرتکب ہو تا رہا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ عالمی برادری کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ آج حالات بدل چکے ہیں، بھارت کے جرائم پر پردہ ڈالنے والا کوئی نہیں ہے۔ خیال رہے، مقبوضہ وادی اور اس کے مظلوم عوام پر بھارت کی قابض افواج کے مظالم کے ٹھوس شواہد اور ثبوت پر مبنی یہ پہلا ڈوزیئر نہیں ہے، بلکہ پاکستان نے بارہا ثبوت فراہم کیے ہیں کہ بھارت مسلسل ریاستی دہشت گردی کر رہا ہے۔غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کو گزشتہ 777 دنوں سے محصور کر دیا گیا ہے اور مظلوم کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے لیکن دنیا اس پر اس طرح توجہ نہیں دے رہی جس طرح اسے دینی چاہیے۔عالمی برادری کو اس حقیقت کو سنجیدگی سے لینا چاہیے کہ پاکستان اور بھارت دونوں  جوہری ہتھیاروں سے لیس ممالک ہیں اور بھارت کی پالیسیاں نہ صرف خطے بلکہ پورے خطے کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔بھارت اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے تحت خطے میں جو ماحولپیدا کر رہارہا ہے اس سے حالات بہتر نہیں ہوں گے۔ یہ صرف بدتر ہوگا اور اس سے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کو نقصان ہوگا۔

    @MAkhter_

  • امریکہ بہادر اور مکافاتِ عمل   تحریر: یاسرشہزادتنولی

    امریکہ بہادر اور مکافاتِ عمل  تحریر: یاسرشہزادتنولی

    ۔

    طاقت کے نشے میں چور امریکہ بہادر جس نے دنیا میں ظلم بربریت کے وہ شرمناک کھیل کھیلے کے معصوم انسانیت نے سر شرم سے جھکا لئے ۔ پوری دنیا پر آقا کی صورت میں مسلط ہونے کی خواہش میں امریکہ سامراج انسانیت کی ہر اس حد سے گزر ا ہے کہ جہاں دنیا کی ہر پستی اور ذلالت بہت پیچھے رہ جاتی ہے۔ کبھی امریکہ بہادر نے ”ویت نام’ میں خون کی ہولی کھیلی تو کبھی ہیرو شیمااور ناگا ساکی  پر ایٹمی آگ برسا کر بے گناہ انسانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا۔ جاپان کی لاکھوں بے گناہ عوام کو موت کے گھاٹ اتار کر بھی امریکی درندوں کی خونخوار آنکھیں مزید انسانوں کے خون کی پیاسی ہی رہیں۔ اور اسی تناظر مین عراق کے صدر صدام حسین کو بنیاد بنا کر اندھا دُھند عراق پر یلغار کر دی امریکہ کو مسلمانوں سے تو خاص کر خدا واسطے کا بیر ہے عراق میں امریکہ نے نہتی عوام بوڑھوں، بچوں اور خواتین پر وحشی پن اور درندگی کی وہ انسانیت سوز تاریخ رقم کی جسے دیکھ کر لوگ چنگیزی دور کے مظالم بھی بھو ل گئے خبر کچھ یوں ہے کہ امریکہ کے کم وبیش 40ہزار فوجیوں نے یہ کہتے ہوئے استعفے دے دیئے ہیں کہ امریکہ کے حکمرانوں نے اپنے اقتدار کی خاطر عراق میں ہمارے ہاتھوں لاکھوں بے گناہ مسلمانوں کو مروایا ہے۔ عراق کے مسلمان بالکل بے گناہ تھے اور ہم نے ناحق ان معصوم لوگوں کو خون بہایا ہے امریکی استعفیٰ دینے والے فوجیوںنے مزید کہا کہ ہمارا ضمیر ہمیں بری طرح بے چین رکھتا ہے کہ ہم نے کتنے ہی بچوں، بوڑھوں اور خواتین کو بے دردی سے ہلاک کیا ہے ان معصوم عراقیوں کا کوئی قصور نہ تھا وہ ہم سے لڑنے نہیں آئے تھے بلکہ ہم خود ان سے لڑنے ان کے ملک گے تھے ہم فوجیوں کو یہ باور کرایا گیا تھا تم حق و سچ کی وہ جنگ لڑنے جا رہے ہو جس میں تمہاری اور تمہارے مذہب کی بقا ہے لیکن آج ہمیں اس خوفناک حقیقت کا ادراک ہو ا ہے کہ یہ جنگ نہ ہی ہمارے مذہب کی تھی اور نہ ہی ہماری بقاء کی تھی بلکہ یہ لڑائی جارج بُش اور کلنٹن اپنے اقتدار کیلئے اور امریکی عوام کے سامنے ہیرو بننے کیلئے لڑ رہے تھے۔ اور یہی برسرا قتدار خون خوار ٹولہ اپنے اقتدار کے محل ان بے گناہ مسلمانوں کے خون سے تعمیر کرتا رہا۔ اور ہر امریکی برسرِ اقتدار ٹولے نے بے گناہ انسانیت کے خون خرابے بڑھ چڑھ کر کردار ادا کیا ۔ آج ہم اپنے ہی ضمیر کے مجرم ہیں ہمارا ضمیر ہم سے بار بار یہ سوال کر رہا ہے کہ لاکھوں نہتے اور بے گناہ انسانوں کو قتل کرکے تم نے کون سا کمال کیا ہے۔ ان معصوموں کے خون سے تم نے اپنے ہاتھوں کو رنگین کرکے کبھی ایک ظالم اور کبھی دوسرے درندے کے اقتدار کو مضبوط کیا ہے ۔ یہ کہتے ہوئے امریکی فوجیوں نے حکومت سے ملنے والے ”گولڈ میڈل” اٹھا کر دور پھینک دیئے گولڈ میڈل پھینکتے ہوئے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے امریکی فوجی جوتے اٹھا اٹھا کر امریکہ کے منہ پر مار رہے ہوں استعفے دینے والے فوجیوں نے چیخ چیخ کر یہ اعلان کیا کہ ہم عراقی مسلمانوں کا ساتھ دیں گے ہم ان بے گناہ مسلمانوں کے خون کا ہر قیمت پر ازالہ کریں گے جو ہمارے ہاتھوں ناحق مٹی کی خوراک بنے ہیں۔ خداوندتعالیٰ کی ذات بہت عظیم ہے ، امریکہ ہر جگہ سے ہمیشہ ذلیل خوار ہو کے ہی بھاگا ہے۔ اس کی تازہ مثال افغانستان کی ہمارے سامنے ہے ۔ بس میں صرف اتنا کہوں گا کہ امریکہ کے رہنے والے 40ہزار امریکی فوجی جب استعفے دے کر امریکہ کے منہ پر زور دار تھپڑ رسید کر سکتے ہیں توہم دنیا بھر کے مسلمان خدا اور خدا کے رسول کے نام پر یکجاء ہو کر مسلمانوں کی طرف اٹھنے والے ہر ہاتھ کو مروڑ کر پھینکنے کی طاق کیوں نہیں رکھتے۔ دنیا کے تمام مسلامونں کو انفرادی فائدے کا پسِ پشت ڈال کر اجتماعی سوچ کو اپنا کر عصرِ حاضر کے تمام چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ایک متفق اور مستحکم قوم بننا ہوگا۔ اور اس میں ہم سب کی بقاہے۔

    https://twitter.com/YST_007?s=09

  • عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی تحریر : وسیم سید 

    عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی تحریر : وسیم سید 

    ‏توَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى (39)

    ‏اور انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہی 

    ‏اللہ تعالی نے انسان کو زمیں پر اپنا نائب اور اشرف المخلوقات بنا کر بھیجا ہے ۔ ہمیں عقل سے نوازا اور بے تحاشہ صلاحیتیں دیں ۔ اگر غور کیا جائے تو صرف انسان ہی نہی ہر ذی روح اپنے survival کے لیے کوشش کرتا ہے ۔ انسان ہو یا حیوان چرند ، پرند ہر کوئی اپنے سر چھپانےکے لیے چھت بناتا اور اور روزی کی تلاش میں نکلتا ہے ۔ خود کو موسموں کی سردی گرمی سے بچانا یہ سب survival کی کوششیں ہی ہیں ۔ 

    ‏تو پھر سوچیں صرف انسان ہی اشرف المخلوقات کیوں؟ 

    ‏اس لیے کہ انسان کو اللہ نے عقل سے نوازا ہے اور یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ اپنے لیے غلط اور سہی کا تعین کر سکے ۔ اپنے نفس کو اپنے قابو میں رکھتے ہوئے اپنے لیے کوشش کرنے والا ہی اشرف المحلوقات ہے 

    اللہ تعالی نے انسان کو زمین پر اپنا نائب بنا کر بھیجا ہے اور ہمیں اس ذات نے بے مناہ صلاحیتوں سے مالا مال کیا ہے ۔ عقل دی تاکہ اپنے لیے صحیع راستے کا انتحاب کر سکیں اور کوشش کی خوبی سے نوازا تاکہ اس کے دی گئی نعمتوں میں اپنے حصے کی نعمتین کوشش سے حاصل کریں ۔ 

    اللہ نے ہمیں ہمت اسقلال بردباری اور عرفان سے نوازا تاکہ اس کوشش کہ راستے  میں آنے والی پریشانیوں کا مقابلہ ہمت اور حوصلے سے کر سکیں ۔ اللہ نے ہمارے حود متعین کی ہیں ان کے اندر رہتے ہوۓ ہم کوشش سے بہت کُچھ کر سکتے ہیں ۔ او ر ان حدود سے آگے کچھ بھی نہی  ۔ میرے مطابق غریبی اور امیری بھی الل نے انسان کے ہاتھ میں دی ہے ۔ انسان کے ہاتھ میں ہے جس نے کوشش کی اور عمل کیا اس نے ترقی کی راہ کو پا لیا ۔ 

     علامہ اقبال کاا ایک شعر ہے۔۔۔” عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی، یہ خاکی اپنی فطرت میں نا نوری ہے نا ناری ہے”۔ اس شعر میں انسان کی زندگی کو مکمل طور پر بیان کردیا گیا ہے کہ انسان اگر اچھے عمل کرے گا تو کامیابی اُس کے قدم چومے گی اور اگر انسان غلط راہ پر گامزن رہا تو زندگی بھی کانٹوں بھری سیج ہوگی اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ یہ زِندگی کیسے گزارتا ہے۔۔۔۔ بےشک زندگی اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے، انسان اس چیز کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ زندگی شروع کہاں سے ہوئی اور آخرت کی زندگی کیا ہے، ایک مسلمان کا عقیدہ ہے کہ اصل زندگی مرنے کے بعد شروع ہوتی ہے، تو پھر سوال یہ ہے کہ اس وقت جو ہم زندگی گزار رہے ہیں وہ کیا ہے۔۔۔ کیا رنگوں کے ساتھ بھری زندگی یہ ہے—-؟؟؟ یہ پھر رنگوں سے مزین زندگی مرنے کے بعد والی ہے۔۔۔؟؟

    زندگی بیشک رنگوں بھری ہے اب یہ انسان پر منحصر کرتا ہے وہ اس میں کس طرح کے رنگ بھرتا ہے۔۔۔ قوس و قزح کی مانند خوبصورت رنگ جو آنکھوں کو ٹھنڈک دیں یا پھر سیاہ تاریکی میں ڈوبے رنگ جن سے وحشت ہو۔۔؟

    اگر ہم کو اپنی اصل زندگی میں رنگ بھرنے ہیں تو ہمیں اس زندگی میں بہت خوبصورت رنگوں میں ڈوبنے کی ضرورت ہے۔۔۔ اب یہ کیسے ہو؟ یہ ایسے ممکن ہے کہ اللہ تعالی کے بنائے ہوئے اصولوں پر عمل پیرا ہونا اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر پر عمل کرنا ۔۔۔۔۔ جب انسان کو یہ سمجھ آجائے گا کہ یہ دُنیا عارضی قیام گاہ ہے اور اصل دُنیا اور زندگی اس کے بعد کی ہے تو اس دنیا سے رغبت خودبخود ختم ہوجاتی ہے لیکن اس کام مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اس دنیا میں موجود ہم اپنے حقوق و فرائض سے بے خبر ہوجائیں ہرگز نہیں ۔۔۔اس چیز کی اسلام میں سختی سے معمانیت ہے۔

    ‏اکثر یہ بات سُننے کو ملتی ہے اگر مقدر میں ہوا تو مل جائے گا ۔ بے شک یہ بات درست ہے کہ ہماری زندگیوں میں قسمت اور تقدیر کا بہت بڑا کردار ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کہ ہم قسمت کا انتظار نہی کر سکتے کہ وہ آئے اور ہمارے حلق میں نوالہ ڈالے ۔ اگر ماضی پہ ایک نظر دوڑائیں تو تمام کامیاب لوگوں کی ترقی کا زینہ عمل ، مسلسل جد وجہد اور کوشش میں پنہاں ملے گا ۔ یہ کہنا غلط نہی ہو گا کہ قسمت انسان خود بناتا ہے ن۔ نیک ارادہ ، صحیع سمت ، دیانت داری اور لگن کے ذریعے  وہ اپنی منزل تک پُہنچتا ہے اور اس میں خدا بھی اس کا حامی و ناصر ہوتا ہے ۔ 

    ‏میرا ذاتی تجربہ بھی ہے کہ انسان کوشش سے وہ سب حاصل کر لیتا ہے جس کا اس نے خواب دیکھا ہو ۔ انگریزی کا ایک محاورہ ہے 

    ‏”Nothinh is impossible under this blue sky ” 

    ‏اور اگر کوشش کی جائے تو ہے بھی ایسا ہے ۔ 

    ‏اس تحریر کا مقصد یہ بات اپنی نوجوان نسل تک پُہنچانا ہے کہ اسقلال اور ہمت سے وہ اپنے لیے ستاروں سے آگے کے جہاں کے راہ بھی ہموار کر سکتے ہین۔ عزت ، شہرت ۔ شان و شوکت سب کچھ جہد مسلسل اور عمل پیہم سے حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ زندگی میں مشکلات کا آنا معمول کی بات ہے لیکن ان مشکلات اے گھبرا کہ خود پہ ترس کھانا اور کود بیچارہ سمجھ لینا الل کی سی گئی اس خوبصورت نعمت کی تذلیل ہے ۔ 

    ‏جیسا کہ مشہور شاعر ظفر علی خان نے فرمایا 

    ‏خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی 

    ‏نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالتبدلنے کا 

    ‏ ⁦‪@S_paswal‬⁩

  • اخلاقی کمزوری تحریر:رضوان۔

    اخلاقی کمزوری تحریر:رضوان۔

    اخلاقی
    پاکستان میں اخلاقی اقدار دن بدن کمزور ہو رہی ہیں  یہ ہماری گھریلو ترتیب کا نہ ہونا ہے’ ہمیں گھروں میں اچھے اخلاق سکھائیں جائیں گے تو ہم  دوسرے لوگ کا احترام کریں گے اخلاقی گراوٹ کسی بھی قوم کی تباہی کا باعثِ خیمہ ہے ہمارے اخلاق کا کمزور ہو جانا ہمارے ایمان کی کمزوری ہے ہم بحیثیت مسلمان دوسرے لوگوں کی عزت و توقیر کا خیال رکھیں ان کی زاتی زندگی میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے بد قسمتی سے اخلاق گراوٹ کی کوئی قانونی سزائیں نہیں اگر کچھ سزائیں ہیں بھی صحیح تو ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا ہے اگر کسی کی کوئی بے عزتی کرتا ہے تو اس کو شاباش دی جاتی ہے یہ باعث شرمندگی ہے تو پھر اس کے جواب میں بھی جواب اس سے زیادہ گندی زبان استعمال کرکے دیا جاتاہے  بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ماضی میں بھی اور موجود دور میں بھی خواتین بچوں سے جنسی زیادتیاں ہوتی تھی ان کی سزائیں جرگہ طے کرتے تھے کبھی کسی کے جرم میں کوئی اور سزائیں کے طور پر گندے عمل کی بھینٹ چڑھ جاتے تھے مثلاً جب کوئی مرد کسی عورت سے زیادتی کرتا تو جرگہ میں زیادتی کرنے والے شخص کی عزیز کو جرگہ زیادتی ہونے والی عورت کے بھائی سے شادی (ونی) کر دیتے تھے  یہ بھی کسی کی بغیر رضا مندی ظاہر کئے شادی کر دی جاتی تھی  پھر دیہاتوں میں امیر وڈیروں کے جرگہ میں کچھ رقم زیادتی ہونے والا کو دی جاتی تھیں یہ حقیقت تھی  اب اگر آن جیسے واقعات کو قانون کے شکنجے میں لایا جاتا ہوتا تو کسی زینب کو قتل نہ کیا گیا ہوتا موٹر ویز پر خاتون کی عزت کو نقصان نہ پہنچا ہوتا  اب ملا میں ایسے گندے دھندوں کی ویڈیو بنائی جاتیں ہیں لیکن ان میں سے اکثر Fake ہوتی ہے جو بلیک میل کرنے یا دوسرے کی عزت اچھالنے کا سستا ترین طریقہ ہے’ مدارس میں ویڈیو آئے تو پورے مدارس کو بدنام کرنے کے لیے پراپیگنڈا کیا گیا عزیر کا انفرادی فعل تھا اس میں مدارس کا کوئی کردار نہیں ہے  اگر کسی کالج یونیورسٹی کے شعبہ میں غیر اخلاقی سکینڈل ہوتا ہے تو انفرادی ہوتا ہے ادارے کا کردار نہیں نہ ہی سکول کالج یونیورسٹی مدرسے میں غیر اخلاقی تربیت دی جاتی ہے یہاں تو تعلیم تربیت اخلاقی تربیت کے ساتھ زہن کی تربیت خدمت کی جاتی ہے کسی یونیورسٹی میں سیکنڈل کا کہہ کر سینکڑوں آنے والی لڑکیوں کو روکا جائے گا مدرسے میں جانے سے روکا جائے گا  پھر مزید جہالت کا بازار گرم ہوگا  اگر کسی معزز خاتون ممبر اسمبلی کی عزت اچھال رہے ہیں تو جو بے گناہ کی عزت اچھال رہے ہو اللّہ تعالیٰ تمہیں معاف کرے گا  اگر مان لیا جائے ممبر اسمبلی سابق گورنر یا کسی اور کی ویڈیوز کو ایشو بنانا چاہتے ہیں تہمیں کیا حاصل ہوگا ہم لوگ عزت دار لوگوں کی عزت بلاوجہ اچھال رہے ہیں یہ ہماری بداخلاقی ناقص تربیت کا نتیجہ ہے ویڈیو پر معزز شخص نے تردید بھی کی اس کو جھوٹ پر مبنی ان کے خلاف اوچھا ہتھکنڈا کہا اگر کوئی شخص بدکار ہے’ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ تم ان کی رہی سہی عزت بھی خاک میں مل دو برے لوگوں کو بھی پردہ رکھنا اچھے اخلاق والے لوگوں کا کام ہوتا ہے پر منگھڑت تہمات نہیں لگانی چاہیے ہم لوگ بھی عزت دار تب ہونگے جب دوسروں کی عزت و تکریم کا خیال رکھیں گے اگر کوئی برا ہے’ تو برا سہی لیکن اس کی برائی کا پرچار کرنا ہرگز آسلام کی تعلیمات میں نہیں اسلام دوسروں کے راز دل میں رکھنے کی تلقین کرتا ہے ہمیں بس موقع چاہیے کسی کی بھی سالوں کی بنائی ہوئی عزت منٹوں میں خاک میں مل دیتے ہیں لیکن یاد رکھو عزت و زلت بے شک اللّہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے ذلیل کراتا ہے 

    Twitter @RizwanANA97

  • عورت کی عظمت اورمعاشرہ تحریر: حمیرا الیاس

    ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں معاشرتی رویوں اور اقدار میں بہت فرق ہے۔ ہماری اسلامی اقدار کے مطابق عورت کا جو مرتبہ بیان کیا گیا ہے وہ بیت ارفع و اعلی، جس میں عورت کو کسی بھی گھرانے کا مرکزی کردار گردانا گیا ہے۔ ایک بیٹی، جو گھر کی رحمت کے طور پر گھر میں اترتی اور پھر گھر بھر کی رونق اور آنکھوں کا تارا بن جاتی۔ بیٹی کے طور باپ کے لئے دل کا سکون اور طراوت۔ ماں کے لئے راحت، اور دکھ درد کی دوست۔ یہی بیٹی اگر بڑی بہن ہے تو تمام چھوٹے بہن بھائیوں کو اپنے محبت بھرے آنچل میں سمو لیتی ہے، ماں بن کر انہیں پیار دینے والی بڑی بہن بسااوقات اپنی تمام زندگی کی خوشیاں تک اپنے بہن بھائیوں کی خاطر اپنے اوپر حرام کر لیتی۔
    اگر چھوٹی بہن ہو تو تمام بھائیوں کی آنکھوں کاتارا، شرارتوں سے ہر وقت کھکھلایثیں بکھیرتی جگمگ کرتی سارے گھر میں قندیلیں بھارتی پھرتی۔ یہ بہن یا بیٹی کے جیسے جیسے رخصتی کے دن قریب آنے لگتے تو والدین کی آنکھوں کے گوشے بھیگنے لگتے، اک انجانے خوف سے کہ آگے کیا ہوگا؟ کیا اگلے گھر میں ہماری بیٹی اتنی ہی خوش و خرم رہ پائے گی جتنا ہم نے رکھا؟ اس خوف پر بات سے قطع نظر، بیٹیوں کے فرض سے سبکدوش ہونے کا سکون ان کے لئے باعث اطمینان رہتا۔ رخصت کرتے بھائیوں کے دل بھی پیاری بہنا کے جانے کا سوچ کر دھک دھک کر رہے ہوتے۔ اور یوں وہ بیٹی جو رحمت بنکر باپ کے آنگن میں اتری ہوتی وہ کسی کے گھر کی ملکہ بن کر رخصت ہوتی، جہاں دیدہ و دل فراش راہ کئے اس کا ہم سفراس کے لئے زندگی کی خوشیاں کشیدنے کا عزم دل میں بھر کر اسے خوش آمدید کرنے کو تیار ہوتا۔ اور یوں بیٹی سے پھر ماں بننے تک کے سفر میں عورت مکمل اہمیت کے احساس سے گزر کر کندن بن جاتی۔
    اس تمام سفر میں عورت کا ہر روپ معاشرے میں عظمت کی بلندیوں پر دکھائی دیتا۔ لیکن اس مقام کا خود کو اہل ثابت کرنے کے لئے عورت کو بہت سی قربانیاں دینا پڑتی ہیں،ہر وہ عورت جو قربانیوں کی بھٹی میں جل کر نکل جاتی اس کے لئے یہ زندگی ہی مثل جنت بننے لگتی۔ عورت کی عظمت ہی تو ہے کہ اسے مرد کی سکینت کا باعث کہا گیا، بارہا قرآن حکیم میں مرد کے لئے احکامات کے ہمراہ مومن خواتین کو مخاطب کیا گیا، عورت کے لئے خاص طور حکمت والے قرآن میں ایک مکمل سورۃ اتاری گئی۔ تو اسلام نے تو عورت کی تعظیم میں کسر نہیں چھوڑی، یہ اسلام نے عورت کو عزت وتکریم ہی بخشی تو اسے معاشی فکر سے آزاد کردیا، اسکے لئے امت محمدیہ کی تربیت جیسا عظیم کام سونپا، تربیت کامطلب سمجھ رہے؟ اس کا مطلب آنے والی تمام نسل انسانی کے لئے راستے کی روشنی کے اسباب پیدا کرنا،یہ چھوٹا کام تو نہیں۔ معاشرتی اصولوں میں سب سے خوبصورت اصول، عورت کو تحفظ کی تہوں میں رکھ دیا گیا، اسکا نان نفقہ شادی سے پہلے باپ کے ذمہ، یا بھائی کی ذمہ داری، بعد از شادی یہ سب شوہر کو بہم پہنچانا، اور پھر بیٹے کے ذمہ۔ اسی پر اکتفا نہیں، اسے باپ، بھائی، شوہر اور بیٹا سب کی جائیداد میں حصہ دیا گیا، کیا یہ اسکے تحفظ کے لئے نہیں؟؟
    تو نتیجہ یہ اخذ ہوا کہ اسلام عورت کو اس مقام پرپہنچاتا کہ جس پر پہنچنے کی کوئی بھی انسان آرزو کرسکتا، تو ایسا کیا ہے کہ عورت تشنہ ہمیں اپنے معاشرہ میں مکمل اندازمیں وہ عظمت نساء نظر نہیں آتی؟؟
    اولین وجوہات میں سے ایک اپنے مقام سے آگاہی کا فقدان ہے جو عورت کو بے چین کرتا ہے، اور اس کے بعد ایک ایسا شیطانی چکر شروع ہوتا ہے جو عورت کو پستی کی گہرائیوں میں لے جاتا، تو اپنے خالق سے ربط کا فقدان سب سے پہلی غلطی ہے جہاں سے عورت اپنے مقام سے گرتی۔ اس کے بعد جب ایک ماں کے رتبہ پر فائز ہو کر معاشرے کی تعمیر کے کام سے انکار کرتی تو دراصل ان تمام محبتوں سے دست بردار ہوجاتی جو بہترین خاکق، اللہ رب العزت نے اس کے ساتھ وابستہ کردی تھیں۔ عورت مرد کے مقام کو پانے کی کوشش میں ایک بلند مرتبہ کو ٹھکرا کر پھر بے سکونی کی وادی میں گم ہوجاتی ہے۔
    جب تک عورت اپنے مقام پر مطمئن و شکرگزار نہیں ہوتی وہ معاشرے میں اس عظمت پر نہیں پہنچ پائے گی کو اسلام نے اس کے نصیب میں لکھ دی ہے۔
    آج کی عورت کی بے سکونی کی وجہ وہ خود ہے، وہ صرف attitude of gratitudeسیکھ لے،اور اس کی تعلیم اپنے زیر تربیت اولاد کو دے دے تو معافی میں بڑھتی بے راہروی اور پستی کردار پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ غرضیکہ عورت کی عظمت اس کے کردار کی پختگی میں پوشیدہ ہے۔ اللہ کرے کہ لبرلزم کے لبادہ میں ملبوس عورت اپنا اصل مقام پہچان کر اسی عظمت کو پا لے جو امہات المومنین کا خاصہ رہی۔

  • چائلڈ لیبر کا بڑھتا ہوا رجحان تحریر:ثمینہ اخلاق

    چائلڈ لیبر کا بڑھتا ہوا رجحان تحریر:ثمینہ اخلاق


    آج پاکستان کو بہت سے سماجی مسائل کا سامنا ہے لیکن کچھ پاکستان میں بہت عام ہیں جو ہمارے معاشرے اور پاکستان کی معیشت کو بھی تباہ کر رہے ہیں۔ جیسا کہ کرپشن ، غربت ، ناخواندگی ، آبادی میں اضافہ ، دہشت گردی ، اسمگلنگ ، منشیات کا استعمال ، وغیرہ
    کرپشن کے علاوہ اور بھی بڑے مسائل ہیں جن پر ہماری توجہ کی ضرورت ہے۔ چائلڈ لیبر ہمارے معاشرے کی بدترین بیماریوں میں سے ایک ہے۔ جو دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔اس معاشرے کے ایک لمحہ فکریہ ہے ۔

    بچے کائنات کے وہ پھول ہیں جس سے کائنات کا حسن قائم ہے۔ لیکن بدقسمتی سے یہ پھول گلیوں، سڑکوں کی دھول بن گئے ہیں۔ چائلڈ لیبر نے ان معصوم پھولوں کو روند دیا ہے
    بچے بلاشبہ قوم کے مستقبل کے معمار ہیں۔ ملک کا مستقبل موجودہ بچوں پر منحصر ہے۔ اگر بچوں کو صحیح طریقے سے تیار نہیں کیا گیا تو ملک کا مستقبل برباد ہو جائے گا۔ یہ بچے سکول جانے اور کھیلنے کی عمر میں اپنے خاندانوں کی بقاء اور بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مزدور کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

    چائلڈ لیبر پوری دنیا میں ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے لیکن پاکستان کی طرح تیسری دنیا کے ممالک میں یہ خطرناک سطح تک بڑھ گیا ہے۔ یہ بین الاقوامی مسئلہ ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کیونکہ بچوں کی ایک بڑی تعداد کام کرنے پر مجبور ہے جو کہ مکمل طور پر قانون کے خلاف ہے۔ یونیسیف کے مطابق دنیا بھر میں 5 سے 15 سال کے تقریبا 158 ملین بچے چائلڈ لیبر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
    پاکستان ان دس ممالک میں شامل ہے جہاں سب سے زیادہ بچوں سے جبری مشقت لی جاتی ہے-پاکستان میں 5-15 سے کم عمر کے بچے 40 ملین سے زیادہ ہیں۔ تحقیق کے مطابق 2.7 ملین بچے زراعت کے شعبے میں کام کر رہے ہیں۔ ان میں سے 73 فیصد لڑکے اور باقی لڑکیاں ہیں۔
    چائلڈ لیبر کی ایک بنیادی وجہ غربت ہے جو ان بچوں کو مزدوروں کی طرح کام کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ جو بچے تعلیم حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں وہ سیکھنے کے بجائے کمانے کے پابند ہیں تاکہ ان کے خاندان کے تمام افراد کا پیٹ بھر جائے۔ یہ بچے دن بھر پیسے کمانے کی کوشش کرتے ہیں، اس کے باوجود انہیں تھوڑی سی رقم ملتی ہے جو بمشکل اپنے خاندان کے اخراجات کو پورا کرتی ہے۔
    ایک اور اہم وجہ بڑھتی ہوئی بے روزگاری ہے جس نے کئی خاندانوں کو خط غربت سے نیچے گھسیٹا ہے۔ بیروزگاری کی وجہ سے والدین کی یہ مجبوری بن جاتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو فیکٹریوں ، دوکانوں ، یہاں تک کہ سڑکوں پر اشیاء فروخت کرنے پر مجبور کریں۔ چائلڈ لیبر کے بہت سے معاملات ہیں جہاں بچے کو قرض کی ادائیگی کے خلاف کام کرنا پڑتا ہے جو اس کے والد نے لیا تھا

    دیہات میں کم عمری کی شادیوں کا رجحان ہے اور بچوں کی بڑی تعداد ہے۔ بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے وہ اپنے بچوں کو کام کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ لہذا ان کے پاس کام کرنے اور اپنے خاندانوں کی کفالت کے لیے تھوڑی سی رقم کمانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ وہ بچوں کو اپنی آمدنی کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور وہ انھیں کام کرنے پر مجبور کرتے ہیں جیسے گاڑیاں کھینچنا ، مشینیں مرمت کرنا ، فیکٹریوں میں کام کرنا ، سامان بیچنا وغیرہ۔
    بچے اپنے والدین کے نقش قدم پر چلنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ انہیں اپنے بچپن سے اس پیشے میں تربیت دی جاتی ہے جس پر خاندان صدیوں سے چل رہا ہے۔ اس لیے وہ پرائمری تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ اس کی وجہ سے مزدوروں ، کاریگروں وغیرہ کے بچے بہت چھوٹی عمر میں اپنے والدین کے ساتھ کام کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ بہت سے ترقی پذیر ممالک جیسے پاکستان ، بھارت ، بنگلہ دیش کو ناخواندگی کے مسئلے کا سامنا ہے۔ نچلے طبقے کے لوگ زیادہ تر ان پڑھ ہیں ، اس لیے ان پڑھ والدین کے لیے اپنے بچوں کے لیے تعلیم کی اہمیت کو سمجھنا مشکل ہے۔
    ان میں سے بیشتر والدین صرف اس وجہ سے ایسا کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ ان کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے
    بدقسمتی سے پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں چائلڈ لیبر اپنے عروج پر ہے۔ چائلڈ لیبر کے فروغ کی ایک اور اہم وجہ چائلڈ لیبر کو روکنے کے قوانین پر حکومت کی ناکامی ہے جس کی وجہ سے چائلڈ لیبر میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے. چائلڈ لیبر ایک بچے کو تعلیم کے بنیادی حق سے محروم کرتی ہے۔ ہمیں شعور بیدار کرنا ہوگا اور والدین کو اپنے بچوں کی تعلیم پر توجہ دینی چاہیے۔

    چائلڈ لیبر کا مسئلہ قوم کے سامنے ایک چیلنج ہے۔ حکومت اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مختلف حامی اقدامات کر رہی ہے۔ چائلڈ لیبر بنیادی طور پر ایک سماجی و معاشی مسئلہ ہے جو کہ غربت اور ناخواندگی سے جڑا ہوا ہے ، اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے پورے معاشرے کی مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ بچوں سے جبری مشقت نہ لیں اور جتنا ممکن ہو اُنکی مدد کریں
    چائلڈ لیبر کی معاشرتی برائی کو قابو میں لایا جا سکتا ہے ، ۔ ہر شہری کو اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہونا چاہیے اور چائلڈ لیبر کو روکنے کے لیے اصلاحی اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ ہم ایک بہتر اور ترقی یافتہ پاکستان بنا سکیں۔ چائلڈ لیبر کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے اگر حکومت عوام کے تعاون سے مؤثر طریقے سے کام کرتی رہے تو انشا اللہ پاکستان ایک دن اس معاشرتی ناسور سے چھٹکارا حاصل کر لے گا

    ‎@SmPTI31

  • سلام کی اہمیت   تحریر: تیمور خان

    سلام کی اہمیت  تحریر: تیمور خان

    @ImTaimurKhan

    اسلام کا نظامِ حیات یہ سراسر امن اور محبت پہ مبنی ہیں، اسلام یہ چاہتا ہے کہ معاشرے میں امن ہو معاشرے میں افراد کے درمیان باہمی محبت ہو آپس میں اتفاق ہو الفت ہو، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کسی معاشرے میں امن ہوتا ہے یا آپس میں محبت کے تعلقات ہوں آپس میں ایک دوسرے کے لئے خیر خواہی کا جذبہ ہوتا ہے، تو اس معاشرے میں زندگی گزارنا، رزق حلال کمانا اور تمام امور سرانجام دینا نہایت ہی آسان ہو جاتا ہے، اس کے برعکس ایک معاشرے میں امن نہ ہو، آپس میں ایک دوسرے کے لئے محبت نہ ہو ایک دوسرے کے لئے خیر خواہی کا جذبہ نہ ہو تو نہ وہاں کاروبار چل سکتا ہے نہ وہاں معاشرتی مسائل حل ہو سکتے ہیں، بلکہ بد عمنی کی وجہ سے اور محبت اور بھائی چارہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ معاشرہ ذوال کا شکار ہو جاتا ہے،

    اسی لئے جہاں اسلام نے ہمیں دیگر تعلیمات عطا کی ہیں وہاں معاشرے کے افراد کے لئے آپس میں محبت کے لئے ایک علاقے کے لوگ، ایک محلے کے لوگ، ایک چت کے نیچے رہنے والے لوگ وہ جب آپس میں بعض چھوٹے چھوٹے چیزوں کا خیال رکھیں گے، تب جا کے ایک محلے کی سطح پہ، ایک علاقے کی سطح پہ اور ایک معاشرے کی سطح پہ امن اور محبت قائم ہوگا،

    سرکارِ دوعالم ﷺ نے اسی امن کو قائم کرنے کے لئے اور پیدا کرنے کے لئے ارشاد فرمایا٫٫ آپ نے فرمایا ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پہ 6 حقوق ہیں، اور یہ وہ حقوق ہیں کہ جو حقوق واجبہ نہیں ہے، ان حقوق کا درجہ مستحب اور نفل کا ہے، لیکن اگر ان چھوٹے چھوٹے حقوق کو ادا کیا جائے تو یقیناً پھر بڑے حقوق کو ادا کرنا آسان ہو جاتا ہے، اسی لئے سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان کے مسلمان پہ 6 حقوق ہیں٫٫   1 جب بھی ایک مسلمان کسی دوسرے مسلمان کے سامنے آئے تو پہلے اس کو سلام کرے، تو یہ سلام کرنا ایک مسلمان کا۔دوسرے مسلمان پہ حق ہے، ہمارے شعریت کی تعلیمات کا سلام کے متعلق خلاصہ یہ ہے ، کہ سلام کرنا مسلمانوں کے جماعت پر یہ ایک مسلمان پر یہ سنت ہے، لیکن شعریت اور قرآن کریم کا یہ حکم ہے٫٫ جب ایک مسلمان سلام کرتا ہے تو اس کو سلام کرنا  پہل کرنا یہ تو سنت ہے، لیکن جس کو سلام کیا گیا ہو تو پھر اس کو جواب دینا یہ واجب ہے، اللہ نے سورہ نساء پانچویں پارہ میں ارشاد فرمایا٫٫ کہ جب تمہیں کوئی سلام کرے تو تم اس کے سلام کا جواب اچھے الفاظ میں کرو، اور اگر جواب اچھے الفاظ میں نہیں دے سکتے تو کم از کم جواب اتنا ہی دو جس طرح اس نے آپ کو سلام کیا ہے، ایک شخص ہے وہ سلام کرتا ہے، ٫٫اسلام علیکم؛؛ تو جواب دینے والے اس کو اچھا جواب دے، ٫٫ وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ؛؛ جب سلام کیا جائے ٫٫اسلام علیکم ورحمتہ اللہ،، تو جواب دینے والے کو چاہئے کہ ٫٫ وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ بھی ساتھ کہے، اور اگر پہلے والا کہے، کہ اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،، تو جواب دینے والے کو بھی چاہیے کہ وہ بھی اچھے الفاظ یعنی ٫٫ وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ ؛؛ تو اتنا جو ہے وہ سنت میں آیا ہے، تو آس لئے اللہ نے فرمایا کہ جب سلام کیا جائے تمھیں تو اسکا اچھے الفاظ میں جواب دو، کیونکہ کہ سلام کا۔جواب دینا ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پرحق ہے،اور اب حق سے مراد یہ ہے کہ جب ایک مسلمان جا رہا ہے اور جس کو سلام کرنے یعنی پہل کرنے کا حق ہے اور وہ سلام نہ کرے تو پھر قیامت کے دن اس سلام یعنی اس حق کا اللہ تم سے پوچھے گا، تو اس لئے کہا گیا ہے کہ جب سلام کیا جائے تو تم اس کا اچھے الفاظ میں جواب دو،

    اور مفسرین نے اچھے الفاظ کا ایک معنیٰ یہ بتایا ہے، کہ بے شک سلام کے جواب میں اچھے الفاظ یعنی ٫٫ وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ و برکاتہ ؛؛ نہ ہو لیکن سلام کا جواب خندہ پیشانی سے دو، یہ اس کا اچھا جواب ہے اللہ نے فرمایا، مطلب سلام کا جواب ایسے نہیں دینا چاہئے کہ سلام کرنے والا اپنے سلام پہ پشیمان نہ ہو کہ شائد مجھے سلام نہیں کرنا چاہیے تھا۔ 

    یہاں تک امام ترمذی شریف نے اس حدیث کی روایت کی ہے سرکارِ دوعالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم اپنے معاشرے میں سلام کو عام کرو آپ نے فرمایا تم جس کو جانتے ہو اس کو سلام کرو اور جس کو نہیں بھی جانتے اس کو بھی سلام کرو، کیونکہ جب ایک انسان کسی اجنبی شخص کو سلام کرتا ہے تو اس اجنبی شخص کے دل سے اجنبیت کا خوف ختم ہو جاتا ہے، تو وہ پھر اگلے سے خطرہ محسوس نہیں کرتا۔

    یہاں تک صحابہ کرام کے متعلق آتا ہے سیرت کی کتابوں میں کہ صحابہ کرام سلام کا اتنا احتمام کرتے کہ وہ چند سیکنڈ کے لئے ایک دوسرے سے جدا ہوتے اور پھر ملتے تو پھر بھی وہ ایک دوسرے کو سلام کرتے، اسی لئے ہمارے شعریت میں سلام کے متعلق حکم ہے، کہ جو چل رہے ہوں تو وہ بیٹھے ہوئے کسی ایک شخص یا زیادہ بیٹھے ہوئے جماعت کو سلام کرے، اگر ان میں سے کوئی ایک بھی جواب دے تو وہ باقی ماندہ تمام کی جانب سے سلام کا جواب مل جاتا ہے،اور اگر پورے مجموعے میں کسی نے بھی جواب نہیں دیا تو پھر سب گناہگار ہونگے، اسی طرح ایک شخص سواری پہ ہے اور ایک پیدل چلنے والا ہے تو یہ پیدل چلنے والے کا حق ہے کہ سوار جو شخص ہے وہ پیدل چلنے والے کو سلام کرے، ایسی طرح ایک انسان مسجد مدرسے یہ گھر میں عبادت میں مشغول ہے اور ایک دوسرا شخص باہر سے آتا ہے تو باہر والے کو سلام کرنے کی ضرورت نہیں وہ سلام نہ کرے، اور اگر مسجد میں بعض اوقات لوگ ویسے بیٹھے ہوئے ہیں تو ان کو پھر ضرور سلام کریں، ایسی لئے فرمایا گیا ہے کہ ایک شخص تلاوت کر رہا ہے اور کوئی شخص باہر سے آیا اور اس نے سلام کیا تو تلاوت کرنے والے کو سلام کا جواب دینا لازمی نہیں ہے وہ جواب نہ دے اگر دے دیا تو ٹھیک ہے مگر نہ دینے پہ گنہگار نہیں ہوتا، ایسی طرح ایک شخص کھانا کھا رہا ہے اسے بھی سلام نہیں کرنا چاہیے جب وہ کھانے سے فارغ تب اس کو سلام کیا جائے، تو انسان جب سلام کرتا ہے تو اس سلام کی بدولت معاشرے میں امن پیدا ہوتا ہے، 

    اسی لئے اسلامی معاشرے میں سلام اتنی اہم ہے کے جب تم قبرستان جاؤ تو مردوں کو بھی سلام کیا کرو سلام کی اتنی بڑی اہمیت ہے کہ زندوں کو تو دور کی بات کہ مردوں کو بھی سلام کرنے کا حکم ہے، جب بھی قبرستان جاؤ یا راستے میں قبرستان آئے تو کہو ٫٫اسلام علیکم یا اھل القبور؛ بے شک دل میں کہو لیکن سلام ضرور دو، سلام کرنے کا فائدہ اتنا ہی ہے جتنا ایک مسلمان اپنے مردوں کے لئے دعا کرتا ہے، اب مردوں کے لئے سلام کا فائدہ یہ ہے کہ ، شائد ان پہ قبر کا عزاب، شائد وہ قبر کے عزاب میں مبتلا ہوں اسی لئے فرمایا گیا ہے کہ مردوں کو بھی سلام کیا کرو، سرکارِ دوعالم ﷺ کا سنت اور طریقہ یہی تھا، امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے کہ سرکارِ دوعالم ﷺ راستے میں بچوں کو بھی سلام کیا کرتے تھے، اور سرکارِ دوعالم ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ ایک شخص اگر چاہے کہ اس کے رزق میں اور بھی برکت ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ گھر میں داخل ہوتے وقت اپنے گھر والوں کو سلام کرے، تو سلام اتنا اہم ہے کہ اگر گھر میں کوئی بھی نہ ہو تو درود شریف ہی پڑھ لیا جائے تو بھی بہتر ہے تو اسی لئے سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا کہ ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پہ 6 حقوق ہیں ان 6 حقوق میں سے پہلا حق وہ سلام کرنا ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو سلام کرے، اسی میں ہماری کامیابی ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین

    @ImTaimurKhan

  • سماجی مسائل اور ان کے سدباب  تحریر : ماہ رخ اعظم

    سماجی مسائل اور ان کے سدباب تحریر : ماہ رخ اعظم

    ‏سماجی مسائل اور ان کے سدباب

    مسئلہ، دراصل منفی اثرات ،افراد کے رویوں ، رکاوٹوں اور انحراف کی ایسی صورت ہے جس سے افراد اور معاشرے کی اقدار متاثر ہوتی ہے.معاشرتی مسئلہ۔ ایک ایسی حالت ہے جو معاشرہ کی اعلی اقتدار کے زوال کا آئینہدار ہوتا ہے اگر معاشرہ کوشش کرے تو یہ حالت سدھر سکتی ہے. سماجی مسئلہ ایسی صورت حال کا نام ہے جس میں کثرت آبادی ناپسندیدہ صورت حال سے دوچار ہو. سماجی مسائل اور برائیاں معاشرے کو گھن کی طرح کھا جاتے ہیں.پاکستان ایک فلاحی مملکت کے طور پر قائم کیا گیا تھا. فلاحی مملکت سے مراد ایسی ریاست ہوتی ہے جس میں شہروں کو ہر طرح کی سہولیات میسر ہوں. جہالت ، غربت اور نا انصافی کا خاتمہ ہو.نیز لوگ اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے مساوی مواقع حاصل کرسکیں. ہمارے ہاں بہت سے معاشرتی مسائل موجود ہیں، جو ایک فلاحی مملکت بننے کی راہ میں حائل ہیں.سب سے ضروری چیز جو کسی قوم کے لیے ترقی کے زینے کا پہلا قدم قرار پاتی ہے وہ اس کی اخلاقی حالت ہے قول وفعل کے تضاد ، جھوٹ ، دھوکادہی اور مکروفریب ایسے اخلاقی رذائل ہیں جن کی موجودگی میں کوئی قوم خواہ کتنے ہی سے بہرور ہو، کتنے ہی ذمینی وسائل سے مالامال ہواور کتنی ہی افرادی قوت کی حامل ہو، ترقی سے ہم کنار نہیں ہو سکتی. معاشرتی مسائل زوال کو دعوت دیتے ہیں. دنیا کی بہترین کپاس پیدا کرنے والی قوم اگر اسے برآمد کرتےہوئے اس میں پھتر چھپاکر برآمد کرے گی تو یہ عمدہ کپاس آیندہ کاروبار ختم کرنے کی ہدایت کے ساتھ واپس اپنی بندرگاہ پر پہنچ جائے گی.ہمارا ایک نہایت اہم مسئلہ جدید علوم سے ناواقفیت اور جہالت ہے جدید ترین علوم اور ٹیکنالوجی کے حصول کے بغیر کیسی بھی معاشرے کے ترقی یافتہ ہونے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ آج دنیا کی قیادت ان ممالک کے ہاتھ میں ہے جو جدید علوم و فنون پر دستگاہ رکھتے ہیں سری لنکا، کوریا، اور ملائیشیا جیسے ممالک اپنے شعبہ تعلیم کے لیے قومی پیداوار کا پانچ سے سات فیصد تک خرچ کررہے ہیں جبکہ ہم صرف تقریبا دو فیصد خرچ کررہے ہیں علم کرنے کے بعد ہی لوگ اپنے حقوق و فرائض سے آگاہ ہوسکتے ییں نیز اپنے مسائل اور خرابیوں کے حل کی تدبیر کرسکتے ہیں

    جذبہ قومیت کا فقدان بھی ہمارا نہایت اہم مسئلہ ہے یہ حقیقت ہے کہ جن مقاصد کے لیے ہم پاکستان حاصل کیا تھا ہم انھیں آج تک نہیں پاسکے ہمارے ہاں علاقائی مسائل کو ترجیح دینا فرقہ بندی صوبائی عصبیت ملک و قوم کو پس پست ڈال کر اپنی ذاتی اغراض کو اولیت دینا عام ہے جو قوت ہم قومی تعمیر میں خرچ کرسکتے تھے اسے آج تخریب میں بروئے کار لارہے ہیں.غربت بھی ہمارا ہمارا نہایت اہم سماجی مسئلہ ہے. پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہےاس لحاظ سے اس کی معیشت بھی ترقی پذیر ہے اپنی ملکی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان اپنے قیام کے آغاز سے ہی پس ماندہ حالت میں تھا.پاکستان کی ابتدائی مشکلات میں سے ایک اہم مشکل اقتصادی ناہمواری تھی کیونکہ ہندوستان کی تقسیم سے قبل پاکستان کے علاقہ میں ہندو ہی زراعت، تجارت، کاروباری اداروں اور بنکوں وغیرہ پر قابض تھے. تقسیم ہند کے وقت ہندو اپنا تمام سرمایہ سمیٹ کر ہندوستان لے گئے.جس سے پاکستان کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا اور معیشت کمزور تر ہوتی چلی گئی.آج ہماری پستی کا سب سے بڑا سبب اپنے آباواجداد کے سنہری اصولوں سے انحراف ہے. اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکامات پیرا ہونے میں ہی تمام سماجی برائیوں کا علاج مضمر ہےاگر ہم اپنی کھوئی ہوئی قوتوں کو مجتمح کرلیں اور فراموش کردہ اسباق کو ازسر نو ذہین نشین کرلیں تو کوئی شک نہیں کہ ہم اپنا کھویا ہوا مقام پھر سے حاصل کر سکتے ہیں.

    بقول اقبال
    یقین، افراد کا سرمایہ تعمیر ملت ہے
    یہی قوت ہے جو صورت گر تقدیر ملت ہے

    ازقلم : ماہ رخ اعظم
    ‎@_MahrukhAzam

  • بلاول بھٹو کی قبل ازوقت سیاسی ٹکریں   تحریر: علی خان

    بلاول بھٹو کی قبل ازوقت سیاسی ٹکریں  تحریر: علی خان

    @hidesidewithak 

    ابھی ان  تِلوں میں تیل نہیں 

    ماں باپ سے بچوں کو وراثت منتقل ہونا تقریباً تمام معاشروں کی روایت ہے،،، والدین اپنی زندگی میں بچوں کو اپنی جائیداد کا وارث بنادیتے ہیں یا پھر انتقال کے بعد بچوں کو قوانین کے مطابق جائیداد، کاروبار بعض صورتوں میں نوکری وراثت میں ملتی ہے،،، سیاستدانوں کی جانب سے بچوں کو سیاسی وارث بھی بنایا جاتا ہے،،، مغربی معاشروں کو چھوڑ کر یہ روایت تقریباً تمام معاشروں میں پائی جاتی ہے کہ سردار کا بیٹا سردار اور وڈیرے کا بیٹا وڈیرہ بنتا ہے اور اپنے علاقے میں خاندان کی سیاسی روایات کو آگے بڑھاتا ہے،،، مضبوط جمہوری معاشروں میں بھی ایسی مثالیں نظر آتی ہیں جیسے کینیڈا کے موجودہ وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کے والد بھی کینیڈا کے وزیراعظم رہے،،، اسی طرح امریکی صدور بش سینئر اور جونئیر بھی اسی کی مثال ہیں

    مغربی سیاسی روایات اور ہمارے ہاں واضح فرق سیاسی جماعتوں کا ہے،،، مغربی سیاسی جماعتوں میں جماعت کی قیادت کی خاندان کی وراثت نہیں ہوتی،،، وطن عزیز میں اسے بھی وراثت کا حصہ ہی سمجھا جاتا ہے،،، یہ روایت بھارت، سری لنکا، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک میں بھی پائی جاتی ہے،،، یہی کافی حد تک روایتی معاشرتی اور ملکی پسماندگی کی ذمہ دار بھی ہے،،، لیڈران کے بچوں کو بیٹھے بٹھائے بغیر محنت کے پہلے پارٹی اور پھر اقتدار کا سنگھاسن ملتا ہے تو اسے وہ خاندانی حق سمجھ کر مزے کرتے ہیں اور عوامی بہبود کا سوال کہیں پس پشت چلا جاتا ہے

    ایسے ہی ایک لیڈر ہمارے بلاول بھٹو زرداری صاحب بھی ہیں کہ جنہیں والدہ کی شہادت کےبعد پارٹی کا کرتا دھرتا بنایا گیا،،، بلاول بھٹو کے حامی انکے آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ہونے اور شہدا کا وارث ہونے جیسے اوصاف گنواتے ہیں لیکن غیر جانبدار تجزیہ کار انکی سیاسی ناپختگی کا برملا اظہار کرتے رہتے ہیں،،، آصف علی زرداری صاحب کی جانب سے پارٹی کمان انکے ہاتھ اس امید پر دی گئی تھی کہ بلاول اپنی سیاسی وراثت کے بل بوتے دوہزار اٹھارہ کے الیکشن میں پارٹی کو بہتر پوزیشن دلا پائیں گے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوسکا،،، بلاول صاحب کی سیاسی وراثت میں ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے بھاری بھرکم کارنامے گنوائے جاتے ہیں لیکن انکی اپنی جماعت سندھ میں قریب تیرہ سال سے اقتدار میں ہونے کے باوجود سندھ کی بدترین حالت زار کسی سے چھپی نہیں ہے،،، بلاول بھٹو کی جانب سے یا تو موجودہ حکومت کی کارکردگی کا رونا ہوتا ہے یا پھر سندھ کی محرومیوں کا ،،، بلاول کی جانب سے سندھ کارڈ کھیلنا انکے والد آصف علی زرداری کا فیصلہ نظر آتا ہے جو بہت بار سبکی کا باعث بن چکا ہے

    بلاول بھٹو کے "زیادہ بارش ہوتی ہے تو پانی آتا ہے” جیسے بیانات انکی ناپختگی پر مہر ثبت کرتے ہیں،،، گلگت بلتستان اور کشمیر کے الیکشن میں پہلے جیت اور پھر دھاندلی کے دعوے کچھ سنجیدہ تاثر نہیں چھوڑ رہے،، انکی زیر قیادت پارٹی نے سندھ کے علاوہ آزاد کشمیر اور گلگت میں بھی حکومت کی لیکن عوامی فلاح کا کوئی بھی پائیدار اور ٹھوس منصوبہ پیش کرنے میں ناکام رہی،،، جب بھی سندھ حکومت کے کسی منصوبے میں کرپشن، کراچی میں بے انتظامی جیسے معاملات کی بات ہوتی ہے تو بلاول بھٹو سندھ پر حملہ نامنظور جیسا رٹا رٹایا نعرہ لگا دیتے ہیں اور اصل سوال کو نظر انداز کردیتے ہیں،،، عوام کی جانب سے انکی ہمشیرہ آصفہ بھٹو کی سیاسی پختگی کو زیادہ پسند کیاگیا ہے،،، بلاول بھٹو کو جب پیپلزپارٹی کی قیادت دی گئی تو یہ وفاق میں حکومت کرنے والی وہ جماعت تھی جسکی تمام صوبوں میں موجودگی تھی لیکن اب یہ ایک صوبے تک محدود جماعت نظر آرہی ہے،،، بلاول بھٹو کے وقت سے قبل میدان میں اتارے جانے کا سب سے زیادہ نقصان انکی اپنی جماعت کو ہوا ہے،،، پی پی سربراہ کو سیاسی بلوغت نہ دکھائی تو بعید نہیں کہ آئندہ کیا مزید کئی الیکشن تک پیپلزپارٹی چاروں صوبوں کی زنجیر بننے کی بجائے صوبے سے بھی لاڑکانہ تک محدود ہوجائے

  • معاشرے میں بڑھتا ہوا ڈپریشن تحریر: صائمہ ستار

    معاشرے میں بڑھتا ہوا ڈپریشن تحریر: صائمہ ستار

    اتار چڑھاؤ زندگی کاحصہ ہیں. جہاں زندگی میں بہت سے خوش کن لمحات آتے ہیں کامیابی انسان کے قدم چومتی ہے وہیں زوال و ناکامی  بھی زندگی کا حصہ ہیں. بلند ہمت اور زندہ دل افراد عزم سے نامسائد حالات کا مقابلہ کرتے ہیں. جبکہ پست ہمت افراد جلد دل ہار بیٹھتے ہیں اور زندگی کی مشکلات کو پہاڑ بنا لیتے ہیں نتیجتاً مسلئے کا واضح نظر آنے والا حل دیکھنے سے بھی محروم رہتے ہیں. وقت کے ساتھ ساتھ جدید سہولیات نے یوں تو زندگی کو آسان بنا دیا ہے مگر اسکے ساتھ ہی معاشرے میں عدم برداشت اور ذہنی تناؤ میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے. انسان تعلاقات کے مصنوعی ذرائع جیسا کہ موبائل اور سوشل میڈیا کو زیادہ اہمیت دینے لگا ہے جبکہ اسکے ارد گرد موجودہ رشتے اور افراد نظر انداز ہوتے ہیں. لہذا وقت کے ساتھ ساتھ انسان خود کو تنہا مایوس کرنے لگا ہے خصوصاً نوجوان نسل میں یہ رحجان بہت زیادہ ہے. ڈپریشن آجکل ہر نوجوان کا مسلئہ بن چکا ہے. ہر دوسرا فرد اس نفسیاتی مسلئے کا شکار نظر آتا ہے. 

    وقتاً فوقتاً انسان کا مایوس یا اپنے اردگرد افراد اور حالات سے بیزار ہونا نارمل ہے کہ دل ہر وقت ہی زندہ دل محسوس نہیں کر سکتا. یہ اتار چڑھاؤ زندگی کا حصہ ہیں مگر ڈپریشن کی کیفیت کا دورانیہ نارمل مایوسی یا بیزاری سے بہت زیادہ ہوتا ہے. کبھی ڈپریشن کی کیفیت کی کچھ خاص وجہ ہوتی ہے جبکہ بہت سے کیسز میں بغیر کسی وجہ کے لوگوں کو ڈپریس دیکھا گیا ہے.ڈپریشن کی بیماری کی  شدت  عام اداسی کے مقابلے میں جو ہم سب وقتاً فوقتاً محسوس کرتے ہیں  کہیں زیادہ گہری اور تکلیف دہ ہوتی ہے۔ڈپریشن بعض دفعہ اتنا شدید ہو جاتا ہے کہ مدد اور علاج کی ضرورت ہوتی ہے.ڈپریشن کی ایک بڑی وجہ تنہائ بھی ہے. زیادہ دوست یا میل ملاپ رکھنے والے افراد میں یہ مسلئہ بہت کم پایا جاتا ہے. بعض اوقات اچانک کسی سنجیدہ بیماری کا شکار ہونے والے افراد میں بھی یہ مسلئہ موجود ہوتا ہے. بعض لوگوں کی شخصیت میں کوئ ذاتی کمی کا احساس یا دوسروں سے ہر وقت موازنہ بھی ذہنی تناؤ کی وجہ بنتا ہے. بہت سے افراد میں یہ مسلئہ موروثی طور پر بھی نسل در نسل منتقل ہوتا ہے. اس سب کی بہت سی وجوہات ہیں.معاشرتی حالات کا بھی اس میں بہت زیادہ کردار ہے. مشرکہ خاندانی نظام جو ہماری روایت تھا وقت کے ساتھ یہ روایت دم توڑ رہی ہے. لوگ مل جل کہ رہنے کی بجائے تنہا رہنے کو ترجیح دیتے ہیں.روپیہ پیسہ رشتوں سے زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے. بڑھتی ہوئ مہنگائ اور معاشی حالات بھی ذہنی تناؤ کی وجہ بنتے ہیں.وہ افراد جنکی آمدنی محض میں ایک دن کا گزارا مشکل سے ہوتا ہے اچانک پیش آنے والے حادثے کی صورت میں تمام خاندان ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے. والدین کی آپس کی ناچاقی بھی 

    ٹین ایج افراد میں مایوسی اور ڈپریشن کی بڑی وجہ ہے. بدقسمتی سے پاکستان میں ذہنی امراض کے بارے میں جانکاری کی شرح نہایت کم ہے. بہت سے والدین "لوگ کیا کہیں گے ” کے نام پر بچوں کے نفسیاتی مسائل کو چپھا کر رکھنا بہتر سمجھتے ہیں. موبائل فونز کے بہت زیادہ استعمال سے دماغ پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، قوت برداشت کم ہونے سے نوجوان نسل میں ڈپریشن و اینزائٹی کی شرح تیزی سے بڑھی ہے مگر ہم ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کے بجائے سوشل میڈیا کے نشے میں اس طرح مبتلا ہیں کہ ان کے بغیر ہماری زندگی ادھوری ہے۔ہمیں چاہیے کہ رابطے کے مصنوعی ذرائع پر وقت صرف کرنے کی بجائے اپنے ارد گرد کے افراد کو توجہ کا مرکز بنائیں. کسی کہ دکھ درد کو سنیں. دوسروں کے مسائل اور مشکلات آسان کرنے پر توجہ دیں تا کہ معاشرے میں دوبارہ سے مثبت سوچ رکھنے والے اور ذہنی طور پر صحت مند افراد کا تناسب بڑھے. 

    @just_S32