Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • انڈیا امن کا دشمن تحریر : نواب فیصل اعوان

    انڈیا امن کا دشمن تحریر : نواب فیصل اعوان

    بھارت شروع دن سے آج تک پاکستان کی مخالفت ہی کرتا آیا ہے چاہے وہ عالمی سطح پہ ہو ملکی سطح پہ بھارت نے ہمیشہ پاکستان کے امن کو تباہ کرنے میں کوٸ کسر نہیں چھوڑی ۔
    بھارتی ہٹ دھرمی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ بھارت نے ستر سال سے زاٸد عرصہ گزرنے کے باوجود بھی کشمیر پہ اپنا ناجاٸز تسلط برقرار رکھا ہوا ہے ۔
    اقوام متحدہ میں بھارتی ریاستی دہشتگردی کے خلاف کٸ بار قراردادیں منظور ہوٸیں مگر اقوام عالم ان قراردادوں پہ عمل درآمد کرانے میں ناکام رہا ہے ۔
    پاکستان نے کٸ بار بھارت کو بے نقاب کیا ہے چاہے وہ افغانستان سے بیٹھ کے پاکستان پہ دہشتگردانہ کارواٸیاں کرانے کا معاملہ ہو یا بلوچستان کے حالات خراب کرنے کیلۓ باغی بلوچوں کو فنڈنگ کا معاملہ ہو پاکستان اس معاملے کو اقوام عالم تک پہنچاتا رہا ہے ۔
    بھارت نے پاکستان کو غیر محفوظ اور غیر مستحکم کرنے کیلۓ سوشل میڈیا پہ بھی انڈین کرونیکلز کی شکل میں پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پہ ایک منظم نیٹ ورک چلایا پے جو ڈس انفو ویب نے بے نقاب کیا ۔
    پاکستان کو انٹرنیشنل کرکٹ کیلۓ غیرمحفوظ ثابت کرنے کیلۓ بھارت سری لنکن ٹیم پہ بھی حملے میں ملوث رہا ہے ۔
    حال ہی میں جس طرح پاکستان کو بین الاقوامی سطح پہ نیچا دکھانے کی جو کوشش کی گٸ الحَمْدُ ِلله پاکستان کے ریاستی اداروں نے بہترین کارگردگی کا مظاہرہ کرتے ہوۓ انڈیا کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا ۔
    بھارت کی جانب سے نیوزی لینڈ ٹیم کو ہراسمنٹ ای میل بھیجنے کے معاملے سے سب بخوبی آگاہ ہیں کہ کس طرح گپٹیل کی بیوی کو مسلمان کے نام سے ای میل بنا کے دھمکی دی گٸ کہ اس کے شوہر کو پاکستان میں قتل کر دیا جاۓ گا ۔
    پاکستان و نیوزی لینڈ کی سیریز کا ملتوی ہونا اسی کی ہی کڑی پے ۔
    حالانکہ سیکیورٹی کے بہترین انتظامات ہونے کے باوجود نیوزی لینڈ کا سیریز منسوخ کر کے جانا جہاں ان کی ٹیم کو نان پروفیشنل بنا گیا وہیں ریاستی اداروں کی دو دن کی محنت سے اس فیک ای میل کے پیچھے بھارت کا نکلنا دنیا کیلۓ المیہ ۔
    نیوزی لینڈ کے دورے سے قبل سکیورٹی کے انتظامات چیک کرنے کیلۓ جو وفد آیا تھا اس نے پاکستان کے سکیورٹی کے بہترین انتظامات کو سراہا تھا مگر اچانک سیریز کا ملتوی ہونا ایک بین الاقوامی سازش ہے ۔
    کیا بھارت پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز آۓ گا ۔؟
    یہ وہ سوال ہے جو قبل از وقت تو نہیں ہے مگر عالمی فورم پہ بھارتی موجودگی میں پوچھا ضرور جاۓ ۔
    دنیا جانتی ہے کہ بھارت ایک انتہا پسند ملک ہے جہاں اقلیتیوں کو برابری کے حقوق حاصل نہیں ہیں ۔
    بھارت کو دنیا لگام دے کیونکہ یہ دنیا کے امن میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ..
    موجودہ دور میں جس طرح بھارت پاکستان سے دشمنی کو فروغ دے رہا ہے وہ ہماری آنے والی نسلوں کیلۓ بہت بھیانک ثابت ہو سکتا ہے ۔
    اس وقت جنوبی ایشیا میں دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے ہیں جو کہ خطے میں قیام امن کیلۓ مثبت رویہ نہیں ہے ۔
    بھارت پاکستان دشمنی میں اس قدر آگے نکل گیا پے کہ وہ اپنے بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ اسلحے کی خرید کیلۓ مختص کرتا ہے ۔
    بھارت کا ایٹمی پروگرام محفوظ نہیں ہے اس کا واضع ثبوت یہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل دو بھارتی باشندے یورینیم کو مارکیٹ میں فروخت کرتے دھر لیۓ گیۓ جب کہ عالمی دنیا اس معاملے پہ شفاف تحقیقات کو یقینی بناتی پر خاموشی سوالیہ نشان ہے ۔؟
    کیا بھارت اقوام عالم سے سنبھالا نہیں جا رہا ۔؟
    جنوبی ایشیا میں امن تب تک قاٸم نہیں ہو سکتا جب تک بھارت مسلہ کشمیر کے پرامن حل پہ راضی نہیں ہوتا ۔
    اگر دنیا چاہتی ہے کہ جنوبی ایشیا میں دو ایٹمی طاقتیں ایک دوسرے سے جنگ کرنے سے باز رہیں تو اقوام عالم بھارت کو باور راۓ کہ وہ مسلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے پیش نظر عالمی قوانین کی پاسداری کرتے ہوۓ حل کرے اور کشمیر سے اپنی فوجیں واپس بلاۓ ۔
    اقوام عالم بھارت کو پاکستان کے اندرونی و بیرونی معاملات میں مداخلت سے بھی باز رکھے ورنہ خطے میں حالات کشیدہ ہو سکتے ہیں ۔

    @NawabFebi

  • شوگر تحریر: فرح بیگم

    شوگر تحریر: فرح بیگم

    شوگر ایک ایسی بیماری ہے تو تا حیات رہتی ہے ۔یہ بیماری ہر سال لاکھوں افراد کو ہلاک کرتی ہے اور یہ کسی کو بھی لا حق ہو سکتی ہے ۔ یہ بیماری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جسم اپنے اندر موجودہ گلوکوز کو حل کر کے خون میں شامل نہیں ہوتا ۔جس کی وجہہ سے دل کے دورے ، گردے فیل ، نا بینا پن ، پاؤں کٹنے کا خطرہ ہو سکتا ہے ۔ اس وقت پاکستان کا ہر چوتھا بندا ڈیبیٹس کا شکار ہے ۔ شوگر کی بیماری سے ہر سال ڈیڑھ لاکھ پاکستانی معذور ہے۔یہ تیزی سے بڑھتا ہوا مسئلہ ہے ۔اور اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 42 کروڑ 22لاکھ افراد اس بیماری کا شکار ہیں ۔ عالمی صحت کے مطابق یہ بیماری آج سے 4 سال پہلے کے مطابق 4 گناہ زیادہ ہے ۔ کیوں کہ ہر چار میں سے ایک فرد کو یہ بیماری لازمی ہے۔اور یہ بڑھتی ہی چلے جا رہی ہے ۔ یہاں تک کہ شوگر پاکستان میں ہلاکتوں کی آٹھویں بڑی وجہہ بھی ہے ۔
    شوگر کی وجہہ یہ ہے کہ جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو ہمارا جسم کاربوہائیڈریٹس اور گلوگوز میں بدل دیتا ہے جس کے بعد پینکریاز میں ہارمون انسولین ہمارے جسم کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ توانا رہنے کے لیے اس شکر کو اپنے اندر جذب کرے۔ شوگر تب لا حق ہوتی ہے جب انسولین سہی مقدار میں نہیں ہوتی یا کم ہوتی ہے ۔جس کی وجہہ سی شوگر ہمارے اندر جمع ہونا شروع ہوتی ہے ۔ شوگر کی کہیں اقسام ہیں ۔ٹائپ ون ڈیبیٹس میں لبلبہ انسولین بنانا بند کر دیتی ہے ۔ جس کی وجہہ سے شوگر خون میں جمع ہونا شروع ہوتی ہے ۔ سائنس دان بھی اس کا حل نہیں نکال سکے انکا کہنا تھا کہ یہ کوئی جینیاتی اثر کی وجہ سی ہے ۔شوگر کے زیادہ تر مریض ٹائپ ون کا شکار ہیں ۔ ٹائپ ٹو میں لبلبہ ضرورت کے مطابق یا تو انسولین نہیں بناتا یا جو بناتا ہے وہ ٹھیک طرح سے کام نہیں کرتا.
    کچھ حاملہ خواتین کو ڈیبیٹس ہو جاتی ہے ۔اس کی وجہہ یہ ہے کہ انکا جسم ان کے لیے اور بچے کے لیے کافی انسولین نہیں بنا پاتا ۔ ایک اندازے کے مطابق 6 سے 16 فیصد خواتین کو حمل کے دوران شوگر ہو جاتی ہے ۔ وہ خواتین وازش کے ذریعے اسکو ختم کر سکتی ہیں ۔تا کہ اسکو ٹائپ ون میں جانے کے لیے روکا جا سکے ۔اگر لوگوں کو بڑھتی ہوئی گلولوز کے بارے میں بتا کر انکی مدد کر سکتے ہیں ۔ اگر علامات کی بات کی جائے تو سستی اور پیاس کا زیادہ لگنا، پیشاب زیادہ آنا، وزن کم ہونا، نظر کم آنا، زخموں کا نہ بھرنا شوگر کی علامت ہے. شوگر کا زیادہ انحصار جینیاتی اور ماحول پر ہوتا ہے۔ لیکن اپ اپنے آپ کو صحت مند غذا اور چست ذندگی اپنا کر رہ سکتے ہیں ۔ میٹھے کھانوں اور شربتوں سے اجتناب کریں۔ سفید روٹی کی بجاۓ خالض اٹے کا استعمال کریں ۔صحت مند غذاؤں میں پھل ، سبزی کا استعمال کریں۔ جسمانی ورزش بھی خون میں شوگر کے لیول کو کم کرتی ہے ۔ برطانیہ میں این ایچ ایس کے مطابق ہفتے میں کم از کم تیز چل قدمی اور سیڑھی چڑھنا مفید ہے ۔ ترقی یافتہ ممالک میں اسکا ذمدار غربت کو کہا گیا ہے ۔

    Twitter Id: @iam_farha

  • پاک افغان تعلقات، چند اعتراضات اور اُن کے جوابات تحریر: آمنہ امان

    افغانستان پاکستان کا ہمسایہ مسلم ملک ہے جس کے ساتھ پاکستان کا 2600 کلومیٹر سے طویل مشترکہ بارڈر ہے۔ افغانستان غیور اور بہادر افغان قبائل کا ملک ہے جو صدیوں سے قبائلی لڑائیوں اور بیرونی حملہ آواروں سے نبرد آزما رہا ہے۔
    قیام پاکستان کے وقت افغانستان پر بھارت نواز قبائل کی حکمرانی تھی چنانچہ ابتداء میں افغانستان کا جھکاؤ بھارت کی طرف رہا اور پاک بھارت جنگوں میں افغانستان بھی ایران کی مانند بھارت کا ہی ہمیشہ حمایتی رہا تاہم کچھ افغان قبائل ہمیشہ پاکستان کو اپنا اسلامی بھائی مانتے رہے اور پاکستان سے اچھے تعلقات کے خواہاں رہے۔
    افغانستان قدرتی معدنیات سے مالا مال ملک ہے چنانچہ جب سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا تو پاکستان کے دوست افغان قبائل نے اُنہیں کس طرح اور کن کی مدد سے دھول چٹاٸ یہ ایک کھلا راز ہے۔
    مگر سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد بھارت نواز قبائل حکومت قائم کرنے کے لیے اپنے دوست بھارت کی خفیہ ایجنسی کے ساتھ مل کر پاک دوست قبائل کے خلاف صف آرإ ہوۓ اور یوں افغانستان میں خانہ جنگی کا آغاز ہوا اس دوران نائن الیون حادثے کو جواز بنا کر امریکہ افغانستان پر حملہ آور ہوا اور خطے میں سہ رخی کولڈ وار کا آغاز ہوا۔
    بھارت نواز قبائل امریکہ اور نیٹو فورسز کے ساتھ مل کر پاکستان اور اسلام پسندوں کا قتل عام کروانے لگے تاکہ ان کے بیرونی آقاخوش ہوکر انہیں حکومت سونپ دیں
    چنانچہ پاکستان اور اس کے افغان حامیوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کے لیے ان کی ہم نام جماعت (تحریکِ طالبان پاکستان ٹی ٹی پی) بنائی گئی اور اُس کے ذریعے
    پاکستان میں شدید دہشت گردی کرواٸ گٸ تاکہ ان قبائل کو بدنام کیا جاسکے اور پاکستانی عوام کے دلوں میں ان کے خلاف نفرت بھری جاسکے۔ اور اس طرح اسلام کو بھی بدنام کیا جاسکے کہ اسلام پسند لوگ دہشت گرد ہوتے ہیں۔ اس طرح وہ پاکستان فورسز کو اپنے دوست افغان قبائل کی مدد کرنے سے روکنا چاہتے تھے اور پاکستان میں ان کی مدد چند جرائم پیشہ پشتون لوگوں نے کی جن کا زریعہ آمدن پاک افغان بارڈر پر منشیات اور اسلحے کی ناجائز اسمگلنگ تھا۔ پاک فوج نے کئی جوانوں کی شہادت کے بعد پاک افغان بارڈر پر آہنی باڑنصب کی ہے تاکہ دہشت گردوں اور اسمگلرز کی آمدورفت روکی جاسکے جس کی اس ناجائز دھندے سے وابستہ لوگوں کو شدید تکلیف ہے اور انہوں نے (پی ٹی ایم )جیسی شر پسند جماعت بنا رکھی ہے تاکہ سرحدی علاقوں کی عوام کو حکومت کے خلاف بھڑکا کر علاقے سے چیک پوسٹس اور بارڈر سے باڑ ختم کروا سکیں۔ مگر ان کے یہ گھناٶنے عزائم کبھی پورے نہیں ہوں گے ان شاء اللہ۔

    یہاں پاکستان پر امریکہ کو فوجی اڈے دینے کا اعتراض کیا جاتا ہے
    تو جواب یہ ہے کہ ہم افغانستان کے ہمسایہ اور دوست ضرور ہیں مگر آزاد ملک ہیں پاکستان وہی فیصلہ کرے گا جس سے اس کی اپنی سالمیت کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا ۔اگر پاکستان کا یہ اقدام غلط ہوتا تو تیس سال سے پاکستان میں قیام پذیر چالیس لاکھ افغان مہاجرین احتجاجاً واپس ناں چلے جاتے؟
    اورکیا خطے میں پاکستان واحد ملک ہے جس میں امریکی اڈے ہیں؟
    کیا ہماراخزانہ اور دفاعی بجٹ اتنا زیادہ تھا کہ ہم عالمی پابندیوں اور امریکی حملے کا براہ راست سامنا کرسکتے وہ بھی افغانستان کی خاطر جو ہمیشہ بھارت کا حامی رہا؟
    دوسرا اعتراض کہ پاکستان نے اپنے حمایتی اسلام پسند افغان قبائل کو دھوکا دیا اور انہیں گرفتار کرکے امریکہ کو دیا؟
    تو جناب ان قبائل کے اپنے ترجمان موجود ہیں ۔نام ہیں سہیل شاہین اور ذبیح اللہ مجاھد اُنہیں اچھے سے علم ہے کس نے ان کا ساتھ دیا کس نے دھوکا۔ آپ ان کے ترجمان بننے کی کوشش ناں کریں جبکہ آپ کچھ جانتے ہیں ناں آپ ان کے ساتھی ہیں۔ اگر پاکستانی ہیں تو پاکستانی رہیں اور دوسروں کے ترجمان بننے سے گریز کریں۔
    نیٹو فورسز افغانستان سے رخصت ہوئیں ۔پاکستان کے دوست قبائل حکمران بنے اور پاکستان سے اعلانیہ محبت اور بھاٸ چارے کا اعلان کرتے رہتے ہیں جس سے بھارت نواز لوگوں کو شدید تکلیف کاسامنا ہے کیونکہ ان کے آقاؤں کی بھاری سرمایہ کاری برباد ہوگئی ہے۔
    ۔ اِن شاء اللہ اب افغانستان میں پائیدار امن قائم ہوگا اور ہمارا یہ طویل بارڈر ہمیشہ محفوظ اور پُرامن رہے گا
    @Amanharris

  • قدرتی آفات، خطرہ برقرار ہے…..!   تحریر : اقصٰی صدیق

    قدرتی آفات، خطرہ برقرار ہے…..! تحریر : اقصٰی صدیق

    قدرتی آفات، خطرہ برقرار ہے…..!

    قدرتی آفات یعنی زلزلے، سیلاب، سمندری طوفان، خشک سالی، قحط اور مختلف وبائی امراض ہزاروں لاکھوں برس سے اس دنیا میں موجود ہیں۔
    البتہ بہت سی وبائی امراض جیسے طاعون اور چیچک وغیرہ پر انسان نے اب قابو پا لیا ہے، انہی وبائی امراض سے تھوڑے ہی عرصے میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بن جاتے تھے۔
    تاہم بڑی قدرتی آفات یعنی زلزلوں، سیلابوں، طوفانوں اور کسی حد تک وبائی امراض سے ابھی تک انسان نجات نہیں پا سکا۔

    دنیا بھر میں ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلیاں انیسویں صدی سے تیز تر ہوتی جا رہی ہیں، جن کے واضح اثرات 2000ء سے دنیا کے اب مختلف ممالک میں واضح ہو چکے ہیں،
    جس کی وجہ سے دو دہائیوں میں مالدیپ جیسا ملک سمندر برُد ہو جائے گا جب کہ بنگلہ دیش کا تقریبا بیس فیصد 20٪ رقبہ زیر آب آنے کی پیش گوئیاں ہیں۔ پاکستان میں بھی قدرتی آفات کا سلسلہ 1990ء کی دہائی سے شروع ہوا 1997ء تا 2003ء تک بلوچستان اور سندھ کے بارانی علاقوں میں شدید نوعیت کی خشک سالی رہی۔
    پھر سمندری طوفان آئے، 2005 میں آزاد کشمیر اور خیبرپختونخوا میں بدترین زلزلہ جبکہ 2008 میں زیارت میں زلزلہ آیا۔
    اور 2010 میں تاریخ کا خوفناک اور تباہ کن سیلاب آیا ،
    2011 میں سندھ میں سیلاب اور پنجاب میں ڈینگی وائرس نمودار ہوا۔
    ان آفات سے اندازہ ہوتا ہے کہ مستقبل قریب میں ہمیں دوبارہ ایسی قدرتی آفات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
    لہذا وفاقی اور صوبائی حکومت کو اس حوالے سے جامع منصوبہ بندی کر لینی چاہیے۔ 2005 ء سے اب تک آنے والی امداد اور تعاون سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ رفتہ رفتہ عالمی اداروں کو ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے سے قدرتی آفات پر امداد میں کمی واقع ہوتی جا رہی ہے۔
    زلزلوں کے حوالے سے دیکھا جائے تو خطے کے ممالک چین، ایران، افغانستان، ترکی، ازبکستان، تاجکستان ترکمانستان کرغزستان، قازقستان اور آزربائیجان و دیگر وہ علاقے ہیں، جہاں زلزلے ہمیشہ سے تباہی مچاتے رہے ہیں۔
    سیلاب اور طوفانوں کے اعتبار سے بنگلہ دیش، بھارت چین، مالدیپ اور نیپال ایسے ممالک ہیں جہاں سیلاب بڑی قدرتی آفت کے طور پر آتے ہیں۔
    نومبر 2011 میں نیپال میں ہونے والی سارک سربراہ کانفرنس میں یہ بھی طے پایا ہے، کہ قدرتی آفات کے لیے لئے سارک ممالک ملک مشترکہ لائحہ عمل اپنائیں۔ پاکستان سارک کے علاوہ ایک ایکو رکن بھی ہے۔
    جس میں پاکستان، ایران اور ترکی کے علاوہ افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک شامل ہیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ ان ملکوں کے تعاون سے قدرتی آفات کے لیے مشترکہ منصوبہ بندی اور حکمت عملی اختیار کرے۔
    یوں اگر مستقبل میں پاکستان میں زلزلے اور سیلاب کی صورت میں کوئی قدرتی آفت آتی ہے تو علاقائی ملکوں سے فوری طور پر امداد حاصل ہوگی اور مسائل پر جلد قابو پالیا جائے گا۔

    قومی سطح پر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا ادارہ قدر مستحکم ہوا ہے۔ مگر ضرورت اس امر کی ہے، کہ اس ادارے کو صوبائی سطح پر بھی مستحکم اور متحرک کیا جائے۔
    کمیونٹیوں کی سطح پر قدرتی آفات اور ان سے بچاؤ کے حوالے سے عوام میں شعور بیدار کیا جائے، اور امداد کی بجائے اپنی مدد آپ کے تحت کے جذبے کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جائے۔
    اس کے علاوہ اسکاؤٹ، گرلز گائیڈ اور شہری دفاع کے اداروں کو بھی مستحکم اور فعال کیا جائے۔

    2001ء سے لے کر اب تک دنیا بھر میں قدرتی آفات سے شدید طور پر متاثر ہونے والے ملکوں میں پاکستان، انڈونیشیا اور جاپان سرفہرست ہیں۔
    پاکستان میں 8 اکتوبر 2005ء کے بدترین زلزلے اور 2010 کے تباہ کن سیلاب نے گزشتہ دہائیوں کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے۔

    اس کے علاوہ وہ 2011 میں ڈینگی بخار کی صورت میں وبائی مرض پنجاب خصوصاً لاہور میں آیا اور اس میں ہزاروں افراد مبتلا ہوئے نومبر کے آخر تک ڈینگی وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد تقریبا سات سو 700 تک پہنچ گئی لیکن ڈینگی کی دہشت کو ختم نہ کیا جا سکا۔
    لاہور خصوصاً پنجاب کو ڈینگی کی وجہ سے اربوں روپے کا معاشی نقصان ہوا۔
    اگرچہ قدرتی آفات 2011ء میں جاپان، امریکا، چین تھائی لینڈ، ترکی اور برازیل میں بھی آئیں لیکن ہمارے یہاں آنے والے قدرتی آفات کے نشانات اس دھرتی کی زمین اور لوگوں کے سینوں میں ایک عرصے تک ہرے رہیں گے۔

    یہ تلخ حقیقت ہمارے سامنے ہے ہے کہ پوری دنیا میں ماحولیاتی اور موسمی تبدیلیوں کے بہت واضح اثرات شدید نوعیت کی قدرتی آفات کی صورت میں صدی کی پہلی دہائی سے شروع ہوچکے ہیں۔
    ہمارے ساحل پر دو کروڑ آبادی کا شہر کراچی، جو ملکی صنعت اور کاروبار کا 80 فیصد بوجھ اٹھائے ہوئے ہے، تو دوسری جانب ڈیپ سی پورٹ اور ابھرتا ہوا شہر گوادر ہے،
    جس کے ساحل پر صدیوں سے گارے کا آتش فشاں موجود ہے جسے مقامی آبادی آج بھی سمندر کی آنکھ کہتی ہے۔ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں مستقبل قریب کیلئے موثر منصوبہ بندی کرنی چاہیے، تاکہ مستقبل میں میں آنے والی آفات سے باآسانی نمٹا جا سکے۔

    تحریر : اقصٰی صدیق
    @_aqsasiddique

  • کاش میڈیا آزاد ہوتا تحریر  ہما عظیم

    کاش میڈیا آزاد ہوتا تحریر  ہما عظیم

    کاش میڈیا آزاد ہوتا۔۔۔۔۔ مہاتیرمحمد انگلینڈ کے دورے پر گئے۔ صبح ایک مقامی اخبار میں ان کا مزاحیہ کارٹون چھپ گیا۔ جب ان کی سرکاری طور پر وزیراعظم برطانیہ سے ملاقات ہوئی تو سب سے پہلے مہاتیرمحمد نے کارٹون ٹیبل پر رکھ کر پوچھا: "کیا برطانیہ میں مہمان کے استقبال کا یہی طریقہ ہے؟” انگلینڈ کے وزیراعظم نے کہا: "یہاں میڈیا آزاد ہے۔” مہاتیر محمد نے جواب دیا: "ٹھیک ہے جب تم میڈیا کی آزادی اور دوسروں کی دل آزاری میں تمیز سیکھ لو تو پھر ہماری ملاقات ہو گی۔” ملاقات ختم کر دی گئی۔ وہاں سے ملائیشیا اپنے آفس فون کیا کہ ان کے پہنچنے سے پہلے انگلینڈ کے باشندوں کے ملائیشیا میں موجود کاروبار فورا” بند و اکاؤنٹ سیل کر دئے جائیں اور انگریزوں کو 24 گھنٹے کے اندر اندر ملائیشیا بدر کر دیا جائے۔ حکم پر فوری عمل ہوا۔ جب مہاتیر محمد ملائیشیا پہنچے تو ان کے دفتر میں انگلینڈ کے وزیراعظم کا معافی نامہ ان سے پہلے پہنچ گیا تھا ساتھ ہی کارٹونسٹ کو پابند جیل کر دیا گیا۔ یہ وہ واقعہ ہے جو ہم نے اکثر کہیں کہیں پڑھا ہوگا سوال یہ ہے کہ میڈیا کو کہاں تک آزاد ہونا چاہیٸے اور کہاں پابند ہونا چاہیٸے ۔ آج کا میڈیا شتر بے مہار ہوا پڑا ہے اور صحافی منہ زور ۔۔کوٸی ہوچھنے والا نہیں۔ جھوٹ، طنز ، غلط بیانی،ذاتیات،چوروں اور لٹیروں کا دفاع میڈیا کا مقصد اور عین عبادت بن چکا ہے سب کچھ کہہ دیتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کچھ کہنے نہیں دیتے۔۔ ایک ہی گردان سننے میں آتی ہےمیڈیا آزاد نہیں ہے۔ میں نے بہت سوچا آخر یہ کس آزادی کی بات کرتے ہیں۔ہر بات کر دینے کے بعد یہ دکھڑا کہ میڈیا آزاد نہیں حکومت پر تنقید کرتے ہیں حکومت چپ چاپ سہہ جاتی ہے لب نہیں کھولتی

    عوام کو بیوقوف بنایا جارہا ہے۔اور عوام خاموشی سے اپنا تماشا آپ دیکھے چلے جارہی ہےاور آگے چلے جارہی ہے۔۔سچ کا کوٸی پرسان حال نہیں اور پھر میڈیا آزاد۔۔۔۔۔۔؟ پھر جھماکا ہوا دماغ میں کوندا لپکا اور بھیدکھلا کہ جناب میڈیا تو واقعی آزاد نہیں ہے۔۔وہ تو غلام ہے دولت کا۔۔مافیا کا۔۔چند دولت مند اشرافیہ کا۔وہ لفافے اور نوٹوں سے بھرے بیگ۔۔قلم انہیں نوٹوں سے تو خریدے جاتے ہیں۔۔زبان پر ان ہی نوٹوں کی ٹیپ ہوتی ہے۔۔لبوں سے اپنی مرضی کے بول بلواۓ جاتے ہیں۔ پھر وفاداری تو غلام کی بنتی ہی اپنے آقا کے ساتھ ہے وطن سے غداری کی کسے پرواہ ہے وطن نے کیا کہنا ہے خاموشی سے تک رہا اپنی بے عزتی بے حرمتی پر خاموش ۔۔وہ دولت نہیں دے سکتا۔وہ باہر ملکوں میں جاٸیداد نہیں بنواسکتا سو چھوڑو اسے اس کا دکھ کون سمجھے کون دیکھے۔ہم نے تو باہر فلیٹس لے لینے ہیں ۔باہر کا موسم انجواۓ کرنا ہے باہر علاج کروا لینا ہے۔یہاں تو بس کماٸی کرنے بیٹھے ہیں۔ کوٸی ملک کو گٹر کہہ دے۔کان بند زبان بند۔۔غلام اُف غلامی۔۔۔ ہاں آخر میں ضرور دو گز زمین لیکر دفن ہو جاٸیں گے اور نام ہوگا جی وطن میں دفن ہوۓ پھر یہ وطن بوجود بےوفاٸی کےاپنی باہوں میں سمیٹ لے گا بات کہاں سے نکلی کہاں جا پہنچی۔۔بات تھی آزادی میڈیا کی۔۔ظلم کی شاید یا جبر کی۔۔ آج افسوس یہ کہتی ہوں۔۔۔ کاش میڈیا آزاد ہوتا تو بتاتا وطن سے غداری کتنا بڑا گناہ ہے کاش میڈیا آزاد ہوتا تو بتاتا تمہاری فوج دنیا کی بہترین فوج ہے اس کی قدر کرو کاش میڈیا آزاد ہوتا تو بتاتا کون تمہارا دشمن ہے کون تمہارا سچا دوست ہے کاش میڈیا آزاد ہوتا تو بتاتا کہ میڈیا نے جو فحاشی پھیلاٸی ہوٸی ہے اس کے خلاف آواز اُٹھانی ہے کاش میڈیا آزاد ہوتا تو سچ پھیلاتا جھوٹ کو بے نقاب کرتا کاش میڈیا نوٹوں کا غلام نہ ہوتا کاش۔۔۔۔۔کاش میڈیا آزاد ہوتا۔۔۔۔۔

     

    @DimpleGirl_PTi

  • کامل مومن کی نشانیاں  تحریر: تیمور خان

    کامل مومن کی نشانیاں تحریر: تیمور خان

    قرآن کریم فرقان حمید میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے ایک مومن کامل کی دنیاوی و اخروی جزا بیان فرمائی ہے

    ہر کلمہ گو مسلمان اور مومن ہے لیکن جو شخص کلمہ پڑھ کے یعنی کلمہ اسلام کلمہ طیبہ پڑھ کہ پھر اس کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے، اللہ اور اس کے رسول کے احکامات اور فرامین کے مطابق اپنی زندگی بسر کرتا ہے ، تو وہ ہی مومن کامل کہلاتا ہے، اور جو شخص اپنے ایمان اور کلمہ طیبہ کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا تو مسلمان اور مومن تو وہ بھی ہے لیکن  وہ کامل مسلمان اور کامل مومن نہیں ہے۔

    اسی لئے اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن کریم فرقان حمید میں اور سرکارِ دوعالم ﷺ نے اپنے احادیثِ طیبہ میں ایک مسلمان اور مومن کے جتنے بھی انعامات اور ان کی جزا کا ذکر فرمایا ہے، تو وہ مومن کامل کی جزا کا ذکر فرمایا ہے ہر مسلمان اور مومن کی جزا جو قرآن وسنت میں بیان کی گئی ہے وہ نہیں ہے ہر ایک کلمہ پڑھنے والا ان انعامات کا جو دنیاوی ہوں یا اخروی ہوں مستحق نہیں ہے،دنیاوی و اخروی انعامات کا مستحق وہی ہے جو اپنے تقاضوں پر پورا اترتا ہے، اسی لئے قرآن کریم کی پہلی آیات میں بیان کیا گیا ہے، اللہ نے فرمایا کہ قرآن کریم یہ عظمت والی کتاب ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، اور پھر اللہ نے فرمایا یہ متقین کے لئے ہدایت ہے  اس کا مطلب یہی ہے کہ متقی وہ شخص ہے جو اپنے ایمان کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے جب ایک شخص ایمان کے تقاضوں کو پورا کرے گا تو قرآن کریم اس کے لئے راہ ہدایت بنے گا، اور اس کے برعکس ایک مسلمان جو قرآن کی ہدایت کو اپنانا ہی نہیں چاہتا تو قرآن کیسے اس کو ہدایت دے گا،اور دوسرے جگ پہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ تمام مسلمانوں کے لئے ہدایت ہے، اب ہدایت حاصل کون کرے گا جو متقی ہوگا, اسی لئے قرآن کریم میں دنیاوی و اخروی جتنے بھی احکامات ارشاد کیے گئے ہیں ان تمام کا تعلق مومن کامل کے ساتھ ہے۔

    اللہ تبارک وتعالیٰ نے مومن کامل کے متعلق سورہ کعف میں اخروی جو جزا ہے، اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا وہ لوگ جنہوں نے دنیا میں ایمان قبول کیا صاحب ایمان ہوئے اور اپنے ایمان کو تکمیل تک پہنچا دیا اور نیک اعمال کیے اللہ نے فرمایا اب ان کا اخروی جو انعام ہوگا اللہ نے مختصراً فرمایا کہ اللہ نے ان مومنین کاملین کے لئے جنت الفردوس میں مہمان نوازی تیار رکھی ہوئی ہے، جنت میں یہ اللہ کے مہمان ہونگے،ان کے لئے جتنے بھی انعامات ہے یہ سب کہ سب مومنین کاملین کے لئے ہے، اور اللہ نے فرمایا کہ دنیا میں بھی ایمان کامل اور مومنین کے لئے جزا ہے اس کے متعلق اللہ نے سورہ مریم میں فرمایا۔

    اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا وہ لوگ جنہوں نے ایمان قبول کیا اور نیک اعمال کیے، یعنی ایمان کے تقاضوں کو پورا کیا اللہ نے فرمایا دنیا میں ان کی جزا اور انعام کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں اس کے عزت پیدا فرما دے گا، اس کے ساتھ کسی کا نا سیاسی، معاشرتی یہاں تک کہ رشتہ داری کا تک نہیں ہوگا لیکن اللہ دوسرے لوگوں کے دلوں میں اس کے لئے محبت پیدا کر دے گا، اور یہی اللہ تعالیٰ ایمان کامل والوں کو عطا کرتا ہے۔

    اگر ہم اپنے برصغیر پاک و ہند کی تاریخ دیکھیں تو یہاں پہ جتنے بھی متقدمین اور کبار اولیاء جو آئے تو ان میں بڑا نام حضرت علی بن عثمان ہجویری رحمۃ اللّٰہ کا ہے، حضرت داتاگنج بخش جن کو کہا جاتا ہے لاہور میں ان کو تقریباً گزرے ہوئے ہزار سال ہونے کو ہیں، لیکن آج بھی ان کا نام برصغیر پاک وہند میں چمک رہا ہے آج بھی اگر ان کے مزار پہ آپ جائیں تو لوگ اس عقیدت سے ان کے مزار پر حاضری دیتے ہیں، لوگوں کا  وہاں بیٹھ کر تلاوت کرنا اللہ کا ذکر کرنا اور ان سے روحانی فیض حاصل کرنا اپنے لئے سعادت کا ذریعہ سمجھتے ہیں، اب ان کے ساتھ جو آئے افعانستان سے تھے ہمارا ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے تعلق زمانہ بھی نہیں وہ ہزار سال پہلے کے گزرنے ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود ہمارے دلوں میں ان کے لئے محبت اور محبت آج بھی موجود ہے، اسی طرح اجمیر شریف میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللّٰہ وہ تشریف فرما ہوئے انہوں نے ہندوستان میں اسلام کو سربلند کیا اسلام کو پھیلایا اور اپنی زندگی اللہ کے راستے میں وقف کی، جس وقت ہندوستان میں کلمہ پڑھنے والا کوئی نہیں تھا، اور جب آپ دنیا سے جا رہے تھے تو ایک مستند روایات کے مطابق 90 لاکھ مسلمانوں کو کلمہ پڑھا کر جا رہے تھے، اب ان کے ساتھ ہمارا کوئی تعلق زمانہ بھی نہیں لیکن پھر اللہ نے ہمارے دلوں میں ان کے لئے عقیدت اور محبت رکھی ہے کیونکہ یہ وہی لوگ ہیں جن کا اللہ نے ایمان کامل کا تزکرہ کیا، تو ان ایمان کاملین کی محبت اللہ فرماتا ہے میں لوگوں کے دلوں میں پیدا کر دوں گا،

    بخآری شریف کی حدیث ہے سرکارِ دوعالم ﷺ فرماتے ہیں کہ جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے جو کہ ایمان کامل کی جزا ہے دنیا میں، تو اللہ تبارک جبریل علیہ السلام کو دنیا میں بولاتا ہے اس دنیا میں امام بخآری اس حدیث کو روایت فرماتے ہیں، اللہ فرماتا ہے اے جبریل میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے جبریل فلاں بندے سے میں بھی محبت کرتا ہوں تم بھی کرتے ہو جا آسمانوں میں اعلان کر دے کہ فلاں بندہ اس سے تم لوگ بھی محبت کرو، فرشتے بھی اس نیک بندے سے محبت کرنا شروع کر دیتے ہیں اور فرشتوں کی محبت کہ وہ اس نیک بندے کے لئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعائیں مانگنا شروع کر دیتے ہیں، سرکارِ دوعالم ﷺ فرماتے ہیں کہ اس نیک بندے کی محبت جو آسمانوں میں بھی مقبول چکی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ اس کی محبت زمین بھی لوگوں کے دلوں میں مقبول کر دیتا ہے اور یہی اللہ کا وعدہ ہے، 

    اور اسی طرح مشہور حدیث ہے جس کو حدیث قدسی کہتے ہیں، اس میں اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے کہ جو میرے نیک بندے کے ساتھ دشمنی کرتا اس کے ساتھ میں جنگ کا اعلان کرتا ہوں وہ میرے جنگ کے لئے تیار ہو جائے، اور یہ وہی بندہ ہے جس نے اپنے زندگی اللہ کے احکامات کے مطابق گزاری ہے اور ایمان کامل کے تقاضوں کو پورا کیا ہے۔

    ایک شخص اللہ کا محبوب تب ہی بنتا ہے کہ اللہ نے اس پر جو احکامات فرض کئے وہ اس پہ پورا ہوتا ہے، اللہ کا حق بھی ادا کرتا ہے اور بندوں کے حقوق بھی عطا کرتا ہے، تو اللہ فرماتا ہے اس بندے کو میں اپنا محبوب بنا دیتا ہوں، اب یہ اللہ کا محبوب تو بن جاتا ہے لیکن اس کا یہ مرتبہ یہ پکا کب ہوتا ہے تو پھر اللہ فرماتا ہے کہ جب یہ مومن کامل فرائض کے بعد نوافل ادا کرتا ہے تو یہ یہ میرا قرب حاصل کرتا ہے یہ میرے اور بھی قریب ہو جاتا ہے، تو یہی وہ چیز ہے جو اللہ تبارک وتعالیٰ دنیا میں ایمان کامل والوں کو عطا فرماتا ہے، اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو بھی ایمان کامل والوں کی دولت عطاء فرمائے اور جو کلمہ طیبہ ہم نے پڑھا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

    @iTaimurOfficial

  • جنگ یمامہ تحریر سید عمیر شیرازی 

    جنگ یمامہ تحریر سید عمیر شیرازی 

     مسیلمہ کذاب کے دعویٰ نبوت کے نتیجے میں لڑی گئی جہاں 1200 صحابہ کرامؓ کی شہادت ہوئی

      اور اس فتنے کو مکمل مٹا ڈالا

     خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیقؓ خطبہ دے رہے تھے: لوگو! مدینہ میں کوئی مرد نہ رہے،اہل بدر ہوں

      یا اہل احد سب یمامہ کا رخ کرو”

     بھیگتی آنکھوں سے وہ دوبارہ بولے:

     مدینہ میں کوئی نہ رہے حتٰی کہ جنگل کے

      درندے آئیں اور ابوبکرؓ کو گھسیٹ کر لے جائیں”

     صحابہ کرامؓ کہتے ہیں کہ اگر علی المرتضیؓ

      سیدنا صدیق اکبرؓ کو نہ روکتے تو وہ

      خود تلوار اٹھا کر یمامہ کا رخ کرتے۔

     13 ہزار کے مقابل بنوحنفیہ کے 70000 جنگجو

      اسلحہ سے لیس کھڑے تھے۔

     یہ وہی جنگ تھی جس کے متعلق اہل مدینہ کہتے تھے: "بخدا ہم نے ایسی جنگ نہ کبھی پہلے لڑی

      نہ کبھی بعد میں لڑی”

     اس سے پہلے جتنی جنگیں ہوئیں بدر احد

      خندق خیبر موتہ وغیرہ صرف 259 

     صحابہ کرام شہید ھویے تھے۔ ختم نبوت ﷺ کے دفاع میں 1200صحابہؓ کٹے جسموں کے

      ساتھ مقتل میں پڑے تھے۔

     اے قوم! تمہیں پھر بھی ختم_نبوتﷺ کی

      اہمیت معلوم نہ ہوئی۔

     انصار کا وہ سردار ثابت بن قیس ہاں وہی

      جس کی بہادری کے قصے عرب و عجم 

     میں مشہور تھے

     اس کی زبان سے جملہ ادا ہوا:

     اےالله ! جس کی یہ عبادت کرتے ہیں میں

      اس سے برأت کا اظہار کرتا ہوں”

     چشم فلک نے وہ منظر بھی دیکھا جب

      وہ اکیلا ہزاروں کے لشکر میں گھس گیا اور اس وقت تک لڑتا رہا جب تک اس کے جسم

      پر کوئی ایسی جگہ نہ بچی جہاں شمشیر

      و سناں کا زخم نہ لگا ہو۔

     عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کا لاڈلا بھائی۔۔۔۔ ہاں وہی زید بن خطابؓ جو اسلام لانے میں

      صف اول میں شامل تھے انہوں نے مسلمانوں

      میں آخری خطبہ دیا:

     والله ! میں آج کے دن اس وقت تک کسی سے

      بات نہ کرونگا جب تک کہ انہیں شکست

      نہ دے دوں یا شہید نہ کر دیا جاؤں”

     اے قوم! تمہیں پھر بھی ختم نبوتﷺ کی

      اہمیت معلوم نہ ہوئی۔

     وہ بنو حنفیہ کا باغ "حدیقۃ الرحمان” تھا جس میں اتنا خون بہا کہ اسے "حدیقۃ الموت” کہا جانے لگا۔ وہ ایسا باغ تھا جس کی

      دیواریں مثل قلعہ کے تھیں

     کیا عقل یہ سوچ سکتی ہے کہ ہزاروں کا

      لشکر ہو اور براء بن مالکؓ کہے:

     *”لوگو! اب ایک ہی راستہ ہے تم مجھے

      اٹھا کر اس قلعے میں پھینک دو میں

      تمہارے لئے دروازہ کھولونگا”*

     اس نے قلعہ کی دیوار پر کھڑے ہو کر

      منکرین ختم نبوت کے اس لشکر جرار

      کو دیکھا اور پھر تن تنہا اس قلعے میں

      چھلانگ لگا دی

     قیامت تک جو بھی بہادری کا دعوی کرے گا

      یہاں وہ بھی سر پکڑ لے گا!!!

     ایک اکیلا شخص ہزاروں سے لڑ رہا تھا 

     ہاں اس نے دروازہ بھی کھول دیا اور

      پھر مسلمانوں نے منکرین ختم نبوتؐ 

     کو کاٹ کر رکھ دیا

     *اے قوم! کاش کہ تم جان لیتے کہ 

     تمہارے اسلاف نے اپنی جانیں دے کر

      رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی

      ختم نبوت کا دفاع کیا ہے۔۔۔۔

     کاش تمہیں رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم

      کے ان صحابہؓ کے جذبوں کا علم ہوتا جو ایک

      مٹھی بھر جماعت کے ساتھ حد نگاہ تک

      پھیلے لشکر سے ٹکرا گئے۔۔۔۔

     قادیانیت ایک بہت بڑے فتنے کی صورت میں نمودار ہے

      پس ہر صاحب ایمان کے ذمے ہے کہ وہ

      اس کے سدباب کی کوششوں میں شریک ہو. 

     اے مسلمانوں، تحفظ ختم نبوتؓ کے جہاد میں

      اپنا اپنا کردار ادا کرو تا کہ قیامت کے دن خاتم النبیین صلى الله عليه وسلم کی شفاعت نصیب ہو. آخر میں میری آپ سب سے التماس ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اس داستان عشق وقربانی کو تمام مسلمانوں

      کے سامنے رکھنے کی غرض سے اس تحریر کو

      آگے منتقل کرنے کےلئے اپنا اپنا کردار ادا کیجئے۔

    انشااللہ تعالی

    حضور ﷺ

    خاتم النبین

    خاتم المرسلین

    کی عزت حرمت اور أبرو کی خاطر جاگتے رھیں کیونکہ

    اسی میں نجات ھے

    کی محمدﷺ سے وفا تونے تو ھم تیرے ھیں

    یہ جہاں چیز ھے کیا لوح و قلم تیرے ھیں.

    @SyedUmair95

  • والدین کے لیے پیغام تحریر: ‏ثمینہ اخلاق


    حضرت عبد اللہ بن عمر کا ارشاد ہے: ’’اپنی اولاد کوادب سکھلاؤ، قیامت والے دن تم سے تمہاری اولاد کے بارے میں پوچھا جائے گا،کہ تم نے اسے کیا ادب سکھلایا؟ اور کس علم کی تعلیم دی؟۔‘‘
    دنیا میں موجود آدھا علم صرف نصیحت کا علم ہے یعنی دوسروں کو ناکامی سے بچانے کا علم، اولاد کی تربیت والدین کے بنیادی فرائض میں شامل ہوتی ہے۔ تربیت سے محروم بچے کبھی معاشرے کے لیے کارآمد ثابت نہیں ہوتے ابتدائی مرحلہ میں بچے کی ذہن کی زرخیزی کے لیے والدین کے اچھے دوستانہ رویوں کا ہونا بے حد ضروری ہے رویہ جتنا اچھا ہوگا زمین کی زرخیزی اتنی متناسب ہوگی۔ مصنوعی ماحول، منفی سوچ اور دوغلے رویے ذہن کو زرخیزی نہیں پہنچاتے لہذا بچوں کی بہتر تربیت کے لئے جب تک والدین اپنی ذات اور رویوں میں مثبت تبدیلی نہیں لاتے اس وقت تک زمین زرخیز نہیں ہو گی

    دنیا کے تمام والدین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد پڑھی لکھی، مہذب اور اچھی شخصیت کی مالک ہوں، والدین چاہتے ہیں کہ اپنی اولاد کے روزمرہ معمولات اور زندگی سے آشنا ہیں ہے مگر یہ نہیں معلوم کہ کیسے؟ کیونکہ انٹرنیٹ کے بے تحاشہ اور غیر ضروری استعمال سے بچوں کی انٹرنیٹ اور موبائل سرگرمیوں کا علم رکھنا تقریبا ناممکن ہو گیا ہے ہے گھر میں رہتے ہوئے بھی والدین سے دوری اور انٹرنیٹ سے دوستی مستی اور کم عمری میں موبائل فون کا استعمال اور اور ان کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی ہیجانی کیفیت ہی دراصل ہماری نسل کی تباہی کا باعث بن رہی ہے ہے اس عمل سے بچوں میں احساس کمتری، جذباتیت بلوغت سے پہلے یہ اخلاقی انحطاط اور صحت مند سرگرمیاں نہ ہونے سے سے تنگ نظری، عدم برداشت ، انتہا پسندی کا رجحان اور صحت کے سنگین مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ یہ منفی جذبات عام ہونے سے سے اکثر بچے اخلاقی جرائم میں بھی ملوث ہو رہے ہیں۔
    طلبہ اور طالبات کے اندر سر قائد کے اوصاف پیدا کرنے کی ضرورت ہے ہے قائد اعظم کا فرمان "ہم جتنی زیادہ تکلیفیں, قربانیاں دینا سیکھیں گے اتنے ہی زیادہ پاکیزہ، خالص اور مضبوط قوم بن کر ابھریں گے اس قول کی مناسبت سے والدین کے فرائض میں یہ شامل ہے کہ وہ اپنی اولاد کی محض تعلیم و تربیت اچھے انداز میں کریں بچوں کی غذائی ضروریات کا ہمیشہ خیال رکھیں لیکن بے جا خواہشات تو کبھی پورا ہونے نہ دیں۔

    اولاد کی بہتر تعلیم و تربیت وقت کے ساتھ انہیں اچھا لباس، متوازن خوراک، بہتر رہائش اور ایک صحت مند ماحول فراہم کرنا بنیادی طور پر والدین کے فرائض میں شامل ہوتا ہے لیکن اس سے زیادہ یہ کوشش کبھی مت کریں کہ ان کے لیے دولت، جائیداد، پلاٹ، بڑے گھر،مہنگی گاڑیاں،ایئر کنڈیشنرز اُنھیں عملی زندگی میں بیکار کر دیں گی اور زندگی کے مددجزر کے لحاظ سے وہ مشکل حالات کو کبھی خندہ پیشانی سے قبول نہیں کریں گے جبکہ زندگی میں مشکلات کا مقابلہ پوری جوانمردی، ہمت، حوصلہ اور صبر سے کرنا ہوتا ہے
    معاشرے میں ہر شخص ذمداریوں کے لحاظ سے کوئی نہ کوئی امانت سنبھالے ہوئے ہے اگر والدین اپنی امانت کا پاس رکھتے ہوئے اپنی عام داری پوری نہ کریں تو ان کی نااہلی اور غفلت کا خمیازہ اولاد بھگتتی ہے اور ان کی تربیت میں کمی کا خمیازہ پھر پورا معاشرہ سہتا ہے

    حقوق العباد اور تربیت کے اعتبار سے والدین پر یہ لازم ہے کہ وہ جب تک نوجوانوں کے اندر زندگی کی اعلی اقدار اپنانے کی تڑپ پیدا نہیں ہو گی زندگی جمود سے باہر نہیں نکل سکے گی ماہرین تعلیم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تعلیم کا مقصد محض معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ انسان کے تمام پوشیدہ صلاحیتوں کو فطری جذبوں کے ساتھ بیدار کرنا اور پھر انھیں نشوونما دینا ہے یعنی انسان جو کچھ کرتا ہے وہ کسی تاثر اور جذبے کی بدولت کرتا ہے، بچوں کو روبورٹ کی مانند زندگی گزارنے کے بجائے صحت مند فطری جذبوں کے اظہار کے لئے کھیل اور تفریح اور غیر نصابی سرگرمیاں کے لیے بھرپور مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
    بچوں کے ساتھ ہمیشہ مشفقانہ اور خوبصورت لہجے میں بات کریں کیونکہ ایک پرسکون لہجہ سننے والے کے ذہن میں زرخیزی لاتا ہے۔
    بچوں کی ذہنی و جسمانی تندرستی کے لیے صحتمند ماحول،متوازن غذا روزانہ کھیل و تفریح اور جلد سونے اور جاگنے کے اوقات اور بچوں کے دوستوں اور دن بھر کی مصروفیات کا پورا خیال رکھیں۔
    ہر ایسا مشغلہ جو نیا ہو یا پرانا، ہمارے روزمرہ کاموں کے اسٹریس کو کم کرتا ہے اور ہمارے خون اور دماغ میں متحرک ہارمونز کی تعداد کو معتدل اور مناسب رکھتا ہے اور ایک متوازن اور خوشگوار زندگی کا ضامن بنتا ہے بچوں کو معصومیت کے لحاظ سے کارٹون، ڈرامے اور فنون میں دلچسپی کے ساتھ اپنی اولاد کو صحت مند مشاغل کی طرف راغب کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔
    اولاد کو قومی مسائل جیسے ماحولیات و آبی وسائل کا تحفظ، صحت و صفائی، کرپشن سے بچاؤ اور معیاری تعلیم کے حصول اور ملکی ترقی کے لئے ان کے اندر تعمیری سوچ پیدا کریں

    ‎@SmPTI31

  • آزاد وطن تحریر: تنزیلہ اشرف

    "اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام کے مقاصد میں سے ایک مقصد آزاد ملک بھی حاصل کرنا تھا جہاں دینی ،معاشرتی،تعلیمی آزادی حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ آزادی رائے کی بھی آزادی حاصل ہو گئی ہر شخص اپنی رائے کے اظہار کے لیے آزاد ہو گا۔سوچ آزاد ہو گی ، انسان آزاد ہو گا۔۔ہم اپنی رائے دینے میں آزاد ہوں گے۔۔یہ تھا اصل ملک جس کو حاصل کرنے کا خواب دیکھا تھا اقبال نے”۔۔
    "قائد اعظم نے تعبیر دی تھی ان کے اس خواب۔۔ان کا خیال تھا ہم آزاد وطن حاصل کر چکے ہیں جہاں ہم اپنی رائے آزادانہ , بلا خوف کے دے سکتے ہیں۔۔
    لیکن افسوس ہم وطن حاصل کرنے میں تو کامیاب رہے لیکن آزاد وطن،آزاد سوچ حاصل کرنے میں آج بھی ناکام ہیں ہمارا دماغ غلامی کی نا ختم ہونے والی زنجیروں میں جکڑا ہے۔۔۔جسے لبرل ازم نے اور غلام بنا دیا ہے”۔۔
    پاکستان میں کوئی شخص آزاد نہیں کہ وہ اپنی سوچ کو لوگوں پر آزادانہ ظاہر کر سکے ۔۔۔کوئی شخص سوشل میڈیا کے ذریعے ایک بات کرتا ہے, اپنا مثبت پیغام لوگوں تک پہنچاتا ہے تو غلام ذہن اس پیغام کو نہیں سنتے! اس بات کی گہرائی میں نہیں جاتے بلکہ اس شخص کے ماضی کو اچھالتے ہیں۔۔
    "پچھلے دنوں! پاکستان کے نامور گلوکار ابرار الحق صاحب کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں اولاد کی تربیت پر انھوں نے اپنا موقف ظاہر کیا۔۔وہ ایک آزاد وطن کے آزاد شہری ہیں۔۔ اس وطن نے انھیں یہ حق دیا ہے کہ وہ آزادی رائے کا حق رکھتے ہیں ان کا پیغام مثبت تھا لیکن ہماری غلامانہ سوچ ۔۔کچھ لوگوں نے ان کی والدہ کی تربیت پر افسوس کیا! تو کسی نے انھیں ذاتی نشانہ بنایا کیا وہ آزاد ملک کے شہری نہیں؟
    ہم کیوں مثبت پیغام دینے والے کو بھی نہیں چھوڑتے اسے یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کیا وہ واقعی ہی آزاد ملک میں سانس لے رہا ہے”؟ ۔
    "مینار پاکستان لاہور میں جو واقعہ پیش آیا اس پر آپ نے بھی اقرار الحسن کے ویوز سنے ہوں گے۔۔انھوں نے کہا یا اللہ تیرا شکر ہے ! اس معاشرے میں تو نے مجھے بیٹی نہیں دی۔۔۔سارا ملک ان کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا، بات کی گہرائی جانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی۔۔انھوں نے "اس معاشرے کا "لفظ استعمال کیا تھا یعنی وہ بیٹی کے وجود سے نہیں ،معاشرے میں جا بجا بکھرے ان بھیڑیوں سے خوف زدہ ہیں جو معصوم بچوں کو گدھ کی طرح نوچ کھاتے ہیں۔۔
    اس معاشرے سے کیا انسان کوخوف زدہ نہیں ہونا چاہیئے ؟
    "ان کی بات کی گہرائی میں نہ اترنے والے اپنی بیٹیوں کو ان بھیڑیوں سے بچانے کے لیے آغوش میں چھپائے پھرتے ہیں”۔۔۔
    "کیا ہمارا معاشرا ایک بیٹی کے لیے محفوظ ہیں ؟”
    پہلے یہ سوال خود سے پوچھیں ،پھر کسی کو جواب دینے کے قابل بنیں۔۔ایک بندہ اپنی آزادی رائے کا حق استعمال کر رہا ہے آپ کو اس کی بات پسند نہیں آئی تو یہ آپ کی آزاد سوچ ہے۔۔اگلا بھی آزاد ہے۔۔
    اس کے علاوہ حالیہ ہونے والے بہت سے ایسے واقعات دیکھنے میں آئے جن میں ایک شخص اپنی رائے کا اظہار کرتا ہے ،”تو ہزاروں لوگ یہ ثابت کرنے میں لگے ہوتے ہیں کہ وہ ہوتا کون ہے ایک آزاد ملک میں سانس لے کر آزادی رائے کا حق استعمال کرنے والا”۔۔
    ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم واقعی ہی آزاد ہیں؟
    "آزاد وطن حاصل کرنے سے ذہنوں کی غلامی کو ختم نہیں کیا جا سکتا بلکہ سوچ آزاد ہونا ضروری ہے۔۔۔
    سوچ آزاد ہو گی تو معاشرا آگے بڑھے گا نہیں تو ہم جیتے رہیں گے غلامی میں” ۔۔
    "ہمیں ایسا پاکستان بنانا ہے جہاں کوئی مثبت بات کرتے ہوئے بھی غلام ذہنوں کی کائی زدہ باتوں سے نہ گھبرائے ۔ہم آزاد ہوں ،اور واقعی میں آزاد ہوں”۔
    پاکستان زندہ باد

  • نوجوان مستقبل کے معمار تحریر : راجہ فہد علی خان

    ‏اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ کسی بھی قوم کی تعمیر و ترقی کا دارومدار اس کی نوجوان نسل پر ہوتا ہے۔ جس طرح کسی بھی گھر کی تعمیر میں ایک اينٹ بُنیادی حیثیت رکھتی ہے بالکل اسی طرح نوجوان نسل قوم کی بنیاد ہے۔ اگر نوجوان بیدار اور باشعور ہو گا تبھی اس کا مستقبل بھی محفوظ ہوگا، اس کے برعکس اگر وہ غیر فعال اور تن آسانی کے مرض میں مبتلا ہو جائیں تو قوم کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔
    ترقی ان اقوام کا مقدر بنتی ہے،جن کے نوجوانوں میں آگے بڑھنے کی لگن اور تڑپ ہوتی ہے۔ اگر نسل نو قومی مفادات کو ذاتی مفادات پر ترجیح دیتے ہوئے تعمیر ملت کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں اور ملک میں ہر برائی کو اچھائی میں تبدیل کرنے کی ٹھان لیں ،تو یقین کیجیے کہ تعمیر قوم کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ دریا میں تنکے کی طرح بہہ جائے۔اس بات میں شک کی گنجائش نہیں کہ نسل نو ہی ملک میں مثبت تبدیلی لانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے.
    نوجوان نسل کی اسی اہمیت کے اسی بات سے لگائی جاسکتی ہے کہ آج کل ہر سیاسی جماعت کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ نوجوانوں کی اکثریت ان کے حامی ہوں اور جلسے میں شریک ہوں ۔ نسل نو کی ترقی، انہیں سہولتیں فراہم کرنے کے بلند و بانگ دعوے بھی کیے جاتے ہیں، ان کے حالات تبدیل کرنے کی باتیں کی جاتی ہیں، جس کا مطلب ملک کو فکری، معاشی، تعلیمی، معاشرتی اور دیگر کئی اعتبار سے تنزلی سے ترقی اور بہتری کی جانب لے جانا ہوتا ہے ، مگر کوئی بھی جماعت اپنے اعلان اور منصوبے کو اس وقت تک پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچا سکتی، جب تک اسے نسل نو کا تعاون میسر نہ آجائے۔سیاسی جماعتیں نوجوانوں کو معیاری تعلیم ، روزگار کے بہترین مواقع اور دیگر معاشی و معاشرتی مسائل حل کرنے کی بات کرتی ہیں لیکن افسوس کے ساتھ سیاسی جماعتیں اقتدار میں آنے کے بعد اپنے وعدوں کو پایا تکمیل آج تک نہیں پہنچا سکی۔جس کا خمیازہ ملک آج تک بگت رہا ہے۔جہاں قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنے سنہری اقوال میں نوجوانوں کو کام ، کام اور صرف کام کرنے کی ہدایت دی ، ایمان، اتحاد اور تنظیم جیسا سبق پڑھایا وہیں شاعر مشرق علامہ محمد اقبال صاحب نے نوجوانوں کو اپنی شاعری کے ذریعے بیدار کیا اور شاہین کہہ کر ان کے جذبوں کو بلند کیا۔ آج جب ہم اپنے وطن عزیزکے حالات دیکھتے ہیں تو افسوس ہوتا ہے کہ اُنکا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ اُن کے خواب کو پورا کرنے کی ذمہ داری ہمیں دی گئی تھی ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم محنت، لگن، اتحاد سے کام لیں اور زمہ دار شہری بن کر ملک کی بھاگ ڈور سنبھالیں تاکہ مُلک ترقی کی راہ پر گامزن ہو ۔ اگر نئی نسل کی پستی کی طرف بڑھتے ہوئے قدموں کی وجوہات کو دیکھا جائے تو اس میں تعلیمی ادارے، ناقص تعلیمی پالیسیاں، والدین ، اچھی تربیت کا فقدان، معاشرتی حالات اور حکومت کی عدم توجہی بھی ہے۔ حکومت نے کبھی قوم بالخصوص نوجوان نسل کی ترقی و تربیت پر توجہ نہیں دی اور نہ ان کی ترجیحات کو نظر میں لایا۔ ہماری حکومتوں کا تصورِ ترقی نہایت محدود ہے جو محض پلوں اور سڑکوں کی تعمیر تک ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ بھی ضروری ہیں پر ذہنی و فکری شعور اور تعلیم کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
    حکومت کے بعد نئی نسل کی تعلیم و تربیت کی زمہ داری تعلیمی اداروں کی ہے ۔ جہاں نئی نسل اپنی زندگی کا ابتدائی اور اہم حصہ گزارتے ہیں۔ یہ دعوے تو بہت بڑےکرتے ہیں جبکہ حقیقت کُچھ اور بیان کرتی ہے۔
    اس سے زیادہ افسوس کی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام ایک بزنس کی حد تک رہ گیا ہے۔ تعلیم و تربیت کی بجائے سرمایہ اکھٹا کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔ قوموں کی پستی کی ایک بڑی وجہ اپاہج تعلیمی نظام ہے۔ ہمارےیہاں نوجوان نسل کو تاریخ اور تاریخ میں ہوۓ عظیم کام جو ہمارے رہنماؤں نے سرانجام دیئے ان کا کوئی علم نہیں اور نہ ہی موجودہ حکومت، سیاسی اور حکومتی معاملات سے کوئی آگاہی ہے۔ اسی طرح تعلیمی اداروں میں اسلامی تعلیمات اور اسلامی تاریخ سے واقفیت نہ ہونے سے نوجوان اسلامی اقدار سے دور ہیں ۔ اسی طرح نوجوان نسل کی تربیت کا ایک بڑا حصہ والدین کے زمہ ہے ۔ نہایت افسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری قوم کے والدین کو بھی تربیت کی ضرورت ہے ۔ اسی سے نسلیں تباہ ہوتی ہیں.
    درحقیقت نوجوانی کا دور وہ دور ہوتا ہے جب انسان کے ارادے ، جذبے اور توانائی اپنے عروج پر ہوتے ہیں ۔ اگران جذبوں اور توانائی سے قوم و ملک فائدہ نہ اٹھا سکیں تو یہ انتہائی بڑا نقصان ہے۔ قوم کے یہ نوجوان وہ ہیں جو صلاحیتوں سے بھرپور ہیں۔ جنکے عزائم بلند ہیں۔ جو مایوس نہیں ہیں اور جنکو اپنے ملک سے محبت ہے اوراپنے مسلمان ہونے پر فخر ہے۔

    کھیل کا میدان ہو یا آئی ٹی کا، معاشرتی مسائل ہوں یا معاشی مسائل، کسی بھی شعبے میں نوجوانوں کی شمولیت کے بغیر ترقی ممکن ہی نہیں ۔ وہ کسی بھی قوم کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر نوجوانوں میں یہ شعور بیدار ہوجائے کہ ملک و قوم کو بام عروج پر پہنچانے کے لیے ان کی اہمیت کیا ہےاور وہ اپنی تمام تر توجہ ملک کی تعمیر و ترقی پر مرکوز کر دیں، تو ہمارے ملک کے آدھے سے زیادہ مسائل تو ویسے ہی حل ہو جائیں۔ یہ حقیقت ہے کہ اگر نوجوانوں میں یہ شعور اجاگر ہوجائے کہ ملک کا مستقبل ان کے ہی ہاتھوں میں ہے ، ان ہی کےکاندھوں پر قوم کی ترقی کا دار ومدار ہے، وہ ہر برائی کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جائیں تو ملک میںمثبت تبدیلی آتے دیر نہیں لگے گی۔
    اب صرف اس بات کی ضرورت ہے کہ نوجوان کے پاس ایک واضح خاکہ اور منصوبہ بندی ہو کہ نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوے کیسے ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ یہ کام والدین، اساتذہ،حکومت اور خود نوجوانوں، سب کو مل کر کرنا ہے۔
    قومیں ایک رات میں نہیں بنتیں۔ صدیاں لگ جاتی ہیں نظام کو ٹھیک کرنے میں ، معاشرے کی تربیت میں، تب جا کر کہیں ایک ترقی یافتہ ملک و قوم وجود میں آتے ہیں۔ اس فعل کے لیے پہلا قدم اٹھانا ضروری ہے تب ہی ترقی کا سفر اپنی منزل مقصود تک پہنچے گا۔ اور اس میں حکومت، تعلیمی نظام، والدین اور ہر ایک عام شہری کو اپنا اہم کردار پیش کرنا ہوگا ۔ تب جا کر ایک ترقی یافتہ قوم وجود میں آئے گی۔


    @FahadRaja6720