تین روز قبل اقوام متحده کی جنرل اسمبلی میں بھارت اور پاکستانی وزیراعظم کے خطاب ہوئے وزیراعظم عمران خان نے ورچول آن لائن سے وڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی کشمیر اور افغانستان کے مُدے کو بھرپور طریقے سے اٹھایا اور اقوام عالم کو کشمیر،افغانستان میں ابھرتے ہوئے انسانی المیوں سے آگاه کیا
قارئین چند روز قبل ہی کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی کا انتقال ہوا ہر آزادی کا متوالا مغموم تھا لیکن سونے پہ سہاگہ یہ کہ بھارتی حکام سید علی گیلانی کی میت اہل خانہ کے حوالے کرنے سے انکار کردیا بھارت کا یہ انکار نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ آزادی کی ٹحریک کو کچلنے کی ایک ناکام کوشش ہے جو کہ مستقبل قریب میں آزادی کی تحریک کو نئی جِلا بخشے گی
افغانستان کے مسئلےپر بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے اقوام عالم کو بتایا کہ افغانستان میں جنگ چھیڑنے کا فیصلہ امریکہ کا تھا اور ادھر سے ناکام نکلنے کا فیصلہ بذات خود امریکہ نے کیا لیکن اس سارے معاملے میں پاکستان نے امریکہ کا اتحادی بننے کی غلطی کی اور اس غلطی کا نقصان بھی صرف اور صرف پاکستان کو ہوا پاکستان نے اس جنگ میں نا صرف 80 ہزار قیمتی اور بے قصور پاکستانی جانیں گنوائیں بلکہ کئی ارب ڈالرز کی معیشت کا بھی نقصان کیا جس کی بھرپائی آج تک ممکن نہ ہوسکی اس سارے معاملے میں غم تو یہ ہے کہ بجائے امریکہ ہماری قربانیوں اور بے لوث دوستی کو سراہتا اس نے اپنی ناکام پالیسیوں پر پاکستان ہی کی سرزنش کردے اور ناکامی کا قصور وار پاکستان کو ٹھہرانے لگا
قارئین جیسا کہ اس دور میں میں ہر کوئی جانتا ہے کہ اس سارے پروپیگینڈے میں بھارت کا بھی ہاتھ ہے جو پاکستان کے خلاف امریکہ کو ہر وقت اکساتا رہتا ہے اور ISI کا جو ڈر بھارت میں بیٹھ چکا ہے اسے ہر وقت کیش کرتا رہتا ہے بھارت نے نا صرف امریکہ کو یقین دلایا ہے کہ افغانستان میں امریکہ سے پاکستان ڈبل گیم کررہا ہے بلکہ اس بات پر بھی اماده کرلیا کہ تمام دھشت گردی اور افغانستان میں امریکی ہار کا اصل ذمہ دار بھی پاکستان ہے
دریں اثنا اقوام متحده کے اجلاس کے بعد مودی کمیلاہیرس سے ملاقات کی اور ملاقات کے بعد مودی نے چالیس ٹویٹ کئیے لیکن کمیلاہیرس کی طرف سے ایک ٹویٹ بھی نہیں کیا گیا یہ ٹویٹ بھارتی پروپگینڈےطکا حصہ تھیں جس میں بھارتی مفادات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا اس ملاقات کے بعد مودی نے جوبائیڈن سے بھی ملاقات کی ۔
یہاں ایک بات انتہائی قابل غور ہے کہ مودی نے اقوام متحده ،کمیلاہیرس اور جوبائیڈن سے جو بھی ملاقاتیں کیں ان سب کے دوران کشمیر،سکھ اور دلت برادری سراپا احتجاج رہی اور بھارت اور مودی کے خلاف شدید نعرے بازی ہوتی رہی لیکن مودی نے ان سب چیزوں کی پرواه کئیے بغیر اور ان برادریوں کی دادا رسی کے بغیر اپنا مزموم ایجنڈا جاری رکھا اور بائیڈن کے سامنے اپنی تمام خواہشات رکھ دیں جن کی تکمیل کے لئیے یہ دوره امریکہ کیا تھا
مودی نے جوبائیڈن سے تین چیزوں پر بات کی جن میں سے سب سے پہلی بھارت کی یہ خواہش تھی کہ اسے Aukus اتحاد میں شامل کیا جائے قارئین یاد رہے کہ یہ اتحاد بڑھتی بین الااقوامی فضا میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے پیش نظر بنایا گیا ہے اور اس کا مقصد اسٹریلیا،برطانیہ اور امریکہ کے مفادات کا تحفظ اور ان ممالک کی دنیا پر حکمرانی کوقائم رکھنےچکے لئیےبنایاگیا
اس اتحا میں شامل ہوکر بھارت کامقصد تو بڑی عالمی طاقت بننے کا تھا لیکن صد افسوس بھارت کا یہ ادھورا خواب ادھورا ہی رہا مودی نے افغانستان میں امریکی مدد اور کشمیر میں ہونے والے مظالم پر امریکی خاموشی کا مطالبہ کیا تو امریکی صدر نے مودی جی کو کھری کھری سنادیں مودی جی جو وزیراعظم کی حثیت سے اپنے بڑے مطالبات منوانے چلا تھا امریکہ کی طرف سے سرزنش اور ڈومور کے مطالبے کے ساتھ واپس لوٹے اور اپنی قابلیت جس پر وہ بھارت میں جنتا کو بھرپوربےوقوف بناتے ہیں اسکا بھانڈاپھٹوا کر آگئے
امریکی صدر جوبائیڈن نے ناصرف مودی جی کو کشمیر میں ہونے والے انسانی حقوق کی خلاف وزیاں یاد کروائی بلکہ پورے بھارت میں اقلیتوں میں ہونے والے مظالم سے روکا جوبائیڈن نے مودی کو نئے بھارتی شہریت بل پر بھی خوب ڈانٹ پلائی اور ان اقدامات سے ہونے والی دشواریوں سے لوگوں کو محفوظ رکھنے پرزوردیا
اور ہندتوا کو بے لگام گھوڑوں کو لگام دینے کےلئیےصدربائیڈن نے مودی جی کوانہی کے آزادی دہندہ موہنداس کرم چندگاندھی جی کےامن پسند فرمان یاد کروائےاور اس امن پسندی کے سبق کے ساتھ مودی جی کو چلتا کیا یاد رہے گاندھی جی اپنے اس فلسفے کوعدم تشدد،احترام اور برداشت کا فلسفہ کہتے تھے
قارئین یوں مودی جی جنہوں نے UN کے خالی میدان کو جیتنے کے لئیے اتنا پیسہ بہایا وہاں جاکر بھی اپنے مقاصد حاصل نہ کرپائے اور دوسری طرف وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بغیر امریکہ جائےاور مودی کے لئیے میدان خالی چھوڑ کر بھی سفارتی جنگ جیت لی اور بھارت سمیت پوری دنیا پر واضح کردیا کہ پاکستان کے بہادر لیڈر اور عوام بھارت سے کئی گنا قابل اور اپنے مفادات کا تحفظ کرنے اور اپنے اصولی موقف کے دفاع کی بھرپور قابلیت رکھتے ہیں
پاکستان زندہ باد
پاک فوج پائندہ باد
@Naseem_Khera
Author: Baaghi TV
-

کپتان کی کامیاب سفارتکاری تحریر۔محمد نسیم
-
دریائے فرات اور سونےکا خزانہ تحریر محمد آصف شفیق
نبی مہربان ﷺ نے دریائے فرات جوکہ کم و بیش 2800 کلومیٹر طویل ہے جوکہ ترکی، شام، اردن اور عراق سے گزرتا ہے جس کے بارے میں نبی مہربان ﷺ نے آنے والے وقت میں پیش آنے والے واقعات کا بتایا اور اس دور میں اگر ہم موجود ہوں تو ہمارا ردعمل کیا ہونا چائیے
” اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ” جلدی وہ زمانہ آنے والا ہے جب دریائے فرات سونے کا خزانہ برآمد کرے گا ( یعنی اس کا پانی خشک ہو جائے گا اور اس کے نیچے سے سونے کا خزانہ برآمد ہوگا ) پس جو شخص اس وقت وہاں موجود ہو اس کو چاہئے کہ اس خزانہ میں کچھ نہ لے ۔ ” (بخاری ومسلم )( مشکوۃ شریف:جلد پنجم:حدیث نمبر 7)
تشریح
اس خزانہ میں سے کچھ لینے کی ممانعت اس بنا پر ہے کہ اس کی وجہ سے تنازعہ اور قتل وقتال کی صورت پیش آئے گی جیسا کہ اگلی حدیث میں وضاحت کی گئی ہے ! اور بعض حضرات نے لکھا ہے کہ اس خزانہ میں سے کچھ بھی لینا اس لئے ممنوع ہے کہ خاص طور پر اس خزانہ میں سے کچھ حاصل کرنا آفات اور بلاؤں کے اثر کرنے کا موجب ہوگا اور ایک طرح سے یہ بات قدرت الہٰی کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ! نیز بعض حضرات نے یہ لکھا کہ اس ممانعت کا سبب یہ ہے کہ وہ خزانہ مغضوب اور مکروہ مال کے حکم میں ہوگا جیسا کہ قارون کا خزانہ ‘ لہٰذا اس خزانہ سے فائدہ حاصل کرنا حرام ہوگا ۔
” اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ” قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک کہ دریائے فرات سونے کا پہاڑ برآمد نہ کرے گا !لوگ اس کی وجہ سے ( یعنی اس دولت کو حاصل کرنے اور اپنے قبضہ میں لینے کے لئے ) جنگ اور قتل وقتال کریں گے، پس ان لوگوں میں ننانوے فیصد مارے جائیں گے، اور ہر شخص یہ کہے گا کہ شاید میں ( زندہ بچ جاؤں گا اور ) مقصد میں کامیاب ہو جاؤں گا، یعنی ہر شخص اس توقع پر لڑے گا کہ شاید میں ہی کامیابی حاصل کرلوں اور اس دولت پر قبضہ جما لوں چنانچہ ننانوے فیصد لوگ اس توقع میں اپنی جان گنوا بیٹھیں گے ۔” ( مسلم )(مشکوۃ شریف:جلد پنجم:حدیث نمبر 8)
تشریح
بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی بات کو دو مختلف موقوں پر مختلف الفاظ میں بیان فرمایا گیا ، لہٰذا دونوں حدیثوں کا خلاصہ یہ نکلے گا کہ دریائے فرات کے نیچے سے سونے کا ایک عظیم خزانہ برآمد ہوگا جس کی مقدار پہاڑ کے برابر ہوگی ۔ تا ہم یہ احتمال بھی ہے کہ یہاں حدیث میں پہاڑ کے برابر سونے کہ جس کا ذکر فرمایا گیا ہے وہ اس خزانہ کے علاوہ ہوگا جس کا ذکر پہلی جدیث میں کیا گیا ہے اور ” سونے کے پہاڑ ” سے مراد سونے کی کان ہے ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ عنقریب دریائے فرات سونے کا خزانہ نکالے گا، چنانچہ جس شخص کو ملے وہ اس سے کچھ نہ لے، عقبہ بیان کرتے ہیں ہم سے عبداللہ نے بواسطہ ابوالزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح روایت کرتے ہیں مگر یہ کہ انہوں نے کہا سونے کا پہاڑ نکالے گا۔( صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 2033)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ دریائے فرات سے سونے کا پہاڑے نکل آئے جس پر لوگوں کا قتل وقتال ہوگا اور ہر سو میں سے ننانوے آدمی قتل کئے جائیں گے اور ان میں سے ہر آدمی کہے گا شاید میں ہی وہ ہوں جسے نجات حاصل ہوگی اور یہ خزانہ میرے قبضہ میں رہ جائے گا۔(صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2771 )
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا عنقریب دریائے فرات سے سونے کا ایک خزانہ نکلے گا پس جو اس وقت موجود ہو وہ اس میں سے کچھ بھی نہ لے۔( صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2773)
عبدالحمید بن جعفر ابی سلیمان بن یسار حضرت عبداللہ بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن نوفل سے روایت ہے کہ حضرت ابی بن کعب کے ساتھ کھڑا ہوا تھا تو انہوں نے کہا ہمیشہ لوگوں کی گردنیں دنیا کے طلب کرنے میں ایک دوسرے سے اختلاف کرتی رہیں گی میں نے کہا جی ہاں انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب دریائے فرات سے سونے کا ایک پہاڑ برآمد ہوگا جب لوگ اس کے بارے میں سنیں گے تو اس کی طرف روانہ ہوں گے پس جو لوگ اس کے پاس ہوں گے وہ کہیں گے اگر ہم نے لوگوں کو چھوڑ دیا تو وہ اس سے سارے کا سارا(سونا) لے جائیں گے پھر وہ اس پر قتل و قتال کریں گے پس ہر سو میں سے ننانوے آدمی قتل کئے جائیں گے ابوکامل نے اس حدیث کے بارے میں کہا کہ میں اور ابی بن کعب حسان کے قلعہ کے سایہ میں کھڑے ہوئے تھے۔(صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2775)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب دریائے فرات ایک سونے کے خزانے کو منکشف کرے گا۔ تم میں سے جو اس وقت موجود ہو وہ اس میں سے کچھ نہ لے۔ یہ حدیث صحیح ہے۔(جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 472)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک کہ دریائے فرات میں سے سونے کا پہاڑ نہ نکلے اور لوگ اس پر باہم کشت وخون کریں گے چنانچہ ہر دس میں سے نو مارے جائیں گے۔(سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 926)
” اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ” جلدی وہ زمانہ آنے والا ہے جب دریائے فرات سونے کا خزانہ برآمد کرے گا ( یعنی اس کا پانی خشک ہو جائے گا اور اس کے نیچے سے سونے کا خزانہ برآمد ہوگا ) پس جو شخص اس وقت وہاں موجود ہو اس کو چاہئے کہ اس خزانہ میں کچھ نہ لے ۔ ” (بخاری ومسلم )(مشکوۃ شریف:جلد پنجم:حدیث نمبر 7)
تشریح
اس خزانہ میں سے کچھ لینے کی ممانعت اس بنا پر ہے کہ اس کی وجہ سے تنازعہ اور قتل وقتال کی صورت پیش آئے گی جیسا کہ اگلی حدیث میں وضاحت کی گئی ہے ! اور بعض حضرات نے لکھا ہے کہ اس خزانہ میں سے کچھ بھی لینا اس لئے ممنوع ہے کہ خاص طور پر اس خزانہ میں سے کچھ حاصل کرنا آفات اور بلاؤں کے اثر کرنے کا موجب ہوگا اور ایک طرح سے یہ بات قدرت الہٰی کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ! نیز بعض حضرات نے یہ لکھا کہ اس ممانعت کا سبب یہ ہے کہ وہ خزانہ مغضوب اور مکروہ مال کے حکم میں ہوگا جیسا کہ قارون کا خزانہ ‘ لہٰذا اس خزانہ سے فائدہ حاصل کرنا حرام ہوگا ۔
اللہ رب العالمین سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھیں بنی مہربانﷺ کے فرامین پر عمل پیرا ہونے والا بنائے
آمین یا رب العالمین
@mmasief
-
کیا عالمی تنازعات کے حل کے لئے اقوام متحدہ کا کردار اطمینان بخش ہے؟ تحریر: ثاقب معسود
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی دنیا کا سب سے اہم اور بہت بڑا فورم ہے جس کا اجلاس ہر سال ستمبر میں منعقدہوتا ہے جسے عالمی سطح پر بہت زیادہ اہمیت حاصل ہوتی ہے ۔ اس اجلاس میں دنیا کے تقریبا تمام ممالک شامل ہوتے ہیں اور اس اجلاس میں تمام ممالک کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ایسے مسائل کو اجاگر کریں جو ان کے لیے بہت اہم ہیں اور بین الاقوامی برادری کو ان کے بارے میں بات اور غور و غوض کرنا چاہیے۔ اس اجلاس میں بین الاقوامی تنازعات پر بھی کھل کر بات کی جاتی ہے اور حریف ممالک ایک دوسرے کے خلاف ہر طرح کے ثبوت اور شواہد وغیرہ بین الاقوامی برادری کے سامنے رکھتے ہیں تاکہ وہ اپنا مضبوط مئوقف دنیا کے سامنے لا سکیں۔ پاکستان ہر سال اس موقع پرمسلم امہ کے علاوہ اہم اور سنجیدہ اورحل طلب مسائل پر بات کرتا ہے تاکہ بین الاقوامی برادری کی توجہ اس جانب مبذول کراسکے۔ اور پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے اپنا خطاب کرونا کی تباہ کاریوں سے شروع کیا کہ دنیا کو کووڈ19 کے ساتھ ساتھ کس طرح معاشی بحران اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے درپیش خطرات جیسے چیلنجز کا سامنا کرناپڑرہاہے۔ خدا کے فضل سے پاکستان کورونا کی وباء پرقابو میں رکھنے میں کامیاب رہا ہے اور باہمی تعاون کی منصوبہ بندی کی بدولت ہمیں انسانی زندگیوں اور معاش کو چلائے رکھنے میں مدد ملی اور ہماری معیشت کا پہیہ بھی چلتا رہا۔وزیراعظم نے یواین جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنرل اسمبلی کو دولت کی غیرقانونی ترسیل کو روکنے کیلئے ایک جامع حکمت عملی بناناہوگی۔ عمران خان نے باور کرایا کہ اسلامو فوبیاایک ایسی خوفناک شکل اختیارکرچکاہے جس کی روک تھام کیلئے ہم سب کو مل کر مقابلہ کرنا ہوگا۔نائن الیون کے بعد سے کچھ امریکی حلقوں کی جانب سے دہشت گردی کو اسلام سے جوڑا جاتا رہا ہے جس کے سبب مغرب میں انتہا پسند اور دہشت گرد گروہ مسلمانوں کومسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس وقت اسلامو فوبیا کی سب سے خوفناک اور بھیانک شکل بھارت میں پنجے گاڑے ہوئے ہے۔ بھارت کی فاشسٹ آر ایس ایس اور بی جے پی حکومت کی جانب سے پھیلائے گئے نفرت انگیز ہندوتوا کے نظریات نے بھارت میں بسنے والے 20 کروڑ مسلمانوں کیخلاف خوف و تشدد کی ایک لہر پیدا کر رکھی ہے۔ این آر سی کے امتیازی قوانین کا مقصد بھارت کو مسلمانوں سے پاک کرنا ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ بھارت نے بدقسمتی سے مسلمانوں کے قلع قمع کی سوچ پر مبنی ایک ایسا راستہ اختیار کیا ہے جسے وہ جموں و کشمیر مسئلے کا حتمی حل قرار دیتا ہے جبکہ یہ راستہ بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کا عکاس ہے۔ وزیراعظم نے اس حوالے سے عالمی قوتوں کو بھارت کا اصل مکروہ چہرہ دکھاتے ہوئے کہاکہ بھارت نے پانچ اگست 2019 ء سے مسلسل کرفیو اور غیرقانونی اقدامات شروع کر رکھے ہیں۔ اس نے 13 ہزار کشمیریوں کو اغوا کیا ہوا ہے جس میں سے سینکڑوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے جبکہ سینکڑوں کشمیریوں کو جعلی پولیس مقابلوں میںشہید کیا جا چکا ہے۔ اسی طرح بھارت نے کشمیریوں کو اجتماعی سزائیں دینے کی روش اختیار کر رکھی ہے جس میں پورے پورے گائوں اور مضافاتی علاقے تباہ کر دیئے جاتے ہیں۔ اس جبر کے ساتھ ساتھ مقبوضہ علاقے کی آبادی کا تناسب بدلنے کی کوششیں بھی جاری ہیں تاکہ اسے مسلم اقلیتی علاقے میں بدل دیا جائے۔ اور مقبوضہ جموں کشمیر میں معصوم اورنہتے لوگوں پر پیلٹ گن کا سفاکانہ استعمال، ریپ کوایک جنگی
ہتھیار کے طور پر استعمال کررہا ہے ،عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے دیگر ہمسایوں کی طرح بھارت کے ساتھ بھی امن سے رہنے کا خواہش مند ہے لیکن جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا دارومدار جموں و کشمیر کے مسئلہ کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور جموں و کشمیر کے عوام کی خواہشات کے مطابق حل ہونے میں ہے۔ امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا یواین قراردادوں کے مطابق حل ضروری ہے مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بی جے پی کی فاشسٹ حکومت نے کشمیر میں مظالم کی انتہا کر دی ہے۔ اب یہ بھارت کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کیلئے سازگار ماحول بنائے وزیراعظم نے اس کیلئے عالمی قیادتوں سے بھارت کو مندرجہ ذیل اقدامات اٹھانے پر مجبور کرنے کا تقاضا کیا ہے۔ نمبرایک بھارت پانچ اگست 2019 کو کئے گئے یکطرفہ اور غیرقانونی اقدامات منسوخ کرے نمبر2 کشمیر کے عوام کیخلاف ظلم و جبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روکے نمبر3 مقبوضہ علاقے میں آبادی کے تناسب میں کی جانیوالی تبدیلیاں واپس لے۔ اسکے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین ایک اور جنگ کو روکا جائے۔وزیراعظم عمران خان نے موسمیاتی تبدیلیوںاور ماحولیاتی آلودگی سے متعلق دنیاکی توجہ مبذول کرانے کی بھی کوشش کی۔وزیراعظم نے جنرل اسمبلی میں اپنے طویل خطاب کے دوران یقینا ایک مدبر لیڈر کی حیثیت سے اقوام عالم کو درپیش تمام مسائل کی نشاندہی بھی کی اور انکے ممکنہ حل کے راستے بھی دکھائے۔ بلاشبہ آج الحادی قوتوں کا اسلامو فوبیا سے متعلق پیدا کیا گیا تلخ ماحول بھی علاقائی اور عالمی امن تاراج کرنے پر منتج ہو سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں وزیراعظم نے مرض کے اصل روٹ کی بھی نشاندہی کی جو بھارت سے نکل کر دنیا میں پھیل رہا ہے اور مسلمانوں کو دہشت گردی کا موردالزام ٹھہراتے ہوئے انکے قتل عام کی صورت میں مسلم کشی کی نوبت تک پہنچ چکاہے۔ بھارت کا اصل ایجنڈہندوتو اکے ذریعے اکھنڈ بھارت کی صورت میں اسکے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کا ہے جس کے تحت ہندو سماج برصغیر میں مسلم حکمرانوں کے ہاتھوں اپنی ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لینا چاہتا ہے چنانچہ انتہا پسند ہندو حکمرانوں نے سیکولر بھارت کو ہندو انتہا پسند ریاست میں تبدیل کرکے پورے خطے میں ہندو جنونیت کی آگ بھڑکا دی ہے جو بالآخر پوری دنیا کی تباہی کی جانب دھکیل سکتی ہے۔ ریاست جموں و کشمیر پر قیام پاکستان کے وقت سے ہی بھارت کا غیرقانونی تسلط جمانا اسکے مسلم دشمن توسیع پسندانہ عزائم ہی کا تسلسل تھا چنانچہ وہ اپنے ہی پیدا کردہ اس مسئلہ کے حل کیلئے یواین سلامتی کونسل کی قراردادوں کو بھی پائوں تلے روندتا رہا اور عالمی قیادتوں و عالمی اداروں کے ہر دبائو اور ثالثی کی پیشکشوں کو بھی رعونت کے ساتھ ٹھکراتا رہا جبکہ اس نے پاکستان بھارت دوطرفہ مذاکرات کے حوالے سے 1972 میں طے پانے والے شملہ معاہدہ کو بھی دوطرفہ مذاکرات کی ہر میزپررعونت کے ساتھ الٹا کر غیرموثر اور ناکام بنایا اور کشمیر پر اٹوٹ انگ والی ہٹ دھرمی اختیار کرکے بھارتی تسلط قبول نہ کرنے والے کشمیریوں پر ظلم وتشدد کی نئی مثالیں قائم کردیں۔ بھارت کی مودی سرکار نے تو مسلم دشمنی کی ساری حدیں عبور کرلی ہیں اور ہندوتوا کے ایجنڈے کی بنیاد پر مسلمانوں کے علاوہ بھارت کی دوسری اقلیتوں بشمول سکھوں کی زندگیاں بھی اجیرن بنا دی ہیں۔ مقبوضہ وادی بشمول لداخ کو جبراََ بھارت میں ضم کرنے کیلئے مودی سرکار نے دو سال قبل پانچ اگست کو جو یکطرفہ اقدامات اٹھائے جن کے بعد اس نے کشمیریوں کو گھروں میں محصور کرکے ان پر باہر کی دنیا کے تمام دروازے بند کر رکھے ہیں وہ دنیا بھر میں ظلم و جبر کی نئی مثال ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ مودی سرکار نے کورونا کی آڑ میں بھی مسلمانوں پر ظلم و جبر کے راستے نکالے اور انہیں کورونا کے پھیلائو کا موردِالزام ٹھہرایا جس
پر مودی سرکار کیخلاف دنیا بھر میں نفرت و حقارت کی لہر اٹھی ہوئی ہے۔ اس کا اندازہ اس امر سے ہی لگایا جا سکتا ہے کہ جنرل اسمبلی میں خطاب کیلئے واشنگٹن آنیوالے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو وہاں کشمیریوں اور سکھوں کے سخت احتجاج کا ہی سامنا نہیں کرنا پڑا امریکی صدر جوبائیڈن نے بھی خود انکے استقبال سے گریز کیا جبکہ انکے خطاب کے موقع پر حریت کانفرنس کی اپیل پر کشمیریوں نے مقبوضہ وادی اور بھارت میں مکمل ہڑتال کی۔ وزیراعظم عمران خان نے اسی تناظر میں جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ہندوتوا کا ایجنڈا رکھنے والے جنونی بھارت کے ہاتھوں علاقائی اور عالمی امن کو لاحق خطرات کی نشاندہی کی اور عالمی قوتوںسے پاکستان اور بھارت کے مابین ایک نئی جنگ روکنے کے اقدامات اٹھانے کا تقاضا کیا جن میں اصل قدم مسئلہ کشمیر کے سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کیلئے اٹھانا مقصود ہے۔ بلاشبہ علاقائی اور عالمی امن مسئلہ کشمیر کے حل کے ساتھ ہی جڑا ہوا ہے جس کی جانب وزیراعظم نے جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شریک عالمی قیادتوں کو متوجہ کیا ہے۔ اس تناظر میں جنرل اسمبلی کا موجودہ اجلاس روایتی اجلاسوں کی طرح محض نشستند گفتند خوردن و برخاستند پر ہی منتج نہیں ہونا چاہیے بلکہ اجلاس میں اقوام عالم کو درپیش تمام مسائل بالخصوص اسلامو فوبیا اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ٹھوس لائحہ عمل طے کرناہوگا۔ورنہ ایسی اقوام متحدہ کی کوئی ضرورت نہیں عیسائیوں کیلئے مشرقی تیموراورجنوبی سوڈان میں توفوری حرکت میں آجاتی ہے مگرمسلمانوں کے دیرینہ مسائل ،کشمیر،فلسطین اورسائپرس (قبرص)پچھلے سترسالوں سے حل طلب ہیں ،مسلمان ممالک عوام یہ سوچنے میں حق بجانب ہے کہ یواین اوصرف غیرمسلم کے مفادکے تحفظ کیلئے کام کرتی ہے جبکہ مسلم امہ کے مسائل سے ہمیشہ طوطاچشمی اختیارکئے رکھی ہے۔اب بھی اگریواین اومسلمان ممالک کے دیرینہ حل طلب مسائل پرآنکھیں بندرکھتی ہے توپھرایسی اقوام متحدہ کی مسلمانوں کوکوئی ضرورت نہیں ہے اورمسلمان ملکوں مغربی استعمارکے تابع یواین اوکوخیربادکہہ دیناچاہئے۔@isaqibmasood
-

چکوال میں ابھرتی پاکستان تحریک انصاف تحریر ۔۔ محمد نثار ٹمن
ویبسٹر کی ڈکشنری کی تعریف کے مطابق لیڈرشپ سے مراد ’’رہنمائی کرنے کی اہلیت‘‘ ہے۔ جبکہ میرین کورز (Marine Corps) کی تعریف کے مطابق لیڈرشپ ذہانت، انسانی تفہیم اور اخلاقی کردار کی ان صلاحیتوں کا مرکب ہے جو ایک فردِ واحد کو افراد کے ایک گروہ کو کامیابی سے متاثر اور کنٹرول کرنے کے قابل بناتی ہیں۔
لیڈر یا قائد سے مراد ایک ایساشخص ہوتا ہے جب اسے کوئی ذمہ داری یا عہدہ عطا کیا جائے تووہ اسے اپنے منصب کے شایان شان انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ازل سے لیکر موجودہ دور تک قیادت کوئی آسان ا ور معمولی کام نہیں ہے کہ جس کی انجام دہی کی ہر کس و ناکس سے توقع کی جائے۔لیڈروں کو ہردم اندرونی و بیرونی چیلنجز کا سامنا ہوتا رہتا ہے ۔ ان چیلنجز سے عہدہ براں ہوکر ہی لیڈرز اعتماد ،استحکام اور قبولیت کا درجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔گوناں گوں علاقائی مسائل اور درپیش چیلنجز کے باعث قیادت کی باگ ڈور ہمیشہ اہل افراد کے ہاتھوں میں ہونا بے حد ضروری ہے۔ معاشرے کو درپیش تمام مسائل کا حل ایک فرد واحد سے ہرگز ممکن نہیں ہوتا ہے بلکہ اسکے آپ کے ساتھ موجود ٹیم میں اہلیت و قابلیت کا ہونا بھی نہایت اہم ہوتا ہے۔ اکیلے انسان کاقیادت کی ذمہ داریوں سے عہدہ براں تقریبا ناممکنات میں شامل ہے۔ لیڈر کا کام اپنی اقتداء کرنے والوں کو ان مسائل کے حل کرنے کے لئے تحریک فراہم کرنا ہوتا ہے۔ یاد رکھئے کہ کوئی بھی ماں کے پیٹ سے لیڈر بن کر نہیں آتا، سب اپنے ہاتھوں سے اپنی قائدانہ صلاحیت کو تعمیر کرتے ہیں۔ اور یہ بھی یاد رکھئے کہ یہ اصول صرف سیاسی لیڈروں پر لاگو نہیں ہوتے، بلکہ ہر طرح کے لیڈر کے لئے ان کی افادیت یکساں ہے۔
ضلع چکوال میں بھی پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے ایم این اے محترمہ فوزیہ بہرام اور انکی پوری ٹیم کو بھی ایک ایسی ہی قیادت سپرد کی گئی ہے۔ جس کےلیے مشکلات بھی ہیں اور چیلیجز بھی ہیں، آستیں کے سانپ بھی ہیں اور مخلص دوست بھی ہیں۔ قیادت کےلیے نہایت ضروری ہے قیادت کے اصولوں کو سمجھنا اور انکو ایپلیمنٹ کروانا، اور ایم این اے فوزیہ بہرام کے اندر یہخوبی شاید اسلیے بھی دوسروں سے نمایاں ہے کیونکہ انہوں نے 1991 میں Eisenhower Fellowship کا ایوارڈ بھی لے رکھا ہے۔ اور اس سے بھی زیادہ اعزاز کی بات یہ ہے کہ 1953 میں امریکہ میں President Dwight D. Eisenhower کی سربراہی میں اس ادارے کا قیام ہوا اور آج تک صرف اور صرف 2000 افراد کو یہ فیلوشپ ایوارڈ دیا گیا جن میں ایم این اے فوزیہ بہرام کا نام بھی شامل ہے۔ اس ادارے کا مقصد کسی بھی انسان کو بطور سپاہی ، سیاستدان ، اور عالمی رہنماء انسانیت کی خدمت اور بھلائی کےلیے تیار کرنا ہے۔ یہ تنظیم جدید اور قابل سیاسیی اور باقی شعبہ زندگی کے رہنماؤں کی نشاندہی کرتی ہے ، انکو بااختیار بنانے میں مدد اور انکو آپس میں جوڑتی ہے، آپ اسکی مزید تفصیلات گوگل پر بھی پڑھ سکتے ہیں۔
فوزیہ بہرام نے 2015 میں پاکستان تحریک انصاف کو جوائن کیا اور اسکی وجہ ملک میں ایک تبدیلی اور فرسودہ سیاسیی نظام کا خاتمہ کرنا تھا، جو پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کا ویژن ہے۔سیاسیی لیڈی ہونے کے ساتھ ساتھ فوزیہ بہرام، ہیلتھ، لوکل گورنمنٹ اور رورل ڈویلپمنٹ کی ممبر بھی ہیں، اسکے علاوہ فوزیہ بہرام کو بزنس لیڈی، ماہر آرائیش خانہ اور ماہر زراعت بھی کہا جاتا ہے۔ اگر تعلیم کی بات کی جائے تو ایم این اے فوزیہ بہرام نے Poli Glot School London سے 1978 میںGeneral Hotel Administration اور Sale Management میں ڈپلومہ بھی کیا ہوا ہے، جبکہ اسکے ساتھ ساتھ انہوں نے پاکستان سے ڈبل گریجویشن بھی کر رکھی ہے۔
اگر فوزیہ بہرام کے فیملی بیک گراونڈ کی بات کی جائے تو انکی دادی جان جنکا نام سونینا تھا، وہ افریقہ کے شاہی خاندان سے ہونے کے ساتھ ساتھ پرنسسز آف بلاپ کیج پینڈا، موزہ نیک بھی تھیں (سورس گوگل)۔ انکی فیملی کے کحچھ ممبرز ورلڈ بنک اور یونائٹیڈ نیشن میں سئینر عہددار بھی ہیں, جبکہ انکے انکل مسٹر ایف ایم خان انڈین فلم انڈسٹریزی میں سئینر علمبردار تھے۔ انکی بھتیجی پلواشہ خان بھی ایم این اے ہیں، جبکہ انکی ہمشیرہ کے سسر (مرحوم) عمر خان پاکستانی سینٹر رہ چکے ہیں۔ انکی سیاسیی فیملی کے بہت سارے افراد پنجاب، سندھ اور خیبر پختون خواہ میں سئنیر بیروکریٹس ، جبکہ کحچھ پاکستان آرمی میں آفیسرز ہیں۔پاکستانی سیاست میں ضلع چکوال کی اہمیت سے انکار کرنا ناممکن ہے کیونکہ اس ضلع نے ہر دفعہ ممبر قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی بنائے ہیں۔ اس وقت پاکستان مسلم لیگ ق اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان سیاسیی رسہ کشی اپنے عروج پر ہے، حکومت پاکستان کیطرف سے علاقائی ترقیاتی فنڈز کی الاٹمنٹ شروع ہوچکی ہے اور دونوں پارٹیوں کے دفاعی جیلوں کے مابین نہایت معرکہ خیز سوشل میڈیا جنگیں شروع ہیں، ہر طرف سے کریڈیٹ کریڈیٹ کی آوازیں سنائی دے رہیں ہیں۔ فیس بک گلیوں اور نالیوں کی تصاویرں سے بھری پڑی ہے۔ 25 جولائی 2018 کے دن سے علاقے میں ایک سیاسیی دنگل شروع ہوا تھا، جو اس وقت اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے۔
مسلم لیگ ق کے اندر سیاسیی اور علاقائی سپورٹرز کی منافقت عروج پر پہنچ چکی ہے۔ چاچے مامے کو ترجیح دی جانے لگی ہے، ووٹرز میں سخت مایوسی کا سماں ہے۔ ماضی کے لیڈروں کیطرح حافظ عمار یاسر اور انکی ٹیم ممبرز صرف گنے چنے مواقعوں پر نظر آتے ہیں۔ عوام کے اندر بے چینی سرایت کرچکی ہے۔ چند نام نہاد صحافیوں کی غلط پولیسوں کی وجہ سے ق لیگ کی سیاسیی ساکھ کو بہت نقصان ہوچکا ہے اور آگے بھی ہونے کے خدشات نمایاں ہیں۔علاقائی صحافی مسلم لیگ ق کےلیے بیساکھی کا کردار ادا کررہے ہیں۔ علاقے میں پروفیشنل صحافیوں کی کمی اور ناقص صحافتی علم و عمل کی بدولت مسلم لیگ ق کے اندر موجود انکےانسوسٹرز کو بھی شدید تحفظات ہوچکے ہیں۔ لیکن انکی مجبوری ہے کیونکہ انہوں نے پیسہ لگا رکھا ہے، وصولی کیے بغیر بغاوت نہیں کرسکتے ہیں۔
دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف اس وقت پورے علاقے میں ابھرتی جارہی ہے۔ کیونکہ گھر کو چلانے کے لیے گھر کے سربراہ کا سمجھدار ہونا نہایت ضروری ہوتا ہے، اسی طرح سیاسیی جماعت کی قیادت یا علاقائی معاملات کو بخوبی سرانجام دینے کےلیے بھی عقل و فہم اور مناسب تعلیم کے ساتھ ساتھ ایک محنتی اور جانفشان ٹیم کا ہونا بھی نہایت اہم ہوتا ہے۔ لیڈر کوئی فرشتہ نہیں ہوتا ہے، نہ ہی اسکو الہام ہوتا ہے، بلکہ اسکی متحرک ٹیم کے ذریعے اسکو مسائل کی نشاندہی ہوتی ہے ۔ علاقائی لیڈر شپ ہو یا قومی لیڈر شپ ہو، ٹیم ورک کے بغیر ناممکن ہے۔ فوزیہ بہرام کی سماجی ورکس کےلیے اپنے ٹیم کے ہمراہ پورے علاقے میں نہایت بہترین حکمت عملی سے کام جاری و ساری کروا دئیے ہیں۔ صرف و صرف ٹمن کےلیے ایک اندازے کے مطابق 55 لاکھ کے فنڈز جاری کروائے گئیے ہیں اور سابق یونین کونسل چئیرمین رانا عظمت ٹمن کی سربراہی میں علاقے میں کام جاری و ساری ہیں۔ 55 لاکھ کی محدود رقم میں پورے علاقے کو پختہ کرنا شاید ناممکنات میں سے ہے لیکن اسکے باوجود فوزیہ بہرام کی ٹیم اپنی طرف سے کوشاں ہے کے ماضی سے ابھی تک چلے آنے والے محرومی کے شکار محلے یا علاقے زیادہ سے زیادہ مستفید ہوسکیں۔
مستقبل میں بلدیاتی الیکشن کی آمد آمد ہے اور علاقائی سیاسیی پس منظر نہایت دلچسپ و مقابلہ خیز بنا ہوا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کے علاوہ سردار منصور حیات بھی ایک بار پھر نئے انداز اور نئی جماعت مسلم لیگ نون کے نمایندے کے طور پر پنجا آزمائی کریں گے۔ اور بھولی بھالی عوام کو ایک بار پھر سے میٹھے میٹھے سیاسیی لڈو کھلانے کی کوشش کریں گے۔ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ ہوتا ہے کے مقابلہ مسلم لیگ ق اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان ہی ہوگا اور فلوقت پاکستان تحریک انصاف کا پلڑا بھاری لگا رہا ہے۔ لیکن یہاں مجھے سابقہ صدر آصف علی زرداری کی وہ بات یاد آرہی ہے کے ” سیاست کی کوئی بھی بات حرف آخر نہیں ہوتی ہے” ۔ تمام اندازے و تخمینے موجودہ حالات و عوامی رجحان کو دیکھ کر لگائے جاتے ہیں اور میں نے بھی اسی اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ ہر انسان کو حق ہے کے وہ سیاسیی منظر نامے پر اپنی اپنی رائے قائم کرسکتا ہے، کیونکہ ہم سب آزاد ملک کے باشندے ہیں اور ماں کے پیٹ سے آزاد ہی اس دنیا میں آئے ہیں۔
-

بلدیاتی الیکشن اور بلدیاتی اداروں کی کارکردگی تحریر : اسامہ خان
بلدیاتی ادارے وہ ادارے ہیں جہاں لوگوں کو ہر دوسرے دن کام پڑتا رہتا ہے ایک کسی کی وفات کسی کی پیدائش کا اندراج کروانا پورے شہر کو صاف ستھرا رکھنا اور ایسے بہت سے کام بلدیاتی اداروں میں کیا جاتے ہیں لیکن عوام کو جو سب سے بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ ہے صفائی ستھرائی کا نظام بڑے شہروں میں تو بلدیاتی اور پرائیویٹ ادارے ایکٹو
رہتے ہیں اور صفائی ستھرائی کا کام بہت اچھے طریقے سے نبھاتے ہیں لیکن چھوٹے شہروں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے اور کوئی پوچھے گا بھی کیوں کیونکہ وزیروں نے تو بڑا شہر میں داخل ہوتا ہے نہ چھوٹے شہر میں کوئی داخل ہوگا نہ کسی کو اس چیز کی خبر ہوگی اور غلطی سے کوئی اگر چھوٹے شہروں میں صفائی ستھرائی کے لیے کمپلین بھی کر دیتا ہے تو تب بھی صفائی ستھرائی نہیں کی جاتی کیونکہ ان سے جواب طلب کرنے والا کوئی نہیں ہوتا ان سے پہلے تک جتنی حکومتی گزری انہوں نے کبھی اس چیز پر غور نہیں کیا بڑے شہروں میں تو سب غور کر لیتے ہیں لیکن چھوٹے شہروں کی فریاد کوئی نہیں سنتا سن 2018 میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بنی اور یہ سلسلہ شروع ہوا اس وقت سے سنتے آرہے ہیں کہ بلدیاتی الیکشن ہوں گے کب ہوں گے یہ کسی کو نہیں پتا لیکن اس حکومت سے بھی میرا وہی گلا ہے جو پچھلی حکومتوں سے رہا ہے پاکستان تحریک انصاف بھی بڑے شہروں کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھتی ہے یا ان کے نمائندے رکھتے ہیں لیکن چھوٹے شہروں کے فریاد سننا ان کے لئے باعث شرم ہے آج اگر ان میں کوئی لاہور سے کمپلین کرتا ہے تو یہ بھاگ کر اس کمپلین کو رجوع کرتے ہیں لیکن اگر کوئی وہی کمپلین چھوٹے شہر سے کرتا ہے تو یہ صرف اس کو نظر انداز کر دیتے ہیں صرف اس لئے کہ ہمارا اس شعر سے کیا مطلب کیونکہ ان کو مقبولیت تو بڑے شہروں سے مل نہیں ہوتی ہے چھوٹے شہروں کے ان کا کیا لینا دینا سننے میں آرہا ہے کہ جنوری دو ہزار بیس میں بلدیات کے الیکشن ہوں گے میں امید کرتا ہوں اس سے پہلے پہلے ہر شہر میں بلدیات کے لیے فوکل پرسن تعینات کر دیا جائے گا حکومت پنجاب کی طرف سے تاکہ چھوٹے شہروں کے بھی معاملات کو حل کیا جا سکے اگر حکومت پنجاب یہ اقدام سر انجام دیتی ہے تو مجھے امید ہے لوگوں کے 80 فیصد معاملات یہی پر حل ہو جائیں گے اور جب حکومت پنجاب فکر پرسنٹ کائنات کر دے گی بلدیات کے لیے ہر شہر میں تو فوکل پرسن ہر بلدیات کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ ٹیوٹر اکاؤنٹ بنوائے گا جس سے اس شہر کی عوام گھر بیٹھے اپنے مسئلے ٹوئٹر پر شیئر کریں گے فوکل پرسن کو اور بلدیات کے اداروں کو ٹھیک کرتے ہوئے اور فوکل پرسن ان مسلوں کو جلد از جلد حل کروانے کی کوشش کرے گا اس طرح سے ہر شہر کی کاردگی بہتر سے بہتر ہوتی چلی جائیگی کیونکہ لاہور میں بیٹھے گورنمنٹ پنجاب کے افسروں کو نہیں پتا کے چھوٹے شہروں میں کہاں پر کام نہیں ہو رہا اور کہاں پر توجہ کی ضرورت ہے یہ کام صرف اسی شہر کے نمائندے ہی کر سکتے ہیں اور یہ کام حکومت پنجاب کو کرنا چاہیے اگر وہ بلدیات کا الیکشن جیتنا چاہتے ہیں تو اگر ایسا نہ کیا گیا تو بہت سے شہروں میں بہت سے معاملات ہیں جن کی بنا پر بہت سے شہروں سے تحریک انصاف الیکشن ہار سکتی ہے لیکن اگر یہ اقدام اٹھایا جائے تو عوام کے لیے بھی سہولت ہو جائے گی اور حکومت پنجاب کی کارکردگی بھی بہتر ہو جائے گی
Twitter: @usamajahnzaib -

سیرت نبیﷺ تحریر:غلام نبی بلوچ
تحریر:غلام نبی بلوچ
اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں حضرت آدم سے لے کر خاتم نبی حضرت محمدﷺ تک ایک لاکھ چوبیس ہزار پغمبر بھیجے۔ان پغمبروں میں زیادہ تر نبی تھے اور رسول قلیل تعداد میں۔نبی اور رسول میں بنیادی فرق یہ ہے نبی سابقہ شریعت کی پیروی کر کے لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچاتا جبکہ رسول صاحب شریعت یعنی ایک نئ شریعت لے کر لوگوں تک رب العالمین کا پیغام پہنچاتا۔ہر رسول کو نبی کہ سکتے ہیں لیکن ہر نبی کو رسول نہیں کہ سکتے۔حضرت محمد خاتم النبیینﷺ سے پہلے انبیاء اکثر وبیشتر اللہ کا پیغام مخصوص بستیوں اور قبیلوں میں پہنچاتے تھے اور بیک وقت ایک سے زائد انبیاء بھی ہوتے تھے۔لیکن اللہ کے محبوب حضرت محمدﷺ کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔حضرت محمدﷺ چند بستیوں یا قبیلے کے لیے پغمبر بنا کر نہیں بھجے گۓ۔حضرت محمدﷺ پوری دنیا کے لیے پغمبر بنا کر بھیجے گۓ۔
نبوت سے پہلے کی زندگی:
حضرت محمدﷺ 20 اپریل 571 عیسوی کو مکہ مکرمہ میں پیدا ہوۓ۔آپﷺ کے والد کا نام عبداللہ اور والدہ ماجدہ کا نام بی بی آمنہ تھا۔آپ کے والد عبداللہ وفات پا چکے تھی آپ کی تربیت آپ کے دادا عبدالمطلب نے کی۔جب آپ چھ برس کی عمر کو پہنچے والدہ کا انتقال ہوا۔آٹھ برس کی عمر میں آپ کے دادا کا انتقال ہوا تو پرورش آپ کے چچا ابو طالب نے اپنے سپرد لیا۔آپ نے اپنے چچا کے ساتھ تجارت کی غرض سے دوسرے ملکوں کا سفر کیا جس میں بصرہ اور شام شامل ہیں۔حضرت محمدﷺ کی ایمانداری سے متاثر ہو کر حضرت خدیجہ نے آپ سے نکاح کر لیا۔حضرت خدیجہ ایک بیوہ خاتون تھی۔نکاح کے وقت حضرت خدیجہ کی عمر 40 سال اور آپﷺ25 برس کے تھے۔آپﷺ ہمیشہ سچ بولتے تھے اور امانت میں خیانت نہیں کرتے تھے اس لیے مکہ کے لوگوں نے آپ کو صادق اور امین کا لقب دیا۔
نبوت کے بعد کی زندگی:
جب آپﷺ چالیس سال کے ہوۓ تو اللہ نے آپ کو نبوت جیسے عظیم نعمت سے نوازا۔غار حرا میں آپ پر پہلی وحی مبارک نازل ہوئی۔آپﷺ کی نبوت پر سب سے پہلے حضرت خدیجہ،حضرت ابوبکر صدیق،حضرت علی،حضرت زید بن حارث،حضرت عثمان بن عفان،سعد بن ابی وقاص، طلحہ بن عبیداللہ، عبدالرحمٰن بن عوف، ابو عبیدہ بن جراح اور زبیربن العوام ایمان لاۓ۔آپﷺ نےاسلام کی تبلیغ شروع کی تو مکہ کے لوگ آپﷺ کے دشمن ہوگۓ۔دشمنی کی انتہا یہاں تک تھی کہ مکہ کے لوگ آپﷺ کےقتل کےمنصوبے بنانے لگے۔مسلمانوں پر ظلم و تشدد کیا جاتا۔اس وجہ سے کچھ صحابہ حبشہ کی طرف ہجرت کر گۓ۔أپﷺ نے بھی حضرت ابوبکر کے ساتھ مدینہ کی طرف ہجرت کی۔مدینہ پہنچنے سے پہلےآپﷺ نے قبا کےمقام پر قیام کیا اور مسجد قبا کی بنیاد رکھی۔اس کے بعد آپﷺ مدینہ پہنچے اور مہاجرین و انصار میں رشتہ مواخات قائم کر دیا۔ آپﷺ کی قیادت میں ہونے والے غزوات میں غزوہ بدر،غزوہ احد،غزوہ خندق,غزوہ خیبر اور غزوہ حنین نمایاں ہیں -آپﷺ کی قیادت میں مسلمانوں نے نہ صرف کفار مکہ کو شکست دے کر 8 ہجری میں مکہ فتح کر لیا بلکہ اس پہلے اور بعد میں دیگر قبائل کو اپنا فرمانبردار بنایا۔آپﷺ نے 10 ہجری میں حج بیت اللہ ادا کیا جسے حجتہ الوداع کہتے ہیں۔آپﷺ 63 برس کی عمر میں وفات پاگۓ۔آپﷺ کو اسی حجرے میں سپردخاک کیا گیا جس میں آپﷺ کی وفات ہوئی تھی۔آپﷺ کا روضہ مسجد نبوی کے اندر واقع ہے۔
آپﷺ کی چند ازواج مطہرات کے نام درج ذیل ہیں:
حضرت خدیجہ بنت خویلد،حضرت سودہ،حضرت عائشہ بنت ابی بکر،حضرت حفضہ بنت عمر،حضرت زینب بنت خزیمہ،حضرت زینب بنت حجش،حضرت جویریہ بنت حارث،حضرت میمونہ بنت حارث،حضرت صفیہ۔
آپﷺ کے بیٹوں کے نام درج ذیل ہیں:
قاسم،عبداللہ اور ابراہیم۔
آپﷺ کے بیٹیوں کے نام درج ذیل ہیں:بی بی فاطمہ،بی بی زینب، بی بی ام کلثوم اور بی بی رقیہ
Twitter id: @GN_bloch
-

ہزار بار بشویم دہن زمشک و گلاب۔۔۔ ہنوز نامِ تو گفتن کمالِ بے ادبی است تحریر عقیل احمد راجپوت
شہنشاہِ دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد ان کی کے جن کی خاطر دنیا تخلیق کی گئی وہ جو نبیوں کے سردار ہیں وہ جو رحمت اللعالمین ہیں کے جن کے آنے سے قیصر و کسریٰ کے درباروں میں زلزلہ آگیا وہ جو یتیم مکہ ہوکر آقائے دو جہاں ہیں وہ کے ان کی آمد اس وقت ہوئی جب پورا جہاں بدکاریوں میں ڈوب چکا تھا لڑکیوں کو ذندہ درگور کرنے والے معاشرے میں محبت اور امن کا پیغام لیکر آنے والے میرے تمہارے ہم سب کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو امت مسلمہ کو بھائی سے بھائی کو ملانے آئے کالے اور گورے کا فرق مٹانے والے چاند کو دو ٹکڑے کرنے والے سر سے پاؤں تک لہو لہان کرنے والوں کے لئے بھی بددعا نا کرنے والے محمد کے کیا کہنے
وہ کے جن ہونے کی سعادت نصیب کرنے والی وہ اونٹنی جو کمزور اور آہستہ آہستہ مقام پر پہنچا کرتی تھی وہ ایسے بھاگی کے طاقتور اونٹ کے مالکان دیکھتے رہ گئے
حلیمہ کی بکریوں نے اتنا دودھ دیا کے برتن ختم ہو گئے دودھ آنا ختم نہیں ہوا
وہ کے جن کے غلام بلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن کی بیٹی فاطمتہ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن کے نواسے حسن و حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہمیرے آقا میرے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے کیا کہنے وہ جو عرشِ بریں پر جوتیا پہن کر گئے وہ جہاں براق کا اختتام ہوا جہاں جبرائیل امین کے جانے کی حد ختم ہو وہاں میرا اور آپکا نبی اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہو اپنی امت کی بخشش کی ہر دعا میں اللہ سے سفارش کرنے والا میرا آپکا نبی کریم محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم.
کچرہ پھینکنے والی عورت کی تیمارداری کرنے جانے والے رحمت اللعالمین محمد جنت میں جن کے ہاتھوں سے حوض کوثر کا پانی نصیب والوں کو ملے گا
دین اور دنیا کا خلاصہ کرکے امت کو راہِ حق دکھانے والے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم فاقوں میں اللہ کا شکر ادا کرنے والے محمد کافروں میں بھی صادق اور امین کہلاتے والے محمد اللہ کے احکامات پر عمل کرنے کا طریقہ بتانے والے محمد اپنے آخری وقتوں میں بھی امت امت پکارنے والے محمد پر لاکھوں کروڑوں درود وسلام
انسانوں کے نبی جنات کے نبی مچھلیوں کے نبی فرشتوں کے نبی میرا اور آپکا نبی کسی شہر صوبے یا ملک برادری کا نہیں پوری کائنات کا نبی سارے نبیوں کا بنی بن کر آیا ہاں اپنی پیدائش پر خوش ہوا کر اے امت محمدی کے انسان تو اس نبی کا امتی بن کر دنیا میں پیدا ہوا جو ساری کائنات کے نبیوں کے سردار ہیں
ہاں ہاں وہ نبی جس نے دنیا میں قدم رکھا تو ہزاروں سال سے جلنے والی فارس کی آگ بجھ گئیمیرا اور آپکا نبی وہ ہے جس سے پوچھ کر موت کا فرشتہ حجرے میں داخل ہوا اور فرمایا اللہ کے نبی جانا چاہتے ہیں تو چلیں نا جانے کا حکم ہو تو میں واپس ہوجاتا ہو اللہ اللہ فرشتے نے پہلی بار کسی سے پوچھا ہے کہ روح نکال لو یا نہیں جب سے دنیا بنی ہے یہ کسی انسان سے نہیں پوچھا گیا آنا چاہیں تو آجائیں نا آنا چاہیں تو نہیں لانا ایسا ہے ہمارا نبی
لوگوں رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہو نبی کریم کے سامنے پیش ہوگے کیا منہ لیکر جاؤ گے دنیا میں کتنی بدمعاشی اور غلط کاریوں میں لگے پڑے ہو نبی کے احکامات کی پابندی کرو انصاف اور سچ کے سوا کسی چیز پر نا چلو اپنی اور اپنے چاہنے والوں کی ابدی زندگی کو بہتر بنانے کیلئے کوششیں کرو خود بھی عمل کرو دوسرے کو بھی تلقین کرو نبیوں والے کام امت محمدی کے حصے میں آئے ہیں
غلطی کی ہزار بار معزرت
-

تمباکو نوشی ایک جان لیوا سرگرمی ہے۔ تحریر۔نعیم الزمان
آج کے دور میں تمباکو نوشی ایک عام سی عادت بن گی ہے ہر دوسرا شخص اس نشے یا عادت میں مبتلا ہے۔یاد رکھیں تمباکو نوشی ایک جان لیوا سرگرمی ہے اس کے مضر اثرات سے پوری دنیا میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ بہت ساری بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں ۔ جس میں دمے کی بیماری پھپھڑوں کی بیماری بلڈ پریشر اور شوگر جیسی بیماریاں جو بعد میں کینسر جیسی موزی بیماری میں تبدیل ہو جاتی ہیں ان کا شکار ہو رہے ہیں ۔اور لاکھوں کی تعداد میں لوگ اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اس عادت سے چھٹکارا پانا مشکل ہو جاتا ہے۔ سیگریٹ نوشی ہر لحاظ سے نقصان دہ ہے چاہے وہ جسمانی لحاظ سے ہو معاشرتی لحاظ سے ہو یا معاشی لحاظ سے ہو یا اخلاقی لحاظ سے۔ سیگریٹ نوشی کرنے والے سے ہر وقت اس کے ہاتھ سے منہ سے اس کے کپڑوں سے بدبو سی آتی رہتی ہے جو گھر کے باقی افراد کو اور معاشرے کے لوگوں کو متاثر کرتی ہے۔ میں بھی عرصہ پانچ سال سے اس عادت میں مبتلا تھا۔ شروع شروع میں فیشن کے طور پر سیگریٹ نوشی کا استعمال کیا ۔اور بعد میں سیگریٹ نوشی کا عادی بن گیا۔ مگر آہستہ آہستہ اس کے مضر اثرات محسوس ہونے لگے جو میرے لیے پریشانی کا باعث تھے ۔ جیسے چلنے میں دشواری۔ گیم کے دوران بھاگنے میں دشواری۔ سیڑھیاں چڑھنے میں دشواری۔ ایک دن میں نے سیگریٹ نوشی ترک کرنے کا ارادہ کیا۔جو کے فوراً سے بہت مشکل تھا۔ میں نے ہومیوپیتھک کے ایک ڈاکٹر سے رجوع کیا۔ ان کی بتائی ہوئی چند باتوں پر عمل کیا ۔الحمداللہ میں نے اس عادت سے جلد چھٹکارا حاصل کر لیا ۔ وہ چند باتیں آپ لوگوں سے شئیر کرتا چلوں ۔
1- سیگریٹ نوشی چھوڑنے کا پختہ ارادہ کرنا۔
2- ایسی کسی بھی چیز کو پاس نہ رکھنا جس کا تعلق۔ سیگریٹ نوشی سے ہو جس میں( سیگریٹ کی ڈبیا، سیگریٹ جلانے کے لئے ماجس یا لائٹر)
3-سیگریٹ نوشی کرنے والے دوست احباب سے دوری کیوں کہ یا زیادہ مشکل کام ہوتا ہے اپنے دوست احباب سے دور رہنا ۔مگر کچھ وقت کے لیے یہ قربانی بھی دینا پڑتی ہے۔
4-اگر آپ کو سیگریٹ نوشی زیادہ تنگ کرے سیگریٹ پینے کی حاجت ہو۔ تو ادرک کے چھوٹے چھوٹے پیس کر لیں اور ان کو اپنے پاس رکھ لیں یا کچن میں استعمال ہونے والی دال چینی کے چند ٹکڑے۔ جب سیگریٹ پینے کا دل کرے تو ادرک یا دال چینی کے چند پیس چبا لیں جس سے آپ کی سیگریٹ کی حاجت پوری ہو جائے گی۔
اس عمل کو ایک سے دو ہفتے تک اپنائیں انشاء اللہ آپ سیگریٹ نوشی کی عادت سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں۔ سب سے اہم بات انسان کا ارادہ ہوتا ہے۔جب آپ کسی بھی کام کے لیے ارادہ کر لیں تو آپ کی تھوڑی سی کوشش آپ کو منزل تک پہنچا سکتی ہے۔ اگر آپ یا آپ کا کوئی عزیزبھی اس نشے یا عادت میں مبتلا ہے تو ان چند باتوں پر عمل پیرا ہو کر اس نشے یا عادت سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں۔ دعا ہے اللہ پاک ہم سب کو اس نشے اور عادت سے چھٹکارا دے۔اور سب کو صحت مند زندگی بسر کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔
جزاک اللہ خیرا
@786Rajanaeem
-

ادب و احترام گھر کو جنت بنا دیتا ہے | تحریر :عدنان یوسفزئی
گھر ایک ایسا معاشرتی مرکز ہے جو جنت کی تصویر بھی ہے اور دوزخ کا نمونہ بھی، قرآن کی رو سے دوزخ کی آگ کے شعلے چاروں طرف سے گھیرتے ہوئے نظر آتے ہیں، لیکن گھر کی دوزخ کے شعلے انسانوں کو نظر نہیں آتے ۔مگر وہ ان کو گھن کی طرح کھا جاتے ہیں ۔بےچینی، اضطراب مایوسی، بےسکونی جیسی بہت سی کیفیات نے افراد خانہ کو اس قدر ایک دوسرے سے بیگانہ بنادیا ہے کہ حشر کا سا سماں معلوم ہوتا ہے غصہ، حسد، تکبر، نخوت اور غیبت جیسے سینکڑوں روحانی امراض نے افراد خانہ میں بے ادبی اور بداحترامی کو جنم دیا ہے ۔
یہی بے ادبی اور بداحترامی افراد میں عدم تعاون اور عدم مطابقت کا باعث ہے ۔گھر کا چھوٹا سا معاشرہ نظارہ جنت کی بجائے نظارہ دوزخ ہے ۔جب معاشرہ کے بیشتر گھروں میں یہ کیفیات نشوونما پاتی ہیں تو تمام معاشرہ بداخلاقیوں کا نمونہ بنتا ہے ۔یہی بداخلاقیاں افراد معاشرہ کے لئے ازخود اس دنیا میں عذاب کا موجب بنتی ہیں، گویا یہ عذاب فانی ہے مگر وہ اسی سے آنے والے "ابدی” عذاب کے مستحق بنتے چلے جاتے ہیں ۔
اس کے برعکس باہمی ادب و احترام وہ کنجی ہے جس سے ہر قسم کے تالے کھلتے چلے جاتے ہیں۔یہی وہ صراطِ مستقیم جس پر چل کر افراد میں محبت وپیار کے سوتے پھوٹتے ہیں، ایثار اور قربانی کے جذبے کار فرما ہوتے ہیں، بغض وعناد کے شعلے ٹھنڈے ہوتے ہیں ۔احساسات محرومی پر صبر کرنا آتا ہے، ہر عمل پر بدنیتی، نیک نیتی میں تبدیل ہوتی ہے ۔باہمی احترام سے نیکیوں میں اضافہ اور بدیوں میں کمی آتی ہے ۔معیار زندگی کے حصول کی دوڑ ختم ہوتی ہے ۔احترام آدمیت کی تربیت کا شوق پیدا ہوتا ہے ۔قرابت داروں کے حقوق کی ادائیگی و حفاظت ہوتی ہے ۔انفرادیت کی بجائے اجتماعیت جلا پاتی ہے ۔ہر فرد سب کے لئے اور سب ایک کے لئے سوچتے ہیں ۔ایک گھر ہی نہیں، بلکہ تمام معاشرہ فلاح وبہبود کا نمونہ بنتا ہے ۔
کامیابی کے لئے ہر وقت اور ہر مقام پر دو چیزیں ضروری ہیں ۔ایک ایمان اور دوسرے نیک اعمال ایک بنیاد ہے اور دوسری عمارت خوبصورت عمارت کے لئے مضبوط بنیاد کی اشد ضرورت ہے ۔اللہ تعالیٰ نے انسان اور کائنات کو پیدا کیا ۔انسانوں میں باہمی ادب و احترام کی بنیاد اللہ کا ادب و احترام ہے اللہ تعالیٰ کا ادب و احترام کیا ہے؟
اللہ کو محض اور محض ایک مانا جائے ۔اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے، اسی لئے شرک کو سب سے بڑی بے ادبی، بداحترامی، بدتمیزی اور ظلم عظیم کہا گیا ہے ۔مزید اللہ سے سب کچھ ہونے کا یقین، کسی سے کچھ نہ ہونے کا یقین ہو، کسی اور سے بات بننے کا یقین اللہ کی سب سے بڑی بے ادبی ہے ۔اللہ کا بے ادب کسی اور کا ادب و احترام نہیں کرسکتا ۔دوسرے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور انہیں کے طریقوں میں کامیابی کا مکمل یقین ہو، غیروں کے طریقوں میں خدا کے رسول کی بے ادبی اور بداحترامی کا یقین ہو ۔الغرض ایمانیات ہوں، عبادات ہوں اور اخلاق و معاملات ہوں ۔اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ادب و احترام کا ایک خاص معیار قائم کیا ہے ۔اس معیار کو قائم کیے بغیر باہمی ادب و احترام کا تصور کرنا غلط ہے ۔گھر ہو یا معاشرہ، اخلاق و معاملات کے اس معیار کو مشعل راہ بنانا ہوگا، ورنہ جنت نہ یہ دنیا بنے گی اور نہ اس دنیا میں ملے گی ۔
اس وقت ضرورت ہے کہ مسلمان قوم کو اسباب برکت پر لایا جائے، مسلمان معاشرہ میں عملاً اسباب برکت کو رواج دیا جائے، تاکہ انسانیت خدائی برکت کے ثمرات ولوازمات سے مستفیض ہوسکے ۔
آسان ترین اور معاشرہ میں ہر محلہ گھر اور ہر فرد کیلئے جسم و روح کی تسکین و خوشی کا ذریعہ، ظاہری و باطنی جسمانی و روحانی برکتوں سے مالا مال کردینے والا مجرب نسخہ برکت کیا ہے؟
سنئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا البرکتہ مع اکابرکم برکت تمہارے بڑوں کیساتھ ہے ۔بڑوں کا ادب و احترام اور ان کی راحت رسانی اور ان کے حقوق کی ادائیگی برکتوں کے نزول کا بہترین اور یقینی ذریعہ ہے ۔
بے شمار واقعات اس پر شاہد ہیں کہ والدین کے خدمت گزار اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے والے اور ان کے حقوق شریعت کے مطابق ادا کرنے والے کو ہر طرح کی برکتوں سے نوازا گیا اور ایسے ہی اساتذہ اور علماء اور اہل اللہ کا ادب و احترام اور ان کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے حقوق ادا کرنے والے کے علم و عمل اور تقوی و طہارت میں ظاہری و باطنی برکتیں نمایاں نظر آتی ہیں اور اس کے برعکس جو لوگ بڑوں کے حقوق میں کوتاہی کرتے ہیں، والدین اور اساتذہ کا ادب و احترام اور حسن سلوک شریعت کے مطابق نہیں کرتے تو ان کی ہر چیز میں بے برکتی ہی بے برکتی ہے اور یہی شکوہ و گلہ زبان زد عام ہے کہ کسی چیز میں برکت نہیں ۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے بڑوں کا ادب و احترام کرنیوالا بنائے ۔
Twitter | @AdnaniYousafzai
-

سیاست اور عیاشیاں تحریر: ذیشان اخوند خٹک
سیاست اور عیاشیاں
سیاست ایک ایسا معزز شعبہ ہے جس کو کوئی صحیح طریقے سے نبھائے تو وہ عبادت کے زمرے میں آجاتی ہے. تاریخ گواہ ہے کہ پہلے پہل صحابہ رضی اللہ عنہ نے ایسے ایسے حکمرانی کی جس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی اور ان حکومتوں کی تعریف صرف مسلمان نہیں بلکہ کافر بھی کرتے ہیں. وہ ایسی سلطنت بنی تھی جس میں تپتی صحرا میں بھی خاتون کو خود محفوظ سمجھتی تھی.
سیاست اور عیاشی کا تعلق بہت قریب رہا ہے اور عیاشیوں کی وجہ سے ہی مسلمانوں کی بڑی بڑی سلطنت زمین بوس ہوگئی.
آج مسلمانوں کی غالب اکثریت جوکروڑوں تک جاپہنچی ہے مگر پھر بھی لاچار زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ خستہ حالی ان کامقدر بنی ہوئی ہے اور ان کی معیشت اور نظام تباہی کا شکار ہے۔ ان سب کی سے بڑی وجہ حکمرانوں کی عیاشیاں ہے.مسلمانوں کی برصغیر پر ایک عظیم حکومت تھی مگر جب مسلمان حکمرانوں نے عیاشیاں شروع کردی اور انگریزوں نے برصغیر کی تجارت اپنے ہاتھ میں لے لی.
تو پھر مسلمانوں پر ایسا وقت بھی آیا کہ مسلمانوں کے حکمران جیل کی سلاخوں میں بند ہوگئے اور اپنے وطن میں دفن ہونے کی آرزو بھی پورا نہیں ہوئی.جس وقت یورپ کے حکمران بہترین کالج، ریسرچ سنٹر اور یونیورسٹیاں بنا رہے تھے اس وقت ہمارے عیاش حکمران تاج محل، باغات تعمیر کررہے تھے. اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے حکمران قوم کی ترقی میں سنجیدہ تھے یا عیاشیوں میں؟
پاکستان کے حکمران عیاشیوں میں ڈھوبے نہیں ہے بلکہ تمام عالم اسلام کے حکمران عیاشیوں میں ڈھوبے ہوئے ہے. میڈیا میں ایک عرب شہزادے فیصل بن فہد کی خبر شائع ہوئی جس نے جوئے کی ایک میز پر 10کھرب ڈالر (یعنی تقریباً چھ سو کھرب روپے) ہارے.
عرب حکمرانوں نے اپنے عیاشیوں کیلئے دبئی جیسا شہر بنا ڈالا.پاکستان کے اہم محکموں کے دفاتر میں حریم شاہ جیسے فحاش لڑکیاں کا آنا جانا لگا رہنا اور وہاں ٹک ٹاک ویڈیوز بنانا عام بات بن گئی ہے. پاکستان کے حکمرانوں کی عیاشیوں میں جنرل رانی کا نام سرفہرست ہے جس نے اپنے حسن کے جلوے دیکھا کر ملک کی اہم ترین خاتون بن گئی اور صدر پاکستان ان کے انگلیوں پر ناچتے تھے. جس ملک میں اتنی فحاشی پھیلی ہوئی ہوں اس میں سابق گورنر سندھ زبیر عمر کی ویڈیو تو ایک ذرہ ہے. یہ تو اس ملک کی معمول بن چکا ہے کہ اعلیٰ افسران اور سیاست دان لڑکیوں کو نوکری کا جھانسہ دیکر ان کو ہراساں کرتے ہیں.
"پارلیمنٹ سے بازار حسن تک ” کتاب نے اس لئے شہرت حاصل کی کہ اس میں پارلیمنٹ سے جڑے لوگوں ، حکومتی ایوانوں اور سیاستدانوں کے عیاشیوں کے قصے لکھے ہوئے تھے.
نواز شریف کے پہلے دور حکومت میں طاہرہ سید کو پرائم منسٹر ہاوس میں "خاتون اول "کا درجہ حاصل تھا دونوں کے عیاشیوں کے قصے کسی سے ڈھکے چھپے نہ رہے. طاہرہ سید کو بہت مالی فوائد حاصل ہوئے اور میاں صاحب نے مری میں پنجاب ٹورازم ڈویلپمینٹ کارپوریشن کی چئیر لفٹ بھی طاہرہ سید کو دے دی.
اس کتاب میں پاکستان کے سیاستدانوں کے وہ عیش پرستانہ واقعات لکھے گئے ہیں جس پر ایک محب وطن کی آنکھیں شرم سے جھک جاتی ہے.ٹوئٹر ہینڈل : @ZeeAkhwand10