"اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام کے مقاصد میں سے ایک مقصد آزاد ملک بھی حاصل کرنا تھا جہاں دینی ،معاشرتی،تعلیمی آزادی حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ آزادی رائے کی بھی آزادی حاصل ہو گئی ہر شخص اپنی رائے کے اظہار کے لیے آزاد ہو گا۔سوچ آزاد ہو گی ، انسان آزاد ہو گا۔۔ہم اپنی رائے دینے میں آزاد ہوں گے۔۔یہ تھا اصل ملک جس کو حاصل کرنے کا خواب دیکھا تھا اقبال نے”۔۔
"قائد اعظم نے تعبیر دی تھی ان کے اس خواب۔۔ان کا خیال تھا ہم آزاد وطن حاصل کر چکے ہیں جہاں ہم اپنی رائے آزادانہ , بلا خوف کے دے سکتے ہیں۔۔
لیکن افسوس ہم وطن حاصل کرنے میں تو کامیاب رہے لیکن آزاد وطن،آزاد سوچ حاصل کرنے میں آج بھی ناکام ہیں ہمارا دماغ غلامی کی نا ختم ہونے والی زنجیروں میں جکڑا ہے۔۔۔جسے لبرل ازم نے اور غلام بنا دیا ہے”۔۔
پاکستان میں کوئی شخص آزاد نہیں کہ وہ اپنی سوچ کو لوگوں پر آزادانہ ظاہر کر سکے ۔۔۔کوئی شخص سوشل میڈیا کے ذریعے ایک بات کرتا ہے, اپنا مثبت پیغام لوگوں تک پہنچاتا ہے تو غلام ذہن اس پیغام کو نہیں سنتے! اس بات کی گہرائی میں نہیں جاتے بلکہ اس شخص کے ماضی کو اچھالتے ہیں۔۔
"پچھلے دنوں! پاکستان کے نامور گلوکار ابرار الحق صاحب کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں اولاد کی تربیت پر انھوں نے اپنا موقف ظاہر کیا۔۔وہ ایک آزاد وطن کے آزاد شہری ہیں۔۔ اس وطن نے انھیں یہ حق دیا ہے کہ وہ آزادی رائے کا حق رکھتے ہیں ان کا پیغام مثبت تھا لیکن ہماری غلامانہ سوچ ۔۔کچھ لوگوں نے ان کی والدہ کی تربیت پر افسوس کیا! تو کسی نے انھیں ذاتی نشانہ بنایا کیا وہ آزاد ملک کے شہری نہیں؟
ہم کیوں مثبت پیغام دینے والے کو بھی نہیں چھوڑتے اسے یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کیا وہ واقعی ہی آزاد ملک میں سانس لے رہا ہے”؟ ۔
"مینار پاکستان لاہور میں جو واقعہ پیش آیا اس پر آپ نے بھی اقرار الحسن کے ویوز سنے ہوں گے۔۔انھوں نے کہا یا اللہ تیرا شکر ہے ! اس معاشرے میں تو نے مجھے بیٹی نہیں دی۔۔۔سارا ملک ان کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا، بات کی گہرائی جانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی۔۔انھوں نے "اس معاشرے کا "لفظ استعمال کیا تھا یعنی وہ بیٹی کے وجود سے نہیں ،معاشرے میں جا بجا بکھرے ان بھیڑیوں سے خوف زدہ ہیں جو معصوم بچوں کو گدھ کی طرح نوچ کھاتے ہیں۔۔
اس معاشرے سے کیا انسان کوخوف زدہ نہیں ہونا چاہیئے ؟
"ان کی بات کی گہرائی میں نہ اترنے والے اپنی بیٹیوں کو ان بھیڑیوں سے بچانے کے لیے آغوش میں چھپائے پھرتے ہیں”۔۔۔
"کیا ہمارا معاشرا ایک بیٹی کے لیے محفوظ ہیں ؟”
پہلے یہ سوال خود سے پوچھیں ،پھر کسی کو جواب دینے کے قابل بنیں۔۔ایک بندہ اپنی آزادی رائے کا حق استعمال کر رہا ہے آپ کو اس کی بات پسند نہیں آئی تو یہ آپ کی آزاد سوچ ہے۔۔اگلا بھی آزاد ہے۔۔
اس کے علاوہ حالیہ ہونے والے بہت سے ایسے واقعات دیکھنے میں آئے جن میں ایک شخص اپنی رائے کا اظہار کرتا ہے ،”تو ہزاروں لوگ یہ ثابت کرنے میں لگے ہوتے ہیں کہ وہ ہوتا کون ہے ایک آزاد ملک میں سانس لے کر آزادی رائے کا حق استعمال کرنے والا”۔۔
ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم واقعی ہی آزاد ہیں؟
"آزاد وطن حاصل کرنے سے ذہنوں کی غلامی کو ختم نہیں کیا جا سکتا بلکہ سوچ آزاد ہونا ضروری ہے۔۔۔
سوچ آزاد ہو گی تو معاشرا آگے بڑھے گا نہیں تو ہم جیتے رہیں گے غلامی میں” ۔۔
"ہمیں ایسا پاکستان بنانا ہے جہاں کوئی مثبت بات کرتے ہوئے بھی غلام ذہنوں کی کائی زدہ باتوں سے نہ گھبرائے ۔ہم آزاد ہوں ،اور واقعی میں آزاد ہوں”۔
پاکستان زندہ باد
Author: Baaghi TV
-
آزاد وطن تحریر: تنزیلہ اشرف
-
نوجوان مستقبل کے معمار تحریر : راجہ فہد علی خان
اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ کسی بھی قوم کی تعمیر و ترقی کا دارومدار اس کی نوجوان نسل پر ہوتا ہے۔ جس طرح کسی بھی گھر کی تعمیر میں ایک اينٹ بُنیادی حیثیت رکھتی ہے بالکل اسی طرح نوجوان نسل قوم کی بنیاد ہے۔ اگر نوجوان بیدار اور باشعور ہو گا تبھی اس کا مستقبل بھی محفوظ ہوگا، اس کے برعکس اگر وہ غیر فعال اور تن آسانی کے مرض میں مبتلا ہو جائیں تو قوم کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔
ترقی ان اقوام کا مقدر بنتی ہے،جن کے نوجوانوں میں آگے بڑھنے کی لگن اور تڑپ ہوتی ہے۔ اگر نسل نو قومی مفادات کو ذاتی مفادات پر ترجیح دیتے ہوئے تعمیر ملت کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں اور ملک میں ہر برائی کو اچھائی میں تبدیل کرنے کی ٹھان لیں ،تو یقین کیجیے کہ تعمیر قوم کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ دریا میں تنکے کی طرح بہہ جائے۔اس بات میں شک کی گنجائش نہیں کہ نسل نو ہی ملک میں مثبت تبدیلی لانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے.
نوجوان نسل کی اسی اہمیت کے اسی بات سے لگائی جاسکتی ہے کہ آج کل ہر سیاسی جماعت کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ نوجوانوں کی اکثریت ان کے حامی ہوں اور جلسے میں شریک ہوں ۔ نسل نو کی ترقی، انہیں سہولتیں فراہم کرنے کے بلند و بانگ دعوے بھی کیے جاتے ہیں، ان کے حالات تبدیل کرنے کی باتیں کی جاتی ہیں، جس کا مطلب ملک کو فکری، معاشی، تعلیمی، معاشرتی اور دیگر کئی اعتبار سے تنزلی سے ترقی اور بہتری کی جانب لے جانا ہوتا ہے ، مگر کوئی بھی جماعت اپنے اعلان اور منصوبے کو اس وقت تک پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچا سکتی، جب تک اسے نسل نو کا تعاون میسر نہ آجائے۔سیاسی جماعتیں نوجوانوں کو معیاری تعلیم ، روزگار کے بہترین مواقع اور دیگر معاشی و معاشرتی مسائل حل کرنے کی بات کرتی ہیں لیکن افسوس کے ساتھ سیاسی جماعتیں اقتدار میں آنے کے بعد اپنے وعدوں کو پایا تکمیل آج تک نہیں پہنچا سکی۔جس کا خمیازہ ملک آج تک بگت رہا ہے۔جہاں قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنے سنہری اقوال میں نوجوانوں کو کام ، کام اور صرف کام کرنے کی ہدایت دی ، ایمان، اتحاد اور تنظیم جیسا سبق پڑھایا وہیں شاعر مشرق علامہ محمد اقبال صاحب نے نوجوانوں کو اپنی شاعری کے ذریعے بیدار کیا اور شاہین کہہ کر ان کے جذبوں کو بلند کیا۔ آج جب ہم اپنے وطن عزیزکے حالات دیکھتے ہیں تو افسوس ہوتا ہے کہ اُنکا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ اُن کے خواب کو پورا کرنے کی ذمہ داری ہمیں دی گئی تھی ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم محنت، لگن، اتحاد سے کام لیں اور زمہ دار شہری بن کر ملک کی بھاگ ڈور سنبھالیں تاکہ مُلک ترقی کی راہ پر گامزن ہو ۔ اگر نئی نسل کی پستی کی طرف بڑھتے ہوئے قدموں کی وجوہات کو دیکھا جائے تو اس میں تعلیمی ادارے، ناقص تعلیمی پالیسیاں، والدین ، اچھی تربیت کا فقدان، معاشرتی حالات اور حکومت کی عدم توجہی بھی ہے۔ حکومت نے کبھی قوم بالخصوص نوجوان نسل کی ترقی و تربیت پر توجہ نہیں دی اور نہ ان کی ترجیحات کو نظر میں لایا۔ ہماری حکومتوں کا تصورِ ترقی نہایت محدود ہے جو محض پلوں اور سڑکوں کی تعمیر تک ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ بھی ضروری ہیں پر ذہنی و فکری شعور اور تعلیم کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
حکومت کے بعد نئی نسل کی تعلیم و تربیت کی زمہ داری تعلیمی اداروں کی ہے ۔ جہاں نئی نسل اپنی زندگی کا ابتدائی اور اہم حصہ گزارتے ہیں۔ یہ دعوے تو بہت بڑےکرتے ہیں جبکہ حقیقت کُچھ اور بیان کرتی ہے۔
اس سے زیادہ افسوس کی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام ایک بزنس کی حد تک رہ گیا ہے۔ تعلیم و تربیت کی بجائے سرمایہ اکھٹا کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔ قوموں کی پستی کی ایک بڑی وجہ اپاہج تعلیمی نظام ہے۔ ہمارےیہاں نوجوان نسل کو تاریخ اور تاریخ میں ہوۓ عظیم کام جو ہمارے رہنماؤں نے سرانجام دیئے ان کا کوئی علم نہیں اور نہ ہی موجودہ حکومت، سیاسی اور حکومتی معاملات سے کوئی آگاہی ہے۔ اسی طرح تعلیمی اداروں میں اسلامی تعلیمات اور اسلامی تاریخ سے واقفیت نہ ہونے سے نوجوان اسلامی اقدار سے دور ہیں ۔ اسی طرح نوجوان نسل کی تربیت کا ایک بڑا حصہ والدین کے زمہ ہے ۔ نہایت افسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری قوم کے والدین کو بھی تربیت کی ضرورت ہے ۔ اسی سے نسلیں تباہ ہوتی ہیں.
درحقیقت نوجوانی کا دور وہ دور ہوتا ہے جب انسان کے ارادے ، جذبے اور توانائی اپنے عروج پر ہوتے ہیں ۔ اگران جذبوں اور توانائی سے قوم و ملک فائدہ نہ اٹھا سکیں تو یہ انتہائی بڑا نقصان ہے۔ قوم کے یہ نوجوان وہ ہیں جو صلاحیتوں سے بھرپور ہیں۔ جنکے عزائم بلند ہیں۔ جو مایوس نہیں ہیں اور جنکو اپنے ملک سے محبت ہے اوراپنے مسلمان ہونے پر فخر ہے۔کھیل کا میدان ہو یا آئی ٹی کا، معاشرتی مسائل ہوں یا معاشی مسائل، کسی بھی شعبے میں نوجوانوں کی شمولیت کے بغیر ترقی ممکن ہی نہیں ۔ وہ کسی بھی قوم کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر نوجوانوں میں یہ شعور بیدار ہوجائے کہ ملک و قوم کو بام عروج پر پہنچانے کے لیے ان کی اہمیت کیا ہےاور وہ اپنی تمام تر توجہ ملک کی تعمیر و ترقی پر مرکوز کر دیں، تو ہمارے ملک کے آدھے سے زیادہ مسائل تو ویسے ہی حل ہو جائیں۔ یہ حقیقت ہے کہ اگر نوجوانوں میں یہ شعور اجاگر ہوجائے کہ ملک کا مستقبل ان کے ہی ہاتھوں میں ہے ، ان ہی کےکاندھوں پر قوم کی ترقی کا دار ومدار ہے، وہ ہر برائی کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جائیں تو ملک میںمثبت تبدیلی آتے دیر نہیں لگے گی۔
اب صرف اس بات کی ضرورت ہے کہ نوجوان کے پاس ایک واضح خاکہ اور منصوبہ بندی ہو کہ نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوے کیسے ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ یہ کام والدین، اساتذہ،حکومت اور خود نوجوانوں، سب کو مل کر کرنا ہے۔
قومیں ایک رات میں نہیں بنتیں۔ صدیاں لگ جاتی ہیں نظام کو ٹھیک کرنے میں ، معاشرے کی تربیت میں، تب جا کر کہیں ایک ترقی یافتہ ملک و قوم وجود میں آتے ہیں۔ اس فعل کے لیے پہلا قدم اٹھانا ضروری ہے تب ہی ترقی کا سفر اپنی منزل مقصود تک پہنچے گا۔ اور اس میں حکومت، تعلیمی نظام، والدین اور ہر ایک عام شہری کو اپنا اہم کردار پیش کرنا ہوگا ۔ تب جا کر ایک ترقی یافتہ قوم وجود میں آئے گی۔
@FahadRaja6720 -
بیروزگاری، ایک معاشرتی بیماری تحریر : وسیم سید
پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کا بیروزگاری کا ریٹ 5.1 سے 5.7 تک پہنچ چکا ہے اور مزید آگے بڑھنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ یہ ایک سنگین حقیقت ہے کہ بیروزگاری کی بیماری ہمارے معاشرے میں کافی گہرائی تک اپنے قدم جما نے میں کامیاب ہو چکی ہے۔اکثر سننے میں آتا ہے کہ ہمارے نوجوان بیروزگاری کا شکار ہیں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں ان کے پاس موجود ہے لیکن ان کو کوئی مناسب نوکری نہیں مل رہی۔
کیا یہ ساری ذمہ داری حکومت کی ہے یا ہمارے معاشرے میں پڑھائی کی کوئی قدر نہیں؟
اس بڑھتے ہوئے رجحان کو سمجھنے کے لئے لیے ہمیں اسے گہرائی سے جانچنے کی ضرورت ہے ۔
سب سے پہلی اور اہم وجہ ہمارے ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی ہے۔ ہمارے معاشرے میں خاندانی منصوبہ بندی کے رجحان کو پس پشت ڈال کر بہت زیادہ تعداد میں بچے پیدا کرنے سے ایک خاندان کے اندر تعلیم کو برابری کے طور پر تقسیم کرنا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں تعلیم کو بہت زیادہ فوقیت حاصل ہے کہ لیکن ہم بہترین تعلیم اچھے طریقے سے تبھی دے سکیں گے جب ہمارے پاس وسائل موجود ہوں گے
لہذا سب سے پہلے ہمیں خاندانی منصوبہ بندی کے روشن پہلو کو سمجھنا ہو گا ایک ہی خاندان میں ایک بیٹے کی پیدائش کے لیے لیے بہت زیادہ بچوں کو جنم دینے سے بھی بےروزگاری پر جہان بڑھ رہا ہے اور اسی سلسلے میں لڑکیوں کی تعلیم پر کم دھیان کیا جاتا ہے۔
دوسری سب سے اہم وجہ جو بیروزگاری کا سبب ہے وہ معاشی بدحالی ہے جیسا کہ آپ سب کے علم میںہے کہ پاکستان آئی ایم ایف سے ہر سال لاکھوں ارب کے قرضے لے کر اپنی معاشی ضروریات کو پورا کر رہا ہے جس کی وجہ سے ہمیں انٹرسٹ کی شکل میں ان کو پیسے واپس کرنے ہوتے ہیں اور ان کی بہت ایسی پالیسیاں بھی ماننی پڑتی ہے ہے جو بظاہر معاشرے کے لیے اچھی ہے لیکن اندرونی طور پر ہمارے ملک کے لیے نقصان دہ ہیں۔
تیسرا ایک اہم مسلہ ہمارے ملک میں کرپشن کا ہے۔ جب ہم اپنے معاشرے کے اس طبقے کو اہمیت دیتے ہیں جو حقیقت میں اس چیز کا حقدار نہیں ہوتا بظاہر چند ہزار روپے کی رشوت لے کر ایک اچھی جگہ پر ایک کم پڑھے لکھے انسان کو دے دی جاتی ہے جس کی وجہ سے ایک پڑھا لکھا انسان اچھی پوسٹ پر اوپر جانے سے رہ جاتا ہے ہے جس کی وجہ سے بہت سے نوجوان اس بے روزگاری کی وجہ سے اور موقع
نہ ملنے کی وجہ سے خودکشی کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
جب زندگی کے سولہ سال اتنی زیادہ محنت کرنے کے بعد آپ کو سامنے والا اس بات پر ریجیکٹ کر دیتا ہے کہ آپ کے پاس تجربہ کم ہے تو یقینن آپ کا دل خون کے آنسو روتا ہے۔جب ایک غریب باپ مزدوری کرکے اپنے بچے کا پیٹ پالے اور اس کے بعد اس کو اچھی تعلیم دلوا یے یقینا اس کی خواہش ہوگی کہ وہ اپنی اولاد کو کامیاب ہوتا دیکھے لیکن جب ہمارا معاشرہ ایسے ٹیلنٹ کی قدر نہیں کرے گا تو اس کے لیے مسئلہ پیدا ہو گا۔
ہر نوجوان کی یہ خواہش ہوتی ہے ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کا سہارا بنے اور اپنی تمام خوابوں کو پورا کرے جو اس نے اتنے سال انتک محنت کر کے پورے کرنے کرنے کی لگن اپنے دل میں بسا رکھی ہے۔
اس کے ساتھ ہمارے ملک میں روپے کی قدر میں بھی بہت زیادہ کمی دیکھنے میں آئی ہے جس کی وجہ سے تنخواہ کم اور تعلیم کی اہمیت مزید کم ہوتی جا رہی ہے۔
آخری جو بہت اہم وجہ ہمارے ملک میں ہمسایہ ممالک کا مختلف مواقع پر انتشار پیدا کرنا ہے ہمارے ہمسائے مخالف ممالک یہ نہیں چاہتے کہ ہم ترقی کرے مجھے حال ہی میں نیوزی لینڈ کی ٹیم جو کہ دورہ پاکستان کے لئے آئی تھی عین ایک دن پہلے وہ ٹیم واپس روانہ ہوگی اور وجہ یہ بتائی گئی کہ پاکستان میں ان کی جان کو خطرہ ہے بہت ہاتھ پاؤں مارنے کے بعد یہ انکشاف کیا گیا کہ کہ ہمسائے ممالک نے پاکستانی ای میل کے ذریعے ایک پیغام بھیجا تھا تاکہ وہ پاکستان کے اندر ہونے والی معاشی خوشحالی کو روک سکیں۔
بظاہر انتشار پھیلانے والے بہت سے لوگ ہمارے اپنے ہی ملک میں موجود ہیں لیکن یہ مسئلے مسائل تب تک حل نہیں ہوسکتے جب تک ہم خود اپنے ملک کے ساتھ ساتھ ایمانداری نہیں دکھائیں گے۔کرپشن جیسا سنگین جرم ہمارے معاشرے میں اسی لئے پھیل رہا ہے کیوں کہ ہم صرف اپنی ذات کا سوچتے ہیں۔
اسی طرح اکثر نوجوانوں کو جب مناسب نوکری کے لیے بلایا جاتا ہی تو یہ کہ کر انکار کر دیا جاتا ہے ک ان کے پاس تجربہ نہیں ہے ۔یہ تجربہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب ان کو کام کرنے کا موقع دیا جائے گا۔
ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے یہ نظر آتا ہے ہے یہ بے روزگاری اتنی آسانی سے ختم نہیں کئے جاسکتے بلکہ ہمیں اس کے لئے ایک مکمل پالیسی پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔
twitter :
@s_paswal
-

کشمیریوں کے انتظار کے 74 سال” تحریر:صائمہ ستار
”
مسلمانوں کے عروج اور حکمرانی کا دور ختم ہوئے عرصہ بیت چلا. کبھی مسلم حکمران کی اک نگاہ سے عالمِ باطل کے دل دہل جاتے تھے. شاعرِ مشرق کے مطابق ہمارے اسلاف کے عروج کی داستان ایسی حیرت انگیز اور شاندار ہے کہ آجکی نوجوان نسل کے لیے محض اسکا تصور بھی محال ہے. مسلمانوں کی غلامی ومحکمومی اور زوال کی 100 سالہ تاریک رات کی اک نہایت روشن صبح 27 رمضان المبارک کو طلوع ہوئ. لاکھوں شہداء کے خون اور انکی لازاول قربانیاں اس مبارک سرزمین کی صورت رنگ لائیں.اسکے ساتھ ہی وادیِ کشمیر میں بھارتی ظلم و بریریت اور خونی کھیل کی ایسی داستان کا آغاز 74 برس قبل ہوا جو آج تک جاری ہے. کئی نسلیں آزادی کی خوش کن امیدیں آنکھوں میں سجائے بند ہوئیں.کئ نسلیں پاکستان میں رسمی مذمت اور سال بعد ایک دن احتجاج کی عادی ہوئیں.انہیں بھی لگتا تھا ایک دن اقوامِ متحدہ سے پاکستان کے نمائندے کشمیر کا کیس جیتنے میں کامیاب ہوں گے.ہزاروں,لاکھوں کشمیری شہداء نے اس مبارک سرزمین کی خاک کو پانے کے لیے اپنی جوانیاں قربان کیں جن میں برہان وانی کا نام سنہرے حروف سے لکھنے کے قابل ہے. جب بھی وفا کی بات ہو گی اس خوبرو, بلند ہمت اور آخری سانس تک کفر سے برسرِ پیکار رہنے والے نوجوان کے بغیر مکمل نہ ہو گی. سید علی گیلانی کی سر براہی میں شروع ہونے والی مزاحمت کی ایک لازوال تحریک بھی اس جدوجہد میں نہایت اہمیت کی حامل ہے. مردِحُر سید علی گیلانی نے مایوس ہو چکی کشمیری قوم کو اک نیا جوش و ولولہ دیا. انکے اند آزادی کی اس امید کو دوبارہ زندہ کیا. تا عمر کشمیر کے لیے سر بکف مجاہد علی گیلانی بھی کروڑوں دلوں کو سوگوار چھوڑے آزادی کی اس صبح جسکے لیے انہوں انہوں زندگی کا ہر ہر لمحہ جدوجہد کی دیکھے بناء کی ہی پچھلے دنوں خاموشی سے اللہ کے حضور حاضر ہوئے اور یقیناً بارگاہِ الہی میں سر خرو ٹھہرے ہوں گے کہ اپنے حصے کی شمع روشن کر کے گئے. ہمارے پاکستانی رہنماؤوں کی طرح نہیں جو 74 سال سے شمع جلانے کی بجائے صرف ظلمتِ شب کا شکوہ کری جارہے ہیں. اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایٹمی طاقت ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی دنیا کی بہترین فوج سے نوازا ہے.74 سال سے ہم ہاتھ ہاتھ دھرے بیٹھے اپنے مظلوم بہن بھائیوں کا بہتا خون دیکھ کر بھی اندھے بنے بیٹھے ہیں. قوم کے اندر جہاد کا جزبہ اور سوچ بالکل ختم ہو کر رہ گئی ہے انہیں بھی اقوامِ متحدہ میں اپنے منتخب نمائندوں کی تقاریر مطمئن کرتی ہیں اور انہیں مظلوم کشمیریوں کے مدد کے لیے چند خوبصورت جملوں پر مشتمل تقریر ہی کافی لگتی ہے لیکن قرآن میں جگہ جگہ جہاد کے واضح احکام, جن میں ساتھ مسلمانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد کا وعدہ بھی کیا گیا ہے ان فرامین پر یقین ہی نہیں رہا شاید. پاکستان کی طرف سے ہر طرح کا ہاتھ اٹھالینے کے باوجود آج بھی کشمیری عوام محض اپنے غیر متزلزل عزم کے بل بوتے پر مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیمعصوم اور نہتے کشمیریوں پر پیلٹ گن کے ذریعے ان کی بینائی ضایع کی جا رہی جو سراسر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے. جبر کی اس داستان میں پیلٹ گن کا استعمال پہلی بار بڑے پیمانے پر کیا گیا جس سے درجنوں کشمیری آنکھوں کی بینائی سے محروم ہو گئے. اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے ادارے یوں خاموش اور گم صم رہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ انسانی حقوق کی ان سنگین خلاف ورزیوں پر عالمی بے حسی اور منافقت نے بھارتی حکومت کو مزید شہ دی اور اس نے کشمیریوں پر ظلم و بربریت میں اضافہ کر دیا. کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب کشمیری آزادی کی اس تحریک میں کسی نہ کسی نوجوان کا جنازہ نہ اٹھاتے ہوں’ شہادتوں کی ایک طویل فہرست ہے مگر ہر شہادت کشمیریوں کے جذبہ حریت کی شمع کے لیے ایندھن کا کام کرتی ہے اور وہ پہلے سے بھی زیادہ جوش و جذبے سے بھارتی فوج کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں. 2019 میں مودی کے کشمیر میں بدترین غیر انسانی کرفیو کے بعد شاید انہیں امید ہوگی کہ اب پاکستان کی طرف سے کوئ عملی قدم اٹھایا جائے گا.مگر یہ آخری امید دم توڑے بھی دو سال بیت گئے.کشمیریوں کی آزمائش کی رات نہایت کٹھن اور لمبی ہے. نہ جانے کب اس رات کی صبح ہو مگر ہم پر فرض ہے اپنے حصے کی شمع جلاتے چلیں. اپنی ووٹ اور سپورٹ سے ایسے لوگوں کو اقتدار میں لائیں جو کشمیر کے لیے عملی جہاد کی بات کریں تا کہ ظلم و بریریت کی اس داستان کا اختتام ہو. کیونکہ قرآن و سنت کی روشنی میں کشمیر کی آزادی کا صرف اور صرف حل جہاد ہے."کہتے ہیں اہلِ نظر کشمیر کو جنت
جنت کسی کافر کو ملی ہے نا ملے گی”
@just_S32
-

چودھری نثار علی خان آنے والے وقت میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تحریر: محمد اسعد لعل
جب مسلم لیگ (ن) اقتدار میں تھی اور نواز شریف وزیر اعظم تھے، چوہدری نثار علی خان اور شہباز شریف بہت قریبی دوست تھے۔ اس وقت شاید کسی دوسرے دو رہنماؤں کے اتنے اچھے تعلقات نہیں تھے جتنے کہ ان دونوں کے درمیان تھے۔ ان کے مابین ایک سمجھوتہ تھا کہ ایک دن شہباز اپنے بڑے بھائی کو وزیر اعظم بنائیں گے اور پنجاب کے وزیراعلیٰ کی نشست چکری کے لیڈر کے پاس جائے گی، جو فوجی خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ میاں نواز شریف کی تیسری مدت کے دوران، تاہم صورتحال ڈرامائی طور پر بدل گئی۔
اگست 2014 میں پی ٹی آئی اور پی اے ٹی نے اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) کی انتظامیہ کے خلاف ایک طویل مارچ کا اہتمام کیا جو شاید اب تک کا سب سے طویل مظاہرہ تھا جس کا مقصد حکومت کا تختہ الٹنا تھا۔
نثار علی خان اس وقت وزیر داخلہ تھے، اور انہوں نے مظاہرین کو ریڈ زون میں نہ آنے دینے کا فیصلہ کیا۔ تاہم نواز شریف نے وزیر داخلہ کو زیر کیا اور انہیں اندر جانے کی اجازت دی۔
جب نثار علی خان کو معلوم ہوا کہ انہیں نظرانداز کیا گیا ہے تو انہوں نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اس کے بعد سے وہ ن لیگ کے ساتھ نہیں ہیں۔
نہ تو اس وقت کے وزیراعظم نے انہیں واپس مسلم لیگ (ن) میں لانے کی کوشش کی اور نہ ہی انا پرست نثار نے اختلافات کو حل کرنے کے لیے اپنے سابق باس سے ملاقات کی کوشش کی۔
مسلم لیگ (ن) سے طویل وابستگی کے باوجود، نثار نے 2018 کا الیکشن اپنی روایتی قومی اسمبلی کی نشست (این اے 59- راولپنڈی) سے آزاد امیدوار کے طور پر لڑا اور پی ٹی آئی کے چوہدری غلام سرور کے ہاتھوں شکست کھائی۔ تاہم انہوں نے صوبائی نشست (پی پی 10- راولپنڈی) 34 ہزار ووٹوں کے مارجن سے جیتی۔
چونکہ نثار کبھی پنجاب اسمبلی کے رکن نہیں رہے، اس لیے انہوں نے تین سال تک حلف نہیں اٹھایا، اس وقت اپنے حلقے کو نمائندگی کے بغیر چھوڑ دیا۔ تاہم، اپنے حلقوں سے مشاورت کے بعد، انہوں نے بطور ایم پی اے تجربہ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا اور اس سال مئی میں حلف اٹھایا۔ اس حلف نے ان کے سیاسی کیریئر کو بچا لیا تھا لیکن اب وہ سیاست میں کوئی کردار ادا نہیں کر رہے، جس میں وہ کئی دہائیوں سے ایک اہم کھلاڑی رہے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کی طرف سے ان سے رابطہ نہیں کیا گیا، اور وزیراعظم عمران خان کے ہم جماعت ہونے کے باوجود، جنہوں نے انہیں اپنی پارٹی میں مدعو کیا تھا، لیکن وہ پی ٹی آئی میں شامل نہیں ہوئے۔ نئی سیاسی جماعت کا آغاز کرنا اور موجودہ حالات میں اسے مقبول بنانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ایسا قدم پہلے سے تقسیم شدہ معاشرے کو مزید تقسیم کرے گا۔
لہذا، اس وقت وہ دوراہے پر ہیں۔
سوال یہ ہے کہ نثار کو کس پارٹی میں شامل ہونا چاہیے اور آنے والے وقت میں انہیں کیا کردار ادا کرنا چاہیے۔
اس وقت مسلم لیگ (ن) میں اس کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ ان کے دوست شہباز جو کہ کاغذ پر پارٹی کے سربراہ ہیں، ایک طرف کھڑے ہیں۔ اسے پارٹی میں لانے کے لیے وہ کوئی کردار ادا نہیں کر سکتے، کیوں کہ مریم نواز نائب صدر انچارج ہیں۔
حقیقت کچھ بھی ہو، نثار مریم کو بہت جونیئر سمجھتے ہیں اوران کی قیادت میں کام کرنے پر کبھی راضی نہیں ہوں گے۔
سمجھداری کا تقاضا ہے کہ تجربہ کار رہنما نثار علی خان پی ٹی آئی میں شامل ہو جائیں اور اپنے تجربے کے خزانے سے ملک کو فائدہ پہنچائیں۔ اپنے خاندانی پس منظر کی وجہ سے وہ سول اور عسکری قیادت کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہیں۔ چونکہ وہ نواز شریف کے ساتھ کام کرنے کے اپنے طویل تجربے کی وجہ سے عسکری قیادت کی حساسیت سے پوری طرح واقف ہیں، اس لیے وہ مستقبل میں ایسے امکان کو ٹال سکتے ہیں۔
اس حقیقت کے باوجود کہ نثار ایم پی اے ہیں، وزیر اعظم ان کی مہارت اور روابط سے فائدہ اٹھانے کے لیے انہیں مرکز میں ایک عہدہ تفویض کر سکتے ہیں۔
ملک کو مضبوط جماعتوں کی ضرورت ہے۔ اور نثار کی شمولیت سے تحریک انصاف مضبوط ہوگی۔ وہ واقعی سیاسی تجربے کے خزانے کے ساتھ ایک اثاثہ بن سکتے ہیں۔
Twitter ID:
@iamAsadLal
twitter.com/iamAsadLal
-
کیا لبرل بھی انتہا پسند ہوتے ہیں؟ ایک مولانا سے گپ شپ تحریر : جواد خان یوسفزئی
"ایک لبرل خستہ حال اگر انتہا پسند ہو بھی گیا تو وہ آپ کا کیا بگاڑ لے گا مولانا صاحب؟ آپ اس کے قلم کی سیاہی میں بہہ جائیں گے کیا؟ زبانی گولہ باری سے شہادت کا مقام پا لیں گے کیا؟ اس ڈرپوک مخلوق کو نہ توپ زنی آتی ہے اور نہ جنگ و جدل کے قرینوں سے یہ واقف۔ اس کا حال تو وہی ہے جس کا نقشہ اقبال نے کھینچا ہے؎
کافر کی موت سے بھی لَرزتا ہو جس کا دل
یہ ٹڈی دل مخلوق نہ مار سکتی ہے۔ نہ مروا سکتی ہے۔ اس کے دست میں نہ تیغ ہے نہ تفنگ۔ یہ معرکہء حق و باطل میں بھی فولادی نہیں ہوتے۔ تو ایسے گئے گزرے آپ سے اختلاف ہی کرسکیں گے۔ اپنا موقف پیش کریں گے۔ دلائل دیں گے۔ آپ کو سنیں گے۔ پلیٹ فارم میسر آگیا تو بولیں گے۔ مکالمہ ہوگا اور آخر میں سگریٹ کا کش لگا، یہ جا وہ جا۔”
مولانا نے داڑھی پہ ہاتھ پھیرا اور اطمیان سے بولے "لبرل بھی دہشت گرد ہوتے ہیں۔ یہ بھی قلمی اور زبانی دہشت گردی کرتے ہیں۔”
"ایسی دہشت گردی؟ خدا کرے یہ انتہا پسند اور دہشت گردی اپنی تحریک طالبان سے لے کر تہاڈی تحریک لبیک تک، ہر گروہ، ہر ہر مزہبی انتہا پسند مسلمان کو نصیب ہو جائے۔ اس دن یہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے اصطلاحات ہی ڈکشنری سے نکال دئے جائیں گے۔”گفتگو یہاں تک ہوئی تھی اور مولانا مسلسل نفی میں سر ہلا رہے تھے۔ مگر ہم نے نظر انداز کیا، اور بات جاری رکھنے کی کوشش کی۔ مگر مولانا نے دائیں ہاتھ سے جھنجھوڑا اور دھکا دے کر منع کیا۔ وہ اپنی رائے پیش کرنے لگے۔
"یہ جو تمھارا باپ امریکہ ہے۔ یہ لبرل سیکولر ہے۔ عراق شام، افغانستان، ہر جگہ خون کی ہولیاں جو کھیلتا ہے، آپ کو وہ نظر نہیں آئیں؟”"اے مولانا۔ خدارا اتنی چھوٹی سی بات دستار سے ہو کر کھوپڑی میں کیوں نہیں اتر رہی۔۔۔۔۔۔”
"دیکھ اگر دستار زبان پر لائی۔۔۔” وہ ہاتھ اٹھاتے اٹھاتے رہ گیا۔ میں نے بات جاری رکھی۔"دیکھ۔ ممالک اور ریاستوں کے مفادات ہوتے ہیں۔ ان میں "ازم” بہت بعد کی بات ہوتی ہے۔ ہر ملک میں پاور پالٹکس ہوتی ہے۔ طاقت کا توازن، خطرات کا خوف، کسی ملک کے وسائل پر نظر جمانا، اپنی عسکری اور معاشی قوت کا اظہار کرنا، یہ سب ہر زمانے میں رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے مغرب کا رخ کیا تو اسپین تک جا پہنچے۔ ادھر بائیں ہاتھ چلنا شروع ہوئے تو انڈونیشیا کو مسلم آبادی کا سب سے بڑا ملک بنا کر رہے۔ آس پاس ہاتھ پیر مارنے شروع کئے تو پورے مشرق وسطیٰ پر قبضہ جما لیا۔ یہ شوقِ جہاں بینی تو نہ تھا، جہاں بانی ہی تھا۔ آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ مسلمانوں کے ہاتھ کسی ایک انسان کا خون نہیں بہا اور فاتح عالم ٹہرے۔ یہ ممکن ہی نہیں۔۔۔۔
بیک ٹو مائی ڈیڈ امریکہ۔ تو جناب امریکہ نے بےشک معصوم انسانون کا خون بہایا مگر وہ اس لئے نہیں کہ سیکولر اور لبرل ولیوز اس کو یہ سکھا رہی تھیں۔ ہر گز نہیں۔ وہ اس لئے کہ پاور پالٹکس میں یہی کچھ ہوتا ہے۔ جب سے دنیا بنی، کبھی چنگیز کی طرح صرف کھوپڑیوں کے مینار بنانے کے شوق نے چرایا تو کبھی سکندر اعظم کو فتح کا نشہ ملکوں ملکوں سیر کراتا رہا۔ کبھی امریکہ کو القاعدہ کا خوف لاحق ہوا تو کبھی مشرق وسطٰی کے قدرتی ذخائر پر نظر ٹک کر رہ گئیں۔ محمود غزنوی کو سومنات میں ہیرے اور جواہرات دکھائی دئے تو ہٹلر کے نسلی تفاخر نے یہودیوں کا قتل عام کروایا۔ یہ تاریخ کا سبق ہے۔ اس سے نہ میں انکاری ہو سکتا ہوں۔ نہ آُپ جھٹلا سکتے ہیں۔۔۔۔
"بحث لبرل کے ہاں انتہا پسندی کی ہو رہی ہے۔ تو سرکار۔ جنگ عظیم دوئم کے دوراں کبھی لبرل حضرات کو پڑھئے۔ انہوں نے ناگاساکی اور ہیروشیما پر بم گرانے پر شادیانے نہیں بجائے تھے بلکہ ماتم کیا تھا۔ برٹرینڈ رسل لبرل تھا۔ وہ دونوں جنگ عظیم کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ وہ دیکھنے کی شے ہے۔
امریکہ کا نوم چومسکی ایک لبرل ہے۔ جب عراق پر امریکہ نے چڑھائی کی تو انہوں نے اسے مسلم کا خون نہیں سمجھا انسانیت کا خون سمجھ کر ماتم کنان ہوگیا تھا۔ کتابوں پر کتابیں لکھیں۔ لیکچر دئے اور ثابت کیا کہ صدر بش نے جو عراق میں حملے کا جواز دیا ہے، وہ بےبنیاد ہے اور کوئی "ماس ڈسٹرکشن ویپنز” نہیں ہیں۔دور کیوں جائیں۔ حق مغفرت کرے۔ عاصمہ جہانگیر ایک لبرل تھیں اور اسامہ بن لادن کی نظریاتی مخالف۔ جب ایبٹ آباد واقعہ ہوا تو اسامہ بن لادن کی بیویوں کو زیرحراست لیا گیااور تفتیش شروع ہوگئ۔ تب یہ لبرل ہی تھیں جو اسامہ کی بیویوں کی وکیل بن بیٹھیں اور ان کا دفاع کیا کہ امریکہ یا کوئی بھی ملک ایک بے گناہ شہری کو ضرر نہیں پہنچا سکتا۔ وہ انڈیا مخالف نہ تھی مگر کشمیریوں پر مودی کی بربریت کے خلاف ایک توانا آواز تھی۔ ہندوستان مودی سرکار کو للکارنے والی اور کشمیریوں کے پامال حقوق کی جنگ لڑنے والی ارندھتی رائے لبرل ہیں۔
یہ ایک طویل لسٹ ہے۔ آپ نے "لبرل انتہا پسند” اور لبرلزم کو سیاسی و ریاستی طاقتوں کے مراکز سے جوڑنے کی کوشش کی تو پیش کی۔ کل کلاں یہ نہ کہنا کہ امریکہ اور ہندوستان لبرلز ہیں اور انسانوں کا خون کر رہے ہیں۔ یہ کہنا کہ رسل، نوم چومسکی، عاصمہ اور ارندھتی رائے لبرل تھے اور وہ انسانوں اور مسلمانوں کے حقوق کے لئے لڑتے رہے ہیں۔”وہ بولے "کیا آپ کے نذدیک صرف خون بہانا ہی انتہا پسندی ہے؟ زبان اور قلم ہتھیار نہیں ہیں جو لبرل آئے روز آزماتے ہیں؟”
عرض کیا "اس کا جواب شروع میں دیا جا چکا ہے۔ اب کوئی اور بات کر۔ ایک کپ چائے پلا۔ آج ڈنر میں کیا کھلاؤ گے؟”
"زہر”"آپ کی روایت رہی ہے۔ ہمارا ایک سقراط نامی بزرگ بھی پی چکا ہے۔ لائے۔”
ٹوئیٹر : Jawad_Yusufzai@
ای میل : TheMJawadKhan@Gmail -

عنوان: خان صاحب کی توتا چشمی تحریر: علی خان
@hidesidewithak
ہم کب تک 1992 کے ولڈ کپ کا قرض ُاتارتے رہیں گے؟
عمران خان افسوس کے ساتھ نہ اچھا لیڈر بن سکا اور نہ ہی اچھا دوست
کہتے ہیں انسان اپنی صحبت یعنی دوستوں اور تعلق داروں سے پچانا جاتا ہے،،، اسکی عادات و خصائل کے لیے اسکے احباب کا رویہ دیکھا جاتا ہے لیکن اگر کوئی شخص اپنے دوست ہی باربار تبدیل کرے تو کیا کہا جائے،،، ہمارے موجودہ وزیراعظم جناب عزت ماب عمران احمد خان نیازی صاحب کا بھی کچھ ایسا ہی قصہ ہے،،، خان صاحب کی توتا چشمی کا ایک قصہ ان کے موجود دوست اور ساتھی کھاڑی وسیم اکرم نے بھی سنایا کہ کسی دوسرے ملک غالباً ویسٹ انڈیز کے خاف میچ کے دوران کھلاڑیوں سے توتکرار ہوئی،،، عمران خان نے دیکھا تو قریب آکر پیٹھ تھپتھپائی کہ سنا دو انکو میں ساتھ ہوں تمہارے،،، میچ میں وقفہ ہوا تو مخالف کھلاڑی لڑنے ڈریسنگ روم کے باہر آگیا،،، عمران خان کو بتایا تو صاف کنی بچا کر بولے تمہاری لڑائی ہے خود لڑو
وسیم اکرم نے یہ قصہ ہنسی مذاق میں سنا دیا لیکن خان صاحب نے بہت سے دوستوں کو اس موقع پرستی کا نشانہ بنایا اور وہ سب عمران خان کو اس حرکت پر کوستے ہیں،،، سیاستدانوں ہوں یا کھاڑی،،، صحافی ہوں یا صنعت کار، سب ہی خان صاحب کے اس رویے کا شکار ہو چکے،،، ان میں چند ایک کا ذکر یہاں ہوجائے،،، سب سے پہے ذکر پی ٹی آئی کے بانی اراکین میں سے ایک ا کبر ایس بابرکا،،، اکبر ایس بابر تحریک انصاف کے ساتھ قیام کے وقت سے منسک ہیں،،، انہوں نے عمران خان کے خوابوں پر لبیک کہا اور ہر گرم سرد میں پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے،،، 2011 تک مختلف پارٹی عہدوں پر فائز رہنے کے بعد انہوں نے عران خان کو خط لکھ کر پارٹی کے مالی معاملات میں شفافیت کا مطابہ کیا تو انہیں نظر انداز کردیا گیا،،، اکبر ایس بابر کی جانب سے الیکشن کمیشن میں دائر کردہ پارٹی فنڈنگ کیس ہی تحریک انصاف پر لٹکتی توار بنا ہوا ہے،،، اس کیس کے ممکنہ فیصلوں میں تحریک انصاف کی بطور جماعت رجسٹریشن منسوخی بھی شامل ہے جو حکومت خاتمے کا باعث بن سکتی ہے
اس فہرست میں جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین بھی شامل ہیں،،،وجیہہ الدین صاحب نے تحریک انصاف میں مختلف عہدوں پر ذمہ داریاں سرانجام دیں اور چیف الیکشن کمشنر بھی رہے،،، پارٹی الیکشن میں دھاندلی بارے آواز اٹھائی تو نکال باہر کیا گیا،،، سینئر وکیل اور سپریم کورٹ و پاکستان بار کونسل میں مختلف عہدوں پر فائز رہنے والے حامد خان کا قصہ بھی مختلف نہیں،،، عمران خان کی جانب سے پانامہ کیس میں پیش ہوتے رہے لیکن کچھ معاملات پر آواز اٹھائی تو پہلے سائیڈ لائن کیا گیا اور پھر شوکاز نوٹس دے کر مکمل کھڈے لائن لگا دیا گیا
خان صاحب کے ستم کا نشانہ بننے والے صحافیوں کی بات کریں تو سمیع ابراھیم کا ذکر ضروری ہے،،، سمیع ابراھیم کی جانب سے گزشتہ دور حکومت میں عمران خان کی کھل کر حمایت کی جاتی رہی،،، انہوں نے مختلف امور پر عمران خان کا کھل کر ساتھ دیا لیکن پھر تحریک انصاف کے دور حکومت میں تحریک انصاف ہی کے وزیر فواد چودھری نے انہیں سرعام تھپڑ جڑے اور وزیراعظم کی جانب سے زبانی ہدایات کے علاوہ کوئی کارروائی عمل میں نہ آئی سمیع ابراھیم اس بے عزتی پر آج بھی شکوہ کناں ہیں،،، کالم نگار ہارون الرشید کا ذکر بھی یہاں کیوں نہ ہو کہ انکی جانب سے خان صاحب کے حق میں بار بار کالم آتے رہے اور خان صاحب کو مختلف روحانی خوش خبریاں بھی سنائی جاتی رہیں،،، پارٹی اقتدار میں آئی تو ہارون صاحب کی جگہ بھی خان صاحب کے قریبی حلقے میں نہ رہی
صنعکاروں میں خان صاحب کے ستم کنندہ جمانگیر ترین ہیں،،،ترین صاحب نے عمران خان اور تحریک انصاف کی مالی آبیاری میں کوئی کسر نہ چھوڑی،،، خان صاحب کے نجی دوروں کے لیے انکا جہاز نیو خان کی بس کی مانند ہر چھوٹے بڑے شہر کی اڑانیں بھرتا رہا،،، کچھ منچلوں نے خان صاحب کے کچھ چلانے کا سہرا بھی ترین صاحب کے سر باندھا،،، ترین صاحب کو پہلا جھٹکا تاحیات نااہلی کا لگا،،، واقفان حال کے مطابق اس نااہلی سے پنجاب میں وزارت اعلیٰ کا ایک مضبوط ترین امیدوار کم ہوا توخان صاحب نے بھی سکون کا سانس لیا،،،ترین صاحب نے پارٹی کا ساتھ تب بھی نہ چھوڑا اور تحریک انصاف کی وفاق اور صوبے میں حکومت کی تشکیل کے لیے آزاد اراکین کو ذاتی جہاز میں بنی گالا پہنچایا،،، صدارتی الیکشن میں بھی انکا ہی ڈنکا بجتا رہا،،، ترین صاحب چینی اسکینڈل آنے کے بعد سے عمرانی عتاب کا شکار ہوگئے،،، مزے کی بات کہ اسی اسکینڈل کے دوسرے کردار ابھی بھی وفاقی اور صوبائی کابینہ کا حصہ ہیں،،، اس فہرست میں علیم خان بھی موجود ہیں کہ وزارت اعلیٰ نہ ملنے پر انہوں نے صبر کیا تو سینئر صوبائی وزیر بن کر بھی چین نہ پایا،،، نیب اور جیل یاترا کے بعد واپس آئے تو سینئر کے ٹیک کے ساتھ ایسی بے اختیار وزارت ملی کہ اب وہ انشا جی کی بات ماننے کو ہیں
انشاجی اٹھو اب کوچ کرو اس حکومت میں جی کا لگانا کیا
-
ہم شرمندہ ہیں آپ سے جناب ڈاکٹر قدیر خان صاحب تحریر…..ہارون خان جدون
دنیا کے نقشے پر بڑے براعظم ایشاء میں موجود اسلامی جموریہ پاکستان اور اسکے دارحکومت کے قلب میں موجود فیصل مسجد سے چند قدموں کے فاصلے پر مسکراتے چہرے اور آنکھوں عجیب چمک لئے فادر آف پاکستان نیوکلیر ویپن پروگرام کی رہائش گاہ ہے 28 مئی کا وہ دن اور چاغی کی پہاڑیاں گواہ ہیں اس ایٹمی دھماکے کی جس نے پاکستان کو ایٹمی طاقتوں کی صف میں لا کھڑا کیا, بھارت کے ایٹمی پروگرام کے جواب میں جس ہستی کی بدولت یہ امر نہ ممکن سے ممکن بنا وہ کوئی اور نہیں بلکہ محسن پاکستان محسن قوم و ملت ڈاکٹر قدیر خان ہیں جنہوں نے دنیا عالم میں پاکستان کا لوہا منوايا سب سے پاکستانیوں کی دلوں کی دھڑکن اس محسن پاکستان کا نام سنتے ہی بےقرار ہونے لگتی ہے کیوں کہ یہ وہ شخصیت ہے جس نے نا صرف پاکستان کا نام روشن کیا بلکہ دنیا کو اور اپنے ازلی دشمن بھارت کو یہ بتا دیا کے اگر ہماری طرف میلی آنکھ سے ہمیں دیکھنے کی کوشش کی تو منہ کی کھانا پڑے گی
پاکستانی عوام آپ جیسے محسن کو اپنے دل میں براجمان خوشی اور فخر محسوس کرتے ہیں لیکن پچھلے کچھ دنوں سے آپ کی موت کی جھوٹی خبریں چلتی رہی لیکن بقول آپ کے یہ حاسدین کا کام تھا جو ایک انتہای گٹیا فعل تھا
ریٹنگ کے چکر میں کبھی كبهار خبر گھڑنے والے عوامی مقبول شخصیت کو نشانے پر رکھنے سے بھی گریز نہیں کرتے گزشتہ روز ڈاکٹر صاحب کی موت کی کچی پکی خبر گردش کرنے لگی تو پریشانی بڑھ گی لیکن ساتھ ہی دل اس خبر کی صداقت پر ایمان لانے کو تیار نا تھا
یہ بھی سچ ہے کے زندگی اور موت اللہ پاک کے بس میں ہے جس نے یہ کائنات بنائی ہے جو ہمارا خالق ہے اور ڈاکٹر قدیر خان کے بذات خود میڈیا پر اعلان کے وہ حیات ہیں اور اللّه انکو مزید زندگی دے گا اور انکے حاسدین کے جلانے کے لئے، ڈاکٹر صاحب کے اپنے میڈیا پر اس بیان سے قوم کے دل خوشی سے سرشار ہوگے
اس جھوٹی خبر پر ہونا تو یہ چاہیے تھا اسطرح کی لامعنی اور جھوٹی خبر پھیلانے والوں کو قانون کی گرفت میں لانا چاہیے تھا اور سزا دینی چاہیے تھی لیکن افسوس ایسا ہوا نہیں جو افسوسناک بات ہے, موت یوں تو برحق ہے ہر انسان نے ایک نا ایک دن اس فانی دنیا سے جانا ہے اللہ کے حضور پیش ہونا ہے اور ہمیں موت کے لئے ہر وقت تیار رہنا چاہیے کیوں کے موت کسی بھی وقت کسی بھی جگہ آ سکتی ہے یہ اٹل حقیقت ہے
البتہ پاکستانی قومکی نظر میں ڈاکٹر قدیر خان ایسی شخصیت نہیں کے جنہیں موت نیست و نابود کر سکے ان جیسے لوگ جو اس ملک کی عزت اور سرمایہ ہیں اور وطن سے محبت کا قرض جو اس انداز میں اتارتے ہیں کے انکے کارنامے انہیں اس فانی دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی انکو زندہ و جاوید رکھتے ہیں، اس جھوٹی خبر اور اس واقعہ سے جہاں ان کے چاہنے والوں کو صدمہ ہوا ہے وہاں انکے حاسدین کو بھی پتا چل گیا ہو گا کے پاکستانی قوم انکے لئے کتنی فکر مند ہے اور کتنی محبت کرتی ہے
لیکن اس سے بھی زیادہ دکھ اور افسوناک بات یہ ہیکہ حکومت کیطرف سے کوی بھی حکومتی وزیر مشیر اور نماہندہ انکی عیادت کرنے نہیں گیا اور انکو اتنی توفیق نہیں ہوی کہ وہ محسن پاکستان کے پاس جاکر انکا حال حوال پوچھ سکیں انکو حوصلہ دے سکے ڈاکٹر صاحب کا اس ملک اور قوم پر بہت بڑا احسان ہے اگر یہ قوم ساری زندگی بھی لگی رے تو انکا احسان نہیں اتار سکتی ہمارے حکمرانوں کو انکی قدر کرنی چاہیے لیکن افسوس ہمارے حکمران یہ سب بھول چکے ہیں.
میری اللہ پاک سے دعا ہیکہ اللہ پاک آپکو صحت والی زندگی دے۔۔ آمین
@ItzJadoon
-

شاہ عبداللطیف بھٹائی- سندھی شاعر” تحریر: حسیب احمد
شاہ عبداللطیف بھٹائی (سندھی زبان کے شاعر) برصغیر کے عظیم صوفی شاعر تھے۔
آپ نے اپنی شاعری کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیغام کو عام لوگوں۔
شاہ عبداللطیف بھٹائی کی ولادت 1639 عیسوی۔ 1101 ہجری میں سندھ کے موجودہ ضلع مٹیاری کی تعلقہ ہالا میں ہوئی۔ آپ کے والد سید حبیب شاہ ہالا حویلی میں رہتے تھے۔ اور موصوف کا شمار اس علاقے کی برگزیدہ ہستیوں میں تھا۔
شاہ صاحب کی پیدائش کے متعلق مشہور ہے کہ سید حبیب شاہ نے یکے بعد دیگرے تین شادیاں کیں لیکن اولاد سے محروم رہے۔ اپنے اپنی محرومی کا ذکر ایک درویش کامل سے کیا، جن کا اسم گرامی عبد اللطیف بتایا جاتا ہے۔ موصوف نے دعا کرتے ہوئے کہا کہ انشاءاللہ آپ کی مرادبر آئے گی۔ میری خواہش ہے آپ اپنے بیٹے کا نام میرے نام پر شاہ عبداللطیف رکھیں۔
خدا نے چاہا تو وہ اپنی خصوصیات کے لحاظ سے یکتائے روزگار ہوگا۔
سید حبیب شاہ کی پہلی بیوی سے ایک بچہ پیدا ہوا، درویش کی خواہش کے مطابق اس کا نام شاہ عبداللطیف رکھا گیا لیکن وہ بچپن میں ہی فوت ہوگیا۔ پھر اس ہی بیوی سے دوسرا لڑکا پیدا ہوا تو اس کا نام پھر شاہ عبداللطیف رکھا گیا، یہی لڑکا آگے چل کردرویش کی پیش گوئی کے مطابق واقعی یگانہ روزگار ہوا۔
شاہ عبداللطیف بھٹائی کے آباو اجداد سادات کے ایک اہم خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کا سلسلہ نسب حضرت علی رضی اللہ عنہ اور رسول خدا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچتا ہے۔ امیر تیمور کے زمانے میں ہرات کے ایک بزرگ سید میر علی بہت سی خوبیوں کے ملک تھے۔ اور آپ کا شمار اس علاقے کے معزز ترین افراد میں ہوتا ہے تھا۔ 1398 801-2ھ میں جب امیر تیمور ہرات آیا، تو سید صاحب نے اس کی اس کے ساتھیوں کی بڑی خاطر تواضع کی، ساتھ ہی بڑی رقم بطور نظرانہ پیش کی، تیمور اس حسن سلوک سے متاثر ہوا۔ سید صاحب اور ان کے دو بیٹوں کو میر ابوبکر اور حیدر شاہ کو مصاحبین خاص میں شامل کرکے ہندوستان لے کر آیا۔
یہاں آنے کے بعد میر ابوبکر کو سندھ علاقے سیوہن کا حاکم مقرر کیا، اور سید میر علی اور حیدر شاہ کو اپنے ساتھ رکھا۔ بعد کو سید حیدر شاہ بھی اپنے والد بزرگوار اور تیمور کی اجازت سے گھومتے پھرتے مستقل طور پر سندھ میں اگئے۔ ہالا کے علاقے میں شاہ محمد زمیندار کے مہمان ہوئے۔ شاہ محمد نے آپ کی کچھ اس طرح خدمت کی کہ وقتی راہ درسم پر خلوص محبت میں بدل گئی۔ کچھ دنوں بعد اس نے اپنی لڑکی فاطمہ کی شادی آپ سے کردی، چونکہ آپ کی ماں کا نام بھی فاطمہ تھا۔ اس لیے شادی کے بعد اس نام کو سلطانہ سے بدل دیا گیا۔ سید حبیب شاہ قریب قریب تین تین سال تک ہالا میں رہے پھر اپنے والد کی وفات کی خبر سن کر ھرات ھئے جہاں تین چار تک رہنے کے بعد وفات پاگئے، کہتے ہیں جب سید صاحب ہرات روانہ ہوئے تو آپ کی اہلیہ حاملہ تھیں۔ انہوں نے چلتے چلتے یہ وصیت کی تھی کہ اگر میری عدم موجودگی میں بچہ پیدا ہوا تو لڑکا ہونے کی صورت میں اس کا نام میر علی اور لڑکی ہوئی تو فاطمہ رکھا جائے۔ چنانچہ لڑکا پیدا ہوا۔
اور وصیت کے مطابق اس کا نام میر علی رکھا گیا۔ میر علی خاندان میں بڑے بڑے صاحب کمال بزرگ پیدا ہوئے، ان بزرگوں میں شاہ عبداللطیف بھٹائی کے علاوہ شاہ عبد الکریم بلڑی والے، سید ہاشم اور سید جلال خاص طور پر قابل ذکر ہے۔
آپ نے سندھی شاعری سے لوگوں کی اصلاح کی، شاہ جو رسالو آپ ہی ایک عظیم کوشش ہے۔
آپ (شاہ عبداللطیف بھٹائی) نے 1752ء میں 63سال کی عمر میں بھٹ شاہ میں اس جہاں فانی سے کوچ کرگئے۔
حسیب احمد
@JaanbazHaseeb
-

تعلیم نظام تحریر:افشین
دور حاضر میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے باعث تعلیمی نظام میں بہت تبدیلی آئی ہے جیسا کہ اب نیٹ ورک تقریباً ہر جگہ میسر ہے۔ جدید آلات مثال کے طور پہ کمپیوٹر اور موبائل ، لیپ ٹاپ کی بدولت تعلیمی نظام میں جہاں آسانی آئی ہے وہاں کچھ منفی آثرات بھی منعقد ہوئے ہیں۔ نیٹ ورک کی سہولت سے ہم ہر طرح کی معلومات گھر بیٹھے حاصل کر سکتے ہیں ۔ پہلے پہل کتابیں پڑھی جاتی کچھ معلوماتی کتابیں بہت مشکل سے دستیاب ہوتی تھیں ۔اب جیسا کہ ہر طرف کرونا کی وباء عام ہے اس سے بچاو کے باعث بچے اور بڑے گھر بیٹھے تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ یہ ایک طرح کی سہولت ہے پر جس طرح کی تعلیم سکول اور کالج جا کے حاصل کی جاسکتی ہے ویسی گھر بیٹھے ہر شاگرد حاصل نہیں کر سکتا کیونکہ بچوں کی مختلف ذہنیت ہوتی ہے ۔ کچھ دماغی طور پہ تیز اور کچھ کمزور ہوتے ہیں ۔ اساتذہ کرام کی بات کی جائے تو پہلے اساتذہ کرام بچوں پہ انتہائی محنت کرتے اب کچھ اساتذہ کرام نے بس اس کو پیسے کمانے کا ذریعہ سمجھ لیا ہے انکو بس اپنی تنخواہ سے غرض ہوتی ہے بچے پڑھے نہ پڑھے ۔ سرکاری سکولوں کی تنخواہیں اتنی زیادہ ہیں کہ وہاں اتنی پڑھائی نہیں کروائی جاتی کچھ ایسے اساتذہ بھی موجود ہیں جو حاضری لگا کے گھر واپس آجاتے ہیں اور بچوں کی پڑھائی پہ کوئی توجہ نہیں دی جاتی سال کے اختتام پہ خود ہی پیپر کروا کے پاس کر دیا جاتا ہے ۔
پرائیوٹ سکولوں کے بچوں کی فیس زیادہ اور اساتذہ کی کم ہے وہاں پڑھائی تو اچھی کروائی جاتی ہے مگر والدین کو صیحح لوٹنے کا کام بھی کیا جاتا ہے ۔اگر چھٹیاں دی جائیں مہینہ یا دو مہینہ اسکی فیس بھی بطور اڈوانس لی جاتی ہے ۔جیسا کہ کرونا کی وجہ سے سکول بند رہے مگر بہت سے سکولوں میں فیس لیتے رہے کم از کم فیس کم کردی جاتی کیونکہ اگر بچے گھر بیٹھے آن لائن کلاسز لگا رہے ہیں تو انٹرنیٹ کا خرچہ بھی تو اٹھا رہے ہیں ۔ تعلیم حاصل کرنا آسان بنایا جائے نہ کہ دشوار ۔گھر بیٹھے اساتذہ کو کمانا آسان لگ رہا ہوگا مگر کچھ سفید پوش لوگوں کا بھی خیال کیا جائے ۔ اتنے خرچے کیسے برداشت کریں ۔
گاوں میں ہر جگہ سکول بن چکے ہیں تعلیم دی جارہی ہے پر بچوں کی کاپیاں خالی ہوتی ہے یا پھر سوال اور اسکا جواب اور لکھا ہوتا ہے ۔ کچھ اساتذہ مشق کی دہرائی کروا دیتے ہیں اور کہتے ہیں مشق گھر سے خود کر آنا ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے آپ لوگوں کے پاس بچوں کو کیوں بھیجا جاتا ہے کیونکہ آپ پڑھائیں سب کام لکھوائیں ۔اگر ماں باپ بچوں کو ٹیوشن بھی بھیجتے ہیں تو بھی آپ اپنا کام پورا کروائیں ٹیوشن والوں کا کام جو سمجھ نہ آیا ہو وہ کروانا اور ٹیسٹ یاد کروانا ہے ۔یہ ایک عزت دار پیشہ ہے محنت سے کمائے رزق کو حلال کریں مفت خوری اچھی بات نہیں ۔بہت سے اساتذہ وہ سوالات چھوڑ دیتے ہیں جو انکو بھی نہ آتے ہو۔ بچوں کو کہہ دیا جاتا ہے خود کرلو نہیں آتا تو چھوڑ دو. پہلے کی تعلیم اور اب کی تعلیم میں بہت فرق ہے مگر پہلے اساتذہ اور اب کے کچھ اساتذہ میں بھی بہت فرق ہے ۔گاوں میں تعلیمی نظام پہ توجہ دی جائے ۔سرکاری سکولوں میں بس اساتذہ کی تنخواہیں ہی زیادہ نہ کی جائیں بلکہ یہ بھی دیکھا جائے وہ کروا کیا رہے ۔ یہ تلخ حقیقت ہے پر سچ یہی ہے ۔ پرائیوٹ سکولوں پہ دھیان دیں۔ ماں باپ کو کم لوٹا جائے ۔ سرکاری سکولوں میں پچاس ساٹھ ہزار تنخواہیں ہیں اور بچوں کو لکھنا بھی نہیں آتا ارود بھی اتنی کمزور ہوتی ہے انگلش پڑھنا تو دور کی بات ہے ۔ سمجھ نہیں آتی تنخواہیں اتنی زیادہ کیوں ہیں انکی ؟؟ اتنی تنخواہیں مزدور کی نہیں ہوتی جو سارا دن دھوپ میں کام کرتا ہے ۔ بیشک اساتذہ کرام پڑھانے میں دماغ لگاتے ہیں پر کچھ یہ کام بھی نہیں کرتے مفت میں بس کھانے پینے کا کاروبار بنا ہوا ہے. جنکی تعلیم بھی کم ہوتی ہے وہ بھی اساتذہ بنے ہوئے ہیں کیا استاد بننا اتنا آسان ہوگیا ہے کہ ہر کوئی استاد بن رہا ہے ۔ استاد بننا آسان نہیں ہے بہت محنت کی جاتی ہے تب روزی حلال ہوتی ہے پر افسوس معاشرہ سچائی کم سنتا ہے سچائی کی مخالفت زیادہ کرتا ہے ۔
#افشین
@Hu__rt7